Baaghi TV

Tag: عدم اعتماد

  • لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کے طلب کردہ اجلاس کو غیر قانونی قرار دے دیا

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب نے اعتماد کا جو ووٹ مانگا ہے اسے غیر قانونی سمجھتا ہوں، پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہم نے ختم نہیں بلکہ ملتوی کیا ہے، پنجاب اسمبلی کے جاری اجلاس میں گورنر پنجاب اعتماد کا ووٹ نہیں لےسکتے، ہوسکتا ہے آج کا اجلاس ہم ملتوی کر دیں، گورنر نے پہلے بھی اجلاس ایوان اقبال میں بلایا تھا،اگر شوق ہے تو گورنر پنجاب اب بھی اجلاس بلا لیں،وزیراعلیٰ وہاں نہیں جائیں گے،

    لاہور ہائیکورٹ نے لیگی اراکین کو پنجاب اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت دیدی،عدالت نے کہا کہ ممبران اسمبلی اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں ممبران ضرورت پڑنے پر ووٹ بھی کاسٹ کر سکتے ہیں جسٹس شاہد بلال نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حکم نامہ جاری کر دیا ہے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے لیگی اراکین اسمبلی پر اجلاس میں شرکت پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے، اس لیے اراکین پنجاب اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سمجھتے ہیں سپیکر ان ارکان کو اسمبلی سیشن میں شرکت کی اجازت دیں گے ؟،جس پر وکیل نے کہا کہ سپیکر رولز کے مطابق اسمبلی کو چلاتے ہیں جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر میں فیصلہ سناتے ہیں، اس نقطے پرفیصلہ محفوظ کر رہے کہ ارکان کل اسمبلی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں یا نہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کس کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی؟ وکیل نے کہا کہ وزیراعلٰٰی ،سپیکر اورڈپٹی سپیکر کیخلاف عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہےعدالت نے محفوظ فصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اراکین اسمبلی کل کے اجلاس میں شرکت بھی کر سکتے ہیں اور ضرورٹ پڑنے پر ووٹ بھی کاسٹ کر سکتے ہیں

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ پرویز الہٰی کہہ رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں،عمران خان جو تنقید کررہے ہیں اس کا میرٹ دیکھے،ہم سیاسی بات کررہے تھے اس کا کسی کی ذات سے تعلق نہیں تھا،

    دوسری جانب ملکی سیاسی صورت حال اور پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ،حکمران اتحاد کے بڑوں کے آپس میں رابطے ہوئے ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، گفتگو میں پنجاب میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر مشاورت کی گئی،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    واضح رہے کہ عمران خان نے پرویز الہیٰ کے ساتھ ملکر پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس بیان کے بعد سابق صدر آصف زرداری بھی لاہور میں‌ ملاقاتوں میں متحرک ہیں، عمران خان نے جمعہ کا وقت دیا تھا، پی ڈی ایم کی کوشش ہے کہ اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں، آصف زرداری نے گزشتہ روز چودھری شجاعت،اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کی تھیں، آج بھی لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے،

  • پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد،حسن مرتضیٰ کی حمزہ شہباز سے ملاقات

    پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد،حسن مرتضیٰ کی حمزہ شہباز سے ملاقات

    پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی حسن مرتضی ایم پی اے کی قائد حزب اختلاف پنجاب حمزہ شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے اوردیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،جبکہ اس موقع پر ایم پی اے شازیہ عابد اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی مختلف شکل اختیار کرچکی ہے پیپلزپارٹی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کردار اداکرتی رہے گی پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے حکومت کرو،جو چور دروازے سے آتے ہیں و ہ اسی راستے سے بھاگنا چاہتے ہیں،آج کونسے ایسے حالات ہیں کہ حکومت اسمبلیاں تحلیل کرنے جارہی ہے،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بہت سے حکومتی اراکین بھی اسمبلی کی تحلیل نہیں چاہتے ،پنجاب میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق امورپر مشاورت کی ،آصف زرداری کی ہدایت پر وفد نے حمزہ ہبازسے ملاقات کی ،عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے،سب کی رائے ہے اسمبلی آئینی مدت پوری کرے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ایک دو روز میں کردیا جائے گا، پنجاب حکومت کے اراکین میں اضطراب پایا جاتاہے عمران خان نے کرپشن کرپشن کے نعرے لگا کر ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا،آئی ایم ایف کی ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی وہاں یہ گئے تھے ہم نہیں،

    ہمارے ساتھ بیٹھ کر پرویز الہیٰ نے عمران خان کو سلیس پنجابی میں ڈیڑھ سو گالیاں دی تھیں،خواجہ آصف کا انکشاف

    الیکشن کی تاریخ چاہئے تو عمران خان پی ڈی ایم قیادت سے ملیں، وزیر داخلہ

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    خان صاحب کی نظریں کہہ رہی ہیں کہ محمود خان آ سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں آیا؟

    مسلم لیگ ن ایک فرد واحد کی خاطر اسمبلیاں ختم نہیں ہونے دے گی۔

     کبھی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان ،کبھی استعفی ۔اب ان کھیلوں کا وقت جا چکا ۔

  • آزاد کشمیر، تحریک انصاف میں بغاوت،تنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل

    آزاد کشمیر، تحریک انصاف میں بغاوت،تنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل

    آزاد کشمیر، تحریک انصاف میں بغاوت،تنویر الیاس کیخلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے خلاف عدم اعتماد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں

    آزاد کشمیر میں سیاسی بغاوت دیکھنے میں آئی ہے، تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں،سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کی بہت سی وجوہات ہیں وہ لوگوں کی عزت نہیں کرتے، سمجھتے ہیں کہ پیسے کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے،انہوں نے غیر محتاط زبان استعمال کی،ایک برادری کے لیڈر کے خلاف غلط زبان استعمال کی،ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں دھواں نکال دوں گا، میٹنگ بلا کر خود نہیں جاتے، دن کو دفتر نہیں جاتے، شام کو جاتے ہیں،میں نے عمران خان کو بتایا تھا کہ تنویر الیاس لوگوں کے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں،اسکی خبر لیں، شام کو چھ بجے کونسا وقت ہے دفتر جانے کا، سرمائے کے بل پر عہدے حاصل کرتا رہا ہے، پنجاب میں عثمان بزدار کا مشیر بھی پیسے کے بل پر ہی بنا تھا، پارٹی کے لوگوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتا ہے،

    ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ غیر محتاط گفتگو اور عوامی مسائل حل نہ کرنے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، سپیکر اور عبدالقیوم نیازی نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، 27 اراکین چاہئے، عمران خان کو صحیح اطلاعات نہیں دی گئیں، 20 اراکین اپوزیشن کے پاس ہیں، وہان کام نہیں ہو رہے ، امکان یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے کیونکہ ماحول اسوقت وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف ہے، اگلا وزیراعظم کون ہو گا اسکا فیصلہ ابھی تک یہ نہیں ہوا،

    تحریک انصاف آزاد کشمیر کے اندر بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف آوازیں اٹھنے لگ گئیں، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی تو کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تنویر الیاس آزاد کشمیر کے "امپورٹڈ وزیراعظم” ہیں. جب سے انکو وزیراعظم بنایا گیا یہ تحریک انصاف کو مقامی سطح پر کمزور کرنے کے درپے ہیں، اللہ پیسے کے ساتھ ساتھ انسان کو شعور بھی دیتا ہے لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر صرف پیسے کے بل بوتے پر وزیراعظم بنے

    وزیراعظم‌ آزاد کشمیر تنویر الیاس سو دن میں ہی فلاپ،کارکردگی زیرو،اراکین بھی بول پڑے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

  • ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔ عوامی نیشل پارٹی

    حال ہی میں ایک خبر سامنے آئی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے سیکٹری ثقافت ڈاکٹر خادم حسین نے باغی ٹی وی (اردو) سے خصوصی بات کرتے ہوئے اپنا موقف دیا کہ: عوامی نیشنل پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ بنی کیونکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جو پچھلی حکومت تھی ایک تو وہ جائز حکومت نہیں تھی اور نہ وہ سہی طور پر عوام کی نمائندہ حکومت تھی کیوں کہ وہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی لہذا اس حکومت کو ہٹانا سیاسی طور پر بہت ضروری تھا تاکہ ایک مثال سیٹ ہو جائے اور یہ بھی ضروری تھا کہ اس عمل کو سیاسی اور آئینی طور پر کیا جائے۔

    خادم حسین نے باغی ٹی وی کو بتایا: جو عدم اعتماد آئین میں درج ہے اس پر ہم نے متحدہ اپوزیشن کا حصہ بن کر اپنا آئینی حق ادا کرتے ہوئے ناصرف انہیں ووٹ دیا بلکہ ان کی حمایت بھی کی۔

    لیکن پھر جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ہم نے واضح طور پر کہا کہ ایک تو ہماری عددی اکثریت نہیں ہے بہت کم ہے اور دوسرا ہم اپنی جماعت کے اندر بہت سارے کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ تنظیم نو وغیرہ۔

    انہوں نے مزید بتایا: چونکہ ہماری جماعت کا قومی اسمبلی میں ایک ہی ممبر ہے جن کو وزیر بنایا جائے جس پر ہم اتفاق بھی کر لیتے لیکن چونکہ وہ ہماری جماعت کے قائم مقام صدر بھی ہیں تو ظاہر ہے اس سے عوامی نیشنل پارٹی کی تنطیم نو کی فعالیت بہت زیادہ اثر اندز ہوتی ۔

    لہذا ہم نے اتحادیوں کو آگاہ کیا کہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں اور تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دو تین چیزوں کے حوالے سے ہم سنجیدہ ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوگا.

    سیکریٹری ثقافت کا کہنا تھا کہ: پہلی بات یہ ہے کہ اگر معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جتنے بھی ساختی تبدیلیاں ہیں وہ کی جاتی ہیں اور پالیسیوں کو درست کیا جاتا ہے تو ہم اس کا ساتھ دیں گے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ سارے کا سارا بوجھ عوام کی پر منتقل نہ کیا جائے۔

    بلکہ عام عوام کیلئے کے لیے فوری ریلیف کا انتظام جو بہت ضروری ہے کیا جائے، مہنگائی اور بیروزگاری اور بد امنی و دہشتگردی کا یہ جو سلسلہ ہے یہ براہ راست عوام کو ان کے روزگار اور ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے تو اس حوالے سے بھی ہم نے حکومتی اتحاد سے یہ کہا کہ عوام کے لئے فوری سہولیات کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے۔

    ان کے مطابق: اب لگ ایسا رہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا، جبکہ ڈالر بھی بھی اڑان بھر رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ جو عام عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
    خادم حسین کہتے ہیں کہ: ہم بار بار حکومت کے ساتھ ملاقاتیں کرکے اور اپنے مرکزی قائم مقام صدر کے ذریعے یہ پیغام پہنچاتے رہتے ہیں کہ عوام پر سارا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ کسی اور نے معیشت کا بیڑا غرق کیا جس سے معاشی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    لہذا قصوروار بھی وہی یعنی پچھلی حکومت ہے جس نے معیشت کو تباہ کیا لیکن اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا عوامی نیشنل پارٹی کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ خمیازہ ان لوگوں پر منتقل کیا جائے جو دراصل اس پورے نظام کے بہت بڑے منافع کے حصہ دار ہیں جیسے مختلف ادارے اور تجارتی کمپنیاں ہیں کیونکہ یہی سرمایہ دار سب سے زیادہ منافع کما رہے ہیں تو پھر ہمیں منظور ہوگا۔

    انہوں نے کہا: ہمارا حکومت کومشورہ یہ تھا کہ خرچہ کو کم کرکے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ: موجودہ حکومت ایسا نہیں کر پارہی ہے یا پھر ان کو بہت زیادہ وقت درکار ہے کیونکہ ان کی رفتار بہت زیادہ سست ہے۔ لہذا عوامی نیشنل پارٹی کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اسی طرح بوجھ عوام پر منتقل کیا جاتا رہا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہی اور عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا نہ ملا علاوہ ازیں معیشت مستحکم نہیں ہو پاتی اور لوگوں کی بے روزگاری ختم نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کا اتحاد میں رہنا عوامی مفاد میں نہیں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ: ہم نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ کب حکومتی اتحاد کو خیرباد کہنا ہے اور آخری بات یہ کہ نہ یہ ہماری چاہت ہے کے حکومت غیر مستحکم ہو لیکن ہمیں عام عوام پر ڈالا گیا بوجھ ہرگز قابل قبول نہیں ہے جس کا ہم حکومتی اجلاسوں میں کئی بار اظہار بھی کرچکے لیکن فحال کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہی لہذا ہم عوام پر ڈالے گئے بوجھ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے.

  • قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    قومی پرچم جلا کر ویڈیو بنانیوالا پی ٹی آئی کارکن پاکستان آتے ہی گرفتار

    پشاور:پی ٹی آئی کارکن کوپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق عمران خان کی حکومت کےختم ہونے پرغصے میں آکرپاکستانی پرچم کو جلانے والے پی ٹی آئی کارکن کوملک واپسی پرپشاورایئرپورٹ پرگرفتارکرلیا گیا ہے

    اطلاعات ہیں کہ مذکورہ پی ٹی آئی کارکن پہلے ہی متعلقہ اداروں کی نظرمیں تھا اور جب وہ پاکستان پہنچا اورپشاورایئرپورٹ پراترا تو اس وقت پولیس نے اسے گرفتارکرلیا ہے ،اس کارکن کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ اس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت ختم ہونے پرغُصے میں آکرپاکستانی پرچم جلا دیا تھا اورپھراس کی ویڈیو بھی وائرل کی

    اس نوجوان کی طرف سے اس الزام کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ، کہا جارہا ہےکہ اس کے خلاف سخت دفعات کےساتھ ایف آئی آر کاڑی جائے گی اورپھرقانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

    یاد رہے کہ پارلیمنٹ میں اِن ہائوس تبدیلی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹر نے پاکستان کا جھنڈا جلا دیا  جس کی ساتھ ویڈیو بھی بناتا رہا اور پھر انٹرنیٹ پر شیئرکردی۔

    یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کسی مخصوص پارٹی کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا ہے، کسی ایک شخص یا پارٹی کے حق میں ہونیوالے احتجاج میں ایسے اقدامات انتہائی شرمناک ہیں۔

  • تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات

    تحریک عدم اعتماد کے اثرات
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تاریخی دن تھا جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قومی اسمبلی کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے صدر کو وزیراعظم کا مشورہ بھی واپس کر دیا۔ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ کروں تو حتمی فیصلہ عدالتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں متحدہ اپوزیشن نے اسے جمہوریت اور عدلیہ کی فتح قرار دیا کیونکہ عدالت نے پاکستان کے آئین کا تحفظ کیا اور نظریہ کو دفن کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار سب نے دیکھا کہ اپوزیشن حکومت کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور بعد میں نے اسمبلی کو تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔

    اب پی ٹی آئی کے حامی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاس کیا آپشن رہ گئے ہیں، اپوزیشن کے اقدام کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اختلاف رائے ہے۔ تاہم، شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ تنقید کے علاوہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ پی ٹی آئی اب بھی اسمبلی میں نمبر گیم کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ سیاسی جماعتیں قومی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ اب تک متحدہ اپوزیشن عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیت منا رہی ہے ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور حامی اب بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت کو پارلیمنٹ سے باہر نکالا گیا اور اسے حکومت کی تبدیلی قرار دیا گیا۔کئی سیاسی تجزیہ کار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لیٹر گیٹ کا معاملہ حقیقی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ذمہ دار عہدے سے کسی نے بھی حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کی تردید نہیں کی۔لہٰذا، ایک بات یقینی ہے ایک خاص قسم کی سازش تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے بہت سے مواقع پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو لیٹر گیٹ کے معاملے پر اجلاس میں شرکت کی درخواست کی لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔ شہباز شریف نے اپنی جیت کی تقریر کے دوران کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی اور اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف کسی غیر ملکی سازش کی تصدیق ہوئی تو وہ پریمیئر شپ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ لیٹر گیٹ سکینڈل پر تشویش ہے۔ میں اسے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا سیاسی سٹنٹ کہوں گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی جمہوریت میں اپنی سیاسی سالمیت کو برقرار رکھنے میں کیوں اور کیسے ناکام رہی؟

    میرے خیال میں پہلے تو یہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کی غلط حکمرانی کی وجہ سے ہوا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح بزدار حکومت سویلین بیوروکریسی کو تبدیل کرتی رہی۔ پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں نے اسے سیاسی پختگی کا فقدان اور حکومتی امور چلانے میں تحریک انصاف کی ناتجربہ کاری قرار دیا۔دوسرا، یہ مہنگائی، ناقص گورننس، اصلاحات کا فقدان، عمران خان کی اشتعال انگیز سیاست، اور بہت سے سماجی مسائل تھے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وزارت دفاع میں اہم تقرریوں کے معاملات تھے جنہیں کسی نہ کسی طرح حکومت نے غلط طریقے سے سنبھالا تھا۔ اسی طرح خراب معاشی حالات بھی پی ٹی آئی کی حکومت کے کمزور ہونے کی ایک وجہ تھی۔ حالانکہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ان کو سیاسی الزامات قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔

    فی الحال، پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ سے اعتماد کھو بیٹھی اور متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھال لیا۔ پاکستان کے سیاسی نظام پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ سٹاک مارکیٹ سیاسی صورتحال کی وجہ سے بدل رہی ہے، بین الاقوامی کرنسی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بیرونی ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام کے منتظر ہیں تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کو کئی علاقائی مسائل پر سفارتی طور پر شامل کر سکیں۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران خان کی حکومت تاریخ کا حصہ بن گئی اور آئندہ جو کچھ ہے وہ آنے والی حکومت کے لیے سنگین چیلنجز ہیں۔

    قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بنائی گئی حکومت تقریباً دس چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے جن کے لیے حکومتی امور کو سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا۔۔مسائل کی بات کی جائے تو مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو حل کرنا ہوگا۔ گورننس سے مہنگائی تک، امن و امان سے لے کر دہشت گردی تک، معاشی بحران سے آئی ایم ایف تک، اور بہت کچھ۔ کاش نئے وزیراعظم کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ ’بھکاری سلیکٹرز نہیں ہو سکتے‘ آخر میں ایک اور بات جو سیاسی نظام کے لیے طنزیہ ہے وہ یہ کہ ایک شخص جو عدالتوں سے ضمانت پر رہا اور جس کے کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ پاکستان کا وزیراعظم بن گیا۔ جیسا کہ لیڈر اپنی قوم کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے پاکستان میں ایک فرد ہونے کے ناطے ہر ایک کو اپنے ضمیر پر نظر ثانی کرنے اور یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کا لیڈر کون ہوگا اور کوئی بھی قوم بین الاقوامی میدان میں اپنی عزت کیسے پیدا کرتی ہے۔

  • اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ نے متاثر کن اور حتمی فیصلہ دے دیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ گزشتہ رات ہاؤس آف کامنز میں ہوئی اور ووٹنگ کا عمل پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 10 بجےشروع ہوا جو 12 بجے تک جاری رہا اس دوران اراکین نےخفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ ڈالا۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگئی

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدم اعتماد پر ووٹنگ کا نتیجہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 1:00 بجے سامنے آیا جس میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اعتماد کا ووٹ جیت لیا۔

    کنزرویٹیو پارٹی کی 1922 کمیٹی کے سربراہ گراہم بریڈی نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق 359 میں سے 211 ارکان نے ان کے حق میں جبکہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کیلئے 180 کنرویٹو اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکار تھے ۔

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد بورس جانسن نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ نے متاثر کن اور حتمی فیصلہ دے دیا ،اب حکومت چاہتی ہے کہ سب مل کر آگے بڑھیں، آج کا نتیجہ سیاست اور ملک کے لیے اچھا ہے، اعتماد کے حوالے سے ساتھیوں نے 2019 سے بھی بڑا مینڈیٹ دیا-

    بورس جانسن نے کہا کہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں، معیشت کو مضبوط کرنے اور ملک بھر میں یکساں مواقع فراہم کرنے کا موقع ملا ہے، اپنے ایجنڈے کو جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سر کئیراسٹارمرنےکہاکہ حکمران جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہےلیبر پارٹی مہنگائی، سیاست اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے متحد ہے۔لیبرپارٹی ہی ملک کودوبارہ صحیح راستے پر واپس لاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے سمیت متعدد اسکینڈلز کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے پیر کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    وزیرِ اعظم نے جاپانی کمپنیوں کےمسائل حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم کر دی

  • جام صاحب کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے:اختر مینگل

    جام صاحب کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے:اختر مینگل

    کوئٹہ :اختر مینگل نے کہا ہے کہ جام صاحب کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے۔اطلاعات کے مطابق سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل نے جام کمال کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بلوچستان میں تبدیلی کے حوالے سے جام کمال سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا، پی ڈی ایم کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے مرکزی قیادت کے اجلاسوں میں ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ جام کمال وزارت اعلیٰ کھونے کے غم میں عمران خان سے بھی آگے نکل گئے ہیں، عمران خان کے پاس تو سیاسی قوت ہے جسکا وہ مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن جام کمال کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔اختر مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا دکھ جتنا جام کمال کو ہے ہم جانتے ہیں، جام کمال کو وزارت اعلیٰ کی چمک بلوچستان کھینچ کر لاتی ہے۔

    سربراہ بی این پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال تک بلوچستان کے ساتھ جو کھلواڑ ہواصوبے کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں، ہم ابھی تک جام دور حکومت میں اپنے ارکان پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانے اور تھانوں میں بند کرنے کے واقعات کو نہیں بھولے۔انہوں نے کہا کہ جام صاحب کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے، جام کمال کیسے بھول گئے کہ میاں نواز شریف کی حکومت جانے کے بعد انہوں نے ن لیگ کو کیوں چھوڑا؟

    سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں لیا جاتا تو ہم ضرور ان سے بات کرتے، جب ہر طرف سے انہیں سرخ جھنڈی دکھائی دی تو پھر انہیں ہم یاد آئے۔

     

    واضح رہے اس س قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر جام کمال نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم کرپٹ حکومت کیخلاف کھڑے ہوئے، حیران کن ہے کہ پی ڈی ایم نے کرپٹ ٹولے کو سپورٹ کیا۔جام کمال کا مزید کہنا تھا کہ اس تحریک عدم اعتماد سے کئی جوابات مل گئے، پی ڈی ایم نے کورم کی نشاندہی کی اور ڈیسک بجائے۔

  • پرامن احتجاج سب کا حق،قانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دی جائیگی:رانا ثنا اللہ

    پرامن احتجاج سب کا حق،قانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دی جائیگی:رانا ثنا اللہ

    لاہور:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کی تاریخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پرامن احتجاج سب کا حق ہے۔

     

    اس سے قبل بہاولپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد آنے کی اجازت دینی ہے یا نہیں، فیصلہ اتحادی کریں گے، اگر روکنے کا فیصلہ ہوا تو انہیں گھروں سے بھی نہیں نکلنے دیں گے، افراتفری کی کوشش کی گئی تو گرفتاریاں ہونگی، پھر قانون اپنا راستہ بنائے گا۔

     

    انہوں نے کہا کہ 28 مئی کو یوم تکبیر ہے، آج پاکستان کی بنیاد ایٹمی قوت ہے، اگر پاکستان اسلامی ایٹمی قوت نہ بنتا تو دشمن ہمیں زیر کردیتا، 28 مئی کے جلسہ کی تیاری کے لئے آیا ہوں، وزیر اعظم شہباز شریف، مریم نواز جلسہ سے خطاب کریں گے، اگر حالات مناسب نہ ہوئے تو حمزہ شہباز نمائندگی کریں گے۔

     

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کسی کیساتھ اس وقت الیکشن کا الحاق نہیں ہوا، ہم الیکشن کی طرف جانا چاہتے تھے، ملک کا اسوقت بھٹہ بیٹھ چکا ہے، متحدہ اتحادی کا فیصلہ ہے حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے، قانون اپنا راستہ لے گا، شیریں مزاری نے زرعی اصلاحات والی اراضی جعل سازی سے اپنے نام کرالی، گرفتاری تفتیشی افسر کا معاملہ ہے۔

     

    ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے غلط معاہدہ کیا گیا، کاش ہمارے لئے بھی کبھی دن کو 12 بجے عدالت لگے، لانگ مارچ کی کال پر اتحادی لیڈروں نے فیصلہ کرنا ہے ، اگر انکو روکنے کا فیصلہ ہوا تو انکو گرفتار بھی کریں گے، سائبر ایکٹ موجود ہے لیکن موثر نہیں، اس قانون کو مل بیٹھ کر تبدیل کرنا ہوگا، بہاولپور صوبہ بحالی کے حق میں ہیں۔

  • بلوچستان کے تمام کلچر کا ایک ثقافتی دن منایا جائے:میر عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کے تمام کلچر کا ایک ثقافتی دن منایا جائے:میر عبدالقدوس بزنجو

    کوئٹہ:بلوچستان کے تمام کلچر کا ایک ثقافتی دن منایا جائے:اطلاعات کے مطابق عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کے بلوچستان کے تمام کلچر کا ایک ثقافتی دن منایا جائے۔

    ہزارگی کلچر ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک اہم دن ہے، ہر ثقافت بلوچستان کی پہچان ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دن تمام ہزارہ براداری کو کلچر ڈے کے حوالے سے مبارکباد پیش کرتے ہے، ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ شہریوں کو اس صوبے کی صفائی کے حوالے سے خیال رکھنا چاہیے، ہماری کوشش ہے کے بلوچستان کے تمام کلچر کا ایک ثقافتی دن منایا جائے۔

     

    ادھروزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد صوبائی وزیر نوابزدہ طارق مگسی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار یار محمد رند اور جام کمال کی طرف سے وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد صوبائی وزیر ایس اینڈ جی اے ڈی نوابزادہ طارق مگسی وزارت سے مستعفی ہو گئے، وہ عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ بھی تھے۔

     

    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور سردار یار محمد رند کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجوکے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد سیاسی قائدین کا رد عمل سامنے آگیا۔

     

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، تحریک پیش کرنے والوں کے پاس شائد مطلوبہ اکثریت موجود ہے، تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والوں میں بیشتر وزیراعلیٰ کے امیدوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، جمعیت ہماری اتحادی ہے ان کے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے، بی اے پی کے کل 4 سے 5 ارکان کے تحریک عدم اعتماد پر دستخط ہیں، جام کمال اپنی پارٹی کو پہلے خود تو متحد کرلیں۔

     

     

    جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ کا تحریک عدم اعتمادپرکہنا ہے کہ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد پر کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا، ہم جہاں تھے وہی ہیں،، دیکھا جائے گا تحریک عدم اعتماد جمع کرانے والے گنتی کیسے پوری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکزی قیادت کی جانب سے ہمیں کوئی ہدایات نہیں دیں گئیں، مرکزی قیادت ہماری رائے ضرورلے گی، مرکزی قیادت کو زمینی حقائق سے ضرور آگاہ کریں گے