Baaghi TV

Tag: عدم اعتماد

  • پاکستانی نژادسکاٹ لینڈ وزیراعظم حمزہ یوسف مستعفی

    پاکستانی نژادسکاٹ لینڈ وزیراعظم حمزہ یوسف مستعفی

    پاکستانی نژاد اسکاٹش حمزہ یوسف نے اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں

    اپنے بیان میں حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ نئے چیف منسٹر کے انتخاب تک ذمہ داریاں ادا کرتا رہوں گا،انہوں نے آج استعفیٰ دیا ہے.

    سکاٹ لینڈ کے وزیراعظم حمزہ یوسف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد مستعفی ہونے کے لئے تیار ہو گئے تھے،تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حمزہ یوسف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ استعفیٰ دینے کے علاوہ انکےپاس اور کوئی راستہ نہیں بچا، حمزہ یوسف سکاٹ لینڈ کی تاریخ میں پہلے وزیراعظم ہیں جو مستعفی ہوئے،یہ پیش رفت حکومتی اتحاد کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی جب اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) نے حکمران جماعت اسکاٹش گرینز (ایس جی) کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا

    حمزہ یوسف کے ایک قریبی دوست نے ٹائمز کو بتایا: ‘حمزہ جانتا ہے کہ ملک اور پارٹی کے لیے کیا بہتر ہے۔ وہ پارٹی کے پہلے کارکن اور پارٹی کے آدمی ہیں، اور اسی وجہ سے وہ جانتے ہیں کہ یہ کسی اور کے لیے وقت ہے۔’

    اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ ایس این پی کے سابق رہنما اور نکولا اسٹرجن کے دیرینہ ساتھی جان سوینی سے پارٹی کے سینئر شخصیات نے رابطہ کیا ہے کہ اگر مسٹر یوسف کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ عبوری پہلے وزیر بن جائیں۔ایس این پی رہنما، حمزہ یوسف جنہوں نے مارچ 2023 میں اسٹرجن سے اقتدار سنبھالا تھا، کو عدم اعتماد کے دو ووٹوں کا سامنا ہے، پریذائیڈنگ آفیسر کو چھوڑ کر کل 128 ایم ایس پیز ہیں، لیکن ایس این پی کے پاس صرف 63 ووٹ ہیں جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پاس 65 ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف 29 مارچ 2023 کو اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیراعظم) منتخب ہوئے تھے،انہیں اسکاٹ لینڈ کے سب سے کم عمر نوجوان اور پہلے ایشیائی مسلم فرسٹ منسٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے

    سعودی عرب میں موجود وزیراعظم کی امیر کویت سے ملاقات

    سرمایہ کاری سےمتعلق پاکستان ہماری ترجیح ہے،سعودی وزیر کی وزیراعظم کو یقین دہانی

    وزیر اعظم شہباز شریف کادورہ سعودی عرب،صدر اسلامی ترقیاتی بینک ڈاکٹرمحمد سلیمان الجاسر سے ملاقات

    چاہتے ہیں کہ پاک ،سعودیہ معاشی تعلقات سعودی ویژن 2030 کے تناظر میں آگے بڑھیں، آل تویجری

    سعودی عرب نےہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،علامہ طاہر اشرفی

    خواجہ آصف کا سعودی عرب کے حوالے سے شیر افضل مروت کے بیان پر ردعمل

    سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اگلے مہینے مئی میں پاکستان کا دورہ متوقع 

    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا عام پرواز میں‌سفر،مسافروں کو ملی اذیت،پی آئی اے کو بھی نقصان

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا 3 روزہ دورہ مکمل 

    شہزادہ محمد بن سلمان کا وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو افطار کی خصوصی دعوت

    وزیراعظم کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری ،ملک و قوم اورفلسطین کیلئے خصوصی دعائیں کی

  • وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خرشید نااہل قرار

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خرشید نااہل قرار

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خرشید نااہل قرار

    آزاد جموں کشمیر کے وزیراعظم کے بعد گلگت بلتستان کے وزیر اعلی بھی نااہل قرار دے دیئے گئے۔ آزاد جموں کشمیر وزیراعظم توہین عدالت اور گلگت بلتستان وزیراعلی جعلی ڈگری کیس کی بنا پر نااہل قرار دئے گئے۔چیف کورٹ گلگت بلتستان نے وزیراعلی خالد خورشید کو نا اہل قرار دے دیا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے وزیراعلی گلگت بلتستان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی۔وزیراعلی گلگت بلتستان کے خلاف عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ،گلگت میں تحریک انصاف کی حکومت رہ گئی تھی اور نو مئی کے بعد تحریک انصاف کے رہنما گلگت کے علاقوں میں جا کر روپوش ہو گئے تھے، اور ابھی تک روپوش ہیں، اب وزیراعلی گلگت بلتستان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی جس پر 9 اراکین کے دستخط ہیں،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف جعلی ڈگری پر نا اہلی کا کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اپوزیشن اراکین نے اسمبلی تحلیل کا ممکنہ پلان ناکام بنانے کیلئے تحریک جمع کروائی۔

    وزیراعلیٰ خالد خورشید گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے غور کر رہے تھے کہ اپوزیشن نے سارے منصوبے پر پانی پھیر دیا، پیپلز پارٹی کے رکن گلگت بلتستان اسمبلی غلام شہزاد آغا نے وزیراعلیٰ خالد خورشید کی ڈگری کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت ان کی نااہلی کی استدعا کی ہے درخواست گزار نے اپنے وکیل امجد حسین کے ذریعے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ کی جمع کرائی گئی ڈگری کی لندن یونیورسٹی سے تصدیق نہیں ہوئی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اسے جعلی قرار دیا ہے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

  • سپیکر گلگت اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب

    سپیکر گلگت اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب

    گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس ہوا، سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعمتاد پیش کی گئی،

    امجد زیدی کیخلاف عدم اعتماد کیلئے ووٹنگ ہوئی، وذیراعلی گلگت بلتستان نے اپنا ووٹ پول کردیا ہے خفیہ ووٹنگ کا عمل مکمل گنتی کی گئی ، امجد زیدی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حق 21 اراکین کا ووٹ پڑ گیا جبکہ 1 ووٹ تحریک کے مخالفت میں پڑا۔ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر امجد زیدی اب اسپیکر نہیں رہے

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سید امجد علی زیدی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ، انکی ہی جماعت کے اراکین نے کروائی تھی،33 رکنی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 17 ارکان کی حمایت درکار تھی،

    میڈیا رپورٹس کے بعد اب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف بھی عدم اعتماد آئے گی اور پی ٹی آئی کی آخری حکومت کا خاتمہ ہو گا گلگت میں بھی تحریک انصاف کی حکومت جلد ختم ہونے والی ہے، اس حوالہ سے پی ڈی ایم نے اپنا کام شروع کر رکھا ہے، ملاقاتیں جاری ہیں،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

  • بشری خان کی ایف آئی اے طلبی نوٹس کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ میں فرح شہزادی کی والدہ بشری خان کے خلاف ایف آئی اے طلبی نوٹس کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے سے بشری خان کی انکوائری سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا ،عدالت نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی ،جسٹس طارق سلیم شیخ درخواست پر سماعت کی، وکیل فرح گوگی نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے ایک جیسے کیس پر تحقیقات کر رہے ہیں ،سیاسی بنیادوں پرایف آئی اے نے بلاجواز انکوائری نوٹس جاری کیا، اسی نوعیت کا مقدمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے درج کیا۔اب ایف بی آر نے فیڈمک میں پلاٹ خریداری کے الزام میں ٹیکس معاملات کی انکوائری بھی شروع کردی، اینٹی کرپشن کے مقدمے میں تمام ثبوت فراہم کرنے پر مقدمہ خارج ہوا، ایف آئی اے نے غیر قانونی طور پر انکوائری شروع کرکے طلبی نوٹس جاری کیاعدالت ایف آئی اے نوٹس جاری کرنے اور ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے،

    واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے بشریٰ خان پر مقدمہ درج کیا تھا جبکہ نیب نے بھی بشریٰ خان کو طلب کیا تھا،بشری خان 4 کمپنیوں میں فرح خان کے ساتھ پارٹنر ہیں ،بشریٰ خان فرح کے ساتھ البراق فوڈ، البراق ہاوسنگ سوسائٹی، المعیز فوڈ اور پراپرٹی میں حصے دار ہیں ،بشری خان نے بیٹی فرح خان کے ساتھ ملکر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ،جن کمپنیوں کے حوالہ سے نیب نے بشریٰ خان کو طلب کیا وہ کمپنیاں پچھلے چار سال میں بنائی گئیں بشریٰ خان کو ضروری دستاویزات ساتھ لانے کا کہا گیا

    اینٹی کرپشن پنجاب نے عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی،اسکا خاوند احسن جمیل گجراوراسکی والدہ بشریٰ خان کو فیصل آباد اکنامک زون میں 10 ایکڑز پر مشتمل 60 کروڑ مالیت کا پلاٹ 8 کروڑ 30 کےعوض جعلی الاٹمنٹ کرنے والے سابق CEO اکنامک زون رانا یوسف اور سیکرٹری مقصود احمد کو گرفتار کررکھا ہے

    عمران خان نے 258 کنال اپنی اہلیہ بشری بی بی کے نام کروائی جبکہ 240 کنال اپنی اہلیہ کی دوست فرح گوگی کے نام کروائی

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

  • پہلے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ لیں،خواتین اراکین اسمبلی کا بھی اجلاس میں مطالبہ

    پہلے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ لیں،خواتین اراکین اسمبلی کا بھی اجلاس میں مطالبہ

    پہلے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ لیں،خواتین اراکین اسمبلی کا بھی اجلاس میں مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس سبطین خان کی زیر صدارت ہوا

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے۔ اجلاس میں اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور،’اعتماد کا ووٹ لو’ کے نعرے لگائے، اپوزیشن کا مطالبہ حکومتی جماعت نے ماننے سے انکار دیا اور کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے، مرزا جاوید ، عنیزہ فاطمہ اور میاں رئوف نے اپوزیشن اراکین سے سیٹوں پر بیٹھنے کی درخواست کی،پی ٹی آئی رکن سعدیہ سہیل رانا ، سیمابیہ طاہر اورثانیہ کامران بھی میدان میں آگئین، اپوزیشن اراکین کو کھری کھری سنا دیں،راحیلہ خادم حسین نے وقفہ سوالات میں بات کرنے سے انکار کر دیا، راحیلہ خادم حسین کا کہنا تھا کہ گورنر وزیراعلی پر عدم اعتماد کر چکے گزارش ہے کہ پہلے وزیراعلی اعتماد کا ووٹ لیں،سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اعتماد کا ووٹ لینا ہے ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں، اگر اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے تو حکومت میں نہیں رہیں گے، عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں فیصلہ ہوجائے گا ، اپوزیشن بنچوں سے ایک بار پھر ڈاکو ڈاکو کے نعرے، حکومتی اراکین کو بولنے نہیں دیا، سبطین خان نے رولنگ دی کہ اذان ہو رہی ہے اللہ کے خوف سے ڈریں ،

    سردار شہاب الدین نے کہا کہ آج تیسرا دن ہے تینوں دن وقفہ سوالات نہیں ہو سکاہم پوری تیاری سے آتے ہیں اور صرف اجلاس کو خراب کرتے ہیں آج میں گزارش کروں گا ان کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی جائے یہ ایجنڈا پھاڑ دیتے ہیں نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ اس کے کلام کو مانتے ہیں

    ارشد ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی بد قسمتی ہے کہ سپیکر آئینی سربراہ کا حکم نہیں مان رہا میں کس کابینہ سے سوال کروں جس کو عدلیہ نے معطل کیا ہوا ہے ،طاہر پرویز نے کہا کہ آپ کس حیثیت سے بیٹھے ہوئے ہیں جو وزیر اعلیٰ اعتماد کھو دے اسے ہم نہیں مانتے

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس چل رہا ہے توہین عدالت نہ کریں تین دن سے عدالت میں کیس چل رہا ہے توہین عدالت نہ کریں ،ملک صہیب بھرت نے کہا کہ جناب اسپیکر میرا سوال نمبر 186 ہے تین دن میں یہاں پر ڈرامے بازی چل رہی ہے یہ نشستیں چھوڑ دیں ہماری حکومت ہے ،بلال اکبر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں آپ تحریک انصاف کے نہ بنیں انہیں موقع دے رہے ہیں تو ہمیں بھی دیں اراکین کی عدم دلچسپی کے باعث وقفہ سوالات ختم کر دیا گیا

    صوبائی وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ نے مختلف محکموں کی آڈٹ رپورٹ ایوان میں پیش کر دیں اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ جاری دس محکموں کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں ہیں پنجاب اسمبلی کے ایوان میں سرکاری کارروائی کے دوران آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں،ون ونڈو سیل، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی کارکردگی آڈٹ رپورٹ ، برائے سال 2016-17 ایوان میں پیش کی گئیں،نماز مغرب کے لیے اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

    پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی

    لاہورہائیکورٹ ،وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے گورنر کے وکیل سے سوال کیا کہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق معاملہ حل نہیں ہوا؟ وکیل گورنر پنجاب نے عدالت میں جواب دیا کہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو معاملہ حل ہوجائے گا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ خالد اسحاق معاملے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ آپ نے تحریری طور پر عدالت کو بتانا ہے،وکیل گورنر پنجاب نے کہا کہ اس وقت ہم نے کہا تھا کہ 4سے 5 دن دینے کےلیے تیار ہیں، جسٹس عابد عزیز شیخ نے سوال کیا کہ گورنر پنجاب کے وکیل نے کیا آفر دی ہے وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ ہم نے آفر دی تھی کہ 3 سے 4دن میں اعتماد کا ووٹ لیں،ہماری آفر نظر انداز کردی گئی

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منظور وٹو کیس میں بھی 2 دن کا وقت دیا گیا تھا جو مناسب نہیں تھا، اب تو 17 دن ویسے بھی گرز چکے ہیں اورکتنا مناسب وقت چاہیے، عدالت نے پرویز الہیٰ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی تاریخ مقرر کر دیتے ہیں اور گورنر کے آرڈر کو موڈیفائی کر دیتے ہیں، گورنر کے وکیل نے آفر دی ہے کہ اعتماد کا ووٹ لیں ، عدالت نے پرویز الہیٰ کے وکیل سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کا ووٹ لینے کےلیے کتنے دن کا وقت آپکے لیے مناسب ہوگا ؟ہم وہ وقت مقرر کردیتے ہیں کہ آپکا مسئلہ حل ہوجائے گا ،اب تو 17 دن ویسے بھی گزر چکے ہیں اورکتنا مناسب وقت چاہیے،

    وکیل پرویز الہیٰ نے عدالت میں کہا کہ میں اس حوالے سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں ،گورنر پنجاب نے اعتماد کا ووٹ لینے کےلیے کہا اور اسپیکر کو خط لکھا گورنر نے اپنے خط میں لکھا کہ وزیر اعلیٰ اعتماد کھو چکے ہیں، گورنر پنجاب کے حکم کے جواب میں اسپیکر نے رولنگ دی ،اسپیکر کی رولنگ کو تاحال چیلنج نہیں کیا گیا پرویز الہٰی کے وکیل نے گورنر پنجاب کیجانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر مسترد کر دی، وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عدالت گورنر کی جانب سے نوٹیفکیشن کی درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے ، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ تو کیا آپ اعتماد کا ووٹ لینے کی آفر قبول نہیں کر رہے ؟آپ کا اعتراض تھا کہ گورنر نے اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت نہیں دیا ، جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ اس بات میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ وزیر اعلی ٰکو 24 گھنٹے اکثریت کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے ،

    وفاق کے وکیل منصور عثمان نے وزیر اعلیٰ کو پھر عدم اعتماد کا ووٹ لینے کا پابند کرنے کی پیش کش کر دی ،وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت تاریخ اور وقت مقرر کر دے،پرویز الہیٰ کے وکیل نے کہا کہ گورنر کا ڈی نوٹیفائی کرنے کا آرڈر ہی غیر قانونی ہے،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے ہی طے کرنا ہے کس نے رہنا ہے ، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم کے17 روز گزر جانے کے باوجود پرویزالہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ آپ مل بیٹھ کر عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے وقت اور تاریخ طے کر لیں،علی ظفر نے کہا کہ گورنر صرف اس صورت میں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں جب صورتحال خراب ہو،اسمبلی اجلاس جاری تھا، گورنر ڈ ی نوٹیفا ئی نہیں کر سکتے تھے ،عدالت درخواست پر میرٹ پر فیصلہ کرے،

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب ہے آپ عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے اٹارنی جنرل کی پیشکش قبول نہیں کر رہے ؟اسمبلی کا فلور ہی وزیر اعلیٰ کے رہنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا ،پھر ہم اس درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کر دیتے ہیں ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ کل سے اپنے دلائل کا آغاز کر دوں گا ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ کل سے نہیں، آپ اپنے دلائل شروع کریں،ہمارا تو خیال تھا کہ آپ آفر قبول کریں گے اور اعتماد کا ووٹ لے لیں گے ، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم گورنر کی آفر پر بعد میں آئیں گے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اعتماد کا ووٹ لیں تو گورنر تو نوٹیفکیشن واپس لینے کو تیار ہیں ،خالد اسحاق معاملے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کی پیشکش قبول نہیں کر رہے

    وفاق کے وکیل منصور عثمان نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، کہا کہ گورنر کا کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وجوہات دینا ضروری نہیں ،جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی جاری ہے ،سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ پہلے جو کال کرے وہ پھنسے،ہم نے اتفاق راے سے اعتماد کے ووٹ کی ہدایت کی تھی،آئین کے تحت اعتماد کے ووٹ کے لیے کم سے کم 3 روزضروری ہیں،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا اعتماد کے ووٹ کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے

    پرویزالہٰی کے وکیل نے اعتماد کا ووٹ لینے کی حکومتی پیشکش مسترد کر دی ،عدالت نے علی ظفر کو میرٹ پر ہونے سے متعلق دلائل دینے کی ہدایت کر دی،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر کیس کو سنیں گے،عدم اعتماد کی تحریک آنے پر رائے شماری ہوتی ایسے میں گورنر پرویز الہٰی کو ہٹا سکتے ہیں،

    علی ظفر نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک آنے کے 20منٹ پر گورنر نے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا،گورنر نے خود ہی وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو برطرف کر دیا ,عدالت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ 186 ووٹ لے کرخود آنا تھے پرویز الہٰی کو ثابت کرنا تھے کہ انکے پاس اکثریت ہے،علی ظفر نے کہا کہ اب عدم اعتماد آنے پر انکو ثابت کرنا تھا کہ پرویز الہٰی کو اکثریت نہیں رہی،یہی صورتحال وزیراعظم کے آفس کی ہے،یہاں صدر اسمبلی اجلاس بلاکر وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں،رولز اف بزنس اس بارے واضح ہیں،آئین نے گورنر کو اختیارات دیئے ہیں مگر اس کا بھی طریقہ کار ہے،گورنر پنجاب اگر وزیر اعلیٰ کے اعتماد پر مطمئن نہیں تھے ،تو اسپیکر کو اجلاس بلوانے کا کہتے،اسپیکر اسمبلی گورنر کے نوٹیفکیشن کے بعد ممبران کو نوٹسز جاری کرتا ہے ،موجودہ کیس میں ایسا نہیں کیا گیا گورنر پنجاب اعتماد کے ووٹ کے لیے دن مقرر نہیں کرسکتا ,

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی .عدالت نے کہا کہ عدالت کل صبح 9 بجے سماعت کا آغاز کرے گی پرویز الہٰی کو ثابت کرنا تھا کہ انکے پاس اکثریت ہے،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ تک کیلئے ملتوی

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ تک کیلئے ملتوی

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے

    اجلاس میں حکومتی بنچز پر 25 اور اپوزیشن کے 56ممبران موجود ہیں،اجلاس میں ن لیگی اراکین کی جانب سے پرویز الہی اعتماد کا ووٹ لو کے نعرے لگائے گئے،اپوزیشن کی جانب سے ڈاکو ،ڈاکو اوراعتماد کا ووٹ لو کے نعرے بھی لگائے گئے ،اپوزیشن نے وقفہ سوالات کے دوران ڈیسک بجا کر شور شرابا کیا،میاں محمود الرشید نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ پرتنقید کی،اور کہا کہ ہماری حکومت قائم ہے اور رہے گی،

    رانا مشہود احمد خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 4 سال بعد رولز پر عمل درآمد شروع ہوا ہے تو پھر ہائی کورٹ کے آرڈر پر کیبنٹ سٹینڈ نہیں کرتی، چئیر سے سوال رکھا قانون سازی غیر قانونی ہے کہنا چاہتا ہوں جھوٹ بولتے ہیں سٹینڈنگ کمیٹی کون نہیں بننے دے رہا پہلی اسمبلی جس میں سٹینڈنگ کمیٹیوں کا وجود عمل میں نہیں لایا گیا ،اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جس کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ سہہ پہر 3 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا

    مسلم لیگ ن نے پرویز الٰہی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اعتماد کے ووٹ کا مرحلہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کی بجائے غیر جانبدار ممبر کی سربراہی میں کرایا جائے،

    قبل ازیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا،اجلاس میں شاہ محمود قریشی،اسد عمراوراعجاز چو دھری شریک تھے، اجلاس میں اعتماد کے ووٹ کےمعاملے پر رپورٹ پیش کی گئی،عمران خان کو اسمبلی میں پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی کو سراہا ،اجلاس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ارکان کی تعداد مکمل رکھی جائے ،عدالت نے کہا تو اعتماد کا ووٹ لیں گے،ہماری تیاری مکمل ہیں، سازشوں سے نہیں گھبرائیں گے،

    دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا لیگی قیادت نے تمام اراکین کو پنجاب اسمبلی میں ہی رکنے کی ہدایت کر دی، لیگی قیادت نے تمام اراکین کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی،لیگی اراکین کے 15، 15 اراکین پر مشتمل گروپ بنا کر ایک ایک لیڈر مقرر کر دیا گیا، تمام اراکین کو "وزیراعلی ٰاعتماد کا ووٹ لیں” کے بھرپور نعرے لگانے کی بھی ہدایت کی گئی،تمام اراکین کو کارروائی کے دوران مکمل الرٹ رہنے اور بھرپور ایکشن کی ہدایت بھی کی گئی،ن لیگی قیادت نے حمزہ شہباز کو وطن واپسی کی ہدایت کر دی

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ تبدیل

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ تبدیل

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کرلیا گیا

    اسمبلی سیکرٹریٹ نے 9 جنوری کے اجلاس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق اسمبلی کا اجلاس 11 جنوری کے بجائے 9 جنوری کو دوپہر 2 بجے ہوگا اس حوالے سے اسمبلی سیکرٹریٹ نے گزٹ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے

    پنجاب اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں غالب امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے خلاف اعتماد کے ووٹ کی تحریک شروع کی جائے گی جس میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے اتحاد کے درمیان مقابلہ ہو گا ،تحریک کے دوران اگر اپوزیشن اتحاد 186 کا نمبر پورا کرنے میں ناکام ہو گئی تو عمران خان کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے گا

    دوسری جانب پنجاب کی سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی اتحادی مجلس وحدت المسلمین نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، مجلس وحدت المسلمین کی خاتون رکن پنجاب اسمبلی زہرا نقوی نے پرویز الہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے،

  • مسلم لیگ ن نے پرویزالہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی

    مسلم لیگ ن نے پرویزالہٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی

    پنجاب میں وزیراعلی ٰکے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی گئی

    مسلم لیگ ن کے چیف وہپ خلیل طاہر سندھو کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کر سکنے پر پہلے ہی عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے ،صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے گئی اسیپکر پنجاب اسمبلی اور ڈپٹی ا سیپکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بدستور موجود رہے گی،

    واضح رہے کہ ن لیگ نے پرویز الہیٰ کے خلاف عدم اعتماد پیش کی تھی، پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، جس کے بعد گورنر پنجاب نے گزشتہ شب پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے، پرویز الہیٰ عدالت پہنچ چکے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دے دی ہے، درخواست پر آج ہی سماعت ہونی ہے، لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے .ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ گورنر نےآئین شکنی کی اور قانون کا مذاق بنایا،گورنر عوام کے نمائندے کو ڈی نوٹیفائی نہیں کر سکتے گورنر کی جانب سے آئین شکنی پر ہم صدر کو ریفرنس بھیجیں گے،اگر مستقبل میں آئین کی پاسداری کی توقع ہے تو آئین شکن گورنر کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے،

    :گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

  • پرویز الہیٰ نے ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاوس سیل کر دینگے،رانا ثناء اللہ

    پرویز الہیٰ نے ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاوس سیل کر دینگے،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر کل 4 بجے اجلاس نہ ہوا اور وزیراعلیٰ نے ووٹ نہ لیا تو وزیراعلیٰ ہاوس سیل کر دینگے

    پرویز الہیٰ کے خلاف عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے، عدم اعتماد گزشتہ شب ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ملکر جمع کروائی، گورنر پنجاب نے بھی وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کو ووٹ لینے کا کہہ دیا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اب کل بدھ کو ہو گا، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ن لیگی اراکین کے داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی، آج عدالت نے انہیں اجلاس میں شرکت اور ووٹنگ کی اجازت دے دی ہے

    دوسری جانب ملکی سیاسی صورت حال اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ،حکمران اتحاد کے بڑوں کے آپس میں رابطے ہوئے ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، گفتگو میں پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر مشاورت کی گئی،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب کے اراکین اسمبلی کو لاہور میں رہنے کی ہدایت کی،اور اجلاس مین شرکت کی بھی ہدایت کی، عمران خان کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کسی صورت کامیاب نہیں ہو گی،

    پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پاس کتنے کتنے اراکین ہیں تفصیلات سامنے آئی ہیں، پنجاب اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 371 ہے حکومتی اتحاد کے ارکان اسمبلی کی تعداد 190 ہے پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق اتحادی حکومت قائم کیے ہوئے ہیں، حکومتی اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف کی 180 جبکہ مسلم لیگ ق کی 10 نشستیں ہیں۔
    اپوزیشن اتحاد کے کل ممبران اسمبلی کی تعداد 180 ہے اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی، راہ حق پارٹی اور آزاد اراکین شامل ہیںپنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن 167 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن اتحاد میں سرفہرست ہے،پیپلزپارٹی کی 7 نشستیں جبکہ راہ حق کا ایک رکن ہے .پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اتحاد میں پانچ آزاد اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں، جبکہ چودھری نثار پنجاب اسمبلی میں واحد غیر جانبدار رکن اسمبلی ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے پرویز الہیٰ کے ساتھ ملکر پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس بیان کے بعد سابق صدر آصف زرداری بھی لاہور میں‌ ملاقاتوں میں متحرک ہیں، عمران خان نے جمعہ کا وقت دیا تھا، پی ڈی ایم کی کوشش ہے کہ اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں، آصف زرداری نے گزشتہ روز چودھری شجاعت،اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کی تھیں، آج بھی لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا