Baaghi TV

Tag: عدالت

  • زمان پارک،جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں صنم جاوید کو جیل بھجوا دیا گیا

    زمان پارک،جلاؤ گھیراؤ مقدمے میں صنم جاوید کو جیل بھجوا دیا گیا

    لاہور:زمان پارک کے سامنے پولیس کی گاڑیاں جلانے اور پولیس پر تشدد کا مقدمہ، عدالت نے پی ٹی آئی سوشل۔میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کو واپس جیل بھجوا دیا

    عدالت نے کہا کہ ملزمہ کو اس مقدمہ میں جوڈیشل ریمانڈ کیلیے آئندہ پیش نہ کیا جائے ،ملزمہ صنم جاوید کی اس مقدمہ کی ضمانت ہو چکی ہے،انسداد دھشتگردی عدالت کے جج محمد نوید اقبال نے سماعت کی،پولیس نے صنم جاوید کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی،وکلا ملزمہ نے کہا کہ ملزمہ صنم جاوید کی اس مقدمہ میں ضمانت ہو چکی ہے اور رہائی کی روبکار بھی جیل ارسال ہو چکی ہے

    صنم جاوید کو تھانہ ریس کورس کے مقدمہ نمبر 410/23 میں پیش کیا گیا ،مقدمہ میں کہا گیا کہ صنم جاوید نے زمان پارک کے باہر اشتعال انگیز تقاریر کی اور کارکنان کو پولیس پر حملہ ہر اکسایا, پولیس زمان پارک بانی پی ٹی آئی چیرمین کو گرفتاری کرنے آئی تھی ،صنم جاوید اور دیگر نے زمان پارک کے باہر جلاؤ گھیراؤ کیا ،زمان پارک میں ڈی آئی جی پر تشدد کیا گیا پولیس کی گاڑیاں جلائی گئی،

    واضح رہے کہ صنم جاوید کے  نظر بندی کے احکامات واپس لئے گئے تھے، صنم جاوید کی رہائی کا امکان تھا تا ہم بعد میں پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ صنم جاوید کی کئی مقدمات میں ضمانت منظور ہو چکی ہے تا ہم عدالت سے رہائی کے بعد صنم جاوید کو دوبارہ نئے مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے,آٹھ نومبر کو پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو جیل سے رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا،20 اکتوبر کو بھی تحریک انصاف کی رکن صنم جاوید خان اور ان کی ساتھی خواتین کو کوٹ لکھپت جیل سے رہائی ملنے کے بعد ان کے جیل سے باہر نکلتے ساتھ ہی پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا،25 ستمبر کو بھی جناح ہاؤس حملہ کیس میں رہائی پانے والی پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور دیگر خواتین کو پھر سے گرفتار کرلیا تھا،

  • سات برس قبل لاپتہ ہونیوالا بازیاب نہ ہو سکا،سماعت ملتوی

    سات برس قبل لاپتہ ہونیوالا بازیاب نہ ہو سکا،سماعت ملتوی

    لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سندھ ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    دوران سماعت پولیس نے عدالت میں کہا کہ چاکیواڑہ سے لاپتہ شہری کا تاحال سراغ نہیں مل سکا جبکہ ملیر سے لاپتہ ہونے والا افغان شہری بازیاب ہو کر واپس گھر آ گیا ہے، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ شہری کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ 30 جے آئی ٹیز اور صوبائی ٹاسک فورس کے 4 اجلاس ہو چکے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب تک شہری کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا؟ جس پر تفتیشی افسرنے جواب دیا کہ شہری کو بازیاب کرانے کے لیے بھر پور کوشش کی جا رہی ہے

    عدالت میں موجود لاپتہ شخص کے اہل خانہ نےکہا کہ 7 سال پہلے چاکیواڑہ سے شہری لا پتہ ہوا تھا جس کا اب تک سراغ نہیں لگایا گیا،عدالت نے اہل خانہ سے سوال کیا کہ اگر آپ لوگ چاہیں تو ہم تفتیشی افسر کو تبدیل کر دیں؟ لاپتہ شخص کے اہل خانہ نے استدعا کی کہ تفتیشی افسر ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں انہیں تبدیل نہیں کریں،پولیس نے عدالت میں کہا کہ افغان شہری محمد اکبر ملیر سے لا پتہ ہوا تھا جوبازیاب ہو کر گھر واپس آ گیا ہے،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 4 مارچ تک ملتوی کر دی

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  • شیخ رشید کو طبی معائنے کے بعد خلاف قانون جیل منتقل کیا گیا،وکیل

    شیخ رشید کو طبی معائنے کے بعد خلاف قانون جیل منتقل کیا گیا،وکیل

    شیخ رشید کی جانب سے جیل انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    شیخ رشید کے وکیل سردار شہباز خان ایڈووکیٹ عدالت پیش ہوئے ،توہین عدالت نوٹس کے باوجود جیل سپرنٹنڈنٹ عدالت پیش نہ ہوئے ،انسداد دہشت گردی عدالت نے 24 جنوری کو جیل سپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا ،جیل عملے کی جانب سے شیخ رشید کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش کر دی گئی ،وکیل شیخ رشید نے کہا کہ شیخ رشید کو طبی معائنے کے بعد خلاف قانون جیل منتقل کیا گیا، جج نے جیل عملے سے استفسار کیا کہ کیا شیخ رشید کو ہسپتال سے ان کی مرضی کے خلاف منتقل کیا گیا،جیل عملہ نے کہا کہ شیخ رشید کو ان کی مرضی کے مطابق جیل منتقل کیا گیا، جج اعجاز آصف نے استفسار کیا کہ کیا شیخ رشید کی منتقلی کے حوالے سے ان کی رضا مندی کی کوئی تحریر موجود ہے، جیل عملہ نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی تحریر موجود نہیں ہے، عدالت نے جیل عملے سے شیخ رشید کی منتقلی کے حوالے سے بیان طلب کر لیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت میں وقفہ کر دیا

    اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل وقیع الزمان شیخ رشید کا بیان لے کر عدالت پہنچ گئے ،توہین عدالت کی درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری ہے،

     شیح رشید کی این اے 56 سے کاغذات نامزدگی منظور

    واضح رہے کہ گزشتہ روز شیخ رشید کی نو مئی کے کیس میں ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت سے گرفتار کیا گیا تھا 

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

  • عمران ریاض کی لسٹ سے نام نکلوانے کی درخواست پر اعتراض ختم

    عمران ریاض کی لسٹ سے نام نکلوانے کی درخواست پر اعتراض ختم

    سینئر صحافی عمران ریاض خان کی لسٹ سے نام نکلوانے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے عمران ریاض خان کی درخواست پر اعتراض ختم کر دیا، عدالت نے کہا کہ جوڈیشل سائیڈ پر معاملے کو دیکھا جائے،عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کر دی،وکیل نے استدعا کی کہ عمرے پر جانا ہے اگر آج ہی سماعت کرکے آرڈر فرما دیا جائے، ادارے والے کہتے ہیں کہ عمران ریاض خان کا نام پی این ایل آئی لسٹ میں نام ہے، لسٹ فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے درخواست کے ساتھ نہیں لگا سکے، خط لکھا اور ای میلز بھی کیں لسٹ فراہم نہیں کی گئی،عدالت نے عمران ریاض سے استفسار کیا کہ آپ نے باہر جانے کی کوشش کی جس پر آپ کو روکا گیا، عمران ریاض نے کہا کہ جی پہلے گیا لیکن ائیرپورٹ پر روک لیا گیا، جسٹس علی باقر نجفی نے سینئر صحافی عمران ریاض خان کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانا چاہتا ہوں پی این آئی ایل لسٹ سے نام نکالا جائے ،عدالت درخواست کو منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کو عمرہ کی ادائیگی مکمل کرنے کا حکم دے

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    عمران ریاض خان کی رہائی کیسے ہوئی؟ پنکی کے سابق شوہر کی گرفتاری

    بولنے میں دشواری،وزن کم،عمران ریاض کو کیا ہوا؟

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

  • بابری مسجد کے بعد  گیان واپی مسجد سے متعلق  عدالت کے فیصلےسے مسلمانوں کو دھچکا

    بابری مسجد کے بعد گیان واپی مسجد سے متعلق عدالت کے فیصلےسے مسلمانوں کو دھچکا

    نارس: بھارت کے شہر بنارس (اب وارانسی) کی ایک ضلعی عدالت نے تازہ فیصلے میں نارس کی گیان واپی مسجد سے متعلق مقدمے میں کہا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ فریقین کو فراہم کردی جائے۔

    باغی ٹی وی : انڈین میڈیا کے طابق ضلعی عدالت نے فریقین سے اس سلسلے میں بیانِ حلفی طلب کرلیا ہے بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرائے جانے کے بعد ہی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جامع رپورٹ فریقین کو دی جائے گی۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے بدھ کو کہا کہ آج، عدالت نے دونوں فریقوں کو سنا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ کی ہارڈ کاپی دونوں فریقوں کو فراہم کی جائے گی اے ایس آئی نے ای میل کے ذریعے رپورٹ فراہم کرنے پر اعتراض کیا دونوں فریقوں نے رپورٹ کی ہارڈ کاپی حاصل کرنے پر اتفاق کیا۔

    کتنے افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر گئے؟یو این افغان مشن نے اعدادوشمار جاری کر …

    ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ گیان واپی مسجد سترہویں صدی میں ہندوؤں کے مندر کی باقیات پر تعمیر کی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین باضابطہ طور پر خریدی گئی تھی اور اس کی تعمیر کے سلسلے میں اس دور کی تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی رام مندر کے افتتاح کے فوراً بعد بنارس کی ضلعی عدالت کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جاری ہونے والے اس فیصلے سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے-

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح …

    انڈین گلوکار کا لائیو کنسرٹ کے دوران مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

  • نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کی پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس موجود ہیں کہ میڈیا کو رسائی دی جا رہی ہے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی دیکھیں کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا اور ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن 28 نومبر کو جاری کیا جبکہ ریفرنس 20 دسمبر کو دائر ہوا، دوسرا نوٹیفکیشن 14 نومبر کو جاری ہوا جبکہ ریفرنس 4 دسمبر کو دائر ہوا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ نوٹیفکیشن سے ریفرنس دائر ہونے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی؟

    پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ عمران خان کو 13 نومبر کو 190 ملین پاؤنڈ کے نیب کے کیس میں گرفتار کیا گیا،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ نوٹیفکیشن اور سمری کا عمل دیکھیں تو غیر ضروری جلد بازی واضح ہے، نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی، ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں بھی بالکل یہی بات کہنے لگا تھا”.

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹرائل اتنا اوپن ہے کہ ہمارے ایک ساتھی وکیل کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، سائفر کیس میں متعلقہ جج نے حکومت کو جیل ٹرائل کے لیے خط بھی لکھا تھا، ہائی کورٹ نے اس کے باوجود ٹرائل کالعدم قرا ردیا کیونکہ جوڈیشل آرڈر موجود نہیں تھا، اس کیس میں تو متعلقہ جج کی طرف سے کوئی خط بھی نہیں ہے، جیل میں عدالت لگانا الگ بات ہے ٹرائل کرنا الگ معاملہ ہے، جیل ٹرائل کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے، عدالت نے احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہے، احتساب عدالت کے جج تمام کیسز چھوڑ کر 2 کیسز کے لیے روزانہ اڈیالہ جیل جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    پانچ کروڑ کا جرمانہ نہیں دیا،الیکشن نہ لڑیں گھربیٹھیں، چیف جسٹس،درخواست مسترد

    سپریم کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار عبدالحفیظ لونی کو الیکشن لڑنے سے روک دیا

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 سے انتحابات میں حصہ لینے سے متعلق کیس کی سماعت کی،سپریم کورٹ نے جے یو آئی امیدوار عبدالحفیظ کی اپیل مسترد کردی اور الیکشن ٹربیونل اور بلوچستان ہائیکورٹ کا کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا،وکیل نے عدالت میں کہا کہ عبدالحفیظ لونی کی نیب کیس میں سزا پوری ہوچکی، الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا مؤکل صرف 2 سال اور 2 ماہ جیل میں رہا، نیب کورٹ نے 10 سال کی سزا اور 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا،آٹھ سال تک آپ کا مؤکل پے رول پر جیل سے باہر رہا، آپ کے مؤکل نے 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہیں کیا، ایسے لوگ بلوچستان کے عوام کی نمائندگی نہ کریں، الیکشن نہ لڑیں گھر بیٹھیں، الیکشن میں آپ کا خرچہ ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ 5 کروڑ کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر اس کی جائیداد ضبط ہونی چاہیے

  • سلمان اکرم راجہ کی آزاد امیدوار قرار دینے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    سلمان اکرم راجہ کی آزاد امیدوار قرار دینے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ کی خود کو آزاد امیدوار قرار دینے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرلی،عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو کل کیلئے نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے کہا کہ یہ کنفیوژن ہے کہ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز پرنٹ کرلی یا نہیں، عدالت نے خوشگوار موڈ میں استفسار کیا کہ کیا آپ الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرانا مقصد نہیں بلکہ قانون کے پارٹی شناخت حاصل کرنا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا تحفظات ہیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میری دو استدعا ہیں عدالت سے، مجھے پارٹی کا نامزد امیدوار سمجھا جائے، مجھے آزاد امیدوار ڈکلیئر نہ کیا جائے،پی ٹی آئی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے، پی ٹی آئی نے مجھے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، دو طرح کے امیدوار ہیں ایک جنہیں پارٹی نے نامزد کیا اور دوسرے آزاد امیدوار ہیں،درخواست گزار کی پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا،رول 94 میں پارٹی کی تعریف تبدیل کر دی گئی، قانون کو رولز میں ترمیم کرکے تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت کی ،سلمان اکرم راجہ نے وکیل سمیرا کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی ،درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف 1996 سے الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے ،درخواست گزار این اے 128 سے پی ٹی آئی سے حمایت یافتہ امیدوار ہےانٹرا پارٹی الیکشن نہ کرنے پر انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے پارٹی تاحال موجود ہے، الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات میں بطور آزاد امیدوار ڈیکلیئر کردیا ہے ،عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد امیدوار ڈیکلیئر کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے، بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی کا امیدوار درج کرنے کا حکم دے،

  • نو مئی کے مقدمے،عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    نو مئی کے مقدمے،عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سانحہ 9 مئی کے 12 کیسز میں ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر سماعت کا معاملہ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی،شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کی درخواستوں ضمانتوں پرسماعت ملتوی کر دی گئی

    تمام درخواستوں کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام 12 مقدمات کے چالان پیش نہیں ہوئے ،مرکزی پراسیکیوٹر بھی پیش نہ ہوئے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی ٹیم ریکارڈ سمیت لاہور گئی ہے،عدالت نے کہا کہ آئیندہ تاریخ پر مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت کی،بانی چیئرمین نے 12،شاہ محمود قریشی نے 6،شیخ رشید نے ایک مقدمہ میں درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی 9 مئی کے مقدمات میں درخواست ضمانت کا معاملہ،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی،شیخ رشید کی جانب سے سردار شہباز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

    واضح رہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اڈیالہ جیل میں ہیںَ عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے تو وہیں شیخ رشید کو بھی نو مئی کے مقدمے میں ضمانت خارج ہونے پر عدالت سےگرفتار کیا گیا ہے

  • جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ اور 190 ملین پائونڈ کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےسماعت کی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل منور اقبال دگل اور نیب اسپیشل پراسیکیوٹر امجد پرویز ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اسی نوعیت کے ایک کیس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ دے رکھا ہے،مناسب ہو گا کہ یہ کیس بھی اُسی عدالت میں منتقل کر دیا جائے، ہماری استدعا ہے کہ دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل ان کیمرا ٹرائل نہیں ہوتا، صرف وہ پیرامیٹرز دیکھنے ہیں کہ جیل ٹرائل کے طریقہ کار کو فالو کیا گیا یا نہیں،یہ نیب کیس ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا نیب لا میں کچھ الگ ہے؟اٹارنی جنرل کو آنے دیں، ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں،

    جیل ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا گیا

    نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    دوبارہ سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل عدالت پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے کیس دوبارہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی،شعیب شاہین نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پہلے اسی نوعیت کے کیس پر فیصلہ دے رکھا ہے کیس اُسی بنچ کو دوبارہ بھیج دیا جائے جو پہلے سُن رہا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے چھٹی سے واپس آنے تک دونوں مقدمات کے ٹرائل پر حکمِ امتناعی جاری کر دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حکمِ امتناعی جاری نہیں کرتے، کیس ایسے ہی اُس بنچ کو بھیج دیتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اِس عدالت کے سامنے تمام فریقین موجود ہیں، یہاں دلائل کیوں نہیں دینا چاہتے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اُس بنچ نے پہلے اِس نوعیت کی درخواست پر فیصلہ دے رکھا ہے اس لئے کیس منتقل کرنے کی استدعا کی باقی ہم نے بنچ پر اعتراض نہیں کیا یہاں دلائل دینے کیلئے بھی تیار ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل شروع کریں ہم دیکھ لیں گے کہ وہ فیصلہ نیب کیس میں بھی متعلقہ ہے یا نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیب نے جیل ٹرائل کیلئے خط کب لکھا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب نے 13 نومبر کو خط لکھا اور سمری 14 نومبر کو بھیجی گئی،عدالت نے استفسار کیا کہ نیب نے ریفرنس کب دائر کیے؟وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایک ریفرنس 4 جبکہ دوسرا 20 دسمبر کو دائر کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دیدی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن عدالت کے جیل سماعت کیلئے تھے ٹرائل کیلئے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل جیل میں کیا جائے، ریفرنس ابھی آیا ہی نہیں تھا تو آپکو کیسے پتہ چلا کہ دائر ہونا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرائل کا لفظ لکھنا غلطی ہو سکتی ہے، جیل سماعت کیلئے نوٹیفکیشن کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.