Baaghi TV

Tag: عمر یوسف

  • We are traped badly — عمر یوسف

    We are traped badly — عمر یوسف

    انسان کو خوشی ملتی یے تو دماغ سے ڈوپامائن نامی ہارمون ریلیز ہوتا ہے ۔ لذت کا یہ احساس انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے تاکہ مزید لذت محسوس ہو ۔ یا اس جیسا کام بار بار کیا جائے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لینا چاہیے ۔ پارک میں جانے کے لیے بچے جوشیلے ہوتے ہیں ۔ واپسی پر وہی بچے انتہائی سست دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈوپامائن اپنے پیک پر جانے کے بعد جب واپس ہوتا ہے تو انسان جتنا جوشیلا ہوتا ہے پھر اتنا ہی شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا نفس تقاضا کرتا یے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے لیکن کام گراں و ثقیل ہونے کی وجہ سے نئی ہوپاتا ۔

    اب جب یہی خصوصیات رکھنے والا انسان موبائل پکڑتا ہے تو رنگا رنگ دنیا دیکھتا ہے ۔ کہیں ایڈوانچر کہیں کامیڈی کہیں ٹریجڈی کہیں ایموشنل ڈرامہ کہیں میسٹری کہیں رومانس کہیں تھرلر کانٹینٹ اور کہیں سیاحت پر مبنی مواد ہوتا ہے ۔

    ایک کے بعد ایک انسان من کی خواہش پورا کرنے کے لیے لگا رہتا ہے ۔ ڈوپامائن ریلیز ہوتا جارہا ہے ۔

    آہستہ آہستہ نفس بڑے سے بڑے عمدہ و تھرلر کی ڈیمانڈ کررہا ہے ۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب سب کچھ بورنگ محسوس ہونے لگتا ہے ۔

    ڈوپامائن پیک پر ہونے کے بعد واپس ہورہا ہے اور انسان کو جوشیلے پن سے دگنی سستی و اکتاہٹ مل رہی ہے ۔

    یہ اکتاہٹ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی انسان کو اپنی ذمہ داریاں زہر محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ پڑھنا ، کام کرنا اور ذمہ داری پوری کرنا اسے پہاڑ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اور پھر وہ کوئی بھی بامعنی کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔

    موبائل میں اگرچہ مفید و با معنی ایکٹیویٹیز بھی ہوتی ہیں لیکن نفس کو اس مفاد سے کوئی غرض نہیں اسے وحشیانہ پن اور لہو و لعب درکار ہے ۔ انسان اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے اب ان فضول سرگرمیوں سے جان چھڑا کر بامعنی کام کرنا ہے لیکن اگلے دن گدھا وہیں پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کل تھا ۔

    سوشل میڈیا و موبائل کا ناسور انسان کے لیے اس قدر مصیبت بن چکا ہے کہ اس سے جان چھڑانا لگ بھگ ناممکن ہوگیا ہے ۔ اس ساری سائیکلنگ کو سمجھنے کے بعد نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آج کا انسان بری طرح پھنس چکا ہے ۔

  • مقصدیت — عمر یوسف

    مقصدیت — عمر یوسف

    لائبریری میں ادھار کتاب لیتے ہوئے ایک دوست کو دوسرے نے کہا کہ چھوڑو یار ہم یہ کتاب خرید ہی لیتے ہیں ۔

    پہلے دوست نے جواب دیا کہ اگرچہ میں خریدنے کی قوت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی نہیں خریدوں گا ۔

    لائبریری سے ادھار لی ہوئی کتاب میرے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ کتاب میری ملکیت نہیں اور یہ میرے پاس محدود وقت کے لیے ہے ۔ یہ احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں کتاب سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھا لوں ۔ جبکہ کتاب کی ملکیت کا احساس اس سے فائدہ اٹھانے کو ملتوی کرتا رہتا ہے یہ سوچ کر کہ چیز تو اپنی ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور یوں انسان فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا یے ۔

    یہی صورت حال وسیع تناظر میں انسان کی زندگانی پر منطبق ہوتی ہے ۔

    جب انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی میری نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی محدود ہے تو وہ اس سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھاتا یے ۔

    لیکن لاشعوری طور پر لوگوں کی اکثریت اس احساس میں مبتلاء ہوتی ہے کہ زندگی میری ملکیت ہے بعد میں عمل کرلیں گے ۔

    لیکن وہ اسی غفلت میں مبتلاء ہوتا ہے کہ اچانک موت کا پنجہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کے پاس خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

    عقیدہ آخرت نہ صرف انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے بلکہ وہ اس کی آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی بہتر اور خوشحال کردیتا ہے ۔

  • آر یا پار—عمر یوسف

    آر یا پار—عمر یوسف

    سیاست میں استحکام نہ آنے کا دکھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے قیام کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن سیاسی استحکام میں ترقی کی بجائے تنزلی کا رجحان تیز سے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز دیگر بہت سے ممالک کی نسبت وسائل کی بہتات کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جس کا یہ مستحق تھا جبکہ دیگر کم وسائل کے حامل ممالک آج کسی نہ کسی مقام پر کھڑے ہیں ۔

    یہاں بہت سے دانشور متعدد وجویات کی تفصیلی گفتگو کرسکتے ہیں لیکن یہ گفتگو ظاہری نوعیت کی ہوگی ۔ جبکہ ان ظواہر کے پیچھے بھی اسباب کار فرما ہیں جو ان ظواہر کے وقوع کا سبب بنے ہیں ۔

    ان خفیہ اور پوشیدہ اسباب کو ایک منطقی اور فلسفی سوچ و فکر کا حامل شخص مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر ہی پہچان سکتا ہے ۔ کہ وہ اسباب خدائی اصولوں پر مبنی ہیں ۔

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے بزرگ و برتر نے اس چیز کا فیصلہ فرما دیا کہ دو گروہ ہونگے جن میں سے ایک کو خدائی اور دوسرے کو غیر خدائی گروہ سے منقسم کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کے بارے اصول و ضوابط طے کردیے گئے ہیں کہ کامیابی و کامرانی یا حصول سہولت و آسائش کا معیار کیا ہوگا ۔

    خدا نے غیر خدائی گروہ کو دنیوی زیب و زیبائش اور آسانیوں سے نواز کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ اپنی سرکشی میں بڑھتے رہیں اور مہلت کا وقت گزارتے رہیں لیکن اگر اسی حالت میں روح قفس عنصری کے سپرد کرتے ہیں تو ان کا انجام بھیانک و خوفناک ہوگا ۔

    اس کے برعکس خدائی گروہ کو خدا کی فوج میں مجبور کرکے شامل نہیں کیا جاتا ۔ جو شامل ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن اس گروہ میں شامل ہونے کے بعد اس اصول و ضوابط کا کاربند ہونا پڑے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نئی نکلتا اور وائے ناکامی کی صدائیں لگاتا انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔

    یہاں ایک ہی صورت کامیابی ہے اور وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے میں ہے ۔

    اس حقیقت کو تاریخ کے حادثات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔

    وطن عزیز کو بھی اس معیار پر حاصل کیا گیا کہ یہ ایک خدائی مملکت ہوگی جس میں نظام حیات خدائی اصولوں پر مبنی ہوگا اور نظام سیاست شرعی اصولوں کے کاربند ہوگا ۔

    خدائی گروہ میں شمولیت کے دعوی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدائی اصول اپنائے جائیں لیکن اس کے برعکس نظام حیات و سیاست کی بنیاد غیر اسلامی قوانین پر استوار ہوئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

    انسان بحیثیت مجموعی و انفرادی یہ کرسکتا ہے کہ یا تو وہ کامیابیوں کے حصول کے لیے خدائی اصولوں کا کاربند ہوکر آر ہوجائے یا پھر ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے پار ہوجائے اور آخرت کو برباد کرلے ۔

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • بات سے بات — عمر یوسف

    بات سے بات — عمر یوسف

    میرے ایک دوست نے کہا کہ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے متحدہ ہندوستان کو آفر کی کہ تمہارا نگران میں ہی رہتا ہوں اندرونی معاملات میں تم آزاد ہو جیسے چاہو انجام دو ۔

    اگر متحدہ ہندوستان یہ آفر قبول کرلیتا تو آج ہم دیگر اقوام کی طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے اور دولت کی مساوی تقسیم ہوتی ۔

    کیونکہ آج بھی کچھ ممالک برطانیہ کے ماتحت ہیں لیکن ان کی معاشی حالت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ بڑے احسن انداز سے ان ممالک کے وسائل کی کمی کے باوجود معاملات انجام دے رہا ہے ۔

    شاید یہ سوچ بھی ذہن میں آئے کہ نگرانی کے بدلے وہ ہم سے مال و زر بھی لیتا ۔

    تو اس شبہ کا ازالہ یوں ہوگا کہ اگر وہ کچھ لے بھی لیتا تو بدلے میں نظام تو بہتر رکھتا ۔ جب کہ جتنا اس نے لینا تھا اس سے سو گنا زیادہ ہمارے کرپٹ سیاستدان ہم سے لے چکے ہیں ۔

    معاشی حالات کی بات کی جائے تو یہ بات دل کو لگتی ہے ۔

    دوسری طرف مذہب پسند علماء و عقلاء کا یہ خیال ہے کہ ایسا اگر ہوجاتا تو اسلام کو پنپنے کا موقع نہ ملتا یعنی اسلامی غلبہ و قوت انگریز کی ماتحتی میں ممکن نہ ہوتے اور اسلام مغلوب ہی رہتا ۔

    مذہبی علماء کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ انگریز سامراج کی تاریخ تو اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہی مشتمل ہے ۔

    لیکن یہ نکتہ نظر بھی قابل تردید نہیں کہ موجودہ مغربی افکار سیکولر سوچ پر مبنی ہیں اور ہر ایک کو اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینے پر زور دیتے ہیں لہذا آج کا دور میں ایسا نہ ہوتا ۔

    دونوں طرح کے موقف سامنے آنے کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کسی بھی چیز کے بارے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ مخصوص حالات کے زیر تاثر دیتا ہے ۔ مثلا معاشی حالات ٹھیک نہیں تو اس صورت حال میں ایسے نظام کو سپورٹ کیا جائے گا جس میں معیشت کے استحکام کی یقینی کیفیت سامنے آرہی ہو لیکن لاشعوری طور پر حالات کے دیگر کئی پہلو تلف ہوجائیں گے ۔

    اب علماء بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں وہ اس طرح کہ افراد تو افراد اقوام بھی تعصب کے جراثیموں سے پاک نہیں ہوسکتی ۔ وقتی مصلحت کی خاطر شاید کہ جاذب قلب پالیسیاں بنائی جاتی ہوں لیکن اگر حالات غیر موافق ہوجائیں تو یہ ساری پالیسیاں ڈھیر ہوجائیں گی ۔

    لہذا پاکستان کو نعمت گردانتے ہوئے شکر گزاری اس انداز سے کی جائے کہ ملک تمام پہلووں سے ترقی کی جانب گامزن ہو ۔

    اس کے برعکس ماضی کی دلفریب مگر بوگس باتوں کو یاد کرنا شکوہ و شکایت کے سوا کچھ نہیں ۔

  • سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    سوراخ والا برتن!!! — عمر یوسف

    ہمارے معزز وزیر اعظم بلوچستان کا دورہ کرتے ہیں اور آفت زدہ لوگوں کے دکھ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ فرط جذبات میں ان کے ہر فوت شدہ کے بدلے دس لاکھ دینے کا اعلان کردیتے ہیں ۔

    بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور دکھیاروں ، غم کے ماروں ، آفت زدہ اور مصیبت زدہ لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہارا ہوگا ۔

    فائدے کی بات کریں تو راقم الحروف کو بھی فوائد کا انکار نہیں ۔

    لیکن بنظر دقیق دیکھیں تو یہ فیصلہ ایک صاحب عقل کے نزدیک ناقص اور ادھورا ہے ۔

    سیلاب زدگان جن علاقوں میں رہائش پذیر تھے وہ علاقے ریڈ زون کہلاتے ہیں ۔

    اور امراء کی جانب سے بارہا ان لوگوں کو سیلاب سے پہلے ہی وارننگ کے طور پر علاقے خالی کرنے کا کہا گیا ۔

    لیکن عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ۔

    یہاں پر یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ سیلاب زدگان کو قصور وار بالکل نہیں ٹھہرایا جارہا کیونکہ غربت کے مارے لوگوں کا اتنی جلدی نقل مکانی کے اسباب پیدا کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔

    ہماری وفاقی حکومت اگر واقعی ان دکھیارے لوگوں کا سہارا بننا چاہتی ہے تو چاہیے کہ پہلے تو ڈیموں کی کمی پوری کی جائے تاکہ نہ صرف سیلاب زدگان کو آئندہ پھر سے ان مشکل حالات سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ وطن عزیز کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں ۔

    اور دوسرا یہ کہ دریائی علاقے جہاں ہر بارشی سلسلے پر تحفظات حاصل ہیں اس کے متبادل جگہ ان سیلاب زدگان کو دی جائے تاکہ ہر سال یہ تباہیوں کا سلسلہ ختم ہو ۔

    اب جو امداد دی جارہی ہے اس سے یہ ہوگا کہ پانی کا بہاو تھم جانے کے بعد یہ لوگ اسی جگہ پر تعمیرات شروع کردیں گے ۔ نہ ڈیم بنائے جائیں گے نہ ریڈ زون ایریاز خالی کروائے جائیں گے اگلے سال مون سون کی بارشیں ہونگی دریاوں کا پانی بڑھ جائے گا پھر سیلاب آئے گا تباہی ہوگی موتیں ہونگیں امداد کے اعلان ہونگے ۔

    گویا یہ ایسا برتن ہے جس کے نیچے سوراخ ہے جتنا مرضی اس میں اناج ڈالا جائے یہ پھر خالی ہی رہے گا ۔

  • ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    میری بیٹی اب باتیں کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی مراحل میں وہ کئی الفاظ ایسے مبہم انداز میں بولتی ہے کہ بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میری اہلیہ بہر حال سمجھ جاتی ہیں اور مجھے بتا دیتی ہے ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو دیگر احباب کو سمجھ نہیں آتے لیکن مجھے آجاتے ہیں اور میں ان کو وضاحت کردیتا ہوں ۔

    چونکہ اہلیہ محترمہ کا سارا وقت بیٹی کے ساتھ گزرتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ لیتی ہیں ۔ میرا وقت گزارنے کا تناسب کم ہے تو مجھے اس کی کم باتیں سمجھ آتی ہیں ۔ اور جو ایسے ہیں کہ بالکل ہی تھوڑا وقت گزارتے ہیں ان کو بالکل تھوڑی باتیں سمجھ آتی ہیں ۔
    اس سادہ سی بات میں زندگی کا سادہ مگر اہم اصول چھپا ہے ۔

    انسان شعبہ ہائے زندگی کے جس شعبہ پر اپنی انرجی اور وقت زیادہ صرف کرتا ہے وہ اس میں مہارت تامہ حاصل کرلیتا ہے ۔

    انسان کسی ماہر کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے اس حقیقت کو جان لے کہ وہ ماہر زندگی کا ایک حصہ صرف کرکے یہ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ کوئی بھی یہ مہارت حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ زندگی کا ایک خاطر خواہ حصہ اس حصول پر لگائے ۔

    اگر کوئی ایسا ہے کہ وقت لگانے کے باوجود کم سمجھ رہا ہے تو اس کا مطلب وہ وقت کا کم تناسب اس شعبہ میں لگارہا ہے ۔ اور جسے بالکل ہی کسی شعبہ کے متعلق سمجھ بوجھ نہیں تو اس کا مطلب یہ ایسا شخص ہے جس نے حصول کی ذرا برابر بھی زحمت نہیں کی ۔ یہ دنیا give اور take کے اصولوں پر کارفرما ہے یہاں جو کوئی جتنا حصہ ڈالتا ہے اسی کے بقدر وصول کرتا ہے ۔ ثمرات و فوائد آسمان سے کسی کی جھولی میں نازل نہیں ہوتے ۔ یہ میسر ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں کو جو اس کو پانے کی سعی و کوشش کرتا ہے ۔

    انسان اگر کائنات کے خدائی اصولوں کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے بہت سارے معاملات میں پریشان و حیران ہونے سے بچ سکتا ہے ۔
    کیونکہ جب اصول سمجھ آجاتے ہیں پھر حیرت و پریشانی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان اقدام کی درست سمت کو جان لیتا ہے ۔

  • نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبوی نظام تعلیم کا موجودہ تعلیم سے تقابل — عمر یوسف

    نبی کریم ص کی نبوی زندگی مبارکہ کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی دور ۔۔۔

    مکی زندگی میں نظام تعلیم اتنے موثر انداز میں نہیں تھا تاہم درسگاہ ابی بکر ، درس گاہ فاطمہ ، درسگاہ دار ارقم اور شعب ابی طالب میں آپ ص نے اپنے اصحاب اور دیگر لوگوں کی تربیت کا خوب اہتمام فرمایا ۔ ہجرت کے بعد آپ ص نے جب مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو ایک حصہ ایسے لوگوں کے لیے مختص کیا گیا جو بے گھر مسلمان تھے ۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نہ صرف بے گھروں کو گھر میسر آیا بلکہ اصحاب صفہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    چنانچہ اصحاب صفہ کی تعمیر کے ساتھ ہی منظم تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا ۔اور یہ وہ تربیت تھی جس کے ایسے شاندار اثرات نمایاں ہوئے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آگیا ۔

    ایسے عظیم لوگوں کی جماعت قائم ہوئی جن کی نظیر زمانے میں ملنا مشکل ہے ۔ ان کے دور کو سنہرا دور کہا جاتا ہے اور آج کا عقل و شعور رکھنے والا انسان دنگ رہ جاتا یے کہ ایسے زمانے اور حالات میں اس طرح کی قوم کا منصہ شہود پر آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔
    اور یہ حیرت انگیز کام نبوی نظام تعلیم کی بدولت ممکن ہوا ۔

    یہ وہی تربیت ہے جس نے کہیں عمر رض جیسے عادل کہیں ابو طلحہ انصاری جیسے ایثار پسند کہیں مال و دولت کو راہ خدا میں لٹانے والے عثمان غنی کہیں بہادری و شجاعت کے علمبردار حضرت علی اور جری و مجاہد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنھم پیدا کیے ۔

    اس کے برعکس موجودہ نظام تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو کھوکھلی عمارت نظر آتی ہے ۔ کہیں الحاد کے شاخسانے کہیں بے حیائی کے فسانے کہیں لبرل ازم کے افکار کہیں سیکولرازم کے انظار کہیں احساس کمتری کے شکار اور کہیں بے دینی کے مینار نظر آئیں گے ۔

    دن بدن بڑھتی ہوئی نشہ آوری کہیں چوٹی پر چڑھتی ہوئی بے حیائی اور کہیں خودکشیوں کے گھناونے ارتکاب کرتے ہوئے طلباء موجودہ نظام تعلیم کے کھوکھلے پن کو ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ۔

    ڈگریوں کو لیے دربدر تلاش نوکری کے ستائے لوگ مایوسیوں کی وادی میں نظر آئیں گے ۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علم علم نہیں بلکہ معلومات ہے یہ تربیت نہیں بلکہ پیسے کمانے کے بہانے ہیں ۔

    جب نظام تعلیم نبوی اصولوں پر مبنی نہیں ہوگا تو اس معاشرہ فلاح و بہبود کی طرف جانے کی بجائے ہلاکت و تباہی کے طرف جائے گا۔

    موجودہ معاشرے میں نظام تعلیم اسی صورت موثر ہوسکتا ہے جب نسل کے اذہان و قلوب میں ایمان کے چراغ اللہ کا خوف و تقوی اور اسلام کی بالادستی کو راسخ کیا جائے گا ۔