Baaghi TV

Tag: عمر یوسف

  • سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    سوال در سوال اور بال کی کھال، تحریر:عمر یوسف۔

    بچپن تو سب کا ہی اچھا گزرتا ہے اور جوانی کے بعد عموما لوگ اپنے بچپن کو خصوصی یاد کرتے ہوئے جلتے دل کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ماضی بھی سب کو ہی خوب بھاتا ہے اور یاد ماضی بھی اکسیر کا کام دیتے ہوئے ذہن انسانی کو تسکین بخشتی ہے ۔ ہم نے بھی بچپن سے ہی جن رسالوں اور کتابوں کو پڑھا ان میں بھی ماضی بڑا خوشگوار کرکے پیش کیا گیا ۔ گویا ہمیں شروع سے ہی یہ سکھایا گیا کہ گزرا وقت اچھا ہوتا ہے ۔ رہی سہی کسر بڑے بوڑھوں نے نکال دی جنہوں نے حال کی خوب خبر لی اور ماضی کی تعریفات میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔ عموما یہ لوگ یوں کہتے نظر آتے ہیں کہ "ہون تے زمانہ ٹھیک ای نئی ریا ساڈے ویلیاں وچ تے بہاراں سی”
    ابھی وقت اچھا نہیں رہا ہمارے وقتوں میں تو خوب بہاریں ہوتی تھیں ۔
    پھر ہم نے نفسیات پڑھی جس میں یہ بتایا گیا کہ یاد ماضی کی خوسنمائی دراصل انسان کے نفسیاتی واہمے ہیں اور وقت سارے ہی خوب صورت ہوتے ہیں ۔ انسان دراصل آرام پسند ہے اور اس کا ماضی اور بچپن بے فکری میں گزرتا ہے اسی نسبت سے جب حال کی تلخیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ خوشحال ماضی کو یاد کرکے روتا ہے ۔
    اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ہم اس قابل ہوگئے کہ سبھی وقتوں کو اچھا کہنے لگے اور ساتھ ساتھ ماضی کی یاد کو ایک فضول چیز سمجھنے لگے ۔

    زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ پھر نفسیات نے انکشاف کیا کہ ماضی کو یاد کرنا انسان کی ڈپریشن کو کم کرتا ہے ۔ ایک بار پھر نئے مخمصے اور عجیب صورت حال تھی ۔ اور پھر سائنس نے رہی سہی کسر نکال دی ۔ اور انسان کے تمام جذبات کو کیمیکل ری ایکشن کا نام دیا ۔ اگر کیمیکل ری ایکشن ہی ساری مصیبتوں کی جڑ ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ حقیقت کچھ نہیں ہے ۔ اور ان ری ایکشنز کو میڈیسن کے ذریعے سے بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ ادبی، نفسیاتی اور سائنسی انکشافات کے بعد صورت حال یہ ہے کہ ادب کی بنیاد پر ہم ماضی کو یاد کرتے ہیں تو خیال آتا ہے نفسیات کی رو سے ماضی کو یاد کرنا فضول بات ہے اور پھر نفسیات ہی نفسیات کا رد کرتی ہے کہ ماضی کو یاد کرلینا بھی اچھی بات ہے اور اگلے ہی لمحے ہمیں خیال آتا ہے کہ سائنسی رو سے تو ہمارے وجود اقدس میں کیمیکل ری ایکشن ہورہے ہیں جس کی بنیاد پر ہمیں اداسی محسوس ہورہی اور جذبات کا حقائق سے نہیں بلکہ جسم سے تعلق ہے ۔ ایک کے بعد ایک سوال اور خیال کے بعد خیال ہمیں مزید چکرانے والے ہی ہوتے ہیں کہ ہم ان سوالوں اور خیالوں کو چکر دے کر کوئی کتاب کھول کر نئے خیالات کی جستجو میں لگ جاتے ہیں ۔
    ماضی بھی اچھا ہے لیکن ماضی کی حسین یادوں کو سوچا نہیں جاسکتا ۔ حال بھی ڈستا ہے لیکن حال کے زہریلے پن سے بھاگا نہیں جاسکتا۔ ایک شعر کے مصداق حالت کچھ یوں ہے کہ ؛
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ہم
    نہ خدا ملا نہ وصال صنم

  • مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    مزاح کا اسلامی تصور — عمر یوسف

    انسان کو طبعی طور پر ایسی مشغولیت بھی درکار ہوتی ہے جس سے اس کو فرحت کا احساس ہو اور وہ ذہنی تھکن اور نفسانی بوجھل پن سے چھٹکارا حاصل کرسکے ۔ قدیم زمانے میں جب انسان ابھی تمدن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس وقت بھی انسان اپنے معاصرین کے ساتھ زیادہ وقت بات چیت اور گپ شپ میں گزارتا تھا ۔ آج کا انسان بھی گپ شپ کو کام پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسی لیے سائنس انسان کے اس رویے کی وضاحت اسی انداز میں کرتی ہے کہ گپ شپ اور طنز و مزاح پسندی کا رویہ انسان کے آبا و اجداد سے genetically منتقل ہوا ہے ۔ خیر بات دوسری طرف چلی گئی اور اصل بات بیچ میں رہ گئی ۔ یعنی طنز و مزاح کرنا انسان کی فطرت ہے ۔ لیکن اسلامی نکتہ نظر سے مزاح کی حدود و قیود ہیں ۔ اسلام مزاح کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ مزاح پر مبنی گفتگو فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن موجودہ مزاح کی طرح نہ تو اس میں جھوٹ شامل ہوتا نہ ہی مقابل کی تحقیر ہوتی تھی ۔

    نبی علیہ السلام نے جو مزاح فرمایا اس کی ایک مثال ذیل میں ہے ۔کہ آپ علیہ السلام اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے کہ کھجوروں کی گٹھلیاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی تمام گٹھلیاں حضرت علی رض کے سامنے رکھنا شروع کردیں ۔ جب گٹھلیوں کا ڈھیر حضرت علی کے سامنے لگ گیا تو آپ علیہ السلام نے ہنستے ہوئے ہوچھا علی ساری کھجوریں تم ہی کھاگئے ہو ؟

    یہ بات علی رض نے سنی تو فورا جواب دیا یا رسول اللہ میں تو صرف کھجوریں کھاتا رہا ہوں باقی تو گٹھلیوں سمیت ہی کھا گئے ۔ یہ بات سنی تو رسول اللہ ص کھلکھلا کر ہنسنے لگے ۔

    اس طرح کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں ۔ جس میں خوش طبعی پر مبنی مزاق بھی ہے اور دوسروں کی تحقیر بھی نہیں ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں جو مزاق کی صورتیں ہیں ان میں یا تو جھوٹ ہے یا فحاشی و عریانی پرمبنی باتیں ہیں اور یا دوسروں کی تحقیر کی جاتی ہے ۔

    اور نبی علیہ السلام نے تو یہ واضح فرمادیا کہ جس نے لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولا اس کے لیے ہلاکت ہے ۔

    اسی طرح دوسروں کی تحقیر کے حوالے سے فرمایا کہ اگر تمہارا یہ تحقیر پر مبنی کلمہ سمندر میں ڈال دیا جائے تو سمندر کا پانی کڑوا ہوجائے ۔

    بحثیت مسلمان سوشل میڈیا کے توسط سے آج کا انسان بہت سارا مواد دیکھتا اور شیئر کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان دیکھے کہ وہ جو کررہا ہے وہ اس کے شایان شان بھی ہے یا نہیں ۔

  • جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    جس میں نہ ہو انقلاب — عمر یوسف

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے لم یزل نے یہ اصول متعین کردیے ۔ جو بدلے گا نہیں ہلاکت اس کا مقدر بنے گی ۔ جو جینے کی جنگ نہیں لڑے گا وہ موت کے شکنجے میں آجائے گا ۔ جو حالات کو اپنے ڈھب پر نہیں لائے گا وہ حالات کی بھینٹ چڑھ جائے گا ۔ اسی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے اپنی آخری کتاب کے ذریعے قانون بنادیا ۔

    وان لیس للانسان الا ما سعی ۔

    انسان کے لیے تو وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ جد و جہد کرے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو پہاڑوں کا سینہ چیر دیتا ہے ۔ پہاڑوں میں راستوں کا انقلاب اس مقدر بنتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو پہاڑوں راستوں کی رکاوٹ بنے موت کا پیغام دیتا ہے ۔

    جب وہ جدو جہد کرتا ہے تو سمندر کے پانی کو قابو میں لے آتا ہے ۔ جو پانی موت کا ضامن ہے وہ زندگی کا محافظ بن جاتا ہے ۔ لیکن اگر زندگی میں یہ انقلاب کی تڑپ نہ ہو تو یہی سمندر ہلاکت کا پیغام لیے سب کچھ تہہ تیغ کردیتے ہیں ۔

    جب وہ انقلاب کی جستجو لیے کوشش کرتا ہے تو ہوائیں تسخیر ہونے کے لیے قدم چومتی ہیں اور انسان دنوں کا سفر گھنٹوں میں کرنے کا انقلاب بپا کرتا ہے لیکن اگر یہ انقلاب کی لگن نہ ہو تو یہی ہوائیں مغلوب ہونے کی بجائے غالب آجاتی ہیں ۔۔۔۔۔

    زمین کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کرہ ارض پر لاکھوں جاندار آج ناپید ہوچکے ہیں جو کبھی اس کرہ ارض کا حصہ تھے ۔ ان کے وجود کا فنا ہونا ان کا مقدر بن گیا ۔ انہوں نے بقاء کی جنگ نہ لڑی ، حالات کا مقابلہ نہ کیا ، مشکلات کا سامنا نہ کیا ۔

    آج اس کرہ ارض پر موجود مخلوقات وہی ہیں جو انقلاب کے لیے میدان میں آئیں تو کاسے پلٹ گئے ۔

    جو آگ انسان کو جلا کر راکھ کرتی تھی ۔ زندگی میں انقلاب کے باعث انسان نے اسی آگ کو قابو کیا اور ہزاروں ضروریات کو پورا کیا ۔
    جو حیوانات انسان کو کچل دیتے تھے وہ انسانی انقلاب کے باعث انسان کے خادم بن گئے ۔
    انقلاب نے زندگی اور جمود نے موت کے گھاٹ اتارا ۔

    قوموں کی تاریخ بتاتی ہے جب قومیں انقلاب کی سعی چھوڑ دیتی ہیں تو لقمہ اجل بن جاتی ہیں ۔

    غلامی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ محکومی سر کا تاج اور ذلت جھومر بن جاتی ہے ۔

    خدا بھی انہیں کا ساتھ دیتا ہے جو انقلاب کے لیے میدان میں آتے ہیں ۔

    جو حالات سے لڑ نہیں سکتے خدا سے لا تعلق ہوجاتے ہیں ۔

    خدا کے اس ابدی قانون کو دستور حیات قرآن واضح کرتا ہے ۔

    ان اللہ لایغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (الرعد : 11)
    اللہ تب تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ قوم خود تبدیلی اور انقلاب کے لیے کوشاں نہیں ہوتی ۔

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    بدلی نہ ہو خیال جسے اپنی حالت بدلنے کا ۔۔۔۔۔۔۔
    جب انقلاب کی تڑپ لیے 313 میدان میں اترے تو ایک ہزار پر بھاری پڑ گئے ۔
    فتح کی صورت انقلاب آیا اور غزوہ بدر تاریخ میں امر ہوگیا ۔
    جب حالات کا مقابلہ کرنے خندق کا میدا سجا تو چشم زدن میں میدان کے گرد خندق کھود لی جاتی ہے اور دشمن کو ناکون چنے چبوائے جاتے ہیں ۔
    جب انقلاب کا علم لیے طارق بن زیاد اندلس اترتے ہیں تو بیڑے جلا دیتے ہیں ۔
    پھر حاکمیت کی صورت انقلاب آتا ہے ۔
    جب مظلوم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم سندھ میں قدم رنجہ فرما ہوتے ہیں تو سندھ باب الاسلام بن جاتا ہے ۔

    انسانی تاریخ ہو یا قوموں کی تاریخ وقت نے یہ ثابت کردیا ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی
    روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب!

    مسلمانوں کی تاریخ میں سانحہ بغداد ہو یا سقوط سلطنت عثمانیہ ، مغلوں کا زوال ہو یا سقوط ڈھاکہ ، تاریخ کی آواز یہی صدا بلند کررہی ہے ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    تمام علوم و فنون میں یونانی فلسفے پر عبور حاصل کرنے والے اور جدید علوم وضع کرنے والے آج اگر جہالت و پسماندگی میں گھرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    دنیا کے سارے براعظموں پر حکومت کرنے والے آج اگر تخت و تاراج ہیں تو اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    وسائل کی دولت سے مالامال وطن عزیز پاکستان اگر ملکوں ملکوں کشکول لیے پھرے تو اس کی وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    ساری دنیا میں اکثریتی مذہب ہونے کے باجود اگر مسلم امہ فلسطین ، برما ، اور کشمیر کے حوالے سے بے بس ہو تو اس کہ وجہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ۔

    جس میں نہ ہو انقلاب ،موت ہے وہ زندگی

    انقلاب دستور حیات ہے ، انقلاب قانون فطرت ہے ، انقلاب خدائی سنت ہے ، انقلاب بہادروں کا شیوہ ہے ، انقلاب زندہ لوگوں کا خاصہ ہے ۔ انقلاب زندگی کا ترانہ ہے ۔

    اگر انقلاب نہیں تو حیات جیل خانہ ہے ، اگر انقلاب نہیں تو ذلت ، اگر انقلاب نہیں غلامی ہے ،اگر انقلاب نہیں خواری ہے، اگر انقلاب نہیں تو خدا کی طرف سے تعرض و اعراض ہے ۔

  • بہارستان — عمر یوسف

    بہارستان — عمر یوسف

    خاندان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور لوگوں کے بغیر اس کا کامیاب زندگی بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اگر وہ بہت کچھ حاصل کر بھی لے تو روحانی اطمینان اس سے کوسوں دور رہتا ہے ۔ فیملی کے اندر انسان احساس تحفظ سے لبریز زندگی گزارتا ہے ۔ بچے اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں انہیں عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے جو ان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔

    لیکن جو بچہ ایسی فیملی میں زندگی بسر کرتا ہے جہاں ماں باپ ، دادا دادی ، چچاوں کا پیار نصیب ہو وہاں وہ شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ زندگی میں انسان کو بعض دفعہ حقیقی مسائل سے سامنا پڑتا ہے کبھی وہ خیالی مسائل ہی ذہن میں جنم دے لیتا ہے ۔

    دونوں صورتوں میں ایک خاندان کے اندر زندگی بسر کرنے والا شدید ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے ۔ اگر اس کو حقیقی مسائل ہوں تو خاندان کے افراد اس کو سہارا دیتے ہیں لیکن اگر نفسانی واہمے پریشان کریں تو وہ خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ میں خاندان میں زندگی بسر کرتا ہوں میرا سہارا بننے والے موجود ہیں ۔

    یہی وجہ ہے کہ اگر حقیقی خوشیوں بھری زندگی جینا ہے تو خاندان ازحد ضروری ہے وگرنہ تو انسان زندگی کو مجبورا گزار کر ہی عدم کا راہی بن جاتا ہے ۔

    خاندان کے بغیر زندگی کو اجاڑ زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ خاندان کے ساتھ زندگی کو بہارستان کے ساتھ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

  • مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    مبارکباد تو بنتی ہے!!! — عمر یوسف

    حدیث مبارکہ میں دو ایسے اشخاص کے لیے مبارکباد پیش کی گئی ہے جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوئے اور جنہیں قناعت کی صفت سے متصف ہونا نصیب ہوا ۔ اگر بنظر دقیق ان دونوں باتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دونوں چیزیں ہی اپنے اندر ایسی معنویت اور افادیت رکھتی ہیں ہیں کہ انسان بے ساختہ ان باتوں پر مبارکباد کا قائل ہوجاتا ہے ۔

    اسلام پانچ چیزوں کا نام ہے ۔ شہادتین ان میں اول نمبر پر ہے ۔ عقیدہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو در بدر کا فقیر ہونے سے بچاتا ہے اور غیرت مند زندگی گزارنے کی راہ دیتا ہے ۔ انسان ہمیشہ کسی سہارے کو محسوس کرکے خود کی ڈھارس بندھاتا ہے اور ہمیشہ احساس تحفظ سے لبریز رہتا ہے ۔ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا بلاشبہ ایسی نعمت ہے جس جیسی نعمت دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
    انسانی زندگی کا ایسا ضابطہ حیات جو انسان کو دنیوی و اخروی طور پر کامیابی کی ضمانت دے یقینا وہ آپ علیہ السلام کی بدولت ہی میسر آسکتا ہے ۔

    اسلام میں دوسرے نمبر پر فرضیت نماز ہے جو مختلف اوقات میں انسانوں پر پانچ مرتبہ فرض ہے ۔ نمازوں کے اوقات ایک طرح سے انسانوں کے لیے بریک ٹائم ہیں دن بھر کام کے دوران انسان کچھ وقت کے لیے دنیا سے لاتعلق ہوکر بس یکسوئی سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے ذہنی و قلبی اطمینان سے مستفیض ہوتا ہے ۔ مزید برآں انسان نماز کی ادائیگی سے ایک طرح کی ورزش بھی کرلیتا ہے ۔

    گویا جہاں خدا راضی ہوتا ہے وہیں پر دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوگئے ہیں ۔ تیسرے نمبر پر روزہ ہے جس سے انسان کو جسمانی و روحانی برکات کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔ سارا سال کام کرنے والے معدے کو آرام ملتا ہے ۔ اور جدید تحقیق کے مطابق کینسر سمیت متعدد بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے ۔ غریبوں کی بھوک اور تنگیوں کا بھی احساس ہوتا ہے جس سے انسان کا دل نرم ہوکر بندوں اور بندوں کے خدا دونوں کے لیے نرم ہوجاتا ہے ۔

    چوتھے نمبر پر زکوہ ہے جس سے معاشرے میں موجود طبقاتی عدم مساوات کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ دولت ایک جگہ اکٹھی ہونے کی بجائے گردش میں آتی ہے اور غریب طبقہ بھی انسانی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر استحکام کا حصول ممکن ہوتا ہے ۔

    پانچویں نمبر پر حج ہے جس میں سارے مسلمان بقدر استطاعت سال بعد بیت اللہ میں جمع ہوتے ہیں اپنی اجتماعیت پر ناز کرتے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک مضبوط رشتہ اخوت اسلام کی نسبت سے قائم ہوجاتا ہے ۔ جہاں ان کو قوت ایمانی و رشتہ انسانی میسر ہوتا ہے وہیں پر سیر و سیاحت کا بھی موقع مل جاتا ہے ۔

    اسی طرح قناعت پر مبارکباد دی گئی ہے ۔ اور قناعت بھی اپنے اندر لا محدود معنویت رکھتی ہے اور کثیر فوائد سے لبریز ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دل اور نفس کی تمام بیماریوں کا علاج قناعت میں ہے ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا کی دی گئی نعمتوں اور عطاوں پر راضی ہوجائے ۔ اس کے بعد خواہشات ، لالچ ، حرص ، حسد ، بغض اور دیگر نفسانی آلائشوں سے انسان محفوظ ہوجاتا ہے ۔

    یوں حدیث کے پہلے اور دوسرے حصے کا جائزہ لینے سے انسان عش عش کر اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ واقعی جن کو یہ دونوں نعمتیں میسر ہیں ان کے لیے مبارکباد تو بنتی ہے ۔

  • کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر ماہرین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن مذہبی علماء اس بات پر مصر ہیں کہ زیادہ بچوں کی پیدائش فضیلت کا سبب ہے جس کے بارے متعدد احادیث بھی مروی ہیں ۔ یہاں پر ایک فقہی قاعدے کا انظباط ضروری ہے کہ بعض چیزیں علت و معلول کے تعلق سے لاگو ہوتی ہیں ۔

    چناچہ عہد نبوی میں مسلمانوں کی عددی قوت کی غرض سے یہ احکام لاگو ہوئے لیکن موجودہ دور میں آبادی بجائے فائدہ کے ایک درد سر بنی ہوئی چانچہ جنگ یا عددی قوت کی علت نہیں رہی تو زیادہ اولاد کی صورت معلول بھی نہیں رہے گا ۔ اس صورت حال کو آپ مندرجہ ذیل تحریر سے بھی سمجھ سکتے ہیں جو کہ حالیہ طور پر روسی حالات کے بارے لکھی گئی ہے دوسری جنگ عظیم میں بہت سارے روسی سپاہیوں کی ہلاکت کی وجہ سے روس نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماوں کو انعامات سے نوازا بعد ازاں اس سلسلے کو روک دیا گیا تاہم حالیہ روسی جنگ کے تناظر یہ اعلان دوبارہ گیا ۔

    عہد نبوی ص میں کثرت اولاد کا حکم بھی کچھ اسی تناظر میں تھا لیکن جب حالت امن ہو ضرورت نہ ہو ۔ اور کثرت آبادی بذات خود مسئلہ بن جائے تب اولاد کی کثرت پر اسلامی حوالے سے اصرار کرنا محل نظر ہے ۔ تاہم اگر معاشی حالات مستحکم ہوں تو حالات کی نوعیت بدل جائے گی ۔ ذیل میں روس سے متعلقہ رپورٹ ملاحظہ ہو ۔

    روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔

    دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

     روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو  دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے  بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    اللہ ہی مالک ہے!!! — عمر یوسف

    سیلاب کے لگائے گئے زخم ابھی تک نہیں بھرے ۔ لیکن وطن عزیز کے درمند مرہم خوب لگا رہے ہیں ۔ کچھ احباب کی جانب سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کافی گھروں کی تقسیم مکمل ہوچکی ہے لیکن کام ابھی بھی جاری ہے ۔ خاکسار کے چند سوال ہیں جو صرف درمندوں کو ہی چبھے گے اور فکر پیدا کریں گے ۔

    یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے یہی اثرات اگر اگلے سالوں میں سیلاب کی صورت رونما ہوتے ہیں تو کیا یہ گھر محفوظ رہیں گے ؟

    اگر نہیں تو یہ تخریب و تعمیر کا سلسلہ آخر کب تلک ہے ؟

    ماہرین کی جانب سے ریڈ زون میں تعمیر کیے گئے گھروں کی قانونی و شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟

    اگر ماہرین کسی علاقے کو خطرناک کہہ کر تعمیری کام سے روک رہے ہیں تو کیا وہاں پر تعمیر کرنا سمجھداری ہے ؟

    لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ مجھ سے بھی counter سوال پوچھے جاسکتے ہیں کہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

    میں کہوں گا کہ حکومت وقت ڈیم بنائے اور تخریبی پانی کو تعمیری پانی میں بدلے ۔۔۔۔

    آپ مجھ پر ہنسے گے کہ حکومت ؟؟؟؟۔

    یقینا اس نکتے پر میں بھی لاجواب ہوجاوں گا کہ وطن عزیز کو آج تلک جو بھی حکومت میسر آئی وہ تو بانجھ ہی رہی اور ہے ۔۔۔۔ کتنے ہی ماہرین ہیں جو ایسی تجاویز دے رہے ہیں جن سے ان آفات کی تباہیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن مجال ہے کہ کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو ۔

    بیرون ممالک سے آئی ہوئی امداد کا کچھ پتہ نہیں ۔ حاکم وقت ان کو ظاہر کرکے معاملات واضح کیوں نہیں کرتا ۔؟

    کیا مخمصہ ہے ۔۔۔ کیا بے بسی ہے ۔۔۔ وطن عزیز کو خدا اپنی رحمت کے حصار میں لے ۔۔۔ کیونکہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے ۔

  • انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    بادشاہ وقت کو بھیانک خواب نے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایسے برے خواب نے بادشاہ کے دل کا چین وسکون برباد کردیا ۔ وقت کے اعلی معبرین تعبیر بتانے والے بلائے گئے ۔

    بادشاہ وقت نے بتایا کہ رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے سارے دانت ٹوٹ رہے ہیں اور پھر سارے ہی جھڑ گئے ۔

    معبرین سوچ میں پڑگئے حساب کتاب لگائے اور پھر تعبیر بادشاہ کے سامنے تھی ۔

    بتایا گیا ۔۔۔۔ حضور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے سارے بیٹے فوت ہوجائیں گے ۔

    بادشاہ کو اس تعبیر نے اتنا پریشان کیا کہ مارے بوکھلاہٹ کے حقائق سمجھ کی بجائے معبرین کو پھانسی دیکر غصے کی آگ بجھائی ۔

    جو معبر آتا ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر بتاتا ۔

    بادشاہ پھانسی دیے جاتا ۔

    پھر ایک معبر کو بلایا گیا وہ ساری صورت حال سن چکا تھا ۔

    پھر جان کی خلاصی پانے کا سوچنے لگا ۔

    جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو تعبیر یوں بیان کی ۔

    کہ حضور آپ کی خواب بہت ہی خوبصورت ہے اور عمدہ حالات پیشین گوئی کرتی ہے ۔

    حضور اللہ نے آپ کو سارے خاندان میں لمبی عمر دینی ہیں۔ لوگ بہت لمبے عرصے آپ کے زیر سایہ محکوم رہیں گے ۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی لمبی عمر کی وجہ سے بہت عرصہ تک قائم رہے گی ۔

    فرسٹریشن کا مارا بادشاہ یہ سن کر انتہائی مسرور ہوا ۔

    پہلی بھی ایک حقیقت تھی یہ بھی حقیقت ہے ۔ فرق دونوں میں نہ تھا بتانے کے انداز نے پریشان کیا اور بتانے کے ہی انداز نے انتہائی مسرور کر دیا ۔

    انداز بدلنے والے معبر کو درہم و دینا اور اشرفیوں سے مالا مال کر کے بھیج دیا گیا ۔

    آپ بھی دیکھیے کو نسا انداز آپ کو نقصان دے رہا ہے ۔

    پھر انداز بدل کر نقصان کو نفع میں تبدیل کردو ۔

    بہترین انداز کا پتہ چلانا ہو تو تمہارے سامنے ایک اسوہ حسنہ ہے وہ اسوہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس اسوے میں سارے نفع مند انداز مل جائیں گے ۔

  • تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنے بیمار بلے(بلی کا مذکر) کی تصویر لگاتا ہے اور اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹا سا تھا تب سے میرے پاس ہے اور میں خود اس کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اب یہ بیمار ہے اور اس کی بیماری نے مجھے غمزدہ کردیا ہے ۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لے گیا چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے انجیکشن اور دوائیاں دیں ۔ جس کے بعد اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے ۔ سب دوست دعا کریں کہ یہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

    اس منظر کے بعد اگلا منظر کچھ یوں ہے کہ لوگ اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جانوروں کا اتنا خیال رکھتا ہے تو انسانوں کا کتنا رکھتا ہوگا ۔ اور اس جذبہ شفقت پر تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ بلکل اس کے برعکس جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا خیال کتے کا رکھتے ہو کبھی اپنے ماں باپ کا کبھی رکھا ہے ؟

    انسان کو اس دنیا میں رنگ برنگے لوگ ملیں گے جن کے نظریات و افکار بلکل جدا ہونگے ۔ اور کوئی اپنی خاص فکر کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے ۔

    اس دنیا میں رہنے کا راز یہ ہے کہ انسان اس اختلاف کو ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رہنا شروع کردے ۔

    انسان کو اگر کسی کا نکتہ نظر اچھا نہیں لگتا تو وہ اسے اپنے مطابق کرنے کی بجائے اس سے رواداری کرنا شروع کردے ۔

    اگر کوئی اس کے نکتہ نظر کو پسند نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف سے نفرت بھی نہ کرے اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند رہے ۔

    اس کے علاوہ تیسری راہ سراسر فساد کی راہ ہے جس پر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

    یہی اصول و ضوابط مذہبی ، سیاسی سماجی فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اکسیر ہیں ۔