Baaghi TV

Tag: عراق

  • بغداد میں دھماکہ، فٹبال کھلاڑیوں سمیت 10 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    بغداد میں دھماکہ، فٹبال کھلاڑیوں سمیت 10 افراد جاں بحق متعدد زخمی

    بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد میں دھماکے میں 10 افراد جاں حق جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں فٹبال اسٹیڈیم اور کیفے کے قریب ایک گیراج میں کھڑی گاڑی میں ہوا، جس کے باعث 20 افراد زخمی ہوئے جب کہ دس لقمہ زندگی کی بازی ہار گئے-

    جنوبی کوریا :ہیلووین کی تقریب میں بھگدڑ سے ہلاکتوں کی تعداد 151 ہو گئی،355 لاپتہ

    سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد گیراج میں کھڑی گاڑی میں نصب تھا جس نے قریب موجود گیس ٹینکر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جو دھماکے کی شدت میں اضافے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا باعث بنا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں فٹبال کھیلنے والے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

    امریکا نے ملعون سلمان رشدی کے سرپرانعام رکھنے والی ایرانی تنظیم پر پابندی عائد…

    ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ گیس ٹینکر ایک گیراج میں پھٹ گیا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز مزید تفصیلات بتائے بغیر دھماکے کی وجہ کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

    اے ایف پی نیوز ایجنسی کے نمائندے نے بتایا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے اڑ گئے اور علاقے میں موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    یہ دھماکہ عراق کی پارلیمنٹ کی جانب سے طویل انتظار کے بعد نئی کابینہ کی منظوری کے دو دن بعد ہوا ہے، جس سے ملک بھر میں سیاسی تناؤ کو کم کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی کی سربراہی میں 2005 کے بعد پہلی کابینہ ہے جس میں بااثر شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے بلاک کی نشستیں شامل نہیں ہیں۔

    فلپائن میں لینڈ سلائڈنگ اور سمندری طوفان سے 72 افراد ہلاک ، سینکڑوں لاپتہ

    بغداد اور پورے جنوبی عراق میں اکتوبر 2019 میں شروع ہونے والے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے جواب میں عراق میں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل قبل از وقت انتخابات ہوئے مظاہرین نے 2003 میں امریکی قیادت میں حملے کے بعد قائم ہونے والے سیاسی نظام کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

  • عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ملزم فرار کی کوشش میں ائیر پورٹ سے گرفتار

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ملزم فرار کی کوشش میں ائیر پورٹ سے گرفتار

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری میں ملوث تاجرکو ائیر پورٹ پر فرار ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : عراقی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق عراقی سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز ایک تاجر کو 2.5 ارب ڈالر کے ٹیکس فنڈز کی "چوری” میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری: عدالت نے فنانس کمیٹی کے رکن کو طلب کر لیا

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ عراق چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    وزیر داخلہ عثمان الغنیمی کی جانب سے جاری بیان میں مزید بتایا گیا کہ نور زہیر جاسم کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک نجی طیارے کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    سرکاری سالمیت کمیشن نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص کمپنی ’’المبدعون‘‘ آئل سروسز لمیٹڈ کا ڈیلیگیٹڈ ڈائریکٹر ہے اور وہ رافدین بنک کی برانچوں میں جمع ٹیکس ڈیپازٹس کی چوری میں ملوث ملزمان میں سے ایک ہے۔

    سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    واضح رہے کہ ٹیکس اتھارٹی کے جاری کردہ ایک سرکاری خط میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2.5 ارب ڈالر ستمبر 2021 اور اگست 2022 کے درمیان سرکاری بنک ’’رافدین‘‘ سے 247 چیکس کے ذریعہ نکالے گئے تھے۔ یہ چیک پانچ کمپنیوں کو جاری کئے گئے تھے۔

    تجارتی کمپنیاں اور حکومت کے ساتھ لین دین کرنے والے افراد کو ایک مخصوص رقم جمع کروانے کی ضرورت ہے، جس سے ٹیکس بعد میں کاٹا جائے گا اس کے بعد، کمپنیاں اور لوگ اپنے ڈپازٹس سے جو بچا ہوا ہے اسے نکالنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

    عدلیہ نے اس معاملے پر ٹیکس اتھارٹی کے متعدد عہدیداروں کے بیانات سنے تھے، اور ان کمپنیوں کے مالکان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے تھے جن پر فنڈز نکالنے کا الزام تھا۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے "پرسیپشنز آف کرپشن” انڈیکس میں عراق کا نمبر 180 میں سے 157 ہے۔ عراق کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں بدعنوانی کے معاملات میں استغاثہ اکثر ثانوی عہدوں پر تعینات اہلکاروں کو نشانہ بناتا ہے۔

    امریکی صدراپنے ہی باغ میں کھو گئے،وائٹ ہاؤس کا راستہ کدھر ہے؟گارڈز سے استفسار،ویڈیو وائرل

    عراق کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی جینن بلاسچارٹ نے اکتوبر کے اوائل میں کہا تھا کہ "عراق میں رشوت ستانی اداروں میں بدعنوانی کی بڑی وجہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ میں سچ کہوں تو کوئی بھی رہنما اس سے محفوظ رہنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

  • عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری: عدالت نے فنانس کمیٹی کے رکن کو طلب کر لیا

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری: عدالت نے فنانس کمیٹی کے رکن کو طلب کر لیا

    گزشتہ دنوں عراق میں ٹیکس اتھارٹی کے سیکرٹریٹ سے اڑھائی ارب ڈالر کی چوری نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اڑھائی ارب ڈالر کی چوری کے اس کیس سے متعلق نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : کرخ کی تحقیقاتی عدالت نے گزشتہ دنوں ایوان نمائندگان میں فنانس کمیٹی کے ایک رکن کو طلب کر لیا اڑھائی ارب ڈالر کی اس چوری کو ’’ صدی کی چوری‘‘ کہا گیا ہے۔

    بھارت کے خاتون صحافی کو امریکی سفر سے روکنے پر امریکا کا ردعمل

    عدالت نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اس نے گزشتہ پارلیمانی اجلاس کے لیے ایوان نمائندگان میں فنانس کمیٹی کے ایک رکن کو ’’ صدی کی چوری‘‘ کے معاملہ میں جان بوجھ کر ریاستی فنڈز کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

    بیان میں کہا گیا کہ سابق نائب نے ریگولیٹری اتھارٹیز کے آڈٹ مکمل کرنے سے پہلے ٹیکس ڈپازٹس کی ادائیگی کی سفارش جاری کرکے قانون کی خلاف ورزی کی۔

    3.7 ٹریلین دینار (2.5 بلین ڈالر) کے ٹیکس انشورنس فنڈز کی چوری کا مسئلہ عراق میں رائے عامہ کے خدشات میں سرفہرست رہا۔

    کیس کی تقریباً 40 صفحات پر فائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افسانوی چوری، جو کہ 5 فرضی کمپنیوں نے کی تھی، ٹیکس اتھارٹی اور "الرافدین بینک” کے اہلکاروں اور ملازمین نے ریاست اور ایوان نمائندگان کے سینئر حکام سے ملی بھگت کرکے کی تھی۔

    گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے اعلان کیا کہ درجنوں سینئر سرکاری ملازمین کو اس کیس کی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں عراق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جینین ہینس پلاسچارٹ نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 2.5 بلین ڈالر کی وصولی کریں جو ملک کو ہلا دینے کے لیے تازہ ترین بدعنوانی کے اسکینڈل میں ٹیکس کے جنرل کمیشن سے غبن کیے گئے تھے۔


    اس کیس کا انکشاف ہفتہ کو وزیر تیل احسان عبدالجبار نے کیا، جنہوں نے اس وقت تحقیقات کا حکم دیا جب وہ قائم مقام وزیر خزانہ تھے۔ تحقیقات سے متعلق دستاویزات میڈیا پر لیک ہو گئیں تھیں-

    اندرونی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کمیشن کی طرف سے 3.7 ٹریلین عراقی دینار (تقریباً 2.5 بلین ڈالر) دھوکہ دہی سے پانچ کمپنیوں کو ادا کیے گئے۔

    یہ رقم 9 ستمبر 2021 سے 11 اگست 2022 کے درمیان 247 چیکوں کے ذریعے ادا کی گئی، جو سرکاری طور پر چلنے والے Rafidain بینک میں کمیشن کے اکاؤنٹ سے تھی کم از کم تین کمپنیاں جولائی 2021 میں قائم کی گئی تھیں، رجسٹریشن دستاویزات کے مطابق جو کیس کے افشا ہونے پر سامنے آیا تھا۔

    تجارتی کمپنیاں اور حکومت کے ساتھ لین دین کرنے والے افراد کو ایک مخصوص رقم جمع کروانے کی ضرورت ہے، جس سے ٹیکس بعد میں کاٹا جائے گا اس کے بعد، کمپنیاں اور لوگ اپنے ڈپازٹس سے جو بچا ہوا ہے اسے نکالنے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

    سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ جینین ہینس نے پیر کی شام ٹویٹر پر کہا تھا کہ ان فنڈز کو بازیافت کریں اور انہیں ان کے صحیح مالکان کو واپس کریں اس کی تحقیقات میں حکومت عراق کی مدد کریں۔ بے نقاب کرنے والوں کی حفاظت کریں۔ احتساب کو یقینی بنائیں-

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ سے تباہ حال ملک کو فنڈز کی اشد ضرورت ہے۔

    "عراق اپنے کھوئے ہوئے اربوں ڈالر کا کیا کر سکتا ہے؟ سکولوں، ہسپتالوں، توانائی، پانی، سڑکوں وغیرہ میں سرمایہ کاری کریں۔

    انٹیگریٹی کمیشن بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے سرکاری ادارے یا عدلیہ سے مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ دونوں اپنی اپنی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا تھا کہ بغداد کی ایک عدالت اگست سے اس مقدمے کی تحقیقات کر رہی تھی اور اس نے اس مقدمے کے پیچھے لوگوں کو "بااثر شخصیات سے منسلک ایک منظم نیٹ ورک” قرار دیا۔

    کونسل نے کہا تھا کہ متعدد افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اور عدالت نے وزارت خزانہ کے کچھ ملازمین کے شواہد سنے ہیں۔

    سوڈان کی اوپیک پلس کے فیصلے پر سعودی عرب کی حمایت

    جوڈیشری کونسل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنرل کمیشن آف ٹیکسز کے جنرل ڈائریکٹر منگل کو اپنے نائب اور سینئر حکام کے ساتھ جج کے سامنے پیش ہوئے حکام نے کمپنیوں کے مالکان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں اور ان کے اکاؤنٹس کو ضبط کر لیا ہے۔

    ملک کے سیاسی حریف، جنہوں نے گزشتہ ایک سال حکومت سازی پر جھگڑے میں گزارا، ایک دوسرے پر مبینہ طور پر جعلی کمپنیاں قائم کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں عراق کے نامزد وزیر اعظم محمد شیعہ السودانی نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح بنانے کا عزم کیا۔

    شیعہ السودانی نے اتوار کے روز ٹویٹ کیا تھا کہ ہم اس بدعنوانی کو روکنے کے لیے حقیقی اقدامات کرنے سے کبھی نہیں ہچکچائیں گے جو ریاست اور اس کے اداروں کے جوڑوں میں اتنی ڈھٹائی سے پھیل چکی ہے۔”

    ہم نے اس فائل کو اپنے پروگرام کی پہلی ترجیح میں رکھا ہے اور ہم عراقیوں کے پیسے کو چوری ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، جیسا کہ جنرل اتھارٹی برائے ٹیکسز کے فنڈز کے ساتھ Rafidain Bank میں ہوا ہے۔”

    ایتھوپیئن ایئر لائنز کی پرواز بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی

    واضح رہے کہ عراق میں 2003 میں امریکی قیادت میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے بدعنوانی عروج پر ہے۔ بہت سے سیاست دانوں کو اس عمل کی وجہ سے گرفتار یا عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے عراق کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2021 کرپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 157 ویں نمبر پر تھا۔

    تازہ ترین کیس 2003 کے بعد سب سے بڑا کیس ہے 2005 میں، حکام نے سابق وزیر دفاع حازم الشعلان اور 10 سے زائد اہلکاروں کے ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے ایک بڑے فراڈ کیس میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

    اس کے بعد تفتیش کاروں کا خیال تھا کہ اس رقم کو، جس کا مقصد اسلحہ خریدنا تھا، اسے تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیتے ہوئے، نقد رقم میں بیرون ملک منتقل کیا گیا مسٹر الشعلان، جو تب سے ملک سے فرار ہو چکے ہیں، نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    پاکستان کےایف 16 طیاروں کی مرمت کیلئےامریکی پیکج میں اہم پیشرفت

  • پی آئی اے کی نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا

    پی آئی اے کی نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگیا

    کراچی :پی آئی اے نے اعلان کیا تھا کہ عاشورہ محرم کے موقع پر عراق کے شہر نجف جانے والے زائرین کیلئے آج سے 7 خصوصی پروازیں چلائے گا۔اس سلسلے میں عراق کے شہر نجف کےلیے پی آئی اے کی پروازیں شروع ہوگئی ہیں

    قومی ایئر لائن پی آئی اے نے محرم الحرام کے موقع پر زیارتوں کیلئے عراق جانے والے پاکستانیوں کیلئے اپنی پروازوں کے شیڈول کو حتمی شکل دے دی۔

     

    پی آئی اے کو بہت جلد عالمی معیار کی فضائی کمپنی بنادیں گے:خواجہ سعد رفیق

    شیڈول کے مطابق یہ خصوصی پروازیں کراچی سے نجف کیلئے روانہ ہوں گی، زائرین کی سہولت کیلئے دیگر شہروں سے رابطہ پروازیں بھی چلائی جائیں گی،ذرائع کے مطابق مذکورہ خصوصی پروازوں کے باقاعدہ سلسلے کا آغاز آج 2 اگست بروز منگل سے شروع ہوچکا ہے اور 7 اگست تک جاری رہے گا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق قومی ادارہ اپنی روایات کے مطابق زائرین کو حتی الامکان تمام سہولیات فراہم کرے گا، پی آئی اے عاشورہ کے ساتھ اربعین کیلئے بھی ایک منصوبہ رکھتا ہے

    پی آئی اے کے دو طیارے تصادم سے بچ گئے

    ترجمان پی آئی اے کا کہا ہے کہ قومی ادارہ اپنی روایات کے مطابق زائرین کو حتی الامکان تمام سہولیات فراہم کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ پروازیں کراچی تا نجف العشرف روانہ ہوں گی اور ملک کے دیگر شہروں سے آسان کنکشن فراہم کئے جائیں گے۔

    پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا اعلان

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پی آئی اے پر سال کی طرح اس سال بھی عاشورہ کے ساتھ ساتھ اربعین کیلئے پروازیں ترتیب دے رہا ہے، پروازوں پر زائرین کی بکنگ کا آغاز کردیا گیا۔

    نجف اشرف

    نجف اشرف عراق کے اٹھارہ صوبوں میں سے ایک ہے اور ان کا مرکز نجف اشرف کا شہر ہے اس شہر کے ہر گوشہ میں دینی ثقافت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

    نجف اشرف عراق کے دارالحکومت بغداد سے تقریبا 116کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 70میٹر ہے نجف اشرف کی شمالی اور شمال مشرقی سرحد کربلا سے ملتی ہے جبکہ کربلا کا شہر نجف سے تقریبا 80کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نجف اشرف کے جنوب اور مغرب میں خشک بحرِ نجف ہے۔

    عصر حاضر میں نجف وہ شہر ہے جو کوفہ کے ساتھ ملحق ہے پہلے پہل نجف نامی ایک قدیم عربی شہر مناذرہ کے قریب بھی ہوا کرتا تھا کہ جو حیرہ کے بادشاہوں کے زیر تسلط تھا۔ اسلامی فتوحات سے پہلے نجف میں صرف عیسائیوں کی عبادت گاہیں ہوا کرتی تھی البتہ جب سے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی آخری آرام گاہ نجف اشرف قرار پائی ہے اس وقت سے نجف اشرف کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی ہی برکت سے نجف اشرف ایک مقدس شہر کے طور پر پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور یہ بھی حضرت علی علیہ السلام کے مبارک وجود کی ہی برکت ہے کہ نجف عرصہ دراز سے دینی مرجعیت اور اہل علم کا مرکز ہے۔ نجف اشرف میں ہی کوفہ یونیورسٹی بھی ہے کہ جو عراق کی اہم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔

    نجف عربی کا لفظ ہے کہ جس سے مراد ایسی بلند جگہ ہے کہ جہاں پانی نہ پہنچتا ہو اور وہ جگہ پانی اور ساتھ والے مناطق کے لیے بند کا کام دے اور پانی کو ساتھ والے علاقوں میں نہ پہنچنے دے۔ عربی لغت میں نجف ٹیلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

    روایات میں نجف کے لیے زیادہ تر جو نام استعمال ہوئے ہے وہ نجف، غری اور مشہد ہیں۔

    ایک روایت میں ہے نجف ایک بہت بڑا پہاڑ تھا اور اسی پہاڑ کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام کے نافرمان بیٹے نے کہا تھا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور طوفان سے محفوظ رہوں گا لیکن خدا کے حکم سے یہ پہاڑ ٹوٹ گیا اور باریک ریت میں تبدیل ہو گیا۔ نجف کے ساتھ موجود سمندر کو ”نے” کہا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ سمندر خشک ہو گیا تو اسے ”نے جف” کہا جانے لگا۔ عربی میں جف خشک کو کہتے ہیں اسی وجہ سے “نے” کے خشک ہونے کے بعد اسے “نے جف” کہا جانے لگا یعنی خشک سمندر اور بعد میں یہی “نے جف” نجف میں تبدیل ہو گیا۔

    مسلمانوں کے نزدیک نجف ایک مقدس شہر ہے خاص طور پر شیعہ مسلمان اس شہر کو بہت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس شہر میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور بہت سے انبیاءعلیھم السلام دفن ہیں۔

    نجف. نسبتا ایک بڑا شہر ہے کہ جو ایک وسیع ریگستان کے بلند حصہ پر واقع ہے نجف کے شمال مشرقی حصہ میں گنبدوں اور قبور پر مشتمل وسیع و عریض قبرستان ہے، جبکہ مغربی حصہ میں خشک سمندر ہے۔ نجف آنے والے کو دور سے ہی حضرت رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کا گنبد نظر آتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرقد پرانے شہر کے درمیان واقع ہے پرانے شہر میں ہی حوزہ علمیہ، بہت سی لائبریریاں اور کتابوں کی دکانیں ہیں اور یہیں پر ہی سوق کبیر نامی قدیمی بازار بھی ہے کہ جو شہر کی پرانی حدود کے اعتبار سے شہر کی بیرونی مشرقی دیوار سے شروع ہو کر حرم سے جا ملتا ہے اس بازار میں سونے چاندی کے زیورات، جوہرات، کپڑے اور مٹھاہیوں کی دکانیں ہیں

  • عراقی مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے

    عراقی مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے

    بغداد:عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ سیاسی رہنما مقتدیٰ الصدر کے ہزاروں حامیوں نے ایران کے حمایت یافتہ امیدوار کی بطور وزیراعطم نامزدگی کے خلاف پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا۔

    جس وقت مظاہرین بغداد کے ہائی سیکیورٹی والے علاقے گرین زون میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہوئے اُس وقت وہاں اسمبلی کا کوئی رکن موجود نہیں تھا، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلے واٹر کینن اور اور سیمنٹ کے بلاکس کا استعمال کیا لیکن اسکے باوجود مظاہرین عمارت میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے۔

    مظاہرین کی جانب سے محمد شیعہ السوڈانی کی بطور وزیراعظم کے امیدوارنامزدگی پر احتجاج کیا جارہا ہے جو ایران کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں، عراق میں اکتوبر 2021 میں ہونے والے الیکشن میں مقتدیٰ الصدر 73 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے 329 رکنی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے گروپ کی حیثیت سے سامنے آئے تھے۔

    عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الخادمی نے مظاہرین سے فوری طور پر گرین زور خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور غیر ملکی سفارتخانوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

    پارلیمنٹ میں مظاہرین کے داخل ہونے کے کچھ دیر بعد مقتدیٰ الصدر نے اپنے حامیوں سے کہا کہ انہوں نے اپنے احتجاج کے ذریعے اپنا پیغام پہنچادیا ہے لہٰذا اب وہ پارلیمنٹ سے نکل جائیں جس کے بعد مظاہرین وہاں سے چلے گئے۔

  • کردستان : زاخو میں بمباری سے 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی

    کردستان : زاخو میں بمباری سے 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی

    بغداد:عراق کے علاقے کردستان میں ترکی کی بمباری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی، واقعے کے بعد عراق نے ترکی سے اپنے ناظم الامور کو واپس بلالیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق بدھ کو کردستان میں ترکی کی بمباری میں 9 شہری جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عراقی سیاح اور بچے شامل ہیں، عراق کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ حملے میں کردستان کے علاقے میں عراق اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر زاخو میں ایک پارک کو نشانہ بنایا گیا، کرد وزیر صحت نے بتایا مرنے والوں میں ایک سالہ بچے سمیت دیگر بچے بھی شامل ہیں۔

    ایرانی کردستان میں پاسداران انقلاب کا سینیر عہدیدارقاتلانہ حملے میں ہلاک

    حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص حسن تحسین علی نے ان حملوں کو اندھا دھند قرار دیا، اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے شہری نے کہا ہمارے نوجوان اور بچے مر چکے ہیں، ہم کس سے رجوع کریں؟۔ ہمارے پاس صرف خدا ہے۔

    واقعے پرعراق نے بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کرکے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ٹویٹ کیا کہ ترک افواج نے عراق کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔

    واقعے کے خلاف کربلا میں ترکی کے ویزا سینٹر پر لوگوں نے احتجاج کیا، مظاہرین کی جانب سے ترک پرچم نذر آتش کیا گیا جبکہ بغداد اور ناصریہ میں بھی مظاہرے ہوئے۔

    عراقی کردستان کے سرحد پردہشت گردوں کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کا آپریشن

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے، تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ سمیت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب ترکی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کی جانب سے کیا گیا ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی واقعے کی تحقیقات کے لئے ہر طرح تیار ہے۔

    کیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

  • عراق میں اچانک امریکی افواج کی نقل وحرکت میں اضافہ

    عراق میں اچانک امریکی افواج کی نقل وحرکت میں اضافہ

    امریکی فوج نے مبینہ طور پر شام کے شمال مشرقی صوبے حسقہ سے فوجی اور لاجسٹک آلات سے لدے ٹرکوں کا ایک نیا قافلہ شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان علاقے میں اپنے ایک اڈے پر بھیجا ہے۔جس کی وائرل ہونے والی تصاویر میں خطے میں امریکی افواج کی بڑےپیمانے پرنقل وحرکت پرتشویش کا اظہارکیاجارہاہے

    ایک عراقی سیکورٹی کا کہنا ہے کہ 20 سے زیادہ ہمر فوجی اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء اور رسد سے لدے ٹرکوں کا ایک قافلہ منگل کو عراق میں داخل ہوا۔ذرائع نے مزید کہا کہ یہ قافلہ شمال مشرقی شام کے ایک علاقے سے آیا تھا، جس پر نام نہاد سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے اتحادی عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ گاڑیاں کردستان کے علاقے شکلاوا ضلع میں واقع الحریر ایئر بیس کی طرف روانہ ہوئیں جب سیمالکا بارڈر کراسنگ سے گزریں۔بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑیاں مبینہ طور پر اوپر سے اڑ گئیں اور عراق میں فوجی قافلے کی حفاظت کی۔عراق کے مغربی صوبے الانبار میں عین الاسد ایئر بیس پر مبینہ طور پر ایک راکٹ حملہ ہوا ہے، تاہم ممکنہ جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ 2020 میں اعلی ایرانی انسداد دہشت گردی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے عراق میں امریکہ مخالف جذبات میں شدت آئی ہے۔

    ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل سلیمانی اور ان کے عراقی خندق ابو مہدی المہندس، پاپولر موبلائزیشن یونٹس کے نائب سربراہ کو ان کے ساتھیوں کے ساتھ 3 جنوری 2020 کو نشانہ بنایا گیا۔ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک دہشت گرد ڈرون حملے کی اجازت دی گئی۔

    حملے کے دو دن بعد، عراقی قانون سازوں نے ایک بل کی منظوری دی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں امریکہ کی قیادت میں تمام غیر ملکی فوجی دستوں کی موجودگی کو ختم کرے۔8 جنوری 2020 کوایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے حملوں کی ایک لہر شروع کرنے کے بعد عراق کے مغربی صوبے الانبار میں امریکی زیر انتظام عین الاسد کو نشانہ بنایا۔

    عراق کے انسداد دہشت گردی پاپولر موبلائزیشن یونٹس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مزاحمتی جنگجو ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی کارروائیاں اس وقت تک نہیں روکیں گے جب تک کہ تمام امریکی قابض فوجی عرب ملک سے پسپائی کو شکست نہ دے دیں۔پینٹاگون کے مطابق اس اڈے پر جوابی حملے کے دوران 100 سے زیادہ امریکی افواج کو "دماغی تکلیف دہ چوٹ” کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس اصطلاح کا استعمال ان امریکیوں کی تعداد کو چھپانے کے لیے کرتا ہے جو جوابی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

  • عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار

    ماہرین آثار قدیمہ نے پیر کو اعلان کیا کہ عراق میں شدید خشک سالی کے باعث دریائے دجلہ سے 3,400 سال پرانا شہر نمودار ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : کردستان آرکیالوجی آرگنائزیشن کے ماہرین آثار قدیمہ اور جرمنی کی یونیورسٹی آف فریبرگ اور یونیورسٹی آف ٹوبینگن کے ماہرین آثارقدیمہ کی ایک ٹیم نے وسیع شہرکے بڑے حصوں کی کھدائی کی جسمیں ایک محل، دیواروں اورمیناروں پرمشتمل بڑی عمارتوں، کثیر المنزلہ اسٹوریج بلڈنگ اور ایک صنعتی کمپلیکس دریافت کیا گیاجس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 2000 قبل مسیح کی میتنی سلطنت کا مرکز تھا۔

    عراقی قدیم شہر، کردستان کے علاقے میں ایک مقام پر واقع ہے جسے کیمون کے نام سے جانا جاتا ہے، جرمن اور کرد ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے دستاویز کیا تھا جرمنی کی فرائی برگ یونیورسٹی میں نزدیکی مشرقی آثار قدیمہ کی جونیئرپروفیسر اور تحقیقی ٹیم کی رکن ایوانا پلجز نے کہا کہ یہ بستی ممکنہ طور پر 1550 سے 1350 قبل مسیح کے درمیان مٹانی سلطنت کے دوران ایک اہم مرکز تھی۔

    فریبرگ یونیورسٹی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ عراق اور خاص طور پر ملک کا جنوبی حصہ مہینوں سے شدید خشک سالی سے متاثر ہے جس کی وجہ سے فصلوں کو خشکی سے بچانے کے لیے دسمبر سے موصل کے ذخائر سے بڑی مقدار میں پانی نکالا جا رہا ہے۔

    پانی کی سطح میں کمی کی وجہ سے عراقی کردستان کے کیمون خطے پر واقع کانسی کے زمانے کا شہر دوبارہ نمودار ہوا جو کئی دہائیوں پہلے ڈوب گیا تھا سائنسدانوں نےعراقی کرد علاقے دوہوک میں ڈائریکٹوریٹ برائے وادرات اور ورثہ کے تعاون سےشہرکا تجزیہ کیا یہ دریافت اس بات کی تازہ ترین مثال ہے کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے خشک سالی کے حالات غیر متوقع نتائج حاصل کر رہے ہیں-

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    پلجز نے کہا کہ چونکہ یہ شہر براہ راست دجلہ پر واقع تھا، اس لیے اس نے مٹانی سلطنت کے بنیادی علاقے، جو موجودہ شمال مشرقی شام میں واقع تھا، اور سلطنت کے مشرقی علاقے کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہو گا اس بستی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قدیم شہر زخیکو ہے، جو کبھی اس خطے کا سیاسی مرکز ہوا کرتا تھا۔

    محققین نے کہا کہ قلعہ بندی کی دیواریں کچھ جگہوں پر کئی میٹر اونچی کھڑی ہیں دھوپ میں خشک مٹی کی اینٹوں سے تعمیر ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر اچھی طرح سے محفوظ ہیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق، کانسی کے زمانے کا شہر ایک زلزلے میں تباہ ہو گیا تھا جس نے اس علاقے کو تقریباً 1350 قبل مسیح میں مارا تھا انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفت کی وجہ سے دیواروں کے اوپری حصے زیادہ تر بچ جانے والی عمارتوں کو دفن کرنے کا سبب بنتے ہیں، جو انہیں ہزار سال کے دوران نسبتاً اچھی حالت میں رکھتے ہیں۔

    کیمون کی کھدائی سے سیرامک ​​کے پانچ برتن بھی برآمد ہوئے جن میں 100 سے زیادہ گولیاں کینیفارم اسکرپٹ میں لکھی ہوئی تھیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدیم خط و کتابت کی کچھ شکلیں ہو سکتی ہیں، جو کہ اس خوفناک زلزلے کے فوراً بعد مشرقِ آشوری دور کی ہیں۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

    یہ ایک معجزہ کے قریب ہے کہ غیر فائر شدہ مٹی سے بنی کینیفارم گولیاں اتنی دہائیوں تک پانی کے اندر زندہ رہیں،” جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبینگن کے شعبہ قریبی مشرقی آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر پیٹر فلزنر اور تحقیقی ٹیم کے ایک رکن نے ایک بیان میں کہا۔

    پلجز نے کہا کہ سائنس دان قدیم شہر کے بارے میں کچھ عرصے سے جانتے ہیں، لیکن 1980 کی دہائی میں موصل ڈیم کی تعمیر کے بعد سے یہ جگہ مسلسل زیر آب ہے۔

    خطے میں خشک سالی نے مختصراً 2018 میں بستی کا ایک حصہ دوبارہ سر اٹھانے کا سبب بنا، جس سے پلجز اور اس کی ٹیم کو محل کے کچھ حصوں کی کھدائی کرنے کا موقع ملا۔ اس فیلڈ ورک کے دوران ہی اس نے کہا کہ اسے شک ہونے لگا کہ یہ ڈھانچہ کیمون کے ایک بہت بڑے شہر کا حصہ ہے۔

    آسٹریلوی سائنسدان کا "برمودا ٹرائی اینگل”کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    انہوں نے کہا یہ دسمبر 2021 کے وسط تک نہیں تھا کہ موصل کے آبی ذخائر کی سطح حیرت انگیز طور پر تین سالوں میں پہلی بار گر گئی۔” "میرے ساتھی اور میں فوراً جان گئے کہ ہمارے پاس اس موقع کو کھونے کا وقت نہیں ہے۔

    قدیم بستی کو محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے، ماہرین آثار قدیمہ نے کھنڈرات کو پلاسٹک کی کوٹنگ سے ڈھانپ دیا اور اس جگہ کو بجری سے بھر دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بغیر پکی ہوئی مٹی کی دیواروں کی حفاظت کرے گی فروری سے ڈیم میں پانی کی سطح بتدریج بڑھ رہی ہے، اور شہر اب دوبارہ ڈوب گیا ہے۔

    "یہ مکمل طور پر غیر متوقع ہے کہ یہ کب دوبارہ سر اٹھائے گا صرف ایک چیز جو یقینی ہے کہ وقت آنے پر میں اور میرے ساتھی دوبارہ وہاں ہوں گے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

  • عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    بغداد: عراق کے بعض حصوں میں ایسے بخار کی وبا پھیل رہی ہے جس میں جس میں بدن سے خون رِستا ہے اور آخر کار تیزی سے بگڑتا ہوا مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ماہرین نے اسے کریمیئن کانگو ہیمریجک فیور (سی سی ایچ ایف ) کا نام دیا ہے جو جانوروں کی جُوں (ٹِک) سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے یہ بیماری نیرو وائرس سے پھیلتی ہے اور مریض بخار، شدید دردِ سر، متلی، قے، بدن میں اینٹھن اور شدید کیفیت میں ٹیکے والے مقامات اور ناک سے بھی خون پھوٹنے لگتا ہے۔

    تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    سال 2020 اور 2021 میں اس وبا نے عراق پر پنجے گاڑ دیئے تھے یہی وجہ ہے کہ عراقی محکمہ صحت نے جانوروں کے فارم اور کمیلوں میں بڑے پیمانے پر حفاظتی اسپرے کی مہم چلائی ہے۔

    یہ وبا پالتو مویشیوں مثلاً گائے اور بکری سے انسانوں تک منتقل ہوئی ہے خواہ وہ فارم میں ہوں یا جنگلی ماحول سے وابستہ ہوں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے سی سی ایچ ایف کے کل 111 مریضوں اور ان میں سے 19 اموات کی تصدیق کردی ہے۔ سب سے زیادہ اموات ذی قار صوبے میں ہوئی ہیں۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ سی سی ایچ ایف کیڑے کے کاٹنے یا پھر متاثرہ جانور کے ذبح ہونے کے فوراً بعد خون یا گوشت سے بھی انسانوں تک پہنچ سکتا ہے 2021 میں بھی ایک صوبے میں 16 کیس نمودار ہوئے جن میں سے سات افراد جاں بحق ہرئے تھے-

  • عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراق:اسرائیل سے تعلق ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ

    عراقی پارلیمان نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات رکھنے پر موت یا عمر قید کی سزا کا نیا قانون منظور کر لیا ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس قانون کی منظوری عوامی امنگوں کی حقیقی آئینہ دار ہے۔ عراق کی 329 رکنی پارلیمان میں 275 ارکان نے اس مسودہ قانون کی حمایت کی۔تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس قانون کا نفاذ کیسے ممکن ہو گادوسری جانب، امریکہ نے اپنے رد عمل میں اس قانون سازی پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

    اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ اس قانون سازی کے نتیجے میں نا صرف آزادی اظہار کے متاثر ہونے بلکہ اختلاف رائے کو دبانے کے بھی خدشات بہت واضح ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ عراق کے ہمسایہ ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے کے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنےکی کوششوں کے بھی برعکس ہے۔

    یاد رہے، رواں سال کے آغاز پر ایران نے نیم خود مختار عراقی کردستان کے شہر اربیل پر ایک درجن کے قریب بیلسٹک میزائل داغے تھے اور تب تہران نے کہا تھا کہ ایسا وہاں قائم اسرائیلی خفیہ اداروں کے ایک مبینہ مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔