Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • دوران عدت نکاح کیس، ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے ، عدالت

    دوران عدت نکاح کیس، ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے ، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: دوران عدت نکاح کیس کے خلاف بشری بی بی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی،وکیل خاور مانیکا راجہ رضوان عباسی روسٹرم پر آ گئے،راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ پہلے شکایت حنیف نامی شخص نے دائر کی تھی ، بشری بی بی کے وکیل سلمان اکرم راجہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے،بشری بی بی کی جانب سے وکیل شعیب شاہین بھی عدالت میں پیش ہوئے، وکیل رضوان عباسی نے درخواست پر اعتراض اٹھا دیا ،کہا کہ اس طرح کی پہلے بھی ایک درخواست دائر ہے ، حنیف نامی شخص کی شکایت کے خلاف درخواست بینچ ون میں زیر التواء ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ وہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے ہم وہ واپس لیتے ہیں،

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ درخواست واپس لینے کا آرڈر کہاں ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ واپس لینے کا آرڈر تو نہیں ہے لیکن ہم وہ درخواست واپس لیتے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نےوکیل شعیب شاہین کو خاموش رہنے کی ہدایت کی، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ درخواست میری ہے خاور مانیکا کی شکایت کے خلاف ہے،آپ میری درخواست سنیں ، جیل میں روزانہ سماعت ہو رہی ہے ، فیصلہ ہو جائے گا ، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اگر پہلے درخواست چیف جسٹس کے پاس ہے تو یہ کیس بھی وہیں بھیج دیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جب وہ درخواست ہی واپس ہو گئی ہے تو دوسرے بینچ میں بھیجنے کا کیا مقصد ، وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس جو درخواست ہے اس میں وکیل شیر افضل مروت ہیں ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہم جب کہہ رہے کہ ہم نے واپس لے لی ہے وہ درخواست تو کیوں بھیجیں ،جب درخواست واپس لے لی تو آپ اس درخواست کو سنیں ، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ ہم پھر اسٹے آرڈر جاری کردیتے ہیں ، تب تک آپ اس کو دیکھ لیں ،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ آپ اسٹے آرڈر نہ جاری کریں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چلیں ہم اسٹے آرڈر جاری نہیں کرتے آپ کہہ دیں آپ گواہوں کے بیانات نہیں کرینگے ،وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ہم انڈر ٹیکنگ دیتے ہیں کہ کل بیانات رکارڈ نہیں کرائیں گے ،اگر پہلی درخواست چیف جسٹس کے پاس ہے تو یہ بھی وہی بھیج دیں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھجوا دی

    خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ جب ایک شکایت ہی واپس ہو گئی تو یہ اس کے خلاف دائر درخواست بھی واپس لے لیتے،عدت میں نکاح نہیں ہوا تو دوسرا نکاح کیوں پڑھایا گیا تھا؟ہمارے پاس نکاح پڑھنے والے گواہ ہیں جو کہتے ہیں نکاح دوسری مرتبہ بھی پڑھوایا گیا،

    عدت میں نکاح کے کیس میں بشری بی بی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے حکم امتناع خاور مانیکا کے وکیل کی اس یقین دہانی کے ساتھ نہیں مل سکا کہ وہ کل ٹرائل کورٹ میں گواہ پیش نہیں کریں گے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے عدت کے دوران نکاح کے کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کا گیارہ جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، بشری بی بی اور ان کے قانون شوہر کیخلاف درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،عدت کے دوران نکاح کے کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا جائے،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے،بشریٰ بی بی نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام اباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی ، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتوں نے عدت میں نکاح کو بے قاعدہ کہا، ختم نہیں کیا گیا۔ قرار دیا کہ عدت میں نکاح بے قاعدہ شادی ہے جو عدت کی مدت مکمل ہونے پر باقاعدہ ہو جائے گی عدت میں نکاح کو غیر اسلامی یا شریعت کیخلاف قرار نہیں دیا گیا، بشری بی بی کی درخواست میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالہ جات دیئے گئے.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • توشہ خانہ،القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    توشہ خانہ،القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: توشہ خانہ تحائف اور 190 ملین پاؤنڈز ریفرنسز میں جیل ٹرائل کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی جانب سے وکلاء لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے یہ کیس غلطی سے اس کورٹ میں آگیا ہے، ڈویژن بنچ کا کیس ہے یہ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس کیس میں نیب خود ایک پارٹی ہے،کوئی ملازم ہوتا تب یہ اس عدالت کا بنتا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج محمد بشیر کی خاصیت ہے ان کے پاس نواز شریف سے بانی پی ٹی آئی سب کے کیسز لگے ہوئے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے لطیف کھوسہ کو جج محمد بشیر پر بات کرنے سے روک دیا، کہا کہ جج محمد بشیر پربات نہ کریں، وہ بار بار میری سفارش پر تعینات ہوئے ہیں، اس کیس کو دوبارہ مقرر کرنے کے لئے فائل چیف جسٹس کو بھجواتے ہیں، عدالت نے اپیلوں پر ڈویژن بینچ بنانے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • حامدخان،رؤف حسن جانیں،میں مہم ختم کر رہا، شیر افضل مروت ناراض

    حامدخان،رؤف حسن جانیں،میں مہم ختم کر رہا، شیر افضل مروت ناراض

    تحریک انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، سندھ میں انتخابی مہم چلانے کے لئے جانیوالے تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے انتخابی مہم چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حامد خان اور رؤف حسن کے بیانات کے بعد میں سندھ میں اپنی انتخابی مہم ختم کر رہا ہوں۔ یہ لوگ مجھے کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ کیا میں نے کبھی ان کے خلاف بات کی؟ میں بہت مایوس ہوں اور بہت افسردہ محسوس کرتا ہوں۔ ہم نے آج سانگھڑ اور نواب شاہ میں جلسے کرنے تھے لیکن میری اپنی پارٹی کے لیڈرشپ کے حملوں کے بعد میں اپنے تمام پروگرام اور تقریبات منسوخ کر رہا ہوں۔جب تک خان صاحب خود طے نہیں کر لیتے تب تک میں کسی ریلی یا جلسے کی قیادت نہیں کروں گا اس لئے میں سندھ کمپین کو درمیان میں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ حامد خان اور رؤف حسن ہمت کریں اور عوام کی رہنمائی کریں۔ شروع میں آپ نے مجھے قانونی ٹیم سے نکالنے کی کوشش کی اور اب آپ چاہتے ہیں کہ میں انتخابی مہم چھوڑ دوں۔ میں انتخابی میدان آپ پر چھوڑتا ہوں اب آپ اپنی طاقت اور ہمت دکھائیں

    دوسری جانب بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت ہمارا ہے، ہمارے ساتھ رہے گا، ہمارا امیدوار ہے، ہماری ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے گا لکی مروت سے۔ہمارا لیڈر جیل میں ہے اور ہم اختلافات میں پڑے ہیں،میں کہتا ہوں کی آپس کے اختلافات کو ایشو نہ بنائیں، ہمارے لیڈر گھروں سے جدا ہیں، کتنے مشکل میں ہیں،

    عمران خان کےجیل میں ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف میں آئے روز اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں، تحریک انصاف کی قیادت ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں،شیر افضل مروت جو پارٹی کارکنان کو متحرک رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا میں پارٹی کنونشن کئے، کراچی ،حیدرآباد میں پروگرام کئے، لاہور آئے تو گرفتار کر لئے تا ہم عدالت نے رہائی دی، وہ بیان دیں تو پی ٹی آئی لاتعلقی کا اعلان کر دیتی ہے،شیر افضل مروت نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہیں عمران خان نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ چیف جسٹس پر اعتماد نہیں، بیرسٹر گوہر نے اسی دن پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت نے اسی مقام پر الگ پریس کانفرنس کی،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

     ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں

  • غیر شرعی نکاح کیس ,عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    غیر شرعی نکاح کیس ,عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد کردی گئی

    اڈیالہ جیل: بانی چیرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی،بانی چیئرمین پی ٹی آئی نےصحت جرم سے انکار کیا،عدالت میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی،عدالت نے ملزمان کے وکلاء کو فرد جرم کی نقول تقسیم کر دی،کیس کی سماعت سئینر سول جج قدرت اللہ نے کیس کی،عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی

    دوران کیس بشریٰ بی بی عدالت سے روانہ ہو گئیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر لیا جائے،رضوان عباسی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت سے نہیں روکا اور نہ ہی کوئی حکم امتنا ع دیا،عدالت نے آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر کیا تھا ،وکیل عثمان گل نے کہا کہ ایک ملزم کی عدم موجودگی میں مشترکہ فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی ،دو ملزمان پر فرد جرم عائد ہو رہی جبکہ ایک موجود نہیں ،

    دوران عدت نکاح کیس، فرد جرم عائد ہونے سےپہلے بشریٰ بی بی جیل سے بھاگ گئی،عدالت کا اظہار برہمی
    عمران خان نے فردجرم سے انکار کیا اور کہا کہ آٹھ فروری قریب آرہی جانتا ہوں پراسیکیوشن کو جلدی ہے۔ایک ایک دن میں چار چار کیسز چلائے جا رہے ہیں۔ چھ سال بعد سافٹ وئر اپڈیٹ کے بعد یہ کیس یاد آیا۔ بشری بی بی کے جیل سے بغیر بتائے جانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،جج قدرت اللہ نے کہا کہ کیا کسی نے بشر ی بی بی کو نہیں بتایا کہ عدالت سے اجازت لے کر جانا ہوتا ہے۔ گزشتہ سماعت پر بشری بی بی کے وارنٹ کا حکم دیا لیکن وکلا کا بھرم رکھتے ہوئے وارنٹ ایشو نہیں کیا۔وکیل عثمان گل نے کہا کہ بشری بی بی کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد وہ ہسپتال جانے کے لیے گئی ہیں۔ جج نے استفسار کیا کہ بشری کس ہسپتال گئی ہیں، وکیل نے کہا کہ ہسپتال کے بارے میں معلوم نہیں ۔بشری بی بی کی میڈیکل دستاویزات عدالت میں جمع کروا دی ہیں ۔وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کسی میڈیکل ٹریٹمنٹ کا ذکر نہیں ۔رپورٹ میں ایسا کچھ نہیں لکھا جس کی وجہ سے بشریٰ بی بی عدالت پیش نہ ہو سکیں ۔عدالت کو چکمہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ،بشریٰ کے وکیل نے کہا کہ بشرا بی بی کی جیل موجودگی کے دوران طبیعت خراب ہوئی،طبیعت کبھی بھی اور کسی کی بھی خراب ہو سکتی ہے ، جج قدرت اللہ نے کہا کہ
    بشری بی بی کی جیل انٹری اور باہر جانے کی ٹائمنگ کو چیک کیا جائے،عدالتی حکم پر بشری بی بی کی جیل میں انٹری ہوئی تو عدالت کی اجازت کے بغیر وہ باہر کیسے گئی ۔فرسٹ ایڈ کی ضرورت تھی تو ہسپتال جیل میں بھی موجود ہے ،وکیل نے کہا کہ طبیعت خراب ہونے پر ٹریٹمنٹ کے لیے مریض اپنے سپیشلسٹ سے ہی رابطہ کرتا ہے،

    بشرا بی بی کی جیل اینٹری اور باہر جانے سے متعلق جیل حکام نے رپورٹ عدالت میں پیش کی،بشرا بی بی 11 بج کر 13 منٹ پر اڈیالہ جیل انٹر ہوئی۔بشری بی بی ایک بج کر 42 منٹ پر اڈیالہ جیل سے روانہ ہوئی ،بشرا بی بی خود چل کر جیل سے گئیں .وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ بشرا بی بی نے عدالت سے اجازت لینا بھی مناسب نہیں سمجھا ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے “عوامی معاشی معاہدہ” کا اعلان کردیا

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے بیگم نصرت بھٹو آڈیٹوریم میں “عوامی معاشی معاہدہ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنان کے ساتھ ساتھ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس انقلابی دستاویز کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں، جو قوم کو درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے کی چابی ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے ذریعے “عوامی معاشی معاہدہ” کا مسودہ پوری قوم کو پڑھ کر سنایا:
    عوامی معاشی معاہدہ
    معاشی بحران
    اس وقت ہمارے ملک میں جو بلند ترین سطح کی مہنگائی اور مکمل اور جزوی بے روزگاری دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ غربت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ ہمارے محنت کش پہلے سے کئی زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی آ مدنی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمارے شہری اور خصوصی طور پر ایسے شہری جن کا تعلق غریب طبقے سے ہے وہ غیر محفوظ ہیں اور ہمارے نوجوان اپنے موجودہ حالات کے بارے میں شدید عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں ا تنی غیر یقینی کیفیت سے کبھی دو چار نہیں رہے ہیں ،غذائی اشیاءکی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ صرف پانچ سال قبل آٹے کے دس کلو گرام کے بیگ کی قیمت 400 روپے سے کم تھی ۔ آ ج اسی بیگ کی قیمت 1400 روپے سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران دودھ ، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بالترتیب 113 فیصد، 217 فیصد اور 353 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 277 فیصد کا ضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آٹھ سال قبل ایک غریب گھرانہ جس کی مشترکہ آمدنی ماہانہ 35000 ہوا کرتی تھی وہ اپنی اس انتہائی محدود آ مدنی میں بھی آٹے ، خوردنی تیل ، دودھ اور دوسری غذائی اشیاء کی اچھی خاصی مقدار خرید سکتا تھا تا کہ اس کے خاندان کے تمام افراد پیٹ بھر کر غذا حاصل کر سکیں ، دوکمروں کی مکانیت کے گھر میں رہ سکیں ، بچوں کو اسکول بھیج سکیں ، دکھ، بیماری اور تھوڑی بہت سیر و تفریح کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ۔ آج کی مہنگائی کے دور میں ایک خاندان کو ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 70000 روپے ماہانہ کی ضرورت ہوگی ۔ اخراجات زندگی میں اس اضافے اور اجرتوں کی حقیقی قدر میں ایسی کمی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہ سرا سر ناقابل قبول ہے ،مہنگائی ، بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غربت اور مسلسل عدم استحکام اور معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح کے ماحول میں نئے مواقع روزگار کا پیدا ہونا دشوار تر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی نوکریوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہماری آ بادی کے دس فیصد غریب ترین افراد صرف 14500 روپے ماہانہ کی قلیل ترین اجرت پر کام کرنے پر مجبورہیں ،آج پاکستان کی آبادی کے 93 ملین افراد جو کہ ہماری کل آبادی کے 40 فیصد ہیں خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ اوران میں سے 15 ملین افراد وہ ہیں جو 2018 اور 2023 کے پانچ سال کے د وران خط غربت سے نیچے گئے ہیں ،اگر ایک جانب ہم ایک تاریخی معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم ایک شدید ترین ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اور خوشحالی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ شدید ترین سیلاب یا مہیب خشک سالی جو پہلے 100 سال میں ایک دفعہ وقوع پذیر ہوتے تھے اب اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بار بار وقوع پزیر ہورہے ہیں ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر واقع براعظم اینٹارٹیکا کے بعد قدرتی برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ہے ۔ سائنسدانوں نے قدرتی برف کے اس ذخیرے کو ‘‘ تیسرے قطب ’’ (Third Pole) کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان اس نئے ماحولیاتی بحران کی صف اول میں ہے ۔ سائنسی اندازوں کے مطابق پاکستان میں رہنے والے 24.1 ملین افراد پہلے مرحلے میں تباہ کن سیلابوں اور ان سیلابوں کے بعد کبھی نہ ختم ہونے والی طویل خشک سالی سے دو چار ہونے کے خطرے میں ہیں ۔ جب کہ اس عالمی موسمیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر 1 فیصد سے بھی کم ہے ،ہمیں اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بڑے پیمانے پر اور مکمل اصلاحات لانی ہوں گی ۔ ہمیں موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے ، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور توانائی کے ذرائع تبدیل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اور یہ سب ہمیں اس انداز سے کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں سب کی شمولیت ہو ، جس سے ماحول دوست مواقع روزگار پیدا ہوں اور جس سے نہ صرف ماحولیاتی بحران کا مقابلہ ہو سکے بلکہ ہم روز افزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا بھی مقابلہ کرسکیں ،ہمیں عام محنت کشوں ، خواتین ، مردوں اور نوجوانوں کو مرکزیت دینی ہوگی اور دانش مندی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ صوبوں ، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ با اختیار بنانا ہو گا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔

    ہمارے 10 وعدے
    اجرت پر کام کرنے والوں کی حقیقی آمدنی کو دوگنا کرنا ۔
    ۔ کم سے کم اجرت میں ہر سال حقیقی معنوں میں 8 فیصد اضافہ کرنا،تاکہ ہم ایک گزارے کے قابل اجرت کی سطح تک پہنچ سکیں ۔
    ۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ کرکے مواقع روزگار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ،تاکہ بے روزگاری اور جزوی بے روزگاری میں کمی کی جاسکے ۔
    ۔ مقامی شہریوں کی ضرورتوں کے مطابق سرمایہ کاری اور مواقع روز گار پیدا کرنا۔
    ۔صوبائی اور مقامی سطحوں پر سماجی اور پیداواری شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے میں اشتراک ( پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ)
    ۔ نجی ملکیت کے مکانوں کی تعمیر میں کثیر اضافے کی بنیاد پر غریب طبقے کے مکانات کی تعمیر کے لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ۔
    ۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اصلا حات کو فروغ دینا ۔

    گرین نیو ڈیل (Green New Deal )
    موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ

    ۔ سرکاری شعبے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے اوربیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    ۔ سڑکوں اورشاہراہوں ، مواصلات ، صحت ، آبپاشی ، زراعت میں پاکستان کے سرکاری شعبے کے انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
    ۔ یہ سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر فروغ ، نئے مواقع روزگار پیدا کرنے اور موسمیا تی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

    ملکی ذرائع سے پیدا ہونے والی گرین انرجی
    ۔ قابل استطاعت نرخوں پر الیکٹرسٹی تک رسائی ہر شہری کا حق ہے ۔
    ۔ بجلی کے موجودہ نرخوں اور تقسیم کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا ۔
    ۔ ہم بجلی کے موجودہ بحران سے نجات پانے کے لئے ملکی ذرائع اور قابل تجدید توانائی کی بنیاد پر پائیدار حل مہیا کریں گے ۔
    ۔ ہم اپنے شہریوں کے لئے قومی الیکٹرسٹی گرڈ سے علیحدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورے پاکستان میں گرین انرجی پارک تعمیر کرکے ان کی گرین انرجی کی ضروریات پوری کریں گے ۔
    ۔ انرجی کے پیداواری نظام میں تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لئے ہم غریب ترین گھرانوں کو ہر ماہ 300 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کریں گے ۔ اس پروگرام میں درکار سرمایہ ہم کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کریں گے ۔

    تعلیم سب کے لئے
    ۔ ہم اسکول جانے کی عمر تک کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئے آئین کی شق 25 A کے الفاط اوراصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سب بچوں کی اسکولوں میں تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔
    ۔ ہم گھروں سے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری پرائمری اسکولوں کے قیام اور زیادہ سے زیادہ 60 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔
    ۔ پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

    سب کے لئے علاج کی سہولت
    ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لئے اس کے شہریوں کی اچھی صحت سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہم سندھ کے صحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کریں گے ۔
    ۔ ہم پورے ملک میں پرائمری سطح کے علاج معالجے کی مفت سہولتیں اور مفت دوائیں مہیا کریں گے ۔
    ۔ بنیادی صحت کے مراکز کو پوری طرح اور ہمہ وقت موثر کیا جائے گا ۔
    ۔ سرکاری شعبے اور سرکاری نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والے اسپتالوں میں دائمی نوعیت کے امراض ، امراض قلب ، جگر اور گردوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا ۔

    مکان ایک حق
    غریبوں ، بے زمینوں اور محنت کشوں کے لئے رہائشی مکانات کی فراہمی ۔
    ۔ تمام صوبوں اور علاقوں کے دیہی اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کی اسکیمیں جن کو پانچ مرلہ اسکیم اور سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے کامیاب ماڈل کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔
    ۔ ہر بے گھر خاندان کو رہنے کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے کم از کم تیس لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے جن کی قانونی ملکیت خاتون خانہ کے نام ہوگی ۔
    ۔ کچی آبادیوں کو ریگیولرائز کیا جائے گا اور مکینوں کو قانونی ملکیت دی جائے گی ۔
    ۔ کچے کے علاقوں کے رہنے والوں کو قانونی طور پر دی گئی زمینوں کا مالک بنایا جائے گا ۔
    ۔ مکانات کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی ، نچلے متوسط طبقے اور محنت کشوں کے لئے رہن پر رہائشی قرضہ جات کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا ۔

    غربت مٹاؤ ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع
    ۔ ایسے مزیدافراد کو جو موجودہ مہنگا ئی ، بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اس پروگرام کو مزید توسیع دی جائے ۔ غربت کی بنیاد پر دی جانے والی براہ راست مالی اعانت کے علاوہ بھی ہم پروگرام میں مندرجہ ذیل جہتوں کا اضافہ کریں گے :
    ۔ وسیلہ حق (WEH) پروگرام جو کہ غریب خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو توسیع دے کر غریبی کے چنگل سے باہر نکل سکیں ۔ہم نے صوبہ سندھ میں پیپلز پاورٹی ایلیوئیشن پروگرام سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ چلایا ہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کئے ہیں ۔
    ۔ وسیلہ تعلیم (WET) پروگرام جو کہ خاندان کے ہر مستحق بچے کو خاندان میں مستحق بچوں کی تعداد سے قطع نظر نقد مالی امداد فراہم کرے گا ۔ یہ نقد مالی امداد اس بات سے مشروط ہوگی کہ امداد حاصل کرنے والے بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہو ۔
    اسکول کی حاضری کو سہ ماہی بنیاد پر جانچا جائے گا ۔
    ۔ وسیلہ روزگار (WER) پروگرام جو پروگرام میں شامل ہر خاندان کے ایک منتخب باصلاحیت فرد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا ۔ منتخب ہونے والے افراد کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے اپنے ضلع میں اپنا روزگار خود پیدا کرنے کے مواقع کے لحاظ سے ایک سال کی پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ۔
    ۔ وسیلہ صحت (WES) پروگرام جو پروگرام میں رجسٹر ہونے والے خاندانوں کو بیماریوں کے علاج میں ہونے والے کثیر اخراجات سے تحفظ فراہم کرے گا ۔

    خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان
    زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے اور بالخصوص چھوٹے کسانوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے :
    ۔ ہاری کسان کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے عورتوں اور مردوں ، چھوٹے کسانوں ، کسان اور ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو ان کی بحیثیت کسان شناخت دینا ۔
    ۔ مندرجہ ذیل اشیاءکے حصول کے لئے کسان کارڈ کے ذریعے رعایت فراہم کرنا ۔
    ۔ بہترین اقسام کے بیج
    ۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد جیسی ان پٹ ۔
    ۔ فصلوں کی مارکٹنگ ۔
    ۔ زمین کی بہتری اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کا انتطام ۔
    ۔ مویشیوں کی افزائش کے سلسلے کی خدمات ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے بہترین طریقہ کار کی فراہمی ۔
    ۔ فصلوں کا انشورنس ۔
    ۔ زرعی پیداوار میں تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مختلف اجناس کی امدادی قیمتوں کو یقینی بنانا ۔
    ۔ Tenancy اور لیبر قوانین میں اصلاحات، تاکہ زراعت میں مزید سرمایہ کاری ہوسکے اور ترقی کے عمل میں ہر ایک شریک ہوسکے ۔

    مزدور کو محنت کاصلہ
    ۔ ہمارے غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو نہ تو روزگار کا تحفط حاصل ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہے ۔ ان تک یہ سہولتیں پہنچانے کے لئے :
    ۔ ان کی محنت کے مطابق اجرت کی ضمانت، جو کہ آگے چل کر سب کو گزارے کے قابل اجرت فراہم کرسکے ۔
    ۔ مزدور کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے مزدوروں کو جن میں غیر رسمی شعبے کے مزدور ، خود روزگار حاصل کرنے والے مزدور اور زرعی مزدور شامل ہوں سماجی تحفظ فراہم کرنا جس کے تحت وہ:
    ۔ اپنے بچوں کی اسکول کی فیسیں ادا کرسکیں گے ۔
    ۔ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اولڈ ایج بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ معذوری کے بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔

    جوان مستقبل
    دنیا بھر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ آ بادی کے اس تناسب کو کام میں لانے اور ملک کی ورک فورس میں ان کی بلا رکاوٹ شمولیت کے لئے ہم نوجوان کارڈ (Youth Card) متعارف کروائیں گے جس کے ذریعے ؛
    ۔ تعلیم یافتہ ، مستحق نوجوان مرد اور خواتین ملازمت حاصل کرنے کی مدت میں ایک سال تک وظیفہ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے قرضے حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ نجی اور سرکاری شعبے میں انٹرن شپ اور تربیتی ملازمتوں کے لئے روابط قائم کرسکیں گے ۔
    ۔ تمام شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں نئے کاروبار کا آغاز کرسکیں گے جس کے لئے ہم ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے تاکہ نوجوان ملک بھر میں تیز ترین رابطے قائم کرسکیں ۔
    پورے ملک میں یوتھ سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائیبریریوں تک مفتWiFiکے ذریعے رسائی ہوسکے ۔ ان مراکز میں کھیلوں ، ثقافتی سرگرمیوں ، تفریحی سرگرمیوں ، پیشہ ورانہ تربیت ، صلاحیتوں اور مختلف زبانیں سیکھنے کی کلاسیں ، کیریر اور ملازمتوں کے حصول میں سپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

    بھوک مٹاؤ
    غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہمارا عزم ہے کہ ہم رعایتی قیمتوں پر صحت بخش غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم غذائی اشیاءکی اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کریں گے ، مقامی پروڈیوسر کو سبسڈی فراہم کریں گے اور خواتین کو ان کے اپنے کاروبار کے ذریعے مارکٹ معیشت سے منسلک کریں گے ۔
    اس کے علاوہ ہم :
    ۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے غذائی حقوق کا قانون منظور کروائیں گے ۔ اس قانون کے تحت ہر مستحق خاندان رعایتی قیمتوں پر ضرورت کی غذائی اشیاءخرید سکے گا ۔
    ۔ ہم حاملہ اور پہلی بار کی زچگی کی خواتین کے لئے 1000 دنوں کی مدت پر مشتمل صحت بخش غذائی پروگرام متعارف کروائیں گے تاکہ سٹنٹنگ (stunting ) ، ویسٹنگ (wasting) اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔
    ۔ تمام اسکول جانے والے بچوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے ۔

    یہ سب ہم کس طرح سر انجام دیں گے ؟
    PTI , PML (N) اور مشرف دور کی کھپت (consumption) میں اضافہ کرکے معاشی ترقی حاصل کرنے کی حکمت عملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناسب کو دنیا میں سب سے کم سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور آج ہم اپنے آپ کو مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شدید ترین بحرانوں کی زد میں پاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے 12 فیصد کی بلند سطح سے گر کر2023 میں صرف 2 فیصد کی سطح تک آچکی ہے ۔
    سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم طویل مدت کی پائیدار اور مشترکہ ترقی کے سفر کا آغاز کریں گے جو پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے ہمارے منصوبوں کی دو جہتیں ہوں گی ۔ ایک جانب تو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کے دور کا نیا آغاز کریں گے جس کا کامیاب تجربہ ہم سندھ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب ہم موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ حکمت عملی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔ہم عوامی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے درکار مالی وسائل کو حاصل کرنے کے لئےکئی طریقے عمل میں لائیں گے ۔۔ ہم وفاق میں اٹھارویں ترمیم کے باوجود 17 نئی قائم کی جانے والی وزارتوں کو ختم کرکے 328 بلین سے زیادہ رقم ہر سال بچائیں گے ۔ ہم اشرافیہ کو دی جانے والی بے مقصد سبسیڈیز کو ختم کریں گے ۔ اس وقت ان سبسیدیز کے ذریعے اشرافیہ کو ہر سال 1500 بلین کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ پس انداز کی ہوئی رقومات عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عوام دوست منصوبوں پر خرچ ہوں گی ۔ زراعت اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ہم بین الاقوامی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے پر خرچ کی جانے والی رقومات سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں گے ۔ ان رقومات میں COP 27 میں متعارف کیا جانے والا Loss and Damage Fund اور مزید کئی دوسرے رعائتی نرخوں پر دئیے جانے والے قرض اور کاربن کریڈٹ شامل ہیں ۔ ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو پائیدار طور پر ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیا جائے ۔ دو دہائیوں پر مشتمل ریونیو کی وصولی میں تنزل اس بات کا متقاضی ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ تنزلی کے اس دور میں ہمیں صرف ایک روشن مثال ملتی ہے اور وہ صوبائی سطح پر ریونیو بورڈ تشکیل دینے کی پالیسی ہے جس میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ ہم اشیاء پر وصول کئے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس (GST on Goods) کی وصولی کو FBR کے بجائے صوبائی ریونیو بورڈز کے حوالے کریں گے جس سے نہ صرف پاکستان کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیاء پر لاگو جنرل سیلز ٹیکس کو یکجا کرنے میں بہتری آئے گی ۔
    ہمارے یہ پروگرام اور یہ وعدے وہ واحد طریقےہیں جن سے ہم نہ صرف اپنے عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اورغربت کے لامتناہی سلسلے سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ موسمیا تی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی موثر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں صرف طبقہ بالا کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی فلا ح و بہبود کے لئے اپنے عوام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی .

    قبل ازیں بھٹو ہاؤس، نوڈیرو میں کارکنان اور عہدیداران کے اعزاز میں پیپلز پارٹی نے ظہرانہ دیا،ظہرانہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک جانب معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرتی اور سیاسی بحران، جبکہ امن وامان کی صورتحال کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس وقت کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اس بار ہم انشاء ﷲ ملک کو بچائیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ چنیں گے۔ ایک ایسی سوچ جو پورے پاکستان کو متحد کرکے نہ صرف ان تمام مسائل کا مقابلہ کرے گی بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم جدوجہد، قربانی اور خدمت کرتے ہیں تو عوام کیلئے کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان صرف اور صرف اپنے لیئے سوچتے اور اپنے لیئے ہی کام کرتے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دیں گے تو میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا،ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں پاکستان کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،کسی کو احساس نہیں کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل میں ہیں، انکو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کئے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، اندازہ نہیں کہ انکے فیصلوں کی وجہ سے جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اسوقت پاکستان میں ہے اسکا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، ہر پاکستانی تکلیف محسوس کر رہا ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں جتنا آج معاشی بحران ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا،اگر ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے سازش ہورہی تھی ایک بار پھرون یونٹ قائم کیاجائے،ہم نے مل کے اس سازش کوناکام بنایا،ہم نےان تمام قوتوں کامقابلہ کیاجوعوام کےحق پرڈاکہ مارناچاہتی تھیں، سیلکٹڈ راج کو ہم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا، تب سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی جدوجہد کر رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جو عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے جا رہے تھے، ہم نے سازشوں کو ناکام بنایا ،آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی ڈٹ کر کھڑی رہی، ہم نے امیر المومنین بننے کی سازش ناکام کی، جو سیلکٹڈ دور تھا اسکا بھی مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے مقابلہ کیا،

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • ایک اور جھٹکا، پی ٹی آئی سے جے یو آئی شیرانی گروپ کا اتحاد ختم

    ایک اور جھٹکا، پی ٹی آئی سے جے یو آئی شیرانی گروپ کا اتحاد ختم

    تحریک انصاف کو ایک اور جھٹکا، جے یو آئی شیرانی گروپ سے اتحاد ختم ہو گیا،

    جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت تھی تا ہم اب تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے اس بات کی تصدیق کی کہ شیرانی گروپ سے ہمارا اتحا د ختم ہو چکا ہے

    جے یو آئی شیرانی کے مولانا گل نصیب نے بلّے کے نشان کی واپسی کو قانونی فیصلہ قرار دیا تھا، جس پر دونوں پارٹیوں میں اختلافات ہوئے تھے، مولانا گل نصیب نے کہا تھا کہ جب تحریک انصاف کے وکلا سپریم کورٹ میں اپنے کیس میں دفاع نہ کر سکیں تو اس میں سپریم کورٹ کا کیا قصور ہے؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے،سپریم کورٹ نے آنکھیں بند کرکے فیصلہ نہیں دیا ،اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے آنکھیں بند کر کے فیصلہ دیا تو ملک کے اہم ادارے کے بارے میں ایسے ریمارکس مناسب نہیں ہیں.

    13 جون 2022 کو سربراہ جے یوآئی پاکستان مولانا خان شیرانی کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں جمعیت علمائے اسلام اور پی ٹی آئی کے مابین اتحاد و شراکت کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا دونوں جماعتوں کے مابین باہمی مشاورت سے سیاسی و انتخابی حکمت عملی مرتب کرنے پر مکمل اتفاق کر لیا گیا،مولانا خان محمد شیرانی کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کیخلاف جدوجہد مشترکات میں سے ہے،سماج و سیاست سے جبر و نفاق کا خاتمہ اہم ضرورت ہے،

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

  • آپ  اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    آپ اعتبار نہیں کرتے،ریلیف بھی مانگتے ہیں،چیف جسٹس کا لطیف کھوسہ سے مکالمہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور پی ٹی آئی وکیل لطیف کھوسہ ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آ گئے

    لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ نااہلی کیخلاف درخواست مقرر کرنے کی استدعا کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئےکہا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ باہر جاکر الزامات لگاتے ہیں،ایک طرف آپ عدلیہ پر اعتبار نہیں کرتے دوسری طرف ریلیف بھی مانگتے ہیں،جلد سماعت کی درخواست دائر کر دیں،قانون کے مطابق جو ریلیف ہوگا وہ دیں گے،چیف جسٹس اور لطیف کھوسہ کا مکالمہ ملازمت سے متعلق کیس کے دوران ہوا

    واضح رہے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ نے لیول پلینگ فیلڈ کی درخواست واپس لے لی تھی،لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا تھا کہ جمہوریت اور عوام کی بقاء کیلئے عوام کی عدالت جانا چاہتے ہیں، آپ کی بہت مہربانی بہت شکریہ، مجھے ہدایات ملی ہیں کہ درخواست واپس لے لی جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کیس چلانا چاہتے ہیں یا نہیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپکی عدالت میں کیس نہیں چلانا چاہتے، آپ کے پاس آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت اختیار ہیں آپ احکامات دے سکتے ہیں، ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی، اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے سے ہمیں پارلیمانی سیاست سے نکال دیا گیا، آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے ،

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    تاحیات نااہلی کیس کے فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل 

    رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، انتخابات قریب ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

  • رؤف حسن  اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے،شیر افضل مروت

    رؤف حسن اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے،شیر افضل مروت

    عمران خان کےجیل میں ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف میں آئے روز اختلافات دیکھنے کو ملتے ہیں، تحریک انصاف کی قیادت ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں،شیر افضل مروت جو پارٹی کارکنان کو متحرک رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا میں پارٹی کنونشن کئے، کراچی ،حیدرآباد میں پروگرام کئے، لاہور آئے تو گرفتار کر لئے تا ہم عدالت نے رہائی دی، وہ بیان دیں تو پی ٹی آئی لاتعلقی کا اعلان کر دیتی ہے،شیر افضل مروت نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہیں عمران خان نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ چیف جسٹس پر اعتماد نہیں، بیرسٹر گوہر نے اسی دن پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت نے اسی مقام پر الگ پریس کانفرنس کی،

    اب تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے شیر افضل مروت کے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کی اور کہا کہ شیر افضل مروت کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں، پارٹی ان کے کسی بیان کو اون نہیں کرتی، شیر افضل مروت نے رؤف حسن کے اس بیان پر ردعمل میں پارٹی ترجمان رؤف حسن کو سازشی قرار دے دیا، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ترجمان روف حسن نے الیکٹرانک میڈیا پرمیرے خلاف 4 بار بات کی، رؤف حسن سازشی ہیں اور اکثرپارٹی میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف رہتے ہیں، میرے خلاف یہ مہم سندھ کی کامیاب مہم کونیچا دکھانے کیلئےشروع ہوئی ہے، میری عمران خان سے درجن بھر وکلا اور بہنوں کے ہمراہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، رؤف حسن بانی پی ٹی آئی مخالف صحافیوں کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی اور جے یو آئی شیرانی گروپ الائنس ختم کرایا، رؤف حسن نگران حکومت میں موجود اپنے بھائی فوادحسن فوادکیلئےکام کررہا ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

     ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں