Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ،آڈیو لیکس کیس میں ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشری بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے سماعت کی،موبائل کمپنیز کے وکیل کی جانب سے دلائل دیئے گئے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے ہم کسی کو مجاز نہیں کرتے ، وکیل موبائل کمپنیز نے کہا کہ سسٹم بھی لگا ہوا ہے چابی بھی ان کے پاس ہے وفاقی حکومت کا اختیار ہے گورنمٹ اور ایجنسیز کو سسٹم تک رسائی ہے وہ سسٹم ان کے دائرہ اختیار میں ہے ، ہم سسٹم تک پی ٹی اے کو رسائی دے دیتے ہیں وہ جس ایجنسی کو چاہتی ہے وہ دے دیتے ہیں ، پی ٹی اے اس حوالے سے بہتر جواب دے سکتا ہے ، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کسی موبائل کو ٹریس کرنے کے لیے آپ کا کیا کردار ہوتا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ یہ معلومات میں حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کروں گا ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ابھی تک مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہو رہا ہے ؟ کسی ایجنسی کو اتھارٹی دی گئی آپ کو معلوم نہیں ، سسٹم جہاں لگا ہے آپ کی وہاں تک رسائی نہیں ہے ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت میں اپنی رپورٹ میں جو کہا تھا کہ رسائی نہیں دی گئی وہ اس آڈیو کال کی حد تک تھا ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ دوگل صاحب ایسی بات نا کریں اٹارنی جنرل نے یہاں آکر کہا ہے کہ کسی کو کوئی اجازت نہیں دی گئی ، آٹھ ماہ سے پوچھ رہا ہوں کس فریم ورک کے تحت آپ کام کر رہے ہیں ،آپ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس آڈیو کال کی بات کر رہے تھے ،چار سیکریٹریز نے بیان حلفی جمع کرائے ہیں ، اگر کسی نے عدالت سے غلط بیانی کی تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے ، کل کو عام بندہ آپ کے پاس آجائے تو آپ اس کو مجاز ایجنسی تو نہیں کہیں گے ، آپ کو پتہ تو ہونا چاہیے نا کہ مجاز ایجنسی کون سی ہے جس کو آپ رسائی دے رہے ہیں اگر کوئی تفتیشی افسر آپ سے معلومات مانگے تو آپ دے دیں گے ؟ آپ کی طرف سے معلومات کیسے شئیر ہوتی ہے اس حوالے سے عدالت سمجھنا چاہتی ہے ، پی ٹی اے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کیسے لیگل انٹرسیپشن کی شقیں شامل کر سکتا ہے؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ قومی سلامتی یا کسی بھی جرم کے خدشے پر وفاقی حکومت فون ٹیپنگ کی اجازت دے سکتی ہے، فون ٹیپنگ کی اجازت دینا وفاقی حکومت کا اختیار ہے پی ٹی اے کا نہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے لیگل انٹرسیپشن کی کوئی اجازت نہیں دی، کیا وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ٹیلی کام آپریٹرز کسی ایجنسی کو اجازت دے سکتے ہیں؟ وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ اگر پی ٹی اے کے پاس ایسی کوئی شکایت آئے تو ریگولیٹر کے طور پر ایکشن لیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نیشنل سیکیورٹی کیلئے لیگل انٹرسیپشن کی اجازت دینے میں تو مسئلہ نہیں،آپ کا موقف ہے کہ پی ٹی اے نے لیگل انٹرسیپشن کیلئے کبھی خط و کتابت نہیں کی؟

    مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے،چیئرمین پی ٹی اے
    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ میں بات کر سکتا ہوں؟ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ جی بالکل، آپکو انا کی تسکین کیلئے نہیں بلکہ عدالتی معاونت کیلئے طلب کیا ہے،جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی اے کسی ایجنسی کو کوئی سہولت فراہم کر رہی ہے؟ چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پی ٹی اے نے یہ شق ڈالنی ہوتی ہے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے یا نہیں اس سے ہمارا تعلق نہیں، لیگل انٹرسیپشن کے علاوہ لائسنس کی تمام شقوں پر پی ٹی اے عملدرآمد کراتا ہے،میں گزشتہ ہفتے بارسلونا میں ٹیلی کام سے متعلق کانفرنس میں Keynote Speaker تھا،90 فیصد موبائلز میں وائرس ہوتا ہے، کیمرہ بھی آپریٹ کیا جا سکتا ہے،اسرائیل کی ایک کمپنی نے پیگاسس سافٹ ویئر بنایا جو موبائل کو متاثر کرتا ہے، یہ مشکل کام نہیں، ایک منٹ لگتا ہے اور موبائل ہیک کیا جا سکتا ہے، چیئرمین پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ فون میرے پاس چھوڑ کر واش روم جائیں تو اتنی دیر میں اپنا موبائل کنکٹ کر کے مکمل رسائی لی جا سکتی ہے، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کہہ رہے ہیں کہ غیرقانونی انٹرسپشن ایک سمندر ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب غیرقانونی فون ٹیپنگ ہو رہی ہے؟

    ٹیلی کام آپریٹرز کے وکیل کو آئندہ سماعت تک تحریری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،چیئرمین پیمرا مرزا سلیم بیگ بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،اور کہا کہ پیمرا اس متعلق ایڈوائزری جاری کر سکتا ہے، آڈیولیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت آئیندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • نواز شریف ،عمران خان کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر ریٹائر ہو گئے

    نواز شریف ،عمران خان کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر ریٹائر ہو گئے

    دو سابق وزرائے اعظم کو سزائیں سنانے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ریٹائر ہوگئے ہیں،

    جج محمد بشیر 13 مارچ 2012ء کو احتساب عدالت میں تعینات ہوئے تھے، جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو سزائیں سنائی تھیں، جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی، ان کے پاس صدر مملکت آصف زرداری کے خلاف کیسز بھی زیر سماعت رہے،جج محمد بشیر نے سابق وزراعظم شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف اور یوسف گیلانی کے کیسز بھی سنے، انہوں نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد میڈیکل رخصت لے لی تھی، القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت اب دوسرے جج کر رہے ہیں.

    جج محمد بشیر 11 سال سے نیب عدالت میں خدمات سرانجام دے رہے تھے ان کی مدت ملازمت میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف نے 2018 اور عمران خان نے 2021 میں توسیع کی تھی۔ دونوں وزرائے اعظم کو اسی جج نے سزا سنائی جسے دو مرتبہ اپنے اپنے دور میں متعلقہ وزیراعظم نے عہدے میں توسیع دی،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس میں سزا کیخلاف درخواست،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،عمران خان کے وکیل نے اپیل کے حق پر مختلف قوانین کے حوالہ جات پیش کئے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل د یئے اور کہا کہ اس کیس میں یہاں سے کچھ نہیں گیا بلکہ باہر سے آیا ہے، کوئی ابہام نہیں کس قانون کے تحت سائفر کیس کا ٹرائل ریگو لیٹ کرنا تھا،یہ کہہ رہے تھے کہ ضمانت کا حق موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سائفر کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف جن دفعات کے تحت ٹرائل چلایا گیا، دونوں درخواست گزار آرمڈ فورسز کے ممبر نہیں نہ ہی کورٹ مارشل ہوا ہے، باسپیشل لاء اور جنرل لاء دونوں میں سزا ہوئی، بیرسٹر سلمان صفدر نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے صحافی احتشام عباسی کی درخواست پر سماعت کی،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے وکیل عدالت میں پیش، تیاری کیلئے وقت مانگ لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر کیا ہوا؟وہاں تو توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت ہونی تھی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ توہینِ عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل پی ٹی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر واضح جواب جمع کرائیں، واضح جواب ہونا چاہیے، عدالت کو بتائیے گا کہ دراصل ہو کیا رہا ہے، وکیل پی ٹی اے نے کہا کہ ہمارا اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر بھی اعتراض ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہے، جس نے بھی کیا ہے لیکن ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ میں بھی ڈھیلا ڈھالا ہی کام چل رہا ہے،اسی لیے آپ کو کہا ہے کہ اس عدالت میں مفصل جواب جمع کرائیے گا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جواب تو آنے دیں، اپنے ہتھیار پہلے ہی نہیں دکھا دیے جاتے،میں اسی لیے زیادہ لمبی تاریخ نہیں ڈال رہا اور جلدی جواب طلب کر رہا ہوں،عدالت نے کیس کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر دی

    سینیٹ اجلاس، گرفتار خواتین کو رہا کرو، پی ٹی آئی کا احتجاج،جے یو آئی کا بھی مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہے،سینیٹر مشتاق احمد

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • 3500 سے زائد مقدمات میں پیش ہونیوالے جعلی وکیل کی ضمانت خارج،گرفتار

    3500 سے زائد مقدمات میں پیش ہونیوالے جعلی وکیل کی ضمانت خارج،گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ جعلی وکیل کی ضمانت خارج کر دی

    پولیس نے ملزم راجہ عابد خان کو احاطہ عدالت سے ہی حراست میں لے لیا ،جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب بار کونسل کی درخواست پر سماعت کی، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنجاب بار کونسل نے انکوائری کرنے کے بعد تھانہ سول لائنز لاہور میں جعلی وکیل کے خلاف 2023 میں مقدمہ درج کروایا، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی رپورٹ کے مطابق، جعلی وکیل 1959 کیسوں میں بطور وکیل راولپنڈی بنچ میں پیش ہوتا رہا، ملزم کے 46 کیس پی ایل ڈی، وائی ایل آر، پی ایل جے سمیت دیگر شماروں میں رپورٹ ہو چکے ہیں، ملزم اسلام آباد ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ، گلگت بلتستان ہائیکورٹ میں بھی بطور وکیل پیش ہوا،ملزم 2009 سے 2023 تک مختلف ٹرائل کورٹس میں تقریباً 1500 مقدمات میں بطور وکیل پیش ہوا، ملزم نے سیشن کورٹ لاہور سے ضمانت حاصل کی،عدالت جعلی وکیل کی ضمانت کالعدم قرار دے،

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • جعلی کاسمیٹکس پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    جعلی کاسمیٹکس پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی بڑی کاروائی ،جعلی پروڈکٹس کی فروخت میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا

    گرفتار ملزمان میں اعتبار خان اور حسیب جان شامل ہیں، ملزمان رجسٹرڈ کاسمیٹکس کمپنی کی جعلی پراڈکٹس کی فروخت میں ملوث تھے ملزمان کو حسن ابدال سے گرفتار کیا گیا چھاپہ مار ٹیم میں سب انسپیکٹر وسیم احمد اور اے ایس آئی سمیع نیازی شامل تھے، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ ملزمان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں،

    دوسری جانب ڈائریکٹر ملتان زون خالد انیس کی ہدایات پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن،جاری کاروائیوں میں حوالہ ہنڈی میں ملوث ملزم محمد جہانگیر گرفتار ملزم محمد جہانگیر سے 70 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے ملزم کے قبضے سے 49 لاکھ سے زائد مالیت کے لین دین سے متعلق حوالہ ہنڈی کے شواہد اور موبائل فون برآمد ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا،دیگر ملزمان کے ملوث ہونے کا تعین کیا جارہا ہے۔

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے علامہ ناصر عباس کی درخواست پر سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کردیا،جسٹس سمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی،وکیل عبدالہادی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 مارچ 2024 کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کے احکامات جاری کیے، سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جان بوجھ کر حکم عدولی کرتے ہوئے ملاقات نہ کرائی،سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، عدالت نے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 15 مارچ کیلئے نوٹس جاری کردیا.

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمودجہانگیری نے سماعت کی،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور کمشنر اسلام آباد نے الگ الگ اپیلیں دائر کر رکھیں ہیں،اپیلوں میں جیل ملاقات کی اجازت دینے کے سنگل بنچ کے فیصلے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ملاقات کی اجازت دی تھی

    سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ ہی جیل مینوئل اور پریزن رولز کے خلاف ہیں،سرکاری وکیل
    سرکاری وکیل نے کہا کہ قانونی ٹیم کی ملاقات ہو یا کسی اور کی، اکیلے میں ملاقات کی اجازت نہیں، کسی بھی مجرم سے ملاقات جیل مینوئل کی مطابق ہوتی ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کے کس حصے سے اعتراض ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ ہی جیل مینوئل اور پریزن رولز کے خلاف ہیں، عدالت نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو جرمانہ عائد کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو جرمانہ سے مسئلہ ہے ؟ یہاں عمران احمد خان نیازی سے ملاقاتوں کی روزانہ کتنی درخواستیں آتیں، ہم اس معاملے کو روٹین نہیں بنارہے، مگر جن کو یہاں سے اجازت ملتی ہے ان کو بھی نہیں ملنے دیا جارہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما شوکت بسرا کے روسٹرم پر بنا گاؤن کے کھڑے ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے شوکت بسرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس کیس میں نہیں ہیں نہ ہی آپ ڈریسں میں ہیں آپ بیٹھ جائیے،شوکت بسرا نے کہا کہ میں کورٹ ڈریس میں ہوں میں ہائی کورٹ کا وکیل ہوں،باہر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کھڑے ہیں انکو نہیں آنے دیا جارہا، عدالت نے کہا کہ اگر کھڑے ہیں تو کھڑا رہنے دیں، آپ بیٹھ جائیں،

    نواز شریف کیس کی اپیلیں یہاں زیر سماعت رہیں،کیس کو کہیں اور لیکر نہ جائیں،عدالت کا سرکاری وکیل سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے تو چھ افراد کی ملاقاتوں کا حکم دیا ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے پاس جیل اتھارٹی کے پاس آرڈر پاس کرنے کا اختیار نہیں،جیل کا معاملہ صوبائی معاملہ ہے، اس عدالت کا دائر اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپکی بات مان لیں تو اسلام آباد کا کیا ہوگا؟ اڈیالہ جیل صرف پنجاب کا نہیں بلکہ اسلام آباد کا بھی جیل ہے، اسلام آباد کے قیدی اڈیالہ جیل ہی ہوتے ہیں، عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آپ رولز پڑھ لیجیے اور ہمیں بتائے کہ آپکا مسئلہ کیا ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ آرٹیکل 199 تجاوز ہے، وفاقی عدالت کا دائرہ اختیار تب ہوگا جہاں ٹرائل ہوا ہو،عدالت نے کہا کہ اگر آپ کی بات مان لیں تو پھر اسلام آباد کے ہمارے انڈر ٹرائل یا سزایافتہ قیدیوں کے حوالے سے فیصلہ کا اختیار نہیں ہوگا،آپ اس کیس کو کہیں اور لیکر نہ جائیں،میاں نواز شریف کیس کی اپیلیں یہاں زیر سماعت رہی ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ اپیل میں عدالت بالکل جاسکتی ہے،عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوئی اور نقطہ اٹھائے اور دلائل دیں، آپکی بات اگر مان لیں تو اسکا مطلب کہ سزا ہونے کے بعد ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ صرف سزا یافتہ ہی نہیں وہاں تو انڈر ٹرائل قیدی بھی ہیں پھر تو وہاں بھی ہمارا لینا دینا نہیں ہوگا،آپ اگر میرٹ پر نہیں آتے آپکی مرضی مگر اس نقطے کو آپ کہیں اور لیکر جارہے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل راولپنڈی میں واقع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد کا دائرہ اختیار نہیں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹوری کا اڈیالہ جیل میں دائرہ اختیار ہے،

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے وکیل نے جسٹس سردار اعجاز اسحاق کا آرڈر پڑھا اور کہا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ عمران خان بڑی سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سنگل جج نے اپنے آرڈر میں لکھ دیا کہ عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر کوئی جج نہ بھی لکھے تو بھی وہ تو ہیں، اس حقیقت سے انکار تو نہیں کیا جا سکتا،

    عمران خان سے ملاقات ہو گی یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ
    اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گا یا نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    عمران خان کے کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر ورکرز کا ردِ عمل ان کا حق ہے،شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما، رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے،عمران خان کے کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر ورکرز کا ردِ عمل ان کا حق ہے، پنجاب حکومت نے 2 سال میں عوام پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں، اگر ملاقاتوں پر سے پابندی نہ ہٹائی گئی تو اڈیالہ جیل کے باہراحتجاج کی کال دیں گے۔

    اگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے احتجاج کی کال دی تو ہم بھر پور ساتھ دیں گے،علامہ راجہ ناصر عباس
    ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے آرڈر لئے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود جیل سپریڈنٹ نے ملاقات نہیں کرائی،عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل سپریڈنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے،عدالت نے 15 مارچ کو جیل سپریڈنٹ کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے، ملک میں اجارہ داری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے، لا قانونیت اس وقت ملک میں بڑھ چڑھ کر بول رہی ہے،ایک ایسے شخص کو وزیر خزانہ لگایا جس کی شہریت بھی پاکستان کی نہیں ہے، اگر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے ملک میں احتجاج کی کال دی تو ہم بھر پور ساتھ دیں گے،

    عدالت ملاقات کی اجازت دیتی ہے اور جیل حکام حکم ہی نہیں مانتے، وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل علی بخاری نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ کے آرڈر کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے نہیں ملنے دیا گیا،حیرت کی بات ہے کہ عدالت ملاقات کی اجازت دیتی ہے اور جیل حکام حکم ہی نہیں مانتے، مینڈیٹ چور اور کٹھ پتلی حکومت اس ملک پہ مسلط کر دی گئی ہے، جو عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اس میں الیکشن کمیشن ملوث ہے، عوامی مینڈیٹ پر بری طرح سے ڈاکہ مارا گیا،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرنے دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے

    قبل ازیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر سپریٹنڈنٹ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی تھی،مجلس وحدت المسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی،وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی اور انچارج پولیٹیکل افیئرز اسد عباس شاہ بھی پٹیشنرز میں شامل ہیں، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی آرڈر کے ساتھ اڈیالہ جیل گئے مگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی،جیل حکام کو آٹھ مارچ کا آرڈر دکھایا تو انہوں نے انتظار کرنے کا کہا، گیارہ مارچ کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک انتظار کرانے کے باوجود ملاقات نا کرائی گئی، عدالتی احکامات کی مصدقہ کاپی دکھانے کے باوجود پٹیشنرز کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر جیل سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے.

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    عمران خان، بشریٰ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی ،حاضری نہ ہو سکی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالتی عملہ حاضری کیلئے گیا ہوا ہے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا ،پراسیکوٹر نےعدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری پر اعتراض عائد کیا اور کہا کہ سکیورٹی ایشوز کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا جاسکتا ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہی سکیورٹی ایشوز کو پہلے پراسیکیوشن مانتی نہیں تھی ،پراسیکیوشن شوگر کوٹڈ باتوں کو اب چھوڑ دے ،بانی پی ٹی آئی جب تک گرفتار نہیں ہوئے تھے عدالتوں میں خود پیش ہوتے رہے ،اب بانی پی ٹی آئی کو عدالت کے سامنے پیش کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ویڈیو لنک پر حاضری کا کہا تھا ، اب ہمیں دوبارہ ہائیکورٹ جانے پر مجبور کیا جارہا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ گئے تو وہ بھی حیران ہونگے کہ اب تک ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کیوں نہیں ہوا ،عدالتی عملے کے ذریعے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری میں کوئی دقت نہیں ،سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس بنتا ہے ،جیل کا انٹرنیٹ ٹھیک ہونے میں ہی نہیں آرہا کہ ویڈیو لنک پر حاضری ہو سکے

    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ ہائیکورٹ ہم سے بھی پوچھ سکتی کہ اب تک ضمانت کے کیسوں کا کیا کیا ہے ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سارا بوجھ اس وقت پراسیکیوشن کے کندھوں پر ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ شہباز گل عدالت نہیں آسکتے تھے تو عدالتی عملے نے ایمبولینس میں جاکر حاضری لگائی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کو جیل سپرنٹینڈنٹ کا نمبر بھی دینے کو تیار ہیں ،پراسیکوشن بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو لٹکانے کی کوشش کر رہی ہے ،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عدالت کیلئے مسائل پیدا نہ کریں جیل سپرنٹینڈنٹ سے رابطہ کرکے بتائیں ،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ ایک گھنٹے کا وقت دیتے ہیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری سے متعلق آگاہ کریں ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا گیا،

    عمران خان کا حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار
    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی درخواست ضمانتوں پر وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی ،عدالتی عملے نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں حاضری سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ، جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ عمران خان نے حاضری شیٹ پر دستخط کرنے سے انکار کیا،بانی پی ٹی آئی نے عدالت پیش کیے جانے یا ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری پر اصرار کیا ، عدالت نے پہلے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کا آڈر کیا اس کے بعد جیل سپرنٹینڈنٹ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا، جیل حکام نے جواب دیا کہ ویڈیو لنک سسٹم کام نہیں کر رہا ،عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ جیل حکام ویڈیو لنک سسٹم ٹھیک کروا کر بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگوائیں ،اگر ویڈیو لنک ٹھیک نہیں ہوسکتا تو حاضری کا متبادل انتظام کیا جائےجیل سپرنٹینڈنٹ بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا انتظام نہیں کرتے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • نادرا ڈیٹا لیک کیس،ملزمان کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    نادرا ڈیٹا لیک کیس،ملزمان کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    نادرا ڈیٹا لیک کیس میں ملزمان کے ناقابلِ ضانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے گئےہیں

    آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں نادرا ملازمین کے خلاف ڈیٹا لیک کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے کی،اس موقع پر ملزمان ڈائریکٹرنادرا عامر بخاری، سیف اللہ، محمد علی اور محمد فاروق عدالت میں پیش نہیں ہوئے،عدالت نے ملزمان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ مارچ 2023 میں نادرا سے ڈیٹا لیک ہونے کے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد لاپرواہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف محکمہ جاتی اور انضباطی کارروائیاں شروع کر دی گئی،مارچ 2023 کے سائبر واقعے کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔ نادرا نے 30 اکتوبر 2023 کو جے آئی ٹی کیلیے حکومت سے درخواست کی تھی،

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

  • یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواست پر دلائل طلب

    انسداددہشت گردی عدالت لاہور،نو مئی واقعات میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    انسداددہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء سے دلائل طلب کر لیے،عدالت نے کیس کی سماعت 19 مارچ تک ملتوی کر دی،ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل سے بعدازگرفتاری دائر کر رکھی ہیں،ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے

    لاہور: ڈاکٹر یاسمین راشد نے دہشت گردی کے مقدمے میں چالان کی کاپیاں صاف نہ دینے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا .درخواست میں تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے صاف کاپیاں فراہم کرنے کی درخواست خارج کردی،چالان کے ساتھ گواہان کے ناموں کی لسٹ نہیں لگائی گئی،چالان کی نامکمل کاپی درخواست گزار کو فراہم کی گئی،صاف کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اقدام بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہے،عدالت چالان کی صاف کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم