Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • وفاقی حکومت آئین شکنی پرعمران خان کیخلاف کارروائی کرے،سعید غنی

    وفاقی حکومت آئین شکنی پرعمران خان کیخلاف کارروائی کرے،سعید غنی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر، پپپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان کی سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہیں،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت ہونے کے باوجود ایف آئی آر ان کی مرضی کی دائر نہیں ہوسکی، عمران خان اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے،عمران خان اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ عمران خان کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہے،عمران خان نے پوری دنیا میں پاکستان کاتماشا بنایا ہوا ہے،وفاقی حکومت آئین شکنی پرعمران خان کیخلاف کارروائی کرے،صحافیوں پر الزامات لگانا قابل مذمت ہے تحریک انصاف فائرنگ کے واقعے کو پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کررہی ہے، عمران خان کون سا سپرمین ہے، 4 گولیاں لگیں اور 125 کلو میٹر دور اسپتال میں گئے

    دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور ترجمان پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج انسانی حقوق کو پامال کر رہا ہے، پنجاب میں حکومتی طاقت سے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی گئی ہے، یہ کیسا احتجاج ہے بچے سکول سے واپس گھر نہیں جا سکتے،روڈ بلاک کرکے ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، وزیر اعلٰی پنجاب جواب دیں شہریوں کی زندگی میں رخنہ کیوں ڈالا جا رہا ہے،احتجاج جمہوری حق ہے مگر شہریوں کو پریشان کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے ۔

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

  • مجھے سو فیصد یقین ہے عمران خان نے اپنے اوپر خود حملہ کرایا،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    مجھے سو فیصد یقین ہے عمران خان نے اپنے اوپر خود حملہ کرایا،ن لیگی رہنما کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر وزیرآباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر رانا تنویر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے لانگ مارچ وزیر آباد واقعے کو ڈرامہ قراردے دیا ،وفاقی وزیر رانا تنویر کا کہنا تھا کہ مجھے سو فیصد یقین ہے عمران خان نے اپنے اوپر خود حملہ کرایا فیس سیونگ کیلئے ڈرامہ کیا گیا، لانگ مارچ کی بلی تھیلے سے باہر نکل رہی تھی اور عمران خان کے سیاسی عزائم پورے نہیں ہورہے تھے 7 دن لاہور کے ارد گرد ہی گھومتے رہے تو اس نے یہ سارا ڈرامہ رچایا، پنجاب میں حکومت اسکی ہے ،اگر بے بس تھے تو حکومت چھوڑ دیتے، پنجاب حکومت پی ٹی آئی کی ہے، اگر قاتلانہ حملہ ہوا ہے تو اسکے ذمہ دار وہ ہیں، ڈرامہ ہوا ہے تو اسکے ذمہ دار بھی وہ ہیں، تفتیش کرنی ہے تو اسکے ذمہ دار بھی وہ ہیں سی ٹی ڈی کے پاس تفتیش ہے ہمارے پاس تو نہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ گورنرہاؤس پر حملہ اب کیوں کیا جا رہا، یہ جان بوجھ کر ایک ٹولہ ایسے معاملات خراب کر رہا ہے یا انکا دماغ ماؤف ہو چکا ہے

    وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے تماشا لگایا ہوا ہے، میں نے فیصلہ کرنا ہو تو فوری گورنر راج لگا دوں، لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنائی ہوئی ہیں، صوبائی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ احتجاج کرنیوالوں کو سپورٹ کرے، اگر یہ ڈرامے جاری رہے تو گورنر راج تو لگنا ہی لگنا ہے،پولیس کی مدد سے روڈ بلاک کیوں ہو رہا ہے. وزیر آباد واقعے کا ملزم پکڑا گیا ہے اس سے تفتیش کریں، کوئی سازش ہے تو اس تک پہنچنا چاہیے لانگ مارچ کے دوران مرنے والا شخص عمران خان کے گارڈ کی گولی کا نشانہ بنا عمران خان کہتاہے کہ مارشل لا لگتا ہے تو لگ جائے اسی لیے ہم اس کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے

    تحریک انصاف کا احتجاج، راستے بند، شہریوں کی زندگی اجیرن

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

  • عمران خان پر حملے کا مقدمہ، آئی جی پنجاب نے رپورٹ سپریم کورٹ میں کروائی جمع

    عمران خان پر حملے کا مقدمہ، آئی جی پنجاب نے رپورٹ سپریم کورٹ میں کروائی جمع

    عمران خان پر قاتلانہ حملے کا معاملہ ،عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب نے مقدمہ درج کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    آئی جی پنجاب کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی وزیر آباد میں درج کر لیا گیا ہے،مقدمے میں قتل ، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں،آئی جی پنجاب نے مقدمے کی کاپی بھی رپورٹ کے ساتھ جمع کرا دی .سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا, قاتلانہ حملہ کے مقدمہ میں اقدام دفعہ 302، 324 کیساتھ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں,مقدمہ وزیر آباد کے سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے,

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 3 نومبر کو وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے تھے کہ جمعرات کو بہت افسوسناک واقعہ پیش آیا، کیا واقعے کا مقدمہ درج ہو چکا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے بتایا تھا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق زیادہ نہیں جانتا، ایف آئی آردرج کرانے کی کوشش کی گئی تھی، شاید اب تک درج نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ایف آئی آر نہ ہونے کا مطلب ہے اب تک پولیس تحقیقات شروع نہیں ہوئیں، پولیس نے تحقیقات نہیں کیں تو ممکن ہے جائے وقوعہ سے شواہد مٹا دیے گئے ہوں، اس طرح کیس کے ثبوت متنازع اور بعد میں عدالت میں ناقابل قبول ہوں گے کرمنل جسٹس سسٹم کے تحت پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے۔

    عمران خان لوگوں کو گمراہ کررہا تھا،کینٹینرسے بھی فائرنگ ہوئی،حملہ آورکی نئی ویڈیو

    عمران خان کا لانگ مارچ، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو پیغام دے دیا

    لانگ مارچ میں فائرنگ، سیکورٹی کی ذمہ دار پنجاب پولیس، دیں جواب پرویز الہیٰ

    ویڈیو:عمران خان پر حملہ کرنیوالا ملزم گرفتار،عمران خان کیسے آئے باہر؟

     عمران خان کو پتہ تھا کہ انہیں ہٹانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،

    شوکت خانم میں عمران خان کا علاج جاری ہے،میڈیکل رپورٹس تسلی بخش قرار دے دی 

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

  • عمران خان کی جانب سے صحافیوں پر الزامات ،مریم اورنگزیب نے کی مذمت

    عمران خان کی جانب سے صحافیوں پر الزامات ،مریم اورنگزیب نے کی مذمت

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کی جانب سے صحافیوں پر الزامات کی مذمت کی گئی

    مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان نے حامد میر، مرتضیٰ سولنگی اور وقار ستی کو ملوث کرنے کی کوشش کی عمران خان سیاست کریں فساد فتنہ اور انتشار نہ پھیلائیں ،عمران خان نے حکومت میں رہ کر صحافیوں پہ حملے کیے اور اب مقدمے کر رہے ہیں عمران خان سیاست کریں صحافیوں کی جان خطرے میں نہ ڈالیں ،عمران خان کو سیاسی مخالفین کے ساتھ سیاسی جنگ لڑنی ہی نہیں آتی سیاسی مخالفین کے ساتھ سیاسی مخالفت کریں ملک دشمنی تو نہ کریں اقتدار میں آنے کے لئے پورے ملک کو آگ لگانا چاہتے ہیں ملک کو آگ لگا کر،خون بہا کرلاشیں گِرا کر کیا کرنا چاہتے ہیں

    دوسری جانب آر آئی یو جے نے پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان کی جانب سے سینئر صحافیوں حامد میر، مرتضی سولنگی اور وقار ستی کو سانحہ وزیر آباد میں ملوث کرنے کی کوشش پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عمران خان نے ایک غیر تصدیق شدہ خبر کی بنیاد پر نامور صحافیوں کو سانحہ وزیر آباد میں ملوث قرار دے دیا عمران خان نے حامد میر، مرتضی سولنگی، وقار ستی پر الزام لگایا، عمران خان نے صحافیوں کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اس طرح کے بیانات آزادی اظہار پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہے،آر آئی یو جے کے اعلٰی عہدیداروں نے عمران خان پر حملے کی خبر دی تھی عمران خان نے خبر دینے والوں کو ہی اپنے پروپیگنڈے کا نشانہ بنا لیااگر عمران خان نے ایسے بیانات جاری رکھے تو آر ائی یو جے عدالتی کاروائی کا حق استعمال کرے گی

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • نیب نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کردیں

    نیب نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کردیں

    نیب نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کردیں

    نیب نے کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کرلیا ،عمران خان کا توشہ خانہ تحائف لیتے ہوئے اشیاکے کم ریٹ لگائے جانے کا انکشاف سامنے آیا، نیب ذرائع کے مطابق توشہ خانہ سے لی گئی 3 گھڑیوں کی خریداری میں اپریزر رپورٹ بھی مشکوک قرار ہے،عمران خان کی جانب سے 3 قیمتی گھڑیوں ،گراف اور رولیکس کی انڈر انوائسنگ کا انکشاف ہوا ہے، تحائف کیلئے عمران خان کا رقوم کی ادائیگی بھی کسی اور کے اکاونٹ سے کرنے کا انکشاف ہوا ہے،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل کر چکا ہے،اب نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں، نیب نے توشہ خانہ کے حوالہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق صدر آصف زرداری، سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحقیقات کی تھیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قراردیا تھا،الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ عمران خان کی نااہلی 5 رکنی کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کروائے

    جھوٹ پھیلانے والا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ،عمران خان کی نااہلی پر بلاول کا ردعمل

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • امریکی ٹی وی کو انٹرویو،میزبا ن کا باربار سوال ،عمران خان حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینےسےقاصر

    امریکی ٹی وی کو انٹرویو،میزبا ن کا باربار سوال ،عمران خان حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینےسےقاصر

    مجھے تین گولیاں لگیں، عمران خان چار سے تین گولیوں پر آ گئے

    لاہور: عمران خان قاتلانہ حملے میں مورد الزام ٹھہرانے والوں کیخلاف ثبوت دینے سے قاصر ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق عمران خان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے گولی لگنے سے ان کی دائیں ٹانگ سے تین گولیاں لگیں جس سے وہ زخمی ہو گئے، انہیں معمول کی سرگرمی دوبارہ شروع کرنے میں چار سے چھ ہفتے لگیں گے۔

    حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد…


    زمان پارک، لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے بات کرتے ہوئے، عمران خان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اندر سے اطلاع ملی تھی کہ گزشتہ ہفتے گولی لگنے سے وہ زخمی ہو جائیں گے۔

    صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں کیا معلومات اور کس کے ذریعے دی گئی ہیں، جس پر عمران خان نے کہا کہ یاد رکھیں، میں ساڑھے تین سال اقتدار میں تھا۔ میرے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رابطے ہیں، مختلف ایجنسیاں جو کام کرتی ہیں۔ مجھے معلومات کیسے ملی؟ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر سے۔ کیوں؟ کیونکہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے زیادہ تر لوگ پریشان ہیں۔

    سال 2022 کا آخری چاند گرہن کل ہوگا

    امریکی ٹی وی کی میزبان بار بار پوچھتی رہی آپ حملے میں تین افراد کے نام لے کر سنگین الزامات لگا رہے ہیں اس کے شواہد کیا ہیں؟اس پر چیئرمین پی ٹی آئی واقعات کا پس منظر بتاتے رہے اینکر نے کہا کہ پس منظر تو معلوم ہے، بڑے احترام سے آپ سے الزامات کے شواہد کا پوچھا ہے۔


    بار بار اصرار پر بھی عمران خان شواہد پیش نہ کر سکے اور بولے دائیں ٹانگ سے تین گولیاں نکال لی گئی ہیں جب کہ بائیں ٹانگ میں گولی کے ٹکڑے اندر چھوڑ دیے گئے، معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔

    لانگ مارچ کی تاریخ ایک دن میں دوسری بار تبدیل، جمعرات کو شروع کرنیکا اعلان

    سی این این کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد عمران خان کا جھوٹ ایک بار پھر نے نقاب ہو چکا ہے۔ عمران خان نے حملے کے بعد شوکت خانم مین پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں چار گولیاں لگیں اب سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ تین گولیاں لگیں۔ عمران خان کا سرکاری ہسپتال سے میڈیکل نہیں کروایا گیا تا کہ گولیوں کا سچ سامنے نہ آ جائے تحریک انصاف کے رہنما بھی عمران خان کو گولیاں یا ذرات لگنے کے حوالہ سے متضاد دعوے کرتے ریے کوئی ایک کوئی دو کوئی تین کہتا رہا اب عمران خان بھی چار سے تین گولیوں پر آ گئے ہیں ۔ امید ہے اگلےکسی انٹرویو میں وہ مزید سچائی کے قریب آئیں گے۔

    تحریک انصاف وزیر آباد واقعہ کے بعد احتجاج کر رہی ہے لیکن سچ کو سامنے نہیں لایا جا رہا احتجاج میں بھی توڑ پھوڑ کر کے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور جو صحافی سچ رپورٹ کرتا ہے اسکو عمران خان لفافہ صحافی کہتے ہیں کیونکہ اسے سچائی برداشت نہیں عمران خان وہ سننا چاہتے ہیں جو اسکی خواہش کے مطابق خبر دے لیکن ایسا ممکن نہیں ۔ سچائی سامنے آ کر ہی رہتی ہے –

  • عمران خان پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ تھانہ سٹی وزیرآباد میں درج

    عمران خان پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ تھانہ سٹی وزیرآباد میں درج

    عمران خان پرقاتلانہ حملےکا مقدمہ تھانہ سٹی وزیرآباد میں درج کرلیا گیا ،مقدمہ گرفتار ملزم نوید اور دو نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ قتل، اقدام قتل ، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیاگیا ہے، مقدمے میں موقع سے گرفتار ملزم نوید کو باقاعدہ نامزد کیا گیا ہے ، مقدمے میں عمران خان کے نامزد کردہ کوئی نام نہیں ہیں-

    پرویز الہی کی عمران خان کو وزارت اعلی سے مستعفٰی ہونے کی دھمکی

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کو کل سپریم کورٹ میں پیش کیاجائےگا سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ایف آئی آر کو عام کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ آج دوران سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان پرقاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج کرنےکی ہدایت دی تھی۔

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 3 نومبر کو وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جمعرات کو بہت افسوسناک واقعہ پیش آیا، کیا واقعے کا مقدمہ درج ہو چکا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے بتایا تھا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق زیادہ نہیں جانتا، ایف آئی آردرج کرانے کی کوشش کی گئی تھی، شاید اب تک درج نہیں ہوئی۔

    حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد "کوچی”کا بیان سامنے…

    جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ایف آئی آر نہ ہونے کا مطلب ہے اب تک پولیس تحقیقات شروع نہیں ہوئیں، پولیس نے تحقیقات نہیں کیں تو ممکن ہے جائے وقوعہ سے شواہد مٹا دیے گئے ہوں، اس طرح کیس کے ثبوت متنازع اور بعد میں عدالت میں ناقابل قبول ہوں گے کرمنل جسٹس سسٹم کے تحت پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے، 90 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا اور ابھی تک ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوئی جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کیا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے آئی جی پنجاب فیصل شاہکار کو 24 گھنٹوں میں حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مقدمہ درج نہ ہوا سو موٹو نوٹس لیں گے۔

    احتجاج کے دوران میڈیا کارکن بھی پی ٹی آئی کارکنان سے محفوظ نہ رہے

  • حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد "کوچی”کا بیان سامنے آ گیا

    حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد "کوچی”کا بیان سامنے آ گیا

    پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد کوچی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ مجھ سےمتعلق تفتیش کریں، حکومت تحفظ فراہم کرے-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کوچی قبیلے کے سربراہ اور تاجر نور رحمان کوچی نےاسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 18 جون کو خیبرپختونخوا حکومت نےمیرے نام سے تھریٹ لیٹر جاری کیا اور خط میں لکھا میں عمران خان کو قتل کرنا چاہتا ہوں مراد سعید نے پریس کانفرنس میں میرا نام لیا، مجھے افغانی کہا،مراد سعید نے4 نومبرکو مجھ پرالزامات لگائے کہ میں افغانی اور سرغنہ ہوں، میں مراد سعید سےکبھی نہیں ملا،میرےپاس ان کی کوئی ویڈیوزنہیں۔

    پرویز الہی کی عمران خان کو وزارت اعلی سے مستعفٰی ہونے کی دھمکی

    نور رحمان کوچی کا کہنا تھا کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، میرے خلاف کوئی ثبوت ہے تو سامنے لے آئیں، تھریٹ الرٹ میں کہا گیا کوچی نام کا شخص عمران خان کوقتل کرناچاہتا ہے، مجھے جواب دیا جائےمیرے خلاف یہ تھریٹ الرٹ کس نے جاری کیا؟

    کوچی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ میں 40 سال سےپاکستان میں رہ رہا ہوں اسلام آباد کا رہائشی ہوں اور 15 بچے ہیں، میرا افغانستان میں کاروبار ہے، پاکستان کی معیشت میں کردار اداکیا مجھ سے متعلق تھریٹ لیٹرمیری فیملی کیلئےخطرہ ہےمیں تاجر ہوں، اپنے قبیلےکا سربراہ ہوں مجھے اٹھوایاگیا، تفتیش کی اور پھر گھر پر چھوڑ دیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ مجھ سےمتعلق تفتیش کریں، حکومت تحفظ فراہم کرے۔

    عمران خان اپنے لیے گڑھے کھود رہے ہیں ۔۔۔

    واضح رہے کہ کہ پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے 18 جون کو اپنی ٹوئٹ میں کہا تھاکہ اطلاع ہے کہ کچھ لوگوں نے افغانستان میں موجود کوچی نامی دہشت گرد کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو قتل کرنے کی سپاری دی ہے۔

    یاد رہے کہ سیالکوٹ میں 14 مئی کو جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے کہ عمران خان کی جان لے لی جائے، اس سازش کا مجھے علم تھا، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ ویڈیو پوری قوم کے سامنے آئے گی۔

    اس کے بعد 15 مئی کو فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے عوام سے ایک وعدہ لیا کہ عوام وعدہ کریں اگر مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو دیکھ کر انصاف دلائیں گے۔ عمران خان نے اپنے قتل کی سازش سے قبل اپنی حکومت کا خاتمہ بھی ایک بیرونی و اندرونی سازش کو قرار دیا تھا۔

    لانگ مارچ کی تاریخ ایک دن میں دوسری بار تبدیل، جمعرات کو شروع کرنیکا اعلان

  • پرویز الہی کی عمران خان کو وزارت اعلی سے مستعفٰی ہونے کی دھمکی

    پرویز الہی کی عمران خان کو وزارت اعلی سے مستعفٰی ہونے کی دھمکی

    لاہور: زمان پارک میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ملاقات ہوئی ۔

    باغی ٹی وی : پنجاب میں ایک نیا بحران آنے کو تیار۔بے اختیار پنجاب حکومت کے وزیراعلی نے استعفے کی دھمکی دے دی۔ عمران خان پرویز الہی کا منہ دیکھتے رہے عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

    پرویز الہی نے عمران خان کو استعفے کی دھمکی دے دی۔ ایک روز میں دو بار پرویز الہی عمران خان سے ملاقات کے لئے زمان پارک گئے تا ہم ملاقاتوں کا کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا جس کے بعد پرویز الہی نے عمران خان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے عہدے سے استعفئ دے دینا ہے

    زمان پارک میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی ملاقات ہوئی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران لانگ مارچ کے اگلے مرحلے اور وزیر آباد حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے گفتگو کی گئی-

    سی سی پی او لاہورنے اپنی معطلی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی

    ذرائع کے مطابق دوران ملاقات چوہدری پرویز الہٰی نے چئیر مین پی ٹی آئی کو کہا کہ فوجی افسران کے نام ایف آئی آر میں شامل کروائے تو وزارت اعلیٰ سے استعفی دے دوں گا پرویز الہی کی اس بات پر تحریک انصاف کے رہنما پرویز الہی کا منہ دیکھتے رہ گئے ۔

    زمان پارک میں ہونے والی ملاقات میں مونس الہی اورحسین الٰہی بھی شریک ہوئے۔جبکہ ملاقات میں پی ٹی آئی کے فواد چوہدری ، عمر سرفراز چیمہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس وکیل حسان نیازی اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔

    دوسری جانب چوہدری پرویزالہٰی کے صاحبزادے اور ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا کہنا ہے کہ پولیس کو پولیس کی مدعیت میں عمران خان پرقاتلانہ حملے کی اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرنے سے روکا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان پر مبینہ حملے کو تین روز گزر چکے ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہو سکا۔ سپریم کورٹ نے آج 24 گھنٹوں میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا تھا کہ پنجاب حکومت نے مقدمہ درج کرنے سے روکا ہے-

    پی ٹی آئی احتجاج، راستہ نہ ملنے پر شہری کی کھمبے پر چڑھ کر خود کشی کی کوشش

  • وزیر آباد سانحہ۔الزامات کی بجائے عمران خان ثبوت دیں

    وزیر آباد سانحہ۔الزامات کی بجائے عمران خان ثبوت دیں

    لاہور:وزیر آباد واقعہ پر عمران خان کے الزامات، جواب اور پھر الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور فائرنگ کے واقعے کے بعد سےیہ کھیل جاری ہے۔ کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ،قانون کو شواہد پر کام کرنا ہے نہ کہ کسی شخص کی خواہش پر جس کا مقصد صرف اداروں کو بلیک میلنگ کے لیے نشانہ بنانا ہے۔ فوج نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ فضول الزامات کے بجائے ثبوت دیں۔

    اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے آنے پر کراچی پولیس کا افسر اور سپاہی پریشان

    یہ بھی واضح ہوگیا کہ فوج نے صاف کہہ دیا ہے کہ عمران خان دانت پیس کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ فوج صرف کارروائی کرتی ہے اور وہ کارروائی کرتی ہے جب اس کے کچھ افسران یا سپاہی مجرم پائے جاتے ہیں کیونکہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ ہر فرد بے قصور ہے جب تک کہ مجرم ثابت نہ ہو۔

    ان حالات کے تناظرمیں عمران خان کو سب سے آسان چیز جو کرنے کی ضرورت ہے وہ ثبوت فراہم کرنا ہے اگر ان کے پاس میڈیا کے پروپیگنڈے پر بھروسہ نہیں ہے جو وہ مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔ جیسا کہ عمران خان نے بتایا اس میں مذکورہ افسر کا کوئی دخل نہیں ہے۔

    ارشاد بھٹی نے عمران خان کے دعوے کوجھوٹ قراردیا

    بس وہ سودے بازی کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ وزیراعظم کی جانب سے فل کورٹ کی درخواست کی گئی ہے لہٰذا عمران خان کو چاہیے کہ وہ ثبوت پیش کرے۔ اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اس کے خلاف افراد کو بدنام کرنے پر کارروائی کی جائے۔

    دیکھاپھرقدرت کانظام:قومی ٹیم کےسیمی فائنل میں پہنچنےکےبعدرمیزراجہ نےقرآنی آیت…

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایسے الزامات اچھے نہیں ہیں ، عمران خان کی اپنی پنجاب میں حکومت ہے اور وہ اب بھی اگرشکوہ کریں تو پھر اچھی بات نہیں ، وہ اب سپریم کورٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ، یہ بھی بات صاف ظاہر ہے کہ 35 پنکچر کا الزام لگانے والا اب سائفر کا بھی جواب نہیں دے پائے گا اورپھرجوالزامات عائد کیے گئے ہیں ان کا بھی اس کے پاس جواب نہیں ہیں

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کے الزامات کے حقائق تک پہنچے بغیر اب پاکستان آگے نہیں چل سکتا، یہ کہ خان کی نئی پریس کانفرنس بھی ڈھاک کے وہی تین پات

    وزیر آباد سانحے سے جڑے واقعات نے اہم سوالات کو جنم دیا، جواب اور ثبوت کیوں نہیں دیا جا رہا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ادارے صاف اور سیدھی ثبوت دینے کی بات کر رہے لیکن عمران خان ثبوت اور حقائق پیش کرنے کی بجائے جواب میں پھر صرف الزامات ہی لگا رہے ہیں

    ادھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اپنی ہی پنجاب حکومت ہے لیکن اس کے باوجود آئی جی پنجاب پر الزامات سے کیا مسئلہ حل ہو گا؟

    ادھر یہ بھی کہاجاتا ہے کہ عمران خان تو کہتے، بے اختیار اقتدار کبھی نہیں لوں گا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر پنجاب میں ان کا اختیار نہیں، تو پنجاب حکومت سے الگ کیوں نہیں ہو جاتے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعاتی شہادتیں سارے الزامات کو مسترد کر رہی ہیں ، دوسری طرف عمران خان ثبوت سے کیوں گریزاں ہیں‌

    کچھ اہم سوالات باقی ہیں کہ اہم قومی لیڈر کے زخمی ہونے پر قریب ترین ہسپتال کیوں نہیں لے جایا گیا؟تین گھنٹے دور کینسر کے ہسپتال لے جانے کے پیچھے کیا مصلحت ہے؟

    یعنی واقعے کے فورا بعد یہ کنفرم تھا کہ کوئی ایمرجنسی درپیش نہیں؟خان نے جناح ہسپتال اور شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل رپورٹوں کے تضادات کا جواب کیوں نہیں دیا؟

    الزامات کے ذریعے ادارے کے افسر کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے ثبوت کیوں نہیں دیئے جا رہے؟سامنے آنے والے مصدقہ تضادات سے یہ تاثر کیوں مل رہا کہ جان بوجھ کو حقائق مسخ کیے جا رہے؟وزیراعظم کے سپریم کورٹ کے فل کورٹ سے تحقیقات کی درخواست کے علاوہ آگے جانے کا راستہ کیا ہے؟

    جب واضح ہو چکا کہ تنازعے کا حل اب صرف اور صرف سپریم کورٹ سے نکل سکتا تو لانگ مارچ پر بدستور اصرار کیوں؟

    ایسے کیا اہداف کہ آرمی چیف کی تقرری کے لیے دباؤ اور انتشار کی بلیک میلنگ سے ہی حاصل ہونے؟کیا وجہ آج تک پینتیس پنکچر سے لے کر سائفر تک کسی بھی الزام کا ثبوت نہیں دیا؟سچ یہ ہے کہ صرف الزامات کی سیاست نے ملک کو آج سنگین دوراہے پر لا کھڑا کیا

    اب اعلی عدلیہ کو بھی باقی اداروں کی طرح تنازعہ حل نہ کرنے دیا گیا تو پھر کیا ہو گا؟