Baaghi TV

Tag: فرانس

  • فرانس نے  فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا۔

    فرانس اور موناکو نے پیر کے روز ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو آازاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوں گی تاکہ دو ریاستی حل کے امکان کو محفوظ رکھا جا سکے، جہاں اسرائیل اور فلسطین امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہ سکیں، یہ اعلان کرتے ہی شرکا نے زور دار تالیاں بجائیں،فرانسیسی صدر نے نئی فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک فریم ورک پیش کیا، جس کے تحت فرانس اصلاحات، جنگ بندی اور غزہ میں قید تمام قیدیوں کی رہائی جیسے عوامل کی بنیاد پر ایک سفارتخانہ کھولے گا۔

    https://x.com/EmmanuelMacron/status/1970237707336192210

    روس ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

    اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ اور سان مارینو سے بھی توقع ہے کہ وہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطین کو تسلیم کریں گے، اس سے قبل ہفتے کے اختتام پر آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور مالٹا نے بھی ایسا کیا،پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ اسحاق ڈار مقررین میں شامل نہیں تھے، اس اجلاس میں ترکیہ، آسٹریلیا، برازیل اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم شریک تھےوزیراعظم شہباز شریف پیر کو نیویارک پہنچے لیکن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

    لاکھوں قانونی مہاجرین کو واپس بھیج کر £230 بلین بچائیں گے، نائجل فراج

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی،وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلانات کا خیر مقدم کیا۔

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے، جب مغربی طاقتوں نے دہائیوں پرانی پالیسی سے ہٹ کر فلسطین کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے،بھھ1برطانیہ، جس نے 1917 کے بالفور اعلامیے کے ذریعے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی، اس نے بھی پیر کو لندن میں فلسطینی سفارتخانہ کھول دیا۔

    یہ اعلیٰ سطحی اجلاس جولائی میں ہونے والی ایک سمٹ کے بعد منعقد ہوا، جس میں نیویارک اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا گیا تھا اور بعد ازاں 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیااسی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں دولت مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    انہوں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں بھی شرکت کی، جس میں اردن اور یو اے ای کے نائب وزرائے اعظم اور مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شامل تھے، اس موقع پر انہوں نے کینیڈین ہم منصب انیتا آنند سے بھی ملاقات کی۔

  • فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باضابطہ اعلان سے پہلے ہی فرانس میں ایفل ٹاور پر فلسطین کے پرچم لگا دیئے گئے ہیں،فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف حکمت عملی ناکام ہوگئی اور غزہ جنگ سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے، پائیدارامن کیلئے دوریاستی حل ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں،کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے شراکت داری کی پیشکش بھی کی،

    آسٹریلیا نے بھی دو ریاستی حل کے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہے،اسی طرح پرتگال کے وزیر خارجہ نے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور بنیادی لائن ہے جو دو ریاستی حل کو پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہےامریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم سنجیدہ سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں، نمائشی اعلانات پر نہیں اور ہماری ترجیحات میں امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

  • فرانس ،بجٹ کے خلاف مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سیکڑوں گرفتاریاں

    فرانس ،بجٹ کے خلاف مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سیکڑوں گرفتاریاں

    فرانس کے مختلف شہروں میں حکومت کے 2026 کے بجٹ میں سخت اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے نعرہ لگایا: "ہر چیز روک دو” تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

    پولیس نے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے 80 ہزار سے زائد اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کیے۔ پیرس، لیون، مارسیلی، نانت اور لیل میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں، کوڑے دان اور گاڑیوں کو آگ لگائی، اور جلتے ہوئے بیری کیڈز بنا کر راستے بند کر دیے، جس سے اسکول، ٹرانسپورٹ سروسز اور کچھ سرکاری دفاتر متاثر ہوئے۔ بعض مقامات پر پولیس پر پتھراؤ اور آتش گیر مواد پھینکنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ملک بھر میں 300 سے زائد افراد گرفتار ہوئے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق یہ تعداد 473 تک پہنچ گئی۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار اور مظاہرین دونوں شامل ہیں۔

    حکومت کے مطابق مظاہروں میں تقریباً 2 لاکھ افراد شریک تھے، جبکہ یونینز نے یہ دعویٰ کیا کہ تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ تھی۔احتجاج نئے وزیراعظم سباسٹین لیکورنو کے عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن ہوا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کیا، جبکہ صدر میکرون کو مظاہرین کے نعرے اور یونینز کی سخت تنقید کا سامناہے۔

    سلامتی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر دوحہ میں حملے کی مذمت

    سیلابی ریلے، ہزاروں افراد متاثر،شجاع آباد میں بند ٹوٹ گیا

    ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ کے ٹکٹس کی زبردست مانگ

    امریکا بھی قطر حملے میں شریک، اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کیے،حماس

  • فرانس میں سیاسی بحران، وزیرِ اعظم اعتماد کا ووٹ ہار گئے، مستعفی

    فرانس میں سیاسی بحران، وزیرِ اعظم اعتماد کا ووٹ ہار گئے، مستعفی

    فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، قانون سازوں نے وزیرِ اعظم فرانسوا بیرو کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرلی، جس کے بعد وہ صرف 9 ماہ بعد ہی عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

    سی این این کے مطابق پارلیمان میں ہونے والی ڈرامائی ووٹنگ میں بیرو کو سخت دھچکا لگا۔ 194 اراکین نے ان کی پالیسی کی حمایت کی جبکہ 364 نے مخالفت کی۔وزیرِ اعظم بیرو نے 44 ارب یورو کے کفایت شعاری منصوبے کو منظور کرانے کے لیے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ منصوبے میں سرکاری اخراجات منجمد کرنے اور دو سرکاری تعطیلات ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں، تاہم ان کا اقدام الٹا پڑ گیا۔یہ شکست سابق وزیرِ اعظم مشیل بارنیئر کے بعد دوسری بڑی ناکامی ہے، جنہیں گزشتہ برس دسمبر میں پارلیمان نے فارغ کیا تھا۔ مسلسل ناکامیوں نے صدر ایمانوئیل میکرون کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں، جو پہلے ہی منقسم پارلیمان کو متحد رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

    بحران نے سرمایہ کاروں کو بھی ہلا دیا ہے۔ فرانسیسی حکومتی بانڈز پر شرح منافع اسپین، پرتگال اور یونان سے بھی بڑھ گئی ہے جس سے خدشہ ہے کہ رواں ہفتے فرانس کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔بیرو نے ووٹ سے قبل اپنے آخری خطاب میں خبردار کیا تھا کہ منصوبہ مسترد کرنے سے مالی بحران ختم نہیں ہوگا: “حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی، اخراجات بڑھیں گے، قرض کا بوجھ زیادہ ہوگا اور آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہم نے سماجی معاہدہ توڑ دیا ہے۔”

    بحران کی جڑیں صدر میکرون کے 2024 کے قبل از وقت انتخابات کے فیصلے سے جڑتی ہیں، جب یورپی پارلیمان میں انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت کو غیر معمولی کامیابیاں ملی تھیں۔ اس کے بعد میکرون کا سینٹرلسٹ بلاک کمزور ہوا اور پارلیمان دائیں اور بائیں بازو میں بٹ گیا۔اب صدر میکرون مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین پارلیمان کی تحلیل کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم نئے انتخابات کی صورت میں ان کی جماعت مزید طاقتور ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب نگراں حکومت کی تجویز بھی دی جا رہی ہے اور دفاعی وزیر سباستیان لیکورنو اور وزیرِ انصاف جیرالڈ ڈرمانن ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔ تاہم اپوزیشن پہلے ہی عندیہ دے چکی ہے کہ وہ کسی نئے سینٹرلسٹ وزیرِ اعظم کو بھی چیلنج کرے گی۔

    ماہرین کے مطابق نئے وزیرِ اعظم کے تقرر کے باوجود بجٹ کی منظوری سب سے بڑا امتحان ہوگی، کیونکہ بائیں بازو امیروں پر ٹیکس بڑھانے اور میکرون کی کارپوریٹ ٹیکس کٹوتیوں کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ قدامت پسند اس پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ اس تعطل کے باعث فرانس کا مالی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

    لنڈی کوتل : طوفانی بارش، جماعت اسلامی کا مالاکنڈ اور بونیر کی طرح پیکج کا مطالبہ

    پاکستان پر قرضوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، حجم 94 ہزار 197 ارب

    علیمہ خان سے سوال کرنے پر صحافیوں پر تشدد، مقدمہ درج، میڈیا کا بائیکاٹ

  • فلسطینیوں پر حملے:فرانس نے اسرائیلی آبادکاروں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا

    فلسطینیوں پر حملے:فرانس نے اسرائیلی آبادکاروں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا

    فرانس نے فلسطینیوں پر حملے کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں کو ’دہشت گرد‘ قرار دے دیا-

    الخلیل کے قریب ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کے مبینہ حملے میں ایک فلسطینی استاد اور آسکر ایوارڈ یافتہ فلم سے جڑے کارکن عودہ محمد ہتھلین شہید ہو گئے۔ فرانس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو "دہشت گردی” قرار دیا ہے۔

    فلسطینی حکام کے مطابق، یہ واقعہ پیر کے روز ام الخیر گاؤں میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی آبادکاروں نے حملہ کیا مقتول عودہ ہتھلین مقامی اسکول کے استاد اور مسافر یطا کے رہائشی تھے وہ آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم No Other Land میں بھی شامل رہے، جو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم کو اجاگر کرتی ہے۔

    فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فرانس اس قتل کی انتہائی سختی سے مذمت کرتا ہے اور ان تمام جان بوجھ کر کیے جانے والے پرتشدد اقدامات کی بھی، جو انتہا پسند آبادکار فلسطینی آبادی کے خلاف کر رہے ہیں اور جو مغربی کنارے میں روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، یہ پرتشدد کارروائیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں،ترجمان نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ ان حملوں میں ملوث افراد کو فوری سزا دیں، جو مکمل استثنیٰ کے ساتھ جاری ہیں اور فلسطینی شہریوں کا تحفظ کریں۔

    حسن ابدال : گاڑی برساتی نالے میں بہہ گئی ، 5 افراد لاپتہ ، 5 کو بچا لیا گیا

    فلسطینی اتھارٹی کی وزارت تعلیم نے اسرائیلی آبادکاروں پر الزام لگایا کہ انہوں نے ہتھلین کو ام الخیر گاؤں پر حملے کے دوران قتل کیا، جو مقبوضہ علاقے کے جنوب میں الخلیل کے قریب واقع ہےاسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کرمل کے قریب ایک واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جو ام الخیر کے قریب ایک بستی ہے اور ایک اسرائیلی کو پوچھ گچھ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

    عودہ ہتھلین مسافر یطا کے رہائشی تھے، جو الخلیل کے جنوب میں پہاڑیوں پر واقع دیہات کا ایک سلسلہ ہے، جسے اسرائیل نے فوجی زون قرار دے رکھا ہےاس علاقے میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مکانات کی مسماری کو روکنے کی کوششوں کو ’نو ادر لینڈ‘ نامی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا، جس نے مارچ میں آسکر ایوارڈ میں بہترین دستاویزی فلم کا انعام جیتا تھا۔

    فلم کے اسرائیلی شریک ہدایت کار، یووال ابراہام نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں ایک مسلح شخص کو لوگوں کے ایک گروپ سے الجھتے ہوئے دکھایا گیا، اور عبرانی و عربی میں چیخنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں،ابراہام نے لکھا کہ ایک اسرائیلی آبادکار نے ابھی ابھی عودہ ہتھلین کو سینے میں گولی ماری ہے، ایک قابلِ قدر کارکن جس نے ہمیں مسافر یطا میں ’نو ادر لینڈ‘ فلم بنانے میں مدد دی۔

    مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی اور 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جن کی آبادیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی مانی جاتی ہیں،فلسطینی اتھارٹی کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں 962 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

    روس کے مشرقی ساحل کے قریب زلزلہ، سونامی کی وارننگ

  • فرانس کا  فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرنے پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا

    فرانس کا فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرنے پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرلے گا،جس پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا ہو گئے-

    عالمی میڈیا کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط لکھ کر فرانس کے اس ارادے سے آگاہ کیا ہےاپنے خط میں صدر ایمانوئیل میکرون نے لکھا کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر میں اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

    فرانس نے اس اعلان کا وقت جنرل اسمبلی کا آئندہ اجلاس اس لیے منتخب کیا ہے تاکہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کے لیے نیا سفارتی فریم ورک پیش کرسکے تاہم فرانس کے اس دلیرانہ فیصلے نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو برہم کر دیا ہے اور دونوں ممالک نے شدید ردعمل دیا ہےاسرائیلی وزیر اعظم بنیا من نیتن یاہو نے اسے "دہشت گردی پر انعام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست اسرائیل کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے، اسرا ئیلی وزیر دفاع نے بھی فرانس کے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو "شرمناک” قرار دیا ہے۔

    دہشتگرد واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا چلا رہے،بندکیا جائے،طلال چوہدری

    جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فرانس کے اس اقدام کو حماس کے لیے پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، فرانس کا یہ اقدام اُن اسرائیلی متاثرین کی توہین ہے جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔

    جس پر فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے واضح کیا کہ ہم حماس کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ حماس دو ریاستی حل کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی آئندہ ہفتے سے مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ادھر سعودی عرب نے فرانسیسی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے اسی طرح کے "مثبت اقدامات” اٹھائیں،سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ قدم امن کے لیے حمایت اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تائید ہے۔

    اسپین جو پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے، نے بھی میکرون کے اعلان کو سراہا ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی واحد حل ہے اور اس میں فرانس کا شامل ہونا خوش آئند ہے۔

    کینیڈا نے بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال میں بہتری لائے اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرےوزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

    عدالتی امور دو شفٹوں میں چلانا زیر غور ہے ، چیف جسٹس

    فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے فرانس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی قوانین کی حمایت اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی توثیق ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اس وقت یورپ میں یہودیوں اور مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے اور پہلی بڑی مغربی طاقت ہوگی جو فلسطین کو تسلیم کرے گی-

  • فرانسیسی صدر کا  "خاتونِ اول کی پیدائش بطور مرد ”   کا دعویٰ کرنیوالی امریکی پوڈکاسٹر کیخلاف مقدمہ

    فرانسیسی صدر کا "خاتونِ اول کی پیدائش بطور مرد ” کا دعویٰ کرنیوالی امریکی پوڈکاسٹر کیخلاف مقدمہ

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی اہلیہ نے بدھ کے روز امریکا میں دائیں بازو کی سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت اور پوڈکاسٹر کینڈیس اووینز کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا-

    برطانوی خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق مقدمہ اووینز کے اس دعوے پر دائر کیا گیا ہے کہ ’فرانس کی خاتونِ اول کی پیدائش بطور مرد ہوئی تھی‘میکرون جوڑے نے ڈیلاویئر سپیریئر کورٹ میں دائر کی گئی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ کینڈیس اووینز نے ان کے پوڈکاسٹ کی تشہیر اور ’پاگل پن سے بھرپور‘ مداحوں کی تعداد بڑھانے کے لیے جھوٹ پر مبنی ’عالمی سطح کی تضحیک کی مہم‘ چلائی۔

    شکایت میں کہا گیا کہ ان جھوٹی خبروں میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ 72 سالہ بریجیت میکرون کا اصل نام جین مائیکل ٹروگ نیوکس ہے، جو دراصل ان کے بڑے بھائی کا نام ہے اووینز نے ان کی ظاہری شکل، شادی، دوستوں، خاندان اور ذاتی تاریخ کو مسخ کر کے ایک گھناؤنا بیانیہ تخلیق کیا، جس کا مقصد صرف نفرت اور تضحیک پھیلانا ہے۔

    وزیر اعظم سے ورلڈ بنک کے ریجنل نائب صدر مسٹر عثمان ڈیون کی ملاقات

    میکرون جوڑے نے اپنے وکلا کے ذریعے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اووینز کی یہ بہتان پر مبنی مہم واضح طور پر ہمیں اور ہمارے خاندانوں کو ہراساں کرنے، تکلیف پہنچانے، اور خود کو مشہور کرنے کے لیے شروع کی گئی، ہم نے انہیں ان دعوؤں سے پیچھے ہٹنے کے 3 مواقع دیے، مگر وہ باز نہ آئیں۔

    دوسری جانب بدھ کے روز اپنے پوڈکاسٹ میں کینڈیس اووینز نے اس مقدمے کو حقائق سے بھرپور غلطیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی واضح اور مایوس کن پبلک ریلیشنز حکمتِ عملی ہے،وہ اس مقدمے سے لاعلم تھیں، حالاں کہ دونوں جانب کے وکلاء جنوری سے ایک دو سرے سے رابطے میں تھے۔

    روس میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام 49 افراد ہلاک

    اووینز کے ترجمان نے کہا کہ یہ مقدمہ دراصل خود ان کے خلاف ایک قسم کی غنڈہ گردی ہے، کیوں کہ بریجیت میکرون نے اووینز کی بارہا انٹرویو کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں، یہ ایک غیر ملکی حکومت کی جانب سے ایک امریکی آزاد صحافی کے پہلے آئینی ترمیمی حقوق (آزادی اظہار) پر حملہ ہے۔

  • گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کو فرانس میں جی میل پر ذاتی نوعیت کے اشتہارات دکھانے پر 525 ملین یوروز کے ممکنہ بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (CNIL) نے الزام عائد کیا ہے کہ گوگل نے فرانسیسی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کی رضامندی کے بغیر جی میل میں ٹریکنگ کوکیز اور ذاتی نوعیت کے اشتہارات کا استعمال کیا۔یہ جرمانہ اگر عائد ہو جاتا ہے تو یہ کمیشن نیشنل ڈی ایل انفارمیٹیک ایٹ ڈیس لبرٹیس کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ شمار کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق فرانس میں جی میل استعمال کرنے والے صارفین طویل عرصے سے ان اشتہارات پر شکایات کرتے رہے ہیں جو ای میلز کی طرز پر ظاہر ہوتے ہیں اور صارفین کو کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔گوگل کا مؤقف ہے کہ یہ اشتہارات جی میل کے مفت ماڈل کا حصہ ہیں، تاہم فرانسیسی ادارہ یہ تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا یہ عمل صارف کی پیشگی منظوری کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹا پرائیویسی قوانین کے مطابق ای میلز کی طرح نظر آنے والے اشتہارات صارفین کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور پرائیویسی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں۔دوسری جانب گوگل کے خلاف گوگل پلے اسٹور پر موجود کچھ ایپس کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کمپنی کے ڈیٹا سیکیورٹی اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    گوگل کو اب یورپی پرائیویسی قوانین کی پاسداری اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

    وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری

    محمد حفیظ پاکستان چیمپئنز کے نئے کپتان مقرر

    بھارت کے ہمالیائی خطے میں مون سون کی تباہ کاریاں، 69 افراد ہلاک، 110 زخمی

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

  • ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،فرانسیسی وزیر خارجہ

    فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پیشِ نظر فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    فرانسیسی نیوز چینل ’ایل سی آئی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ژاں نوئل بارو نے غزہ میں فلسطینی امداد حاصل کرنے والوں کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک اور انسانی وقار کی توہین قرار دیا۔

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ صرف مئی کے مہینے میں غزہ میں خوراک کے حصول کی کوشش کے دوران کم از کم 500 فلسطینی شہید اور تقریباً 4 ہزار زخمی ہوئے، انہوں نے کہا کہ فرانس اور یورپی یونین دونوں غزہ میں محفوظ اور منصفانہ خوراک کی تقسیم کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

    وزیر اعظم کا بجلی بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا اعلان

    ژاں نوئل بارو نے کہا کہ ’غزہ پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کا کوئی جواز نہیں، انہوں نے کہاکہ ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، اور یہ ایک مشترکہ اقدام کے تحت ہوگا جو تمام فریقوں کو ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کی ترغیب دے گا جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔

    مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

  • فرانس میں مسجد سے  قرآن پاک کا نسخہ چرا کر نذر آتش کر دیا گیا

    فرانس میں مسجد سے قرآن پاک کا نسخہ چرا کر نذر آتش کر دیا گیا

    فرانس کے شہر لیون میں ایک شخص نے مسجد سے قرآن پاک کا نسخہ چرا کر اسے نذر آتش کر دیا۔

    اے ایف پی کے مطابق واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پیش آیا رون ریجن کی مساجد کی کونسل کے مطابق ملزم مسجد میں داخل ہوا، قرآن پاک کا ایک نسخہ چرایا، اُسے جلایا اور فرار ہو گیاپولیس نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے یہ واقعہ فرانس میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمان کمیونٹی میں شدید غم و غصہ کا باعث بنا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس یورپ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے، جبکہ یہودی برادری بھی یہاں کثیر تعداد میں آباد ہے۔

    بلال بن ثاقب کی امریکا میں اہم ملاقاتیں

    دوسری جانب لندن میں بھی ایک شخص کو قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا ہے، جس پر £240 (تقریباً 325 امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا گیا لندن میں پیش آئے اس واقعے کو ناقدین نے انگلینڈ میں 2008 میں منسوخ کیے گئے توہین مذہب کے قانون کی غیر اعلانیہ بحالی قرار دیا ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کا عمل جان بوجھ کر اشتعال انگیز تھا اور مذہب سے نفرت پر مبنی تھا۔

    فافن رپورٹ، پی پی 52 ضمنی انتخاب میں معمولی بے ضابطگیاں،مجموعی طور پر شفاف قرار