Baaghi TV

Tag: عراق

  • تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی

    تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی

    سعودی عرب نے اپنی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یہ کارروائی امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مکمل تعاون اور رابطے کے ساتھ انجام دی گئی،سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت کی مسلح افواج نے عراق میں ان اہداف کو نشانہ بنایا جو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث عناصر سے منسلک تھے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی رائل فضائیہ نے عراق میں چار مقامات پر حملے کیے ان میں بصرہ، واسط، کربلا اور نینوی کا میدان شامل ہے سعودی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود ایران نواز ملیشیا مسلسل سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے جن کو اب جواب دیا جا رہا ہےیہ کارروائی قومی سلامتی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی خودمختاری، شہریوں اور اہم قومی تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے بھی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل حق دفاع خود کے مطابق کیا گیا ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے عراق سے ڈرون حملے کر کے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جس کے بعد یہ محدود اور ہدفی کارروائی کی گئی،مملکت خطے میں کشیدگی بڑھانے کی خواہاں نہیں تاہم اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

  • عراق کی پاکستان کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی پیشکش

    عراق کی پاکستان کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی پیشکش

    عراق کے قونصل جنرل ڈاکٹر ماہر مجاہد جیجان نے کہا کہ پاکستان اور عراق کو دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو نمایاں طور پر فروغ دینا چاہیے۔

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کراچی چیمبر پر زور دیا کہ وہ تاجروں کے وفود عراق بھیجے تاکہ پاکستانی کاروباری برادری وہاں ہونے والی معاشی اور بنیادی ڈھانچے کی غیرمعمولی ترقی کا خود مشاہدہ کر سکے اور سرمایہ کاری و تجارت کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکے کراچی میں عراقی قونصل خانے کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، تاہم موجودہ اقتصادی روابط اب بھی دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔

    ڈاکٹر ماہر مجاہد جیجان نے بتایا کہ کراچی سے عراق کو چاول، سمندری خوراک، پھل، غذائی مصنوعات اور ادویات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو کراچی میں عراق کی سفارتی موجودگی کی بحالی کے بعد ممکن ہوا ہے،انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کے تبادلوں اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے تجارت، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شراکت داری کو نئی وسعت ملے گی، جس سے پاکستان اور عراق کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

  • ٹرمپ کا عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان

    ٹرمپ کا عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان کر دیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ان کا استقبال کیا اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق کے ساتھ متعدد بڑے معاہدے کرے گا جن میں تیل کے شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی امریکی کمپنیوں کے ذریعے عراق سے تیل نکالنے اور دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے عراق اپنے تیل کے وسیع ذخائر کے باعث بے پناہ معا شی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا دونوں ممالک کے درمیان ایسے معاہدے کرے گا جن سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ عراق سے بہت زیادہ تیل نکالا جائے گا اور یہ کام زیادہ تر امریکی کمپنیاں انجام دے رہی ہیں معاہدوں سے امریکا اور عراق دونوں کو اقتصا دی فوائد حاصل ہوں گے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد فیس واپس لے رہے ہیں اور اس 20 فیصد فیس کو تجارتی اور سرمایہ کا ری کے معاہدوں سے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے خلیجی ممالک بدلے میں امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے بعد فیس واپس لینے کا فیصلہ کیا امریکا دوبارہ جیت رہا ہے اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دوبارہ بحری ناکہ بندی کرنے کا بھی اعلان کر دیا انہوں نے کہا کہ مجھے مختلف ممالک کے رہنماؤں کی فون کالز موصول ہوئیں، اور سعودی عرب، قطر، بحرین اور یو اے ای کے رہنماوں سے گفتگو ہوئی رہنماؤ ں نے کہا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے خلیجی ریاستیں امریکا میں سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہیں تو یہ ز یادہ بہتر ہے کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے فیس وصول کر نے کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔ اور مجھے بھی آبنائے ہرمز کے استعمال پر فیس وصول کرنے کا تصور پسند نہیں ہے عراق کو مدد کی ضرورت ہوئی تو امریکا موجود ہو گا جبکہ میں نے ایران کو معاہدہ کر کے ایک موقع دیا۔

  • شہید علی خامنہ ای کو آج سپردِ خاک کیا جائے گا

    شہید علی خامنہ ای کو آج سپردِ خاک کیا جائے گا

    ایران کے سابق سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو آج ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جہاں ان کی تدفین روضۂ امام رضاؓ کے احاطے میں کی جائے گی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق شہید علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے سلسلے میں ایران اور عراق میں کئی روز سے جاری سوگ اور مذہبی رسومات اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں عراق سے ایران روانہ کیے جانے سے قبل نجف اور کربلا میں آخری مذہبی رسومات ادا کی گئیں نجف میں روضۂ حضرت علیؓ پر لاکھوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی، جس کےبعد جسدِ خاکی کو کربلا منتقل کیاگیاجہاں روضۂ امام حسینؓ پر بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

    ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ کربلا میں نکالے گئے جنازے کے جلوس میں تقریباً 40 لاکھ سوگوار شریک ہوئے، جبکہ روضۂ امام حسینؓ پر رات بھر فاتحہ خوانی، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا، تاہم اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی،عراق میں مذہبی رسومات کی تکمیل کے بعد میت کو ایران منتقل کیا گیا، جہاں آج مشہد میں روضۂ امام رضاؓ کے احاطے میں سرکاری اعزاز اور مذہبی رسومات کے ساتھ تدفین کی جائے گی،اس موقع پر ایران بھر سے لاکھوں عزاداروں کی مشہد آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے

  • ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔

    بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

  • فٹبال ورلڈ کپ 2026:عراق کی قومی ٹیم کی  40 سال بعدپہلی بار شرکت کیلئے  ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی

    فٹبال ورلڈ کپ 2026:عراق کی قومی ٹیم کی 40 سال بعدپہلی بار شرکت کیلئے ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی

    عراق کی قومی فٹبال ٹیم 40 سال بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کےلئےامریکی ریاست ’ویسٹ ورجینیا‘ پہنچ گئی۔

    ٹیم کی قیادت کوچ گراہم آرنالڈ کر رہے ہیں ٹیم نے ویسٹ ورجینیا میں اپنے بیس کیمپ میں پہنچ کر ٹریننگ شروع کر دی ہے، کھلاڑیوں نے بھرپور پریکٹس سیشن کیا،گروپ آئی میں موجود عراقی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ 16 جون کو ناروے کے خلاف کھیلے گی گروپ میں عراق کے ساتھ عالمی چیمپئن فرنس اور سینیگال کی ٹیمیں بھی شامل ہیں، جس کے باعث گروپ مرحلہ انتہائی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ عراق اس سے قبل صرف ایک بار 1986 میں میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شریک ہوا تھا جہاں اسے اپنے گروپ کے تمام میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

  • ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل  سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    ایران کیساتھ تعاون کا الزام :امریکا نے عراقی وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے-

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئےعراقی تیل کو ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے فائدے کے لیے منتقل کرنے میں معاونت کرتے رہے ہیں۔

    واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔

    امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔ یہ کارروائیاں ایران کے تیل اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھانے کی وسیع حکمت عملی ’اکانومک فیوری‘ کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایران کو مالی وسائل تک رسائی سے روکنا ہے امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے، اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

  • عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق میں امریکی ملٹری بیس پر راکٹ حملہ، عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو آگ لگ گئی

    عراق کے دارالحکومت بغداد میں راکٹ فائر کے زور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں-

    الجزیرہ کے مطابق یہ راکٹ امریکی فوج کے زیرِ استعمال وکٹری بیس کو نشانہ بنا کر داغے گئے، جو بغداد سے تقریباً 20 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے فضائی دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں ایک ’اے 32 بی‘ عراقی اسپیشل فورسز کے ٹرانسپورٹ طیارے کو نشانہ بنایا گیا اور وہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا یہ پہلا موقع ہے کہ وکٹری بیس کو اس طرح براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے تاہم اس وقت اس اڈے پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ امریکا پہلے ہی اس فوجی تنصیب کو خالی کر چکا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ حملہ زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، کیونکہ عراق پر امریکی حملے کے عروج کے دوران یہی علاقہ ملک کا سب سے محفوظ اور سخت سیکیورٹی والا مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن اب اسی جگہ پر حملہ ہونا سیکیورٹی صورتحال میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

    دوسری جانب کرد خودمختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہاں موجود فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو بروقت تباہ کر دیا۔

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر  ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

    بغداد:امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

    الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں،تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

  • امریکی محکمہ دفاع نےعراق  میں طیارے حادثے میں ہلاک  ہونیوالے  6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نےعراق میں طیارے حادثے میں ہلاک ہونیوالے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی

    امریکی محکمہ دفاع نے ان 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو 12 مارچ کو عراق میں ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے مطابق ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں ان کے نام یہ بتائے گئے ہیں:جان اے کلنر، آریانا جی ساوینو، ایشلے بی پروئٹ، سیٹھ آر کووَل، کرٹس جے اینگسٹ، اور ٹائلر ایچ سمنز،یہ سب کے سی 135 طیارے کے عملے میں شامل تھے یہ ایندھن بردار طیارہ ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔

    پینٹاگون نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں امریکہ اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ طیارہ نہ تو دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا تھا اور نہ ہی دوست فوج کی فائرنگ اس حادثے کا باعث بنی۔

    ایرانی حملوں کی 51 ویں لہر:سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں کی بارش

    اسرائیلی حملے میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل عبداللہ جلالی شہید

    پاکستان امت میں اتحاد اور امن کی علامت بن کر ابھر رہا ہے ،خالد مسعود سندھو