Baaghi TV

Tag: عدم اعتماد

  • کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رکن قومی اسمبلی غفار وٹو نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کرپشن مکاؤ کا نعرے لگا کر اقتدار میں آنیوالی تبدیلی سرکار نے کچھ بھی نہیں کیا،

    NA 166 بہاولنگر سے غفار وٹو بھی پی ٹی آئی کو چھوڑ کر کاروان جمہوریت میں شامل ہو گئے۔ غفار وٹو کا کہنا ہے کہ
    میں ضلع بہاولنگر کے حلقہ 166 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں کھڑا ہوا اللہ نے مجھے عوام کی سپورٹ سے کامیابی عطا فرمائی میرے مقابلے میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ ہولڈر امیدوار تھا اس الیکشن کے بعد میں نے نئے اور کرپشن فری پاکستان کے نعرے کے تحت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی یکن مجھے مایوسی اس وقت ہوئی جب میں اپنے حلقے کے کچھ اداروں کی کرپشن سے متعلق شکایت وزیراعظم کے پاس ثبوتوں کے ساتھ لے کر گیا اور درخواست کی کہ اس معاملے کی نگرانی خود کریں میں نے محسوس کیا کہ اس میں نعروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا

    عبدالغفار ووٹو کا کہنا تھا کہ میں یہ ویڈیو پیغام اس لیے جاری کر رہا ہوں کیونکہ سوشل میڈیا پر شوشہ چھوڑا جا رہا ہے کہ رشوت دی گئی ہے جب ہم ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں یا سوال پوچھیں تو ہم پر 12 سے 14 کروڑ روپے رشوت کا الزام لگا دیا جاتا ہے رشوت لینے والا اور دینے والا جہنمی ہیں میں اس طرح کے معاملے پر لعنت بھیجتا ہوںاور سختی سے تردید بھی کرتا ہو میں اس کی بھی تردید کرتاہوں کہ میں سندھ ہاﺅس میں موجود تھا میں وہاں کبھی تھا ہی نہیں

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 27مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ ہوگا،جلسے کا موضوع امر بالمعروف ہے، وزیر اعظم نے ٹویٹ میں لوگو بھی جاری شیئر کر دیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خواہش ہے جلسے میں عوام کے حاضری کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں ،ہم حق کے ساتھ کھڑے ہیں لوٹی دولت بچانے کیلئے سیاستدانوں کو خریدنے کی مذمت کرتے ہیں،

    دوسری جانب وزیراعظم نے آج پھر سیاسی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا اجلاس 12 بجے بنی گالا میں منعقد ہوگا،اجلاس میں وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کے رہنما شریک ہونگے،وزیراعظم کو منحرف اراکین سے رابطوں پر بریفنگ دی جائے گی،اجلاس میں تحریک عدم اعتماد سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا،قانونی ٹیم وزیراعظم کو کل سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر بریفنگ دے دی،

    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ تاریخ گواہ رہے گی کرپٹ مافیا ایک ایماندار وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد لےکر آیا،اس لیڈر نے اللہ کے بعد اپنی قوم پر اعتماد کیا،قوم کو عمران خان نے کبھی مایوس نہیں کیا 27مارچ تاریخی دن،قوم حق کے ساتھ کھڑی ہوگی

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہو گی، 27 مارچ کو ڈی چوک پر تحریک انصاف نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے جبکہ 25 مارچ کو اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک 25 مارچ کو پہنچیں گے اور کب تک وہاں بیٹھنا ہے اسکا فیصلہ اسی روز کریں گے،

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    وفاقی وزیرکا سندھ ہاؤس پر آپریشن کا عندیہ

    اراکین کو دھمکیاں،حکومت ہمیں اشتعال نہ دلائے، بلاول کی وارننگ

    سندھ ہاؤس میں کون کونسے حکومتی اراکین موجود؟ نام سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کے 24 ایم این ایز سندھ ہاؤس میں موجود ،مزید آئیں گے ،راجہ ریاض

    سندھ میں گورنر راج کا وزیراعظم کو دیا گیا مشورہ

    کس نے کہا گیم ختم ہوا ،ابھی تو شروع ہوا ہے ،وفاقی وزیر

    حملہ ہوا تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے ،تین سابق وزراء اعظم کا خط

    وزیراعظم کی زیر صدارت سینئر وزراء کا اجلاس، ڈی چوک جلسے بارے بھی اہم مشاورت

    ن لیگ کا بھی لانگ مارچ کا اعلان، مریم نواز کریں گی قیادت،ہدایات جاری

    گورنر راج کا مشورہ دینے والے شیخ رشید دوردورتک نظر نہیں آئیں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

  • پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر    اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد:پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھراثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے پہلے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس کوثبوتاژکرنےکی دھمکیاں دی تھیں اور پھرتھوڑی دیربعد ہی یہ اعلان کہ وہ کسی بھی طرح اثر انداز نہیں ہوں گے ، یہ یوٹرن دیکھ کرہرکوئی حیران رہ گیا

    اسلام آباد سے اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی ملک میں‌پچھلے چند دنوں سے سیاست کوعالمی طورپرخصوصا مسلمان ملکوں میں ناپسند کیا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک طرف اوآئی سی کا اجلاس ہونےجارہا ہےتو دوسری طرف اجلاس کو ثبوتاژ کرنے کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آنے والے مہمان بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہے تھے اور وہ اپوزیش کے احتجاج کو ایک سیکورٹی رسک قرار دے رہے تھے ، بعض نے توپی ڈی ایم کے اس کھیل پرسخت نفرت کا اظہارکیا خصوصا عرب دنیا میں ، یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں‌ اوآئی سی کے اس اہم موقع پر احتجاج کوبہت زیادہ منفی قراردے رہے ہیں‌، ادھر ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ڈی ایم نے اپنی عزت اسی میں سمجھی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ وہ اس اہم اجلاس کے کوثبوتاژنہیں کیا جائے گا

    خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مذکورہ اعلامیہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دے دی تھی اور کہا تھا کہ اگر سپیکر نے پیر تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے اور دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کانفرنس کیسے کرتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ملاقات کے بعد او آئی سی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں، معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں افغانستان، مقبوضہ کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی درپیش مسائل پر غور کے لئے 22 اور 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد تشریف لارہے ہیں، ہم ان کی پذیرائی اور استقبال کے لئے چشم براہ ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن انہیں یقین دلاتی ہے ان کی آمد کے موقع پر پورا پاکستان انہیں خوش آمدید کہتا ہے، ان کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مہمان نوازی کی روایتی چاشنی، احترام، تقاضوں کے مطابق خوش گوار ماحول استوار کرنے میں اپنا کردار یقینی بنائیں گے۔

    اعلامیہ کے مطابق ایسی فضا کی تشکیل میں بھرپورحصہ ڈالیں گے جس میں معززمہمان اپنےطے شدہ امور پوری توجہ، انہماک اور دلجمعی سے انجام دے سکیں OIC کے معزز مہمانوں کےخیر مقدم اور تکریم کے لئے ہی متحدہ اپوزیشن نےلانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اوراپنے کارکنان کو 25 مارچ سے پشتر اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔

    متحدہ اپوزیشن کے مطابق پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا، ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوشگوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔

    دیکھتے ہیں او آئی سی کی کانفرنس کیسے ہوتی ہے؟ بلاول کی للکار

    اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔

  • تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان:عمران خان کوکامیابی کایقین

    اسلام آباد: تحریک عدم اعتماد : قومی اسمبلی کا اجلاس 25 مارچ کو بلانے کا امکان،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی طرف سے او آئی سی اجلاس سے متعلق سخت پیغام کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر ایوان میں ہی دھرنا دینے اور او آئی سی اجلاس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ وزرا نے بلاول کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شاہ محمود نے امید ظاہر کی کہ بلاول بھارتی آلہ کار بن کر او آئی سی اجلاس کو سبوتاژ نہیں کریں گے جبکہ شیخ رشید نے بلاول کو چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو کانفرنس روک کر دکھائیں۔

    ذرائع کے مطابق حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کے بجائے 25 مارچ کو بلانے کا امکان ہے، او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سیکریٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے 14 دن کے اندر اجلاس بلانا لازم ہے، اجلاس کا ہونا لازم نہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم نے سیاسی کمیٹی اجلاس میں بھی قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق مشاورت کی تھی۔

    اُدھر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو ایک بار پھر طلب کرلیا، بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت شریک ہوگی، جس میں اتحادیوں اور ناراض اراکین سے رابطوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ جیت ان کی ہوگی اور تمام اراکین پارٹی ان کےساتھ وفا کریں گے اور اس سلسلے میں ایک اہم شخصیت نے اپنا فن دکھانا شروع کردیا ہے

    واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

    متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

    قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

    حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔

  • ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا

    راولپنڈی: ناراض پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے:ان شااللہ تعالیٰ :وزیراعظم عمران خان نے سب کوبلا لیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں سندھ ہاؤس میں موجود زیادہ پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رنگ روڈ لندن کی ایم 25 کی طرح ہے، نالہ لئی کا پراجیکٹ اگلے تین ہفتے میں لانچ کریں گے، راولپنڈی شہر پھیل گیا پلاننگ نہیں ہوئی، راولپنڈی کوماڈرن سٹی بنائیں گے، نالہ لئی کے ساتھ ہم نے ایک نیا پنڈی بنانا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، شہرپھیلتے جا رہے ہیں، پچھلے سال چاربڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کوپہلی دفعہ پوری قیمت ملی اور ان کی پیداواربڑھی، ہم نے اپنی زرعی زمینوں کوبھی بچانا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خریدوفروخت کی سیاست پر کسی کو شرم نہیں آرہی، اس کوجمہوریت نہیں کہتے، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے، برطانیہ میں کوئی سیاست دان تصوربھی نہیں کرسکتا پیسے لیکر پارٹی بدل لے، اگر کوئی برطانیہ میں پیسے لے بھی لے تو اسے معاشرہ برداشت نہیں کرے گا، عوام کے خوف کی وجہ سے برطانیہ کا سیاست دان سندھ ہاؤس والی حرکت نہیں کرسکتا، ہمارے کارکن جذبات میں آکرایسا کیا، کارکنوں سے کہتا ہوں پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ضمیر خریدنے کے لیے چوری کے پیسوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سندھ کی عوام کا چوری کے پیسے کو استعمال کیا جا رہا ہے، سندھ ہاؤس میں کونسا ایسا کام ہو رہا تھا اس وجہ سے سندھ پولیس کو بلایا گیا، اگرہمارے لوگ تنگ ہیں تو ان کو چھپانے کی کیا ضرورت تھی؟ خریدوفروخت پوری قوم کے سامنے ہو رہی ہے، پاکستان کے لوگوں نے اس طرح کی سیاست کودیکھ لیا، خریدوفروخت کی سیاست کی وجہ سے پاکستان پیچھے چلا گیا۔

  • حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    حکومت کےکسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت

    لندن:لاہور::حکومت کے کسی اتحادی کونئی حکومت میں کوئی عہدہ نہ دیا جائے:یہ لوگ قابل اعتبارنہیں‌:نوازشریف کی ہدایت،پاکستان کے ایک بڑے نام معروف صحافی جن کی خبرکوہرکوئی مصدقہ اور معتبر جانتا ہے کا کہنا ہےکہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کرنے والی سب سے بڑی جماعت ن لیگ لندن کے سربراہ نوازشریف نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اس کے بعد ضمیرفروشوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے

    سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والی سب سے بڑی جماعت کو اپنے ساتھیوں‌ پر اعتماد نہیں ، خصوصا ان پر جواپنی عزت ، شہرت اور اپنی نسلوں کا مستقبل نوازشریف کی خاطرقربان کرچکے ہیں

    عارف حمید بھٹی کہتے ہیں کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ نوازشریف نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں ساتھ دینے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو کسی قسم کا عہدہ نہ دیا جائے کیوں کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہیں جو عمران خان کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ ہمیں بھینقصان پہنچا سکتے ہیں‌

     

     

    عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہےکہ نوازشریف کی طرف سے یہ رویہ پہلی مرتبہ نہیں اپنایا بلکہ نوازشریف اپنے ساتھیوں پر بھی اعتبار نہیں کرتے ،

    عدم اعتماد میں کامیابی کی صورت میں نئی بننے والی حکومت میں عمران خان کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کوعہدے نہ دینے کے نوازشریف کے حکم کے بعد سوشل میڈیا پرضمیرفروش ارکان اسمبلی کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا ہے ،اہل پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے بے ضمیر ہونے کی قدرنوازشریف کے بیان سے تلاش کریں‌ کہ جس نے ایک ٹشوکی طرح استعمال کرکے پھراسے پھینکنے کا حکم دیا ہے

    یاد رہے کہ نوازشریف کی طرف سے یہ بھی حکم دیاگیا ہے کہ چوہدری برادران پربھی اعتبار نہ کرنا یہ بھی کسی سے وفا نہیں‌ کرتے اور یہ اپنے مفاد کی خاطر ن لیگ کو پھرسبق سکھا سکتے ہیں

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماوں‌ نے ان سے درخواست کی ہے کہ منحرف ہونے والے پی ٹی آئی ممبران سے درگزر کریں وہ اپوزیش کے ہاتھوں ڈی ٹریک ہوگئے ہیں اور اگر وہ اپنے گھرکو لوٹ آتے ہیں تو ان کو باور نہ کرانا یہی ایک بہادر انسان کی خوبی ہے

  • عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں: چیف جسٹس

    اسلام آباد:عدم اعتماد آئینی مسئلہ ہےاس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں:اداروں کےساتھ ہیں:اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہےکہ تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدم اعتماد کے روز تصادم کے خطرے کے پیش نظر آئینی درخواست دائر کی گئی تھی جس میں وزیر اعظم، وزارت داخلہ، دفاع، آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا تھا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے مکمل ہو، عدم اعتماد آرٹیکل 95 کے تحت کسی بھی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سیاسی بیانات سے عدم اعتماد کے روز فریقین کے درمیان تصادم کا خطرہ ہے، سپریم کورٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کو عدم اعتماد کا عمل پرامن انداز سے کرنے کا حکم دے۔

    ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی آئینی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ عدم اعتماد کی تحریک کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک سیاسی عمل ہے، تحریک عدم اعتماد پرآئین کے تحت عمل ہونا چاہیے اور اس میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ آئین اور قانون پر سختی سے عمل ہوگا۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں کو کہیں گےکہ وہ بھی قانون کے مطابق عمل کریں، اٹارنی جنرل آپ 63 اےمیں ریفرنس دائر کررہے ہیں، اٹارنی جنرل ریفرنس صبح تک دائرکردیں تاکہ ہم اس کی سماعت کریں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھاکہ عدالت یقنیی بنائے گی کہ قومی اداروں کو تحفظ فراہم کرے، اٹارنی جنرل آپ 63 اے کے حوالے سے عدالت کی رائے چاہتے ہیں، ہم وہ معاملہ بھی اس درخواست کے ساتھ سن لیتے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اورپارلیمنٹرینز کا احترام کرتے ہیں لیکن عدالت کا پلیٹ فارم کسی فریق کو صورت حال خراب کرنے کے لیے استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیں گے، عدالت قانونی سوالات کا آئین کے تحت جواب دے گی۔

    بعد ازاں عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر پیپلزپارٹی، (ن) لیگ ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کو نوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے درخواست پر سماعت پیر دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

  • فوزیہ قصوری بھی میدان میں آگئیں‌

    لاہور:فوزیہ قصوری بھی میدان میں آگئیں‌،اطلاعات کے مطابق جہاں اس وقت وزیراعظم عمران خان کے خلاف مردوں نے ایک محاذ کھول رکھا ہے وہاں عورتیں بھی کسی سے کم نہیں ، تازہ نوک جھونک میں سابق وزیرخارجہ میاں خورشید محمود قصوری کی اہلیہ فوزیہ قصوری بھی شامل ہیں‌

    اطلاعات کے مطابق فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جو کہ یوٹرن لینے کے حوالے سے بہت مشہور ہیں اس وقت سخت مشکل یں ہیں اور یہ مشکل ان کی اپنی پیدا کردہ ہے

     

    فوزیہ قصوری کا کہنا ہےکہ وہ تو دیکھ رہی ہیں کہ بہت جلد ایک تبدیلی ملک میں آنے والی ہے اور ملک بہت جلد مسائل سے نکل کرترقی کی طرف چل پڑے گا

    ادھر وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف عالمی سازشوں کا شکار ہے۔

     

     

     

    میڈیا سے گفتگو غلام سرور خان کا کہنا تھاکہ بیرونی قوتیں تحریک انصاف کوغیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، مولانا پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی جنگ لڑرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تینوں اپوزیشن لیڈران لوٹا ہوا مال بچانےکی کوشش کررہے ہیں۔

    غلام سرور خان کا کہنا تھاکہ مائنس عمران کے بارے میں سوچا ہی نہیں جا سکتا، عمران خان اور تحریک انصاف پاکستان کی سلامتی کے ضامن ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ تین بڑے خاندانوں کومائنس کردیں تو اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہیں۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    لاہور: منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں منحرف ارکان سے وضاحت طلب کی گئی ہے، ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق 7 روز تک جواب نہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منحرف ارکان کو آج شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

    یہ واضح نہیں کہ شوکاز کن 13 ارکارن کو جاری کیے جائیں گے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں 24 کے قریب پی ٹی آئی ارکان موجود ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    کپتان OIC کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبر ملے گی:ان شااللہ کپتان ہی جیتے گا:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :کپتان اوآئی سی کی تیاریوں میں مصروف ہے:بہت جلد اچھی خبردےگا:شاہ محمود قریشی کا اعلان سن کراپوزیشن حیران ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی،وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس نے ایک بارپھرحکومت کوسنبھلتے ہوئے دکھایا ہے

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،اس اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کریں گے اور انہیں انشاء اللہ شکست دیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں اس ابہام کو دور کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، کسی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے،یہ بھی واضح کر دوں کہ سندھ میں گورنر راج کا نہ کوئی ارادہ تھا نہ ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعید غنی صاحب اور بلاول بیٹا بے جا پریشان نہ ہوں، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں تسلسل سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے اتحادی ہمیں نہیں چھوڑیں گے،میں چوہدری صاحبان کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ جذباتی نہیں سیاسی فیصلے کرتے ہیں، انہیں علم ہے کہ نون لیگ ان کیلئے کتنی گنجائش رکھتی ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2018 میں ان کے راستے میں روڑے نون لیگ نے اٹکائے،

    وزیرخارجہ نے کہا کہ پنجاب میں اکثریت نون لیگ کی ہے وہ جب چاہیں کرسی کھینچ سکتے ہیں، سیاسی سوچ رکھنے والے جانتے ہیں کہ چوھدری صاحبان وضع دار لوگ ہیں کوئی غیر سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے،کراچی میں پیپلز پارٹی نے جو ایم کیو ایم کے ساتھ سلوک کیا وہ سب کے علم میں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم والے سیاسی لوگ ہیں وہ پچھلے چار سال میں ایم کیو ایم کےساتھ، پیپلز پارٹی کے سلوک کو نہیں بھولیں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو سندھ ہاؤس میں ہیں سیاسی لوگ ہیں انہیں علم ہے کہ آئین اور قانون کا تقاضا کیا ہے، وہ بلے کے نشان پر جیت کر آئے ہیں وہ کسی مخالف کی گود میں نہیں بیٹھیں گے، نون لیگ نے ماضی میں کئی لوگوں سے ٹکٹوں کے وعدے کیے جو ایفا نہ ہوئے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ ہمارے کولیگ ہیں ہم ان سے کہیں گے کہ وہ سیاسی حریفوں کی گود میں نہ بیٹھیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ میں ان سے کہوں گا کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی نے وزیر اعظم کی صدارت میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر کوئی اس اپیل کے باوجود منحرف ہوتا ہے تو اسے شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا،میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف میں مائینس ون کی کوئی گنجائش نہیں ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے ادوار میں مائنس ون کی بات کی گئی تو کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اس پر اتفاق کیا، آج شہباز شریف، نواز شریف کی جگہ نہیں لے سکتا،عمران خان بانی ہیں انہوں نے تحریک انصاف کا پودا لگایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج الحمد للہ چار حکومتیں انہوں نے قائم کی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سندھ میں بھی تبدیلی کی ہوا دیکھ کر آ رہا ہوں، اپوزیشن کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ افغانستان کی صورتحال کیا ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک حادثاتی طور پر چلائے گئے میزائل کی کوئی توجیع نہیں دے سکا،ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی صورتحال کے باعث معیشتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کیا اس صورت حال میں ملک عدم استحکام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ میں آج اپنے دوستوں کو بھی کہوں گا کہ اپنی گفتگو میں پارلیمانی لہجہ استعمال کریں اور الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں، آج پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں سب کی متفقہ رائے تھی کہ نہ ہمیں گورنر راج کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ارادہ ہے، شاہ جی کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک ان کا آئینی حق ہے ہم مقابلہ کریں گے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تصادم کا نہ ارادہ تھا نہ ہے نہ ہو گا،ابھی پیپلز پارٹی والے سرکاری وسائل پر مارچ لیکر اسلام آباد آئے ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی،

  • اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے

    اسلام آباد :اسلام آباد میں دفعہ 144:معاملات مزید بگڑنے لگے،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا۔ ریڈزون کے باہر ایک کلومیٹر تک کے رقبے کو بھی ریڈزون میں شامل کردیا گیا ضلعی انتظامیہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈزون میں ایمبیسی روڈ، ساؤتھ یونیورسٹی روڈ، خیابان اقبال،شاہراہ سہروردی، سیرینا چوک، ڈھوکری چوک، شامل ہیں۔ دیگر علاقوں میں مری روڈتھرڈ ایونیو، خیابان اقبال کا ساؤتھ ایریا، چائنہ ایمبیسی کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ریڈزون میں ہمہ وقت ریڈالرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریڈزون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، دفعہ 144 کو مزید دوماہ کیلئے لاگو کردیا گیا۔

    ادھر وزیرداخلہ شیخ رشید نے پی ٹی آئی کارکنوں کی سندھ ہاؤس میں داخلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی افسوس ناک بات ہے، یہ پولیس کی کوتاہی ہے اور آئی جی سے کہا ہے کہ ان سب کوگرفتار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کوتاہی اور غیرذمہ داری کی ہے، ان کے خلاف نوٹس لیں، ابھی تو 20 سے 25 دن ہیں، اگر ملک اسی طرح آگے چلتا رہا تو کل پرسوں او آئی سی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا، یہ تو ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ابھی تو ایک ہزار رینجرز اور طلب کیے اور ملک میں حالات اور زیادہ خراب ہوئے تو 10 سے 15 دن بعد 245 کے تحت فوج بھی طلب کرسکتے ہیں کیونکہ ملک کی سالمیت کا مسئلہ ہے۔