Baaghi TV

Tag: عدم اعتماد

  • پرویز الہی وزیر اعلی تو بن نہیں سکتے اب سپیکر بھی نہیں رہیں گے، اپوزیشن

    پرویز الہی وزیر اعلی تو بن نہیں سکتے اب سپیکر بھی نہیں رہیں گے، اپوزیشن

    پرویز الہی وزیر اعلی تو بن نہیں سکتے اب سپیکر بھی نہیں رہیں گے، اپوزیشن
    پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے ن لیگ اسمبلی پہنچ گئی

    پاکستان مسلم لیگ ن کا وفد سپیکر چودھری پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے پنجاب اسمبلی پہنچ گیا
    لیگی وفد کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا لیگی وفد نے اسمبلی گیٹ پر ہی دھرنا دے دیا

    ن لیگ کے ارکان اسمبلی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد دائرکیے بغیر واپس لوٹ گئے ،خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ ہم واپس ہوٹل جار ہے ہیں پنجاب اسمبلی انتظامیہ نے دروازے بند رکھے ہیں لیگی ارکان مشاورت کر کے اگلا لائحہ عمل طے کرینگے تمام صورتحال پر حمزہ شہباز پریس کانفرنس کریں گے، اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ پرویز الہی وزیر اعلی تو بن نہیں سکتے اب سپیکر بھی نہیں رہیں گے،

    پنجاب اسمبلی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی پنجاب اسمبلی میں پولیس کی وینز پہنچا دی گئیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کی اضافی نفری اسمبلی گیٹ پر موجود ہے پنجاب اسمبلی میں واٹر کینن بھی پہنچا دی گئی پولیس نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنےکیلئے تیاریاں مکمل کر لیں

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے خلاف قرارداد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ صوبہ پنجاب کے معاملات آئین پاکستان کے مطابق نہیں چلائے جا رہے ہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے صوبہ پنجاب میں جمہوری روایات کا قلع قمع کیا ہے۔ یہ ایوان سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے،

    ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار ہیں، 4 دنوں سے ان کو قانون اور آئین کا لحاظ نہیں رہا، ان کے صاحبزادے نے پنجاب اسمبلی کے ممبران کو پیسوں کی پیشکش کی، ممبران کو زبردستی اپنی جماعت میں شامل اور الیکشن میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔حمزہ شہبازشریف صاحب کاکہنا ہےکہ پرویز الہی نے گنڈاسہ اٹھایا ہے اور ممبران کو اسمبلی کو سیل کر دیا ہے

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی میں سپیکر کی جانب سے صحافیوں کا داخلہ بند کرنے پر صحافیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، صحافیوں نے احتجاجی مظاہری کیا ہے اور پنجاب اسمبلی کی کوریج کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے، صحافیوں نے اسپیکر کے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا پر پابندی آزاد صحافت پر حملہ ہے،

    علاوہ ازیں رانا مشہور نے دعویٰ کیا ہے کہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ہاؤس ڈیوس روڈ میں گجرات سے لائے ہوئے ورکرز کو پنجاب اسمبلی کے عقبی دروازے سے اندر بھیجا جا رہا ہے ان سے اسمبلی میں توڑ پھوڑ کروائی جا رہی ہے تاکہ سب الزام اپوزیشن پر لگ سکے۔پرویز الہی اور اس کا ذاتی ملازم محمد خان بھٹی اس وقت باؤلے ہو چکے ہیں

    قبل ازیں حکومتی اتحاد ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے مشکلات کا شکار ہو گیا،تحریک انصاف پنجاب میں مزید مشکل میں پھنس گئی،علیم خان، ترین گروپ کے بعد مزاری گروپ بھی سامنے آیا،ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کا بھی گروپ سامنے آگیا،دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے پی ٹی آئی کے ارکان ناراض ہو گئے پی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان کا مزاری گروپ بنانے پر اتفاق ہو گیا،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی امیدوار کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے موجودہ صورتحال پر اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کوپی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے دوست محمد مزاری کا اپنے گروپ کے ہمراہ اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا قوی امکان ہے

    پی ٹی آئی کی طرف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کروا دی گئی ہے،عدم اعتماد کی تحریک پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے ۔ تحریک عدم اعتماد صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور دیگر ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے آئین کیساتھ جو کھلواڑ عمران نیازی قومی اسمبلی میں کر رہا ہے وہی کردار چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں ادا کر رہا ہے، دوست محمد مزاری دیر آئے درست آئے اپوزیشن ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیساتھ کھڑی ہے پرویز الٰہی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، اُن کی وزارت اعلیٰ آتی آتی چلی گئی، یہی وزارت اعلیٰ اپوزیشن انہیں 200 ارکان اسمبلی کیساتھ دے رہی تھی لیکن اُنکی قسمت میں کھجل خرابی لکھی تھی

    قبل ازیں اپوزیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی لابی میں مبینہ توڑ پھوڑکے معاملے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے لابی کا دورہ کیا اورتوڑ پھوڑ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا،اسپیکر پرویز الہی نے لابی اور مختلف حصوں کے نقصان کا جلد از جلد تخمینہ لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لگا کر جلد از جلد مرمت کا کام شروع کیا جائے

    ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا ہے کہ اجلاس 16اپریل کو ہی ہوگا آفیشل لیٹر جب تک جاری نہیں ہوتا اس وقت تک پہلا آرڈر برقرار رہے گاگذشتہ ہونے والے اجلاس میں توڑ پھوڑ کی وجہ سے مرمت کا کام جاری ہے ،

    دوسری جانب تحریک انصاف نے لاہور میں احتجاج کی کال دے دی ہے ، تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پنجاب کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے آج پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا جائے گا تمام ورکرز 90 شاہراہ کے سامنے 4.30 شام اکٹھے ہوں گے افطاری کا انتظام بھی ہوگا.

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    پرویز الہیٰ کوعمران خان کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے، مریم نواز

  • جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ سماعت کررہا ہے ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں جوکچھ ہورہا ہے وہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی کڑی ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیان حلفی دے دیں کہ وزیر اعلیٰ کے انتخابات کب ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اس پر بات کرنے کا موقع آئے گا تو سن لیں گے،گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل نے کہا تھا آئین کے مطابق الیکشن ہونگے،

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آج اجلاس ہونے کی یقین دہانی کرائی،پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے،3اپریل کو قومی اسمبلی میں جو ہوا اس پر سماعت پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں، عدالت کے بارے میں منفی تبصرے کیے جا رہے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ عدالت معاملے میں تاخیر کر رہی ہے، پنجاب اسمبلی کا معاملہ آخر میں دیکھ لیں گے، آج اس کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹایا جائے سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں،یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟

    بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ، پشتون تحفظ موومنٹ ، راہ حق پارٹی نے درخواست دائر نہیں کی،یہ وہ جماعتیں ہیں جن کی کہیں نہ کہیں پارلیمان میں نمائندگی ہے۔تمام سیاسی جماعتیں عدالت کے سامنے فریق ہیں،ایم کیو ایم ، تحریک لبیک ،بی اے پی ، پی ٹی ایم اور جماعت اسلامی عدالت کے سامنے فریق نہیں،راہ حق پارٹی کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے لیکن وہ عدالت کے سامنے فریق نہیں،شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ازخود نوٹس لیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے،ہمارے سامنے آرٹیکل 95 کا بھی ایک مقصد ہے،بابر اعوان نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 5 کے ذریعے کسی کو غدار کہا گیا ہے، درخواست گزاروں نے عدالت سے آرٹیکل 95 اور 69 کی تشریح کی استدعا کی،آرٹیکل 63 اے پر کسی نے لفظ بھی نہیں کہا ان کا دعوی ٰہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،ن لیگی صدر نے پریس کانفرنس کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا،درخواست گزار چاہتے ہیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے، اپوزیشن چاہتی ہے عدالت انکے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے،سیاسی جماعت جس کی مرکز،صوبے،کشمیر گلگت میں حکومت ہیں کہتے ہیں اسکو نظرانداز کردیں،درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے وہ جمہوریت کو بچانے آئے ہیں کیا آئین کا موازنہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے آئین سے کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیس سیاسی انصاف کی ایڈمنسٹریشن کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیںاس کا بیک گراونڈ کیا ہے، اس پر بات کریں،اسپیکر کے اقدامات کا دفاع ضرور کریں، اس پرآپ کو خوش آمدید کہتے ہیں کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ ایجنڈے سے ہٹ کرممبران سے مشاورت کے بغیر ولنگ دے سکتا ہے؟ کیا اسپیکر آئینی طریقہ کارسے ہٹ کے فیصلہ دے سکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس ایسا مواد تھا جو انہوں نے ایسی رولنگ دی؟ ہمیں راستے نہ بتائیں ہم راستے ڈھونڈ لیں گے،اسپیکر نے کونسی بنیاد پر ایکشن لیا

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے ان کیمرا بریفنگ کی استدعا کر دی،کہا بریف لایا ہوں اگراس پران کیمرا بریفنگ ہوسکتی ہے،کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاوس اور لاہور ہوٹل میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ اراکین اسمبلی کے کردار پر قرآن و سنت اور مفتی تقی عثمانی کا نوٹ بھی دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی حقائق پر جا سکے،ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کب ہوئی؟ آئینی طریقہ ہے جس کو سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں، کیس میں ایک الزام لگایا گیا ہے ہم متنازعہ حقائق پر نہیں جانا چاہتے ،ڈپٹی اسپیکر نے ایک اقدام کیا ہے، بنیادی چیز حقائق پر آئیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ میٹنگ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن، ڈیفنس اتاشی سمیت 3 ڈپلومیٹس شامل تھے، ڈی سائفر کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس میں چار چیزیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ معلومات کوڈز میں آئی ہیں یا سربمہر لفافے میں؟ آپ نے ڈی سائفر کا لفظ استعمال کیا، بابر اعوان نے کہا کہ میں اس کو یوں کر لیتا ہوں کہ ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے،ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے جس میں فارن سیکریٹری دستیاب نہیں ہوتے سیکریٹ ایکٹ کے تحت کچھ باتیں کرنا نہیں چاہتا، خفیہ پیغام پر بریفنگ دی گئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ خفیہ پیغام پر بریفنگ کابینہ کو دی یا دفترخارجہ کو دی؟ عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے کہ ان کیمرا سماعت کریں، آپ سے صرف واقعات کا تسلسل جاننا چاہ رہے ہیں، بابراعوان نے کہا کہ فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے اگر کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، ‏بابر اعوان نے ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کر دی اور کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں، ‏چیف جسٹس نے بابراعوان کے دلائل کو کہانیاں قراردے دیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازمی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو وفادار نہیں اس کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، جو لوگ غیر ملک سے ملکر تحریک عدم اعتماد لائے انکے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کسی سیاسی جماعت کے وکیل کو دلائل نہیں دینے چاہیے خط کا معاملہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے اس کو کوئی سیاسی پارٹی ڈسکس نہیں کرسکتی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فارن پالیسی کے معاملات پر مداخلت نہیں کرسکتے، بابر اعوان نے کہا کہ سائپر سے نوٹس بنا کر فارن منسٹری کابینہ میٹنگ کو بریف کرتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، بات پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے ،جوکچھ ہے وہ رولنگ سے پڑھ دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت زیادہ تفصیلات نہیں دے سکتا،فارن آفس نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی کابینہ کی میٹنگ میں متعلقہ ڈی جی نے مراسلے پر بریفنگ دی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ بابر اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاوں گا،کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال خط نہیں مانگ رہے،کیا اسپیکرنے کوئی میٹنگ کی تھی، اس کے منٹس پیش کریں تب بات بنے گی، یہ عدالت قانون کے مطابق عمل کرے گی، بظاہر ہمارے سامنے یہ کیس الزمات اور مفروضوں پر مبنی ہے آیا وہ الزمات اور مفروضے قابل جواز ہیں یا نہیں ،ہم متضاد الزمات پر نہیں جاتے اسپیکر کے پاس کیا مواد تھا جس پر ایکشن لیا گیا؟ بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم سے خوش نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ خارجہ پالیسی پر بات کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہ کرے،جتنا رولنگ میں لکھا ہوا ہے اتنا ہی پڑھا جائے تو مناسب ہوگا،بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا نتائج ہونگے

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ باتیں اسپیکر کے وکیل کو کرنے دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کابینہ نے کیا فیصلہ کیا یہ بتائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں یہ سماعت جلد مکمل کرنی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں پارلیمانی جمہوریت کا بتانا تھا،ہم نے اس معاملے کو ختم کرنا ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور ہم نے غداری والے معاملے پر احتیاط سے کام لیا تھا،پاکستان صدیوں رہے گا ،ہم آتے جاتے رہیں گے عدالت نے 3اپریل کے حکمنامہ میں امن و امان کے خدشے کا اظہار کیا تھا،دوسری اہم چیز عدالتی حکم میں غیرآئینی اقدامات سے روکنا تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی ہم ا سپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہوگا، ان تمام واقعات کو انفرادی شخصیات سے کیسے لنک کرینگے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انہیں معلوم نہیں کون ملوث ہے،بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے،وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لیے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے،میمو کیس ابھی بھی زیر التواہے،حقائق متنازعہ ہوں تو اسکی تحقیقات ضروری ہیں برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کوئی باہر سے آ کر پارلیمان اجلاس ملتوی نہیں کر سکتا، برطانوی عدالت نے کہا پارلیمان اپنے ہاوس کی خود ماسٹر ہوتی ہے، کوئی بھی قانون شریعت کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا،قومی مفاد سب سے بے چارہ لفظ ہے جو پاکستان میں بہت استعمال ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کا لفظ اسپیکر کے حلف میں کہاں استعمال ہوا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ رولز کے مطابق ا سپیکر ووٹنگ کے علاوہ بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحریک ایوان میں پیش کر دی جائے تو پھر فیصلہ کیے بغیر خارج نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق رولز بذات خود کہتے ہیں کہ تحریک کو ووٹنگ کے بغیر مسترد کیا جاسکتا ہے آپ نے کام کی اور بہترین بات کی ہے،بابر اعوان نے کہا کہ میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکیں مجھے یہ پوائنٹ لکھنے دیں،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 94 کے تحت صدر وزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں، کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں ہوا تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی، تحریک عدم اعتماد نمٹانے تک اجلاس موخر نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹایا جا سکتا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمانی رولز کو ملا کر اور آرٹیکل 95 کیساتھ ملا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے علیحدگی میں نہیں ،فیصلہ عدالت کی اس سائیڈ ہونا ہے یا اس سائیڈ ہونا ہے وہ سائیڈ جیت جائے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا، بابر اعوان نے کہا کہ جی بلکل اس ساری صورتحال میں ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا،جو کچھ بھی ہوگا اس میں عوام متاثر ہونگے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس لئے آپ کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے حلف میں لکھا ہے کہ جب انہیں سپیکر کا کام کرنے پڑے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، بابر اعوان نے کہا کہ ایک وکیل نے کہا اب چھانگا مانگا نہیں رہا، اب سندھ ہاؤس اور آواری چلے گئے ہیں، جس ادارے کے اندر ہارس ٹریڈنگ کی مشق ہو رہی وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے ذوالفقار علی بھٹوکو آئین دینے کے بعد سولی پر لٹکایا گیا صدارتی ریفرنس اس عدالت میں زیر التوا ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل ہو گئے، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی چیئرمین نے بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن کے لیے تیار ہیں الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا،بھارت اور بنگلہ دیش نے ای وی ایم کا راستہ نکالا مگر ہم نہیں مانتے، اگر یہاں سے راستہ بننا ہے تو میں سعادت سمجھتا ہوں کہ اس تاریخ کا حصہ بنوں

    صدر کے وکیل علی ظفر کے دلائل شروع ہو گئے،صدر مملکت نے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کرینگے جو عوام کے مفاد اور سب پر ماننا لازم ہوگا، بابر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ حق سے پھرنے والا تباہ ہو جاتا ہے ،حدیث ہے کہ تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کیلئے قانون اور تھا اور کمزور کیلئے اور، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے، آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے جسے عدالت پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی اس کیس میں اسپیکر کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے،اگر عدالت میں ایک کیس چل رہا ہے تو پارلیمنٹ اس پر تبصرہ نہیں کرتی، عدالت بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنا پارلیمنٹ میں مداخلت ہے، اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہو سکتی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیا غیرآئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا،ایوان ا سپیکر سے مطمئن نہ ہو تو عدم اعتماد کر سکتا ہے،اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیا تو ا سپیکر کا ہر فیصلہ ہی عدالت میں آئے گا،صدر کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اس معاملے کاحل نئے الیکشن ہی ہیں جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی،باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جو غیرآئینی ہے،اسپیکر ایوان کا ماتحت ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اسپیکر اگر رولنگ دے تو کا ایوان واپس کر سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر اسپیکر ایوان کی بات ماننے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہاوس اسپیکر کو اوور رول کر سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر کا اقدام تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کی میعاد ہٹانے کیلئے تھا ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رولنگ کو نہیں چھیڑ سکتے ،وزیراعظم نے صدر کو تجویز بھیجی اس کو دیکھ سکتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کو 18 فیصد افراد کے کہنے پر پیش کر دیا جائے تو بھی عدالت اس کو نہیں دیکھ سکتی،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تب بھی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کسی بھی پارلیمنٹ کے معاملے کو نہیں دیکھ سکتی،یہ مقدمہ در حقیقت پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے،سپریم کورٹ پارلیمان کے بنائے قانون کو پرکھ سکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کر سکتی، اگر پارلیمان میں 10 بندوں کو ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے انہوں باہر نکال دیا جائے تو اسے بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ نیا اسپیکر آئے اور دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے، کیا اسپیکر پورے پارلیمنٹ کو بھی ختم کر سکتا ہے،علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر ایسا کر سکتے ہیں، چیف جسٹس صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کا دلائل پر مسکراتے رہے،علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رولنگ واپس نہیں ہو سکتی،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے استفسار کیاکہ اسپیکر کی رولنگ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کو ہاؤس ختم کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپکے مطابق اس کیس میں فورم اسپیکر کو ہٹانا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آجائے گا ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان اگر ایسا فیصلہ دے جس کے اثرات باہر ہوں تو پھر آپ کیا کہتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ عدالت پارلیمان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لے سکتی عدالت پارلیمان کے باہر ہونے والے اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہو سکتی ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تحت ہر شہری اسکا پابند ہے،کیا اسپیکر آئین کے پابند نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے،درخواست گزار کہتے ہیں آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے،

    وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایوان کے آئینی انتخاب کو بھی استحقاق حاصل ہے،پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ووٹ کم ہوں اور اسپیکر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ پارلیمانی مسائل تو ہو سکتے ہیں لیکن عدالت پارلیمنٹ پر مانیٹر نہیں بن سکتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ سپیکر کی بدنیتی کہاں تھی،اگر اسپیکر وزیر اعظم کو بچانا چاہتا ہے تو اپوزیشن بھی ایسا ہی کرتی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں سیاسی معاملے میں نہیں جاؤں گا عدالت ڈپٹی اسپیکر کی بدنیتی کی بات کر رہی ہے،میں صدر مملکت کا وکیل ہوں ڈپٹی اسپیکر کی بات نہیں کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدر مملکت کے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر کی رولنگ غلط ہو تو بھی اسے استحقاق ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کرتے ہیں کیا آئین شکنی کو بھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی،جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،ہماری کوشش ہے معاملے کو جلد مکمل کیا جائے،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل تک کے لئے ملتوی ملتوی کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر کل سماعت صبح جلدی کرینگے وزیر اعظم کے وکیل کل30منٹ لیں گے، پٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا کہ اسی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو منتخب کیا ڈپٹی اسپیکر نے قوانین کی پروا نہیں کی ڈپٹی اسپیکر اجلاس کو ملتوی نہیں کرسکتا تھا ،جو کچھ ہوا وہ سب ایک پری پلان تھا اسپیکر اورصدر نے جو کیا وہ آئین کی خلاف ورزی ہے،

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد شہباز شریف اسلام آباد سپریم کورٹ میں پہنچ گئے سینئر وائس پریزیڈنٹ مسلم لیگ نون لائرز فورم راولپنڈی ڈویژن چودھری غلام جیلانی منہاس ایڈوکیٹ نے دیگر وکلاء کے ساتھ اپنے قائد کا استقبال کیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر 3 اپریل کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

  • اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،اجلاس طلب، اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،اجلاس طلب، اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،اجلاس طلب، اہم فیصلے متوقع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد بھی اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے

    اپوزیشن جماعتیں آئین شکنی کے خلاف ایک بار پھر ایک ہو چکی ہے، وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ نئے الیکشن ہوں اپوزیشن چاہتی ہے عدم اعتماد ہو، چھ ماہ ہماری حکومت چلے اسکے بعد پھر الیکشن ہوں، سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے، دوسری جانب سیاسی جماعتوں نے بھی اجلاس طلب کر لئے ہیں

    متحدہ اپوزیشن نےاپنا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا جس کی صدارت پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کریں گے جلاس دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نگران وزیراعظم کےتقررسمیت سیاسی صورتحال پرغورکیا جائے گا

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس بنی گالہ میں دوپہر ایک بجے طلب کرلیا اجلاس میں آئندہ انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں آئندہ کی حکمت عملی پرغورہوگا وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام ہمیشہ ملک کی خودمختاری اور جمہوریت کے محافظ ہوتے ہیں عوام ملکی سالمیت ،خودمختاری اورجمہوریت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، ملکی خودمختاری اور جمہوریت پر بیرونی طاقتوں نے مقامی سہولتکاروں کے ساتھ ملکر حملہ کیا،

    ن لیگی رہنما سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کسی بھی ریاست میں سب سےپہلےآئین ہوتاہے،پاکستان میں سویلین مارشل لا نافذ کر دیا گیا عمران خان نے 3 اپریل کو پاکستان کے آئین کو ذبح کر دیا 3نومبر کو مشرف نے ایمرجنسی لگائی تھی آج سب کچھ وہی ہو رہا ہے،آئین ریاست کی بنیاد ہوتا ہے وہ شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہےآئین کو روندنے کے بعد ریاست کھوکھلی ہو جاتی ہے،

    ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اسپیکرکی رولنگ آئین سے متصادم اورغیرقانونی ہے سپریم کورٹ اسپیکر کی رولنگ کوکالعدم قرار دے سکتی ہے،الیکشن 90کی بجائے70 دنوں میں کروا لیں، ہم تیار ہیں،ہم سب نے 3 سال الیکشن کےلیے جدوجہد کی،آئین کی خلاف ورزی کو اتفاقیہ نہیں سمجھناچاہیے، عدالت کافیصلہ آنا چاہیے ،

    پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ تین دن انہوں نے لگائے ہیں ،ہم کم وقت لگائیں گے،ابھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے فیصلہ آنا باقی ہے،

    اسد عمر کا کہنا ہے کہ مریم نوازنے کہا مراسلہ جعلی ہے،سفیر کاتبادلہ 4ماہ پہلے ہوا تھا،سفیر کا تبادلہ میڈیا میں رپورٹ ہوچکا ہے ن لیگ والے گوگل سرچ سے مدد لے سکتے تھے،شہباز شریف نے کہا ہمیں پارلیمانی سیکیورٹی اجلاس میں مدعو نہیں کیا،

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    عمران خان آپکو شرم تو نہیں آتی،علیم خان پھٹ پڑے، بہت کچھ بتا دیا

  • پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان نے لاہور میں پارٹی کے خلاف جانے والے اراکین کا گھیراؤ کر لیا

    اراکین جو پی ٹی آئی کے امیدوار کو چھوڑ کر حمزہ شہباز کی سپورٹ کر رہے ہیں، لاہور کے مقامی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں، اپوزیشن کے ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف ہوٹل کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کے نعرے ممکنہ تصادم کی وجہ سے متحدہ اپوزیشن نے خواتین ارکان کوہوٹل میں بھیج دیا،

    ہوٹل کے اطراف کے تمام راستے بند، شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،مین بلیوارڈ ہوٹل کے باہر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے، اس ہوٹل میں اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ٹھہرے ہوئے ہیں پی ٹی آئی کےکارکنوں کو ہوٹل کے قریب آنے سے روک دیا گیا

    متحدہ اپوزیشن کے ارکان پنجاب اسمبلی گلبرگ کے ہوٹل میں قیام پذیر ہیں عبدالعلیم خان گروپ کےارکان بھی ہوٹل پہنچ چکے ہیں،پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی کہا جا رہا ہے کہ سب کارکنان ہوٹل پہنچیں اور احتجاج میں شامل ہوں

    شہباز گل کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد کے بعد لاہور کہ نجی ہوٹل میں ن لیگ نے ضمیر خریدنے کی منڈی لگا رکھی ہے۔ تحریک انصاف یوتھ ونگ اور لاہور کی تنظیم اس وقت لاہور میں نجی ہوٹل کے سامنے اس خریدو فروخت کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہے۔ غدار ضمیر فروشوں کو معاف نہیں کیا جائے گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

  • نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

    نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

    نگران وزیراعظم کون؟ تحریک انصاف نام سامنے لے آئی

    نگران وزیراعظم کیلئے سابق چیف جسٹس گلزاراحمد کا نام تجویز کیا گیا ہے ،فواد چودھری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جسٹس ریٹائرڈ گلزاراحمد کا نام تجویزکیا ہے دوسرے نام پر تحریک انصاف اپنی اتحادی جماعت ق لیگ سے بھی نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کرے گی

    صدر مملکت نگران وزیراعظم کی تعیناتی کیلئےشہبازشریف کوبھی خط لکھ چکے ہیں آئین کےمطابق عمران خان اورشہبازشریف کوتین دن میں نگران وزیراعظم کیلئے نام پرمتفق ہونا ہوگا

    دوسری جانب شہباز شریف نے وزیر اعظم سے مشاورت کرنے سے انکار کردیا ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے نام کے لئے مشاورت کا حصہ نہیں بنوں گا،ہماری نظریں سپریم کورٹ پر ہیں،آئین توڑنے والوں سے کوئی بات ،مشاورت نہیں ہوگی

    قبل ازیں نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ ، صدر مملکت نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خط لکھ دیا خط کے متن میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک عمران خان بطور وزیراعظم فرائض سر انجام دیتے رہیں گے آرٹیکل 224 اے ون کے تحت نگران وزیراعظم نامزد کیا جائے گا،صدر مملکت ،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم نامزد کریں گے اسمبلی تحلیل ہونے کے3 روز میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر متفق نہ ہوئے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا جائیگا اسپیکر اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر مشتمل 8 رکن کمیٹی تشکیل دیں گے جو نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریگی

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

  • فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما احسن اقبال نے عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    احسن اقبال نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی جس کی ملک دشمنوں سے ممنوعہ فنڈنگ فارن فنڈنگ کیس میں ثابت ہو چکی ہے اسے 7 سال سے کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ اپنی چوری چھپانے کے لئے سب پہ غداری کے ٹھپے لگائے- کیا الیکشن کمیشن نے اس وطن اور عطیات فروش کیخلاف فیصلے کو روز محشر کے لئے چھوڑ دیا ہے؟

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھاکہ میں سپریم کورٹ میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کیا بحیثیت قوم ہمارا یہی مقدر ہے کہ ہر چند سال بعد آئینی شکنی کا مقدمہ لیکر سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوں- آئین کی حرمت اور آئین کی رکھوالی کا دعوی کرنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ آئین شکنی اس ملک میں اتنی ارزاں کیوں ہے؟

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ PTI والو صبر کرو الیکشن میں عمران نیازی کو تارے دکھائیں گے اور عبرتناک شکست دیں گے انشاءاللہ مگر اس سے پہلے آئین شکنی کا حساب چکائیں گے تاکہ آئین سے کھیلنے کا نیا چور دروازہ نہ کھل سکے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

  • عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے سینئر صحافی سلیم صافی نے عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    ٹویٹ کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کے خلاف پارٹی فنڈنگ کیس(انڈین،امریکیوں اورحتیٰ کہ اسرائیلیوں سے فنڈزلینے کا الزام) انتخابات سے قبل چل رہا تھا۔ اس کی وجہ سے انہیں الیکشن سے منع کیا گیا اورنہ حکومت کرنے سے۔اسی اصول کے تحت سفارتی کیبل کے معاملے کا الگ فیصلہ ہواورعدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکرکوالیکشن ٹریبیونل ہزاروں ووٹوں کی چوری کا مرتکب قراردے کر نااہل قراردے چکا۔2 سال سے وہ اعلیٰ عدلیہ کی سٹے پرچل رہے ہیں۔ اب وہ جج بن کرآئین شکنی کررہا ہے۔ عدلیہ وقت پر فیصلہ کرتی تو قوم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس لئے عدم اعتماد کے فیصلے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

    ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ دو باخبرترین صحافیوں نجم سیٹھی اورحامد میرکا دعویٰ ہےکہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیراسدکی کیبل میں مرضی کی ترمیم کی گئی ہے۔اب ضروری ہوگیاہےکہ عدالت قریشی،سیکرٹری خارجہ اوراسد کوبلا کر حقیقت معلوم کرے۔ کیونکہ جعلی الیکشن سے سیلیکٹ ہونے والی حکومت کوئی بھی جعل سازی کرسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

  • نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    شہباز شریف نے وزیر اعظم سے مشاورت کرنے سے انکار کردیا ،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کے نام کے لئے مشاورت کا حصہ نہیں بنوں گا،ہماری نظریں سپریم کورٹ پر ہیں،آئین توڑنے والوں سے کوئی بات ،مشاورت نہیں ہوگی

    قبل ازیں نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ ، صدر مملکت نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو خط لکھ دیا

    خط کے متن میں کہا گیا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک عمران خان بطور وزیراعظم فرائض سر انجام دیتے رہیں گے آرٹیکل 224 اے ون کے تحت نگران وزیراعظم نامزد کیا جائے گا،صدر مملکت ،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم نامزد کریں گے اسمبلی تحلیل ہونے کے3 روز میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر متفق نہ ہوئے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا جائیگا اسپیکر اپوزیشن اور حکومتی اراکین پر مشتمل 8 رکن کمیٹی تشکیل دیں گے جو نگران وزیراعظم کا فیصلہ کریگی

    اگر کمیٹی بھی نگران وزیر اعظم کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجوایا جائے گا جو دو روز میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

     

  • ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل لارجر بینچ کا حصہ ہیں

    عدم اعتماد کا معاملہ،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے درخواست پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی ،سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی

    بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ کی اجازت سے میں گزشتہ روز پیش ہوا تھا آج میں پی ٹی آئی کی طرف سے پیش ہورہا ہوں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو بعد میں سن لیں گے ،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ میں دوباتیں کرنا چاہتا ہوں اسکی اجازت چاہیے، صدارتی ریفرنس میں 31مارچ کا جو حکم جاری ہوا وہ اہم ہے،عدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا تھا،جو کچھ بھی ہوا سب ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں ،الیکشن کیلئے تیار ہیں، سارا مسئلہ جلدی الیکشن کا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بیان ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں ،ہم آج کوئی مناسب حکم جاری کریں گے،ایڈووکیٹ نعیم بخاری اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس وقت ساری جماعتوں کے وکلا یہاں موجود ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں سب کو سنیں گے، آپ ہمیں کیس سمجھائیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت اہم نوعیت کے معاملے پر فل کورٹ بنائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں موجود کسی جج پر اعتراض ہے تو بتائیں،اگر کسی کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے،قومی اسمبلی میں جو کل ہوا ہے اُسکا آئینی جائزہ لینا ہوگا۔عدالت نے پیپلز پارٹی کے وکیل کی فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی فل کورٹ کی وجہ سے 10 ہزار مقدمات کا اضافہ ہوا،فل کورٹ کی وجہ سے تمام دیگر مقدمات متاثر ہوتے ہیں

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانا سیاسی جماعتوں کا حق ہے،عدم اعتماد جمع کرنے کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 95 وزیراعظم پر کسی چارج یا الزام کی بات نہیں کرتا عدم اعتماد کے ووٹ کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ،اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد پر بھی وزیراعظم والا طریقہ کار لاگو ہوتا ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اسکی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن دی جب ریکوزیشن قوائد کے مطابق جمع ہو تو 14دن میں اجلاس بلانے کا پابند ہے اسپیکر نے تیرہویں دن اجلاس بلایا ،20 تاریخ تک بلانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ریکوزیشن کے بعد ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ اجلاس 14 دنوں میں بلایا جانا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے بعد اسپیکر نے 25 مارچ کو اجلاس بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 28 مارچ کو ایم این اے کی فوتگی کی وجہ سے دعا کے بعد اجلاس ملتوی کیا گیا،جسٹس جمال مندو خیل نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کیس ہم نہیں سن رہے،آپ کا کیس وہ نہیں جو آپ بول رہے ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں، وجوہات درست تھیں یا نہیں اس پر آپ موقف دے سکتے ہیں،کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو ؟کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈر آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں؟کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے،50 ارکان کہتے ہیں تحریک پیش ہو اور 50 کہتے ہیں نہ ہوتو کیا تحریک پیش ہوگی؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی نے قرارداد کی اجازت دے کر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چھوڑیں یہ سب، اور مقدمے کے حقائق کی طرف آئیں،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ قومی اسمبلی ضابطہ کارروائی میں یہ درج ہے کہ سپیکر کوئی بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے اب آپ یہ بتائیں کہ اسپیکر نے صحیح کیا یا غلط؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ سے پہلے عدم اعتماد پر بحث ہوتی ہے، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی ،تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے. فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا بحث کی تاریخ مختص نہ کرنے پر اعتراض کیا؟ فاروق نائیک نے کہا کہ ہم تو صرف بٹن دبا سکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟

    پیپلزپارٹی وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کر دی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سوال کیا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت اسپیکر دیتا ہے کہ ایوان ؟ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسپیکر کا اختیار ہے کہ وہ تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے؟ اگر اسپیکر تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ دے تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دی اجلاس 3 اپریل تک ملتوی کردیا گیا، 27مارچ کو عمران خان نے جلسہ میں غیر ملکی خط لہرایا عمران خان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن بیرونی لوگوں کی سازش کا حصہ ہے،31مارچ کو نیشنل سیکیورٹی کونسل اور کابینہ کا اجلاس ہوا،اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کر کے ملک کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حقائق سے آگاہ کریں

    وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز فواد چودھری نے بیرون ملک سے موصول ہونے والے خط پر تقریر کی 31مارچ کو رولنگ میں بھی تحریک پر بحث کا نہیں کہا گیا اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کرنے کی کوشش بھی کی عمران خان نے 27 مارچ کو عوامی جلسے میں ایک کی سازش سے آگاہ کیا تین اپریل کو اجلاس اس لئے بلایا گیا کہ اس دن بحث ہوگی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ رولز میں وہ کونسی پرویژن ہے جس کے تحت اسپیکر بحث کی اجازت دیتا ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رول 28 میں ہے کہ اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوجاتا ہے تو اس پر بحث ایوان میں کرانی لازم تھی جو رولنگ دی گئی تھی وہ غیر قانونی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ایسی کوئی رولنگ جو اسپیکر کا اختیار ہے وہ اس پر رولنگ دے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ دینے وقت اسپیکر موجود نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رولنگ غیر قانونی ہے،ایوان میں اگر کوئی سوال اٹھتا ہے تو اس پر ایوان میں بحث لازمی ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں ہے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے؟ رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے،اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے آفس میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو اختیارات کی منتقلی ایسے ہی ہے جیسے قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات ہوں،جس رولنگ کو آپ چیلنج کررہے ہیں آپ کے مطابق وہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات میں نہیں رول 28 کے تحت ا سپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، جسٹس مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب 198 ووٹرز موجود تھے تو پھر کیا ووٹنگ ہونا چاہیے تھی،ایوان میں فیصلہ تو ووٹنگ کے تحت ہونا ہے، فاروق ایچ نائک نے کہا کہ ممبر کیریکٹر پر ایوان میں بات نہیں ہوتی صرف ووٹنگ ہوتی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،قائمقام سپیکر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے،جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ سے ارکان کو غدار قرار دیدیا،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے معاملہ پر ووٹنگ ہونا تھی،فاروق ایچ نائک نے کہا کہ 3اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھا،دوسرا کوئی ایجنڈا کارروائی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، ایوان میں ووٹنگ کیلئے اپوزیشن کے 198 ارکان موجود تھے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ 198ارکان میں کیا پی ٹی آئی کے ارکان بھی شامل تھے؟ فاروق نائک نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے ووٹ تو نہیں ڈالا،اپوزیشن کے 175 ارکان موجود تھے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 اکثریت کی بات کرتا ہے، کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد 3 منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی نکتے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں؟ اسپیکر کیطرف سے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ اگر ہم سمجھیں کہ دی گئی رولنگ غیر قانونی ہے تو وہ کیوں ؟ اس بارے میں بتائیں .آپ کہتے ہیں کہ ایک بار موشن ایوان میں پیش ہوجائے تو اسکا فیصلہ جو بھی ہو، ایوان میں پیش ہونے کے بعد موشن کے قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا نہیں جاسکتا، آپ کا مطلب ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا یہ موقف یہی ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں،تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اسکی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پروسیجرل غلطی آرٹیکل 69 میں کور نہیں ہوگی،پارلیمان کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جہاں اسپیکر قرارداد کی ویلیڈیٹی کو دیکھ سکتا ہے ؟ فاروق ایچ نائک نے کہا کہ صرف آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی پر۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یعنی آپکے مطابق اسپیکر کے پاس کوئی گراؤنڈ موجود نہیں تھا کہ وہ قرارداد کو ختم کرتے اور انکا یہ عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں درخواست گزاروں سے زیادہ جلدی میں ہے ہم اس فیصلے میں تاخیر نہیں کرنا چاہتے-

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج بھی ہو سکتی اور کالعدم بھی، اپوزیشن کو آج ہی فیصلے کا انتظار مگر ان کی وکیل نے عدالتی سوالات پر جواب کیلئے کل تک کی مہلت مانگ لی ،فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہو تو چیلنج ہو سکتی ہے، عدالت نے کہا کہ اپنے اس نکتے پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دیں،فاروق نائک نے کہا کہ کل تک کا وقت دیں تو مطمئن کر سکتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ وقت مانگ رہے ہیں ہم تو آپ سے زیادہ کام کر رہے ہیں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کا ہے،کوئی عدالتی فیصلہ بتائیں جس میں عدالت نے آرٹیکل 69 کی تشریح کی ہو، آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے،غیر قانونی غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اگررولنگ کو غیر آئینی قرار نہ دیا گیا تو یہ مستقبل میں ہمارے لیے مسائل پیدا کریگا رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا،تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا،محب وطن ہونے اور مذہب کارڈز سے ابھی تک جمہوریت باہر نہیں نکل سکی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا موقف دونگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس کو عدالت آج مکمل کرے اس پر ملکی اور غیرملکی آنکھیں لگی ہوئی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ رضا ربانی آپ اور مخدوم علی خان کتنا وقت دلائل کے لیے لینگے؟ بابر اعوان نے کہا کہ ممکن ہوسکے تو کل تک سماعت ملتوی کریں آج ہی سماعت مکمل کرکے آج فیصلہ دیں ایسا ممکن نہیں یہ بڑا حساس معاملہ ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس پر سماعت کل 12بجے تک ملتوی کر دی گئی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات مستقبل پر پڑیں گے،فاروق نائک نے کہا کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی کو توڑ چکے ہیں اور عمران خان کو وزیر اعظم رکھا گیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ اگر اپنے دلائل تحریری کے طور پر دیتے تو 2 گھنٹے میں سارے وکلا کو سن لیتے،ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،

    قبل ازیں اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ عدالت کے سامنے رکھیں گے، جو بھی عدالتی فیصلہ ہوگا اس پر عملدرآمد کیا جائے گا

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف سپریم کورٹ پہنچ گئے ،ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی شہباز شریف کے ہمراہ تھیں، پی ٹی آئی اور متحدہ اپوزیشن کے رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے

    سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی ڈپٹی اسپیکر رولنگ پر اٹارنی جنرل سے جواب طلب کیا ہے، عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے وکلاء کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا تھا صدر مملکت، سیکریٹری دفاع و داخلہ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کیا گیا جبکہ عدالت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل سے ازخود نوٹس میں معاونت طلب کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر گذشتہ روز کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

  • عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
    اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں تو تختہ دار پر لٹکا دیں پرعدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں، بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ دن ملکی تاریخ میں سیاہ دن تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا گزشتہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر لکھا جائے گا عمران خان اور حواریوں نےآئین کی واضح خلاف ورزی کی ،24 مارچ کو اسپیکر نےعدم اعتماد کی تحریک کو جمع کیا اگر اعتراض تھا تو اسے اپنے دفتر میں ہی مسترد کرتے،تحریک کو ہر صورت ووٹنگ کے لیے پیش کیا جانا تھا عمران نیازی کی فسطائی سوچ غالب آئی اور ڈپٹی اسپیکر کو استعمال کیا گیا ،عمران خان اور ٹولے نے گزشتہ روز آئین شکنی کی 24مارچ کو اسپیکر نے عدم اعتماد کو ایجنڈا میں شامل کیا اگر آرٹیکل 5 کے زمرہ میں کوئی چیز آرہی توایجنڈا میں کیوں شامل کیا،24مارچ کو تحریک جمع کراتے وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا،عمران خان اور ٹولے نے آئین کو توڑا اور جمہوریت کو مسخ کردیا عمران نیازی ،صدراورڈپٹی اسپیکر ماورائے عدالت اقدام اٹھاچکے تھے،عدالت عظمٰی نے کہا کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے،ماورائے آئین اقدام تو وزیراعظم، صدراوراسپیکر اٹھا چکے تھے،چند روز پہلے اٹارنی جنرل نے کہا تھا ووٹرز کو جانے دیں گے،ٹی وی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹنگ ہوگی،

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 16مارچ کو امریکا میں سفیر اسدخان نے ڈونلڈ لو کی دعوت کی،دھمکی کے بعد 16مارچ کو دعوت کیوں دی گئی اورشکریہ کیوں ادا کیا گیا ،اگر 7 مارچ کو کوئی میٹنگ ہوئی تو 16 مارچ کی دعوت کا شکریہ کس بات کا؟

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو ہوا غیر آئینی ہوا 1973 آئین کی بنیاد سیاسی جماعتوں نے رکھا عدم اعتماد جمہوری اور آئینی طریقہ تھا حکومت سے نجات ملنے پر کارکن خوش ہیں ،ہم سب نے ملکر 3ماہ حکومت کا جینا حرام کردیا،ہم جیسی جماعتیں آئین کا دفا ع چاہتی ہیں،ہمیں آئین کوتوڑےجانےپرزیادہ تشویش ہے، وزیراعظم کواندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے عمران خان نے دباو میں آکر سیاسی خود کشی کرلی،وزیراعظم خود اگر استعفیٰ دیتے تو آئینی ہوتا،اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر نے عمران خان کی انا کو سنبھالا حکومت گئی تو وزیراعظم جشن منا رہے ہیں،ذوالفقارعلی بھٹو کو آج تک انصاف نہیں مل سکا،یہ قائدِ عوام کی عظمت کا ثبوت ہے کہ ان کے بدترین مخالفوں کو بھی عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیئے ان کے نام کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے یہ قائدِ عوام تھے، جنہوں نے تختہ دار پر چڑھ کر دنیا کو ایک پیغام دیا

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کا تحفظ یقینی بنائے،معاملے پر فل بینچ تشکیل دیا جائے اور جلد فیصلہ سنایا جائے،عدم اعتماد تحریک کا عمل مکمل ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ طے کرے گا کہ کیا آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ؟ اگر ہم بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں، تو سزا دیں عدم اعتماد کا سلسلہ تو مکمل ہونے دیں جمہوریت چلنے دیں،عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی قسمت لکھی جائے گی اگر ہمیں سزا دینی ہے دے دیں تختہ دار پر لٹکانا ہے لٹکا دیں پر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونے دیں یہ پاکستان کے آئین کا معاملہ ہے ہم نے ثابت کیا کہ اپنے ووٹوں سے عمران خان کو پارلیمنٹ سے باہر کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان اپنے ووٹوں کی طاقت سے ہم آپ کو الیکشن میں بھی شکست دیں گے،

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے197 افراد کو غدار کہا جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کو اس کا حق واپس نہیں دیا جاتا تو پھر یہ فیصلہ گلی گلی میں ہوگا کہ کون غدارہےاورکون وفادار ہے سپریم کورٹ پارلیمان کو اس کا حق واپس کرے پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ کون غدار ہے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو پھرافرا تفری پید اہو گی اور گلی گلی میں فیصلہ ہوگا کہ کون غدارہے اورکون وفادارکل ڈپٹی سپیکر نے جس طرح آئین کو توڑا اس نے آئین کی کئی شقیں معطل کرنے کی کوشش کیں

    ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے شکست سے بچنے کے لیے سیاسی خود کشی کرلی عمران خان بیانیہ بنا چکے ہیں کہ انکے خلاف عالمی سازش ہورہی ہے، سازش ہورہی ہے تو ایک کمیشن بنائیں اور سچ ثابت کریں ،میں آپکے ساتھ ہوں،اگرعمران خان جھوٹ سڑکوں پر لیکر آئیں گے تو ہم اپنا سچ لیکرآئیں گے الیکشن میں ہم سے 14 سیٹیں جیتیں وہ عمران خان نے ہم سے چھینی تھیں ہم نے عمرا ن خان سے حکومت چھین لی ہے،

    ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان نےآئین سے کھلواڑ کیا ،عمران خان خط کو عدالت میں پیش کریں جاننا چاہتےہیں کون سی سازش عمران خان کے خلاف ہورہی ہے،

    واضح رہے کہ قومی اسمبی تحلیل ہو چکی ہے،گزشتہ روز قومی اسمبلی وزیراعظم عمران خان نے تحلیل کرنے کی ایڈوائس صدر مملکت کو بھجوائی تھی جس کے بعد اسمبلی تحلیل کر دی گئی،عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ڈپٹی سپیکر نے اسے مسترد کر دیا تھا، اپوزیشن جماعتوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان اورسپیکر پر آرٹیکل سکس لگے گا اور غداری کا مقدمہ درج ہو گا

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ