Baaghi TV

Tag: عراق

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر  ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد:امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

    الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں،تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

  • امریکی محکمہ دفاع نےعراق  میں طیارے حادثے میں ہلاک  ہونیوالے  6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے ان 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز،یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید

    پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو

  • ایران کےدبئی اور عراق میں ڈرون حملے

    ایران کےدبئی اور عراق میں ڈرون حملے

    ایران نے دبئی اور عراق میں ڈرون حملے کیے جس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے تہران میں ایک آئل ڈپو پر بمباری کی گئی ہے، مرینا بلڈنگ کے بعد متحدہ عرب امارات کے دبئی میں ایک اور عمارت سے خودکش ڈرون ٹکرا گیا-

    دبئی میڈیا آفس کے مطابق ایرانی ڈرون دبئی مرینا کے ایک مرینا ٹاور سے ٹکرا گیا جس کے بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی واقعے کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا، مرینا بلڈنگ کے بعد متحدہ عرب امارات کے دبئی میں ایک اور عمارت سے خودکش ڈرون ٹکرا گیا-

    دوسری جانب ایربل میں ایک اور امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا عرب میڈیا کے مطابق کرد عراق میں ایربل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور علاقے میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے۔

    ٹرمپ نے ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری کرسٹی نوم کو عہدے سے ہٹا دیا

    ادھر ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران سے اسرائیل کے مختلف علاقوں کی جانب میزائل داغے گئے اور متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا،اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کے اندر کارروائی کرتے ہوئے مغربی تہران کے علاقے کرج میں واقع تیل کے ڈپو پر بمباری کی۔

    عرب میڈیا کے مطابق کوہاک اور شہرَان کے علاقوں میں بھی تین آئل ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔

    روس انٹیلیجنس شیئر کر بھی رہا ہو تو ایران کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا،ٹرمپ

  • امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا

    امریکا نے 5 ہزار سے زائد داعش جنگجوؤں کو شام سے عراق منتقل کردیا

    امریکا نے شام سے 5 ہزار 700 سے زائد مشتبہ داعش (آئی ایس آئی ایل) قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ’23 روزہ مشن کا آغاز 21 جنوری کو ہوا، جس کے دوران شام کی حراستی تنصیبات سے 5 ہزار 700 سے زائد بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو عراقی حکام کے حوالے کیا گیا، آپریشن 12 فروری کو شمال مشرقی شام سے عراق تک رات کی پرواز کے ساتھ مکمل ہوا، امریکا اس سے قبل تقریباً 7 ہزار قیدیوں کی منتقلی کا اعلان کرچکا تھا یہ قیدی تقریباً 60 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی برسوں سے کرد قیادت میں قائم سیریئن ڈیمو کر یٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام جیلوں میں قید تھے۔

    عراق کے نیشنل سینٹر فار انٹرنیشنل جوڈیشل کوآپریشن کے مطابق 5 ہزار 704 قیدی عراق پہنچے ہیں، جن میں 3 ہزار 543 شامی، 467 عراقی اور 710 دیگر عرب ممالک کے شہری شامل ہیں، جبکہ 980 سے زائد افراد یورپ، ایشیا، آسٹریلیا اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں،سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ قیدیوں کی منتقلی علاقائی سلامتی کے لیے ضروری تھی اور مشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    داعش نے 2014 میں شام اور عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ 2017 میں عراق اور 2019 میں شام میں اس گروہ کو شکست دی گئی، جس کے بعد ہزاروں مشتبہ جنگجوؤں کو جیلوں اور کیمپوں میں رکھا گیا،عراقی حکام کے مطابق منتقل شدہ قیدیوں سے تفتیش کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    راولپنڈی: نجی کالج کے قریب 35 سالہ خاتون کی لاش برآمد

  • نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا،ٹرمپ

    نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا،ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سابق وزیرِاعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکا عراق کی مزید حمایت نہیں کرے گا۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ المالکی کے گزشتہ دورِ اقتدار میں عراق غربت اور شدید بدامنی کا شکار ہوا تھا اور ایسا دوبارہ نہیں ہونا چا ہیے اگر المالکی دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکا عراق کی مدد بند کر دے گا، اور امریکی حمایت کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی ممکن نہیں ہوگی۔

    ادھر امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش کا اظہار کیا ہے امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ایران کے زیرِاثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی

    امریکی حکام نوری المالکی کو ایران کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، جس پر واشنگٹن میں طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے ٹرمپ کی جانب سے یہ مداخلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں، شیعہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد، کوآرڈینیشن فریم ورک، نے نوری المالکی کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے-

    نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیرِاعظم ہیں جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔ تاہم ان پر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں رکھنے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران کے قریب ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں 2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکا نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ بن سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نئی بات نہیں۔

  • امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا

    عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق عین الاسد ایئربیس کا مکمل کنٹرول عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے یہ اڈہ طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج کے زیرِ استعمال تھا، تاہم اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل ہو چکے ہیں، یہ پیش رفت عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کنٹرول کے عمل کا حصہ ہے یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی تھی ،اب امریکی افواج اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔

    عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک سے بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی ختم کرنا اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی طرف بڑھنا ہے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں کہا تھا کہ اب 86 ممالک کی افواج کی عراق میں موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ اتحاد کے قیام کا مقصد ختم ہو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر مفاہمت ہو چکی تھی ابتدائی منصوبے کے مطابق سیکڑوں فوجیوں نے ستمبر 2025 تک واپس جانا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک ہونا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد عمل تیز دکھائی دیتا ہے۔

    عین الاسد ایئربیس کئی برسوں سے امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز رہی ہے اور اسے ماضی میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا بھی رہا، خاص طور پر 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کے دوران۔

    ایک عراقی فوجی کرنل نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بیس چھوڑ دی ہے، تاہم چند اہلکار لاجسٹک معاملات کی وجہ سے عارضی طور پر موجود ہیں، عراق میں داعش کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے لیکن عراقی فورسز اب بھی اس کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات

    سربراہ پاک فضائیہ کی عراقی ایئر چیف سے ملاقات

    سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے سرکاری دورے کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد راضی الاسدی سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ عسکری تعاون، پیشہ ورانہ دلچسپی اور عملی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر مشترکہ تربیت، صلاحیت میں اضافہ، ایوی ایشن انڈسٹری میں تعاون اور باہمی عملی ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔

    سربراہ پاک فضائیہ کو عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر پر تاریخی اور شاندار استقبال کیا گیا، جہاں چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، جو دونوں فضائی افواج کے درمیان احترام اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔

    کراچی میں پہلے ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹر کا افتتاح

    پاکستان اور عراق کے گہرے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ روابط دونوں ممالک کی مسلح افواج کے دیرپا تعلقات کی بنیاد ہیں۔ سربراہ پاک فضائیہ نے تربیت اور مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں عراقی فضائیہ کی مکمل معاونت کا اعادہ کیا اور مشترکہ مشقوں و تربیتی پروگرامز کے انعقاد پر اتفاق کیا۔

    عراقی کمانڈر نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی معیار کے تربیتی نظام کو سراہا اور کہا کہ عراقی پائلٹس پاک فضائیہ کے تجربہ کار پائلٹس سے براہِ راست سیکھنے کے خواہاں ہیں انہوں نے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری، سپر مشاق تربیتی طیاروں کی شمولیت اور جامع لائف سائیکل سپورٹ میں دلچسپی ظاہر کی۔

    امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    سربراہ پاک فضائیہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے، پیشہ ورانہ تعاون بڑھانے اور فضائی افواج کے درمیان دیرپا روابط قائم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • صدر آصف ٔزرداری کی نجف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک پر حاضری

    صدر آصف ٔزرداری کی نجف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک پر حاضری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے نجف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور امتِ مسلمہ کے امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے دعا کی۔

    منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے مسجدکوفہ میں نوافل ادا کئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب مکان کی زیارت کی،‎صدر مملکت نے نجف اور کوفہ میں امتِ مسلمہ کے امن، اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے دعا کی ،صدر مملکت نے منتظمین اور مبلغین سے بھی ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں نجف کے گورنر اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    پسرور:قائداعظمؒ کی سالگرہ: سدرہ ستار کا فکری پیغام

    بابا گورو نانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی چیئرمین پی ایچ ای سی سے ملاقات، اعلیٰ تعلیم کے فروغ پر اتفاق

    ننکانہ صاحب: سردی میں مستحق افراد کیلئے ڈی پی ایس چوک پر “دیوارِ مہربان” قائم، شہریوں سے تعاون کی اپیل

  • پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    بغداد:صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی –

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی جہاں ان کی آمد پر صدر آصف علی زرداری کو شان دار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور سرکاری استقبالیہ تقریب میں قومی ترانے بجائے گئے، صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراق کے صدر کو ملک کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کی جبکہ دونوں ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر تفصیلی ملاقات ہوئی اور عراقی صدر نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراقی قیادت اور عوام کے پرت پاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بغداد تہذیب، تاریخ اور استقامت کی علامت عظیم شہر ہے اور عراق میں کامیاب پارلیمانی انتخابات پر عراقی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی،انہوں نے کہا کہ پاکستان عرا ق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی بھرپور حمایت کرتا ہے، صدر پاکستان نے عراق کےاستحکام، ترقی اور جمہوری عمل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں پاک-عراق دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر را بطوں اور مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا،صدر مملکت نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، دفاعی پیداوار میں تعاون بڑ ھا نے پر زور دیا اور ساتھ ہی آئی ٹی، تعمیرات، ادویات اور متعلقہ صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر بات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران صدر زرداری نے بزنس ٹو بزنس روابط اور تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بینکاری چینلز کے قیام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مالیاتی سہولتیں ناگزیر ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراق کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موجودہ ایم او یو کے تحت ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہےانہوں نے طبی سہولیات، مالیاتی مہارت اور ڈیجیٹل گورننس میں تعاو ن کی بھی پیش کش کی اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ سمیت تکنیکی تجربات عراق کے ساتھ شیئر کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

    صدر پاکستان نے عراقی زیارات پر جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے سہولتوں میں بہتری کا مطالبہ کیا اور زائرین مینجمنٹ ایم او یو کی جلد حتمی منظوری اور نفاذ پر زور دیا گیا غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کرنے والے پاکستانیوں کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کریں گے، پاکستان عراقی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا حامی ہے۔

    دونوں صدور نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا، پاک-عراق قیادت نے سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی فورمز پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    عراقی صدر نے مسلم امہ کو متحد کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی تاریخی اور مسلسل حمایت کی تعریف کی۔

  • صدر آصف زرداری 4 روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے

    صدر آصف زرداری 4 روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری عراق کے چار روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا بغداد پہنچنے پر عراقی حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیاعراق کے وزیر ثقافت و سیاحت پروفیسر ڈاکٹر احمد فکاک احمد البدرانی، عراق میں پاکستان کے سفیر محمد ذیشان احمد اور دیگر سینئر حکام نے استقبال کیا۔

    صدر مملکت نے دورے کے دوران اعلیٰ عراقی قیادت سے ملاقاتوں میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر کا دورہ پاکستان اور عراق کے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔