Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بانی پی ٹی آئی  کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی، حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

  • بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران  خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    بین الاقوامی کرکٹ کے سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے

    14 سابق کپتانوں نےعمران خان کی ہیلتھ کیئر پٹیشن پر دستخط کر دیئے ہیں،جن میں بارڈر، چیپلز، گواسکر، کپل ڈویلپمنٹ، اسٹیو وا، ناصر حسین، مائیک ایتھرٹن، کلائیو لائیڈ ،بیلنڈا کلارک آسٹریلوی خواتین کی سابق کپتان شامل ہیں-

    دنیا بھر کے سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قید اور صحت سے متعلق خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے فوری توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بطور کپتان انہوں نے پاکستان کو 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی فتح دلائی، جو مہارت، استقامت، قیادت اور کھیل کے اعلیٰ جذبے کی روشن مثال تھی اور جس نے سرحدوں سے بالاتر ہو کر نسلوں کو متاثر کیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ دستخط کرنے والے سابق کپتانوں میں سے کئی نے عمران خان کے خلاف میدان میں مقابلہ کیا، ان کے ساتھ کرکٹ کھیلی یا ان کی ہمہ جہت صلاحیتوں، کرشماتی قیادت اور مسابقتی جذبے کو اپنا آئیڈیل بنایا۔ سابق کپتانوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سیاسی اختلافِ رائے سے قطع نظر عمران خان جمہوری طور پر منتخب ہو کر اپنے ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے۔

    بیان میں عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس، خصوصاً دورانِ حراست ان کی بینائی میں مبینہ طور پر تشویشناک کمی، اور گزشتہ ڈھائی برس کے دوران قید کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ ہمیں منصفانہ کھیل، عزت اور احترام کی وہ اقدار سکھاتی ہے جو میدان کی حد بندی سے کہیں آگے تک جاتی ہیں، اور عمران خان جیسے عالمی اسپورٹس آئیکون اور سابق قومی رہنما کے ساتھ باوقار اور انسانی سلوک کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور انہیں اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی اور باعزت حراستی حالات مہیا کیے جائیں، جن میں قریبی اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقات کی سہولت بھی شامل ہو۔ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ انہیں قانونی کارروائیوں تک منصفانہ اور شفاف رسائی دی جائے اور کسی غیر ضروری تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

    سابق کپتانوں کا کہنا تھا کہ کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ میدان میں مقابلہ ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے اور عمران خان نے اپنے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔ یہ اپیل کھیل کے جذبے اور مشترکہ انسانیت کے تحت کی گئی ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قانونی کارروائی پر اثر انداز ہونا نہیں ہے۔

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ اس نے اپنے دور حکومت میں کس قدر بے رحمی کا ارتکاب کیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں حقائق جانے بغیر پاکستانیوں کے عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں،اگر کچھ ہے تو ان کو بتایا جائے جس نے قیوم رپورٹ کو احسان مانی نے کالعدم قرار دیا جس نے میچ فکسرز کو پی سی بی کے دائرے میں واپس آنے دیا-

    ایس پی گواکسر اور کپل دیو جنہوں نے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان کو شکست دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا،ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت خان کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟کیا انہوں نے جیل مینوئل پڑھا ہے؟ اور کیا وہ جانتے ہیں کہ خان کو سلاخوں کے پیچھے کیوں دھکیلا گیا ہے؟اور کیا وہ خان کی بے رحم حکومت سے واقف ہیں جہاں اس کی مدد کرنے والے ہر شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا اور اس کا نشانہ بنایا گیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے اورپاکستان کے اندرونی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں۔

  • ذہن میں کبھی ایسی بات نہیں آئی کہ عمران خان کو جیل کی کسی سہولت سے محروم کریں،مریم نواز

    ذہن میں کبھی ایسی بات نہیں آئی کہ عمران خان کو جیل کی کسی سہولت سے محروم کریں،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ عمران خان کہتے تھے کہ جیل میں قید نواز شریف کے سیل کا اے سی نکلوادوں گا لیکن آج اقتدار ہمارے ہاتھ ہے تو بھی ہمارے ذہن میں کبھی ایسی بات نہیں آئی کہ عمران خان کو جیل کی کسی سہولت سے محروم کریں۔

    گجرات یونیورسٹی میں اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ جیل میں قید نواز شریف کے سیل کا اے سی نکلوادوں گا لیکن آج اقتدار نواز شریف کے ہاتھ میں ہے، ان کے بھائی وزیراعظم اور ان کی بیٹی پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے لیکن ہم تینوں کے ذہن میں کبھی ایسی بات نہیں آئی کہ عمران خان کو جیل کی کسی سہولت سے محروم کریں،سہولتوں سے محروم کرنا تو درکنار ان کے والد نے تو یہاں تک کہا تھا کہ عمران خان کے سیل میں صرف ایک اے سی ہے ان کو 2 اے سی دیے جانے چاہییں۔

    مریم نواز نے کہا کہ میں سیاست میں بھی نہیں تھی اس وقت عمران خان نے مجھے جیل میں ڈلوایا،نیب نے جب مجھے کرپشن کے جھوٹے الزام میں جیل میں ڈالا تو ان کے پاس خواتین کو رکھنے کی الگ جگہ نہیں تھی کیوں کہ میں پہلی خاتون تھی جس کو نیب نے قید کیا لہٰذا ان کو ایک کمرا خالی کرواکے مجھے رکھنا پڑا-

  • عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں حالاتِ زندگی سے متعلق 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق مقرر کردہ فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رپورٹس کے اہم نکات میں نمایاں مطابقت پائی گئی اور مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظاما ت کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ قید خانے کی حالت اطمینان بخش پائی گئی باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی کی تصدیق بھی کی گئی اور جیل احاطے میں درخواست گزار کی سکیورٹی کو محفوظ قرار دیا گیا۔

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    عدالت نے قرار دیا کہ 23 اور 24 اگست 2023 کے سابقہ حکمناموں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر مؤثر ہو چکا ہے5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھا سکتے ہیں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، جبکہ عدالت نے موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سیکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    حکمنامے کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراض چشم کی ٹیم کے ذریعے طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 فوجداری درخواستوں پر غور کیا گیا یہ درخواستیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

  • عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے عمران خان کی دائیں آنکھ میں علاج کے بعد واضح بہتری آئی ہے معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی فیملی کو بھی بریفنگ دی ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کے علاج اور ریکوری کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو آنکھ میں درد کی وجہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے عمران خان کی آنکھ متاثر ہونے کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

    میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد

  • عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی عینک کے ساتھ 70 فیصد ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی 6/6 قرار دی گئی ہے۔

    شیخوپورہ بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آج کل بہت شور ہورہا ہے کہ پتا نہیں عمران خان کو کیا ہوا ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر دوبارہ طبی معائنہ ہوا جس کے مطابق ایک آنکھ کی بینائی عینک کے ساتھ 70 فیصد ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی 6/6 قرار دی گئی ہے، موٹر ویز اور جی ٹی روڈ کی بندش غیر آئینی ہے، ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانا ہر شہری کا حق ہے-

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو آئین اور قانون کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے، ایسا نہ ہوا تو وفاق کو ایکشن لینا پڑے گا، چیئرمین بیرسٹر گوہر کو یقینی بنانا چاہیے کہ صو بائی حکومت آئین کی پاسداری کرے،معالجین کی ٹیم نے جاری علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن قیادت اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو بھی تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے۔

    وزیرِ قانون نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت میں کیے گئے مشکل فیصلوں کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں اور معیشت بہتری کی سمت بڑھ رہی ہے پائیدار معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے، کیونکہ ریاست پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل ہے جن میں گلگت بلتستان اور کشمیر بھی شامل ہیں، وکلاء برادری کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دی جا رہی ہےمؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے بار اور بینچ کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون انتہائی ضروری ہے-

  • نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر پر علیمہ خان نے وضاحتی بیان جاری کیا ہے-

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ معروف اخبار کی جانب سے نورین نیازی کے نام سے منسوب ایک جعلی اکاؤنٹ کی خبر کو بغیر تصدیق صفحہ اول پر شائع کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہےاس عمل سے نہ صرف سنگین سوالات جنم لیتے ہیں بلکہ حکومت کی نیت اور زیر گردش معلومات پر اعتماد بھی مزید مجروح ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خاندان کا مؤقف ابتدا سے واضح اور یکساں ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر کے مکمل طبی معائنہ اور علاج فراہم کیا جائے،بانی کے ذاتی معالجین پہلے ہی حکومت کو قابل قبول ماہر ڈاکٹروں کے متعدد نام فراہم کر چکے ہیں-

    میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    علیمہ خان نے کہا کہ کسی بھی قسم کے ٹیسٹ اور علاج صرف اسی صورت قابل قبول ہوں گے جب وہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور خاندان کے نمائندے ڈاکٹر نوشیرواں برکی کی جسمانی موجودگی اور نگرانی میں کیے جائیں،پہلے ڈاکٹر عظمیٰ خان کو خاندان کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا گیا تھا، تاہم آگاہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی کسی بھی بہن کو موجود رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ذاتی معالج اور خاندان کے نمائندے کی موجودگی کی مزاحمت انتہائی تشویشناک اور ناقابل قبول ہے علیمہ خان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کے نمائندے کی جسمانی موجودگی کے بغیر حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے، علاج یا صحت سے متعلق کسی بھی دعوے کو قطعی طور پر مسترد کیا جائے گا۔

  • میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کرنے والی میڈیکل ٹیم نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیکل ٹیم نے اتوار کے روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ٹیم نے سابق وزیرِ اعظم کی دائیں آنکھ کے علاج کو تسلی بخش قرار دیا اور بتایا کہ علاج کے نتیجے میں حالت میں بہتری آئی ہے جبکہ مکمل صحتیابی کا بھی امکان موجود ہے.

    ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں تقریباً ایک گھنٹے تک پی ٹی آئی بانی کا طبی معائنہ کیا ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اپنی تفصیلی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد حکومت کو پیش کریں گے،اس سے قبل 5 رکنی پینل نے آنکھوں کا معائنہ کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا ٹیم میں ڈاکٹر رفعت، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے پی ٹی آئی قیادت کے نمائندوں کا تقریباً ڈھائی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد معائنہ شروع کیا، تاہم طبی جانچ کے دوران کوئی بھی پی ٹی آئی رہنما موجود نہیں تھا اس سے قبل جیل سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی تھی کہ ڈاکٹر طبی آلات اور ادویات کے ہمراہ جیل پہنچے تھے اور جلد ایک مفصل رپورٹ تیار کی جائے گی، پی ٹی آئی بانی کے علاج سے متعلق ابتدائی طبی رپورٹ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی گئی ہے۔

  • عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے اور آنکھ کے گرد سوجن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    نورین خانم نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ اتوار کی دوپہر Imran Khan کا طبی معائنہ Adyala Jail کے اندر کیا گیا، جہاں خصوصی طور پر slit lamp، OCT scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس بھی موقع پر پہنچائی گئی۔

    ڈاکٹر عارف (PIMS) اور ڈاکٹر ندیم قریشی (الشفا) نے جیل کے اندر فزیکل ایگزامینیشن کی بعد ازاں انہوں نے سینئر ڈاکٹروں کو اپنی رپورٹ سے آگاہ کیا، جن میں ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا شامل تھے جو کانفرنس کال کے ذریعے شریک ہوئے، بیرسٹر گوہر بھی اس تمام پیشرفت سے آگاہ ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق!سوجن میں کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے، تاحال کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی،تاہم Shifa International Hospitals کے ڈاکٹرز اب بھی محتاط ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو شفا منتقل کیا جائے گا، انہیں وہاں نہیں لایا گیا شفا کے ریٹینا اسپیشلسٹس جن میں ڈاکٹر امیر اعوان بھی شامل ہیں آج رات دیر تک اسٹینڈ بائی رہے، مگر عمران خان کو منتقل نہیں کیا گیا

    Eylea انجیکشن کی ایک ڈوز دی جا چکی ہے، جبکہ دوسری ڈوز 25 فروری کو دی جائے گی، ماہرین بشمول ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق Vabysmo زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو سکتا ہے، اور یہ رائے PIMS کے CEO اور ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی تک پہنچا دی گئی ہے تاہم فی الحال Eylea ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

    اگلا مرحلہ angiogram کا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ لیزر ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے یا نہیں،عمران خان کی دائیں آنکھ کی صحت سے متعلق ہماری تشویش برقرار ہے، اور شفافیت کے ساتھ خان صاحب کی زاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج کی جائے-