Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات:معاملات طئے پاگئے:اپوزیشن والے دیکھتے رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے، سب سے پہلے چودھری برادران سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔

    وزیراعظم عمران خان چودھری برادران کی رہائشگاہ پہنچے تو مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی، ملاقات میں وفاقی وزیر چودھری مونس الہی، چودھری سالک، شافع حسین، طارق بشیر چیمہ بھی شریک ہوئے۔

    اس دوران عمران خان نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری برادران نے اپنے عہد کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم کل بھی آپ کے ساتھ تھے آج بھی آپ کے ساتھ ہیں ، ہمیں پاکستان عزیز ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج تحیسین پیش کیا،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے جس کے بارے میں اہم اعلان متوقع ہے ،باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کے نام قرعہ نکل سکتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری برادران کی طرف سے کپتان کی اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ واپس کردیا گیا ہے ، لیکن امکان ہے کہ کپتان چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنا کر پنجاب سے ن لیگ کا خاتمہ کردیں‌گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگلے چند دنوں میں پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف کئی اور گروہ سامنے آجائیں ، ان میں علیم خان بھی درپردہ سازشوں میں مصروف نظرآتے ہیں اور امکان یہ ہے کہ بزدار کے لیے ن لیگ سے زیادہ خطرناک اپنے ہی لوگ ہوں گے ،اس کے ساتھ ساتھ جہانگیرترین خان کے زیرسایہ ارکان اسمبلی بھی آنے والوں دنوں میں پاکستان اور پنجاب کی سیاست میں بڑے اہم اور سرگرم دکھائی دیں‌گے

    ان تمام ترحالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان عثمان بزدار کو بچانے کی آخری حد تک کوشش کریں‌ گے اور اگر معاملات سنبھل نہ سکے تو پھر پنجاب کا وزیراعلیٰ بدلنا ناگزیر ہوجائے گا اور اس صورت میں اگلا پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہ چوہدری برادران اور وزیراعظم عمران خان کریں گے

    دوسری طرف عمران خان سیاسی صورت حال کے تناظر میں تیزی سے سیاسی کارڈز کھیلنے لگے، وزیراعظم اتحادی جماعتوں کے محاذ پر متحرک ہوئے ہیں اور عوامی ریلیف کے اقدامات میں بھی وزیر اعظم نے سب کو حیران کردیا۔

    عمران خان نے مسلم لیگ ق سے رابطوں کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔

    اُدھر وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژن کے اراکین پارلیمنٹ سے طویل ملاقات ہوئی، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نے خود رابطوں کا محاز سنبھال لیا۔
    اور

    چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں نہیں چاہتیں پرویزالٰہی وزیراعلیٰ بنے، دونوں کو خدشہ ہے جو لوگ ان جماعتوں میں گئے ہیں وہ واپس ق لیگ میں نہ آجائیں۔

  • قرضے مانگنے والے ملک کی عزت نہیں ہوتی،وزیراعظم

    قرضے مانگنے والے ملک کی عزت نہیں ہوتی،وزیراعظم

    قرضے مانگنے والے ملک کی عزت نہیں ہوتی،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینا غلط پالیسی تھی،

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صنعتیں ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں، رکاوٹیں ختم کردیں،اب پاکستان تیزی سے اوپر جائے گا آزاد ،خود مختار خارجہ پالیسی کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے ہم نے ہمیشہ امداد کی جانب سے دیکھا خود کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کا سوچا ہی نہیں ادھر ادھر سے قرضے مانگنے والے ملک کی عزت نہیں ہوتی ہم نے اپنی معیشت کو مضبوط بنانا ہے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جوپیکج آج دیا وہ پہلے ہی بزنس کمیونٹی کودینا چاہیے تھا۔ صنعتوں کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہم نے کبھی برآمدات پرتوجہ نہیں دی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے ڈالرزکی کمی ہوجاتی ہے آئی ایم ایف کے پاس ہمیں ڈالرز کی قلت کی وجہ سے جانا پڑتا ہے پرکشش مراعات کی بنیاد پرسرمایہ کارراغب ہوتے ہیں ،حکومت منافع کیخلاف پالیسیاں بنائے توسرمایہ کاری آنا بند ہوجاتی ہے حکومت میں آتے ہی فیصلہ کیا تھا صنعتوں پرتوجہ دینی ہے کوئی بھی ملک سبزیاں بیچ کرآگے نہیں بڑھ سکتا ہمیں اوپن ایمنسٹی نہیں دینی چاہیے تھی

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتیں ملکی معیشت درست کرنےمیں ناکام رہیں 90لاکھ اوورسیز پاکستانی ہیں جن کو آسانیاں دینے کا خواہاں ہوں اوورسیز پاکستانی پلاٹس خریدتے تھے لیکن قبضے ہوجاتے تھے۔اوور سیز پاکستانیوں کیلئے ہم نے اسپیشل کورٹس بنا دی ہیں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کیلئے مراعات دی ہیں آئی ٹی کے شعبے میں بھارت کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہم نے آئی ٹی شعبے کو عام طرح سے ڈیل کیا ہم نے آئی ٹی انڈسٹری کو مراعات ہی نہیں دیں۔ آئی ٹی کمپنیوں کو مراعات دے رہے ہیں، اسمال اور میڈیم انڈسٹریز کیلئے بھی پالیسیاں لے کر آئے ہیں۔ ماضی میں برآمدات کے فروغ پر توجہ نہیں دی گئی  ہماری توجہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کرنے پر ہے۔ ہم اس حوالے سے پالیسی لے کر آئے اور اس شعبے کو مراعات دے رہے ہیں

    وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملاقات کی ہے ملاقات میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی بھی شریک تھے۔ ملاقات میں صوبہ پنجاب کی انتظامی اور امن و امان کی مجموعی صورت حال سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیر اعظم کو صوبے کے اندر جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی وزیراعظم عمران خان نے صوبے میں عام آدمی کو فوری اور موثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیےبھرپوراقدامات کرنے کی ہدایت کی انہوں نے عوام کے جان و مال اور مفادات کے تحفظ کے لیے شرپسندوں، ذخیرہ اندوزوں، اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی

    وزیراعلی عثمان بزدار نے پٹرولیم مصنوعات اوربجلی کی قیمتوں میں کمی پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پٹرولیم مصنوعات اوربجلی کی قیمتوں میں کمی کے آپ کے فیصلے سے عوام کو بڑا ریلیف ملاہے، آپ کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر میں عوامی ریلیف کے اقدامات پر کام جاری ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    فیک نیوز، حکومت اور کھرا سچ، نہ کسی کا خوف نہ ڈر، مبشر لقمان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    اکیسویں صدی،سوشل میڈیا کا ٹائم،کوئی بند نہیں کر سکتا،عمران خان کی 2017 کی ویڈیو وائرل

    پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم ،پی ایف یو جے عدالت پہنچ گئی

    پیکا ایکٹ:عدالت نے گرفتاریوں سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری

    پیکا ترمیمی آرڈیننس ،حکومتی اتحادی بھی وزیراعظم سے نالاں،ن لیگ کا بھی بڑا اعلان

    پیکا ترمیمی آرڈیننس،وزیراعظم نے ایف آئی اے کو بڑا حکم دے دیا

    برطانیہ میں بادشاہت بچانے کے لیے فوجداری مقدمات شروع ہوئے تھے،عدالت

  • عمران خان آئینہ دکھانے پرمیڈیا کےخلاف ہوگئے،شہباز شریف،پیکا قانون میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی گئی،سراج الحق

    عمران خان آئینہ دکھانے پرمیڈیا کےخلاف ہوگئے،شہباز شریف،پیکا قانون میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی گئی،سراج الحق

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدرشہبازشریف کا کہنا ہے کہ عمران خان آئینہ دکھانے پرمیڈیا کے خلاف ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں شہبازشریف کا کہ عمران خان کا میڈیا پربے قابو غصہ سمجھ میں آتا ہے عمران خان نے اپنے جھوٹ،فریب اورکردارکشی کی سیاست کو’ٹربو چارج‘ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔


    شہبازشریف نے مزید کہا کہ جب وہی میڈیا عمران خان کوآئینہ دکھا رہا ہے تو وہ اس کے خلاف ہوگئے ہیں۔ یہ فسطائی شخص کا طرز عمل ہے جوہرچیز تہس نہس کرنا چاہتا ہے۔

    فروری میں کون کون سی اشیا مہنگی ہوئیں؟ ادارہ شماریات کی رپورٹ جاری

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ آزاد میڈیا پر قدغنیں کسی صورت قبول نہیں ، پیکا کو مسترد کرتے ہیں یہ بات سراج الحق سے منصورہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کہی-

    جس میں ایمینڈ، سی پی این ای، پی بی اے، اے پی این ایس اور پی ایف یو جے کے اراکین شامل تھےوفد میں میاں عامر محمود، ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن، ناز آفرین سہگل، شہاب زبیری، اظہرعباس،کاظم خان ،اعجاز الحق،، شکیل مسعود، ایازخان،ارشاد احمد عارف، سرمد علی، میاں طاہر، محمد عثمان شامل تھےسیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد اصغر بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    سراج الحق نے صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے پر پابندی اور میڈیا کو خاموش کرانے کے حکومتی ہتھکنڈوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، آزاد میڈیا پر قدغنیں کسی صورت قبول نہیں ، پیکا کو مسترد کرتے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کا پیکا قانون کے تحت گرفتاریوں سے روکنا خوش آئند ہے، پیکا قانون میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی گئی، فیک نیوز کی تعریف و تشریح کے بغیر آرڈیننس کا نفاذ سمجھ سے بالا تر ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ پیکا قانون جرم ثابت ہونے سے قبل ہی کسی کو بھی قابل تعزیر ٹھہرا دے گا، موجودہ حکومت کے دور میں ہزاروں صحافی بے روزگار ہوئے، صحافت پر قدغنوں کی وجہ سے پچھلے تین برسوں میں کئی اہم ادارے بند ہوئے، صحافتی تنظمیں خود اپنے کوڈ آف کنڈکٹ متعارف کروائیں، ہم الیکٹرانک ، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے حکومتی ریگولیشن کمیٹیوں کی تشکیل کے حق میں نہیں۔

    پاکستان کے کھلاڑی بہترین،ٹیم کو ہرانے کیلئے بہترین کرکٹ کھیلنی پڑے گی،اسٹیو سمتھ

  • پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے،وزیراعظم

    پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندی سے متعلق گمراہ کن باتیں ہورہی ہیں، جو ملک کا سربراہ ہے اور اس نے کبھی کرپشن نہیں کی اسے کبھی بھی آزاد صحافت سے خطرہ نہیں ہوتا پیکا قانون 2016 میں بنا، ہم صرف اس میں ترمیم کر رہے ہیں پاکستان کے میڈیا میں 70 فیصد خبریں حکومت کے خلاف ہیں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایسا گند آ رہا ہے ، چائلڈ پورنوگرافی کی بھرمار ہے، ایسا مواد کسی مہذب دنیا کے سوشل میڈیا پر نہیں سوشل میڈیا پر وزیراعظم کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس 54 ہزار کیس رجسٹرڈ ہیں، لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں،خواتین اور بچوں سے متعلق فیک نیوز آرہی ہیں، مجھے بھی نہیں بخشا گیا اور میری اہلیہ کے گھر چھوڑنے سے متعلق غلط باتیں کی گئیں، آزادیٔ صحافت کے نام پر لوگ بلیک میل کررہے ہیں، ماضی میں جب ایک صحافی نے مسلم لیگ ن کے بارے میں لکھا تو اُسے تین روز تک کمرے میں بند کیا گیا، اب ہم ان ساری باتوں کو روکنے کے لیے قانون لارہے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ میں نے صحافی کی جھوٹی خبر کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی مگر تین سال گزر جانے کے باوجود اںصاف نہیں مل سکا، یہاں ایسے صحافی بیٹھے ہیں جوپیسےلے کرگندا چھالتے ہیں، آزاد کشمیرکا وزیراعظم نامزد کرنے پر تین اخباروں نے لکھا جادو ٹونے سے نامزد کیا گیا، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پیکا قانون سےآزادی صحافت متاثرنہیں ہورہا پیکا ترمیمی آرڈینس بہت ضروری ہے، اچھے صحافی معاشرے کا اثاثہ ہیں، سچ لکھنے والے صحافی جعلی خبروں کے خلاف ہیں شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ جنگ گروپ کے خلاف لندن میں جھوٹی خبر پر مقدمہ کرنے جارہی ہے۔


    وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے-

    وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 10، 10 روپے اور بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مستقبل میں قیمتوں میں اضافہ بھی نہیں کریں گے۔

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بہت تیزی سے صورت حال بدل رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں، میں نے چین اور روس کا دورہ کیا اور سفارتی صورت حال کو قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے ماضی میں غلط سفارتی پالیسیاں بنائیں،ہم سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں شریک ہوئے اور پھر نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا کے ساتھ جنگ کا حصہ بنے، اس کی وجہ سے 80 ہزار پاکستانیوں کی شہادتیں ہوئیں ہمیں ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ قبائلی علاقوں سے شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم نے جس ملک کے لیے جنگ لڑی اُس نے 400 سے زائد ڈرون حملے کیے، یہ ہمارے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بہت شرمناک تھا، مشرف کے دور میں ڈرون حملے ہوئے جو جمہوری لیڈر نہیں تھا مگر نوازشریف اور زرداری کے دور میں بھی جمہوری رہنماؤں نے ڈرون حملوں پر کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

    انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈرون حملے اور اس میں شہریوں کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ملک میں آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں تو کبھی ایسی پارٹی کو ووٹ نہ ڈالیں جس کے قائدین کے اثاثے بیرون ملک میں ہوں، جب سے سیاست کی تب سے خواہش رہی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہو جس سے کسی دوسرے کو فاہدہ نہ پہنچے ملک کے سربراہوں کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہوتے ہیں تو وہ کبھی اپنے ملک کا نہیں سوچتا-

    وزیراعظم نے کہا کہ چین اور روس کے دورے سے پاکستان کوعزت ملی، روس کےدورے کا مقصد 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا ہے جبکہ چین کے دورے کا مقصد سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہے، جس کے اثرات اور نتائج آئندہ دنوں میں قوم کے سامنے آجائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مشکل حالات سے نکل رہےتھے کورونا آگیا، اس دوران عالمی سطح پر مہنگائی بڑھ گئی، امریکا میں مہنگائی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ہم چونکہ تیل،گھی اور دالیں سترفیصد امپورٹ کرتے ہیں، اس وجہ سے پاکستان میں مہنگائی ہوئی مگر پاکستان اُن ممالک میں سے تھا جس نے کورونا کے ساتھ مہنگائی پر بھی قابو کیا، جس کی تصدیق عالمی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ کےادوارکاریکارڈبھی چیک کریں،امریکا میں مہنگائی کا40سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیاہے،کینیڈا میں مہنگائی کی شرح کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹا،برطانیہ میں 30اور ترکی میں 20سالہ مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شور مچایا جاتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے حکومت کو ہٹا دو،مانتےہیں مہنگائی ہے،پیپلزپارٹی کے 2008 سے 2012 تک 12 اعشاریہ 13فیصد مہنگائی رہی،2008سے2012میں13اعشاریہ 6فیصد مہنگائی ہوئی پیپلزپارٹی کے چوتھے دور میں مہنگائی13اعشاریہ 8فیصد تھی،ن لیگ کے تیسرے دور میں 5 فیصد مہنگائی ہوئی،پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی کی شرح 8اعشاریہ 5فیصد رہی۔

    عمران خان نے کہا کہ بل گیٹس نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا، انہوں نے این سی او سی کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا،احساس کیش پروگرام نے عوام کے لیے سہولیات پیدا کیں،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں برطانوی وزیراعظم نے پاکستان کو سراہا۔

    پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ماحولیات، کورونا وبا کے دوران معیشت کو سہارا دینے، 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ ایکسپورٹ اور شرح نمو پر ٹیکس محصولات 31 فیصد حاصل کیں، کسانوں نے چار فصلوں گندم، گنا، مکئی، چاول، کپاس کی ریکارڈ فصلوں پر پہلی بار 1100 ارب روپے کا نفع کمایا، جس کی وجہ قومی اسمبلی میں قانون سازی ہے جبکہ پچھلے سال سے بیس فیصد زیادہ ٹریکٹر فروخت ہوئے۔

  • اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لےتوہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی

    اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لےتوہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی

    کراچی :اگرحکومت ہمارے 38 مطالبات مان لے توہماری حکومت سے کوئی لڑائی نہیں:پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم عمران خان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا، اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے عوامی مارچ کے 38 مطالبات کے نکات کو جاری کردیا اور کہا کہ اگر حکومت ہمارے یہ مطالبات مان لیتی ہے تو ہمیں حکومت پرکوئی اعتراض‌ نہیں اور نہ ہی ہماری کوئی لڑائی ہے

    ہاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے جومطالبات پیش کیئے گئے ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں‌ ہے ،

    حکومت ہر سطح پر ایماندارانہ اور آزادانہ انتخابات کروائے جائیں،

    1973 کے آئین کے مطابق حکومت کا نظم و نسق چلایا جائے،

    1973 کے آئین میں دئیے گئے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے جدا جدا اختیارات کے اصولوں کی پاسداری کی جائے،

    تمام اداروں کے اپنی اپنی آ ئینی حدود میں رہتے ہوئے کارکردگی اور اختیارات ہوں،

    پارلیمنٹ اور کمیٹی سسٹم کا استحکام اور پائیداری کی جائے،

    اعلی عد لیہ کے ججوں کی تقرری کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کے 1973 کے آئین میں دئے گئے کردار کا ازسر نو تعین کیا جائے، پ

    آزاد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا قیام کیا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    ایک آزاد اور قابل احتساب عد لیہ کو ممکن بنایا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    ملک بھر کے تمام مزدوروں کو سندھ کی طرز پر یونین سازی کا حق دیا جائے، پی پی پی عوامی مارچ کا مطالبہ

    طلبا کے لئے یونین سازی کا حق اور طالبعلموں کی فلاح و بہبود کےامور میں ان کا فیصلہ ساز کردار تسلیم کیا جائے،

    آزادی اظہار کے حق کو یقینی بنایا جائے،

    پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں باضابطہ اور غیر اعلانیہ دونوں قسم کی سنسر شپ کا خاتمہ کیا جائے،

    میڈیا کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کے مطابق پیمرا کی آزادی کے لئے نئی قانون سازی کی جائے،

    سائبر کرائم قانون کی تمام غیر منصفانہ اور جابرانہ دفعات کا خاتمہ کیا جائے،

    تمام پبلک اداروں میں ڈیٹا کے تحفظ کے لئے نئی قانون سازی کی جائے،

    تمام ضرورت مند مردوں اور خواتین کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی توسیع اور اصلاح کی جائے،

    ایک مساوات کمیشن کا قیام کیا جائے جو صوبوں کی مشاورت سے تمام خواتین اور اقلیتوں کے لئے منصفانہ اجرت اور روزگار پالیسی مرتب کرے،

    خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو تشدد، تیزاب کے حملوں اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے قوانین پر لازمی عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے،

    تمام پبلک مقامات ، پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک سہولیات میں خواتین، بچوں اور خصوصی اقلیتوں کے افراد کا باسہولت داخلہ یقینی بنایا جائے،

    16 سال کی عمر تک بچوں کی آئین میں دی گئی شق کے مطابق لازمی تعلیم کو ایک مقررہ مدت کے اندر اندر یقینی بنایا جائے،

    قابل استطاعت صحت اور علاج معالجے کے حقوق کی فراہمی کو سرکاری اور منظور شدہ نجی شعبے کے اسپتالوں کے نیٹ ورک کے ذریعے یقینی بنایا جائے،

    ان خواتین کے لئے جنہیں زچہ اور بچہ کے سلسلے کی مفت خدمات اور نقد معاوضے کی ضرورت ہے ایک مقررہ مدت کے اندر اندر ان حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،

    اقلیتوں کی جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام کے لئے موثر قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کیا جائے،

    صوبائی خودمختاری اور آئین کی اٹھارویں ترمیم اور آئین کی دیگر شقوں کے تحت دئے گئے صوبائی حقوق مثلا نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے مقررہ مدت پر اجرا کی گارنٹی دی جائے،

    بلوچستان کے عوام کے پاکستان کے آئین کے تحت دئیے گئے حقوق کی یقینی فراہمی اور ان کی فیصلہ سازی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے،

    ایسے افراد کے سوا جن پر خطرناک نوعیت کے الزامات ہیں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانا اور سیاسی گفت و شنید کے ذریعے بلوچ سیاسی رہنماوں کو ملک میں واپس لانے اور ان کو مرکزی سیاسی دھارے میں شامل کرنے پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے،

    آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت تیل اور گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کی تیل اور گیس کی پیداوارپر اپنی ضروریات پوری کرنے کے ترجیحی حقوق کو موثر بنایا جائے،

    پر تشدد انتہا پسندی کی بیخ کنی کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے،

    جنوبی پنجاب کے عوام کی شناخت اور ان کی خواہشات کے مطابق جنوبی پنجاب کے نئے صوبے کا قیام اور اس علاقے کو نظر انداز کئے جانے اور اس کی پسماندگی کا خاتمہ کیا جائے،

    گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے علاقہ جات کی مالیاتی خودمختاری اور ان کو ان کے ریونیو اور مرکز سے تفویض کردہ مالی وسائل پر مکمل اختیار دیا جائے،

    مزدوروں کو قابل گزارہ اجرت کی ادائیگی کا حق دیا جائے،

    تمام مزدوروں بشمول ان مزدورں کے جو معیشت کے ان فارمل شعبوں ، کنٹریکٹ لیبر ، اپنے گھر سے کام ، گھریلو ملازمین اور موسمی مزدورہیں سوشل سیکیورٹی کا تحفظ فراہم کیا جائے،

    زرعی شعبے کے مزدوروں اور چھوٹے کسانوں پر لیبر قوانین ، کم سے کم اجرت کے قانون ، سوشل سیکیورٹی اور زیادہ سے زیادہ کام کے اوقات کے قوانین کا اطلاق کیا جائے،

    اس وقت سندھ واحد صوبہ ہے جس میں خواتین کھیت مزدوروں کو رجسٹر کرنے اور اان کو قانونی تحفظ اور حقوق فراہم کرنے کے لئے قانون پاس کیا گیا ہے، ان قوانین کو تمام ملک میں لاگو کیا جائے،

    زرعی اجناس کی قیمتوں اور ان پر سبسڈی کے لئے ایک نیا فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے قومی پیمانے پر غذائی تحفظ کے حق کی پاسداری، مستحکم نرخوں اور شہری اور دیہی عوام کی یکساں آمدنی کو یقینی بنایا جائے،

    غریب طبقات کے لئے رہائش کی فراہمی کے حق اور ان کو جبری طور پر گھر سے بے دخل کرنے کے خلاف قانون سازی کی جائے،

    کچی آبادیوں اور انتہائی پسماندہ علاقوں کو ریگولرائز کرنے اور ان کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے قانونی فریم ورک کی تیاری کی جائے،

    یاد رہے کہ اس پہلے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان نےعوام کے ووٹ اور پیٹ پر ڈاکا مارا، کٹھ پتلی کے گھر جانے کا وقت آ گیا، ہمارا عوامی مارچ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ہے۔

    لانگ مارچ کی روانگی سے قبل خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ قائد عوام اور شہید بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کرنے کیلئے نکلے ہیں، ہرپاکستانی کےحقوق کا تحفظ کریں گے۔ عمران خان نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا مگر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عمران خان حکومت کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ چکی۔

    یہ پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت ہے۔ موجودہ حکومت اٹھارویں ترمیم کوختم کررہی ہے، این ایف سی ایوارڈ نہیں دے رہی۔ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں، سندھ حکومت کم وسائل کیساتھ زیادہ محنت کر کے صوبے کی خدمت کر رہی ہے، عمران کو بھگائیں گے تو تمام صوبوں کو ان کا حق ملے گا، اب وقت آ گیا کہ ہم وفاقی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لیکر آئیں۔ عمران خان نےانسانی حقوق پرحملہ کرچکے،اب ہم برداشت نہیں کرسکتے، ہم یہاں سے نکلیں گے تو بنی گالا سے چیخیں آئیں گی، اسلام آباد پہنچ کر اس حکومت پر حملہ کریں گے۔

  • بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے:اسد عمر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اسد عمر نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بھی کہتا ہوں کہ آپ لوگ لانگ مارچ کے لیے نہ نکلیں ، اس موقع پر اسد عمر نے کہا ہے کہ بلاول زرداری سندھ کی تباہی کے بعد کس منہ سے اسلام أباد أ رہا ہے۔ PDM سردیوں کی بیماری ہے جو گرمیوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ PDM جتنی مرضی کوشش کر لے عمران خان حکومت کو کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نےعامر مغل کی میزبانی میں جھنگی سیداں میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہویے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں اسلام أباد کی عوام کو اکٹھا کرنے پر عامر مغل کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عامر مغل ہمیشہ سے فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ PDM اور بلاول زرداری ملکر زور لگائیں عمران خان اگلی بار بھی وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ سے اسلام أباد کی عوام کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کی لاگت سے تاریخی ترقیاتی کام جاری ہیں۔

     

     

    چئیرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ راجہ خرم نواز نے خطاب کرتے ہویے کہا کہ جس طرح اسلام أباد کی عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کو تینوں سیٹیں جیت کر دی ہیں اور 2018 میں کلین سویپ کیا ہے۔ عوام کا احسان کبھی بھی نہیں اتار سکتے ہیں۔ دن رات عوامی مفاد میں کام کر رہے ہیں۔ اسد عمر کی قیادت میں شہر بھر میں تاریخی کام کئے جا رہے ہیں۔ تاریخی جلسہ کروانے پر راجہ خرم نواز نے عامر مغل کو مبارکباد پیش کی۔

    منتظم و میزبان جلسہ عامر مغل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ساڑہے تین سالوں میں شہریوں کیلئے تاریخی قانون سازی اور کھربوں کے ترقیاتی کام کیے گیے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم اور تینوں منتخب ایم این ایز کے شکر گزار ہیں۔ سیکشن 4 کا خاتمہ، نوکریوں میں 50% کوٹہ، پہلی فوڈ اتھارٹی کا قیام، پہلی رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کا قیام، تاجروں کے لیے متفقہ قانون کرایہ داری کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ تینوں حلقوں میں کھربوں کی لاگت سے ہر شہری کیلیے صحت کارڈ، غازی بروتھا سے پانی کے منصوبے، روڈ گلیاں، اسکول ، کالج، پانی کے منصوبے، نئے ہسپتال، ڈسپینسریز، انڈر پاس، انٹر چینج، IJP روڈ، 10th ایونیو، مارگلہ روڈ، کمیونٹی سینٹرز، ملٹی پرپز گراونڈز، بجلی گیس کے منصوبے، سیکٹورل ایریا میں گلیوں، سڑکوں ، اسکولوں، اسٹریٹ لائیٹس ، اور پارکس کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔

    عامر مغل نے کہا کہ 2018 کی طرح 2022 کے بلدیات اور 2023 کے جنرل الیکشن میں بھی کلین سویپ کریں گے۔ عامر مغل نے کہا کہ بلاول زرداری اور PDM کا لانگ مارچ بری طرح ناکام ہو گا۔ کیونکہ عوام کو پتہ ہے کہ مریم صفدر اور بلاول زرداری کے جسم کا ایک ایک بال اور خون کا ایک ایک قطرہ حرام کی کمائ سے ہے۔ اور ان کے مارچ کا مقصد صرف اور صرف اپنے والدین کی کرپشن کا تحفظ اور ایک بار پھر عوام کو بیوقوف بنا کر اقتدار میں أنا ہے جس کو عوام بری طرح مسترد کر چکی ہے۔ جلسے سے ممبر سینیٹر سیمی ایزدی، عابدہ راجہ ایم پی اے اور فرزند شاہ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول

    عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول

    عمران خان کو ہٹانے کے بعد نئے شفاف انتخابات کروانا ہونگے ، بلاول
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک احتجاجی مہم چلانی ہے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 37شہروں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے،3مارچ سے رحیم یار، بہاولپور سے ہوتے ہوئے ملتان پہنچیں گے،4مارچ کو ملتان سے روانہ ہوں گے،5مارچ کو ہم لاہور پہنچیں گے،8مارچ کو راولپنڈی سے اسلام آباد روانہ ہوں گے، وزیراعظم استعفیٰ دے یں تو عدم اعتماد اور لانگ مارچ کی ضرورت نہیں ہوگی، پاکستان میں جمہوریت کا جنازہ نکالاگیا، معیشت کو تباہ کردیا گیا ،پاکستان کے معاشی حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے ہیں، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،پیپلزپارٹی عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرے گی،چاہتے ہیں کہ تمام صوبوں کو ان کا حق دیا جائے، صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ سے محروم رکھا جارہا ہے،عمران خان کا ہر وعدہ جھوٹا اور دھوکا نکلا،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور نظام غیر جمہوری ہے، ہم جمہوری راستہ اپنائیں گے،ہمارا عوامی مارچ غیر جمہوری حکومت پر جمہوری حملہ ہے،عوام کا سلیکٹڈ وزیراعظم سے اعتماد اٹھ چکا ہے،پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، حکومت کی نالائقی کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہے ہیں عدم اعتماد لا کر چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف اتنخابات کرائے جائیں، عمران خان کو ہٹانے کے بعد جو بھی سیٹ اپ آئے گا شفاف انتخابات اس کی ذمہ داری ہو گی،سینیٹر تاج حیدر نے ایک رپورٹ تیار کی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح انتخابات میں دھاندلی کی گئی،ہماری نیت صاف ہے ہمارے پاس تمام مسائل کا حل موجود ہے،چاہتے ہیں کہ جلد از جلد صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، میں نوجوانوں سے ، کسانوں سے، مزدوروں سے، خواتین سے ، ہر پاکستانی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس غاصب حکومت کے خاتمے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں اور ہماری آواز بنیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ساڑھے تین سال کے دوران تبدیلی کے نام پر تباہی مچائی ہے،عمران خان اب بھی دھاندلی کرنا چاہتے ہیں،پیکا آرڈیننس اور ای وی ایم کا معاملہ سب کے سامنے ہے،پی ڈی ایم اور ہماری جماعت میں ایشوز پر بات چیت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق تمام پارٹیوں سے بات چیت جاری ہے، اس وقت ہمارا فوکس عمران خان ہے،امید ہے ادارے نیوٹرل رہیں گے اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہی تو عمران خان اعتماد نہیں جیت سکے گا احتجاج اور عدم اعتماد جمہوری ہتھیار ہیں جیسے ہم استعمال کرنے جارہے ہیں سب ادارے آئین کے اندر رہیں عمران خان غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہ کرے تو عدم اعتماد کامیاب ہوگی ہم سمجھتے ہیں آئین کے مطابق سارے ادارے نیوٹرل رہیں گے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جو حشر اس ملک کا اس حکومت نے کردیا ہے ہم بھی سمجھتے ہیں اگلی حکومت فریش مینڈیٹ سے بنے مگریہ فیصلے اکیلے نہیں ہو سکتے سب کو ملکر آپس میں مشورہ کرکے کرنے ہونگے اکیلی سوچ کچھ نہیں کرسکتی اسوقت ہمارا ٹارگٹ عمران خان ہے جیسے جلد از جلد گھر بھیجنا ضروری ہے

    صحافی نے بلاول زرداری سے سوال کیا کہ کیا کوئی ٹیلی فون آرہے ہیں،جس پر بلاول زرداری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہمیں کوئی ٹیلی فون نہیں آئے،خان صاحب نے ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا ہے لیکن عدم اعتماد پر کوئی ٹیکس نہیں ہے ،ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم اپنی پوری کوشش کریں گے. ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بی بی شہید نے بھی احتجاج کیا تھا،دھرنے اور حملے کے بجائے جمہوریت بہترین انتقام ہے، عدم اعتماد حکومت سے نجات کا واحد قانونی و آئینی راستہ ہے،چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن مزید طاقتور ہو، تاج حیدر کی تیار کردہ رپورٹ تفصیلی ہے،مناسب ہے کہ الیکشن کمیشن خود اس رپورٹ پر ایکشن لے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم دوسرے آپشن استعمال کریں گے،سلیکٹڈ حکومت اپنے ناجائز راج کو برقرار رکھنے کیلئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کرنے کیلئے تیار ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جس کا حق ہے انہیں وزیراعظم بننے دیں، پاکستان کو بچانے کیلئے پیپلزپارٹی ہر قربانی دینے کو تیار ہے، اپوزیشن کی بڑی پارٹی کو وزیراعظم کیلئے اپنا امیدوار نامز د کرنے دیں،مناسب نہیں ہو گا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے نام پر لڑیں، جمہوری طریقہ یہی ہے کہ بڑی جماعت وزیراعظم کیلئے اپنا امیدوار نامزد کرے،ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کسی بھی پارٹی کا پرچم اتارا جائے،ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے تمام جماعتوں سے ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہیں،عمران خان رہے تو جو نقصانات ہوں گے اس کے ذمہ دار ایم کیو ایم و دیگر سہولت کار ہوں گے،

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    آصف زرداری،ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کے بعد اسد قیصر بھی چودھری پرویز الہیٰ سے ملنے پہنچ گئے

    خبروں میں اِن رہنے کا فن، فردوس عاشق اعوان نے اپنی ویڈیو لیک کر دی

    فردوس عاشق اعوان کے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی وجہ سامنے آگئی ، حکومتی وزراء بھی حمایت میں بول اٹھے

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    فردوس عاشق اعوان کسی نئے سیاسی منظر نامے کی منتظر

    بہتری کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرینگے،اتحادی جماعت حکومتی کشتی سے اترنے کو تیار

    جو ملک کے مفاد میں ہوگا وہ کریں گے،چودھری پرویز الہیٰ

    اک زرداری سب پر بھاری، بلاول ہاؤس لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

  • کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا ہے کہ کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ ہیں ،ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیف میں ہمارا سفارتخانہ تھا جس کو منتقل کردیا کیف سے سفارتخانہ منتقلی کرنے کا مقصد اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے،کیف میں موجود پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہوں وزیراعظم عمرا ن خان واضح کرچکے ہیں کہ ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہمیں اپنے ماضی کی تجربات کو دیکھتے ہوئے آگے جانا ہوگا،وزیراعظم کےدورہ روس پر ان کے ہمراہ تھے وزیراعظم عمران خان کو طویل عرصے بعد دورہ روس کی دعوت دی گئی تھی،بطور وزیرخارجہ روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ،وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن کے درمیان ساڑھے 3 گھنٹے کی ملاقات ہوئی ،وزیراعظم اور پیوٹن نے افغانستان ،جنوبی ایشیا میں استحکام اور مقبوضہ کشمیر پرزیادہ گفتگو کی،وزیراعظم اور پیوٹن کے درمیان ملاقات میں اسلامو فوبیا پر بھی بات چیت ہوئی وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن نے مدت بعد طویل گفتگو کی ،وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر اور ہم منصب سے گیس سیکٹر میں تعاون پر با ت کی،وزیراعظم عمران خان سے ہوٹل میں روسی ہم ڈپٹی ہم منصب کی ملاقات ہوئی روسی ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ وفد بھی تھا ،ہم نے تحفظات اور مشکلات پر گفتگو کی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ روسی قیادت نے پاکستان میں سرما یہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیس کی قلت ،توانائی کا بحران سمیت دیگر معاملات پرمثبت گفتگو ہوئی آئندہ دنوں میں روس کےساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر کام ہوگا افغانستان میں صورتحال سے متعلق روس اور پاکستان کے سوچ کا زاویہ ایک ہے روس بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے وزیراعظم کے دورہ روس مختصر کرنے کی خبر پڑی ، جس پر حیرت نہیں ہوئی،بےبنیاد باتیں ہوتی رہیں کہ موجودہ حالات میں دورہ مناسب نہیں تھا پاکستان کو دورہ روس سے قطعا کوئی نقصان نہیں ہوگا،ہم نے دورہ روس سے قبل معاملات کا جائزہ لیاتھا سفارتی مذاکرات کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں

    دوسری جانب پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی طلبہ سے پہلے دن سے تعاون کررہا تھا،پہلے دن سے کہہ رہے تھے ملک چھوڑ دیں لیکن مجبوری کی وجہ سے نہیں گئے،ہم اب بھی پاکستانی طلبہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں،تمام طلبہ ٹرین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ترنوپل آجائیں یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے ٹرین کا ٹکٹ فری ہوگا پاکستانی شہری اورطلبہ رابطہ کرکے بتائیں کہاں آرہے ہیں، لویف اورترنوپل میں سہولت مراکز قائم ہیں سہولت مراکز سے پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ بھیجیں گے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے،پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ کی ٹکٹ لے کر وہاں سے پاکستان جاسکتے ہیں،یوکرین سے اپنے گھر واپسی کےلیے مدد کریں گے،طلبہ کو یوکرین سے بحفاظت نکالنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

  • وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    ماسکو:وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روس کی سب سے بڑی مسجدو اسلامک سینٹر میں نوافل ادا کیے۔

    دورہ روس کے دوران صدر ولادی میر پیوٹن سے طویل ملاقات کے بعد نائب وزیراعظم اور بزنس کمیونٹی سے اہم ملاقاتیں کر کے عمران خان نے کیتھیڈرل مسجد کا دورہ کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نےکیتھیڈرل مسجدکے امام سے ملاقات کی اور نوافل ادا کیے۔ وفاقی وزرا اور وفد کے ارکان بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھے۔

    دورہ روس مکمل کر کے وزیراعظم ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے اور آج ہی وہ وطن لوٹیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میرپیوٹن کےسربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روسی صدرپیوٹن سےملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات پربات چیت کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کےعلاقائی اورعالمی امورپر وسیع مشاورت کی گئی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک روس تعلقات میں وسعت کیلئے دونوں رہنما پرُعزم ہیں تعلقات وقت کیساتھ دونوں ممالک کےدرمیان مضبوط ترہوں گے دوطرفہ تعلقات کامثبت رخ مستقبل میں بھی آگے بڑھتا رہے گا۔

  • وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    ماسکو:وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات جاری ہے ، جس میں دوطرفہ تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات جاری ہے ، جس میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات اور اہم امورپرتبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

     

    اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف بھی موجود ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کریملن میں ہورہی ہے، ملاقات میں توانائی،اقتصادی،تجارتی شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی اور افغانستان کی صورتحال اوراسلاموفوبیا کا موضوع بھی زیرغور آیا۔

     

     

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں پاکستان فیٹف میں روس سے مدد کے لیے بات کرے گا جبکہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت ، اوراقوام متحدہ سمیت فیٹف میں دوطرفہ تعاون پر بھی گفتگوکی گئی جس پر روسی صدر نے پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعلان کیا

    ذرائع کے مطابق خطے میں امن کیلئے پاکستان کی دفاعی ضروریات پر بھی بات ہوگی جبکہ دفاعی ساز و سامان اور بھارت کو دیے گئے روسی میزائل ایس فور ہنڈریڈ پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے میں شیئر ہولڈرز معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ماسکو میں جنگ عظیم دوئم کے سپاہیوں کی یادگار پر حاضری دی اور یادگار پر پھول رکھے۔