Baaghi TV

Tag: فائرنگ

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص  جوابی کارروائی میں ہلاک

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص جوابی کارروائی میں ہلاک

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

    حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

    سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔

    یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔

    واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

    یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔

    وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-

  • وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ: حملہ آور کا چونکا دینے والا بیان

    وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور کا چونکا دینے والا اعتراف سامنے آیاہے-

    وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں حملہ آور نے فائرنگ کے دوران تقریباً 8 گولیاں چلائیں، اس واقعے میں زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہےایف بی آئی کی ٹیم نے مشتبہ شخص کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

    امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق حملہ آور کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھامیڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ اس کا اصل ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا ایک انفرادی اقدام ہے۔

  • کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    کینیڈا میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ

    کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کی گئی ہے جسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ٹورنٹو کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں واقع امریکی قونصل خانے کے باہر علی الصبح پیش آیا پولیس کو اطلاع ملنے پر اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے تو عمارت کے باہر گولیوں کے خول اور فائرنگ کے شواہد ملے۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق دو نامعلوم افراد ایک سفید گاڑی میں آئے اور گاڑی سے نکل کر قونصل خانے کی عمارت پر متعدد گولیاں چلائیں اور پھر فرار ہو گئے،فائرنگ سے عمارت کے دروازے اور شیشے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    دبئی میں معاشی و سیکیورٹی بحران: مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال نے جانوروں کی دیکھ بھال کو مشکل بنا دیا

    کینیڈین پولیس اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس اس واقعے کو قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں تفتیشی حکام نے حملے میں ملوث مشتبہ گاڑی کی تصویر بھی جاری کر دی ہے اور عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے، واقعے کے بعد ٹورنٹو اور اوٹاوا میں امریکی اور اسرائیلی سفارتی عمارتوں کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سعودی عرب اور یو اے ای سے ہمیں پیٹرول کی ترسیل میں مدد مل رہی ہے،علی پرویز ملک

  • کینیڈا: اسکول اور گھر پر فائرنگ، 10 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

    کینیڈا: اسکول اور گھر پر فائرنگ، 10 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

    کینیڈا کے قصبے ٹمبلر رج میں منگل کے روز ایک سیکنڈری اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں حملہ آور خاتون سمیت کم از کم 10 افراد ہلاک جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    یہ واقعہ 10 فروری کی دوپہر کو واقعہ ایک اسکول اور گھر میں پیش آیا مقامی پولیس کو اسکول میں ایک مسلح شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی اطلاع ملتے ہی علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی اور لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اسکول کے اندر سے چھ افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا ایک زخمی اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا اور دو مزید افراد رہائش گاہ سے برآمد ہوئے-

    پولیس کو تفتیش کے دوران اسکول سے باہر ایک رہائشی مکان سے بھی دو لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق بھی اسی واقعے سے ہےجہاں تک حملہ آور کا تعلق ہے تو پولیس نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور ایک خاتون تھی جس نے فائرنگ کے بعد بظاہر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تفتیشی افسران اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس کارروائی میں کوئی دوسرا شخص بھی شامل تھا یا نہیں۔

    اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور موبائل فونز پر ہنگامی پیغامات بھیجے گئے تاکہ شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں مقامی انتظا میہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل اور جذباتی دن ہے اور وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں قصبے کی سیکیو رٹی سخت کر دی گئی ہے اور قریبی علاقوں سے بھی اضافی پولیس نفری بلا لی گئی ہے تاکہ اسکول اور دیگر مقامات کی مکمل تلاشی لی جا سکے۔

  • بنوں: امن کمیٹی اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ، پولیس اہلکار شہید

    بنوں: امن کمیٹی اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ، پولیس اہلکار شہید

    ڈی آئی خان:بنوں میں امن کمیٹی اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے ڈومیل بیزن خیل میں عسکریت پسندوں اور امن کمیٹی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ، جس میں صدام نامی پولیس اہلکار شہید ہو گیا، شہید ہونے والا پولیس اہلکار سب ڈویژن وزیر میں تعینات تھا اور ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران فائرنگ کی زد میں آیا۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق عسکریت پسندوں نے ڈومیل بیزن خیل کے علاقے میں مین روڈ پر ناکابندی کر رکھی تھی، اس دوران امن کمیٹی کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا واقعے کی اطلاع ملتے ہی بنوں پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، تاہم عسکریت پسند اس دوران فرار ہوگئے،فائرنگ کے نتیجے میں متعدد عسکریت پسندوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • شام کے صدارتی محل میں فائرنگ، صدر احمد الشراع محفوظ

    شام کے صدارتی محل میں فائرنگ، صدر احمد الشراع محفوظ

    دمشق:شام کی حکومت نے پیر کے روز اس بات کی تردید کی ہے کہ صدر احمد الشراع کو کسی سکیورٹی واقعے میں نشانہ بنایا گیا ہو-

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کو 2 ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے دمشق میں صدارتی محل کے اندر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر 30 دسمبر کو صدارتی محل میں فائرنگ کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں یہ محل دارالحکومت دمشق پر نظر رکھتا ہے اور انہی خبروں کے بعد سے صدر احمد الشراع عوامی سطح پر نظر نہیں آئے –

    تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے ان خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر یا کسی اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق تمام رپورٹس بے بنیاد ہیں،ہم دوٹوک الفاظ میں تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تمام دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    پوپ خلائی مخلوق سے ممکنہ رابطے سے متعلق خطاب کی تیاری کر رہے ہیَں، دلچسپ دعویٰ

    دوسری جانب شام کی نئی قیادت کی حمایت کرنے والے ایک ملک کے سفارتکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اے ایف پی کو بتایا کہ 30 دسمبر کی شام واقعی صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی تھی اسی طرح سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ اس شام محل کے اندر فائرنگ تقریباً بارہ منٹ تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    رامی عبدالرحمن کے مطابق یہ واقعہ صدر احمد الشراع کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ محل کے اندر موجود افراد کے درمیان ایک اندرونی تنازع کے باعث پیش آیا، برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری اپنے دعووں کے لیے شام کے اندر موجود ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔

    وینزویلا کی نائب صدر نے باضابطہ طور پر ملک کی عبوری صدر کے عہدے کا حلف اٹھالیا

    واضح رہے کہ شامی صدر احمد الشراع، جو عمومی طور پر کم ہی عوامی سطح پر نظر آتے ہیں، گزشتہ پیر کو ملک کی نئی کرنسی متعارف کرانے کے بعد سے کسی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دیے، جس کے باعث قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔

  • سڈنی فائرنگ:دوسرا حملہ آور بھی افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا

    سڈنی فائرنگ:دوسرا حملہ آور بھی افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا

    دو مسلح افراد نے بونڈی ساحل کے قریب ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

    ایک حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ دوسرے کو 43 سالہ مسلم شہری احمد ال احمد نے دبوچ کر قابو کیا اور اس دوران وہ خود بھی دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، جن کی حالت خطرے سے باہر ہے،شہری نے نہ صرف مسلح شخص کو دبوچا بلکہ اُس سے اسلحہ چھین کر گرفتاری کو یقینی بنایا حراست میں لیے گئے دہشت گرد کی شناخت نوید اکرم جبکہ ہلاک حملہ آور کی شناخت مان ہارون مونس کے نام سے ہوئی ہے،ایک حملہ آور افغان شہری نکلا اس کا تعلق ننگر ہار افغانستان سے جبکہ دوسرے حملہ آور کو 2023 میں ننگرہار میں تربیت دی گئی تھی-

    آسٹریلوی وزیراعظم کی سڈنی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت

    https://x.com/skynews/status/2000221826446926048?s=48&t=G-cOBg7EkX_kBYa6eWDKdwپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانی شوٹر افغان طالبان کیڈر سے تربیت یافتہ اور تجربہ کار معلوم ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے نوید اکرم کو پاکستانی ظاہر کیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق وہ آسٹریلوی شہری اور الیکٹریکل انجینئر ہیں نوید اکرم کی عمر 24 سال بتائی گئی ہے، یروشلم پوسٹ کے مطابق انہوں نے 2012 سے 2016 تک انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اس حساب سے جس نے 2016 میں اپنی انجینئرنگ مکمل کی، اس کی عمر کم از کم 30 سال ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم نے سڈنی کے ساحل پر اتوار کی شام ہونے والے مسلح افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا،انہوں نے کہا کہ بونڈی میں یہودی کمیونٹی جمع ہوکر اپنا مذہبی تہوار حنوکا جوش و خروش سے منارہی تھی، دہشت گرد حملے میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والے بیشتر آسٹریلوی شہری تھے،انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آئندہ تحفظ کیلیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    سڈنی فائرنگ:پاکستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے موساد-را گٹھ جوڑ کی ایک منصوبہ بند سازش؟

  • آسٹریلوی  وزیراعظم کی سڈنی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت

    آسٹریلوی وزیراعظم کی سڈنی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت

    آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے ساحل بونڈی پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد قرار د یا-

    آسٹریلوی وزیراعظم نے سڈنی کے ساحل پر اتوار کی شام ہونے والے مسلح افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیاانہوں نے کہا کہ بونڈی میں یہودی کمیونٹی جمع ہوکر اپنا مذہبی تہوار حنوکا جوش و خروش سے منارہی تھی، دہشت گرد حملے میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والے بیشتر آسٹریلوی شہری تھے۔

    انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آئندہ تحفظ کیلیے سخت اقدامات کیے جائیں گے ہم یہودی کمیونٹی سمیت آسٹریلیا کے تمام لوگوں کو قومی اتحاد کے ذریعے تحفظ فراہم کریں گے، البانیز نے پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ فوری ایکشن کی وجہ سے بہت ساری جانیں بچ گئیں۔

    سڈنی فائرنگ:پاکستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے موساد-را گٹھ جوڑ کی ایک منصوبہ بند سازش؟

    واضح رہے کہ دو مسلح افراد نے بونڈی ساحل کے قریب ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوکر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہےایک حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ دوسرے کو 43 سالہ مسلم شہری احمد ال احمد نے دبوچ کر قابو کیا اور اس دوران وہ خود بھی دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، جن کی حالت خطرے سے باہر ہےشہری نے نہ صرف مسلح شخص کو دبوچا بلکہ اُس سے اسلحہ چھین کر گرفتاری کو یقینی بنایا حراست میں لیے گئے دہشت گرد کی شناخت نوید اکرم جبکہ ہلاک حملہ آور کی شناخت مان ہارون مونس کے نام سے ہوئی ہے۔

    سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی تصاویر،اسرائیلی اخبار کی جھوٹی رپورٹنگ

  • ڈھاڈر: سرکٹ ہاؤس کے قریب دھماکے کے بعد شدید فائرنگ

    ڈھاڈر: سرکٹ ہاؤس کے قریب دھماکے کے بعد شدید فائرنگ

    ڈھاڈر: سرکٹ ہاؤس کے قریب دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں-

    بولان کے علاقے ڈھاڈر میں سرکٹ ہاؤس اور نیشنل بینک کے قریب زور دار بم دھماکہ ہوا، جس کے فوراً بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی اطلاع ملی ہے مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا،تاہم زخمی یا کسی جانی نقصان کی اطلاعات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں،واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس جائے حادثہ پر پہنچ گئیں-

    قبل ازیں بدھ کو ضلع بولان کے علاقے سنی شوران میں ایک بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا، پولیس کے مطابق یہ ڈیوائس مقامی شخص عبدالحئی جتوی کے گھر کے اندر نصب کی گئی تھی، دھماکا اُس وقت ہوا جب بچے گھر میں کھیل رہے تھے،بچوں میں سے ایک نے بارودی سرنگ پر قدم رکھا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا، تین بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ایک کم عمر لڑکی سمیت 3 دیگر بچوں کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا،جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت ندیم احمد، سوما خان اور ایک کمسن لڑکی بختاور بی بی کے ناموں سے ہوئی –

  • امریکہ، جنوبی کیرولینا میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

    امریکہ، جنوبی کیرولینا میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

    امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں 4 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جزیرے سینٹ ہیلینا کے ایک بار میں پیش آیا۔ پولیس نے زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح ایک بجے کے قریب ’ویلیز بار اینڈ گرل‘ میں پیش آیا، جہاں فائرنگ کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور متعدد افراد کو گولیوں سے زخمی حالت میں پایا۔ بیوفورٹ کاؤنٹی شیرف آفس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم مزید تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا رہیں۔ جاں بحق افراد کے نام بھی تاحال جاری نہیں کیے گئے کیونکہ ان کے اہل خانہ کو اطلاع دی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کے وقت ریسٹورنٹ میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔ شیرف آفس نے اس واقعے کو ”انتہائی افسوسناک اور مشکل“ قرار دیا۔ واضح رہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے علاقے میں پیش آیا ہے جو افریقی غلاموں کی اولادوں پر مشتمل گلہ گیچی ثقافت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جبکہ مذکورہ ریسٹورنٹ اپنے روایتی گلہ کھانوں کے باعث مشہور ہے۔

    شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر غور

    بابر اعظم کےٹیسٹ چیمپئن شپ میں 3 ہزار رنز ،پہلے ایشیائی بلے باز بن گئے

    سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی لگ گئی