Baaghi TV

Tag: فرانس

  • فرانس میں تباہ کن جنگلاتی آگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہر ممکن تعاون کی پیشکش

    فرانس میں تباہ کن جنگلاتی آگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہر ممکن تعاون کی پیشکش

    وزیراعظم شہباز شریف نے فرانس میں تباہ کن جنگلاتی آگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، پاکستانی عوام اور اپنی جانب سے وہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، حکومتِ فرانس اور فرانسیسی عوام، خصوصاً ان تمام افراد سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جو اس سانحے کے باعث بے گھر ہوئے یا کسی بھی طرح متاثر ہوئے ہیں،پاکستان کی دعائیں ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے متاثرہ آبادیوں کی جلد بحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،اور کہا کہ پاکستان ان تمام علاقوں اور آبادیوں کے لیے دعاگو ہے جو اس قدرتی آفت کی زد میں ہیں اورامید کرتا ہے کہ صورتحال جلد از جلد قابو میں آ جائے تاکہ بحالی کی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ سکیں۔

    وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں فرانس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو ہرممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔

    اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے،جبکہ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔

    قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    (فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے گئے )
    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہےانہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

    فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیو ں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔

    دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔

    اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

  • فیفا ورلڈکپ 2026:فرانس کو شکست ،اسپین فائنل میں پہنچ گیا،میچ کے ٹکٹ دوگنا مہنگے

    فیفا ورلڈکپ 2026:فرانس کو شکست ،اسپین فائنل میں پہنچ گیا،میچ کے ٹکٹ دوگنا مہنگے

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں اسپین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر 16 سال بعد فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔

    میچ کے آغاز سے ہی اسپین نے گیند پر بہتر کنٹرول رکھا اور فرانس کی مضبوط دفاعی لائن کو مسلسل آزماتا رہا، اسپین کی جانب سے پہلا گول پیڈرو پورو نے کیا ،دوسرے ہاف میں اسپین نے اپنی برتری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ایک اور خوبصورت حملہ ترتیب دیا، جس کا اختتام میکل اویارزابال کے گول پر ہوا ،ا س گول کے بعد فرانس پر دباؤ مزید بڑھ گیا، لیکن عالمی چیمپئن رہنے والی فرانسیسی ٹیم میچ میں واپسی کا کوئی راستہ نہ نکال سکی اور مقررہ وقت کے اختتام پر اسپین نے 0-2 سے کامیابی اپنے نام کرلی۔

    اس کامیابی کے ساتھ اسپین نے 16 برس بعد فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں رسائی حاصل کی ہے، اس سے قبل اسپین نے 2010 میں جنوبی افریقا میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فائنل میں نیدرلینڈز کو شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا عالمی ٹائٹل جیتا تھا۔

    دوسری جانب فرانس کے لیے یہ شکست خاصی مایوس کن ثابت ہوئی، کیونکہ ٹیم مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے کی خواہش پوری نہ کر سکی، فرانسیسی کھلاڑیوں نے بھرپور کوشش کی، لیکن اسپین کی منظم حکمت عملی اور مؤثر کھیل کے سامنے وہ بے بس دکھائی دیے۔

    اب اسپین کی نظریں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں وہ دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم سے ٹکرائے گا۔ شائقین فٹبال کو امید ہے کہ اسپین اپنی شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا، جبکہ فرانس تیسری پوزیشن کے میچ میں بہتر اختتام کے لیے میدان میں اترے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل کی دیوانگی عروج پر پہنچ گئی، ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے ہائی پروفائل مقابلے کے لیے شائقین کی غیرمعمولی دلچسپی کے باعث ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی ہو گئیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق سیمی فائنل کا وہ ٹکٹ جو چند روز قبل 1326 ڈالر میں دستیاب تھا، اب ری سیل مارکیٹ میں 2867 ڈالر تک فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس کی مالیت تقریباً 7 لاکھ 93 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ بہتر نشستوں کے ٹکٹ اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔

    فیفا ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی شہر اٹلانٹا کے مرسیڈیز بینز اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوگا میچ میں ایک جانب8 بار کے بیلن ڈی اور فاتح لیونل میسی اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے، جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان اور تجربہ کار اسٹرائیکر ہیری کین ٹیم کو فائنل تک پہنچانے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے درمیان ممکنہ مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

  • شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    جنوبی یورپ میں جنگلاتی آگ کی نئی لہر نے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر ممالک میں آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    مختلف ممالک میں بھڑکنے والی اس جنگلاتی آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا، جبکہ فرانس میں ایک بڑے شعلے کے خطرے کے پیش نظر پیر کو ہونے والی معروف سائیکل ریس ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے کے دوران شائقین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

    پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں سینکڑوں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اب تک 20 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے، جو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کے تقریباً 3 گنا رقبے کے برابر بنتا ہے،فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپینیان کے قریب پیرینیز کے پہاڑی علاقے میں بھڑکنے والی آگ نے 4 ہزار 600 ہیکٹر سے زائد رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد حکام نے تقریباً 10 ہزار 500 افراد کو اپنے گھروں سے فوری انخلا کی ہدایت جاری کی۔

    متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ آگ گھروں سے صرف 300 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی ہمیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ شعلے اتنی تیزی سے پھیل سکتے ہیں صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے۔

    ایک بار پھر درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اسپین میں پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہےماہرین کے مطابق مئی اور جون کی شدید گرمی کی لہروں کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے، جنہیں ہزاروں اموات کا سبب قرار دیا گیا تھا، اور اب انہی موسمی حالات نے جنگلاتی آگ کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں سائنس دانوں کا اتفاق ہے کہ فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی انسانی سرگر میوں کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی شد ت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث ہیٹ ویوز اور دیگر شدید موسمی مظاہر کے امکانات اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    فرانس نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمر بن گویر کے فرانسیسی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نویل بارو نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غزہ جانے والے فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر عالمی سطح پر بڑھتے غصے کی عکاسی کرتا ہے،اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویرکو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی یہ فیصلہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث کیا گیا تمار بن گویر کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، اسی لیے فوری طور پر ان کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے گرفتار کارکنوں کو ہاتھ بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا تھا، اور ویڈیو میں ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس اس بحری قافلے کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے سفارتی اور قونصلر خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے، تاہم فرانسیسی شہریوں کو دھمکانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً اگر ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے کیا جائے، اتمار بن گویر کے اقدامات اور بیانات کی مذمت خود اسرائیل کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کی ہے اسرائیلی وزیر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلا ف نفرت انگیز اور تشدد پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اتمار بن گویر پر مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سے قبل اٹلی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔

    اتمار بن گویر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک انتہائی دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو غزہ جنگ اور فلسطینیوں سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-

  • فرانسیسی  طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے، یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

    اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا،چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

    فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے، اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

    فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔