Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں تو سابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا گیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا تھا اور یہ طے تھا کہ تیل کی قیمتیں 30 روپے تک بڑھائی جائیں گی ،آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف کے معاہدے کی کاپی باغی ٹی وی نے حاصل کر لی ہے، معاہدہ فروری 2022 میں کیا گیا تھا جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابھی تک جمع نہیں ہوئی تھی،تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا تھا

    تحریک انصاف کی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 4 فرروی 2022 کو چند دستاویزات جاری کی گئیں تھیں اس وقت جاری کی گئی پریس ریلیز میں میں ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین کا بیان اور ایگزیکٹو بورڈ کے خیالات کا خلاصہ شامل کیا گیا رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 4 سے متعلق مشاورت اور آئی ایم ایف انتظامات سے متعلق امور پر عملے کی رپورٹ پر غور کیا گیا،

    18 نومبر 2021 کو پاکستان کے حکام کے ساتھ اقتصادی پیشرفت اور پالیسیوں پر ختم ہونے والی بات چیت کے بعد آئی ایم ایف کے عملے کے ذریعہ تیار کردہ معلوماتی ضمیمہ اس وقت کی پیشرفتوں کے بارے میں معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے والی ایک اضافی معلومات اسٹاف رپورٹ اور ایگزیکٹو بورڈ کی بحث کے جواب میں پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا بیان شامل تھا-

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آمدنی. پائیدار مالیاتی اصلاحات اور ٹیکس انتظامیہ کی کوششوں کی وجہ سے وفاقی ٹیکس ریونیو میں 25 فیصد سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔ اسے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو نئے ریونیو ہدف سے ہم آہنگ کرنے کو یقینی بنا کر ماحولیاتی ٹیکس کے اعلیٰ عمل سے بھی مدد ملے گی۔ اس طرح ہم پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں 8 روہے فی لیٹر اضافہ کریں گے اور ہم مالی سال 2022 کے لیے ہر ماہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو فی لیٹر بڑھانے کا عہد کرتے ہیں جب تک کہ زیادہ سے زیادہ قیمت 30 روپے فی لیٹرنہ بڑھا دی جائے۔ اور نئے ترجیحی ٹیکس یا چھوٹ جاری کرنے کے طریقہ کار سے گریز کریں۔

    آئی ایم ایف رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دسمبر میں پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی فی لیٹر 4 رپوے فی مہینہ اضافہ جاری رکھے گا جب تک کہ زیادہ سے زیادہ 30 روپے لیٹر حاصل نہ ہو جائے جو ماضی میں موجود تھا۔ آئی ایم ایف نے مارہ فروری میں مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان تعمیراتی شعبے کے لیے مالیاتی اداروں کی ایمنسٹی اسکیم کنٹرول کرے، آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھانےکا مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور قیمتوں پر ٹیکس نہیں لگایا جس کی وجہ سے آنے والی نئی حکومت کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا، معاہدے کے تحت پاکستان کوگزشتہ سال 5 نومبر یکم دسمبر اور رواں سال یکم جنوری کو پیٹرول و ڈیزل پر4، 4 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانا تھی پی ٹی آئی حکومت نے معاہدے کے برعکس جنوری کے بعد پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا اور سیلزٹیکس بھی صفرکردیا

    عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو انہوں نے پٹرول کی قیمتیں مستحکم کر دیں اور کہا کہ پانچ ماہ تک یہی قیمتیں رہیں گی، عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو آنے والی اتحادی حکومت ایک ماہ تک سوچ بچار کرتی رہی کہ قیمتیں بڑھائیں یا نہیں، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ تحریک انصاف حکومت کے کئے گئے معاہدے کے تحت موجودہ حکومت کو پٹرول کی قیمتیں 30 روپے بڑھانا پڑیں جس کے بعد تحریک انصاف نے ہی احتجاج کا اعلان کیا، اور معاہدہ کرنے والی سابق حکمران جماعت کے رہنماؤں نے بیان دیئے کہ یہ سب موجودہ حکومت کر رہی

    تحریک انصاف کے رہنما، وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے معاہدے کے اعتراف کر چکے ہیں پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے قبول کرلیا کہ موجودہ مہنگائی، ڈالر، پٹرول اور بجلی کی قیمیتیں آئی ایم ایف سے ہمارے کئے گئے معاہدوں کی وجہ سے بڑھیں ہیں.

    پروگرام کے دوران سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ معاشی مسائل تو پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں بھی تھے اور ان کی حکومت میں ہی آئی ایم ایف سے معاملات طے کئے گئے اور مانا گیا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں گی اور آپ ہی کے دور میں بیرونی قرض بھی بڑھا مگر اس وقت تو آپ نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی .189 تک تو ڈالر کی قیمت پی ٹی آئی کی حکومت چڑھا کر گئی ہے مگر اس وقت بھی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت آپ حکومت میں تھے.پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر مسلم لیگ ن کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ڈیل تھی آئی ایم ایف کے ساتھ ،اب آپ کہ رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے تو دو ماہ پہلے آپ کی حکومت تھی تو تب ملک ڈیفالٹ نہیں ہو رہا تھا ؟

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ آپ بالکل درست کہ رہے ہیں (یعنی شاہ محمود قریشی نے تسلیم کر لیا کہ ان کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوئے تھے جس کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مرحلہ وار بڑھانا تھیں ) انہوں نے جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاشی مشکلات چند ہفتوں کی پیدا کردہ نہیں ہیں،عمران خان بھی یہی کہ رہے ہیں کہ معاشی چیلینجز راتوں رات پیدا نہیں ہوئے، کزشتہ 30 سال مسلم لیگ ن اور پیپلزپارتی برسراقتدار رہے ہیں.

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک بھی قوم کو بتا چکے ہیں کہ عمران خان ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے گئے تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائیں گے،مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    تحریک انصاف کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے قوم کو سچ بتانا چاہئے اور عمران خان میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ وہ قوم کو سچ بتائیں کہ یہ معاہدہ ہم کر کے گئے تھے، پاکستانی قوم کو مہنگائی میں جکڑنے کے ذمہ دار عمران خان اور انکی کابینہ ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ 30 روپے پٹرول کی قیمت بڑھانے کا معاہدہ کیا، اب سب سامنے آ چکا،عمران خان جو یوٹرن خان کے نام سے مشہور ہیں قوم کو جھوٹ بتانے کی بتائیں سچ بتائیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک انصاف کے احتجاج میں بھی اس بات کو بتایا جائے کہ یہ گڑھا تحریک انصاف نے ہی عوام کے لئے کھودا تھا، اب صرف سیاست کی جا رہی ہے

    اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پٹرول قیمت میں اضافہ عوام پر بہت سنگین بوجھ تو ہے ہی لیکن یہ اُسیIMFمعاہدے کی شرائط ہیں جو عمران خان حکومت میں کیا گیا۔عمران خان حکومت ہوتی تو بھی پٹرول بجلی کی یہی قیمت ہوتی۔قیمتیں منجمد سیاسی فائدے،عدم اعتماد کوآتے دیکھکر کی گئیں تھیں۔ حقائق یہی ہیں؛کسی کو برالگےتو کیا کیاجائے۔

    فواد چودھری کہتے ہیں کہ مہنگائی کے اس طوفان کی ذمہ دارنون لیگ تو ہے ہی لیکن پیپلز پارٹی، MQM، BAP, فضل الرحمنٰ اور لوٹوں کو مت بھولیں جو اس جرم میں نون لیگ کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہیں موجودہ تباھی کی ذمہ داری اس پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے یہ سب نون پر ڈال کر خود میسنے بنے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، موجودہ مہنگائی کی ذمہ دار عمران خان ہیں، سابق حکومت نے ایسے معاہدے کئے جس سے ملک میں اب مہنگائی میں اضافہ ہوا، اگر عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تیل کی قیمتیں 30 روپے بڑھانے کا معاہدہ نہ کرتی تو تیل کی قیمتوں میں اب اتنا اضافہ نہ ہوتا، بلکہ کم ہوتا، عمران خان کی جانب سے ایسے غلط فیصلے کئے گئے جس کا خمیازہ قوم آج بھگت رہی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت ہوتی تو کیا وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق تیل کی قیمت نہ بڑھاتی؟

    علاوہ ازیں سابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر بھی انکشاف کر چکے تھے کہ آئی ایم ایف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے،آئی ایم ایف بجلی کے ریٹ بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے،

  • ’ آج چیخیں مارنے والوں کو عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا ‘:مریم اورنگزیب

    ’ آج چیخیں مارنے والوں کو عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا ‘:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آج جو چیخیں ماررہےہیں انہیں عمران خان نےکارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا تھا،وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے آسان تھا کہ ملک کو بحرانوں میں چھوڑ کر نگران حکومت کے حوالے کر دیتے۔

    وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ سیاست کو بچانا آسان فیصلہ تھا لیکن ہم نے ذمہ دارانہ سوچ کا مظاہرہ کیا، 2013 میں لوڈ شیڈنگ 18، 18 گھنٹے تھی، ہم نے چیلنج قبول کیا اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر کے دکھایا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں ایک سال کاروبار بند رہا، کاروباری برادری اور مارکیٹ کنفیوژن کا شکار تھی، وزیراعظم سے لے کر نیچے تک کرائے کے ترجمان کہتے تھے کہ ہم آئی ایم ایف نہیں جائیں گے۔

    وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ سابق دورمیں پانچ مرتبہ وزیرخزانہ بدلا گیا، سات مرتبہ ایف بی آرکےچیئرمین کوبدلا گیا، چھ بارسیکریٹری فنانس کو تبدیل کیا گیا، آج جو چیخیں مار رہے ہیں انہیں عمران خان نے کارکردگی کی بنیاد پر وزارتوں سے نکالا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیت ان کے وزیراعظم نے قبول نہیں کی تو عوام کیسے کرے، جب معیشت تباہ ہوئی اور مارکیٹ کا اعتماد ختم ہو گیا تو انہوں نے کمزور بنیادوں پر آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط طے کیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس وقت سیکریٹری فنانس نے کہا کہ یہ معاہدہ غلط ہے تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا، وہ عوام کی بات کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پارلیمنٹ میں لائی جائیں۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    اقتدار کی جنگ یا عوام سے مخلصی ،تحریر: حنا

    تم اقتدار کی ہوس اور انا کی جنگ لڑ لو۔
    عوام کی خیر ہے,گزر ہی جائے گی۔
    کہتے ہیں یہ حکمران عوام کی جنگ لڑتے ہیں بھٹو نے اقتدار کے لیے پھانسی دے دی اقتدار نہ چھوڑا. نواز شریف نے اقتدار نہ چھوڑا نااہل ہو گیا ماں مر گئی جنازے پہ نہ آیا بیوی مر گئی اس کی میت دیکھنے نہ آیا تابوت بھیج دیا ۔عمران خان دعائیں کرتا رہا کہ میرے حریف میرے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں اور جب عدم اعتماد آگئی تو ملکی سلامتی کو اداروں کو داو پر لگا دیا۔عمران خان نے جھوٹ بول کر امریکی خط کا شوشہ چھوڑ کر اپنا سیاسی بیانیہ تو بنا لیا مگر دنیا بھر میں اپنے ملک کو بدنام کر گیا ۔اپنے اداروں کو بدنام کر گیا ۔فرض کریں اگر یہ سچ بھی تھا تو پہلے آپ اپنی خارجہ پالیسی تو مضبوط بناتے اپنے ملک کو مضبوط بناتے ۔اتنا مضبوط کہ آپ جس ملک سے قرضہ لیکر اپنا ملک چلا رہے ہو ۔اس سے پنگا لینے کے بعد آپ کو اس سے قرضہ نہ لینا پڑے آپ نے پوری دنیا میں امریکہ امریکہ کر کہ خود کو ہی بدنام کیا آج عمران خان بھی حاکم ہوتا تو کوئی ملک آپکو قرضہ نہ دیتا۔کیونکہ اقتدار کی ہوس میں آپکی دس گز لمبی زبانیں آپ کی سیاسی ساکھ تو خراب کرتی ہے ساتھ ساتھ دنیا کو آپکا معیار بھی دکھاتی ہے کہ پلے نہی دھیلا تے کردی میلا میلا

    کچھ لوگ کہتے ہیں بھٹو برا ہو سکتا نواز شریف برا ہو سکتا لیکن عمران خان بہت اچھا ہے کیونکہ عمران خان نے اپنی عوام کا بہت خیال رکھا شاید وہ عوام حریم شاہ اور فرح گوگی تھی ۔کیونکہ عمران خان ہی تھا جس نے مہنگائ کی شروعات کی۔پانچ سال جو پہلے جو بجلی کا یونٹ پانچ روپے تھا وہ سترہ روپے کیا عمران خان نے ۔پٹرول جو پچپن روپے تھا ستر روپے کیا عمران خان نے ۔یہ عمران خان ہی تھا جس نے بجلی اور پٹرول کے معاہدے کیے آئ ایم ایف سے۔

    یہ عمران خان ہی تھا جس کا کہنا ہے کرسی مل جاے ورنہ ملک تین ٹکرے ۔کرسی مل جاے ورنہ فوج تباہ ہو جاے گی کرسی مل جاے ورنہ عوام لٹ جاے گی ۔کرسی مل جاے ورنہ اس ملک میں کوی بھی میری طرح مخلص لیڈر نہیں آے گا ۔بس ایک بار کرسی مل جاے لانگ مارچ دھرنوں سے ملکی ساکھ کو نقصان ہونا شروع ہو جاے گا ۔بس کرسی مل جاے پھر میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔کرسی مل جاے پھر جنرل باجوہ جیسا نیک ایماندار دنیا میں کوی نہیں اور پاک فوج جیسی عظیم فوج کسی ملک پاس نہیں۔

    یہ عمران خان ہی تو تھا کہ جب کراچی پی آئی اے حادثہ کا شکار ہوا پائلٹ سواریاں اور عملہ جاں بحق ہو گیا تو جناب نے سارا ملبہ پی آئی اے کے افسران پہ ڈال کر بہادری کی رقم قائم کر دی کہ پی آئی اے میں تمام افسران پائلٹ کی جعلی ڈگریاں ہے۔اور ان کو پی آئی اے سے نکال دیا گیا ۔لیکن پھر کیا ہوا کہ تمام ممالک نے پی آئی اے پر پابندی لگا جو اب تک لگی ہوئی ہے اور جب تحقیقات کی تو دو کے سوا کسی کی ڈگری جعلی نہ تھی ۔

    یہ عمران خان ہی تھا جو گراونڈ میں کہتا تھا کہ فوج کے خلاف خلاف نہ بولو فوج ہے تو ملک ہے پھر اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے فوج کے خلاف گالی گلوچ کرواتا تھا ۔بعد میں اسی سوشل میڈیا ٹیم کو ملنے کے لیے پشاور بھی بلوا کر شاباش دیتا تھا ۔یہ عمران خان ہی تو تھا جو اپنے لانگ مارچ کو جہاد اور صحابہ انبیاء کرام کی جنگوں سے ملوا کر اپنے انصافین کو گھروں سے نکلنے کا جوش و جزبہ دلواتا رہا اور پھر جب وقت آیا تو مزاکرات کر کے راتوں رات پتلی گلی سے نکل گیا۔

    ۔کیونکہ عمران خان اور اس کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ عمران خان سے بڑا گیمر بندہ پاکستان میں کوئی نہیں لیکن یہ سوچ ہے ان کی۔ ملک کرکٹ کی پچ نہیں ہے نہ ہی ملک دس چوکوں چھکوں سے چلتے ہیں کیونکہ یہ ملک ہے کرکٹ نہیں ۔کہ جہاں بلا میرے ہاتھ میں ہے تو بس میرے ہاتھ میں رہے بس میں ہی کھیلوں گا۔ کیونکہ میں کرکٹ کا چیمپئن ہوں دنیا مجھے چاہتی ہے۔۔لیکن یہ بھول جانا اس سے پہلے بھی یہاں تخت نشین کوی اور تھا اس کی بھی یہی سوچ تھی۔۔

    کاش عمران خان وہ لیڈر ثابت ہوتا جو پانچ سال پہلے اوپزیشن میں تھا ۔سچا کھرا سنہرے خواب دکھانے والا۔۔۔چوروں اور ڈاکووں سے پیسہ واپس لانے کے دعوے کرنے والا۔۔
    پر کیا ہے کہ خان بھی تو سیاست دان ہی نکلا ۔۔اور سیاست دان عوام سے کیے اپنے وعدے پورے ایسا بھلا کیسے ممکن تھا۔
    حنا سرور

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکمران استعفیٰ دیں اورالیکشن کروائیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف ان کی کارستانیوں کی وجہ سے گئے ،عوام کی خاطر آئی ایم ایف سے متعدد مطالبات تسلیم نہ کرنے پر اصرارکیا عوام کی خاطر آئی ایم ایف کے مطالبات پر اعتراضات اٹھائے تھے ،انہوں نے تو ہم پر الزام عائد کیا اور خود پیٹرول کی قیمت بڑھا کر بم گرا دیا گیا ،ہم سخت فیصلے کیے ،آئی ایم ایف جانے کےباوجود عوام کو ریلیف دیا، حکومت نے رات کو بجلی کی قیمت میں 47فیصد اضافہ کیا،حکومت کو ڈر ہے روس کے پاس گئے تو امریکہ ناراض ہوجائیگا ،مفتاح اسماعیل خود آئی ایم ایف گئے ہمارے پروگرامز کی تعریف کی گئی ،ہم نے کامیاب جوان، صحت کارڈ اور احساس پروگرام شروع کیے 2ماہ حکومت نے بہتر چلتی معیشت کو ختم کردیا ،

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات سے کچھ نہیں کما رہے،ملک کو 2018 کے حالات پر واپس لانے کےلیے وقت درکار ہے،سستے پیٹرول کو خریدنے کا کوئی معاہدے نہیں،معیشت کو استحکام دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے،یہ فیصلے نہ کرنا ملک سے انصاف ہے نہ عوام سے ،پیٹرول اور ڈیزل کی تاریخی مہنگائی کو برداشت کرنا پڑے گا، روپے کی قدر میں کمی سے پیٹرول مہنگا ہوجاتا ہے،پیٹرول ہم ڈالرز میں خریدتے ہیں اضافی قرضے لے کر اگر ہم مصنوعی سبسڈی دے گے تو ملکی معیشت کمزور ہوگی،

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،عمران خان نے پیٹرول کی 10 روپے قیمت بڑھا کر کہااب یہی رہے گی ،ہمیں لگا شاید کابینہ کی منظوری سے ہوا ہو گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا،سابق وزیر اعظم عمران خان ملک کو تباہ کرنا چاہ رہے تھے، عمران خان کی سبسڈی کی قیمت 3 ماہ میں 300 ارب روپے تھی، عمران خان نےجوسبسڈی دی اس کی منظوری کسی فورم سےنہیں لی،عمران خان حکومت ختم ہونے سے پہلے سبسڈی کا اعلان کیوں کرکے گئے؟ آئی ایم ایف کیساتھ انہوں نےطےکیاکہ قیمتیں بڑھائیں گے،عمران خان نے کہا اگرمیں کھیل نہیں سکتا توکھیل ہی ختم کردوں گا،نواز شریف اور شہباز شریف نے کہا کہ غریب کو آسانی دینے تک تیل کی قیمت نہیں بڑھانی،پھر ہم نے تین لائحہ عمل وزیر اعظم کو پیش کیے، کچھ ماہ میں پہلے تکلیف پھر استحکام نظر آئے گا،کابینہ کا مجموعی بجٹ500 ارب اور عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی عمران خان نے جاتے جاتے 800 ارب روپے کی سبسڈی دی ،چالیس ہزار کمانے والے شخص کو 2ہزار روپے کا وظیفہ دیا گیا،عمران خان ملک خزانے خالی کر گئے جس کی وجہ سے ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کارٹون جو آج بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں ،روس کا سستا تیل خریدنے کے پیسے نہیں حکمران جب عیاشیوں میں مصروف تھے تو بھارت نے روس سے تیل خریدلیا،مفتاح اسماعیل کہتے ہیں اگر روس پر کوئی پابندیاں نہیں ہوں گی تو ہم خرید لیں گے،آپ کو پتا تھا یہ خریدنا ضروری ہے لیکن آپ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، یکم جنوری کو عمران خان نے 4 روپے پیٹرول بڑھایا پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر شہباز شریف اور بلاول نے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا عمران خان نے روس سے سستا تیل لینے پر 2 اجلاس کیے روس میں سفیر نے مجھے ایس ایم ایس کیا کہا کہ تحریری طور پر معاہدہ کریں میں نے خط لکھا اور کہا اپریل میں پہلی کنسائنمنٹ لیں گے ،55 دن ہوگئے مفتاح اسماعیل کو یہ تک نہیں پتہ کہ روس پر کوئی پابندی عائد نہیں، جس لابی کی مدد سے حکومت اقتدار میں آئی وہ پاکستان کوغیر مستحکم کرناچاہتی ہے،

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

  • سرکاری ہیلی کا استعمال ،اور پھر دوسروں پر تنقید، عمران خان کا دوہرا معیار

    سرکاری ہیلی کا استعمال ،اور پھر دوسروں پر تنقید، عمران خان کا دوہرا معیار

    سرکاری ہیلی کا استعمال ،اور پھر دوسروں پر تنقید، عمران خان کا دوہرا معیار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک طرف پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر موجودہ حکومت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب عمران خان پارٹی چیئرمین ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ کا ہیلی کاپٹر بھی مسلسل استعمال کر رہے ہیں، عمران خان کی جانب سے جلسوں میں جاتے ہوئے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا جاتا ہے،آج بھی بونیر جاتے ہوئے عمران خان نے صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا،

    صوابی میں جلسہ ہوا تھا تو اس میں بھی عمران خان ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے تھے اور کہا یہ جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیلی استعمال کرتے ہیں تو عمران خان ساتھ چلے جاتے ہیں، سیاسی جلسوں کے لئے سرکاری وسائل کے استعمال پر عوام نے سوال اٹھا دیئے ہیں

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فضل الرحمان نےہمیشہ ذاتی مفادات کی سیاست کی ،عمران خان نے بونیر میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سازش کے تحت یہ امپورٹڈ حکومت ہم پرمسلط ہوئی، نواز شریف نے کبھی نریندر مودی کیخلاف بات نہیں کی، آصف زرداری اس ملک کی بہت بڑی بیماری ہیں،آصف علی زرداری کو پیسے کی بیماری ہے، پیسے دیکھ کر آصف زرداری کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں،ڈونلڈ لو کے ذریعے امریکہ نے دھمکی دی کہ عمران خان کواقتدارسے ہٹا دو،7مارچ کو مراسلہ بھیجا جاتا ہے،8مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے،امریکا کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان مستحکم ہو،اتحادیوں کوبھی اچانک یاد آ جاتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت بری ہوگئی ،بہت شورمچایا جاتا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی کر دی،کانپیں ٹانگنے والے بلاول نے ہماری حکومت میں مہنگائی کیخلاف مارچ کیا،

    عمران خان کا مزیدکہنا تھا کہ اگرمیرا پیسہ باہرہوتا توکبھی ان کے سامنے ایبسلوٹلی ناٹ نہیں کہہ سکتا،امریکی جنگ میں شرکت کرکے ہم نے اپنا نقصان اٹھایا،زراداری اور نواز شریف نے ایک بار بھی ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی،کیاکبھی پہلے کسی نے ایک ہفتے میں پیٹرول 30 روپے مہنگا کیا؟ آئی ایم ایف ہمیں بھی پیٹرول مہنگا کرنے کا کہتا تھا ،ہم نےعوامی مفاد کومد نظررکھ کرفیصلے کیے،سوویت یونین معاشی بدحالی کی وجہ سےٹوٹا،پاکستان میں شریف اور زرداری خاندان نے30سال حکومت کی ،آج یہ کوشش کر رہے ہیں عمران خان پر غداری کا مقدمہ کر کے راستے سے ہٹایا جائے،یہ نیب کو ختم کرنے جا رہے ہیں نیب ختم ہونے سے ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز ختم ہوجائیں گے ترکی میں شہباز شریف نے اپنے مفرور بیٹے کو بٹھایا ہوا تھا، یہ الیکشن میں دھاندلی کر کے جیتنے کی پوری تیاری کر رہے ہیں،انہوں نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر پہلے سے ہی میچ فکس کیا ہوا ہے، انہوں نے پولیس کو ساتھ ملا کر جھوٹے کیسز بنائے، 25کی رات جو ظلم ہوا پہلے اس ملک میں کبھی نہیں ہوا، بے دردی سے بچوں اور عورتوں پر شیلنگ کی گئی،پولیس چادر اور چار دیواری کی پروا کئے بغیر گھروں میں گھس گئی،میں تو کنٹینر میں تھا معلوم ہی نہیں تھا باہر کتنا ظلم ہوا ،یہ خوف اور دھمکیوں کے ذریعےلوگوں کوڈرا رہے ہیں ،اگرآج آپ اس ظلم کا مقابلہ نہیں کریں گے توآپ کے بچوں کومقابلہ کرناپڑے گا، سپریم کورٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں میں نے آج تک قانون نہیں توڑا،126دن کا دھرنا دیا ہمارے لوگ پرامن رہے، کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنے لوگوں کی سکیورٹی اداروں سے محاذ آرائی ہو،میں کال دوں گا آپ سب نے آنا ہے، ہم حقیقی آزادی کیلئے مارچ کریں گے،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہری پٹرول پمپوں کو نقصان کیوں پہنچا رہے ہیں؟ آپ کو MQM کے دفاتر کے سامنے احتجاج کرنا چاہئے جن کی مدد اور حمایت سے مہنگائی کا یہ طوفان آیا ، خالد مقبول صدیقی، امین الحق اور فیصل کو مفت پٹرول کی قیمت کراچی اور پاکستان کے عوام کو دینی پڑ رہی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد پولیس کی طرف سے دی گئی سیکورٹی واپس لے لی گئی۔ اسلام آباد پولیس کے تمام لوگوں کو کل شام واپس بلا لیا گیا۔ایک طرف ایک مجرمہ مریم صفدر کو وزیراعظم کے برابر سیکورٹی دی جا رہی ہے دوسری طرف امت مسلمہ کے لیڈر سے سیکورٹی واپس۔

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان کے کارنامے، قوم کبھی نہیں بھول پائے گی

    عمران خان اقتدار سے گئے تو واقعی خطرناک ہو گئے پاکستان کے لیے ۔پاکستانی قوم کے لیے ۔اداروں کے لیے

    یو ٹرن خان کے نام سے مشہور عمران نیازی اقتدار میں آنے تو قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہ کیا ۔آئی ایم ایف کے پاس گئے لیکن خود کشی نہ کی. امریکہ جا کر کشمیر فروشی کی اور اسلام آباد میں ایک دن کشمیر کے لیے ایک گھنٹہ دھوپ میں کھڑے رہ کر منافقت کی حد کر دی۔ دوست ممالک کو ناراض کیا .خارجہ پالیسی اتنی کمزور تھی کہ کبھی ترکی ناراض تو کبھی سعودی عرب کبھی ایران کبھی چین اور دعوے اتنے بلند و بالا جو کھوکھلے ہی رہے۔ کرکٹر عمران نیازی نے سمجھا وزیر اعظم بن کر یہاں بھی سب کو فتح کروں گا لیکن انکی اپنی وکٹیں گرتی رہیں کابینہ ایک بار نہیں درجنوں بار بدلی۔ مشیر بدلے وزیر بدلے لیکن عوام کی حالت نہ بدلی ۔بزدار کے حوالے پنجاب کر کے پنجاب کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا بیورو کریسی میں تبادلے ہر ماہ ہوتے رہے جو کام کرتا اسکا تبادلہ کر دیا جاتا فرح کے نام پر کرپشن کا بازار گرم کیا ۔ مشیر ملک لوٹتے رہے لیکن نیازی کا سارا زور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو جیلوں میں بھجوانے پر رہا ۔ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوا پھر حالات نے پلٹا کھایا اور عمران خان آئین شکن بنے ۔عمران نیازی کا نام تاریخ آئین شکن کے طور پر یاد کرے گی ۔کرسی اتنی عزیز کہ اپنوں کی جانب سے ساتھ چھوڑنے کے باوجود بھی وزیراعظم کی کرسی سے چپکے رہے ۔جب کرسی گئی تو عمران خان کا دوہرا معیار سامنے آنے لگا اپنی سوشل میڈیا ٹیمز سے اداروں کے خلاف ٹرینڈ کروائے گئے جس کے ثبوت موجود ہیں ۔ اداروں کو دھمکیاں دی گئیں افواج پاکستان کے افسران کی کردار کشی کی گئی ۔خفیہ خط والا بھانڈا پھوٹا تو جان سے مارے جانے کا انکشاف کیا حکومت نے سیکورٹی دینے کو کہا تو پھر بہادر عمران خان گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ سے پشاور چھپ کر جا بیٹھے ۔اور اداروں کی کردار کشی کے علاوہ ملکی سالمیت کے خلاف بیان دینے لگے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کو اب کسی دماغی ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہے یا پھر انہیں تین روز کے لئے صرف تین روز کے لیے رانا ثناء اللہ کے حوالہ کیا جائے تو انکا علاج ہو سکتا ہے۔عمران خان کی اداروں کے خلاف مہم سیاست میں شدت پسندی اراکین اسمبلی کو دھمکیاں سب ریکارڈ پر ہیں آئین شکنی کے ساتھ توہین عدالت بھی کرتے رہے اور بہادر اتنے کہ اب لانگ مارچ کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانتیں مانگ رہے ہیں ۔

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

    عمران خان کے دور حکومت میں جو ہوا اسے پاکستانی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔ڈالر کا مہنگا ہونا۔ آٹے کا بحران چینی کا فقدان پٹرول کے لیے لمبی لائنیں ادویات کی قلت خود ساختہ مہنگائی سیاسی قائدین کو جیلوں میں ڈالنے کو عوام کبھی نہیں بھول پائے گی۔ پچاس لاکھ گھر جو عمران خان نے بنائے وہ بھی قوم نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کے دور میں کرائم میں اضافہ عثمان مرزا کیس نور مقدم قتل کیس وہ بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ سعودی عرب کا عمران خان سے قرض واپس مانگنا ترکی کا ناراض ہونا قوم نہیں بھول پائے گی۔ سارا دن سخت دھوپ میں مزدوری کرنے والے مزدور کو شام کے وقت اسی روپے کلو آتا اور ایک سو ستر والا گھی ساڑھے چار سو روپے میں خریدنے کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے کتوں کے ساتھ کھیلنے والی فرح کے کارناموں کو بھی قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے مشیروں کی کارستانیاں بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ شہزاد اکبر کے دعوے بھی قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے وزیروں کی جانب سے ایک روٹی کھانے کے مشورے کو قوم نہیں بھول پائے گی . عمران خان کے لانگ مارچ میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کو قوم نہیں بھول پائے گی ۔مسلح افراد کی لانگ مارچ میں شرکت اور عمران خان کی اعتراف کو قوم نہیں بھول پائے گی۔ عمران خان کے ملکی سلامتی اداروں کے خلاف بیانات قوم نہیں بھول پائے گی۔ بلکہ اب تو عمران خان کو نظر آ گیا ہو گا جو بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف کے ساتھ ہوا. فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے تاخیری حربوں کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔ ملک ٹوٹنے کے بیان کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی ۔عمران خان کی جانب سے اپنے محسنون کی کردار کشی اپنے دوستوں کو بلاوجہ گرفتار کروانے مقدمہ بنانے کو قوم کبھی نہیں بھول پائے گی۔غرضیکہ عمران خان کا ایک ایک کارنامہ قوم یاد رکھے گی اور جب بھی الیکشن ہوئے قوم عمران خان کے ساتھ حساب برابر کرے گی.عمران خان جس کو اللہ نے عزت دی تھی اس عزت کو خاک میں ملانے کا ہاتھ بھی عمران خان کا ہی ہے۔ کرسی کے لالچ میں اتنے اندھے ہو گئے کہ ملک دشمنی پراتر آئے اور شاید اس وقت عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی اور ملک دشمن کی ضرورت نہیں .قوم اب عمران خان کے دعوے یوٹرن ۔جھوٹ سب جان چکی اور قوم کو بھی اب انتظار ہے اگلے الیکشن کا جس میں قوم عمران خان کا ڈٹ کر محاسبہ کرے گی۔ پاکستانی قوم ایک خود دار قوم ہے عمران خان اگر قوم کے ساتھ سچ بولتے تو قوم انکے ساتھ تھی لیکن انہوں نے وہ کام شروع کر دیئے جو ملک دشمنوں کے تھے ایسے میں قوم کسی بھی ایسے شخص کو آگے نہیں آنے دے گی جو پاکستان میں رہتے ہوئے ملک دشمنی پر اتر آئےگا نہیں یقین تو الطاف حسین کو دیکھ لو جس کے ایک اشارے پر پورا کراچی بند ہوتا تھا آج کوئی کراچی میں اسکا نام لینے کو تیار نہیں عمران خان سوچ سمجھ لیں مکافات عمل ہوتا ہے اور اب وہی دن عمران خان پر آنے والے ہیں پھر عمران خان اکیلے ہی ہوں گے مشیر وزیر کوئی نہیں ہو گا کچھ پہلے ساتھ چھوڑ گئے مزید بھی چھوڑ جائیں گے اور عمران خان تنہا رہ جائیں گے پھر ایک ہی راستہ بچے گا کہ عمران خان کر کٹ اکیڈمی کھولیں اور قوم کے بچوں کو کرکٹ سکھا کر ثواب دارین کمائیں اور اب وزیر اعظم کی کرسی کو بھول جائیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    لانگ مارچ سے ایک روز قبل چار کروڑ کا چیک پشاور بار کو دینے پر سوال کھڑے ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حکومت جانے کے بعد عمران خان نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب گزشتہ ماہ لانگ مارچ کیا

    عمران خان پشاور سے اسلام آباد آئے اور خطاب کر کے واپس چلے گئے، عمران خان نے بنی گالہ کو چھوڑ دیا ہے اور پشاور میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اب انکشاف ہوا ہے کہ لانگ مارچ سے ایک روز قبل خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے پشاور بار کو چار کروڑ روپے کا چیک دیا گیا ہے،یہ چیک 25 مئی کو دیا گیا ہے اور عمران خان 26 مئی کو لانگ مارچ کے لئے نکلے تھے، خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور لانگ مارچ سے ایک روز قبل ہی پشاور بار کو چار کروڑ کا چیک دینے پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں، اسلام آباد سے صحافی عون شیرازی چیک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حلال ہے کیونکہ کپتان کی جانب سے دیا گیا ہے،اس سے کون کیا ،کتنا فائدہ چاہتا ہے،کتنا فائدہ ملا رہنے دیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے پشاور بار کو 25 مئی کو چندے کا چیک حوالے کر کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دی۔ پشاور کے وکلاء نے PTI کے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔

    اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بار ایسوسی ایشن کو عمران خان کی حکومت نے چار کروڑ روپے کا چیک خونی مارچ والی صبح ہی کیوں جاری کیا؟ کیا یہ خونی مارچ کے لئے وکلا کے ضمیروں کو دبانے کی کوشش تو نہیں؟۔ گذشتہ 9 سال سے پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اتنے عرصے میں ایسی مہربانی کیوں نہیں کی؟

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ سے قبل بار کو چار کروڑ کے چیک کی ادائیگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ،

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • عمران خان کا متنازعہ بیان ملکی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ

    عمران خان کا متنازعہ بیان ملکی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے حالیہ متنازعہ بیان نے قومی سلامتی سنگین خطرے میں ڈالی ہے، عمران خان کے بیان نے ملک کی آزادی، خود مختاری اور سالمیت کو سنگین خطرےمیں ڈالا ہے۔

    عمران خان کے بیان سے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا ہوئی ہے جبکہ عمران خان کا بیان ملکی امن وامان کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے، سابق وزیراعظم نے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد عوام میں اشتعال انگرزی کو پروان چڑھایا ہے جو ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہو سکتاہے،ملک کے ریاستی اداروں کا احترام ہمیشہ ہی قوم کیلئے مقدم رہا ہے مگرپی ٹی آئی چیئرمین نے متعدد بار قابل احترام ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی .

    کسی بھی ملک کے سابق وزیراعظم کیلئے اس کا ملک اور ادارے مقدم ہوتے ہیں مگر عمران خان نے محض اپنے اقتدار کی خاطر ملک کی سلامتی ،خودمختاری اور سالمیت کو داو پر لگا دیا بلکہ عوام کو بھی سول نافرمانی کی ترغیب دی جو کسی بھی مہزب معاشرے کیلئے زہر قاتل ہے.

    سیاسی جماعتوں کی جانب سےبھی عمران خان کے متنازع بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کرسکتا،طلال چودھری کہتے ہیں عمران خان اتنا بوکھلا گئے ہیں کہ ملک توڑنے کی بات کر رہے ہیں، ایم کیوایم نے عمران خان کے بیان کو کھلم کھلا ملک دشمنی قرار دیدیا۔

    عمران خان کا ملک ٹوٹنے اور افواج پاکستان کیخلاف بیان ناقابل قبول قرار دئیے گئی ہیں.

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کے نام سے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس سیاسی جماعت استعمال کرنے لگی

  • پٹرولیم مصنوعات مہنگی،سابق وزیراعظم عمران خان کی عوام سے پر امن احتجاج کی اپیل

    پٹرولیم مصنوعات مہنگی،سابق وزیراعظم عمران خان کی عوام سے پر امن احتجاج کی اپیل

    لاہور:پٹرولیم مصنوعات مہنگی ،ادھرسابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئر مین عمران خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موجودہ وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پر امن احتجاج کے لیے باہر نکلیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق وزیراعظم نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے (40 فیصد) فی لٹر اضافہ کر دیا، اس سے عوام پر 900 ارب روپے کا بوجھ اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید لکھا کہ بجلی کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ پورے ملک کو جھٹکا دے گا اور افراط زر کی شرح 75 سالوں میں سب سے زیادہ 30 فیصد پہنچ سکتی ہے۔

     

     

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران مسلسل دباؤ برداشت کیا اور عوام کو 1200 ارب روپے کا معاشی ریلیف پیکیج دیا، رواں سال سال ہم نے سیلز ٹیکس کو صفر فیصد تک کم کیا اور اس کے علاوہ اپنے عوام کے تحفظ کے لیے 466 ارب روپے کی توانائی کی سبسڈی فراہم کی۔ ہمارے لیے ہماری ترجیح ہمیشہ ہمارے لوگ رہے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں 3 جون کو نماز جمعہ کے بعد سب باہر نکلیں اور عوام کو کچلنے اور ملک میں معاشی تباہی پھیلانے کے لیے امپورٹڈ حکومت کی جانب سے بے تحاشا قیمتوں میں اضافے کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کریں، اس ملک میں ان کے کوئی مفاد نہیں کیونکہ حکمرانوں کے تمام اثاثے بیرون ملک ہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں، سوویت یونین کی جب معیشت نیچے گئی تو ملک ٹوٹ گیا تھا، اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ پاور آپ کے پاس ہے، لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور تاریخ اس کردار کو کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ملک نیچے چلا جائے اور آپ کہیں ہم نیوٹرل ہیں، قوم تیاری کرے، لانگ مارچ کے حوالے سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہفتے کو دیر جلسے میں کروں گا۔

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین نے شانگلہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا کہ بشام کےنوجوانوں آج آپ کےپاس حقیقی آزادی کیلئےآیاہوں، پاکستان میں پٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھ گئی ہے، پٹرول اورفضل الرحمان کی 30 روپے فی لٹرقیمت بڑھ گئی، بھارت نے چند روز قبل 25 روپے فی لٹرقیمت کم کی، بھارت نے روس سے 30 فیصدکم قیمت تیل خریدا، ہماری حکومت بھی روس سے 30 فیصدکم قیمت تیل خریدنا چاہتی تھی، سازش سے ہماری حکومت ختم کردی گئی، آج امریکی غلام حکومت امریکی ڈر سے روس سے کم قیمت تیل نہیں خرید رہی، بھارت کے لوگ روس سے تیل خرید سکتے ہیں کیونکہ انکی آزادخارجہ پالیسی ہے، پاکستان امریکی اجازت کے بغیرروس سے تیل نہیں خریدسکتا۔ آج ملک میں امریکی غلام حکومت ہے جوان کی اجازت کے بغیر روس سے تیل نہیں خرید سکتی۔

    عمران خان نے کہا کہ کورونا کے باوجود ہماری معیشت ترقی کررہی تھی، کورونا کے دوران برصغیرمیں سب سے زیادہ روزگار پاکستانیوں کو ملا، جو لوگ اوپر آ گئے، اگر اس وقت میں یہ ملک نہ سنبھالا گیا اور اس کا دیوالیہ نکل گیا تو میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ سوویت یونین اور امریکا دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں لیکن جب ان کی معیشت زوال پذیر ہوئی تو سوویت یونین ٹوٹ گئی اور ان کی تگڑی فوج بھی انہیں اکٹھا نہ رکھ سکی۔ اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہم نیوٹرل ہیں، تو بسم اللہ آپ نیوٹرل ہوں لیکن لوگ جانتے ہیں کہ پاور آپ کے پاس ہے اور یہ چوروں کا ٹولہ جس طرح قوم کو نیچے لے کر جا رہا ہے تو لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور تاریخ اس کردار کو کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ملک نیچے چلا جائے اور آپ کہیں ہم نیوٹرل ہیں۔

    سابق وزیراعظم نےکہا کہ پاکستانی وفداسرائیل گیاجس میں پاکستان کا سرکاری ملازم بھی شامل تھا، اسرائیل جانیوالےاس وفد میں شامل سرکاری ملازم پاکستانی ادارے میں نوکری کرتا ہے، امریکاکی غلام حکومت بھارتی ایجنڈا لاگو کر رہی ہے، چیری بلاسم کبھی کشمیر پر بات نہیں کرےگا، شہبازشریف نے کہا ہے میں کپڑےبیچ دوں گا، انہیں کپڑےبیچ دینے چاہئیں کیونکہ جب سے یہ آئے، آٹا، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، آج میں آپ سے وعدہ لینے آیا ہوں کہ آپ نے حقیقی آزادی کی تحریک میں میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے، اللہ کے سامنے سجدہ کرنے والا آزاد ہوجاتا ہے، آج قوم علامہ اقبالؒ کے خواب کی طرح کھڑی ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میری عمرتقریبا پاکستان جتنی ہے، اسلام آباد میں خواتین، بچوں کے خلاف بدترین شیلنگ کی گئی، اس طرح توغلاموں پر بھی بربریت نہیں کر سکتا، شہبازشریف، قاتل رانا ثنا اللہ بزدل نے عورتوں پر شیلنگ کرائی، اسلام آباد میں بدترین شیلنگ کے باوجود خواتین، بچوں کے مقابلہ کرنے پر خوشی ہوئی، یہ قوم کبھی بھی امپورٹڈ حکومت کوتسلیم نہیں کرے گی، شوکت یوسفزئی سمیت پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کیا آپ لوگوں نے خوف کا بت توڑدیا ہے، مسلمان اللہ کے سوا کبھی کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ امریکا کی غلامی،اداروں کی تباہی کی جارہی ہے، بڑے چوروں کی چوریوں کو معاف کیا جارہا ہے، قوم تیاری کرے، پرسوں دیر جلسے میں اگلا لائحہ عمل دوں گا، سپریم کورٹ فیصلے کی سٹڈی کروں گا، اگلے لائحہ عمل دوں گا آپ نے تیاررہنا ہے۔ پرامن احتجاج جمہوریت میں ہم سب کا حق ہے، یہ عوام میں جاتے ہیں توعوام انہیں چور، غدار کہتے ہیں، یہ الیکشن نہیں جیت سکتے یہ ابھی سے الیکشن کمیشن سے مل کر دھاندلی کی پوری تیاریاں کر رہے ہیں۔

  • پیپلزپارٹی لاہور کا عمران خان کے بیان کیخلاف مظاہرہ

    پیپلزپارٹی لاہور کا عمران خان کے بیان کیخلاف مظاہرہ

    سابق صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر عمران خان کی طرف سے پاکستان کے تین ٹکڑے کرنے کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی نے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر بڑی بڑی سکرینیں آویزاں کی گئیں جن میں ایک پر سابق صدر آصف علی زرداری کی بڑی تصویر کے ساتھ “پاکستان کھپے “کا نعرہ درج تھا۔ ایک سکرین پر عمران خان اور تصویر تھی. اس موقع پر مظاہرین نے “ غدار ہے غدار ہے عمران خان غدار ہے” اور “ گرفتار کرو گرفتار کرو عمران کو گرفتار کرو” کے نعرے لگائے۔

    اس موقع پر پیپلز پارٹی کے راہنما حاجی عزیز الرحمن چن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت پر “پاکستان کھپے “ کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا۔ آج 2022 میں بھی صدر زرداری ایک مرتبہ پھر عمران خان کے عزائم خاک میں ملائیں گے-

    فیصل میر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ عمران خان کے خلاف مظاہرہ کرنے پر بھی پابندی لگا دے گی۔ عمران خان کی گفتگو ریکارڈ ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ بھارت کو توڑنے کی بات کر رہا تھا۔

    فیصل میر نے کہا کہ اگر پاکستان کو تین ٹکڑے کرنے کی بات صدر آصف زرداری یا بلاول بھٹو زرداری کرتے تو اب تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے سو موٹو نوٹس لے لیا ہونا تھا، ملک بھر میں پیپلز پارٹی والوں پر مقدمے درج ہو رہے ہونے تھے شہر شہر جلوس نکل رہے ہونے تھے۔ مگر آج جب عمران خان پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے تو سناٹا ہے۔

    فیصل میر نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ عمران خان کے ملک دشمن بیان پر سو موٹو نوٹس لیکر اس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے ۔ اس موقع افنان بٹ , احمد رضا زوہیب بٹ ، شاہدہ جبیں ، شاہد عباس اور مسرت صدیقی نے بھی خطاب کیا.