Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب ایک اور خط  برطانوی جریدے میں شائع

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب ایک اور خط برطانوی جریدے میں شائع

    برطانیہ: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب ایک اور خط بین الاقوامی جریدے میں شائع ہو گیا –

    باغی ٹی وی : عمران خان سے منسوب یہ خط برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہوا ہے خط کے آغاز میں کہا گیا کہ آج پاکستان اور اس کے عوام ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں، خط میں ملک کے دفاعی ادارے کا نام لے کر اس پر تنقید کی گئی ہے، کہا گیا کہ تقریباً دو سال پہلے میری حکومت کے خلاف ایک انجینیئرڈ ووٹ عدم اعتماد پیش کیا گیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایک حکومت وجود میں آئی۔

    عمران خان سے منسوب خط میں سویلین حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیا گیا ہے ، کہا گیا کہ آٹھ فروری کو عوام نے جمہوری انتقام لیا جو نہ صرف قومی حکم عدولی تھی بلکہ اس کے نتیجے میں نو مئی سے متعلق بیانیہ مسترد بھی ہو گیا،عام انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں بھی ووٹ ٹیمپرنگ کی گئی،ہمارے انتخابی نشان کے ظلم، تشدد اور انکار کو بڑے پیمانے پر دستاویزی شکل دی گئی ہے، لیکن فوج اور اس کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرنے والی بے اختیار سویلین قیادت کے لیے کچھ بھی کام نہیں آیا، 8 فروری 2024 کو پاکستان کے عام انتخابات نے ان کے ڈیزائن کی مکمل ناکامی کو ظاہر کیا۔

    وزیراعظم نے گندم کی درآمد کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

    خط میں کہا یا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں ووٹروں کی اکثریت پارٹی کے نشان سے رہنمائی کرتی ہے وہاں کوئی ایک انتخابی نشان نہیں ہے، لوگ "آزاد” کے طور پر کھڑے ہونے کے باوجود، میری پارٹی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدواروں کے لیے باہر آئے اور بھاری اکثریت سے ووٹ دیا۔ متنوع علامتوں کے ساتھ۔

    کہا گیا کہ پاکستانی عوام کی طرف سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کے خلاف یہ جمہوری انتقام نہ صرف عوام کی طرف سے قومی بے عزتی تھی بلکہ 9 مئی 2023 کے سرکاری بیانیے کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتی تھی، جب پی ٹی آئی کے حامیوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔ کریک ڈاؤن – فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کا۔

    ترکیہ کی اسرائیل سے تجارت بند،اسرائیل کا شدید احتجاج

    خط میں فوج کے علاوہ عدلیہ پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انصاف نہیں کر رہے،چھ ججوں کے خط کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے مبینہ طور پر بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے الٹا ججوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے ریاست اسی راستے پر چل رہی ہے جس پر وہ 1971 میں چلی تھی جب وہ مشرقی پاکستان کھو بیٹھی جو آج بنگلہ دیش ہے۔

    خط میں ایک ہی جملے میں ایک جانب پاکستان پر امریکہ کو فضائی حدود کے استعمال اور متعلقہ سہولتیں دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے تو دوسری جانب امریکہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پاکستان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، خط کے آخر میں مبینہ طور پر عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ میرے خلاف جو کر سکتی تھی کر لیا اب مجھے قتل کرنا ہی رہ گیا ہےخط میں ایک شخصیت کا نام لیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے یا میری بیوی کو کچھ ہوا تو وہ شخصیت ذمہ دار ہوگی۔

    ایران کی امریکی اور برطانوی حکام اور اداروں پر پابندیاں عائد

    واضح رہے کہ اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی کا ایک خط برطانوی اخبار اکنامسٹ نے شائع کیا تھا اور اس وقت سوالات اٹھائے گئے تھے کہ عمران خان جیل سے کوئی خط کیسے بھجوا سکتے ہیں جبکہ انہیں کوئی تحریر باہر بھیجنے کی اجازت نہیں، عمران خان کی یہ مبینہ تحریر نو مئی کے واقعات کو ایک برس پورا ہونے سے محض چند روز قبل سامنے ائی ہے پی ٹی آئی کہ حامیوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر مہم شروع کی ہے جس میں نو مئی کے واقعات کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔

  • الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل خطرے میں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے حالیہ انتخابات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیئے،پارٹی انتخابات کے بغیر جنرل کونسل، مرکزی مجلس عاملہ کے انتخاب اور اجلاسوں پر بھی تحفظات کا اظہارکیا گیا،5 سال سے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہیں ہوئے تو مختلف پارٹی تنظیمیں کیسے کام کر رہی ہیں، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کی کوئی باڈی نہیں بچی، نہ ہی کوئی انتخابی نشان ہے، مسلسل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 208 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، کیوں نہ پارٹی کے خلاف کاروائی کی جائے،

    الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ جب باڈیز ہی نہیں تو جنرل باڈی کا اجلاس کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ جنرل باڈی کے تحت کیسے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جا سکتا ہے؟الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے تحفظات پر تحریری طور پر جواب طلب کر لیا،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف انٹراپارٹی الیکشن کے خلاف درخواستگزاروں کے تحفظات پر بھی جواب مانگ لیا،الیکشن کمیشن تحریری جواب آنے پر سماعت مقرر کرے گا،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عمران خان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گل ،ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور دیگر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔

    سلمان صفدر نے کہاکہ تجسس ہے حامد علی شاہ کب اپنے دلائل مکمل کریں گے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دلائل کیلئے ایک دن لگے گا، پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے خود 14 روز وقت لیا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت جتنا وقت لے رہی ہے اتنا کیس کو سنبھالنا پڑ رہاہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے عمران خان کا 342 کا بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ کیخلاف کیس کیوں بنا، عمران خان نے اس سوال کا جواب دیا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کا دفاع کا بیان وکیل کی عدم موجودگی میں ہوا؟کیا وکیل کی عدم موجودگی میں 342کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس نکتے پر تیاری کرکے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں، کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کم ہو جائے گی؟

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر عدالت میں بیان دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وہ مقدس کتاب قرآن پاک ہی تھی؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ قرآن پاک ہاتھ میں رکھ کر دیئے گئے بیان کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ‏آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں دستاویز گم جانے کی جو سزا ہے وہ کس دستاویز کی بات ہے یا کچھ نہیں لکھا ہوا ، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز گم ہونے کو قابل احتساب ہونے کے ساتھ پڑھا جائے گا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا قابل احتساب دستاویز کو ہم کوڈ کہہ سکتے ہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی چار اقسام ہیں،دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، عدالت نے کہا کہ ان چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویز گم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں خود مانا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دفاع (342) کے بیان میں جو کہا وہی اصل ہے. انٹرویو میں کیا کہا اہمیت نہیں رکھتا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی 4اقسام ہیں،عدالت نےاستفسار کیا کہ چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویزگم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ممالک سے آنیوالی تمام دستاویزات کانفیڈینشل ہوتی ہیں؟کوئی دستاویز قابل احتساب نہیں وہ گم جائے پھر تاخیر ہے؟وزیراعظم آفس میں تو روزانہ ایک ہزار چٹھیاں آتی ہوں گی،دانستہ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک آدھ گم بھی ہو جاتی ہوگی، کیا ہم نے سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ واپس کردیا ہے؟ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے کہاکہ جی ہاں، آپ نےواپس کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ نہ ہو پھر ہمارے خلاف بھی ایف آئی آر ہو جائے،جو گائیڈ لائنز ہیں ان کو ہم کیا کہیں گے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ اس کو سکیورٹی آف سائفر گائیڈ لائنز کہتے ہیں جوکابینہ ڈویژن نے تیار کی ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ سلمان صفدر کو دےدیں۔

    پراسیکیوٹر نے کہاکہ قانون کہتا ہے سائفر گم یا چوری ہونے پروزارت خارجہ اور آئی بی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے،سائفر کی 9کاپیوں میں سے ایک کاپی وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی،باقی 8 کاپیوں کو ضائع کردیا گیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے وزارت خارجہ رپورٹ عدالت میں پیش کردی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت 6مئی تک ملتوی کردی گئی

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • توشہ خانہ کیس، نیب نوٹس،عمران خان نے چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ کیس، نیب نوٹس،عمران خان نے چیلنج کر دیا

    توشہ خانہ کیس، نیب کی نئی تحقیقات ،عمران خان نے نیب طلبی کا نوٹس چیلنج کر دیا

    عمران خان نے نیب نوٹس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی،عمران خان نے دائر درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر فیصلے تک نیب نوٹس معطل کرنے کی استدعا کی ہے،عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان گل اور خالد چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی الزام کے کیسز میں مختلف قسم کی کاروائی نہیں ہو سکتی

    نئی انکوائری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر تحائف کی غیرقانونی فروخت کا الزام ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 16 اپریل کو نیب راولپنڈی میں طلب کیا گیا تھا

    دوسری جانب بشریٰ بی بی کی درخواست آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں سماعت کے لیے مقرر ہے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری سماعت کریں گے۔بشریٰ بی بی نے بھی نیب نوٹس کو چیلنج کر رکھا ہے،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • پی ٹی آئی حکومت میں اہم فیصلے دوسری پارٹیوں سے آئے لوگ کرتے تھے، حافظ نعیم

    پی ٹی آئی حکومت میں اہم فیصلے دوسری پارٹیوں سے آئے لوگ کرتے تھے، حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ میں یوم مزدور کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدور، کسان اور عوام کو ان سرمایہ داروں اور ان کے فرسودہ نظام کے خلاف ایک ہونا ہو گا، اس کے لیے جماعت اسلامی بہترین پلیٹ فارم ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غریب عوام کو حکومت کو حوالے نہیں کرسکتے، بجلی کا بل ہر مہینے غریب پر بم بن کر گرتا ہے۔الیکشن میں بجلی کے یونٹ معاف کرنے کے جھوٹے دعووں پر سوال کریں گے، مزدوروں کا حق کھا کر میڈیا پر بیان دینے والی حکومتیں سمجھتی ہیں مزدوروں کا حق ادا کر دیا، سچی بات یہ ہے کہ ان حکومتوں کو مزدوروں کے حقوق کا احساس ہی نہیں، مہذب دنیا میں مزدوروں کا حق دیا جاتا ہے ان کا تحفظ کیا جاتا ہے، موجودہ حکمرانوں کو پتہ ہی نہیں کہ مزدور بیمار پڑ جائے تو اس کے گھر کا کیا عالم ہو گا،موجودہ نظام لوگوں کو سہولتیں دینے کے بجائے منشیات کا عادی بنا دیتا ہے، مزدور کے ساتھ متوسط طبقہ بھی پس رہا ہے صرف ایک طبقہ فائدہ لے رہا ہے

    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ فارم 47 پر بننے والی جعلی حکومت کو نہیں مانتے، جس کا حق ہے اسے دیا جائے، پی ٹی آئی حکومت میں اہم فیصلے وہی کرتے تھے جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے آئے تھے،عمران خان جب جیل سے باہر آئیں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا،اسحاق ڈار کو بھی نائب وزیراعظم بنا دیا گیا، کیونکہ وہ سمدھی تھے، اب بچوں اور بھائی کے بچوں کا نمبر ہے وہ حکومتی عہدوں پر بھی اور پارٹی عہدوں پر بھی ہوں گے،

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو مختص پروٹوکول واپس کردیا

    ہمیں ہندوکمیونٹی کی آپ سے زیادہ فکر ہے،چیف جسٹس کا رکن قومی اسمبلی رمیش کمار سے مکالمہ

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • اعظم خان نے اعتراف کیا  سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نےبانی پی ٹی آئی پر چارج فریم عدالت کے سامنے پڑھے اور کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں عدالت کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ سائفر کاپی کیسے اور کس کس جگہ گیا اور کس کس آدمی نے کیا کہا،میں نے عدالت کے سامنے تمام گواہان کے بیانات نہیں پڑھنے .میں آج یہ بتاؤں گا کہ سائفر کی کاپی بانی پی ٹی آئی تک کیسے پہنچا ، بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی وزرات خارجہ کو واپس نہیں کی،بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی جو ان کو واپس کرنی تھی ، محمد نعمان نے سائفر ٹیلی گرام 8 مارچ کی صبح وصول کیا تھا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ آپ سائفر موومنٹ سے متعلق جو کچھ آپ بتا رہے ہیں وہ ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ لیپ ٹاپ سے پڑھ رہے ہیں لیکن ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ یہ چیزیں تحریری طور پر ہمیں دیدیں، ہم سے لکھنے میں کچھ رہ نہ جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ تمام چیزیں میں پہلے عدالت میں بیان کر چکا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آئیں نا ذرا ہمیں یہ بتائیں کہ سائفر دستاویز اعظم خان تک کیسے پہنچا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے اعتراف کیا کہ اُن کے سٹاف نے انہیں وزیراعظم کی کاپی دی اور وزیراعظم نے سائفر کاپی اپنے پاس رکھ لی اور واپس نہیں کی،اعظم خان نے بیان میں کہا کہ عمران خان نے جب سائفر کاپی پڑھی تو پُرجوش ہو گئے، وزیراعظم نے سائفر کاپی پڑھنے کیلئے اپنے پاس رکھ لی، کچھ دن بعد واپس مانگنے پر انہوں نے کہا کہ سائفر کاپی گم ہو گئی، سٹاف اور ملٹری سیکرٹری کو ڈھونڈنے کا کہا ہے،

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اسکو سائفر کہہ رہے ہیں، ہمارے لیے سپریم کورٹ نے معاملہ آسان کردیا ہے کہ یہ سائفر تھا ہی نہیں جسکو آپ معمہ بنا رہے ہیں، سائفر تو کوڈڈ لینگویج میں ہوتا ہے ، یہ تو ٹرانسلیشن ہے جس کی کاپی عمران خان کو دی گئی تھی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کاپی اعظم خان تک آ گئی تو وزیراعظم کو بھی دی گئی ہوگی، عمران خان نے کبھی سائفر کاپی موصول کرنے سے انکار نہیں کیا، کیا سائفر کاپی اعظم خان سے وزیراعظم کو جانے کی بھی کوئی شہادت موجود ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ نہیں، اعظم خان کا بیان ہے، اُسکی کوئی شہادت نہیں ہوتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے سائفر دستاویز وزیراعظم کو دیا ہو گا اگر دستاویز دیا گیا ہے تو ہی ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم کے سیکرٹری نے تو ڈی مارش کا فیصلہ نہیں کیا ہو گا، ہمیں کیسے معلوم ہو کہ وزیراعظم نے سائفر واپس نہیں کیا ہو گا؟

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات،الیکشن کمیشن نے جواب مانگ لیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کیس چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں سناگیا

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور چیف فیڈرل الیکشن کمیشنر رئوف حسن الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس الیکشن کمیشن مسعود اختر الیکشن کمیشن پیش ہوئے،ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرائے، سپریم کورٹ کا 23 نومبر اور 22 دسمبر کا فیصلہ ہے،انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں اس کی وضاحت ضروری ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جو بھی اعتراض ہے اس کا جواب دیں گے، ہمیں تحریری طور پر کچھ نہیں دیا گیا تحریری طور پر دیں گے تو جواب دے دیں گے نوٹس ملا تو جواب دیا ۔الیکشن کمیشن نے اعتراضات کی تفصیلات پی ٹی آئی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ سماعت پر جواب مانگ لیا،آئندہ سماعت کی تاریخ کا اعلان بعد میں ہوگا.

    ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،بیرسٹر گوہر
    الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ جو الیکشن ہم نے تین مارچ کو کروائے تھے اس پر مجھے اور رؤف حسن کو نوٹس آیا تھا،نوٹس میں صرف سماعت کی تاریخ کا بتایا گیا تھا، اس میں جس طریقے سے آخری جو ہیرنگ کی تھی اس میں کچھ پوائنٹ ہمیں بتائے گئے تھے لیکن اس بار نہیں بتائے گئے،ہمیں کوئی اعتراض نوٹس میں نہیں بتایا گیا تھا،آج الیکشن کمیشن نے سٹاف سے پوچھا آپ کیا کہنا چاہیں گے، سٹاف نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے آرڈر میں کچھ ہماری آبزرویشن ہیں، پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات پر آج مختصر سماعت ہوئی،پی ٹی آئی جواب جمع کرائےگی، کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی، اب الیکشن کمیشن ہمیں کونسی تاریخ دے گی اس پر پھر بات میں بحث ہو گی، پاکستان کی 175سیاسی جماعتیں ہیں، ان میں تحریک انصاف کی طرح کسی نے بھی شفاف انٹراپارٹی الیکشن نہیں کرائے، ہمارا انٹراپارٹی الیکشن صاف شفاف ہوا ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے آرڈ ر کو مدنظر رکھا،جس میں الیکشن کمیشن نے ہمیں بیس دن کا وقت دیا تھا،ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے سوشل میڈیا پر بھی آگاہ کر دیا تھا،تین کا الیکشن تھا چار کا نوٹیفکیشن تھا ہمیں آج تک نوٹیفیکشن نہیں ملا،ہمیں بلے کا نشان بھی ملنا چاہیے،جتنی اوبزرویشن ہم نے پوائنٹ آؤٹ کی ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ سب ٹھیک ہیں،سیاسی درجہ حرارت کم ہونا چاہیے،ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھی ہو چکی اب انصاف ہونا چاہیے،عوام نے بینگن، چمٹے کو ووٹ دئیے،ہم بائیکاٹ کی طرف نہیں گئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے،ہر طرح سے ہمیں دبانے کی کوشش کی گئی لیکن عوام نے ہمارا ساتھ دیا،ہم پارلیمنٹ کا حصہ بنے ہیں لیکن ہم پر بھی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    واضح رہے کہ پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر ہی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم ہوئے تھے، تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں بھی انتخابی نشان کے لئے درخواست دائر کی تھی تا ہم درخواست مسترد کر دی گئی تھی، تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کے بغیر الیکشن میں حصہ لیا ، آزاد امیدوار جیتے تو وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے،

  • نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے،شیخ رشید

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں سانحہ نو مئی کے مقدمات کی سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر شبلی فراز، زرتاج گل ، شیخ رشید احمد، راجہ بشارت عدالت میں پیش ہوئے، شیریں مزاری، تیمور مسعود، واثق قیوم عباسی، کرنل اجمل صابر راجہ سمیت سینکڑوں کارکنان عدالت میں حاضر ہوئے،مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے پندرہ مئی تک ملتوی کر دی گئی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے آج بریت کی درخواست پر وکلاء سے دلائل طلب کر رکھے تھے

    ڈپٹی وزیراعظم جاتی امراء کے آئین میں ہو سکتا ہے،شیخ رشید
    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ یہ ان کے گھر کا آئین ہے جاتی امراء کا ورنہ پاکستان کے آئین میں کوئی ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ نہیں،عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جھوٹی شہادتوں پر بنائے گئے کیسسز کو ختم کیا جائے،اگر کوئی مجرم ہے تو اسے سزا دی جائے ، بے گناہ کو رہا کیا جائے، پاکستان کے آئین میں ڈپٹی وزیراعظم کی کوئی پوسٹ نہیں ہے اسحاق ڈار ان کے گھر کا ہی ہے، ڈپٹی وزیراعظم جاتی امراء کے آئین میں ہو سکتا ہے2 ماہ بہت اہم ہیں، حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہو گی،صنعت کار رو رہا تھا، دکاندار رو رہا تھا ،اب کسان رو رہا ہے، میں چیلنج کرتا ہوں ابھی تک گندم کے اوپر کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی، ابھی تک ایک کلو گندم نہیں خریدی گئی، محلے میں کریانے والا بھی ادھار نہیں دے رہا، حالات بہت خراب ہیں، جہازوں سے کم گندم منگوائی جارہی ہے، جہاز کراچی میں کم گندم پھینک کر جا رہے ہیں،نیب گندم اسکینڈل کا فوری نوٹس لے، یہ دو ماہ بڑے اہم ہیں، سیاست دو ماہ میں اپنا رنگ دکھائے گی، پی ٹی آئی کے مذاکرات پر شبلی فراز ہی کچھ کہہ سکتے ہیں عدلیہ کو لفافوں میں پاؤڈر بھیج رہے ہیں، سانحہ 9 مئی کے جو بے گناہ ہیں انہیں فوری رہا کیا جائے،

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین کا نام کل تک دے دیں گے،عمران خان

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین کا نام کل تک دے دیں گے،عمران خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کی ہے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں میری میڈیا ٹاک پر پابندی لگا کر میرے بنیادی حقوق ختم کر دیئے گئے ہیں،میں اداروں کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہوں،سپریم کورٹ میں ہماری پٹیشن زیر التوا ہیں جن پر سماعت نہیں کی جارہی۔میرے دور حکومت کا موجودہ دور سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔ ملک کے جو حالات ہیں ان میں سرمایہ کاری ہی بچا سکتی ہے۔ علی امین گنڈاپور، عمر ایوب اور شبلی فراز کے علاؤہ کسی کو بھی اسٹیبلشمنٹ سے بات کا اختیار نہیں دیا۔مجھے پارٹی رہنمائوں سے صرف تیس منٹ ملاقات کی اجازت ہے۔

    صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی پارٹی میں چیئرمین پی اے سی کو لیکر تنازعہ چل رہا ہے، عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے مشاورت ہی نہیں کرنے دی جارہی آج مشاورت مکمل ہو جائے گی، صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے شیر افضل مروت کو نامزد کیا ہے کیا وہ ہی نام فائنل ہے،عمران خان نے کہا کہ پی اے سی چیئر مین شپ پر مشاورت کے بعد جواب دونگا ، صحافی نے سوال کیا کہ اسکا مطلب شیر افضل مروت کا نام واپس لے لیا گیا ہے کون سا نیا نام تجویز کیا ہے، عمران خان نے کہا کہ ابھی کوئی نام فائنل نہیں کل تک نام فائنل کرلینگے،صحافی نے سوال کیا کہ آپ کسی کو نامزد کرتے ہیں پارٹی لیڈر شپ اس نام کو نہیں مانتی پارٹی میں کیا چل رہا ہے،عمران خان نے کہا کہ ہم نے شیر افضل مروت کا نام دیا تھا لیکن ابھی اس معاملے پر مزید مشاورت کررہے ہیں،

    چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے تنازعہ پر عمران خان کی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، مشاورت میں شیر افضل مروت، بیرسٹر گوہر خان، بیرسٹر علی ظفر و دیگر شامل ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت انتظار حسین پنجوتھہ اور مشال یوسفزئی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب میڈیا سے بات کرنے لگے تو پولیس نے میڈیا کو باہر نکال دیا انتظار حسین پنجوتھہ جو کہ فوکل پرسن ہیں عمران خان کے انکو بھی پولیس نے آج اندر نہیں جانے دیا۔ القادر کیس سیاسی بنیادوں پر بنا ہوا بوگس کیس ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں،شیر افضل مروت پر اعتراض کے بعد حامد رضا کا نام سامنے آیا تھا تاہم آج عمران خان نے کہہ دیا کہ کل تک حتمی نام دے دینگے،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    پسند کی شادی، عدالت نے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی

    شادی شدہ خاتون سے معاشقہ،نوجوان کے ساتھ کی گئی بدفعلی،خاتون نے بنائی ویڈیو

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

  • عمران خان ضمانت کیس،آئندہ نہ آئے تو فیصلہ کریں گے، عدالت کی وارننگ

    عمران خان ضمانت کیس،آئندہ نہ آئے تو فیصلہ کریں گے، عدالت کی وارننگ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نیب کیس میں ضمانت پر رہائی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمور جہانگیری نے سماعت کی،نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز ایڈووکیٹ آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور شہباز کھوسہ پیش ہوئے،وکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ اس کیس کی 10 تاریخیں ہو چکی ہیں،وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس کیس کے لیے لاہور سے آیا ہوں، ایک طرف ضمانت کیس میں دس بارہ سماعتیں ہو چکی ہیں، دوسری جانب انہوں نے ٹرائل میں ایکسیلیٹر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری وارننگ دے رہے ہیں آئندہ نہ آئے تو فیصلہ کر دیں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی.

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔