Baaghi TV

Tag: عراق

  • پاکستان کی ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان کی ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری دوروں سے اجتناب کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے ان ممالک کے لیے سفری وارننگ جاری کی گئی ہے، جس میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران، عراق، لبنان اور شام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر نہ کریں۔بیان میں ان ممالک میں موجود پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، بلا ضرورت سفر سے پرہیز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔

    وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ان ممالک میں موجود پاکستانی اپنے قریبی سفارتخانوں سے رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد حاصل کی جا سکے۔

    اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت بند کی جائے،یورپی یونین کے 9 ممالک کا مطالبہ

    کراچی میں فائرنگ،بچی اور خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق، 2 ڈاکو ہلاک

    ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

    ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

  • عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہے،اسحاق ڈار

    عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ عراقی فضائی حدود بند ہونے سے زائرین کی محفوظ رہائش و انخلاء کی تیاری جاری ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ کے انخلاء کے پہلے مرحلے میں 154طلبہ کی واپسی کاانتظام کیا جا رہا ہے،عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہےعراقی فضائی حدود بند ہونے سے زائرین کی محفوظ رہائش و انخلاء کی تیاری جاری ہے۔

    وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے مطابق دفتر خارجہ میں کرائسز منیجمنٹ یونٹ 24/7 فعال ہے، کرائسز منیجمنٹ یونٹ کے نمبر 0092519207887 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، کرائسز منیجمنٹ یونٹ سے ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایران کے ’ایٹمی پروگرام کے ہیڈکوارٹر‘ پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی

    یہود و ہنود کا بڑھتا ہوا اتحاد خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ بن گیا

  • عراقی صدر وزیر اعظم کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    عراقی صدر وزیر اعظم کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    عراق کے صدر نے کردستان کے خود مختار علاقے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق عراق کے صدر نے کردستان کے خود مختار علاقے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے خلاف درخواست دائر کی جس سے ملک کی قیادت میں دراڑ پیدا ہو گئی ہے،صدر عبداللطیف راشد نے گزشتہ ماہ السوڈانی اور وزیر خزانہ طائف سمیع کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا لیکن وفاقی مشیر حواری توفیق نے اس کا اعلان حال ہی میں کیا۔

    عراق کی عدالت میں جمع کرائے جانے والے مقدمے میں بغداد اور علاقائی دارالحکومت اربیل کے درمیان جاری مالی تنازعات کے باوجود کردستان میں تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے فوری حکم کی درخواست کی گئی ہے۔

    ترک صدر کل پاکستان کے دورے پرپہنچیں گے

    وفاقی مشیر حواری توفیق نے کہا کہ وزیر اعظم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردستان کے دوسرے سب سے بڑے اور صدر کے آبائی شہر سلیمانیہ میں تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ عراق کا پبلک سیکٹر نااہلی اور بدعنوانیوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں، اگرچہ عراق کے پبلک سیکٹر کے ملازمین کو جنوری کی تنخواہیں ملی ہیں تاہم وہ اب بھی اپنی دسمبر کی تنخواہوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    جائیداد کا تنازع ، 2 سوتیلے بھائیوں نے ایک دوسرے کو مار ڈالا

  • عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    پاکستان اور عراق کے تعلقات میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ آ رہا ہے۔

    حالیہ پیش رفت نے ایک پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے جو قانونی زائرین کے ساتھ غیر قانونی پاکستانیوں کی موجودگی کو بھی شامل کرتا ہے۔ عراقی حکومت نے غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں زائرین کی تمام داخلی راستوں پر تفتیش، ان کے پاسپورٹس کو قبضے میں لینا اور گروپوں کے سفر کی زیادہ نگرانی شامل ہے۔اگرچہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے، لیکن ان کا اثر قانونی زائرین پر بھی پڑا ہے جو اب غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے اتنی ہی نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر بوجھ ڈال دیا ہے۔عراقی حکومت خاص طور پر اس لیے متنبہ ہے کیونکہ عراق میں تقریباً 40,000 سے 50,000 پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن میں سے بیشتر انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے عراق پہنچے ہیں۔

    غیر قانونی بحران اور اس کا اثر

    عراق کی سخت امیگریشن تدابیر کی بنیاد غیر قانونی ہجرت ہے۔ پاکستان کے کئی غریب علاقوں جیسے وزیرآباد، گجرات، گجرانوالہ، پاراچنار اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو انسانی اسمگلروں کا شکار بنایا جاتا ہے۔یہ غیر قانونی تارکین وطن اکثر اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تنخواہوں کا وعدہ کیا جاتا ہےجو کبھی $700 ماہانہ تک پہنچتی تھی۔تاہم، جب سے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ان کی اجرتیں کم ہو کر $300 سے $400 ماہانہ تک پہنچ چکی ہیں، اور وہ شدید استحصال اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2023 میں عراق میں کم از کم 50 پاکستانی کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کی وجہ یہ خطرناک کام کے حالات تھے اور 2024 میں بھی تقریباً اتنے ہی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عراق کی بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں پاکستان نے گجرات اور گجرانوالہ جیسے علاقوں میں سرگرم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان غیر قانونی نیٹ ورکوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی وسعت اور مقامی ایجنٹوں اور سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت کی وجہ سے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    انسانی بحران کا بڑھنا

    غیر قانونی تارکین وطن کو عراق میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ ان کی زندگی اور کام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں چھپ کر رہتے ہیں، جہاں وہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفتاری اور بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ افراد اسمگلروں اور عراقی حکام کے ہاتھوں تشدد اور حتیٰ کہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈی پورٹیشن کا عمل بھی سست اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گرفتار شدگان طویل عرصے تک بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔پاکستانی زائرین جو مذہبی مقصد کے لیے عراق آتے ہیں، ان کے لیے عراقی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے وقت پاسپورٹس کو ضبط کرنے کا عمل ایک اہم لاجسٹک مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی زائرین جو گروپوں میں سفر کرتے ہیں اور جن کا ایک مخصوص رہنما (سالار) ہوتا ہے، اکثر پاسپورٹ کی واپسی میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی ناقص کارکردگی نے زائرین اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    مفاہمت کا معاہدہ: مسئلے کا حل

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کے سفر کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ عراق کی غیر قانونی ہجرت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں دونوں حکومتیں ایک مفاہمت کا معاہدہ (MoU) تیار کر رہی ہیں جس کے تحت پاکستانی عازمین کو ایمرجنسی کی صورت میں گروپ سے علیحدہ ہونے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ زائرین کو درپیش سخت سفری پابندیوں میں کمی لائی جا سکے۔پاکستان نے پاسپورٹ کی ضبطی کے عمل پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور عراقی حکام سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کی جانچ کریں تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور پاسپورٹس کی واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔عراق نے اس عمل کا جائزہ لینے کی کچھ آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مزید برآں، پاسپورٹس کی تاخیر اور گم ہونے کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں،تاہم، انسانی اسمگلنگ کا بڑا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔عراقی حکام نے اسمگلروں اور ایجنٹوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن ان نیٹ ورکوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی ٹور آپریٹرز اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو زائرین کو استحصال سے بچا سکیں۔

    آگے کا راستہ: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پاکستان سے عراق جانے والے غیر قانونی تارکین وطن، خاص طور پر وہ نوجوان جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عراق جاتے ہیں، نے زائرین کے سفر کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی عازمین اور غیر قانونی تارکین وطن دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان اور عراق کو متعدد اقدامات پر تعاون کرنا ہوگا۔ان میں زائرین کے سفر کے قانونی فریم ورک کو بہتر بنانا، ایجنٹوں کے مافیا کے خلاف کارروائی کرنا، پاسپورٹ کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مؤثر ڈی پورٹیشن میکانزم بنانا شامل ہے۔جب کہ دونوں حکومتیں مفاہمت کے معاہدے کے تفصیلات پر بات چیت کر رہی ہیں، یہ واضح ہے کہ زائرین کے سفر کا مستقبل مؤثر دو طرفہ تعاون پر منحصر ہے۔ اگرچہ کچھ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی اسمگلنگ کو روکنے، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں طرف کے ادارہ جاتی میکانزم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔صرف مسلسل تعاون کے ذریعے دونوں ممالک یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ زائرین کا سفر روحانی اور محفوظ رہے، جو استحصال اور مشکلات سے آزاد ہو۔

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

    پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہازوں نے خلیج عرب میں تعیناتی کے دوران کویت اور عراق کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پی این ایس رسدگار اور پی این ایس عظمت نے کویت کی بندرگاہ الشویخ کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز "دشت” نے عراق کی بندرگاہ ام قصر کا دورہ کیا۔ دونوں بندرگاہوں پر آمد کے موقع پر پاکستانی سفارتی اور میزبان بحریہ کے اعلیٰ حکام نے پاک بحریہ کے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ مشن کمانڈر نے جہازوں کے کمانڈنگ افسرز کے ہمراہ دونوں ممالک کی بحری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، میری ٹائیم سیکیورٹی میں تعاون، اور بحری افواج کے مابین رابطے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں، کویتی اور عراقی بحریہ کے جہازوں کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی گئیں۔ مشقوں کا مقصد بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بہتر بنانے اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا تھا۔ پاک بحریہ کے فلوٹیلا کا کویت اور عراق کا دورہ دوست ممالک کے ساتھ موجودہ سفارتی اور بحری تعلقات کو مزید فروغ دے گا.

    مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

    آن لائن فراڈ سے شہری پریشان، اذیت کا شکار ہوگئے

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    سندھ حکومت کا صوبے کے اسکولوں کو سولرائزڈ کرنے کا اعلان

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

  • زائرین کو سہولیات  ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو  کی ہدایت

    زائرین کو سہولیات ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کی ہدایت

    وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آنگی چوہدری سالک حسین سے عراق میں پاکستانی سفیر محمد ذیشان احمد نے ملاقات کی،

    ملاقات میں عراق جانے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا کہ زائرین مینجمنٹ پالیسی وفاقی کابینہ نے اپریل 2021 میں منظور کی گئی، پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے، وزارت مذہبی امور اور عراق کی وزارت مذہبی امور کے مابین ایم او یو کا ڈرافٹ وزارت خارجہ کو بھجوایا گیا ہے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زائرین کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جلد از جلد عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کرنے کی ہدایت، ایم او یو کے تحت پاکستانی زائرین کو عراق میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں گی،

    چوہدری سالک حسین نے کربلا میں پاکستان ہائوس اور وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کا قیام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے، محرم، سفر اور اربعین کے موقع پر ذائرین کو ذیادہ سے ذیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستانی سفیر کی عراق میں پاکستانی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    اسلام آباد (محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز میں انکشاف ہوا ہے کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور عراق میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پابندیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اراکین کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا میں متحدہ عرب امارات کے مسئلے پر غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی ہے۔ غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور متعلقہ اداروں کو کام میں مشکلات پیش آئی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہا کہ وزارت امور خارجہ اور وزارت اوورسیز پاکستانی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ یو اے ای والا معاملہ ان کیمرہ کیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کرنے کے لیے اراکین کی مشاورت سےکمیٹی فیصلہ کرے گی۔اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کر دیا جائے۔رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی بھی شہری پبلک پٹیشن کمیٹی کو ارسال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی فورم ہے اور یہ فورم عوامی مسائل کو سن سکتا ہے ۔عراق میں اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں کو تین سے چار سو ڈالر میں نوکریوں پر رکھا جاتا ہے۔

    سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔پاکستانی شہریوں سے عراق پہنچنے پر پاسپورٹ ضبط کیا جاتا ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ زائرین واپس پاسپورٹ لینے کے لیے بھی نہیں آتے۔جس پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ پاکستانی پاسپورٹ کی بےعزتی ہو رہی ہے۔اس حوالے سے متعلقہ وزارتوں کو اقدامات اٹھانے چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے اس معاملہ پرتفصیلی بحث کی۔سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام وزارت اوورسیز میں آجائیں تاکہ ایک مشترکہ گائیڈ لائن بنائی جا سکے اور درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔وزارت خارجہ امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔بیورو آف امیگریشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے وزارت اوورسیز کو ہدایت کی کہ وہ وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو حل کریں۔

    او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 سال پہلے 543 ملین آئسکو کو ادا کیے گئے تھے مگر سوسائٹی کے لیے علیحدہ سے گرڈاسٹیشن ابھی تک نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سکول پارک اور بجلی دستیاب نہیں ہیں اور ابھی تک اس معاملہ کو ترجیح بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکا۔جس پر ایم ڈی او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی کی ٹوٹل زمین میں سے450 کنال اراضی 1992 سے تنازعات کا شکار ہے جو کہ ابھی تک سوسائٹی میں شامل نہیں ہو سکی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر زیشان خانزادہ نے کہا کہ سوسائٹی کی تنازعات والی اراضی کے معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ سوسائٹی میں ڈویلپمنٹ اور دوسرے تعمیراتی کام جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔

    ایم ڈی اے او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک وہاں پر آبادی نہیں ہے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے جو کہ پاکستان کو سالانہ 32 ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سوسائٹی میں آبادی نہیں ہو رہی لہذا سہولیات میں بہتری لائی جائے۔اراکین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری طور پر کام کر رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیز کا اس پر اعتماد ہے کہ انہیں بہترین سہولیات ملیں گی لیکن یہ سوسائٹی مسائل سے دو چار ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی وارا کین کمیٹی نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں آئیسکو، ایس این جی پی ایل کے حکام کو طلب کر لیا تاکہ وہ اس معاملہ پر کمیٹی کو مفصل بریفنگ دیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اوورسیز ہاؤسنگ سوسائٹی میں کتنے پلاٹ اہل لوگوں کو الاٹ کیے گئے اور کتنے پلاٹ قواعدو ضوابط سے ہٹ کر الاٹ کیے گئے کی تفصیل کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دی جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ضمیر حسین گھمرو، راجہ ناصر عباس،گردیپ سنگھ اور شہادت اعوان کے علاؤہ متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    ماہرین آثار قدیمہ نے عراق میں اسلامی تاریخ کی ایک اہم ترین جنگ کے درست مقام کو شناخت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”سی این این“ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور عراق کی القادسیہ یونیورسٹی کے ماہرین نے امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی ڈی کلاسیفائی تصاویر کے ذریعے اس مقام کو شناخت کیاانہوں نے جنگ قادسیہ کے مقام کو دریافت کیا اور اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے۔

    636 یا 637 عیسوی میں ہونے والی یہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے جس کے بعد جزیرہ نما عرب سے باہر مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ ایران کی سرزمین کے مالک بن گئےیہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے مگر اب تک اس کے درست مقام کا علم نہیں تھا۔

    تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تاریخی مقامات کا نقشہ بنانے پر کام کر رہے ہیں اور اس دوران یہ دریافت ہوئی، انہوں نے آغاز میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے درمیان سفر کرنے والے عازمین کے راستے کا نقشہ تیار کیا اور اس کے لیے 1970 کی دہائی میں امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی کھینچی گئی تصاویر اور تاریخی مسودوں کو استعمال کیا، اس کام کے دوران انہیں احساس ہوا کہ وہ اسی طریقہ کار کے ذریعے جنگ قادسیہ کے مقام کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔

    ڈرہم یونیورسٹی کے ماہر ولیم ڈیڈمین نے بتایا کہ ‘مجھے لگا تھا کہ یہ کوشش کرکے اس مقام کو دریافت کرنے کا بہترین موقع ہے، سب سے پہلے انہوں نے نقشے پر تاریخی داستانوں میں بیان کیے گئے راستوں کے گرد دائرے بنائے اور پھر ان جگہوں کی سیٹلائیٹ تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا، وہ داستانوں میں بیان کیے گئے ایک قلعے اور دیوار کو دریافت کرکے دنگ رہ گئے اور شروع میں انہیں یقین ہی نہیں آیا۔

    القادسیہ کی لڑائی میں ایک چھوٹی عرب مسلم فوج نے ساسانی سلطنت کی ایک بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی جس کا اس خطے پر غلبہ تھا، چند ناکام کوششوں کے بعد، یہ مسلمانوں کی عرب سے باہر پھیلنے کی کوششوں میںپہلی ”واقعی اہم فتح“ تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 6 میل (9.7 کلومیٹر) طویل دیوار کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو چکا ہے یا اسے زرعی حدود میں شامل کر دیا گیا ہے، اور الذہیب میں قدیم فوجی چوکی کی جگہ پر کی گئی کھدائی دکھائی دیتی ہے۔

    یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں اسلامک اسٹڈیز کے لیکچرر مصطفی بیگ، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس تلاش کو ”بہت اہم“ قرار دیا بیگ نے سی این این کو بتایا کہ مسلم فوج بہت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود بہادری اور شاندار حکمت عملی کے امتزاج کی بدولت غالب آئی،فیصلہ کن جنگ نے ساسانی سلطنت کے خاتمے اور میسوپوٹیمیا، فارس اور اس سے آگے مسلمانوں کی سرزمین کے پھیلنے کا راستہ بنایا۔‘

    تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ تاریخی جنگ کوفہ کے جنوب میں 19 میل دور ہوئی تھی، اس جنگ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیرقیادت مٹھی بھر مسلمانوں نے ساسانی سلطنت کی بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی اب یہ زرعی خطہ ہے اور 6 میل طویل دیوار کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا ہے یا وہ دیوار زرعی زمینوں کا حصہ بن چکی ہے، جنگ کا مقام دریافت کرنے کے بعد محققین نے وہاں جاکر سروے کرنے اور تاریخی آثار کا نقشہ بنانے کی منصوبہ بندی کی مگر مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

  • انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    انقرہ میں حملہ: ترکیہ کی عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری

    انقرہ میں دفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے ردعمل میں ترکیہ نے عراق اور شام میں کردعسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پربمباری کردی۔

    باغی ٹی وی : ترک میڈیا کے مطابق ترکیہ کی جوابی کارروائی میں کرد عسکریت پسندوں کے 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہےدفاعی کمپنی کے ہیڈ کوارٹر پر حملے میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے اراکین کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔

    ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یارلیکایا کا کہنا تھا کہ حملہ آور ایک خاتون اور مرد کو ماردیا گیا ہے، دہشتگردوں کے حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے،حملے میں ملوث دہشتگردوں کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    ترک میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں کمپنی میں کوالٹی کنٹرول کا افسر، مکینیکل انجینئر، ملازم ، سکیورٹی گارڈ اور ٹیکسی ڈرائیور شامل ہیں حملہ ایسے وقت کیا گیا جب سکیورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی تبدیل ہوئی تھی، حملہ آور ٹیکسی میں سوار ہوکر آئے تھے۔

    حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح مرد اور خاتون ترکیہ کی ائیروسپیس انڈسٹریز کے ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی،عمارت سے دھماکے کی آواز بھی سنائی دی گئی تھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلح افراد کے داخل ہونے سے پہلے عمارت کے دروازے پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔

    آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس ملی جوش و خروش کے …

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    بیروت: اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں عراقی گروہ بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا،عراقی گروہ بھی شامل ہو گئے، عراقی گروپ آئی آر آئی نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغ دیے جب کہ اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کردی۔

    "العربیہ ” کے مطابق ایران کے وفادار عراقی دھڑوں کی جانب سے اتوار کو اعلان کرنے کے بعد کہ انہوں نے اسرائیل میں ایک "اہم ہدف” کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیل نے عراق سے بھیجے گئے ڈرونز کو جو طبریا اور بیسان پہنچ گئے تھے کو تباہ کردیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار میں سے دو ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے شمالی وادی اردن میں اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اسرائیلی فضائیہ نے ایک کروز میزائل کو بھی ناکارہ بنا دیا۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے عراق سے داغے گئے ڈرون کا سراغ لگایا اور ڈرون نے شام کی سمت سے اسرائیلی سرحد عبور کی جس کے بعد اس پر کئی انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے، فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے وفادار عراقی دھڑوں نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کے ذریعے آج پانچویں مرتبہ اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے، دھڑوں نے کہا کہ انہوں نے وادی اردن کے علاقے میں ایک اسرائیلی ٹارگٹ پر "الارفد” ڈرون کے ساتھ حملہ کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری کارروائیاں مزید بڑھیں گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے عراق سے آنے والے دو مشکوک فضائی اہداف کو بغیر کسی جانی نقصان کے روک دیا۔ اس نے گولان کے اوپر سے ایک میزائل اور ایک ڈرون کو روکا جو عراق سے اڑے تھے۔

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ …

    ادھر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ نے نئے اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا پہلی بار استعمال کیا ہے، حزب اللہ کے مطابق وقفے وقفے سے 100 سے زائد راکٹ ساحلی شہر حیفا کی طرف داغے گئے ہیں،اس کے علاوہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائلوں سے حملوں کا اعلان کیا ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفہ پر 85 راکٹ حملے کیے گئے، راکٹ حملوں سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ لبنان پر حملوں میں استعمال ہونے والے رمات ڈیوڈ ائیر بیس اور اسرائیلی ٹیک کمپنی رفائیل کو نشانہ بنایا گیا،اس کے علاوہ حیفہ شہر میں کئی گھر اور گاڑیاں بھی ان راکٹوں کا نشانہ بنی ہیں، 24 گھنٹوں میں لبنان پر اسرائیل نے 400 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب