Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟ جسٹس بابر ستار

    اسلام آباد ہائیکورٹ، آڈیو لیکس کیس،نجم الثاقب اور بشری بی بی کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےسماعت کی،ڈی جی ایف آئی اے عدالتی حکم پر عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،پی ٹی اے کی جانب سے عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ یہ کیس غیرموثر ہو چکا، نمٹا دیا جائے، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں،چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسیلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اوریجنل تھی ، وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے فیس بک یوٹیوب ہماری ایجنسیز کے دائرے اختیار سے باہر ہیں ، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ، جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں ،یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں، وکیل ٹیلی کام کمپنیر نے کہا کہ پالیسی ، ایکٹ ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں ، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کیا کر رہی ہے؟کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر،آڈیو لیکس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں،ڈی جی آئی بی
    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ امریکہ، یوکے اور جرمنی میں بھی آڈیولیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائسز موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے، ہم کسی پر ذمے داری فکس نہیں کر سکتے جب تک تحقیقات نہ ہوں، آڈیو ٹیپ کرنے کی کنفرمیشن یا تردید نہیں کر رہے، اسٹیٹ کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، اس سے متعلق عدالت کو چیمبرمیں تفصیل بتا سکتے ہیں۔وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں، میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی؟ جسٹس بابر ستار
    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے، یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر چلاتے رہے ہیں،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ مستقبل میں اسے کیسے روکا جا سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم سب کی پرائیویسی خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کلائنٹ سے بات کر رہا ہوں اور اسے کوئی اور بھی سن رہا ہو،جسٹس بابر ستار نے سوال کیا کہ کیا کوئی فریم ورک ہے؟ کس قانون کے تحت اسٹیٹ کو یہ سہولت دی ہوئی ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آٹھ فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کھوسہ صاحب آٹھ فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، آٹھ فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے.عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    آڈیولیکس کیس میں وزارتِ دفاع نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریری جواب جمع کروایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت کے مختلف ٹولز موجود ہیں جو سستے اور باآسانی ہر کسی کے لئے دستیاب ہیں کچھ پلیٹ فارمز گروپس بھی معاوضے کے بدلے یہ سروسز فراہم کرتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ممکنہ طور پر یہ بھی ہو سکتا ہے کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے لیک کر سکتے ہوں یا فون ہیک بھی ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے ذریعے کسی بھی آواز کے کنٹنٹ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے.ریکارڈنگ کے سورس کی معلومات صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی دے سکتا ہے، پیکا 2016کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات حاصل کرنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ مجاز اتھارٹی ہے، عدالت سے استدعا ہے اس معاملے پر مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو ہدایت جاری کی جائیں ، کالز کرنے والے خود بھی ریکارڈ کر کے بعد لیک کر سکتے ہیں یا فون ہیک ہو سکتا ہے ،وزارت دفاع کے ایک صفحے پر مشتمل جواب میں چھ نکات شامل ہیں

    واضح رہے کہ اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم الثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی تھی۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا.

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور بہنوں کے درمیان اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد لطیف کھوسہ نے اپنی اور بشریٰ بی بی کی سامنے آنے والی آڈیو کی تصدیق بھی کی تھی-

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے  درخواست دائر

    صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے

    صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے شہری مشکور حسین نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، درخواست میں صادق سنجرانی سمیت الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ صادق سنجرانی نے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور انہوں نے الیکشن جیتا، الیکشن کمیشن نے کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، صادق سنجرانی بیک وقت دو سیٹیں نہیں رکھ سکتے، وہ غیرقانونی طور پر چیئرمین سینیٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن صادق سنجرانی کی بطور سینیٹر نشست خالی قرار دینے کا حکم دے اور لاہور ہائیکورٹ انہیں بطور چیئرمین سینیٹ کام کرنے سے بھی روکے۔

  • صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کا سلسلہ جاری ہیں، آصف زرداری، محمود اچکزئی کے کاغذات جمع ہو چکے ہیں ایک شہری شمیم احمد نے بھی کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں

    شہری شمیم احمد نے سندھ ہائیکورٹ میں صدارتی امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے، شہری نے اس موقع پر کہا کہ "میں اسٹیل مل کا ریٹائرڈ ملازم ہوں” سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے صدارتی امیدوار کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے شہری شمیم احمد سے سوال کیا کہ آپ کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا طریقہ کار نہیں معلوم؟ شہری نے جواب دیا کہ نہ میں کسی کو جانتا ہوں نہ مجھے کوئی جانتا ہے۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے شہری سے سوال کیا کہ آپ کو قانون کا علم نہیں،شہری شمیم احمد نے کہا کہ مجھے سب معلوم ہے لیکن میں ایک آزاد شہری کے طور پر آیا ہوں،

    صحافی نے سوال کیا کہ آزاد امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی کا کیا فیصلہ ہوگا؟چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ عقیل عباسی نے کہا کہ ہم نے فارم وصول کرنے تھے کرلیے، مزید معاملہ ریٹرننگ آفیسر دیکھیں گے،

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک میں صدارتی انتخاب 9 مارچ کو ہو گا، 2 مارچ کو کاغذات نامزدگی 12 بجے سے پہلے جمع کرائے جا سکیں گے،الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ریٹرننگ آفیسر صبح 10 بجے کریں گے، کاغذات نامزدگی 5 مارچ دوپہر 12 بجے تک واپس لیے جا سکیں گے،صدارت کے امیدواروں کی فہرست 5 مارچ کو 1 بجے آویزاں کی جائے گی اور 9 مارچ کو صدارتی الیکشن ہو گا، صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی، آئین کے مطابق صدارتی انتخاب کا ریٹرننگ افسر چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    صدر مملکت ایک بار پھر آئین شکنی کرنا چاہتے ہیں ، اسحاق ڈار

  • کم عمر بچیوں کی شادی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    کم عمر بچیوں کی شادی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر بچیوں کی شادیوں سے متعلق فیصلہ سنا دیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار الحق پنوں نے رمضانہ بی بی کی درخواست پر عبوری تحریری حکم جاری کیا، عدالت نے کم عمر بچیوں کی شادیوں سے متعلق قانون پر عملدرآمد کا حکم دے کر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی،لاہور ہائی کورٹ نے عبوری تحریری حکم میں کہا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب 4 مارچ کو بطور کمیٹی سربراہ اجلاس کی صدارت کریں اور کمیٹی میں آئی جی پنجاب اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کی شرکت کو یقینی بنائیں، عدالت نے کہا کہ چیئرمین یونین کونسل فوری طور پر کم عمر بچیوں کا نکاح کینسل کرے گا، اگر کوئی کم عمر شادی رجسڑڈ ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • عمران ریاض کی اینٹی کرپشن مقدمے میں ضمانت منظور،دہشتگردی کیس میں گرفتار

    عمران ریاض کی اینٹی کرپشن مقدمے میں ضمانت منظور،دہشتگردی کیس میں گرفتار

    صحافی ویوٹیوبر عمران ریاض کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا،دوسری جانب عمران ریاض خان کے اینٹی کرپشن کے مقدمہ میں ضمانت منظورکر لی گئی ہے

    عمران ریاض خان کو زمان پارک کے سامنے پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا ہے ،عمران ریاض خان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کر دیا گیا ،پولیس کی جانب سے عمران ریاض خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، پولیس نے عمران ریاض کے 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے پانچ روز کا ریمانڈ دے دیا،

    شہزادی کی حکومت آئی،خوش بھی کرنا ہے، عمران ریاض
    عمران ریاض نے عدالت پیشی کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے شاید کوئی دہشت گردی کی ہے، میں اس دن ڈیوٹی کر رہا تھا جب کوئی وقوعہ ہوا تھا، یہ بات مارچ 2023 کی ہے اور آج انکو یاد آیا کہ یہ بندہ مطلوب ہے،میں اسوقت بول ٹی وی پر کام کر تا تھا، درجنوں صحافیوں نے کوریج کی تھی اور اب مجھے دہشت گردی کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا،عمران ریاض کا مزید کہنا تھا کہ شہزادی کی حکومت آئی ہے کچھ نہ کچھ تو ایسا ہو گا، حکومت چلانی ہے اور شہزادی کو خوش بھی کرنا ہے،پورے پاکستان میں ایسے الیکشن ہو جائیں جیسے وکلا یا صحافی کرواتے ہیں، عمران ریاض سے سوال کیا گیا کہ آپ لوگ کیوں بیمار نہیں ہوتے جس پر عمران ریاض کا کہنا تھا کہ اللہ سے خیر مانگیں کیوں بیماری کی دعا کر رہے ہیں.

    عمران خان کی بہن علیمہ خان عمران ریاض سے ملنے پہنچ گئیں
    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی عمران ریاض کو ملنے پہنچ گئیں اور عمران ریاض خان کی خیریت دریافت کی، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ہم نے نظام کا مقابلہ کرنا ہے، کس سے ڈر ہے، اللہ کے علاوہ کس سے ڈرنا ہے،ہم سب کے بچوں کے ساتھ کیا ہو گا، ظلم کا حصہ بنیں گے تو ہمارے گھر میں ظلم آئے گا، ہم سب کو ملکر کھڑے ہونا ہو گا، یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں کر رہے، ہم سہہ لیں گے ،ہم آپکو لیڈر مانتے ہیں، آپ ہمارے لیڈر ہیں،

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کو لاہور سے اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا گیا تھا، عمران ریاض کو نوٹس ایف آئی اےنے جاری کئے تھے تاہم انہیں اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا تھا،

    تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے،صحافی عمران ریاض

    آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    عمران ریاض خان کی رہائی کیسے ہوئی؟ پنکی کے سابق شوہر کی گرفتاری

    بولنے میں دشواری،وزن کم،عمران ریاض کو کیا ہوا؟

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

  • صنم جاوید کی درخواست ضمانت،ریکارڈ عدالت پیش نہ کیا جا سکا

    صنم جاوید کی درخواست ضمانت،ریکارڈ عدالت پیش نہ کیا جا سکا

    انسداد دہشت گردی عدالت،نو مئی کو تھانہ شادمان کو نزر آتش کرنے کا مقدمہ ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    پراسیکیوشن کی جناب سے مقدمہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا،عدالت نے مزید سماعت چھ مارچ تک ملتوی کر دی ،انسداد دھشتگردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ صنم جاوید نو مئی کو ریاست مخالف سازش کا حصہ ہے ،ملزمہ نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مل کر جلاؤ گھیراؤ کرایا ،صنم جاوید کے وکیل شکیل پاشا ایڈووکیٹ نے دلائل مکمل کر رکھے ہیں ،وکیل صنم جاوید نے کہا کہ صنم جاوید کو ہر ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے،جس مقدمہ میں اب گرفتار کیا اس میں کوئی کردار نہیں ہے،عدالتی فیصلوں کے مطابق بھی خاتون کو ضمانت جلد ملنی چاہیے، ملزمہ صنم جاوید کی نو مئی کے چھ مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے ،

    جناح ہاؤس، جلاؤ گھیراؤ کیس، 16 ملزمان کی ضمانت منظور
    دوسری جانب جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں گرفتار ملزمان کی ضمانتوں میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے گرفتار 16 ملزمان کی ضمانتیں ایک ، ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی ہیں، انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے جناح ہاؤس حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں گرفتار 40 ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،عدالت نے 16 ملزمان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ سناتے ہوئے ضمانتیں منظور کرلیں، ملزمان میں امجد حسین ،محمد دانش،فرحان احمد خان، مختارخان سمیت دیگر ملزمان شامل ہیں،انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزمان کی ضمانتیں ایک ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی ہیں۔

    واضح رہے کہ صنم جاوید بھی جیل میں ہیں، صنم جاوید کی ضمانت ہوتی ہے تو کبھی انہیں نظر بندتو کبھی دوبارہ کسی اور مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

    این اے 119،بڑے دعوے لیکن پھر مریم نواز کے مقابلے سے صنم جاوید” فرار”

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،مظاہر نقوی کیخلاف گواہوں کے بیان ریکارڈ

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،مظاہر نقوی کیخلاف گواہوں کے بیان ریکارڈ

    چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا۔
    اجلاس میں نجی بینک کے منیجر نے پانچ پانچ کروڑ روپے مالیت کے بینک ڈرافٹ کا ریکارڈ کونسل میں پیش کردیا، کونسل کی کارروائی میں گواہ چودھری شہباز کو بھی پیش کیا گیا، کونسل کے اراکین نے گواہ سے سوال کیا کہ آپ کی مرحوم اہلیہ بسمہ وارثی کا کوئی کیس مظاہر نقوی کی عدالت میں کبھی زیر سماعت رہا؟ اس پر چودھری شہباز نے کہا کہ بطور جج لاہور ہائی کورٹ مظاہر نقوی کی عدالت میں میری اہلیہ کا چیک ڈس آنر کا کیس چلتا رہا،کیپیٹل سمارٹ سٹی اور لاہور سمارٹ سٹی کے مالک زاہد رفیق نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور کہا کہ میری آٹھ کمپنیاں ہیں، گزشتہ چار دہائیوں سے تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوں، لینڈ پروائیڈر راجہ صفدر کے ذریعے مظاہر نقوی سے ملاقات ہوئی۔ کونسل نے ادائیگی سے متعلق سوال کیا تو زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم نے ادائیگی راجہ صفدر کو کی،مظاہر نقوی سے ملاقاتوں کے سوال پر زاہد توفیق نے کہا کہ دو بار مظاہر نقوی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی، مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو جانتا ہوں، ہماری کمپنی نے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے مظاہر نقوی کے بیٹوں کی لاء فرم کو ادا کئے، مظاہر نقوی کی صاحب زادی کو ایمرجنسی میں لندن میں پیسوں کی ضرورت تھی جس پر راجہ صفدر نے مجھے ادائیگی کرنے کا کہا، میں نے دبئی میں اپنے ایک دوست کے ذریعے مظاہر نقوی کی بیٹی کو پانچ ہزار پاونڈز لندن بھجوائے، لندن بھیجی گئی پانچ ہزار پاونڈز کی رقم ہمیں واپس نہیں کی گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا راجہ صفدر نے کبھی کسی اور جج سے آپ کی ملاقات کرائی؟ جس پر زاہد توفیق نے انکار کیا اور کہا کہ 16 اپریل 2019ءکو پانچ سو مربع گز کے دو پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 54 لاکھ روپے تھی، صرف دس فیصد رقم ادا ہوئی، دونوں پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو ٹرانسفر ہو چکے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدقہ تو اپنی جیب سے دیا جاتا ہے راجہ صفدر دوسروں کی جیب سے پیسے نکال کر صدقہ کیوں بانٹتا تھا؟ زاہد توفیق نے بتایا کہ ہم دوستوں کو فائدہ دیتے رہتے ہیں، سمارٹ سٹی لاہور میں سو مربع گز کے دو کمرشل پلاٹس مظاہر نقوی کے دونوں بیٹوں کو دیے، فی پلاٹ کی مالیت 80لاکھ روپے تھی، مظاہر نقوی کے بیٹوں نے دونوں کمرشل پلاٹس بیچ دیے اور کتنے میں بیچے؟ علم نہیں، مظاہر نقوی کے ایک بیٹے کی شادی میں شرکت کی تھی،پراسیکیوٹر عامر رحمان نے کہا کہ الائیڈ پلازا کے بارے میں مظاہر نقوی کے خلاف ریکارڈ سے کچھ ثابت نہیں ہوا۔چیئرمین جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مظاہر نقوی صاحب چاہیں تو اپنے وکیل کے ذریعے گواہان پر جرح کر سکتے ہیں یہ بات آج دوبارہ کہہ رہے ہیں،اگر کوئی پیش نہ ہوا تو یہ سمجھا جائے گا، دفاع کیلئے کچھ ہے ہی نہیں،کونسل نے اجلاس کی کارروائی کل تک ملتوی کردی اور زاہد توفیق کو ہدایت دی کہ وہ کل متعلقہ دستاویزات پیش کریں

    واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا, جسٹس مظاہر نقوی نے گزشتہ روز استعفیٰ دیا تھا جو صدر مملکت نے منظور کر لیا تھا،

    جسٹس مظاہر نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور سپریم کورٹ جج اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن سے زیادہ مہنگی لاہور میں جائیدادیں خریدی ہیں لہذا سپریم جوڈیشل کونسل اس کو فروخت کرے اور اعلیٰ عدلیہ کے جج کے خلاف کارروائی کرے۔

    یاد رہے کہ ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس مظاہر نقوی نے جوڈیشل کونسل کے جاری کردہ دونوں شوکاز نوٹس چیلنج کردیئے

    ،اگر کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہوگا؟

  • جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    جعلی رسیدیں کیس، عمران خان ،بشریٰ کی آن لائن حاضری کا حکم

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے آئندہ سماعت پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کی آن لائن حاضری لگانے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کے خلاف چھ کیسز اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیس میں ضمانتوں کی درخواستوں پر جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کی،عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کی آن لائن حاضری لگی نہ ہی بشریٰ بی بی کو پیش کیا گیا،وکیل صفائی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی حاضری کا آرڈر کیا گیا تھا،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہمیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت پروڈکشن سے متعلق معلوم نہیں،

    جج نے سوال کیا کہ کیا جعلی رسیدوں کے کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہو چکے؟تفتیشی افسر تھانہ کوہسار نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی مقدمے میں شاملِ تفتیش ہو چکے ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر صبح ساڑھے 8 بجے درخواست ضمانت پر دلائل دیں گے،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،یاسمین راشد

    لاہور:انسداد دہشت گردی عدالت،نو مئی کو مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمہ ،ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو انسداد دھشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا

    انسداد دھشتگردی عدالت کے ڈیوٹی جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،عدالت نے مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو چالان کی کاپیاں تقسیم کی جائیں گی ،پراسیکیوشن نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کیخلاف چالان عدالت میں جمع کرا رکھا ہے ،ملزمان نے اعتراض کیا کہ بغیر جسمانی ریمانڈ ہمیں مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا،تفتیشی افسر نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان سے جیل میں تفتیش مکمل کی گئی، ڈاکٹر یاسمین راشد ٫ میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر کیخلاف چالان جمع کرا دیا گیا

    عدالت پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےکہا کہ مریم نواز تقاریر کی بجائے غریب کی بھوک بارے سوچیں، اس وقت غریب لوگوں کے پاس ایک وقت کے کھانے کے پیسے نہیں،رمضان پیکچ سے کام نہیں چلے گا رمضان کے بعد بھی لوگوں نے جینا ہے،عوام کو ریلیف نہ ملا تو عوام انکو نہیں چھوڑے گی، مہارانی کو پتہ ہی نہیں ملک میں غربت کتنی ہے،مجھے پتہ ہے غربت کا کیونکہ میں نے 35 سال سرکاری ہسپتال میں کام کیا ہے،لوگوں کے پاس ایک انجیکشن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے،

    عوام نے 8 فروری کو نو مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے،یاسمین راشد
    صحافی نےیاسمین راشد سے سوال کیا کہ اگر ن لیگ عوام کو ریلیف دے تو کیا پی ٹی آئی اس حکومت کو سپورٹ کرے گی ،جس پر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ انہوں نے آج تک عوام کو کوئی ریلیف دیا ہے جو آج امید لگا رہے ہیں، ایک ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ لینے والی خواتین جیل میں قید ہیں،تین دفعہ کے وزیر اعظم کی بیٹی شدید دھاندلی سے اقتدار میں آئی ہے،فارم 45 میں ہارنے والے فارم 47 میں جیت گئے، عدالتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا ہے،نو مئی کا واقعہ بیچنے والے آج نو فروری والے بن چکے ہیں، عوام نے 8 فروری کو نو مئی کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے،انکے ظلم جبر اور زیادتی کو عوام نے مسترد کر دیا،

    کمشنر راولپنڈی کے دھاندلی کے الزامات، سیاسی جماعتوں کا ردعمل

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی نہیں یہودی لابی کی جیت ہوئی،عائشہ گلالئی

    ہاں ،ہم سے دھاندلی کروائی گئی،کمشنر پنڈی مستعفی،سب بے نقاب کر دیا

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے 13 فروری کو امریکی ویزہ لیا،انکشاف

    الزام لگانا حق ،ثبوت بھی پیش کر دیں، چیف جسٹس کا کمشنر کے الزامات پر ردعمل

    مستعفی کمشنر پنڈی لیاقت چٹھہ تحریک انصاف دور حکومت میں کہاں تعینات رہے؟

  • شیریں مزاری  مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت  پیش

    شیریں مزاری مبینہ اغوا کیس،سیکرٹری کابینہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر شیریں مزاری کے مئی 2022 میں مبینہ اغوا کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،سیکرٹری کابینہ عدالتی حکم پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتاری خلاف قانون تھی؟ سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ نومبر 2022 میں یہ رپورٹ آئی تھی، رپورٹ کے مطابق گرفتاری میں پروسیجرل غلطیاں تھیں، وزیراعظم نے رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار نہیں بلکہ اغواء کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ کوئی سیکرٹ دستاویز نہیں بلکہ صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے، ہم انسانی حقوق کا معاملہ دیکھ رہے ہیں، سابق چیف جسٹس نے معاملہ کابینہ کو بھیجا تھا، سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں چھپانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر کیا ایکشن لیا؟یہ معاملہ نئی تشکیل پانے والی کابینہ کے سامنے رکھا جائے،ہم نے پراسیس دیکھنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوئی یا نہیں،اس حوالے سے رپورٹ پڑھنی پڑے گی، اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کے لیے جمع کرا دیں، کیا اس معاملے کو اب آنے والی کابینہ دیکھے گی؟سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ جی، نئی کابینہ اس معاملے کو اب دیکھے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے کردار کو دیکھنا ہے، آفیشلز کے خلاف ایکشن کو دیکھنا ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،