Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • دو بچوں کا نام دینا اورایک کا نہ دینا یہ بھی بد دیانتی کے زمرے میں آتا ہے،وکیل

    دو بچوں کا نام دینا اورایک کا نہ دینا یہ بھی بد دیانتی کے زمرے میں آتا ہے،وکیل

    مبینہ بیٹی کی تفصیلات کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کا الزام ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان نااہلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار ساجد حسین کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ دو بچوں کا نام دینا اور ایک کا نہیں دینا یہ بھی بد دیانتی کے زمرے میں آتا ہے ،یعنی کہ بیان حلفی میں غلط معلومات فراہم کئے گئے ہیں، حامد علی شاہ نے عمران خان کی طرف سے 2018 میں جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھ کرسنایا ،حامد علی شاہ نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے بیان حلفی میں بیٹوں کی تفصیلات جمع کرائی گئیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پر لفظ زیر کفالت ہی ہے، بچے کا نہیں لکھا گیا ،اگر کوئی بچہ زیر کفالت نہیں تو اس کے کیا اثرات ہونگے ؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بیٹوں کی تفصیلات اس لیے دی کیونکہ وہ پہلے زیر کفالت تھے ، حامد علی شاہ نے کہا کہ پہلے زیر کفالت تھے تو اب ان کی تفصیلات کیوں دے رہے ہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے استفسار کیا کہ اگر ان دو بیٹوں کے نام بھی نہیں ہوتے تو کیا ہوتا ؟

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • دہشتگرد چھپ کرہی عدالت آتے،وقت دورنہیں منہ چھپا کرآنا پڑے گا،مریم اورنگزیب

    دہشتگرد چھپ کرہی عدالت آتے،وقت دورنہیں منہ چھپا کرآنا پڑے گا،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ دہشتگرد چھپ کر ہی عدالت آتے ہیں، وقت دور نہیں منہ چھپا کر آنا پڑے گا پولیس کے سر توڑنے، پٹرول بم پھینکنے، جوڈیشل کمپلیکس پہ مسلح جتھوں سے حملہ آور ہونے کے بعد بیوی تمہاری ڈر گئی؟ مریم نواز کے نیب سیل میں کیمرہ لگا کر اپنے موبائل پہ دیکھتے تھے، اُس وقت شرم اور حیا تھی؟

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز کے بیڈ روم میں رات کو گھسنے کا آرڈر دیتے شرم آتی تھی؟شہباز شریف کی بیٹی کے گھر نیب کوحملہ کرنے کا حکم دیتےشرم آتی؟فریال تالپور کو عید پر ہسپتال سے گھسیٹ کر لاتے ہوئے اور مسجدِ نبوی اور لندن میں مجھ پرحملہ کراتےشرم آئی؟ پنکی باجی کو ہیرے،انگوٹھیاں لیتے ڈر لگا اور چیخیں نکلتی تھیں؟

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پولیس اورعدالت پر مسلح جتھوں کے حملوں کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،جے آئی ٹی بنانے کا اقدام اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ،ہائی پاورڈ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سمری تیار کرلی گئی ،وزارت داخلہ جے آئی ٹی کی تشکیل کی سمری آج وزیراعظم کو بھجوائے گی ،جے آئی ٹی میں وزارت داخلہ، پولیس کے سینئرافسر شامل ہوں گے،جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے، جے آئی ٹی7 دِن میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی،جے آئی ٹی جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں پولیس پر تشدد کی تحقیقات کرے گی،پیٹرول بم حملوں،عسکریت پسندوں سے متعلق حقائق جمع کیے جائیں گے جے آئی ٹی عوام کو اکسانے، تشدد پر بھڑکانے کے ذمہ داروں کو تعین کرے گی،جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کرے گی

    میری بیوی پردہ کرتی ہے شیشے کے پیچھے تھیں پولیس نے شیشے توڑ دئیے میری بیوی نے شیشے ٹوٹنے پر چیخیں ماریں،عمران خان کا عدالت میں بیان

    کے پی کے میں پی ٹی آئی حکومت نے پانچ ہزار سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے نام پر اپنے ورکرز بھرتی

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

  • عمرا ن خان کی دو مقدموں میں ضمانت منظور،زمان پارک آپریشن کیس کی سماعت بھی ملتوی

    عمرا ن خان کی دو مقدموں میں ضمانت منظور،زمان پارک آپریشن کیس کی سماعت بھی ملتوی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمرا ن خان لاہورہائیکورٹ پہنچ گئے

    عمران خان کی گاڑی کے پاس سے پسٹل برآمد کر لیا گیا، عمران خان کمرہ عدالت پہنچ گئے، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کی گاڑی کے پاس سے پستول برآمد کیا گیا ہے،پولیس نے پستول قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ پسٹل ممکنہ طور پر کسی پولیس اہلکار کا ہے جو گاڑی پاس گرا،

    پی ٹی آئی کارکن بھی عمران خان کے ہمراہ ہیں،جو عمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے،عمران خان 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے پولیس نے عمرا ن خان کو گیٹ پر روک لیا، بعد ازاں عمران خان دوسرے دروازے کی جانب گئے، عمران خان جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے والے دروازے سے لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہوئے،عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ پہنچ کر فواد چودھری کو گاڑی کے اندر بلا لیا ، بعد ازاں عمران خان گاڑی سے عدالت جانے کے لئے اترے تو عمران خان کو گاڑی سے اترنے اور عدالت جانے سے قبل بلٹ پروف جیکٹ پہنائی گئی ایک شخص مسلسل بکتر بند ڈھال سامنے لے کر چلتا رہا

    عدالت نے عمران خان کے گارڈز کو باہر جانے کا حکم دے دیا
    دہشت گردی کے 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ،عمران خان جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے ،فواد چودھری اورایڈووکیٹ اظہر صدیق عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ گارڈز کس کے ہیں عمران خان کے ساتھ،اگر پولیس کے ہیں تو ٹھیک پرائیویٹ گارڈز ہیں تو باہر جائیں،فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ سر یہ خان صاحب کی ذاتی سکیورٹی ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے ذاتی گارڈز کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنے کا حکم دے دیا،

    میری بیوی پردہ کرتی ہے شیشے کے پیچھے تھیں پولیس نے شیشے توڑ دئیے میری بیوی نے شیشے ٹوٹنے پر چیخیں ماریں،عمران خان کا عدالت میں بیان
    دوسری جانب عمران خان کی رہائش گاہ پر پولیس آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نےعمران خان کی درخواست پر سماعت کی ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان روسٹرم پر آگئے ،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد میں تھا زمان پارک میں آپریشن کر دیا، عدالتی حکم کے باوجود میرے گھر پر آپریشن کیا گیا میری بیوی پردہ کرتی ہے شیشے کے پیچھے تھیں پولیس نے شیشے توڑ دئیے میری بیوی نے شیشے ٹوٹنے پر چیخیں ماریں، اس سے متعلق ویڈیوز میں بھی موجود ہے گھر کی ساری فوٹیج ریکارڈ پر موجود ہے، عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ،عدالت نےسرکاری وکیل کو زمان پارک آپریشن سے متعلق ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کر دی،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو عدلیہ کو مذاق بنا رہے ہیں انکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کروں گا،اگر فریقین نے عدلیہ کی عزت نہ کی تو پھر توہین عدالت کی کارروائی کروں گا ، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ چار دیواری کا تقدس پامال ہوا ،میرے 5 گارڑز کو پکڑ کر لے گئے اور تشدد کیا ،آج چھپ کرعدالت پہنچا ہوں ،اس گاڑی میں آیا جس کو کوئی نہیں جانتا ،میں اسلام آباد ٹول پلازہ پر پہنچا تو انہیں نے میرے گھر پر حملہ کردیا حکومت نے دنیا کو یہی پیغام دیا کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوتی ہے ، صرف قانون کی بات کرتے ہیں،

    وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان پر درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے مہلت دے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں کوئی حکم جاری کرتا ہوں تو آپکو مسئلہ ہوگا ،میرے پاس صرف مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی حد تک درخواست ہے وہ دیں ،عدالت نے مقدمات کی تفصیل کے حوالے سے وفاق کے وکیل سے بیان حلفی طلب کرلیا ، عالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دو دن میں تفصیل اکٹھی کرلیں اور ساتھ درخواست گزار کو ریلیف دیں ،یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ تاخیر بھی کریں اور ریلیف بھی نہ دیں ،

    کمرہ عدالت سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان واپس جانے لگے تو عدالت نے روک لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس ہے اور آرڈر سن کر جائیں، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جی میں حاضر ہوں، لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کر دی

    پنجاب حکومت کے وکیل کا جسٹس طارق سلیم شیخ پرعدم اعتماد کا اظہار
    پنجاب حکومت کے وکیل کی جانب سے جسٹس طارق سلیم شیخ پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا گیا،اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے استدعا کی کہ کیس دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس بات پر آپکو عدالت پر اعتماد نہیں ہے، یہ تو پہلے کا فیصلہ ہے اگر اس طرح کا آئندہ معاملہ ہوا تو میں توہین عدالت کی کارروائی کروں گا ازخود نوٹس لیکر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے یہ کیس پہلے کا چل رہا ہے عدالتی حکم بھی پہلے کا ہے ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے پنجاب حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدلیہ کی توہین نہ کریں، ہم نے بار بار آپکو مقدمات کے ریکارڈ کے لیے نوٹسز کیے آپ مہلت مانگ رہے ہیں، واٹس ایپ کا جدید دور ہے آپ کاپی واٹس کے ذریعے مانگوا لیں، لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک آپریشن کے خلاف درخواست پر سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 2 مقدمات میں 27 مارچ تک ضمانت منظور کر لی
    بعد ازاں عمران خان دوسری عدالت میں پیش ہوئے، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی دونوں مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی، وکیل نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا تھا عمران خان وقت سے پہلے عدالت میں پہنچے ، جسٹس شہباز رضوی نے ہدایت کی کہ درخواستوں پر عمران خان کے دستخط کرائیں ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواستوں پر دستخط کر دیئے، جسٹس فاروق حیدر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حلف نامے پر بھی دستخط کرائیں ،عمران خان نے حلف نامے بھی پر دستخط کر دیئے،عدالت نے عمران خان کی دونوں مقدمات میں 27 مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ،عمران خان تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی کے مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے پیش ہوئے تھے

    پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے چادر اور چادیواری کا تقدس پامال کیا، پولیس نے توڑ پھوڑ کی،املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس نے 18 مارچ کو زمان پارک آپریشن قانون کے منافی کیا، پولیس نے بنیادی حقوق کی خلاف وزری کی ،لاہور ہائیکورٹ کے 17 مارچ کے احکامات کی خلاف وزری کی گئی، عدالت متعلقہ فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،

    سابق وزیراعظم کی عدالت پیشی سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے ارد گرد سکیورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری نے عدالتی احاطے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد کا عدالت میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    گزشتہ روز عمران خان نے اسلام آ باد میں درج مزید 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائرکی درخواست میں عمران خان کی جانب سے 15 روز کی حفاظتی ضمانت دینے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ متعلقہ عدالت میں پیشی کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے، درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کو سوا 2 بجے تک کمرہ عدالت میں پہنچنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس شہباز رضوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا کہ وہ آ رہے ہیں، راستے میں ہیں،کیا درخواستوں پر دستخط عمران خان کے ہیں ؟ درخواستوں پر عمرا ن خان کے دستخط تو سکین لگتے ہیں ، وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ دونوں دستخط عمران خان کے ہیں لیکن اسکینڈ ہیں ، جسٹس شہباز رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے لوگوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایک ہزار آدمی کیوں ساتھ جاتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ کل تک عمران خان کی درخواست پر کاروائی ملتوی کی جائے، عمران خان موجود نہیں ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپکو ریلیف چاہیے تو کل سوا 2 بجے تک کمرہ عدالت میں موجود ہونے چاہیے،

  • زمان پارک آپریشن،تحریک انصاف مقدمہ کیلئے عدالت پہنچ گئی

    زمان پارک آپریشن،تحریک انصاف مقدمہ کیلئے عدالت پہنچ گئی

    پی ٹی آئی نے سیشن کورٹ لاہور میں زمان پارک آپریشن کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر دی

    تحریک انصاف کی جانب سے مریم نواز، رانا ثنا اللہ، آئی جی پنجاب، سی سی پی او سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی گئی، درخواست زمان پارک کے کئیر ٹیکر اویس نیازی نے اپنے وکیل کی وساطت سے دائر کی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب نے زمان پارک آپریشن مریم نواز اور رانا ثنااللہ کے حکم پر کیا ، زمان پارک آپریشن کر کے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا پولیس کو واقعے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی لیکن درج نہیں کیا گیا ،سیشن کورٹ مریم نواز، رانا ثنااللہ سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے

    واضح رہے کہ عمران خان کی عدالت پیشی کے موقع پر پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کیا تھا ، اس دوران تحریک انصاف کے کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا تھا، پولیس کو زمان پارک آپریشن کے دوران اسلحہ بھی ملا تھا ، آئی جی پنجاب نے آپریشن کے بعد میڈیا کو تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ زمان پارک آپریشن کالعدم تنظیموں کے افراد کی موجودگی کی وجہ سے کیا گیا

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست غیر موثر قرار دے دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس درخواست پر سماعت کی ، عمران خان کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہرعدالت میں پیش ہوئے ، سیشن عدالت نے 18 مارچ کو عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس آمد پر وارنٹ منسوخ کر دیئے تھے ، آج عدالت نے درخواست غیر موثر قرار دے دی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی حاضری فائل گم ہونے کے معاملے پر سماعت ہوئی، عدالت نے توشہ خانہ کیس میں حاضری فائل گم ہونے پر آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی جبکہ ٹرائل کورٹ سے بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حاضری فائل گمشدگی سے متعلق 10 روز میں رپورٹ پیش کریں

    واضح رہے کہ عمران خان عدالت پیش ہوئے تھے اس وقت تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی تھی جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی، اس دوران عدالت نے فائل پر دستخط کروانے کے لئے اسلام آباد پولیس کے ایس پی، وکیل اور شبلی فراز کو بھیجا تھا تا ہم فائل ایس پی سے کہیں کھو گئی،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • انسداد دہشت گردی:عمران خان  کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    انسداد دہشت گردی:عمران خان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی: اے ٹی سی اسلام آباد میں عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،جج راجہ جواد عباس نے درخواست کی سماعت کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج عدالت حاضری سے استثنیٰ کی درخواست اے ٹی سی اسلام آباد میں دائرکر دی –

    عمران خان کےخلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری

    دوران سمات وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گزشتہ پیشی سب کے سامنے ہے-

    جج راجہ جواد عباس نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا لیکن ہم نے نہیں دیکھا ہماری کیبل نہیں چل رہی تھی، وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے،عمران خان نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ ہزاروں کارکنان نکل آتے ہیں،عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-وکیل نے کہا کہ عمران خان نے آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے عمران خان تو آنا چاہتے ہیں لیکن ہر بار لوگ نکل آتے اور ان پر مقدمات درج ہوجاتے ہیں-پراسیکیوٹر نے عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کر دی-

    پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیئے کہ عمران خان کا برتاؤ دیکھ لیں، جب ضمانت میں توسیع چاہیے تو عدالت پیش ہونا پڑتاہے۔ جج نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد سے 400 میٹر دُور ہے، کیسے پیش ہوں گے-

    رواں برس کیلئے زکوۃ کا نصاب جاری

    عدالت نے کہا کہ اگر عمران خان ساڑھے 3 بجے تک لاہور ہائیکورٹ پیش ہوگئے تو ٹھیک ورنہ فیصلہ کردیاجائےگا جج نے استفسار کیا کہ اگر آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور ہوجاتی ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں گے؟ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمران خان کو اب تک طلب نہیں کیا، ضمانت کی درخواستیں آپ خود دے رہے ہیں۔

    وکیل نےعدالت میں کہا کہ عمران خان قانون کے تحت چلتےہیں زندہ رہے تو ضرور عدالتوں میں پیش ہوں گےجج نے استفسار کیا کہ عمران خان کو اگر عدالت آنا ہےتو وہ تاریخ ہمیں بتا دیں۔ بعض اوقات بارات بڑی ہوتی ہے، آپ کو معلوم ہے پوٹھوہار میں استقبال کیسا ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو اب سنا دیا گیا ہے، عمران خان کی تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں عبوری ضمانت میں 4 اپریل تک توسیع کر دی گئی انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی عمران خان آج لاہور ہائیکورٹ پیشی کے باعث پیش نہیں ہوئے تھے

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

  • عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پنجاب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو2 مقدمات میں ڈسچارج کیا جا چکا ہے جبکہ 4 مقدمات میں تفتیش زیر التوا ہے-

    عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھ دیا

    پنجاب پولیس کے مطابق عمران خان کیخلاف تھانہ سرور روڈ اور ریس کورس میں تفتیش جاری ہے،عمران خان کیخلاف مدینہ ٹاون اور نیوائیر پورٹ راولپنڈی میں مقدمات خارج کیے جا چکے ہیں-

    عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب میں عمران خان کے خلاف 6مقدمات درج ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کی تفصیلات کون سی تاریخ تک ہیں؟ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس لیے پوچھا آپ روز عمران خان کے خلاف نئے مقدمات درج کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ جو رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی یہ مقدمات 20 مارچ تک کی رپورٹ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کا مکمل چارٹ طلب کر لیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے بھی مکمل رپورٹ فائل کرے،عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی پر آپ کو ایشو کیا ہے؟آج کل تو واٹس ایپ کا زمانہ ہے ایک منٹ میں سب کچھ مل جاتا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے کارروائی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں عمران خان کی قتل کی سازش، بربریت، ریاستی دہشتگردی واقعات کی تحقیقات کی استدعاکی ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    عمران خان نے خط میں کہاہے کہ خود پر 90 سے زائد مقدمات میں مسلسل ویڈیو لنک سے پیروی کی درخواست کر رہاہوں ،حکومت میری سلامتی سے متعلق غیر سنجیدہ، سکیورٹی کی فراہمی سے گریزاں ہے،وزیرآباد میں ایک مہلک قاتلانہ حملے کا شکار ہو چکا ہوں ، حملے میں بچ جانے کے بعد عدالتی پیشیوں پر میری زندگی مسلسل خطرے میں ہے۔

    اسلا م آباد سمیت ملک کےمختلف شہروں میں بارش کا امکان

  • میں پیش ہونے کیلئے جا رہا تھا اوریہ آنسو گیس چھوڑ رہے تھے،عمران خان

    میں پیش ہونے کیلئے جا رہا تھا اوریہ آنسو گیس چھوڑ رہے تھے،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ عدالت میں پیش ہوں گا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جو میرے ساتھ اس حکومت نے کیا کبھی ایسا تاریخ میں کیساتھ نہیں ہوا،لاہو رسے اسلام آباد کیلئے نکلا تو پیچھے سے انہوں نے موٹروے بند کردی ،ان کی کوشش تھی کہ میرے ساتھ کوئی کارکنان عدالت نہ پہنچ سکے، 40 منٹ جوڈیشل کمپلیکس میں کھڑا رہا اور پولیس اوپر سے پتھر ماررہی تھی،میں عدالت میں پیش ہونے کیلئے جا رہا تھا اور یہ آنسو گیس چھوڑ رہے تھے ،یہ مجھے جیل بھیجنے نہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے،قانون کی بالادستی کیلئے رکاوٹیں عبورکرتے ہوئے اسلام آباد پہنچا،سارے راستے میں رکاوٹیں تھیں، عدالت کے باہر شیلنگ کی گئی، میں دروازے کے اندر جاتا ہوں تو پولیس ہی پولیس بھری ہوئی تھی،میں پیشی پر جا رہا ہوں اور اتنی پولیس،وہاں شیلنگ کی گئی، ایک دم مارنا شروع کر دیا گیا، تب میرا ایک کولیگ جلدی سے آیا اور اس نے کہا کہ نکلو باہر، اس نے کیوں اشارہ کیا یہ مجھے نہیں پتہ،پھر ہم نے گاڑی نکالی،، جوڈیشل کمپلیکس میں آنے والے نامعلوم افراد کون تھے؟ ان کا اب اگلا پلان مجھے قتل کرنا ہے، چیف جسٹس صاحب آپ نوٹس لیں

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جو مرضی کر لیں یہ اب الیکشن نہیں جیت سکتے،میری جان کو خطرہ ہے،ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی جائے،میں سارے کیسز کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں،انہوں نے ہمارے ورکرز کو دہشتگرد بنانے کی کوشش کی، ہم ملک میں الیکشن چاہتے ہیں تصادم نہیں، جوڈیشل کمپلیکس میں مجھے مارنےکی سازش کی گئی،صاف و شفاف انتخابات کرائیں اور اسکے بعد معیشت کو اٹھائیں،

    قبل ازیں عمران خان کا کہنا تھا حکومت نے ہمارے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا عدالتوں کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں سے رجوع کریں گے بیرون ملک پی ٹی آئی تنظیمیں مقامی منتخب سیاستدانوں سے رابطہ کریں ،اپنی اپنی حکومتوں کو پاکستان میں جاری فاشزم سے آگاہ کریں

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • سیاسی جماعت سے کہتا ہوں نفرت اورتقسیم کی سیاست چھوڑ دیں، بلاول

    سیاسی جماعت سے کہتا ہوں نفرت اورتقسیم کی سیاست چھوڑ دیں، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین،وزیر خارجہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سرجیکل کمپلیکس کی بنیاد رکھ رہا ہوں،صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں،18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبوں کا معاملہ ہے

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ لانڈی میں سرجیکل کمپلیکس کی بنیاد رکھ رہا ہوں، پیپلزپارٹی نے اپنے دورمیں ہمیشہ صحت کو بجٹ میں ترجیح دی ہے،پہلے مریضوں کو پیسے بھر کے علاج کروانا پڑتا تھا، 2015 سے ہمیں یہ ذمہ داری ملی ہے،معاشی صورتحال کا تعلق صحت سے نہیں ہونا چاہیے،جو بجٹ ادارے کو ملا، اس کے اندررہ کر مریضوں کو مفت علاج دینا شروع کردیا،پاکستان پیپلز پارٹی سوچتی ہے، سی صوبے یا ملک کی حکمرانی ملے تو مینڈیٹ حلقے تک محدود نہیں ہوتا،پیپلزپارٹی نے کراچی کے ہرضلعے میں صحت کی سہولیات پر توجہ دی ،ہم نے مختلف اضلاع میں سیٹلائٹ سسٹمز کھولے ہیں، وہاں بھی دل کا علاج مفت ہوتا ہے،کراچی میں چیسٹ پین یونٹس 17ہیں،ہم نے نہ صرف کراچی میں دنیا کا بڑا دل کےعلاج کا اسپتال بنایا بلکہ ایک نیٹ ورک قائم کیا ،جو پیپلز پارٹی کی کردار کشی میں لگے رہتے ہیں،این آئی سی وی ڈی اُن کا منہ توڑ جواب ہے سندھ کا پیسہ عوام کے لیے دل کا مفت علاج کروانے میں استعمال کر رہے ہیں،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب اورخیبر پختونخوا میں صحت کارڈ کے نام سے دھوکا چل رہا تھا، وہ پنجاب اورخیبرپختونخواکے بجٹ پر ڈاکہ مارتے ہیں، صحت کارڑ کی مد میں پرائیویٹ اداروں کو پیسا دے رہے ہیں،عوام کا یہ حق ہے کہ سیاستدان ان کی خدمت کریں اورمسائل کا حل نکالیں،انتشار پسندی، نفرت اور تقسیم کی سیاست چھوڑ دیں، ملکی مسائل کے حل کیلئے سب کو اپنا کردارادا کرنا چاہیے،جو آپ نفرت کی سیاست کر رہے ہیں آپ کا اپنا ہی نقصان تو ہورہا ہے ،ملک معاشی ،سیاسی اورآئینی بحران سے گزررہا ہے،سیاسی جماعت سے کہتا ہوں نفرت اورتقسیم کی سیاست کو چھوڑ دیں،پیپلزپارٹی نے بلدیاتی الیکشن میں بھرپورکامیابی حاصل کی،پیپلزپارٹی نے حیدرآباد میں کلین سویپ کیا ، پیپلز پارٹی نے سندھ میں الیکشن کرائے ہیں،جیالوں نے سازشوں کاجواب اپنے ووٹ کے حق سے دیا ہے،کچھ لوگ مسلسل کردار کشی میں لگے ہوئے ہیں،کراچی بلدیاتی الیکشن میں پیپلزپارٹی کو اکثریت ملی،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سرجیکل کمپلیکس دنیا کاسب سے بڑااسپتال ہوگا، ،1200 بیڈ کا اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال ہوگا،فنڈمیسرکرنا حکومت سندھ کا کام ہےاور کام جلدی کرنا ان کا کام ہے، سرجیکل کمپلیکس کا افتتاح خود چیئرمین بلاول بھٹو نے کیا ہے، آئندہ 5 سال میں سرجیکل کمپلیکس کومکمل کریں،حکومت سندھ کی ترجیحات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں،اس حکومت کے اختتام سے قبل تیسری سائبر نائف کراچی میں لگادی جائےگی،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

  • مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کریں،عدالت

    مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کریں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کیس میں موجود ریکارڈ میرا کیس ثابت کرنے کیلئے کافی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ نے کیس قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کرنے ہیں، اگر آپ میرٹ پر بھی دلائل دینا چاہتے ہیں وہ آپکی مرضی ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان نے اعتراض اٹھایا کہ وہ اب ممبر قومی اسمبلی نہیں ہیں، وکیل حامد شاہ نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے اُس حلقے پر دوبارہ الیکشن کرانے سے روک رکھا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود بھی وہ دوبارہ ممبر قومی اسمبلی نہیں بن جاتے،عمران خان اب اُس نشست سے تو ایم این اے تو نہیں ہیں،

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان کا ایک دوسرے حلقے سے کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بعد اگر حلف نہ لیا جائے تو پھر اسٹیٹس کیا ہو گا؟ کیا پارٹی سربراہ پبلک آفس ہولڈر ہوتا ہے؟ اس پر مطمئن کریں، یہ دونوں سوالات اہم ہیں، ان پر دلائل دیں،ایک تو الیکشن ٹربیونل میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کی درخواست دی جا سکتی ہے، الیکشن ٹربیونل میں تو کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی ،اب کیا عمران خان حلف لیے بغیر بھی پبلک آفس ہولڈر ہیں؟ وکیل حامد علی شاہ نے کہا کہ عمرا ن خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جا چکا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل کو ہدایت کی کہ اس نکتے پر اب آپ نے مطمئن کرنا ہے،کیا آئین میں ممبر قومی اسمبلی یا سینیٹ کو حلف لینے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نہیں، آئین میں ایسا کچھ موجود نہیں ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چودھری نثار اور اسحاق ڈار کے ایسے کیسز موجود ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا یہ کیس اصل میں تھا کیا؟ عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں بتا دیتا ہوں میں اس کیس میں بھی وکیل تھا،میں اس کیس میں دراصل نواز شریف کا وکیل تھا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ مختلف وقت میں مختلف کردار؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم تو وکیل ہیں، آفیسر آف کورٹ ہیں، کسی پارٹی سے تعلق نہیں ، اس کیس میں پہلے سے 62 ون ایف کا فیصلہ موجود تھا،عدالت نے ضمنی الیکشن کیلئے مران خان کے کاغذات نامزدگی کی کاپی طلب کرلی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل بیان حلفی کی مطلوبہ شرائط بھی پیش کریں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی کی شرط ابھی بھی موجود ہے؟وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی دینے کا حکم دیا عدالت نے استفسار کیا کیا غلط بیان حلفی دیا گیا تھا تو آپ توہین عدالت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا آئندہ الیکشن میں عمران خان وہی بیان حلفی دیتے ہیں تو یہ فریش کیس نہیں ہوگا؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ جو ماضی ہے وہ ماضی ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ عدالت نے کہاکہ مشرف دور میں بی اے تعلیم لازم قراردے دی گئی اور بہت سے لوگوں نے جعلی ڈگریاں لیں،سمیرا ملک کیس میں سپریم کورٹ نے تفتیش کا حکم دیا تھا، سپریم کورٹ نے کہا تھا جعلی ڈگری ثابت ہونے پر ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جائیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ ان کیسز میں کچھ ہوا تھا؟،سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کیس میں تاحیات نااہلی کو صرف مقررہ مدت تک کیلئے کیا،سپریم کورٹ کی فیصل واوڈا کیس میں فیصلہ ہمارے سامنے نئی نظیر ہے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ فیصل واوڈا نے عدالت میں آ کر معافی مانگی تھی اسی وجہ سے ریلیف مل گیا،فیصل واوڈا نے شہریت چھوڑی تھی جبکہ پاسپورٹ کینسل تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی کوئی معافی مانگنے آ جائے تو وہ تاحیات نااہل نہیں ہوگا، جو معافی نہ مانگے وہ تاحیات نااہل ہو گا؟ عدالت کے لارجر بینچ نے خواجہ آصف کو نااہل کیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اہل قرار دے دیا ،دوران سماعت نوازشریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کیس کا بھی ذکر ہوا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نوازشریف کیس میں عمران خان خود درخواست گزار تھے

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگ رہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب کے کیسز میں 2 تاحیات نااہلیاں سپریم کورٹ نے ختم کیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عمران خان کیس میں ریکارڈ سے ہمیں کہیں اعتراف نظر نہیں آیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے کسی کو ساری زندگی پتہ نہ ہو اس کا کوئی اور بچہ بھی ہے؟ بہت سے کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ اصل اولاد نہیں ہوتی،گود لئے ہوئے بچے کو کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے، بعد میں اول بچے کیس کر دیتے ہیں ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل دن 2 بجے تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں