امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔
سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔
یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔
گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔
یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔
وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔
ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-
