Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • جناح ہاؤس حملہ سمیت تین مقدمات میں عمران کی ضمانت میں توسیع

    جناح ہاؤس حملہ سمیت تین مقدمات میں عمران کی ضمانت میں توسیع

    انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملہ،عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان نذر آتش کرنے کے مقدمات میں عمران خان کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کردی

    کیس کی سماعت اننسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج خالد ارشد نے کی، تفتیشی افسر عدالت پیش نہ ہوئے، جونیئر افسر عدالت پیش ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے عسکری ٹاور حملہ کیس کے تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے دلائل طلب کر لئے،

    عمران خان کی وکلا ٹیم نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر سلمان صفدر دیگر کیسز میں مصروف ہیں مہلت دی جائے،چار مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی حاضری کے بغیر میرٹ پر فیصلہ ہو چکا ہے،کورٹ نمبر 3 نے چار مقدمات میں ملزم کی عبوری ضمانتیں کنفرم کی تھیں،بانی پی ٹی آئی کی جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری مکمل نہیں ہوئی، عدالت نے ملزم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری مکمل کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی.

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

  • عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    سابق وزیراعظم عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت کا فیصلہ نیب نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا، نیب نے عمران خان کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    چیئرمین نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، کیس مقرر ہونے کے بعد فیصلہ ہونے تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اختیارات استعمال کیے، اسلام آباد ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کی طرح گواہان کے بیانات نہیں لے سکتی، عدالتِ عالیہ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں القادر ٹرسٹ کے لیے پیسے منتقلی کے حوالے سے تفصیلات تحریر کی گئی ہیں،درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی ضمانت منظوری کے طریقہ کار پر 9 سوالات اٹھائے گئے ہیں ،کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف ریفرنس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پر بنایا گیا تھا،عمران خان کے خلاف ریفرنس آئین اور نیب آرڈیننس کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گواہان کا بیان ناقابلِ اعتماد قرار دیا جو دراصل اختیار ٹرائل کورٹ کا ہے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنایاتھا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی،،عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

  • ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کے ساتھ جو ہوا اس پر انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟ جاوید لطیف

    ذوالفقار بھٹو یا نواز شریف کے ساتھ جو ہوا اس پر انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟ جاوید لطیف

    مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر جب میں کہتا تھا کہ بیرونی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے تو سوال کیا جاتا تھا ثبوت دیئے جائیں ،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ بیرونی قوتوں کا آلٰہ کار ہے یہ مودی کا یار ہے ،ہماری بات پر کسی نے کان نہ دھرے ،یہ کانگریس کی قرارداد یہ انسانی حقوق اور جمہوریت کی نفی کرنے پر قرارداد آئی ہے انسانی حقوق جب شام لبنان اور فلسطین کو بمباری کی گئی تو اس وقت کیوں یاد نہ آئے، غزہ میں انسانی خون سے حولی کھیلی گئی تو انسانی حقوق وہاں یاد کیوں نہ آئے ،2018 کے انتخابات آر ٹی ایس بند کر کے جب نیب کو انتقام لینے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا انسانی حقوق یاد آئے ؟جب حسین نواز کو برف پوش پہاڑ پر بغیر چادر کے کھڑا کیا گیا ،پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو ہو یا نواز شریف ان کے ساتھ جو کچھ ہوا کسی کو انسانی حقوق یاد آئے ،

    جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ جب 93 میں ہم نے موٹروے اور پاکستان میں صنعتوں کا جال بچھایا نواز شریف کو ہٹا دیا گیا،ایٹمی قوت بنایا تو ہٹا دیا گیا ،سی پیک پاکستان کی ترقی تھی چین انویسٹمنٹ کر رہا تھا تب بھی ہمیں ہٹا دیا گیا ،ان کے دھرنے کے پیچھے اس وقت بھی چین کی انویسٹمنٹ روکنے کا منصوبہ تھا،پاکستان کے ٹیک آف کرنے کی آوازیں آرہی ہیں،سی پیک ٹو شروع کرنے کا ایک پیغام سنا جا رہا ہے ،تو قرارداد آ گئی، بات یہ ہے کیا پاکستان کے اندرجب بھی پاکستان ترقی کے منازل طے کرتا ہے کوئی سویلین کام کرتا ہے تو اسکے خلاف عالمی قوتیں اور وہ قوتیں جو پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں، انکو یہاں سے کندھا ملتا ہے،2014 کا دھرنے کا مقصد چین کی انویسمنٹ کو روکنے کا منصوبہ تھا، جاوید ہاشمی نے عدالتی فیصلے سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو نکال دیا جائے گا، اس وقت انسانی حقوق تھے،جاوید ہاشمی اس وقت پی ٹی آئی صدر تھے، آج بھی میں یہ بات کر رہا ہوں کہ 2014 کے ایکٹر اس وقت سے آج تک اکٹھے ہیں،اور ایک پیج پر ہیں،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

  • دوران عدت نکاح کیس،  عمران ،بشریٰ کی سز ا معطلی کی درخواست مسترد

    دوران عدت نکاح کیس، عمران ،بشریٰ کی سز ا معطلی کی درخواست مسترد

    دوران عدت نکاح کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا گیا

    عدت میں نکاح کیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، ایڈشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے عمران خان وبشریٰ بی بی کی اپیل پر فیصلہ سنایا،25 جون کو عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت میں جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں نے تفصیلی فیصلہ لکھ دیا ہے۔

    سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ جب مرکزی اپیل مقرر ہو تو سزا معطل نہیں کی جاتی.تفصیلی فیصلہ
    عدت کیس سزا معطلی درخواست مسترد ہونے کاتفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،عدالت نے10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں مختلف عدالتی فیصلوں کا بھی ذکر کیا،جج محمد افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرنے کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کی جانب سے مرکزی اپیلوں پر ایک ماہ میں فیصلے کی ڈائریکشن کو بنا دیا. ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائریکشن ہے کہ مرکزی اپیلوں پر 12 جولائی تک فیصلہ کرنا ہے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ جب مرکزی اپیل مقرر ہو تو سزا معطل نہیں کی جاتی.عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ دونوں ملزمان کے پاس سزا معطلی کا کوئی جواز موجود نہیں،بشریٰ بی بی کا خاتون ہونا سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا جواز نہیں، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں،سزا معطلی یا ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران مقدمے کے میرٹس پر بات نہیں کی جا سکتی، دونوں ملزمان کو دی گئی سزا نہ تو قلیل مدتی ہے، نہ ہی وہ سزا کا زیادہ حصہ بھگت چکے ہیں،

    عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ سنایا گیا تو قومی اور بین الاقوامی میڈیا سے وابسطہ صحافی کثیر تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان جوڈیشل کمپلکس کے باہر موجود تھیں، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر تعینات تھی، جب فیصلہ آیا تو پی ٹی آئی کارکنان نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے بازی کی،

    عدت کیس میں سزا معطلی کا فیصلہ مسترد ہونے پر پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کا اعلان
    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائرکریں گے،اسیران رہا ہونے تک کوئی بات چیت نہیں ہو گی، ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں،ہماری تحریک تیزی سے آگے چلے گی ہر جگہ مظاہرہ کریں گے،یہ کیس خاوند اور بیوی کے درمیان ہے، اُس کو سیاسی بنایا گیا، فارم 47 کے مسٹر شہباز شریف کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، عمران خان کو رہا کریں،اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آخری وقت تک ہم ظلم کا مقابلہ کریں گے کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، کنول شوذب کا کہنا تھا کہ عدالت نے ناصرف آج انصاف کا قتل کیا ہے، بلکہ خواتین کو بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے یہ عدالت۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی محترمہ اہلیہ کے خلاف عدّت کیس میں نہایت ناقص ٹرائل کے نتیجے میں سنائی گئی سزاؤں کی معطّلی کی درخواستوں پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا فیصلہ نہایت مایوس کن اور انصاف کا کھلا قتل ہے۔ اس غیراخلاقی اور بیہودہ مقدّمے کے اہداف مکمل طور پر سیاسی ہیں اور یہ فیصلہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف جاری انتقامی سلسلے کو دوام بخشے گا۔ہم اس ناقابلِ قبول فیصلے کے خلاف فی الفور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

    پی ٹی آئی والے جشن منانے میں جلد بازی کرتے ہیں،عطا تارڑ
    وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے عدالتی فیصلہ پر کہا کہ آج تحریک انصاف اور ان کے لیڈر کو ناکامی ہوئی ہے اور حق سچ کی فتح ہے، عدت نکاح کا کیس بھی بہت اہم ہے ، یہاں جواب تو دینا ہوگامفتی سعید کا بیان ہے، خاور مانیکا کا کیس بہت اہم ہے،عدالت میں بطور مدعی خاور مانیکا پیش ہوئے، اتنے شواہد نہیں تھے کہ سزا ختم ہوتی،پی ٹی آئی اور بشریٰ کے وکیل ناکام رہے ہیں،اب پی ٹی آئی کو جواب دینا ہو گا،یہ تحریک انصاف کی بہت بڑی ناکامی ہوئی ہے.پی ٹی آئی والے جشن منانے میں جلد بازی کرتے ہیں،

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • کیا عمران خان آج رہا ہو جائیں گے؟

    کیا عمران خان آج رہا ہو جائیں گے؟

    دوران عدت نکاح میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کی خلاف اپیلوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا،امکان ہے کہ عدالت سزائیں معطل کر کے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دے گی، بشریٰ بی بی کی تو رہائی کے امکانات ہیں لیکن کیا عمران خان رہا ہو پائیں گے؟

    اس ضمن میں عدالتی رپورٹنگ کرنے والے صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف چوتھے اور آخری (جن میں اب تک سزائیں ہو چکیں) مقدمے میں اپیل کے دوران ابتدائی ریلیف ملنے نا ملنے کا فیصلہ آج 3 بجے ہو گا 11 ماہ تقریبا 328 دن سے جیل میں رہنے کے دوران تقریبا 18 مختلف مقدمات میں ریلیف/ضمانت لے چکے لیکن رہائی ممکن نہیں ہو سکی جس طرح اگر آج ضمانت ہوتی ہے تو وفاقی وزرا کے بیانات کے بقول رہائی ممکن نہیں ہو گی عمران خان پہلی دفعہ 5 اگست کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں گرفتار ہوئے جس کی سزا 28 اگست کو معطل ہوئی رہائی کا حکم ہوا تو پتہ چلا سائفر کیس میں 16 اگست کو ہی گرفتاری ہو چکی جس کا نا میڈیا نا ہی عمران خان کے وکلا کو اس سے قبل معلوم تھا پھر اس دوران توشہ خانہ نیب کیس میں گرفتاری ہوئی عدت کیس کا بھی ٹرائل چل پڑا درمیان میں بہت اتار چڑھاؤ آئے سائفر کیس میں دسمبر میں سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہوئی تو رہائی پھر بھی نا ہو سکی کیونکہ توشہ خانہ نیب کیس اور 9 مئی کیسز میں پہلے سے گرفتاری ہو چکی تھی پھر 30 جنوری سائفر 31 جنوری توشہ خانہ نیب کیس اور 3 فروری عدت کیس میں تین عدالتوں نے پلک جھپکتے 5 دنوں میں 3 سزائیں سنا دیں جن کے خلاف اپیلیں فائل ہوئیں اس دوران 10 فروری کو 9 مئی کے 12 کیسز میں راولپنڈی کی عدالت سے ضمانت منظور ہوئی لیکن رہائی ممکن نا ہوئی اس کے بعد سزا والے کیسز میں توشہ خانہ نیب کیس میں نیب کی جانب سے مخالفت نا کرنے کی وجہ سے سزا معطل ہو گئی عدالت نے رہائی کا حکم تو دیا لیکن سائفر اور عدت کیس میں سزا کی وجہ سے رہا نا ہو سکے پھر 190 ملین پاؤنڈ کیس جس کا ٹرائل چل رہا ہے اس میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کر لی لیکن رہائی سائفر اور عدت کیس سزا کی وجہ سے نا ہو سکی سائفر کیس میں عدالت نے باعزت بری کیا تو آخری کیس عدت میں نکاح کا رہ گیا جس میں عمران خان قید ہیں آج اگر ضمانت ہوتی ہے تو انتظار کریں کس مقدمے میں گرفتاری ڈالی جاتی ہے (جس طرح حکومتی وزرا کہہ رہے ہیں) اگر ضمانت نہیں ہوتی تو الگ بات ہے آخری بات میری اپنی رائے ہے 11 ماہ سے قید سیاسی رہنما کے خلاف سیاسی طور پر یہ ٹرینڈ اچھا نہیں ڈالا جا رہا ہے ایک سے رہائی دوسرے میں گرفتاری ، دوسرے سے رہائی سے تیسرے میں گرفتاری اور یہ معاملہ چلتا جا رہا ہے پھر یہی ٹرینڈ مستقبل میں ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے جو ڈال رہے ہیں ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں کیونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اس لئے سیاسی حکومت کو ہر اینگل کو مد نظر رکھنا چاہیے

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، عمران خان

    حکومت کے پاس دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، عمران خان

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی، ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا –

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی سے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہمیشہ سے تحریک انصاف کی پالیسی رہی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران دہشت گردی میں بڑی کمی آئی، ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے اداروں کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور اس کے بعد پورے ملک میں دہشت گردی میں واضح کمی آئی، ہم نے خطے میں امن قائم کرنے کی خاطر افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور قیام امن کے لیے خود بھی افغانستان کا دورہ کیا۔

    بنوں : صوبائی وزیر کے اسکواڈ کی گاڑی پر بم حملہ، 3 راہ گیر زخمی

    عمران خان نے کہا کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغانستان میں سول وار کا شدید خدشہ تھا، جسے نہایت حکمت سے ہینڈل کیا گیا، افغانستان میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد اس حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمیدکا کلیدی کردار تھا، خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میری حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو تبدیل نہ کیا جائے اور یہی ہدایات جنرل باجوہ کو دی گئیں جس پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود انہیں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجوہات بعدمیں سامنے آئیں جو کہ واضح طور پر جنر ل باجوہ اور نواز شریف کے مابین جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو لے کر کی جانے والی ڈیل تھی۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    بانی پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ جنرل باجوہ نے محض اپنے ذاتی فائدے کے لیے ملک کو بے حد نقصان پہنچایا، آئی ایس آئی جس نے ملک کو دہشت گردی سے بچانا تھا، اسے دہشت گردی کے انسداد سے ہٹا کر تحریک انصاف کو کچلنے پرلگا دیا گیا اسی طرح پی ڈی ایم حکومت کے وزیر خارجہ نے پوری دنیا کا چکر لگایا لیکن افغانستان نہیں گیا کیونکہ ان لوگوں کو پاکستان کے امن ، ہمارے لوگوں کے جان و مال اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کی قطعاً کوئی پرواہ نہ تھی، آج بھی ان کے پاس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ملک و قوم نقصان اٹھا رہے ہیں۔

    حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور میں ریاست کے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح بنایا تو ملکی اور غیر ملکی ناقدین نے ہائبرڈ سسٹم کی اصطلاح ایجاد کی اور ہمیں ہدفِ تنقید بنایا، آج صورتحال یہ ہے کہ ضمیر اور قلم فروشوں کے ایک نہایت چھوٹے سے گروہ کے علاوہ ماضی میں ہمیں ہائبرڈ سسٹم کا طعنہ دینے والے ہمارے ناقدین بھی کھل کر ملک پر بدترین شخصی آمریت کے غلبے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل عوام کے مینڈیٹ کے احترام ، قانون کی حکمرانی اور سیاست کے استحکام سے وابستہ ہے، اپنے لوگوں کے خلاف ننگی فسطائیت یا لشکر کشی کے ذریعے دہشت گردی کا تدارک ممکن ہے نہ ہی پاکستان کو استحکام نصیب ہونے کے امکانات ہیں قوم کی مرضی کے برعکس فیصلے کرنے اور طاقت اور بندوق کے زور پر انہیں عوام سے منوانے کی کوششوں نے ہمیشہ منفی نتائج پیدا کیے ہیں۔

    بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 247 میگا واٹ تک پہنچ گیا

  • موجودہ صورت حال میں بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جائے گا،شیخ رشید

    موجودہ صورت حال میں بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جائے گا،شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دے دیا –

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جائے گا، آج کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوئی، ساڑھے 600 لوگوں کو دھوپ میں مارا گیا پراسیکیوٹر سے آج میری لڑائی ہوئی پراسیکیو ٹرنے کہا تھا کہ میں یہاں پیش نہیں ہوں گا، پراسیکیوٹرنے جج کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، ان کی یہ درخواست مسترد ہوئی۔

    داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ کینیا کی فلم پاکستان میں دہرائی جاسکتی ہے، 30 اگست سے پہلے حساب ہو گا، شہباز شریف نے کہا یہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، یہ آئی ایم ایف نے بنایا ہے قوم کسی لیڈر کا انتظار نہیں کرے گی، ہر طرف بھوک ہی بھوک ہے، یہ لڑائی غریب کی لڑائی ہے حلق سے فلک تک غربت ہے کوئی بیوقوف ہی سمجھتا ہوگا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کیا جائے گا، موجودہ صورت حال میں بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جائے گا، جو جیل میں گیا اس سے 164 کا بیان لیا گیا، کل میں جسٹس طارق جہانگیری کی عدالت سے رہا ہوا ہوں، ایک قبر ہے مردے 3 ہیں، سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

    آج سے ملک بھر میں بارشیں ہی بارشیں، اربن فلڈ نگ کا خدشہ

    آج بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جانی تھی جو ہو نہ سکی

    دوسری جانب سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں شیخ رشید، زرتاج گل سمیت عدالت پیش ہونے والے ملزموں کی حاضری لگوائی گئی جبکہ آئندہ سماعت 15 جولائی کو ہوگی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 9 مئی کے مقدمات کی سماعت کی۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ، سنی اتحاد کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل ، راشد حفیظ ، شیخ راشد شفیق پی ٹی آئی کی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اڈیالہ جیل آنے والے ملزمان کی حاضری لگائی گئی، جس کے بعد عدالت نے 9 مئی کے مقدمات کی سماعت 15 جولائی تک بغیر کارروائی کے ملتوی کر دی آج بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جانی تھی جو ہو نہ سکی۔

    امریکا کا سوات میں ہجوم کے تشدد سے ہلاکت کے واقعے پر اظہار افسوس

    مقدمات میں نامزد خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں، کارکنوں کو بھی آج اڈیالہ جیل طلب کیا گیا تھا،اس موقع پر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی سخت اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب ناکے لگا کر چیکنگ بھی کی گئی۔

  • دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دوران عدت نکاح کیس، سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست نمٹا دی

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، خالد یوسف چوہدری اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں سزا معطلی کی درخواست پر 7 منٹ دلائل دوں گا، شکایت کنندہ کو اس سے کم وقت میں بھی دلائل دینے چاہئیں، میری ذمے داری عدالت کو بتانا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کون ہیں، ان اپیلوں پر پہلے 15 سے زائد سماعتیں 3 ماہ میں ہو چکی ہیں، اس کیس میں کبھی شکایت کنندہ اور کبھی پراسکیوشن نے کہا کہ کیس پڑھنا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیس میں کچھ نہیں، شکایت کنندہ کے وکیل نے تاخیری حربے استعمال کیے ہیں، کبھی کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہیں، کبھی کہا گیا کہ بیرونِ ملک ہیں، اگر میرے مؤکل یہاں نہیں ہوتے تو میں کبھی نہ کہتا کہ میرے ہوتے ہوئے وہ بولیں، اس بات کا اندازہ ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیسے دیتے ہیں۔

    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ سلمان صفدر ایک قابل وکیل ہیں اور ہر جگہ ان کی تعریف کی ہے

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر
    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اپیل کنندہ بشریٰ بی بی سابق وزیرِ اعظم کی اہلیہ ہیں، الیکشن سے قبل عمران خان کو سزا سنائی گئی، عمران خان کے خلاف بے شمار کیسز بنائے گئے،عمران خان کے کیسز سے میں نے بہت کچھ سیکھا، ایسی یونیک پراسیکیوشن میں نے آج تک نہیں کی، متعدد کیسز عدالتوں نے اڑا دیے، سائفر کیس، توشہ خانہ کیس پھر نکاح کیس میں سزا دی گئی، مجھے اس کیس کے شکایت کنندہ سے بھی ہمدردی ہے،میں کئی سالوں سے کریمنل کیسز لڑ رہا ہوں،جب اس کیس کو لڑنے کیلئے پڑھا تو پتا چلا ماضی میں ایسا کیس کسی نے نہیں لڑا،عجیب کیس ہے میاں،بیوی دونوں اندر ہیں، فراڈ کس نے کس کیساتھ کیا،ہمیں گواہان کو بلانے کی اجازت ہی نہیں دی گئی،ہمارے گواہان کے طور پر بشریٰ بی بی کے بچوں نے پیش ہونا تھا،اگلے دن صبح کیس کا فیصلہ سنادیا مگر ہمیں موقع ہی نہیں دیا گیا،عدت کیس میں آدھی رات تک سماعت چلتی رہی، ٹرائل میں آرٹیکل 10 اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا، 16 جنوری کو بشری بی بی کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، آپ کے اوپر کیا پریشر تھا کہ غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کیا گیا، عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، سخت سردی میں رات کو یہ ٹرائل ہوا جج صاحب کی ایک مہربانی ہے چائے کا پوچھتے رہے، میں اس گلی میں نہیں جانا چاہتا جہاں فاضل دوست لے کے جانا چاہتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نےبھارتی عدالت کے فیصلوں کے حوالے دیئے اور کہا کہ قانون میں عدت کے دوران شادی کوئی غیر قانونی عمل نہیں،خاورمانیکا کے وکیل نے کہا کہ میں بات مانتا ہوں کہ مجھے قانون نہیں آتا، یہ کہیں نہیں لکھا کہ ضمانت کے لئیے درخواست دائر نہیں کی جاسکتی، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ یہ استغاثہ کا کیس ہے گرفتاری نہیں چاہئیے،عدت دورانیہ کانٹرولرشل بنا ہوا ہے، اس کیس میں بچے بھی پیش نہیں ہوئے،وکیل سلمان صفدر کی جانب سے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا ،سلمان صفدر نے کہا کہ یہ بیہودہ کیس ہے اور اسکو کرنا ہمارے بہت مشکل ہے،8 سال سے وہ ساتھ ہیں اور انکا کوئی بچہ نہیں،

    سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ سائفر کیس ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا تو عدالت نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں یا سزا معطلی کی؟ میں نے کہا کہ مرکزی اپیل سنیں، ورنہ میرے لیے آسان تھا کہ سزا معطلی پر دلائل دیتا، سائفر کیس کا ابھی تفصیلی فیصلہ نہیں آیا مگر اپیل دائر کر دی گئی، ٹرائل میں ہمارے وکلاء کو باہر نکالا گیا، دیر تک سماعتیں چلیں، ہائی کورٹ کے لیے آسان تھا کہ کیس ریمانڈ بیک کرنا مگر نہیں ہوا، میرٹ پر فیصلہ ہوا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے عمران خان بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی استدعا کر دی، کہا اس کیس میں 5 ماہ ہوچکے ہیں،میری استدعا ہے کہ بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کو اس کیس سے بری کیا جائے،سلمان صفدر نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل کر لئے،کیس کی سماعت میں محتصر وقفہ کر دیا گیا،شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل وقفہ کے بعد اپنے دلائل دیں گے

    خاور مانیکا کے وکیل نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،عدت نکاح کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ ہوئی،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عمران اور بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر دی، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلاء کی جانب سے خاور مانیکا کے لیے جھوٹا شخص ہے کے الفاظ استعمال کیے گئے، جھوٹا کون ہے مفتی سعید خاور مانیکا یا بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی، جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کئے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے اسی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشری بی بی سے نہیں ہوا جھوٹا الزام ہے، یو ٹرن کا لفظ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کروایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ جھوٹا کون اور سچا کون ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ اصل میں جھوٹا کون ہے، 7 جنوری کو پی ٹی آئی کی جانب سے بیان دیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے بشری بی بی کو شادی کا پروپوزل بھیجا ہے،بیان میں کہا گیا کہ بشری بی بی کی جانب سے جواب آنے کے بعد بانی پی ٹی آئی باقاعدہ اعلان کریں گے، 1 جنوری کے نکاح کو اپیل کنندگان کی جانب سے جھٹلایا گیا، نکاح کے لئے ولی کی رضامندی اور موجودگی ضروری ہے،ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، زاہد آصف ایڈوکیٹ کی جانب متعد قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ قرآن و سنت کے مطابق گواہان کے بغیر نکاح جائز نہیں، خاتون کی پرائیویسی کے بارے میں بات کی گئی لیکن فیملی کی پرائیویسی کا ذکر نہیں کیا، عدالت نے دیکھنا ہے کہ جھوٹا کون ہے شکائت کنندہ کی بیوی کو بہلانے والا طلاق دلوانے والا اور عدت میں نکاح کرنے والا، کہتے ہیں عورت کا کہہ دینا کافی ہے یہ تو بتائیں عورت نے کہا کب وہ بیان کدھر ہے،بشری بی بی کی جانب سے ایک مرتبہ بھی عدت کے حوالے سے نہیں بتایا گیا،

    کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا ، کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا،وکیل خاور مانیکا
    خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فرد جرم بشری بی بی کی موجودگی میں عائد ہوئی جب دستخط کا کہا گیا تو عدالت سے چلی گئیں، یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چارچ بشری بی بی کی غیر موجودگی میں ہوا، کہا گیا بچوں کو پیش نہیں ہونے دیا حق نہیں دیا گیا کس کے بچوں نے پیش ہونا تھا یہ نہیں بتایا گیا، جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ آپ کے کلائنٹ کو شادی کا پتہ کب چلا، زاہد آصف ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2 جنوری کو پتہ چلا کہ نکاح ہو گیا تھا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کی طرف سے کوئی بیان کیوں نہیں آیا جب نکاح کا پتہ چل گیا، اپیل کنندگان کہتے ہیں چلا کروایا گیا جس کے بعد شکائت دائر ہوئی اس پر بتائیں،بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے، خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا، جج افضل مجوکا نے کہا کہ جب شکائت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو پہلے والی شکائت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں،عثمان گل نے کہا کہ اس وقت تک چارج فریم نہیں ہوا تھا،

    کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے،وکیل خاور مانیکا
    جج افضل مجوکا نے کہا کہ فراڈ کوئی ایسا ایکٹ نہیں ہے 2006 میں یو کے نے ایکٹ متعارف کروایا،اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں،کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکائت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں تھی دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں،کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی گزار رہا ہو وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے، جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری سے سوال کیا کہ اگر خاور مانیکا کو 2 جنوری کو یکم جنوری 2018 میں کیے گئے نکاح کا پتا چلا تو اگر وہ 2 جنوری کو خدا نخواستہ مر جاتے تو کیا بشری بی بی جائیداد میں حصہ دار ہوتیں؟ جس پر خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے ہاں میں جواب دیا،وکیل زاہد آصف نے کہا کہ اس کیس میں صرف 496 نہیں 494 اور 495 کا اطلاق بھی ہوتا ہے،نکاح نامے کے مطابق اپیل کنندگان نے اس سے پہلے شادی کے متعلق نہیں بتایا گیا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ نکاح نامے کی کمپیوٹرائزڈ کاپی میں بشری بی بی کی جانب سے مطلقہ کے بارے بتایا ہے، اگر آپ کے دلائل ٹھیک ہیں تو یہ شارٹ سینٹینس ہے 5 سال بنتے ہیں اور سزا معطلی بنتی ہے، وکیل زاہد آصف نے کہا کہ یہ وانٹ کا کیس تھا سمن کا کیس نہیں تھا اس کے مطابق اس کیس میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کرنی تھی،

    شکائت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف ایڈوکیٹ کے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل مکمل ہو گئے، جج افضل مجوکا نے کہا کہ مرکزی اپیل کے لئے کب میسر ہوں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم مکمل فری ہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ 2 جولائی کی تاریخ ہے ہائی کورٹ نے کہا ہے یکم کو کیس نہ رکھیں،سیشن عدالت اسلام آباد نے عدت میں نکاح کیس میں عمران خان اور بشر یٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا،دوران عدت نکاح کیس میں محفوظ فیصلہ 27 جون دن تین بجے سنایا جائے گا

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا، ابھی تک آپریشن عزم استحکام کی کلیئرٹی نہیں۔نا ہی آپریشن عزم استحکام کی کوئی وضاحت دی گئی ہے کہ کس ایریا میں ہوگا ، کہاں ہوگا کب ہوگا اور نہ ہی میری آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات ہوئی ہے ، جب اس آپریشن پر پر بریفنگ دی جائے گی تب ہی اس پر کوئی بات ہو سکتی ہے، آئی ایس پی آر کا جب پلان آجائے گا،تب ظاہری بات ہے بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ تو یہ کام نہی ہوسکتا۔ ایپکس کمیٹی میں ایک پالیسی بنائی گئی میری عمران خان سے پالیسی پر بات ہوئی، پالیسی تھی کہ امن و امان قائم ہو اور دہشت گردی ختم ہو ، پاکستان میں ہم امن بالکل چاہتے ہیں، 9 مئی کیسے ہوا، کس نے کیا پتہ لگنا چاہیے، میری آرمی چیف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، دہشت گردی کو روکنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر پالیسی بنا سکتے ہیں، اس پالیسی بنانے میں ہم مدد کر سکتے ہیں،

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ مراد راس کی 1700 کالیں پکڑی گئی ہیں یہ انہوں نے کہا اس نے پریس کانفرنس کی اسے چھوڑ دیا گیا ہماری دو خواتین ایک ہی گاڑی میں موجود تھیں ایک نے پریس کانفرنس نہیں کی تو اسے پورے پاکستان میں گھمایا جا رہا ہے ایسے نہیں چلے گا فارم 45 کھولیں اس کے بعد بات چیت ہو گی۔

    علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اہم ہدایات دیں، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی علی امین گنڈا پور سے کے پی ہاوس میں آج ملاقات کریں گے، علی امین گنڈا پور عمران خان پیغام پارٹی کو پہنچائیں گے، آپریشن عزم استحکام پر گفتگو ہوگی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس میں دہشتگردی کی عفریت سے نمٹنے کیلئے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تاہم اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں بالخصوص مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے مختلف مفروضات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں جو عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس حوالے سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے مطالعے سے سب کچھ صاف اور واضح ہو،

    *آپریشن عزم استحکام کا دائرہ کار*
    آپریشن “عزم استحکام” کا دائرہ پورے ملک تک ہو گا نا کہ کسی ایک صوبے یا مخصوص علاقے تک۔ حتٰی کہ دہشت گردوں کے تعاقب میں سرحد پار آماجگاہوں کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائیگا۔ کل کے اجلاس میں تمام وزراء اعلی نے یکسو ہو کے اس فیصلے کی توثیق بھی کی۔ اس سلسلے میں تمام سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لائی جائینگی۔

    *سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ*
    دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے زمینی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائیگا جس میں جدید آلات، بہتر انٹیلیجینس، موثر ڈیٹا کی فراہمی، فورینسک کی بہترین سہولیات، بائیو میٹرکس کا موثر استعمال اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کی پڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مزید فعال کیا جائیگا تاکہ کسی بھی غیر قانونی کراسنگ کا تدارک کیا جا سکے۔

    *عزم استحکام کیلئے قومی جذبہ اور اتحاد و یگانگت*
    اجلاس میں تمام سیاسی، عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے نبرد آزما ہیں وہیں دہشت گردی کی اس جنگ میں کامیابی کیلئے پوری قوم یکجا ہے اور یہ جنگ جیتنے کیلئے قومی اتحاد اور یگانگت بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنگ کسی مخصوص سیاسی جماعت، مذہبی یا لسانی گروہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے اور تمام حاضرین نے اس کی توثیق کی۔ یہ پاکستان کی مستقبل کی نسلوں کی جنگ ہے۔جو بھی تاریخ کے اس اہم موڑ پہ اس جنگ کے خلاف منفی سیاست کرے گا وہ تنہا رہ جائے گا اور تاریخ اُسے معاف نہیں کرے گی-

    *آئینی اور قانونی معاونت*
    شرکاء نے متفقہ طور پہ اس آپریشن کی کامیابی کیلئے ایک موثر اور بِلا خوف قانونی سپورٹ کی ضرورت پہ زور دیا۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مؤثر عدالتی نظام کی کلیدی حیثیت کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا اور ماضی میں دہشت گردوں سے روا رکھی جانے والی نرمی کو کامیابی کے حصول میں ایک رکاوٹ قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں موجود عدالتی سقم دور کرنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔

    مخصوص سیاسی جماعت اور اسکے سوشیل میڈیا کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات
    مخصوص سیاسی جماعت کے گوہر خان اور اسد قیصر نے آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی آپریشن کے آغاز سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ہم کسی طور بھی کسی آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتے ان بیانات کے تناظر میں مندرجہ ذیل عوامل کا احاطہ کرنا بہت ضروری ہے

    ایک جانب وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی میں بھرپور شرکت کرنا، آپریشن عزم استحکام اور دیگر اہم فیصلوں پر اپنی ہر طرح کی مدد اور تعاون کا یقین دلانا اور دوسری جانب گوہر خان اور اسد قیصر آپریشن مخالف بیان ، مخصوص سیاسی جماعت کے اندر تفریق کو واضح کرتا ہے-اگرمخصوص سیاسی جماعت کے رہنما سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو پھر اسی جماعت کا وزیراعلی عزم استحکام کی بھرپور تائید کیسے کر رہا ہے۔۔۔؟
    مخصوص سیاسی جماعت رہنماوں کیجانب سے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس جماعت کو ملک کے قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔جہاں تک مخصوص سیاسی جماعت کے رہنمائوں کی جانب سے آپریشن عزم استحکام کی کی پارلیمان سے منظوری کی بات ہے اگر اس فیصلے کو منظوری کیلئے پارلیمان میں لایا بھی جاتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں گی-مخصوص سیاسی جماعت کے دور حکومت بھی بارہا ایوان میں دہشت گردی کے خلاف قراردادیں پیش کی جاتی رہی ہیں جو بھاری اکثریت سے منظور بھی ہوتی رہی ہیں ،مخصوص سیاسی جماعت پارلیمان کا جواز بنا کر عزم استحکام کو متنازعہ بنانا, اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جماعت دہشت گردی کے ساتھ منسلک ہوتی جا رہی ہے اور مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے قومی سلامتی سے جڑے مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر سیاست کرنا انتہائی تشویشناک ہے

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کیسے کیا جائے گا؟ اس پر بحث کریں گے، ایوان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا،وزیراعظم بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق وزیردفاع بات کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے بات نہیں کرنے دی، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، کچھ ایشوز بے ضرر ہوتے ہیں، اس سے آپ کی اور ہماری سیاست کو نقصان نہیں، عزم استحکام پر وزیر دفاع بات کررہے تھے، لیکن آپ نے ایک لفظ نہیں سنا، اپوزیشن مشاورت نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آپ کے وزیراعلیٰ نے کوئی بات نہیں کی، وزیردفاع کی تقریر کا ایک لفظ اپوزیشن نے نہیں سنا، کیسے مشاورت کریں؟ آپ کے وزیراعظم کی طرح ناراض ہوکر ہمارا وزیراعظم باہر نہیں بیٹھے گا، بلکہ پوری کابینہ کے ساتھ یہاں موجود ہوگا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پاکستان میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کوئی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالا تر نہیں ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کوئی بھی آپریشن ہو اس کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، کوئی بھی آپریشن ہو، اس کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے،اسد قیصر کا کہنا تھا ہم کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرتے، کوئی فیصلہ یا معاہدہ ہوا ہے تو اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے۔

  • اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    ‏اڈیالہ جیل میں گرفتار، سابق وزیراعظم عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں، عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے،عمران خان نے اپنی نااہلی کے خلاف زیر التواء اپیل کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار سابق وزیراعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے،درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کرنے کے بعد پارٹی سربراہ کے عہدے سے ہٹانے کی کاروائی جاری ہے، الیکشن کمیشن کے احکامات کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التواء ہیں، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کی وجہ سے ہائیکورٹس میں کاروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی، ان مقدمات کی وجہ سے درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی، ممبر اسمبلی منتخب نہیں ہو پا رہا، زیر التواء اپیل کی وجہ سے درخواست ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا، بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی

    قبل ازیں عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں سزا کا فیصلہ معطل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی،سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ، اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ توشہ خانہ کیس میں سزا پہلے ہی معطل ہوچکی ہے، ہائی کورٹ نے صرف سزا معطل کی پورا فیصلہ نہیں،ہائی کورٹ فیصلے میں غلطی کا الیکشن کمیشن نے فائدہ اٹھایا،الیکشن کمیشن نے چیئیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انتخابات سے باہر نہیں رکھا جا سکتا، سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں سزا پر مبنی فیصلہ معطل کرے تاکہ انتخابات میں حصہ لیا جا سکے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی