Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    عدالت کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستیں قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے جیل حکام کو دونوں کی ملاقات کرانے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف درخواستوں کا فیصلہ ہدایات کیساتھ نمٹا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس، بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کے مطابق درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔

    عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل رولز کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اس بات کو یقینی بنائیں کہ دونوں کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

    عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی فیملی ارکان کی جیل قوانین کے مطابق ملاقات کروائی جائے جبکہ ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کروائی جائے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کی جائیں،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پرعمل یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا-

  • عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس مسترد

    عمران خان سے متعلق غیر ملکی میڈیا رپورٹس مسترد

    حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے متعلق بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے نشر کی جانے والی رپورٹس کومسترد کر دیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کے کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ بیان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہیں اور انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

    حکومت نے عمران خان کو مبینہ طور پر قید تنہائی، تشدد یا بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی انتظامات کے مطابق ملاقات، ٹیلی فون، مطالعے کا مواد اور ٹیلی ویژن کی سہولت حاصل ہے۔ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کا سامان اور مناسب غذائی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ دیا گیا ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ جبکہ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہیں۔

    حکومت کے مطابق عمران خان کو اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانے کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ قید کے دوران تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ریکارڈ ہوئے، جن میں 900 سے زائد افراد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہنیں، اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندگان اور دیگر منظور شدہ افراد شامل ہیں۔ اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی، جبکہ تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو کرائی گئی ہے۔

    سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ بھی کرایا جاتا رہا ہے۔ جبکہ 21 مارچ 2026 کو قیدی کی اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کرائی گئی۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست کو بہنوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

    حکومت نے طبی سہولیات سے متعلق الزامات بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران بانی پی ٹی آئی کے تقریباً 30 طبی معائنے ماہرین اور میڈیکل بورڈز نے کیے۔ جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے ماہرین شامل رہے۔

    حکام کے مطابق آنکھ کے پردے سے متعلق بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو ماہرین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا گیا، جس میں اینٹی وی ای جی ایف کے 5 انجیکشن، ریٹینل امیجنگ، ادویات اور فالو اَپ معائنے شامل ہیں۔

    حکومت نے عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سو فیصد تندرست قرار دیا۔ بلڈ پریشر نارمل اور آنکھ کو بھی بہتر قرار دیا۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی مکمل عملدرآمد کیا گیا اور قیدی کا عدالتی ہدایات کے مطابق طبی معائنہ کرایا گیا، جس کے دوران ان کی بہن بھی موجود تھیں۔

    حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مزید کارروائی تک عمران خان کے اہل خانہ، سیاسی جماعت کے ارکان اور متعلقہ وکلا کو اس کی صحت یا میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا۔ طبی معاملات کو سیاسی مہم یا عوامی پیغام رسانی کا ذریعہ بنانے کے بجائے کلینیکل ریکارڈ اور عدالتی ہدایات کی بنیاد پر دیکھنے کا حکم دیا۔

    حکومت نے مزید واضح کیا کہ جیل میں عمران خان تک رسائی کو سیاسی سرگرمی یا جیل سے بلا روک ٹوک سیاسی رابطوں کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ملاقاتوں اور رابطوں کی مناسب پابندی کو قیدی سے مکمل رابطہ منقطع کرنے کے مترادف نہیں کہا جا سکتا۔

    عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آکر والد سے ملاقات نہ کرانے سے متعلق رپورٹس پر حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) موجود ہیں، جو پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے۔ ان کے پاکستان آنے کی صلاحیت کو جیل میں ملاقات کے الگ معاملے سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔

    حکومت نے غیر ملکی میڈیا اداروں پر زور دیا ہے کہ آئندہ رپورٹنگ میں دستاویزی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور تصدیق شدہ جیل و طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع الزامات سے الگ رکھا جائے۔

  • سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہمارا کل اور آج بھی یہی مؤقف ہے۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی حکومت نے کوئی توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا صحت کے معاملے کو سیاست سے دور رکھا جائے، حکومت کا واضح مؤقف ہے اور حکومت آئین و قانون کی روشنی میں ہی تمام معاملات آگے بڑھائے گی،کسی قیدی کو خصوصی سہولت دینے سے استثنیٰ کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ریویو درخواست میں بھی یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا یہی سہولت ہر قیدی کو میسر ہے؟ ریویو کے گراؤنڈز قوم کے سامنے ہیں، کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی، ہر قیدی کے لیے یکساں سہولت ہونی چاہیے، خصوصی ٹریٹمنٹ نہیں ہونی چاہیے، صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا ہے نہ آئندہ تبدیل ہوگا حکومت نے صحت کے معاملے پر کسی قسم کی طنز یا تضحیک نہیں کی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے شفاف طبی معائنہ کرایا گیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے،سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل تھے انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایاعدالت کے حکم کی منشا کے مطابق تمام معاملات شفاف طریقے سے آگے بڑھائے گئے۔

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پمز میں مکمل اور شفاف طبی معائنہ کرایا گیا معائنے کے دوران شفا ہسپتال کے اوتھمالوجسٹ بھی موجود تھے، جبکہ شفا اسپتال کے آئی اسپیشلسٹ کی موجودگی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا ثبوت ہےمعائنہ ہمشیرہ کی موجودگی میں شفاف طریقے سے کرایا گیا اور سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل ہوا میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بغیر علاج کی جگہ کا تعین ممکن نہیں۔ تمام قیدیوں کو ایسی سہولت میسر نہیں، پھر بھی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل ہوا اور اس کی روح کے مطابق تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شفا اسپتال کے باہر لوگوں کو کس نے جمع کیا؟ یہ پہلا سوال ہے،عدالت نے سیاست سے منع کیا تھا لیکن تحریک انصاف نے مجمع اکٹھا کرکے حکم کی خلاف ورزی کی شفا اسپتال کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے سیاسی جماعت نے معاملہ متنازع بنایا سوشل میڈیا ریلز، ٹک ٹاکس اور مجمع اکٹھا کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہےم کورٹ نے سیاسی بیان بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود پریس کانفرنسز کی گئیں۔

    عطا تارڑ نے کہاکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن اور پارٹی ذمہ دار ہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی اور پارٹی عدالت کی توہین کی مرتکب ہوئی سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں، قیدی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنا تھا لیکن خود رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پہلی بار دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے ہی لیڈر کے علاج میں رکاوٹ ڈالی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منتقلی کے راستے میں لوگوں کو جمع کرکے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورٹ نے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں کنٹیمپٹ کس نے اور کیسے کیا، تمام حقائق قوم کے سامنے رکھوں گاابتدائی رپورٹس کے مطابق طبیعت شاداب ہے، بیماری کی کوئی سنگینی سامنے نہیں آئی، بلڈ پریشر کے علاوہ باقی چیزیں ماشااللہ پرفیکٹ ہیں، آئی سائٹ بھی سکس بائی سکس ہےبیماری کی نوعیت ایسی نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کس بیماری پر سیاست کر رہے ہیں؟ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

    عطا تارڑ نے واضح کیاکہ قانونی معاملہ الگ ہے اور صحت کا معاملہ الگ ہے، دونوں کو اپنی اپنی ڈومین میں رہنے دیں،صحت کے معاملے کو ڈاکٹرز نے دیکھنا ہے، ڈاکٹرز ہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں حکومت نے ایک دن بھی علاج نہیں روکا، علاج ہوتا آیا ہے، ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا ضرورت پڑنے پر علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،صحت کے معاملے کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے، یہ قانونی اور طبی معاملہ ہے.سیاست کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہونے سے بھی گریز کریں، اسی میں آپ کی بہتری ہے۔

  • عمران خان کی  اسپتال منتقلی کے  سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں،طلال چوہدری

    عمران خان کی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں،طلال چوہدری

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے کوئی سازش نہیں-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ہوتے ہوئے کسی قسم کی سازش کی گنجائش نہیں، دونوں واضح سوچ رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے سامنے پاکستان، پاکستانی عوام کے مسائل اور ملکی مفادات ہیں تحریک انصاف نے اس فیصلے پر ’جلدی مٹھائی کھا لی ہے‘، کیونکہ یہ عدالتی فیصلہ ہے اور اسے سیاسی تبدیلی یا کسی سازش سے جوڑنا درست نہیں۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف خود عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دے دیتی، ان کے مطالبے پر طبی رپورٹس کی تفصیلات فراہم کردیتی اور خاندان کے مطالبے کے مطابق عمران خان کا مناسب علاج کرادیتی تو آج سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ نہ آتا، حکومت کی جانب سے عمران خان کو اسلام آباد میں پہلے بھی تین سے چار مرتبہ اسپتال لایا گیا، انہیں مکمل سیکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ ملاقاتوں کے معاملے پر بھی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں رہا۔

    وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر تحریک انصاف نے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا اور توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، تحر یک انصاف پہلے پارلیمنٹ، آئینی ترامیم اور عدالتی نظام کو تسلیم نہ کرنے کی بات کرتی رہی، لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اچانک عدلیہ کو ’روشنی کی کرن‘ اور انصاف کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ اس میں کئی قانونی نکات پر مزید غور کیا جاسکتا ہے،طلال چوہدری نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو مستقبل میں بنی گالا منتقل کیے جانے کے امکان سے جوڑنے کو بھی مسترد کیا جب تک موجودہ قیادت اور نظام موجود ہے، کوئی سازش نہیں ہوگی، پاکستان بدل چکا ہے، ادارے بھی تبدیل ہوئے ہیں اور اب توجہ ملکی معیشت، پاکستان اور عوام کے مسائل حل کرنے پر مرکوز ہے۔

    طلال چوہدری نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی پارٹی کا مؤقف تبدیل ہوگیا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور نظام اچھا دکھائی دینے لگا، جو ان کے بقول تحریک انصاف کے ’دوہرے معیار‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

  • عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی ہے،رانا ثنا اللہ

    عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ صرف عدالتی ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے جو حقائق رکھے گئے، انہیں دیکھتے ہوئے حکومت نے میرٹ پر مناسب فیصلہ کیا، حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم ہے اور اس پر عمل بھی ہوگا، سپریم کورٹ نے قیدی کے حقوق سے متعلق مختلف ترجیحات بیان کی ہیں اور عمر ان خان کی صحت سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں ڈیل کرنے پر زور دیا ہےعدالت نے عمران خان کے اہل خانہ کو بھی اس معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے سے روکا ہے تاکہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ہائیکورٹ کی جانب سے فیصلہ آیا تھا، جس کے بعد میڈیا پر بعض باتیں سامنے آئیں اور معاملہ خراب ہوا،سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر بات ہوتی رہی ہے اور حکومت تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کہتی رہی ہے کہ اس معاملے کا طریقہ کار عدالت سے رجوع کرنا ہے، ان کے بقول خوش آئند بات ہے کہ آج تحریک انصاف کے رہنما عدالت کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ جیل حکام یا انتظامیہ کے پاس عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں، اسی طرح کسی دوسرے فریق کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظرانداز کرنے یا میڈیا میں ایسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس سے دوبارہ تنازع جنم لے سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تمام رپورٹس طلب کی تھیں اور ان رپورٹس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں درست مؤقف اختیار کیا اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی مخالفت نہیں کی۔

    وزیراعظم سے سہیل آفریدی کی دو ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ خود بھی ان ملاقاتوں میں شریک تھےان ملاقاتوں میں سہیل آفریدی نے مثبت انداز میں گفتگو کی، صوبے اور سیاسی معاملات پر بات کی، تحریک انصاف میں سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں کے ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کرتے رہے ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ حکومت کل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس سے بھی ملی، ان کے ساتھ بھی مثبت بات ہوئی۔ امید ہے آنے والے دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات ہوگی،عمران خان کو ریلیف عدالت سے ہی ملے گا اور عدالتی ریلیف کو کسی بھی طور پر سیاسی عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

  • عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کے شفا اسپتال سے علاج کا سپریم کورٹ کا حکم :وفاقی حکومت کا نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کا جائزہ لیا گیا ہے اور شفا اسپتال میں طبی معائنے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی،سپریم کورٹ کا حکم ان قوانین کے مطابق نہیں جو سزا یافتہ قیدیوں سے متعلق ہیں، جبکہ عدالت کے حکم کے دیگر نکات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیصلہ جاری کیا ہے، تاہم حکومت اس فیصلے پر ازسرنو جائزے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی جیلوں میں بہت سے قیدی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں اور سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور اہلخانہ و ڈاکٹروں سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

  • عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے کسی بھی وقت شفا اسپتال منتقلی کا امکان

    عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے کسی بھی وقت شفا اسپتال منتقلی کا امکان

    پی ٹی آئی عمران خان کی آج رات اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقلی کا امکان ہے، اس سلسلے میں اسپتال میں سیکیورٹی پلان تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کے پیش نظر سیکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کی جانب سے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے اور دیگر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق شفا اسپتال میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے، جب کہ عمران خان کے کمرے کی سیکیورٹی جیل انتظامیہ کے اہلکار سنبھالیں گے،اسپتال کے کمرے میں بھی جیل رولز پر عمل درآمد کیا جائے گا، جب کہ سکیورٹی اداروں اور جیل انتظامیہ کے اہلکار اسپتال میں موجود رہیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی منتقلی سے قبل اسپتال کے کمرے کی سیکیورٹی چیک کرلی گئی ہے اور کمرے سمیت اسپتال کی مجموعی سیکیورٹی کا جائزہ لے کر انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، عمران خان کو آج رات کسی بھی وقت اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے انہیں دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے عدالت نے حکومت کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے اب تک کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس میں جنرل سرجن، ماہر امراضِ داخلی، ماہر امراضِ چشم اور ماہر امراضِ قلب شامل ہوں گے، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل سے منسلک رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی کی ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک اہلخانہ، سیاسی جماعت کے ارکان یا وکلا طبی رپورٹس یا صحت سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے۔

  • عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات کرادی گئی

    عمران خان سے نورین نیازی کی ملاقات کرادی گئی

    اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی ہمشیرہ نورین نیازی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے، جو قریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔

    میڈیا رپورٹس مطابق ملاقات کانفرنس روم میں ہوئی، جس دوران عمران خان کی صحت سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی،نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے بھی آگاہ کیا۔

    ملاقات کے بعد نورین نیازی داہگل ناکے پہنچیں، جہاں میڈیا نمائندوں نے ان سے گفتگو کی کوشش کی تاہم انہوں نے تفصیلی بات چیت سے گریز کیا،صحافی کے سوال پر نورین نیازی نے صرف ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات ہوگئی ہے،بعد ازاں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی نورین نیازی کی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔

    عمران خان کی تینوں بہنیں اڈیالہ روڈ پر پہنچی تھیں علیمہ خان نے داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی ایک بہن کی عمران خان سے ملاقات ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے رکھا ہے،عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے،عدالتی حکم کے مطابق اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہوں گے، اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی

    اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی۔

    جیل ذرائع کے مطابق جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کے دن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروائی گئی ملاقات کانفرنس روم میں تقریباً 35 منٹ تک جاری رہی اور دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی،ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ سمیت مکمل طبی معائنے اور بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

  • عمران خان حکم کریں تو پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    عمران خان حکم کریں تو پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے عمران خان کو پیغام بھیجا کہ میں بھی تیار ہوں اور قوم بھی تیار ہے ، حکم کریں تو پورا پاکستان بند کر دیں، میرا لیڈر عمران خان ہے میں اس کے ہر حکم کی تعمیل کروں گا۔

    مانسہرہ میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہزارہ ڈویژن کیلیے 200 ارب روپے کے جامع ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا،200 ارب روپے میں سے 50 ارب روپے صرف سیاحتی منصوبوں پر خرچ ہونگے جبکہ مانسہرہ میں میڈیکل کالج ، نرسنگ کالج، ٹراما سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا تناول فیڈر کے قیام اور 15 کلومیٹر اوگی روڈ کی تعمیر جبکہ تناول اور دربند تحصیلوں کو بھی بہت جلد مکمل فعال کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، اس سے قبل بھی قیمتی لوگوں کو شہید کیا گیا، جب ہم دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے تھے تو کہا جاتا یہ جھوٹ بول رہے ہیں، جب معصوم لوگ شہید ہونا شروع ہوگئے تو اب کہتے ہیں آپریشنز کریں گےخیبر پختونخوا کو لیبارٹری سمجھ کر تجربات کیے جا رہے ہیں، اس کا نقصان غریب عوام کو ہو رہا ہے-

    سہیل آفریدی نے کہا کہ 180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، جب تک ہم اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے تب تک ہم ہر ظلم و جبر کرتے رہیں گے ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، ہم نے عمران خان کے نظریے پر اپنی جانیں قربان کی ہیں ، ان کو تکلیف میں دیکھ کر درد ہوتا ہے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے عمران خان کو پیغام بھیجا کہ میں بھی تیار ہوں اور قوم بھی تیار ہے ، حکم کر یں تو پورا پاکستان بند کر دیں، میرا لیڈر عمران خان ہے میں اس کے ہر حکم کی تعمیل کروں گا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے حکم کے بغیر نہ کسی کی بات سنوں گا اور نہ مانوں گا، جب میری نامزدگی کا اعلان ہوا تو طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن میں ڈٹا رہا، جب ناکام ہوئے تو میرے آبائی علاقے میں آپریشن کا اعلان کیا گیا میرے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جانتے ہیں ان کے ووٹ پر کس نے ڈاکہ ڈالا، جزیرے کون خریدتا ہے، میں اپنے لیڈر اور لیڈر کی پارٹی کو کبھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا، تمام آئینی وقانونی راستے عمران خان سے ملاقات کے لیے استعمال کر چکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کا ذاتی معالجین و فیملی کی موجودگی میں علاج نہیں کرایا جا رہا، جب سارے رستے بند کر دیئے جائیں ، دیوار سے لگایا جائے ، تو ہمارے پاس صرف احتجاج کا راستہ بچتا ہےہم نے ایک دوسرے کی طاقت بن کر کندھے سے کندھا ملا کر انہیں شکست دینی ہے، ایلیٹ مافیا کبھی بھی نہیں چاہے گا مڈل کلاس آگے آئے، عمران خان نے پہلی دفعہ ایک مڈل کلاس لڑکے کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا ہےآپ سے وعدہ کرتا ہوں عمران خان اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔