Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    خواجہ حارث کی طرف سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع کی استدعا
    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ کل جاری ہو گا چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس دوسری عدالت منتقلی درخواست پر بھی کل فیصلہ جاری ہو گا ،ٹرائل کورٹ میں حق دفاع بحال کرنے کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،حق دفاع بحالی کی درخواست پر سماعت کے دوران حکم امتناع کی درخواست پر بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے آج چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر آج فیصلہ محفوظ کیا .عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد آٹھ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کا ٹرائل روکنے اور کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی روسٹرم پر موجود تھے

    وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ میں ایک چیز آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں 31 جولائی کو 342 کا بیان ہوا ،کل ہم نے گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی اور کہا 24 گھنٹے میں گواہ دستیاب نہیں ہو سکے ،ٹرانسفر درخواست پر جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ٹرائل کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتی ،اس میں کیا جلدی ہے ایک دن بھی گواہ لانے کے لیے نہیں دیا گیا ،ہم نے حق دفاع ختم کرنے کا کل کا آرڈر بھی آج چیلنج کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے کہا آج گیارہ بجے دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا اس سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جج سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے، وکیل نے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیس بک اکاؤنٹ سے وہ پوسٹ نہیں ہوئی،یکطرفہ رپورٹ کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ تو ہے ، آپ کی ٹرانسفر درخواست جانبداری کی بنیاد پر ہے ؟آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے میں عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھتا ہوں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو مزید کاروائی آگے بڑھانے سے روکے ،ہائیکورٹ میں آج ہماری آٹھ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں ، میرے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے لکھا کہ انہوں نے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں اس میں کچھ خامیاں ہیں ،ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ خامیاں ختم ہو سکیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم رولز میں یہ ڈال سکیں کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہو ،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دوسری درخواست دائرہ اختیار سے متعلق ہے، ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے پاس جانا تھا،ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی،ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہئے تھا، عدالت نے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپکی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہئے تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ وکلاء جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے،‏شام میں جو بحث ہوتی ہے اسکا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے، شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے انکے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں، اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قانون بنانے چاہئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہو گا، خواجہ حارث نے کہا کہ زیرالتواء کیسز پر کسی فریق کو کوئی بات نہیں کرنی چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بات کر رہا ہوں کہ رات آٹھ سے بارہ بجے تک کیا چلتا ہے،خواجہ صاحب آپ نے پچھلے سالوں میں کافی سیاسی کیسز کئے، خواجہ صاحب،آپ کو کبھی آٹھ بجے کسی چینل پر نہیں دیکھا،پرانے وقتوں میں تو کہتے تھے کہ ججز اخبارات بھی نہ پڑھیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج کا یہ کام نہیں کہ وہ سوچے کہ فیصلے سے عوام کیا سوچے گی،

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین بجے کے بعد آپکی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوگی ، خواجہ صاحب بہت سنئیر وکیل ہیں، امجد پرویزنے کہا کہ خواجہ صاحب کی تعریف پر اب ہم جلنا شروع ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بھائی ہیں آپ کو یاد ہوگا بہت پہلے ہم دونوں اکٹھے ایک ایف آئی ار کا متن لکھا تھا، میں خواجہ صاحب کے سنئیر ہونے کی وجہ سے تعریف کررہا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل جاری ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژن بنچ بھی ہے اور ایک اجلاس بھی بلایا ہوا ہے ،تین بجے کے بعد دوبارہ سماعت کرینگے

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسٹے ملے گا یا نہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر جاری کرے گی ،

  • پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی گرفتار

    پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کو مبینہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے

    افتخار درانی کو اسلام آباد میں انکے گھر سے گرفتار کیا گیا، تحریک انصاف نے افتخار درانی کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کی اور اسے اغوا قرار دے دیا، افتخار درانی کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے

    افتخار درانی تحریک کے دور میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا ،افتخاردرانی نے 2013 میں حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں مواصلات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں

    عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ افتخار درانی کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا گیا ہے،وہ نومئی کے واقعہ میں بھی ملوث نہیں ہے، چنانچہ ہر اس شخص کو غیر قانونی پکڑ دھکڑ اور کریک ڈاؤن وغیرہ کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی تحریک انصاف سے کچھ بھی نسبت ہے۔ (پوری قوم پر) اب یہ واضح ہو جانا چاہئیے کہ پاکستان تحریک انصاف کیخلاف جاری سلسلۂ جبر و استبداد کا 9 مئی کے واقعات سے کچھ بھی تعلّق نہیں بلکہ اس سب میں تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے تیار کیا گیا لندن پلان ہی کارفرما ہے

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد ، چاروں گواہوں غیر متعلقہ قرار

    چیئرمین پی ٹی آئی کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد ، چاروں گواہوں غیر متعلقہ قرار

    اسلام آباد: عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت کی ،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرتے ہوئے ان کے تمام گواہوں کو غیر متعلقہ قرار دینے کی الیکشن کمیشن کی استدعا منظور کرلی۔

    دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی نے 4 گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی جن میں ٹیکس کنسلٹنٹ محمد عثمان علی، سینئیر مینجر قدیر احمد، آئی ٹی پی کے سینئیر مینجر نوید فرید اور پی ٹی آئی کےرؤف حسن شامل تھے وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز ایڈووکیٹ نے اعتراض کیا کہ یہ غیر متعلقہ گواہ ہیں۔

    مونس الٰہی کی اہلیہ کا نام ای سی ایل میں، جواب جمع کروانے کی ملی …

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی گواہ طلبی کی درخواست مسترد کردی اور ان کے تمام 4 گواہوں کو غیر متعلقہ قرار دے دیا عدالت نے کہا کہ ملزم گواہوں کے کیس سے متعلقہ ہونے کو ثابت نہیں کرسکے ،آج جمع کروائی گئی فہرست میں ٹیکس کنسلٹنٹ اور ایک اکاؤنٹنٹ شامل ہیں، وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق یہ غیر متعلقہ گواہ ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے عدالت سے کہا کہ الیکشن کمیشن نے موکل کے اکاؤنٹ کی اسٹیٹمنٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کی بلکہ فوٹو کاپی اسٹیٹمنٹ دی گئی ہے، تھوڑا رحم کریں آپ ہی میرے حقوق کے امین ہیں، لیول پلینگ فیلڈ دیں، انصاف کی توقع ہے۔

    توشہ خانہ کیس، چار گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع

    جج ہمایوں دلاور نے فریقین کو مقدمے میں کل حتمی دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل فریقین حتمی دلائل نہیں دیتے تو فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گا عدالت نے کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

  • توشہ خانہ کیس،گواہان کی فہرست مسترد، کل فریقین حتمی دلائل کیلئے طلب

    توشہ خانہ کیس،گواہان کی فہرست مسترد، کل فریقین حتمی دلائل کیلئے طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن اور چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے خالد یوسف عدالت پیش ہوئے۔ عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، 12 بجے تک وقت دے دیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آج عمران خان کی جانب سے گواہان کی لسٹ فراہم کی جانی تھی۔ عدالت نے عمران خان کے وکیل خالد یوسف کو تنبیہ کی کہ گواہان کی لسٹ آج فراہم نہ کی گئی تو آپ کا حق ختم کر دیں گے اور کیس کی سماعت میں 12 بجے دوپہر تک وقفہ کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر عدالت کے روبرو پیش ہوئے،بیرسٹر گوہر کی جانب سے پرائیویٹ 4 گواہان کی لسٹ عدالت میں جمع کروا دی گئی ،بیرسٹر گوہر نے عدالت میں کہا کہ ایک گواہ کا تعلق ٹیکس ریٹرنز سے ہے ،دوسرے گواہ کا تعلق نجی بینک سے ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ آج آپ نے گواہان کو پیش کرنا تھا صرف لسٹ کی فراہمی نہیں کرنی تھی، بیرسٹر گوہر نے کہاکہ کل تک کا ٹائم دیں ہم پیش کر دیں گے،،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ صبح سے دو سے تین مرتبہ سماعت میں وقفہ ہو اور اب بھی آپ ٹائم مانگ رہے ہیں

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    تیسری بار سماعت ہوئی تو جج ہمایوں دلاور نے ملزم عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ گواہان کہاں ہیں، وکیل ملزم نے کہا کہ گواہان سے متعلق تو ہم استدعا کر چکے ہیں کل تک کا ٹائم دیا جائے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے پرائیویٹ گواہان کو پیش کرنے کا آج کہا تھا، ابھی تک کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، کوئی سرکاری گواہ طلب کرنے کے لئیے درخواست نہیں دی گئی، بتایا جائے کہ پرائیویٹ گواہ کس طرح سے اس کیس سے متعلقہ ہیں،کیس ملزم کے فائل کردہ اثاثوں کا ہے، پہلے تین نام فراہم کردہ لسٹ میں ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں،یہ کیس انکم ٹیکس ریٹرن یا ویل سٹیٹمنٹ کا نہیں ہے، ملزم نے اپنے 342 کے بیان میں کہا وہ ٹیکس ریٹرن پر انحصار نہیں کرتے،گواہان کو پیش نہ کرنا کیس کو تاخیر کا شکار کرنے کے مترادف ہے، میں ہمشہ ڈیفنس سائیڈ کے کیس لڑتا رہا ہوں اور اسطرح کبھی گواہ پیش کرنے کا نہیں کہا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کی لسٹ پر آئین کہ یہ کون ہیں، وکیل ملزم نے کہا کہ گواہ عثمان علی نے چیئرمین پی ٹی آئی کا فارم بی تیار کیا تھا،میں نے اپنے اثاثے وقت پر جمع کروائے، میں اپنے گواہ کو عدالت لانا چاہتا ہوں،
    کوئی ایم این اے اپنا فارم خود نہیں فل کرتا، 24 گھنٹے سے کم وقت میں ہمیں کہا گیا کہ گواہ کو پیش کریں، دو دن کا وقت دیا جائے تاکہ ہم اپنے گواہ عدالت میں پیش کر سکیں، اگر گواہان کیس سے متعلقہ نہ ہوئے تو عدالت بےشک بیان ریکارڈ کروانے سے روک دے، 500 صفحات سے ذیادہ کا میٹرل ہے پرسوں تک کا عدالت وقت دیں،تمام گواہ عدالت میں آئیں گے اور بتائیں گے کہ دستاویزات سہی تھے یا نہیں،‏ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے، ہمیں ایک طرح کی لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،عدالت کے کندھوں پر ذمہ داری ہے ہمیں عدالت سے انصاف کی توقع ہے،

    جج ہمایوں دلاور نے کھلی عدالت میں فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے وکیل بیرسٹر گوہر نے ڈیفنس کے گواہان کی فہرست فراہم کی مگر عدالت میں پیش نہیں کیا، چار گواہان کی فہرست عدالت کو دی گئی، عدالت سے استدعا کی گئی کہ گواہان کے بیانات کیلئے تاریخ دی جائے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے گواہان کی فہرست پر اعتراضات اٹھائے، سرکاری گواہان کہ فہرست بھی آج فراہم کی جانی تھی جو نہیں کی گئی، ‏ملزم کی جانب سے پرائیویٹ گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور نہ ہی سرکاری گواہان کی فہرست دی گئی، گواہان کی فہرست میں ٹیکس کنسلٹنٹ اور اکاؤنٹنٹ شامل ہیں، کیس فارم بی اور جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کا ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق فارم بی ملزم نے خود جمع کروانا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق ملزم اپنے جواب میں بھی ٹیکس ریٹرن پر انحصار نہیں کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل مطابق گواہان کیس سے متعلق نہیں اور کیس کو تاخیر کا شکار کرنا ہے، وکیل ملزم گوہر علی کے مطابق گواہان اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں، گواہان کو پیش کرنے کے حوالے سے عدالت سے جمعہ تک کا وقت مانگا گیا، ملزم کے خلاف الزام اثاثے چھپانے کا ہے اور جھوٹا بیان حلفی دینے کا ہے، ڈیفنس کونسل نے تسلیم کیا کہ چاروں گواہان ٹیکس کنسلٹنٹ ہیں، عدالت انکم ٹیکس اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کے حوالے سے انٹریوں کو نہیں دیکھ رہی، ملزم گواہان کو کیس سے متعلقہ ہونے کو عدالت میں ثابت نہیں کرسکے، گواہان کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عدالت حتمی دلائل کیلئے کل دونوں فریقین کو طلب کرتی ہے، اگر کوئی بھی حتمی دلائل کے لئیے پیش نہیں ہوتا عدالت فیصلہ کر دے گی،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب فراہم کی جانے والی لسٹ کو مسترد کر دیا ،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے وکلا گواہان کو کیس سے متعلق ثابت کرنے میں ناکام رہے، عدالت نے فریقین کو حتمی دلائل کیلئے کل طلب کر لیا،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کل فریقین حتمی دلائل نہیں دیتے تو فیصلہ محفوظ کر لیا جائے گا، عدالت نے کیس کی سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی .

  • عمران خان سے گھڑی خریدنے والےعمر فاروق عدالت میں پیشی کیلئے تیار

    عمران خان سے گھڑی خریدنے والےعمر فاروق عدالت میں پیشی کیلئے تیار

    سابق وزیراعظم عمران خان سے خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی خریدنے والےعمر فاروق عدالت میں پیشی کے لیے تیار ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کے پروگرام میں گھڑی خریدنے کے دعوے دار عمر فاروق نے کہا کہ اس کیس میں گواہی کے لیے انہیں عدالت نے طلب کیا تو وہ پیش ہوں گے،اس وقت کے مشیر شہزاد اکبر نے رابطہ کیا اور فرح گوگی یہ گھڑی لے کر ان کے پاس آئيں، جب تصدیق کے لیے متعلقہ برانڈ کے شو روم سے رابطہ کیا تو وہاں سے پتا چلا کہ یہ اصلی گھڑی ہے جو سعودی فرمانروا نے آرڈر پر بنوائی تھی۔

    واضح رہے کہ عمر فاروق ظہور نے انکشاف کیا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، (وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی) فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔

    ترکیہ میں سویڈن کے اعزازی قونصل خانے پرفائرنگ،عملے کی خاتون شدید زخمی

    ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ قیمتی گھڑی فخر کے ساتھ خریدی تھی کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس پر ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر ہے، بطور پاکستانی یہ گھڑی میرے لیے کسی کوہ نور کے ہیرے کی طرح قیمتی اور منفرد تھی اور جب مجھے یہ پتہ چلا یہ گھڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے تو میں کسی صورت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ جس طرح بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دبئی کی مارکیٹس میں اس گھڑی کی مارکیٹنگ کی گئی تھی اس کے لیے مجھے خدشہ تھا کہ یہ گھڑی غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتی ہے-

    عمر فاروق ظہور نے کہا تھا کہ میں نے یہ گھڑی اس کے وقار اور انفرادیت کی وجہ سے خریدی، یہ ایک محدود ایڈیشن ہے اور یہ گھڑی دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس میں ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر موجود ہے، میں اپنے پاس اس گھڑی کی موجودگی کے باعث خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھتا ہوں کیوں کہ اس میں ایک روحانی عنصر ہے-

    شیریں مزاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑی کو پوری قوم کی قیمتی ملکیت بنانے کا تصور کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،جب میں نے دبئی مال میں گراف شاپ پر گھڑی دیکھی اور اس کی صداقت کا جائزہ لیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک پاکستانی وزیر اعظم یا پھر کوئی حکومت ایسا قیمتی تحفہ کیوں فروخت کرتا چاہتی ہے؟ ایسی گھڑی جس کی قیمت کے ساتھ انتہائی مذہبی اور جذباتی قدر بھی جڑی ہو جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو وہ بالاخر اتنا قیمتی ٹکڑا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ایک عام پاکستانی اور سعودی عرب کے لیے بطور اظہار تشکر اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ گھڑی اس کے حقیقی مالک کو واپس کرنا چاہوں گا تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے،’میں ساری عمر اس مقدس گھڑی کا مالک ہونے پر فخر محسوس کروں گا لیکن اگر اسے واپس کرنے سے یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے اورپاک سعودیہ تعلقات میں مدد ملتی ہے تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ عراق پہنچ گئے

  • عدالتوں سے اسٹے واپس لیں، ایک ہفتے میں فیصلہ سنا دیں گے،الیکشن کمیشن

    عدالتوں سے اسٹے واپس لیں، ایک ہفتے میں فیصلہ سنا دیں گے،الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی چیرمین کا توہین الیکشن کمیشن کا معاملہ ،ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے کیس کا ریکارڈ نہیں ملا صرف ایک کیس کا ریکارڈ ملا ہے ، ممبر سندھ نثار درانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں آپ کو آور تاریخ دی جائے ،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں قآنون کو فالو کرنا ہوتا ہے ،ممبر پنجاب بابر حسن بھروآنہ نے کہا کہ آپ کو کب کی تاریخ چاہئے، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی، 22 اگست کوفرد جرم عائد کریں گے

    توہین الیکشن کمیشن کا معاملہ، اسد عمر نے کہا کہ بائیس اگست کو تقریباً الیکشن کا شیڈول آجائے گا، ایک بڑی سیاسی جماعت کو الیکشن کے دوران کیسز کی سماعت سے کیا تاثر جائے گا، الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم تو کیس کو نمٹانا چاھتے ہیں،

    فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی، وکیل فیصل چوہدری نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کردی،ممبر اکرام اللہ خان نے کہاکہ فواد چوہدری نے تو آج معافی نامہ جمع کرانا تھا، ممبر نثار درانی نے کہا کہ اسد عمر کے وکیل نے طبی بنیادوں پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے، اسد عمر نے کہا کہ اس کیس کے قانونی پہلو وکلاء بہتر بتائیں گے،پاکستان اس وقت الیکشن کی طرف جارہا ہے،شفاف الیکشن جمہوریت کیلئے انتہائی ضروری ہے، ممبر نثار درانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے کیلئے پُرعزم ہے، اسد عمر نے کہا کہ 22 اگست تک الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کرنا ہے،الیکشن شیڈول کے وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف کیسز سے کیا تاثر جائے گا،

    ممبر نثار درانی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہیے وہ اداروں کو کتنا مضبوط کر رہے ہیں، الیکشن کمیشن ایک سال سے یہ کیسز چلا رہا ہے،ممبر اکرام اللہ خان نے کہاکہ فریقین کی جانب سے اسٹے لیے گئے، استثنیٰ کی درخواستیں دیں، ممبر نثار درانی نے کہا کہ سیاستدانوں نے ملک کو چلانا ہے ان کو سوچنا ہوگا، الیکشن کمیشن اس کیس کو ایک ماہ میں نمٹا سکتا تھا، ممبر اکرام اللہ خان نے کہا کہ عدالتوں سے اسٹے واپس لیں، ایک ہفتے میں فیصلہ سنادیں گے، الیکشن کمیشن نے اسد عمر اور فواد چوہدری کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    توہین کا اختیار صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو ہے ،اسد عمر
    اسد عمر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہاکہ اس کیس کے مختلف پہلو ہیں، توہین کا اختیار صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو ہے ، اسمبلی کے صرف دس دن رہ گئے ہیں ،الیکشن کمیشن ایسا ہو کہ تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتماد ہو ، ایک طرف الیکشن شیڈول جاری ہو رہا ہو گا تو دوسری پی ٹی آئی کے خلاف کیس کی سماعت ہو گی،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، عطا تارڑ

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، عطا تارڑ

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطاتارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے ،جب ٹرائل کورٹ فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج ضرور کیا جاتا ہے، تکنیکی بنیادوں پر میرٹ پر بحث نہ کرنی ہو تو پھر کسی حیلے بہانے سے سٹے آرڈر لینے کی کوشش کرتے ہین، آج جب سماعت ہوئی تو بہت سارے سوال کئے گئے جس کا نہ ملزم کے پاس جواب تھا نہ کسی اور کے پاس،توشہ خانہ کے تحائف لینے پر سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں لئے تھے مگر کسی کو دیے دیئے تھے، تحائف بیچے تھا جواب میں کہا کہ ہاں بیچے تھے مگر میں نے نہیں کسی اور نے بیچے تھے،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ تحائف کے حوالہ سے کہا جاتا تھا کہ انکو ہوا نہیں لگنے دینی، کسی کو دیکھنے نہیں دینا ملازمین کی ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی تھی، اب جب سوال کیا جاتا ہے تو جواب نہیں دے رہے، روز دو گھنٹے قوم کو لیکچر دیا جاتا ہے ،اخلاقیات پر، اپنے آپ کو امت کا لیڈر کہتے ہیں، یہ نہیں بتا رہے کہ تحائف کی رقم کہاں استعمال ہوئی، ضروری عمل ہے کہ پتہ کروایا جائے کہ یہ رقم کہان خرچ کروائی، دوسروں کو باتیں کرتے تھے کہ رسیداں کڈھو، آج جعلی رسیدیں بنانے پر مجبور ہیں، دفاع میں کوئی بات نہیں کر سکے، پوری پوری مہم پانامہ کے اوپر چلتی رہی، نواز شریف بیٹی کی انگلی پکڑکر جیل میں گئے، یہ تو جیل جانے سے بچنے کے لئے ہر روز بہانے کر رہے ہیں، انتہائی افسوسناک امر ہےکہ بہانے بازی کی جا رہی ہے، چوری پکڑی جا چکی،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ایک کل کیس دائر کیا گیا یہ پاکستان کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے، وکلاٰ چیف جسٹس سے کمرہ عدالت میں کھڑے ہو کر استدعا کریں ، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ٹرائل کورٹ کو دو بار کہہ چکے کہ مقدمہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ ٹرائل روکا جائے لیکن مسترد ہوئی،سپریم کورٹ گئے دو رکنی بینچ نے کہا کہ ٹرائل کے اندر مداخلت نہیں کی جا سکتی، معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیجا اب دوسری بار درخواست کیوں؟ کیا یہ قانون کے مطابق جائز ہے؟ کہ ہر سائل سپریم کورٹ دوران سماعت جب ٹرائل کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہو وہ فکس کر دے، آؤٹ آف دا وے نمبر کیسے الاٹ ہوتا ہے؟ یہ واحد ملزم ہے صبح درخواست ڈالتا ہے دوپہر کو نمبر الاٹ ہو جاتا ہے، کیا عبوری حکم نامے کے خلاف دو بار سپرہم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے، پہلے یہ گرفتار تھے تو طریقہ گرفتاری کو بہانہ بنا کر رہا کیا گیا جو جسمانی ریمانڈ پر تھا، پہلے ایسے ملزم کو کبھی رہائی نہین ملی، جسمانی ریمانڈ پر ملزم تحقیقاتی ادارے کے پاس ہے اسکو گڈ ٹو سی یو کہا جا رہا ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ اسکا خیال رکھیں، یہ کیسا مزاق ہو رہا ہے کہ نواز شریف کے کیس میں ججزبیٹھتے ہیں اور مانیٹرنگ جج بھی ہوتا ہے، ادھر الٹی گنگا بہہ رہی ہے، سپریم کورٹ عبوری حکم نامے کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقرر کرتی ہے، نمبر بھی الاٹ کر دیتی ہے، ایک توشہ خانہ کا کیس ہے، تکنیکی بنیادوں پر نو درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو سپریم کورٹ میں دے چکے باوجود اسکے کہ ٹرائل کورٹ کا ابھی تک فیصلہ نہیں آیا،اتنا آؤٹ آف دا وے فیور کیوں کیا جا رہا ہے، شکر کرویہ نہیں کہہ دیا کہ توشہ خانہ ہوتا کیا ہے؟ آج کہتے رہے مجھے کچھ نہیں پتہ

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بندہ جب وزارت عظمیٰ کی کرسی پر ہوتا ہے تو تحائف کو بیچنا اور رقم کو زاتی استعمال میں لانا حق سمجھتے ہیں، عام پاکستانی شہری کے ساتھ اور سلوک آپکے ساتھ اور سلوک یہ ممکن نہیں، حساب تو دینا ہی ہو گا

    ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آپ اپنا جواب دیں لیکن فوج کے ادارے کو کیوں لا رہے،؟ اس کیس میں فوج کو بھی ڈال دیا گیا، سارا ملبہ سٹاف پر ڈالنا یہ چھوٹے پن کی نشانی ہے،

  • 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل،عمران خان، بشریٰ کی ضمانت میں توسیع

    190 ملین پاؤنڈ سکینڈل،عمران خان، بشریٰ کی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت: 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل ، توشہ خانہ نیب کیسز کی سماعت ہوئی

    خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ہم سیشن عدالت میں تھے ،مسلسل ہمیں وہاں جانا پڑتا ہے ، 12 کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ دیں ، عدالت میں مصروفیت کی وجہ سے اپنی فیملی کو بھی وقت نہیں دے پاتا ، 23 کو میرا بیٹا آیا ہے ابھی تک اس سے ملاقات بھی نہیں ہوئی ،جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ رکھ لیتے ہیں حتمی دلائل کے لیے، سردار مظفر نے کہا کہ ہر تاریخ پر یہ نئی تاریخ دیتے ہیں ،خواجہ حارث نے کہا کہ پھر آج بحث کرلیں کوئی تو بات ٹھیک کیا کریں ، جج محمد بشیر نے کہا کہ وقت بہت زیادہ ہوگیا ہے ، ٹائم تو دیکھیں ،چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں 9 اگست تک توسیع کر دی گئی

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    فوجی عدالتیں،102 افراد کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمرعطاء بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے فیصل صدیقی کی فل کورٹ کیلئے درخواست ہے، ایک درخواست خواجہ احمد حسین کی بھی ہے،وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میرے موکل چاہتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ چیف جسٹس نہ لگایا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، فیصل صدیقی کے آنے تک خواجہ احمد حسین کو سن لیتے ہیں،وکیل خواجہ حسین احمد وکیل درخواست گزارنے کہا کہ میرے موکل سابق چیف جسٹس ہیں ،میرے موکل کی ہدایت ہے کہ عدالت میرے ساتھ خصوصی برتاوکی بجائے عام شہری کی طرح کرے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے، کیا فیصل صدیقی صاحب چھپ رہے ہیں،

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے فوج کی تحویل میں موجود 102 افراد کی فہرست عدالت میں پیش کردی ،فہرست کے ساتھ نو مئی کو حملے کی جگہوں کا بھی بتایا گیا ہے ،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ زیر حراست سات ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں، تین ملزمان نے آرمی انسٹیٹیوٹ پر حملہ کیا، ستائیس ملزمان نے کور کمانڈر ہاوس لاہور میں حملہ کیا،چار ملزمان ملتان، دس ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں، آٹھ ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، پانچ ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں،چودہ ملزمان چکدرہ محلے میں ملوث ہیں،سات ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا،تین ملزمان ایبٹ آباد، دس ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں،زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کمیرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں بہت سارے لوگ ملوث تھے،عدالت نے کہا کہ کس طرح فرق کیا گیا کہ یہ لوگ آرمی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجی مجسموں کو گرانے کے سلسلے کسی کو نہیں اٹھایا گیا کیونکہ یہ کسی جرم کی ذیل میں نہیں آتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کا کورٹ مارشل کیا جانا چاہیئے،ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آپ کا دعوی سچائی پر مبنی ہے کہ نہیں، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں ایک معاملہ اٹھایا گیا کہ جس طرح سویلینز کو تحویل میں لیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم صرف آئین کی خلاف ورزی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پک اینڈ چوز کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پک اینڈ چوز نہیں کیا بہت احتیاط برتی گئی،جو لوگ براہ راست ملوث تھے انہیں ہی ملٹری کورٹس بھیجا گیا،کور کمانڈر ہاوس میں جو لوگ داخل ہوئے انہیں ملٹری کورٹس بھیجا گیا،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں ، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری ریکارڈ پر موجود ہے سر،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی حکومت ان 102 افراد کا حکومت کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف تنصیبات کے اندر جانے والوں کو ہی حراست میں لیا گیا ہے، تمام گرفتار ملزمان کیخلاف براہ راست شواہد موجود ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فورم پر شواہد پیش ہونا چاہیئے جو حکومتی دعوے کو پرکھ سکے،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ قانون اجازت نہیں دیتا کہ مجمع میں سے صرف چند افراد کا انتخاب کیا جائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرگودھا میں مجسموں کو نقصان پہنچانے والے کسی کو فوج نے حراست میں نہیں لیا،فوجی تنصیبات اور گورنر ہاوس میں آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کو ہی پکڑا گیا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ کے آرڈر میں ملزمان کو ملٹری کورٹس بھیجنے کی وجوہات کا ذکر نہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے ملزمان کے خلاف مواد کے نام پر صرف فوٹو گراف ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان سوالات پر آپ پوری طرح تیار نہیں ،ہمارے سامنے ابھی وہ معاملہ ہے بھی نہیں ہم نے معاملے کی آئینی حیشت کو دیکھنا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے ایک درخواست اپنے موکل کی طرف سے فل کورٹ کی دی ہے، ہم پہلے فیصل صدیقی کو سن لیتے ہیں، فیصل صدیقی نے فل کورٹ بینچ کے تشکیل دینے کی درخواست پر دلائل شروع کردئیے،فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بنچ پر جو اعتراضات اٹھائے گے ہماری درخواست کا اس سے تعلق نہیں، پہلے میں واضح کرونگا کہ ہماری درخواست الگ کیوں ہے، سیاست دانوں اور وزراء کی جانب سے عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے،جب اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ ہو تو فل کورٹ بنانی چاہئے،فل کورٹ کا بنایا جانا ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے تو فل کورٹ کیسے بنائیں،فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب ایف بی علی کیس میں ہے،

    سپریم کورٹ کا فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواستیں پہلے سننے کا فیصلہ
    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے اگر ایک جج کیس سننے سے انکار کرے تو اسے وہ کیس سننے کا نہیں کہا جاسکتا ہے،عدالتی تاریخ میں ملٹری کورٹس کیسز فل کورٹ نے ہی سنے ہیں،حکومت کا سپریم کورٹ کیلئے توہین آمیز رویہ ہے،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن تین ججز کی آپ بات کر رہے ہیں انہوں نے ملٹری کورٹس کیس سننے سے انکار نہیں کیا، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جس انداز میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا حل نکالنا چاہیے، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر درخواست گزاران کا بھی یہی موقف ہے، ،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کر رہا ہوں اگر کچھ ماہ کی تاخیر ہوجائے تو مسلہ نہیں،

    فل کورٹ بنے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنچ جلد کسی رائے پر پہنچ گیا تو 15 منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے،

    درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی ،سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہمیں اس بینچ پو مکمل اعتماد ہے ،عدالت نے تمام دستیاب ججوں کو بینچ میں شامل کیا تھا،دو ججوں کے اٹھ جانے کے بعد یہ ایک طرح کا فل کورٹ بینچ ہی ہے، میں خود 1980 میں 80 دیگر وکلاء کے ساتھ گرفتار ہور تھا،ہم مارشل لاء کے خلاف کھڑے ہوئے تھے دو ججز اٹھنے سے کوئی تنازعہ موجود نہیں 102 افراد کو ملٹری کے بجائے جوڈیشل حراست میں رکھا جائے ،اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم نے بھی فل کورٹ کا کہا تھا مگر دو ججز بینچ چھوڑ گئے اور ایک پر اعتراض کیا گیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بینچ اس کیس میں جلد کسی رائے پر آجاتے ہے تو پندرہ منٹ میں آگاہ کردیا جائے گا ،اگر فیصلہ میں تاخیر ہوئی تو وکلا کو اگاہ کردیا جائے گا ہم ججز آپس میں مشاورت کریں گے ،اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو کل مقدمے کی سماعت کریں گے اگر آج تاخیر ہوئی تو دفتر آپکو آگاہ کردے گا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ کمرہ عدالت اٹھ گیا ،سول سوسائٹی کی جانب سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی

    سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل معاملہ ،مقدمہ فل کورٹ سنے گی یا موجودہ 6 رکنی بینچ محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا ،رجسڑار سپریم کورٹ نے کیس کی کاز لسٹ جاری کردی ،کل دن بارہ بجے سپریم کورٹ کا چھ رکنی بینچ فیصلہ سنائے گا

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہواکہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکن شرپسند عاشق خان کو گرفتار کیا تھا جو جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھا، عاشق خان نے جلاؤ گھیراؤ کے دوران نہ صرف پاک فوج کے خلاف نعرے لگائے بلکہ کارکنان کو حملے کے لئے بھی اکسایا، عاشق خان نے حملے کے لئے لوگوں کا کہا کہ میں کورکمانڈر ہاؤس کی جانب گامزن ہوں اس پر حملہ کریں، عاشق نے اعتراف کیا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر زمان پارک میں طے ہوا تھا کہ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کرنا ہے حملے کی ہدایات ہمیں زمان پارک میں پہلے سے ملتی رہیں، جب سے پی ٹی آئی کی حکومت گئی پاک فوج کے خلاف ہماری ذہن سازی کی جاتی رہی تھی ہمارے ذہن میں فوج کے خلاف نفرت کو ابھارا جاتا رہا ہمارے ذہنوں میں فوج کیلئے نفرت بھری گئی ۔ یہی سوچ ہمیں کورکمانڈر ہاؤس لے گئی اور ہم حملہ آور ہو گئے

    جناح ہاؤس حملے میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ملوث ہے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھیں، ایک شرپسند کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں شرپسند نے اپنے جرم کا اعتراف کیا حاشر درانی کا تعلق بھی لاہور سے ہی تھا اور اس نے ویڈیو بیان میں کہا کہ جناح ہاؤس میں دوران حملہ میں انقلاب کے نعرے لگاتا رہا جس میں انقلاب مبارک ہو اور آزادی مبارک ہو کے نعرے شامل تھے

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • نومئی واقعات،عمران خان کو جے آئی ٹی نے چوتھی بار طلب کر لیا

    نومئی واقعات،عمران خان کو جے آئی ٹی نے چوتھی بار طلب کر لیا

    نو مئی کو جناح ہاوس پر حملہ اور جلاو گھیراو کا معاملہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی کو طلب کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی کو جمعہ کے روز طلب کیا گیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو تمام نامزد مقدمات میں طلب کیا گیا ہے،ر چِیئرمیں پی ٹی آئی کو جے آئی ٹی نے چوتھی مرتبہ طلب کیا ہے، عمران خان صرف ایک مرتبہ اب تک پیش ہوئے اور اس پیشی کے دوران جے آئی ٹی کے ممبران کو دھمکانے پر ان کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں رپٹ درج ہے ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار