Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ

    امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ امریکا سے موصول سائفر وزارت خارجہ میں مکمل محفوظ ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران عاصم افتخار نے واضح کیا ہے کہ سائفر جیسے دستاویزات وزارت خارجہ میں احتیاط سے رکھے جاتے ہیں اور امریکا سے موصول سائفر بھی مکمل محفوظ ہے۔

    پہلی پاکستان جونیئر لیگ رنگا رنگ افتتاحی تقریب کیساتھ شروع

    ترجمان کے مطابق فرانس کی میزبانی میں ڈونرز کانفرنس نومبر یا پھر رواں برس کے آخر میں ہوگی ۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ لوازمات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ڈونرزکانفرنس میں پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے جائیں گے، عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیلاب سے 90 لاکھ تک پاکستانی غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یواین اپیل کے بعد سیلاب متاثرین کیلئے 355 ملین ڈالرز کے اعلانات ہوئے، یورپی یونین نے 3 کروڑ یورو کی انسانی امداد کا اعلان کیا۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے مزید 8 افراد کو شہید کیے جانے اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کی ۔

    دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:عبداللہ قریشی

    عاصم افتخار نے کہا افغانستان میں پاکستانی کرنسی پر پابندی کو معطل کر دیا گیا ہے، امید ہے افغان انتظامیہ معاملے کو باہمی تجارتی مفاد کے تناظرمیں دیکھے گی۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا خیبر پختونخوا کے علاقوں کو نیا نام دینا آئین پاکستان کے منافی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

  • ممنوعہ فنڈنگ کیس: عمران خان کیخلاف کیس کے اندراج کی اجازت دیدی گئی،

    ممنوعہ فنڈنگ کیس: عمران خان کیخلاف کیس کے اندراج کی اجازت دیدی گئی،

    پی ٹی اے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کیس درج کرنے کی اجازت دیدی، فیصلہ وزات داخلہ اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام کی میٹنگ میں کیا گیا۔

    ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے پاکستان تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کیخلاف ایف ائی آر درج کرنے کی سفارش کی، جس میں کہا گیا کہ شواہد کی بنیاد پر تحریک انصاف چیئرمین عمران خان کیخلاف ایف ائی آر درج کرنے کی اجازت دی جائے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی اے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فیصلہ وزات داخلہ اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام کی میٹنگ ہوئی، جس میں وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف کیس درج کرنے کی اجازت دیدی۔

    بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”

    تحقیقاتی ٹیم نے پی ٹی آئی کے 8 رہنماؤں کیخلاف ایف ائی آر درج کرنے کی سفارش کی اور کہا تھا کہ شواہد کی بناء پر چیئرمین کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دی جائے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے پی ٹی آئی رہنماؤں اسد عمر، اسد قیصر، قاسم سوری، عمران اسماعیل، سیف اللہ نیازی، طارق شفیع اور میاں محمود الرشید کیخلاف کیس درج کرنے کی سفارش کی۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ سے اجازت ملنے پر آئندہ دو روز میں تحریک انصاف رہنماؤں کیخلاف ایف آئی آر درج ہونے کا امکان ہے۔

    عمران خان کا لانگ مارچ سازش، فسادیوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا: ن لیگی قیادت…

    ذرائع کے مطابق ان رہنماؤں پر جماعت کے 10 بے نامی اکاؤنٹس چلانے کا الزام ہے، انہوں نے اکاؤنٹس میں 10 کروڑ سے زائد کی ترسیلات حاصل کیں۔

  • آڈیو لیک، عمران خان نے میانوالی جلسے میں ردعمل دے دیا

    آڈیو لیک، عمران خان نے میانوالی جلسے میں ردعمل دے دیا

    آڈیو لیک، عمران خان نے میانوالی جلسے میں ردعمل دے دیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ مافیا کے ساتھ ہے ،کال دوں گا ،میانوالی والوں کو نکلنا ہوگا

    میانوالی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہیہ ہرطرف مار کھا رہے ہیں اور جعلی آڈیوزبنا رہے ہیں، آڈیوز لیک کی گئیں یہ کون بناتا ہے سب کو پتہ ہے کہ ن لیگ نے جعلی ویڈیوزبنائی ہوئی ہیں جس کی ماہر مریم نواز ہیں میرے خلاف پلاننگ کرنے والے ناکام ہو جائیں گے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خوف کی زنجیر گرتی نہیں توڑی جاتی ہے،آزادی ملتی نہیں چھینی جاتی ہے، شہباز شریف کو اب سائفر یا د آگیا ،شہبازشریف اب سائفر تحقیقات کی بات کررہے ہیں، میں نے سپریم کورٹ کو سائفر اس لیے بھیجا کہ تحقیقات ہوں، شہباز شریف سائفر سازش کا حصہ تھے،سازش کے تحت عمران خان کی حکومت جاتی تو کس کوآنا تھا،ہمارے دور میں بجلی ،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں زیادہ نہیں تھیں،آج لوگ حیران ہیں ،فیس دیں یا بھوک ختم کریں ہمارے اوپر مسلط کیے گئے لوگ اپنے خلاف کیسز ختم کروارہے ہیں،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں حقیقی آزادی کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں، اور جیل سے ڈرانے والوں کو کہتا ہوں کہ ابھی تو میں جیل بھرو تحریک شروع کرنے لگا ہوں۔ میانوالی آپ نے مجھے سب سے پہلے الیکشن جتوایا تھا، آپ کا احسان میں کبھی نہیں بھول سکتا۔نواز شریف پاکستان آئے گا تو اسکا ایسا استقبال کریں گے کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • عمران نے جس کام کو شرک کہا بند کمروں میں‌خود وہی کیا، سوشل میڈیا پر پرانا کلپ وائرل

    عمران نے جس کام کو شرک کہا بند کمروں میں‌خود وہی کیا، سوشل میڈیا پر پرانا کلپ وائرل

    عمران نے جس کام کو شرک کہا بند کمروں میں‌خود وہی کیا، سوشل میڈیا پر پرانے کلپ وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک کلپ کافی وائرل ہے اور اس کو لیکر صارفین سابق وزیر اعظم عمران خان پر کافی تنقید بھی کررہے ہیں. سابق وزیر اعظم عمران خان اس ویڈیو کلپ میں فرما رہے کہ ہارس ٹریڈنگ اور بھیڑ بکریوں کی طرح خرید و فروخت بھی ایک شرک ہے.


    ایک صارف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ؛ خان کا واحد سیاسی اصول: بہتان بازی ہے اورسیاسی مقصد: ہر حربہ (صحیح یا غلط) استعمال کر کے وزارت عظمیٰ کا حصول ہے، جبکہ طریقۂ واردات: میڈیا (سوشل، پرنٹ، الیکٹرانک) کے ذریعے اپنے ایک ہیولے کی تخلیق جو ارطغرل کی طرح اکیلا حق کی لڑائی تمام باطل قوتوں سے لڑ رہا ہے اور اسکی حقیقت: نوسربازی اور فتنہ انگیزی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے.


    ایک صارف نے کہا کہ عمران خان ایک جھوٹا انسان ہے جو ہر وقت جھوٹا بولتا رہتا ہے. صحافی ملک رمضان اسراء نے ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں عمران خان کہہ رہے کہ: میں نے مغربی جمہوریت میں کبھی بھی ہارس ٹریڈنگ جیسی چیز نہیں دیکھی اور نہ سنا کہ وہاں کوئی ایسا کچھ کرسکتا ہے۔


    عمران خان کے شرک والے ویڈیو بیان سے متعلق صحافی ملک رمضان اسراء نے لکھا کہ؛ عدم اعتماد کے وقت اپنے اراکین کو بکنے پر شرک کا مرتکب ٹہرانے والا عمران خان خود دوسری طرف ہارس ٹریڈنگ کرتے ہوئے ایم این ایز خریدنے کے بارے فرما رہا تھا کہ فکر نہ کریں یہ ٹھیک ہے یا غلط ہے، کوئی بھی حربہ ہو ایک ایک ایم این ایز بھی کوئی توڑ دیتا ہے تو اس سے بھی بہت فرق پڑتا ہے۔

    پشاور پرائمری ٹیچرز احتجاج؛ متعدد اساتذہ کے خلاف تھانہ شرقی میں مقدمہ درج
    پاکستان دوطرفہ تجارت اور جرمن منڈیوں تک برآمدات کی رسائی کا خواہاں ہے. وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
    عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تیار
    سارہ انعام قتل کیس،ملزم کی والدہ کی درخواست ضمانت،سماعت ملتوی
    ڈینگی کے وار جاری، اسلام آباد،پنجاب ،خیبر پختونخوا میں مریضوں میں اضافہ
    ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس،عدالت نے شعیب شیخ کو ایک اور موقع دے دیا
    نو ماہ کے دوران 212 گینگ کے 4 ہزار سے زائد ملزمان گرفتار

  • نئی آڈیو نے آج رہی سہی کسر پوری کر دی،رانا ثناء اللہ

    نئی آڈیو نے آج رہی سہی کسر پوری کر دی،رانا ثناء اللہ

    نئی آڈیو نے آج رہی سہی کسر پوری کر دی،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان قوم کو تقسیم اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں،عمران خان قوم کو نقصان پہنچائیں گے،قو م کو ادراک ہونا چاہیے،عمران خان کی آڈیوز لیک ہورہی ہیں اور وہ بے نقاب ہو رہے ہیں،عمران خان نے سائفر کےمعاملے پر غلط بیانی کی، عمران خان کا سائفر والا معاملہ بھی فراڈ تھا،وہ تو قوم کے ساتھ کھیل رہے تھے، عمران خان جوانوں سے حلف لیکرکہہ رہے ہیں حقیقی آزادی کی جنگ لڑنی ہے،حقیقی آزادی کی  حقیقت نہیں ،عمران خان بے بنیاد باتیں کرتے ہیں،آج پھرعمران خان کی نئی آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ پھربے نقاب ہو چکے ہیں،پہلے بھی عمران خان ے نقاب ہوئے ،نئی آڈیو نے آج رہی سہی کسر پوری کردی

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ حقیقی آزادی کا عمران خان کو خود نہیں پتہ ،کون سی آزادی کی بات کرتے ہیں،عمران خان نے جھوٹا بیانیہ گھڑنے کے لیے خارجہ پالیسی کونقصا ن پہنچایا عمران خان کہتے ہیں ضمیر فروشوں کے بچوں سے کوئی شاد ی نہیں کرے،عمران خان خود کونیٹ اینڈ کلین سمجھتے ہیں ،عمران خان کسی کو چورتو کسی کوڈاکو کہتے ہیں عدم اعتماد سے بچنے کے لیے عمران خان خریدوفروخت کرتے رہے ،

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں،عمران خان لانگ مارچ کے حربے سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں،لانگ مارچ کوروکنے کے لیے وزارت داخلہ نے موثر حکمت عملی بنائی ہے، لانگ مارچ کے حربے کو ہر سطح پر روکنے کی کوشش کریں گے،فرح خان کی وزیر اعظم ہاؤس میں سیکیورٹی کلیئرنس تھی جو ان کے گھر کی فرد تھی،شہزاد اکبر نے خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا،لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی فورسز تیار ہیں،ایک بار جتھے کو اسلام آباد داخلے کی اجازت دی تو یہ سلسلہ بن جائے گا،عمران خان کہتے ہیں راناثنااللہ کو ہمارے ارادوں کا پتہ نہیں ،ہمیں عمران خان کے ارادوں کا پتہ ہے،عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کیا تو ناکام بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے،

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

  • واہ خان صاحب واہ آپ بھی ضمیروں کے خریدار نکلے ، حامد میر

    واہ خان صاحب واہ آپ بھی ضمیروں کے خریدار نکلے ، حامد میر

    واہ خان صاحب واہ آپ بھی ضمیروں کے خریدار نکلے ، حامد میر

    عمران خان پر آج جمعہ کا دن بھاری رہا. ایک ایسی آڈیو لیک ہوئی جس نے عمران خان کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے. آڈیو لیکس کا سلسلہ وزیراعظم ہاؤس سے شروع ہوا اور مزید آڈیو سلسلہ وار آ رہی ہیں

    عمران خان کی نئی آڈیومیں ہارس ٹریڈنگ کے حوالہ سے بات کی گئی. دوسروں پر تنقید کرنیوالے کپتان ہارس ٹریڈنگ کے بھی ماہر کھلاڑی نکلے اور ایم این اے خریدنے کے حوالہ سے وائرل آڈیو نے تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کو بھی حیران کر دیا

    عمران خان ماضی میں خریدوفروخت کرنیوالے اراکین پر کڑی تنقید کرتے تھے .انہیں ضمیر فروش قرار دیتے اب آڈیو سے واضح ہوا کہ اس ضمیر فروشی میں کپتان کا ہاتھ بھی تھا.عمران خان کی نئی آڈیو لیک پر سینئر صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ واہ خان صاحب واہ آپ بھی ضمیروں کے خریدار نکلے ، کیا فرق رہ گیا آپ میں اور ان میں جنہوں نے راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا؟ لگتا ہے ابھی ہمیں اپنا دل تھام کر اور بھی بہت کچھ سننا اور دیکھنا پڑے گا اللّٰہ خیر ہی کرے

    سینئر صحافی سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ عمران نیازی کا “جہاد” ہے ۔ اب بتائیں اس میں کون کون ان کے “غازی” بننا چاہتے ہیں؟

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ ٹھیک اورغلط کی فکر کئے بغیرہرحربہ استعمال کرنا ہے۔گولڈ سمتھ سےلے کربوٹ پولش کرنے تک، ضمیروں کی خرید و فروخت سے لے کر مذہبی کارڈ کے استعمال تک اورسائفرسے کھیل کر ملک کو نقصان پہنچانے سے لے کر فوج میں تقسیم کی سازش اور جادو ٹونے کے استعمال تک ۔ یہ ہے عمران نیازی کی سیاست

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک اور آڈیو لیک جمعہ مبارک اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ کل تک جو عمران نیازی دوسروں پر ممبران اسمبلی کی خریداری کے جھوٹے دعوے کرتا تھا اللہ نے آج اسے بیچ سڑک پر رسوا کردیا۔عمران نیازی کی ممبران اسمبلی کی خریداری کی آڈیو منظر عام پر آگئی۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اس آڈیو نے ان کے بیانیے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر ، ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آڈیو کا فرانزک بھی کرایا جائے گا تاکہ کوئی ابہام نہ رہے،

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ گذشتے ہفتے شروع ہونے والے آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔

  • عمران خان کا لانگ مارچ سازش، فسادیوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا: ن لیگی قیادت کا فیصلہ

    عمران خان کا لانگ مارچ سازش، فسادیوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا: ن لیگی قیادت کا فیصلہ

    اسلام آباد:ن لیگی قیادت نے مجوزہ لانگ مارچ کو معاشی بحالی کیخلاف نئی سازش قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کسی کو اسلام آباد پر یلغار کی اجازت نہیں دی جائے گی، فسادیوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں شرکا نے تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی صدر کو سونپ دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے زیرصدارت ن لیگ کی سینئر قیادت کا اجلاس ہوا، شرکا اجلاس نے فیصلوں کا اختیار پارٹی صدر اور وزیراعظم کو سونپ دیا۔

    برآمدکنندگان کےلیے 100 ارب روپے کے سبسڈی دے رہے ہیں‌،اسحاق ڈار

    ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق سازشی معاشی بحالی کیخلاف لانگ مارچ کے نام پر نئی سازش کر رہے ہیں، فسادیوں کے ساتھ قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، اسلام آباد میں یلغار کی ہرگز اجازت نہ دی جائے، یہ لانگ مارچ سیاسی نہیں بلکہ سازش کی پیداوار ہے، اس سازش کو قانون کی طاقت سے کچلا جائے، بیرونی سازش کی سازش رچانے والے تمام کردار بے نقاب ہوگئے ہیں، تحقیقات کے عمل کو تیز، ملوث عناصر کو قانون کے مطابق نشان عبرت بنایا جائے۔

    دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:عبداللہ قریشی

    اس حوالے سے ترجمان نے مزید کہا کہ اجلاس میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، سیلاب متاثرین کی بحالی تک پوری توجہ کے ساتھ کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

    اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق سازشی معاشی بحالی کیخلاف لانگ مارچ کے نام پر نئی سازش کر رہے ہیں، فسادیوں کے ساتھ قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، اسلام آباد میں یلغار کی ہرگز اجازت نہ دی جائے، یہ لانگ مارچ سیاسی نہیں بلکہ سازش کی پیداوار ہے، اس سازش کو قانون کی طاقت سے کچلا جائے۔

    پی آئی اے کا سابق انجنئیر کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار

  • جج دھمکی کیس، عمران خان کی ضمانت کی درخواست، فیصلہ آ گیا

    جج دھمکی کیس، عمران خان کی ضمانت کی درخواست، فیصلہ آ گیا

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان درخواست ضمانت منظور کرلی

    عمران خان کی جانب سےخاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سیشن کورٹ میں پیش ہوئے ،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ درخواست گزار بھی عدالت میں موجود ہے، ضمانت پہلی ہے ، ایک اورکیس بھی 13 اکتوبر کے لیے لگا ہوا ہے،عدالت نے عمران خان کی 50 ہزار کے مچلکوں پر 13 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظورکر لی عدالت نے پولیس کو آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کر دیا

    عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی،

    عدالت پیشی کی موقع پر تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیاست کی ٹیسٹنگ لیب نہ بنائیں عمران خان کے خلاف تمام مقدمات جھوٹے ہیں، عمران خان نے ایک بار نہیں کہا کہ وہ باہر جارہا ہے، ساری سازشیں ہم نے ناکام بنائیں،عمران خان دوتہائی اکثریت سے واپس آئے گا، امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف مقدمات کا لنڈا بازار لگادیا، اب باپ بیٹی دونوں کہتے ہیں کہ سائفر ہے، لکھا ہوا بھی مان گئے، قومی سلامتی کی جو کمیٹی ہے سب نے کہا سائفر ہے، سب نے کہا زبان مناسب نہیں، پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کےلئےتاریخی لانگ مارچ کرینگے،ہم لانگ واک ٹو فریڈم کریں گے، کیا صورت ہوگی عمران خان بتائیں گے، قوم عمران خان کے ساتھ جاگی ہوئی ہے، سب سے بڑا عوامی، جمہوری پر امن احتجاج کرنے جارہے ہیں،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    واضح رہے کہ عمران خان نے جج کو دھمکی دی تھی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی

  • بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
    اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • ہم سیاسی انتقام لینے کی کوشش نہیں کریں گے، خواجہ آصف

    ہم سیاسی انتقام لینے کی کوشش نہیں کریں گے، خواجہ آصف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان نے اداروں کے خلاف تقاریر کی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس میں امریکہ کا نام نہیں لینے والی بات دنیا نے سن لی، عمران خان کوآڈیو لیکس کے بعد کچھ احساس کرنا چاہیے تھا،عمران خان نے کہا مجھے گرفتارکرکے دکھائیں،سچ یہ ہے ہم نےعمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹایا،ہم چاہتے ہیں قانون او رآئین کے مطابق ان پر ہاتھ ڈالا جائے،عمران خان نے ریفرنس دیا کہ اگر گھر پر ڈاکہ پڑے، چوکیدار کہے نیوٹرل ہے،عمران خان نے ریفرنس دیا کہ کیا آپ چوکیدار کو معاف کر دیں گے، پاکستان کے ادارے قانون و آئین کے تابع ہیں،ہمارے چوکیدار کسی چور کی حفاظت پر مامور نہیں ،

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کی کاپی وزیراعظم ہاوس سے کہاں غائب ہو گئی؟عمران خان نے کہا سائفر کی کاپی میرے پاس تھی کہاں ہے پتا نہیں، سائفر کو پہلے پرسنل کسٹڈی میں رکھنا بعد میں کہنا پتا نہیں کہاں گیا، عمران خان کا اقتدارجتنی دیر بھی رہا، وہ کس کا مرہون منت تھا؟ کیا اپنے محسنوں سے اس طر ح کا سلوک کیا جاتا ہے؟ آمریت کے چارادوار میں ہماری جدوجہد یہ رہی کہ ادارے نیوٹرل ہو جائیں آج وہ آئین کی پابندی کرتے ہیں تو عمران خان کہہ رہے ہیں قوم آپ کو معاف نہیں کرے گی، عمران خان پھر ایوان صدر جاتے ہیں ملاقات میں منتیں کرتے ہیں،اداروں کی سالمیت اہم ہے،اقتدار آنے جانے والی چیز ہے،عمران خان کہتے ہیں ان کے کیسز معاف کردیئے گئے .ہمار کونسا کیس معاف ہوا ہے کوئی ایک بتا دیں جو معاف ہوا ہو، عمران خان کی جلسوں میں غلط بیانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے،پنجاب میں کس کے ذریعے پیغام بھجوا دیا جاتا ہے؟ صدر کے ذریعے پیغام پہنچایا گیا عمران خان کونومبر کے ہول پڑ رہے ہیں، ہماری فوج آج بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے ، سیلاب زدہ علاقوں میں فلاحی تنظیمیں مثالی کام کر رہے ہیں، افواج اورقوم بحالی میں مصروف ہیں،سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سیلاب زدگان کےلیے کام کررہے ہیں،عمران خان صدر کے سامنے غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں،وقت پر الیکشن ہوں گے، اور نومبر بھی خیریت سے آئین و قانون کے مطابق گزرجائے گا۔ آڈیو لیکس کے بعد کوئی گنجائش نہیں رہ گئی کہ اس کے ترلوں اور بھڑکوں میں فرق ہے۔ہم سیاسی انتقام لینے کی کوشش نہیں کریں گے،عمران کا سوشل میڈیا پر بھی مقابلہ کریں گے اور عدالتوں میں بھی لے کر جائیں گے،شہباز شریف کی آڈیو لیک میں نے خود نہیں سنی اس میں ریاست کے خلاف کوئی عنصر نہیں ہے،عمران خان کی آڈیو لیک میں پاکستان کے خلاف سازش ضرور ہوئی ہے،

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید