Baaghi TV

Tag: عمر ایوب

  • اثاثہ جات کیس:پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو  عمر ایوب کےخلاف کارروائی سے روک دیا

    اثاثہ جات کیس:پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمر ایوب کےخلاف کارروائی سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کا نوٹس بھیجنے کے کیس میں الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا۔

    پشاور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کا نوٹس بھیجنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس خورشید اقبال نے سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کے خلاف نوٹس بھیجا ہے، اثاثوں سے متعلق 120 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہوتا ہے جو ہم نے جمع کرا دیا،الیکشن کمیشن پھر بھی مطمئن نہیں ہوا، اثاثہ جات جمع کرنے کے 120 دن گزر جانے کے بعد الیکشن کمیشن کسی کو اثاثوں سے متعلق شکایات ہونے کی صورت میں نوٹس جاری نہیں کرسکتا ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس طرح کا کیس ایبٹ آباد میں بھی زیر سماعت ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وہ کیس مکمل طور پر اس سے مختلف ہے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس کو وہاں بھیج دیں یا پھر اس کیس کو یہاں منگوا لیں۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جو عدالت مناسب سمجھے، آپ سے درخواست ہے کہ اس کیس کو ختم کریں، اس کیس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے پاس 31 دسمبر 2024 کو اثاثوں کی رپورٹ جمع کرائی ہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح،رہے کہ 15 جولائی کو الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت میں نوٹس واپس لینے کی استدعا کو مسترد کر دیا تھا،عمر ایوب پر 24-2023ء کے گوشواروں اور ریٹرننگ افسر کو جمع کرائی گئی تفصیلات میں تضاد کا الزام ہے۔

  • 24 اور 26 نومبر کے 14 مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج ، گرفتار کرنیکا حکم

    24 اور 26 نومبر کے 14 مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج ، گرفتار کرنیکا حکم

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے 14 مقدمات میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کی ضمانت خارج کردی۔

    منگل کے روز اے ٹی سی راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران ملزم اور اس کا وکیل غیر حاضر تھے، فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزم عمر ایوب کی 14 مقدمات میں ضمانت خارج کرتے ہوئے عمر ایوب کو گرفتار کرکے پیش کرنے کی ہدایت جاری کردی-

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خلاف راولپنڈی اور اٹک میں 24 اور 26 نومبر 2024 کے پر تشدد احتجاج کے الزام پر مقدمات درج ہیں،پی ٹی آٗئی رہنما عمرایوب نے مذکورہ مقدمات میں اپنے وکیل ڈاکٹر بابر عوان کے ذریعے عبوری ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی تھی ، وہ 24 اور 26 نومبر کے 14 سے زائد مقدمات میں عبوری ضمانت پر تھے۔

    عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس واپس لینے کی استدعا مسترد

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپریل 2025 میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر کے احتجاج پر پی ٹی آئی کے 86 ورکرز کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پی ٹی آئی کے 86 ورکرز کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا جج نے وکلائے طرفین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 86 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی تھیں۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

  • عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس واپس لینے کی استدعا مسترد

    عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس واپس لینے کی استدعا مسترد

    الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی-

    کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی، سماعت میں عمر ایوب کے وکیل نے اسے خلاف قواعد قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے نوٹس واپس لینے کی استدعا کی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا۔

    عمر ایوب کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کروانا ہوتی ہیں قواعد کے مطابق غلط گوشوارے جمع ہونے کے 120 روز کے اندر الیکشن کمیشن رکن اسمبلی کے خلاف شکایت درج کر سکتا ہے، جب کہ الیکشن کمیشن نے رواں برس 29 اپریل کے بعد نوٹس بھیجا۔

    سانحہ سوات : رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    ممبر الیکشن کمیشن شاہ محمد نے درخواست گزار کے وکیل کو بتایا کہ کمیشن نے پہلا نوٹس مقررہ مدت کے اندر بھجوایا تھا اور الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا ہے،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    آئندہ ماہ ای وی پنک موٹر سائیکل مفت میں خواتین کو دی جائیں گی، شرجیل میمن

  • نااہلی ریفرنس: عمر ایوب کو وکیل مقرر کرنے کی مہلت

    نااہلی ریفرنس: عمر ایوب کو وکیل مقرر کرنے کی مہلت

    الیکشن کمیشن نے نااہلی ریفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو وکیل مقرر کرنے کی مہلت دیدی۔

    عمر ایوب کیخلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی ، سماعت کے موقع پر عمر ایوب روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ مجھے نااہلی ریفرنس کی کاپی مل گئی ہے میں نے ابھی وکیل بھی مقرر کرنا ہےبجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے ، وکیل مقرر کرنے کے لیے وقت دے دیں، جولائی کے مہینے میں سماعت رکھ لیں۔

    ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی نے کہا کہ اسپیکر ریفرنس پر 90 دن کا وقت ہوتا ہے،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کی استدعا منظور کر لی۔

    بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اجتماعی ذمہ داری ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب

    سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عمر ایوب نے کہا کہ اس ریفرنس سے متعلق قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کوئی مشاورت نہیں کی۔

    دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اپنے خلاف دائر ریفرنس اور اسپیکر کے فیصلے کی تفصیلات مانگ لیں۔

    عمر ایوب نے خط میں کہا ہے کہ ریفرنس کی قانونی و آئینی بنیاد، مصدقہ نقل اور کارروائی کا ریکارڈ فراہم کریں۔ الزام، نااہلی کے ریفرنس پر آئینی نکات،آرٹیکل 62، 63 کے تحت ریفرنس کی قانونی توجیہ فراہم کریں انہوں نے اسپیکر سے ریفرنس کی مکمل مصدقہ کاپی اور شواہد مہیا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ خط میں ریفرنس پر فیصلے کےدوران کی اندرونی کارروائی اور فائل نوٹنگز بھی مانگی گئی ہیں۔

    مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی: عید آتے ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا طوفان

    عمر ایوب نے کہا کہ نوٹسز اور وضاحت کا موقع فراہم کرنے کی تفصیل فراہم کی جائے۔ خط میں عمر ایوب کی طرف سے تیسرے فریق کی درخواستوں کی بنیاد پر ریفرنس پر وضاحت مانگی گئی ہے آرٹیکل 63(2) کے تحت اسپیکر کی صوابدیدی نظیریں بھی دی جائیں، قانو نی عمل، شفافیت اور منصفانہ کارروائی کےلیے تفصیلات فراہم کی جائیں، انہوں نے پارلیمانی وقار اور جمہوری اعتماد کی بنیاد پر ریکارڈ فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بابر نواز نے عمر ایوب کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

  • عمر ایوب کے خلاف اثاثے چھپانے کا ریفرنس 4 جون کو سماعت کے لیے مقرر

    عمر ایوب کے خلاف اثاثے چھپانے کا ریفرنس 4 جون کو سماعت کے لیے مقرر

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کے خلاف اثاثے چھپانے سے متعلق الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا، کیس کی باضابطہ سماعت 4 جون کو ہوگی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ریفرنس عمر ایوب کے مدمقابل امیدوار بابر نواز خان کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمر ایوب نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے اور انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔کمیشن نے ریفرنس کی ابتدائی جانچ کے بعد اسے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو 4 جون کو طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر ایوب پر اثاثے چھپانے کے علاوہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق بھی ایک علیحدہ کیس زیرِ سماعت ہے۔

    عدالتی پس منظر

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 18 اپریل کو الیکشن کمیشن کی انکوائری پر عائد حکم امتناع ختم کرتے ہوئے ای سی پی کو کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے عمر ایوب کی جانب سے دائر وہ درخواست مسترد کر دی تھی جس میں انکوائری روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔الیکشن کمیشن 4 جون کو ریفرنس پر باقاعدہ سماعت کرے گا، جس میں آئندہ کی قانونی پیش رفت متوقع ہے۔

    کراچی ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان اور خاندان گھر چھوڑ کر چلے گئے

    کراچی ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ نوجوان اور خاندان گھر چھوڑ کر چلے گئے

    عمران خان کا چوتھی بار بھی پولی گرافک ٹیسٹ سے انکار

  • نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9 مئی کو میانوالی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    عمر ایوب خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری کے باعث سماعت آگے بڑھا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایم این اے بلال اعجاز سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکن عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت میں عمر ایوب خان کی غیر حاضری کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

    اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    9 مئی کو میانوالی میں حساس قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مزید کارروائی اور پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات آج ہوئے

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست اختتام پذیر ہو گئی ،سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی،آئندہ اجلاس دو جنوری کو ہوگا۔فریقین آئندہ نشست میں اپنا موقف پیش کریں گے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ با ت چیت جمہوریت کا حسن، حکومت اور اپوزیشن کا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینا خوش آئند ہے۔ عوام کو منتخب نمائندوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔ملک کی موجودہ صورتحال ہم آہنگی کے فروغ کی متقاضی ہے،

    دوران اجلاس اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کی بات کرتی ہےدوسری طرف سے ٹوئٹ آ جاتا ہے،اسد قیصر نے کہا کہ ہم متفق ہیں اپنی کور کمیٹی میں اس ایشو پر تفصیلی بات کی ہے ، اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن نےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،کمیٹی کا اجلاس آئندہ 2جنوری کو ہوگا ،آئندہ اجلاس میں اپوزیشن مطالبات کی فہرست پیش کریگی

    مذاکراتی اجلاس میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش
    حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے اجلاس کی پہلی نشست کااعلامیہ جاری کر دیا گیا،حکومت اور اپوزیشن کی مذکراتی کمیٹیوں کا اعلامیہ سینیٹرعرفان صدیقی نے پڑھ کرسنایا.اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،راناثنااللہ ،نویدقمر،فاروق ستارشریک ہوئے.دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کو مثبت عمل قراردیا.اپوزیشن کمیٹی نے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا.آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر مطالبات پیش کرے گی.اجلاس میں دہشت گردی کی جنگ میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا.اپوزیشن کی جانب سے اسدقیصر،حامدرضااور علامہ ناصرعباس شریک ہوئے.دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نےا سپیکرایاز صادق سے اظہارتشکر کیا،مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہواہے،

    قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں مذاکرات ہوئے،سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،اپوزیشن کی جانب سے اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا علامہ ناصر عباس اجلاس میں شریک ہیں،

    اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا، اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،رانا ثناء اللہ،خالد مقبول صدیقی،اسحاق ڈار، فاروق ستار،عرفان صدیقی و دیگر شامل تھے،حکومتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بڑے دل اور کھلے دماغ کیساتھ اچھی توقعات لیکر مذاکرات کیلئے جارہے ہیں،

    علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں،صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کھلے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرے گی لیکن ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہمارے دو مطالبات ہیں ایک نو مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور دوسرا قیدیوں کی رہائی،اگر پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو بتائیں کیا ریاستی اداروں کی مرضی کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا؟

    آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ، نیت چیک کریں گے، عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے، نیت چیک کریں گے، پانی کا درجہ حرارت چیک کریں، پھر کچھ کہا جا سکتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی اچھی طرح صوبے کے معاملات سنبھال رہے ہیں،پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، نام نہاد یا فارم 47 جو بھی ہیں، مذاکرات ان سے ہی کرنے ہیں، فارم 47 حکومت کا رویہ دیکھ کر مذاکرات کا فیصلہ کریں گے، 5 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، اس دن مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسی دن حکومت نے مجھے گرفتار کیا تھا،

    ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں،عارف علوی
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 190ملین پاؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت ہوگی۔سرکاری گواہ تسلیم کرچکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ،سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میرے دُکھ درد بہت طویل ہیں، ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں، سیاست ہی ملک کو بچائے گی.

    اتوار کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان اور سینیٹرعرفان صدیقی شامل ہیں،حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے،کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین شامل ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، علی امین خان گنڈا پور اور صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • مذاکرات کیلئے تیار،بات نہ بنی تو سول نافرمانی تحریک ہو گی،عمر ایوب

    مذاکرات کیلئے تیار،بات نہ بنی تو سول نافرمانی تحریک ہو گی،عمر ایوب

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ پارٹی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے تیار ہے،

    عمر ایوب نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی مذاکراتی پالیسی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ قومی حکومت ملک کے مسائل کا حل پیش نہیں کر رہی، اور اس وقت ملک میں صرف فاشزم اور ڈنڈا ہے، جبکہ عدل و قانون کی حکمرانی لانا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔علی امین گنڈا پور، اسد قیصر،سلمان اکرم راجہ و دیگر کمیٹی میں شامل ہیں، مذاکرات کے لئے شرائط یہ ہیں کہ نہتے لوگوں کے خلاف مقدمے ختم کئے جائیں، نومئی ،24 نومبر کے سانحہ پر عدالتی کمیشن ہونا چاہئے، عمران خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے انہیں رہا کیا جائے، اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر ہم آزاد ہیں کہ پارٹی 13 دسمبر کو تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کر دے گی اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

    سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومتی جماعت جعلی کیسز کے ذریعے اپوزیشن کو مصروف رکھنا چاہتی ہے، تاکہ وہ اپنے حقیقی مسائل پر بات نہ کر سکیں۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت کے ایسے اقدامات سے صرف عوام میں مایوسی بڑھے گی اور ملک کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوں گے۔

    چند روز قبل، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو پھر سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جائے گی۔ علیمہ خان کے اس بیان سے پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی واضح ہوئی۔

    اس تمام صورتحال پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پچھلی تحریکوں کی طرح سول نافرمانی کی تحریک بھی بری طرح ناکام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایسے بیانات صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ہیں اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی پی ٹی آئی کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اب کبھی بھی دھرنا دینے کی پوزیشن میں نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنے یا سول نافرمانی کی تحریک کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔

    تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی پالیسی کو مزید واضح کیا گیا ہے، جس میں حکومت سے مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم، اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی تحریکوں کو ناکامی کا سامنا کرنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔

  • عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی.

    باغی ٹی وی کے مطابق عمر ایوب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ عمران خان نے ایک مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جس میں اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، حامد رضا، علی امین گنڈاپور اور میں ہوں، کمیٹی سب سے مذکرات کرے گی، پی ٹی آئی کا سب سے بڑا مطالبہ ساتھیوں کی رہائی ہے، مطالبات پورے نہ ہوئے تو سول نافرمانی کی طرف جائیں گے۔ 5 دسمبر کو عمران خان سے جیل میں طویل ملاقات ہوئی لیکن جیسے ہی اڈیالہ سے نکلا تو ضمانت کے باجود گرفتار کر لیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا حکم ہے 13 دسمبر کو پشاور میں دعا اور جرگہ کریں گے، تقریب میں تمام جماعتوں کو مدعو کریں گے، 15 دسمبر کو ہمارے انٹرنیشنل چیپٹر اپنے اپنے ممالک میں تقاریب کریں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ سول نافرمانی کے اثرات ملک اور بیرون ملک تک بھی جائیں گے، پی ٹی آئی مطالبات میں کارکان کی رہائی شامل ہے، 9 مئی اور 24 نومبر واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔پریس کانفرنس میں اسد قیصر نے کہا کہ ہم کسی صورت اپنے آئینی حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ آئین کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، گرفتار کارکنوں کو عدالتوں میں دہشتگردوں کی طرح پیش کیا گیا، ملک انسانی حقوق معطل ہیں ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ ہماری لائن صرف آئین و قانون ہے اسی کو مانتے ہیں، ہم نے بات چیت کیلیے مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے، قانون میں رہتے ہوئے اپنے مذاکرات آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ادھر، سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت عوام کو ڈرا سکتی ہے لیکن انہیں ہر انہیں سکتی، کارکنان کو ظلم کے ذریعے عمران خان سے دور نہیں کیا جا سکتا، وہ جب بھی کال دیں گے عوام دوبارہ جذبے سے نکلیں گے۔ جس کو عوام نے ووٹ نہیں دیا اسے ٹیکس کیوں دیں؟ سول نافرمانی عوام کا حکومت سے بے زاری کا اظہار ہوگا۔

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    شہباز نواز ملاقات،ملکی سلامتی اور ترقی پر اتفاق

  • عمر ایوب، راجہ بشارت عدالت کے حکم پر رہا

    عمر ایوب، راجہ بشارت عدالت کے حکم پر رہا

    انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پی ٹی آئی کے رہنما و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور راجہ بشارت کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ہے

    عدالت نے عمر ایوب اور راجہ بشارت کو رہا کرنے کا حکم دے دیا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کو رہا کردیا گیا ہے،اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے درخواستِ ضمانت پر سماعت کی ،گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنمائوں کو اڈیالہ جیل سے گرفتار کیا گیا تھا ۔دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت ہونے کے باوجود کیوں گرفتار کیا؟

    واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور راجہ بشارت سمیت پی ٹی آئی کے 5 رہنماؤں کو راولپنڈی پولیس نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کیا تھا عمر ایوب، راجہ بشارت، احمد ناصر چٹھہ پر تھانہ انجرا اٹک اور تھانہ حسن ابدال میں مقدمات درج ہیں،راجہ ماجد دانیال اور ملک عظیم کو تھانہ دھمیال کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پانچوں رہنماؤں کے خلاف 24 نومبر کے احتجاج پر مقدمات درج کیے گئے تھے،مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، کار سرکار میں مداخلت، پولیس پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

    ہمیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، ذمہ دار شہبازشریف ،محسن نقوی ہیں، عمر ایوب
    رہائی کے بعد عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں وکلا کا مشکور ہوں انہوں نے محنت کی، آج عدالت نے ضمانت منظور کی، غیر قانونی حراست میں ہمیں رکھا گیا،پولیس لائنز میں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، میرے پاس پشاور ہائیکورٹ کی ضمانت تھی، عدالت نے پولیس سے پوچھا تو انکے پاس کوئی جواب نہیں تھا، عدالت نے ضمانت منظور کر کے فوری رہائی کا حکم دیا، میں شہباز شریف، آئی جی پنجاب، محسن نقوی، ڈی پی او اٹک کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں کہ انہوں نے غیر قانونی کام کیا،