Baaghi TV

Tag: عدم اعتماد

  • پاکستان کیخلاف عالمی سازشیں:عدم اعتمادکی آڑمیں عدم استحکام     پیداکرنیوالےماسٹرمائنڈکون؟جلد پتےلگ جان گے

    پاکستان کیخلاف عالمی سازشیں:عدم اعتمادکی آڑمیں عدم استحکام پیداکرنیوالےماسٹرمائنڈکون؟جلد پتےلگ جان گے

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کےخلاف عالمی سازشوں کا انکشاف:عدم اعتماد کے پیچھے کون سی خفیہ طاقتیں:جلد پتے لگ جان گے،پاکستان کوعدم استحکام کا شکارکرنے والوں کے متعلق بہت بڑے انکشافات ہونے جارہے ہیں،اس حوالے سے پاکستان مخالف اندرونی قوتوں کو بیرونی طاقتوں کی طرف سے ملنے والی کمک کے بارے میں بہت جلد قوم کو آگاہ کردیا جائے گا

    اس حوالے سے ممکن ہے کہ کل تک وزیراعظم اپنی قوم کوپاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی قوتوں کے بارے میں ببانگ دہل بتا دیں اور قوم کی طرف سے ڈٹ جانے پرقوم کا شکریہ بھی ادا کرسکتے ہیں‌

    پاکستان کو عدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کی طرف سے عدم اعتماد کے پیچھے چپھی قوتوں کے واضح ثبوت مل چکے ہیں‌اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قوم کوان سازشی عناصر کی سازشوں سے آگاہ کریں‌

    یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان کل یا مستقبل قریب میں‌ قوم کے نام کچھ گزارشات کریں تاکہ قوم اپنے اندرچھُپے ہوئے بھیڑیوں کو اچھی طرح پہنچان سکے

    یہ بھی ہوسکتا ہےکہ وزیراعظم پاکستان میں‌ عدم اعتماد کی آڑ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی پاکستان دشمن حرکتوں اور سازشوں کو قوم کے سامنے پیش کرکے ان اندرونی کرداروں کو بھی بے نقاب کردیں جو جھوٹ اور غلط بیانی سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہےہیں‌

  • اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیے محکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا

    اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیے محکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا

    کراچی: اسلام آباد کوفتح کرنے والوں کےلیےمحکمہ صحت سندھ کا پیغام آگیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم عمران خان کی حکومت کوعدم استحکام کا شکارکرنے کے لیے گھر سے نکل پڑے ہیں اور دوسری طرف اسی اثنا میں محکمہ صحت سندھ کا پیغآم آگیا ہے کہ حیدر آباد اور میر پور خاص ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں، پورے سندھ سے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے بچے کراچی بھیجے جاتے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے اعتراف کیا ہے کہ حیدر آباد اور میر پور خاص ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں، ٹھٹہ، بدین اور تھر پارکر کے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز موجود نہیں۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیدائشی امراض کا شکار بچوں کو ہنگامی بنیادوں پر وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ محکمہ سندھ کا کہنا ہے کہ حیدر آباد اور میرپور خاص کے تمام اضلاع سے بچے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے کراچی بھیجے جاتے ہیں۔

     

    لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدر آباد کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں ہے، اسی مہینے بچوں کا آئی سی یو شروع کر دیں گے۔

    ڈسٹرکٹ اسپتال تھر پارکر کے حکام کا بھی کہنا ہے کہ تھر پارکر کے کسی اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر موجود نہیں، وینٹی لیٹر کی ضرورت والے بچوں کو کراچی بھیجتے ہیں۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے امراض اطفال کراچی ڈاکٹر ناصر سلیم کا کہنا ہے کہ سندھ بھر سے وینٹی لیٹر سپورٹ کے لیے بچے کراچی بھیجے جاتے ہیں، ہمارے پاس بچوں کے لیے صرف 25 وینٹی لیٹر ہیں۔ پورے سندھ اور بلوچستان سے بچے ہمارے پاس بھیجے جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے والے بچے یقیناً راستے میں ہی انتقال کر جاتے ہوں گے، ہر ضلعی اسپتال میں بچوں کے لیے وینٹی لیٹر ہونا ضروری ہے۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔

  • عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    لاہور:عدم اعتماد:ن لیگ کا 38 حکومتی ارکان اورسینئرلیگی رہنما 16 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کا دعویٰ کر دیا۔لیکن دوسری طرف لیگی رہنما کے متضاد دعوے نے ن لیگ کے اندرتضاد کی تصدیق کردی ہے

    ذرائع کے مطابق 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کی فہرست سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ارسال کر دی گئی۔ ن لیگ نے 10 ارکان کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت کے 16 ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔

    سینئر لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہم خیال حکومتی ارکان کو 3 مراحل میں تقسیم کر دیا ، پہلے مرحلے میں وہ ارکان ہیں جو حکومتی پالیسوں سے دلبرداشتہ ہیں۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی سوچ رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔ تیسرے فیز میں دیکھو اور انتظار کرو کی سوچ رکھنے والے ارکان ہیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔ساتھ ہی اس وقت یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگر اپوزیشن کے پاس تعداد پوری ہوتی تو وہ دعوے کے مطابق ہی دستخط کا ثبوت پیش کردیتے ، اس لیے ابھی قبل ازوقت کہنا یا دعویٰ کرنا ایک سیاسی چال ہی لگتی ہے

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف اکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس 5 دن کی ڈیڈ لائن ہے خود مستعفی ہوجائیں، اگرغیرت ہے تو وزیراعظم اسمبلی توڑکرہمارا مقابلہ کریں۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی یہ مودبانہ درخواست ہی بتا رہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے، بلاول بھٹو کی قیادت میں مارچ بہاولپور پہنچ چکا ہے۔ چنی گوٹھ میں انہوں نے جیالوں سے خطاب کیا۔

  • اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی

    اسلام آباد:اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔دوسری طرف ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ دعوے تو بڑے ہورہے تھے مگردستخط صرف 80 ممبران کے ،

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سرگرم ہیں اور اس سلسلے میں سیاست کے بڑے کھلاڑیوں کی بیٹھکیں جاری ہیں جب کہ (ن) لیگ کے رہنما رانا ثنااللہ نے تحریک عدم اعتماد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

  • عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان عباسی

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی-

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ق لیگ کے اپنے فیصلے ہیں ،عدم اعتماد سے ان کا تعلق نہیں ۔عدم اعتماد پر ہمارے نمبر اتحادیوں کے بغیر بھی پورے ہیں عدم اعتماد پر آج پیپلزپارٹی سمیت سب جماعتیں متحد ہیں عدم اعتماد پر جن لوگوں کا ہمارے ساتھ رابطہ ہے وہ پراعتماد ہیں ایمپائر کو غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

    حکومت نے ملک میں معیشت کی تباہی کیلئے بارودی سرنگ بچھا دی ہے،شاہد خاقان عباسی

    ن لیگی رہنما نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے 48 گھنٹے میں تحریک عدم اعتماد لانے کے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 48گھنٹے میں ریکوزیشن چلی جائے گی ریکوزیشن عدم اعتماد کی تحریک کے لیے اجلاس سے متعلق جمع کرائی جائے گی۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عمران خان کے جانے کے بعد حکومت بنانے سے متعلق محمد زبیر کی بات کا ان کوہی بہتر علم ہوگا میری رائے میں عمران خان کے جانے کے بعد حکومت بننی ہی نہیں چاہیے حکومت ناکام ہوچکی ہے ،جن کو مشکل وقت سے نمٹنے کا تجربہ ہے ان کو آنے دیں ۔

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جلد بازی میں ریلیف پیکج کا آخر کار عوام کو ہی نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر بوجھ پڑ گیا ،کل ان لوگوں نے عوام میں بھی جانا ہے ۔

    عمران خان آئی ایم ایف کو بھی چکردے رہاہے:شہبازشریف بھی عمران خان کے فین…

    قبل ازیں شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری حکومت نے بلکہ تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں معیشت کی تباہی کے لیے بارودی سرنگ بچھا دی ہے وزیر اعظم نے تقریر میں اپنی تمام پالیسیوں کی نفی کی، وزیر اعظم نے کہا حکومت مہنگائی میں کمی کررہی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اضافی قرضے لے کر حکومت کے ان منصوبوں کو پورا کرے گا 3 سے 4 سو ارب روپے کے مزید قرضے لئے جائیں گے، حکومت قرضے لے گی تو اس کا روپے پر اثر ہوگا اور ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی، افسوس کی بات ہے حکومت 4 سال میں عوام کو کچھ نہ دے سکی۔

    پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی،اپوزیشن کے بیانات پر حکومتی وزرا کا ردعمل

  • فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج

    اسلام آباد : فضل الرحمان کی ‘خوشخبری’اوربہارسے بیزاری کے بیان پرفواد چوہدری کا چیلنج ،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ مولانا ایسی خوشخبریاں پہلے بھی کئی بار سنا چکے ہیں اپوزیشن کےپاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ عدم اعتمادلاسکیں۔

    اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوتے تو حکومت میں ہوتے تحریک آئی تودیکھ لیں گےیہ کہاں کھڑےہیں اورہم کہاں ہیں، تحریک عدم اعتماد آنے دیں کوئی پرواہ نہیں ہم تگڑےہیں۔

    فوادچوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے وزیراعظم کا امیدوار کون ہے ایک کہتا ہے الیکشن کرادیں دوسرا کہتا ہے ہمیں ڈیڑھ ڈیرھ سال ملیں اپوزیشن ایک ڈرامہ ہے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ پرویزالٰہی نےکہا ہم آپ کےاتحادی ہیں پرویزالٰہی سےآج صبح بھی بات چیت ہوئی ہے پہلےبھی ساتھ الیکشن لڑےتھےآئندہ بھی لڑیں گے، ق لیگ اتحادی ہےاس لئےتوچیمہ صاحب وزیر ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے

  • اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اگلے48گھنٹےاہم:عمران خان کاجانا یقینی:کپتان کےجانے سےبہارآئےیانہ آئے:یہ ہمارا مسئلہ نہیں:فضل الرحمن

    اسلام آباد:اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں :عمران خان کا جانا یقینی ہے:اس کے جانے سے بہارآئے نہ آئے:ہمارا مسئلہ نہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔اگلے 2 سے 3 دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔

    پی ڈی ایم سربراہ نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں ہی پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد کسے کیا ملے گا؟

    اس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیا آپ کو سب کچھ بتادیں؟ اتنا کافی ہے اب اپوزیشن میں کسی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی۔

    فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اپوزیشن جماعتوں کا موجودہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائے گا، ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے، اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی۔ ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کے لیے نمبرز پورے ہیں، امپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے امپائر سے کوئی مدد نہیں لینی۔ ہم نے امپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔ اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔

  • عدم اعتمادکی دھمکی دینےوالوں کاایک دوسرےپراعتماد      نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    عدم اعتمادکی دھمکی دینےوالوں کاایک دوسرےپراعتماد نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ

    اسلام آباد :عدم اعتماد کی دھمکی دینے والوں کا ایک دوسرے پراعتماد نہیں:سازشی نامراد لوٹیں گے:اہم شخصیت کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کو ڈیڈلاک پڑچکا ہےکوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی اور 23 مارچ کا کوئی لانگ مارچ نظرنہیں آ رہا۔حالانکہ میں نے ان کے استقبال کا بندوبست کررکھا ہے

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ بلاول بھٹو بےشک اسلام آباد آئیں انہیں کوئی رکاوٹ نہیں ملے گی آج وزیراعظم کی چوہدری براداران سے ملاقات کے بعد سب کچھ واضح ہوگیا ہے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی،عمران خان نےملاقات کر کے اچھا کیا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آج ملاقات کیلئے نہ جاتےتو افواہین جنم لیتی ق لیگ اور ایم کیوایم ہماری اتحادی جماعتیں ہیں، چھانگامانگا،مری کی سیاست اب نہیں چلےگی اپوزیشن ممبران کوکہاں لےکرجائےگی اب ماضی نہیں حال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں سےرابطےرہنےچاہئیں،وزیراعظم ملاقاتیں کریں گے حکومتی ممبران پورےہیں کوئی ممبر کہیں نہیں جارہا، بلاول بھٹوکےپاس ہمارےممبران کےنام ہیں تواعلان کردیں اپوزیشن اپنےلوگوں کودیکھےکہیں وہ ہمیں سپورٹ نہ کردے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتمادمیں ڈیڈلاک پیداہو چکا ہے اپوزیشن اپنی سیاسی موت خودمرچکی ہے اپوزیشن کی پوزیشن خراب عمران خان کی پوزیشن بہترہے، 9دن اپوزیشن اپنےممبران کوسنبھال کرنہیں رکھ سکتی، عدم اعتماد کیلئے9دن ہوتےہیں ان کےتلوں میں تیل نہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کےخلاف عدم اعتمادلانےوالوں     کا ایک دوسرے پراعتماد نہیں،کچھ نہیں ہوگا:فرخ حبیب

    وزیراعظم عمران خان کےخلاف عدم اعتمادلانےوالوں کا ایک دوسرے پراعتماد نہیں،کچھ نہیں ہوگا:فرخ حبیب

    فیصل آباد :وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے والوں کا آپس میں‌ ایک دوسرے پراعتماد نہیں،کچھ نہیں ہوگا:اطلاعات کے مطابق وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے آج کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی ہے۔

    وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے آج کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی ہے، عدم اعتماد کے لئے نمبر پورے نہ ہونے پر پھرسے کمیٹیاں بنائیں جارہی ہیں۔

    فرخ حبیب نے کہا کہ اپوزیشن کا آج کا اکٹھے کھانے، پینے اور ٹائم پاس کی کی حد تک تھا، شہباز شریف اور فضل الرحمان اب بھی پیپلز پارٹی بلخصوص آصف زرداری کے کردار پر تذبذب کا شکار ہیں، 9 مرتبہ دھوکے کھانے کے بعد اب 10 واں دھوکہ تیار ہے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی سمیت اپوزیشن کے پاس کرپشن کے تسلسل کے علاؤہ عوامی خدمت کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، نالائق اپوزیشن ساڑھے تین سال سے ہر رات حکومت گرانے کی خواہش دل میں رکھ کر میٹھی نیند سوتی آئی ہے۔

    فرخ حبیب نے کہا کہ پوری دنیا میں دہائی کی بلند ترین مہنگائی ہوئی ہے، وزیراعظم عمران خان عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہمی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، ملکی معیشت پر وہ لوگ تبصرہ کررہے ہیں جو اپنا گھر چلانے کے قابل نہیں ہیں۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ فضل الرحمان بتائیں انکے پاس ملکی معیشت چلانے کا کونسا فارمولا ہے، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی کرپشن، منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کی بھر مار اور ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے حکومت کو قرض لینا پڑا۔

    فرخ حبیب نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلی حکومت ہے جو وسائل کی مساوی تقسیم یقینی بنائے ہوئے ہے، آرڈیننس کا اجراء حکومت کا استحقاق ہے، ماضی میں بھی آرڈینینس جاری ہوتے آئے ہیں۔