Baaghi TV

Tag: فرانس

  • بھارت کی جانب سے   ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    بھارت کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، فرانسیسی اخبار

    فرانس کے اخبار ’لی مونڈے‘ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ’سندھ طاس معاہدے ‘کی یکطرفہ معطلی کو جنوبی ایشیا کے امن اور آبی سلامتی کے لیے ’خطرناک ترین موڑ‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو بڑے خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔

    پیر کو اخبار نے اپنی شائع شدہ ایک تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ آبی تنازع اب صرف ان 2 جوہری ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے بھیانک اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور ماحولیات پر مرتب ہو سکتے ہیں عالمی مبصرین اس رپورٹ کو خطے میں ابھرتے ہوئے ایک نئے بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

    فرانسیسی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اپریل 2025 میں رونما ہونے والے ’پہلگام واقعے‘ کے بعد نئی دہلی نے اپنے رویے میں جارحانہ تبدیلی لائی اور پانی کو ایک سفارتی و سیاسی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کوئی ایسا دستاویز نہیں جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کر سکے، اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا ترمیم صرف اور صرف دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی اور دستخطوں سے ہی ممکن ہے عالمی ثالثی عدالت‘ کا مؤقف اس معاملے پر بالکل واضح ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور نافذ العمل ہے اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔

    اخبار نے بھارتی ہٹ دھرمی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کو ’ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا‘ (پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار) فراہم نہ کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے بروقت سیلابی انتباہ جاری کرنا اور آبی خطرات کا مؤثر انتظام کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے تحت 3 مشرقی دریا بھارت اور 3 مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے تھے۔ تاریخی طور پر یہ معاہدہ جنگوں کے دوران بھی برقرار رہا، لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی تعمیر نے شدید قانونی اور تکنیکی تنازعات کھڑے کر دیے ہیں، جنہیں پاکستان اپنے آبی حقوق پر ڈاکہ تصور کرتا ہے۔

    فرانسیسی اخبار نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے کسانوں اور مقامی آبادی پر پڑنے والے تباہ کن اثرات پر بھی روشنی ڈالی،رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کے غیر متوقع اخراج یا بندش کے باعث اچانک آنے والے سیلابوں نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور زرعی زمینوں پر ریت کی موٹی تہیں جم جانے سے وہ بنجر ہو رہی ہیں خاص طور پر ’دریائے چناب‘ کے کناروں پر آباد ہزاروں خاندانوں کو اپنے مویشیوں، تیار فصلوں اور گھریلو املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے ایک بڑا انسانی اور معاشی المیہ جنم لے رہا ہے۔

    اخبار’لی مونڈے‘نے اس حساس معاملے پر پاکستان کے اصولی اور قانونی مؤقف کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے واضح کر دیا ہے کہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ایک ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور جارحیت تصور کیا جائے گااخبار نے بھارتی سیاسی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو سیاست کی نذر کرنے کی بدترین مثال قرار دیا، جبکہ دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھارت کی ان دھمکیوں کو ‘واٹر ٹیررازم’ (آبی دہشت گردی) کا نام دیے جانے کے مؤقف کو بھی عالمی منظر نامے پر پیش کیا ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات محض روایتی سیاسی بیان بازی نہیں ہیں، بلکہ یہ براہِ راست انسانی حقوق، زراعت، غذائی تحفظ اور ملک کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ زراعت اور آبپاشی کا پورا نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انحصار کرتا ہے چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے ان دریاؤں کے پانی میں کوئی بھی غیر قانونی تبدیلی پوری ملکی معیشت کو زمین بوس کر سکتی ہے اور کروڑوں انسانوں کو قحط سالی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

    اس جیو پولیٹیکل تنازع کا ایک اور دلچسپ اور اہم رخ پیش کرتے ہوئے ’لی مونڈے‘ نے نشاندہی کی ہے کہ جو سلوک بھارت پاکستان کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے، خود بھارت کو بھی بعینہ اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے بھارت کو بالائی علاقے کے ملک چین کی جانب سے پانی کے دباؤ کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں اور اسے ’دریائے برہم پترا‘ کے حوالے سے بالکل وہی تشویش درپیش ہے جو پاکستان کو دریائے سندھ کے طاس کے بارے میں ہے اگر بھارت یکطرفہ اقدامات کی روایت قائم کرتا ہے، تو وہ چین کے ہاتھوں اپنے ہی جال میں پھنس سکتا ہے۔

    اخبار نے خبردار کیا ہے کہ آبی تنازع اب محض 2 ممالک کا دوطرفہ مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب پوری علاقائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کا ایک بڑا معاملہ بن چکا ہے‘موسمیاتی تبدیلی’، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ اور دونوں ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کے دستیاب وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے ان حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائنسی اور سفارتی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا شفاف اور بروقت تبادلہ ناگزیر ہے، ورنہ یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں دھارے کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن نظیر قائم کر دیں گے عالمی سطح پر اب پانی کو جنگ، سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے پاکستانی مؤقف کو بھرپور توجہ اور تائید حاصل ہو رہی ہے۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    اسرائیلی وزیر کے فرانس میں داخلے پر پابندی

    فرانس نے اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمر بن گویر کے فرانسیسی سرزمین میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نویل بارو نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام غزہ جانے والے فلوٹیلا کے ارکان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر عالمی سطح پر بڑھتے غصے کی عکاسی کرتا ہے،اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویرکو فرانس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی یہ فیصلہ فرانسیسی اور یورپی شہریوں کے ساتھ نامناسب رویے کے باعث کیا گیا تمار بن گویر کے اقدامات ناقابل قبول ہیں، اسی لیے فوری طور پر ان کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے گرفتار کارکنوں کو ہاتھ بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا تھا، اور ویڈیو میں ان کا مذاق بھی اڑایا گیا۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگرچہ فرانس اس بحری قافلے کے طریقہ کار کی حمایت نہیں کرتا کیونکہ اس سے سفارتی اور قونصلر خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے، تاہم فرانسیسی شہریوں کو دھمکانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی، خصوصاً اگر ایسا کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے کیا جائے، اتمار بن گویر کے اقدامات اور بیانات کی مذمت خود اسرائیل کے متعدد حکومتی اور سیاسی رہنماؤں نے بھی کی ہے اسرائیلی وزیر ماضی میں بھی فلسطینیوں کے خلا ف نفرت انگیز اور تشدد پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ اتمار بن گویر پر مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس سے قبل اٹلی بھی اسی نوعیت کا مطالبہ کر چکا ہے۔

    اتمار بن گویر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ایک انتہائی دائیں بازو کے رہنما ہیں، جو غزہ جنگ اور فلسطینیوں سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے عالمی تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز صمود فوٹیلا سے وابستہ کارکنان کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حراست اور ناروا سلوک کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صورتِ حال حساس ہو گئی تھی جب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے عبرانی زبان میں کیپشن لکھا کہ ہم دہشت گردی کے حامیوں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا اس واقعے کے بعد اٹلی، ترکیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، جرمنی، اسپین، بیلجیئم، فرانس، آئرلینڈ، نیدرلینڈ سمیت دیگر ممالک اور یورپی یونین نے اسے انسانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی اور باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔

  • فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’ مشرقی وسطیٰ کی جانب روانہ

    فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گول’(Charles de Gaulle) کو مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے،تاکہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ مشن کے لیے پیشگی تیاری کی جا سکے –

    فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی حفاظت کے لیے تیار ہے بلکہ اس صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر سکتا ہے صدر امانوئل میکرون کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں کشیدگی کے باوجود سمندر ی راستوں کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

    بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے یہ بحری بیڑہ نہر سویز سے گزرتے ہوئے اپنے مشن کی طرف بڑھ رہا ہے فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کو بروقت شروع کیا جا سکے ‘شارل ڈی گول’ اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں تعینات ہوں گے۔

    اس مشن میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور صدر میکرون کی قیادت میں متعدد ممالک کی شمولیت متوقع ہے یہ مشن صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے بعد بحری تجارت کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں اسی وجہ سے تقریباً 40ممالک اس ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی میں شریک ہیں امریکا اور ایران کو بھی الگ الگ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ خطے میں تناؤ کم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل دو بارہ معمول پر آ سکے-

  • فرانسیسی  طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہازآبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کیلئےروانہ

    فرانسیسی شپنگ کمپنی کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمانی ساحل کا رخ کر لیا، جب کہ اسی کمپنی کے ایک اور جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق فرانسیسی شپنگ کمپنی کے کنٹینر بردار جہاز سیگون نے آبنائے ہرمز عبور کر کے عمان کے ساحل کے ساتھ سفر شروع کر دیا ہے، یہ جہاز اس سے قبل خلیجی پانیوں میں موجود تھا اور منگل کے روز آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا تھا۔

    اعداد و شمار فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق بدھ کے روز یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکل کر محفوظ راستے پر گامزن ہو گیا، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اسی فرانسیسی کمپنی کے ایک اور جہاز سان انتونیو پر منگل کے روز اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس حملے میں جہاز کے عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے ہیں، کمپنی کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا،دوسری جانب فرانس نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے مشن کے لیے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب روانہ کر دیا،چارلس ڈیگال طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً 20 رافیل جنگی طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے ساتھ کئی جنگی فریگیٹس بھی موجود ہیں۔

    فرانسیسی وزارت دفاع کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا فلیگ شپ جہاز اپنے ہمراہ جنگی جہازوں کے ساتھ نہر سویز عبور کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے، اس پیشگی تعیناتی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں، اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم سے کم ہو۔

    فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ فرانس اور اس کے شراکت دار نہ صرف آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں بل کہ اس کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں فرانس چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ رکھا جائے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کےاسلام آباد میں جاری مذاکرات کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا-۔

    فرانسیسی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہےانہوں نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں مستقل کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں میکرون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی بحال کرے اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    فرانسیسی صدر نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیاانہوں نے لبنانی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرانس لبنانی حکام کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے صرف لبنانی حکام ہی ریاست کی خود مختاری کا استعمال کرنے اور لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی اور آئینی حق دار ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اعلیٰ سطح وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے اور وہ اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہے ’ایکس‘ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ایران کی ریاست عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ  فرانسیسی صدر کو  بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ’فرانس کے میکرون کو فون کیا، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ بہت برا سلوک کرتی ہیں اور وہ ابھی تک جبڑے پر لگنے والے وار (تھپڑ) سے سنبھل رہے ہیں‘۔

    ٹرمپ نے کہا کہ فرانس کاصدر میکرون جسکی بیوی اسے بہت زلیل کرتی ہے اورابھی تک اسکا دایاں جبڑہ( بیوی سے مار کھا کر) زخمی ہےمیں نےاسے کیخلاف جنگ میں مدد کیلئے فون کیا لیکن اس نےصاف انکارکر دیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ نے میکرون کا مذاق اُڑایا ہے۔ اس سے قبل ڈیووس میں میکرون کی تقریر کے دوران ان کے ہوا بازوں جیسے سن گلاسز پہننے پر بھی ٹرمپ نے طنز کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس فرانسیسی صدر سرکاری دورے پر ویتنام پہنچے تھے جہاں ایئرپورٹ پر حکام اور صحافی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی اے پی کے کیمرہ مین نے چند سیکنڈز کی ویڈیو کلپ ریکارڈ کی جو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی ویڈیو میں صدر میکرون کو جہاز کے گیٹ پر نمودار ہوتے اور اپنی اہلیہ بریگِٹ میکرون کو دونوں ہاتھوں سے دھکیلتے دیکھا گیا، اس دوران صدر میکرون کچھ پریشان نظر آئے مگر پھر رپورٹرز کی طرف دیکھ کر مسکرا کر ہاتھ ہلایا بعد ازاں انہوں نے بریگِٹ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن بریگِٹ میکرون نے سیڑھیوں کا جنگلہ پکڑ کر اترنے کو ترجیح دی صدر میکرو ن نے صحافیوں کو وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف ہنسی مذاق تھا۔

    فرانسیسی خاتون اول بریگِٹ میکرون 72 سالہ ہیں اور صدر میکرون سے 24 سال بڑی ہیں، دونوں کی پہلی ملاقات ہائی اسکول میں ہوئی تھی جب صدر میکرون کی عمر 15 سال اور بریگِٹ کی عمر 39 سال تھی۔ بعد ازاں 2007 میں دونوں نے شادی کی۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا،فرانس

    فرانس کے نیول چیف ایڈمرل نکولس ووجور نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بحال کرنے کے موجودہ اقدامات ناکافی ہیں، اس معاملے پر چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز پیرس میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی نیول چیف نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چین کو کردار ادا کرنا پڑے گا، اب تک چین کی بحریہ کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عملی اقدام کرتے نہیں دیکھا گیا، چینی اور ایرانی حکام کے درمیان جہازوں کی محدود آمد و رفت کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم یہ اقدامات معمول کی بحر ی ٹریفک بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، اسی لیے چین کو اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنی بے چینی ظاہر کرنا ہوگی۔

    ایڈمرل ووجور کے مطابق فرانس اس معاملے پر دیگر ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سیاسی سطح پر یہ طے کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،طے ہوجانے کے بعد شرائط طے ہوجانے کے بعد اس عمل کی نگرانی کے لیے فوجی کردار بھی ضروری ہوگا، جس کے لیے ماضی میں یورپی یونین کے تحت چلنے والے ’ایجینور مشن‘ جیسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ماہرین آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے کے حوالے سے بھی جائزہ لے رہے ہیں، جنہیں ہٹانا ضروری ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی، یہ معاملہ صرف فرانس کا نہیں بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سمیت تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

  • فرانس میں بچوں کے دودھ میں زہریلے مواد کا انکشاف

    فرانس میں بچوں کے دودھ میں زہریلے مواد کا انکشاف

    فرانس نے بچوں کے دودھ (انفنٹ فارمولا) میں ایک خطرناک زہریلے مادے سیریولیڈ کی قابلِ قبول مقدار پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ آلودہ بچوں کے دودھ کی مصنوعات دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں واپس منگوائی گئیں۔

    فرانسیسی حکام کے مطابق سیریولیڈ ایسا زہریلا مادہ ہے جو متلی، قے اور اسہال جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے حالیہ مہینوں میں کئی کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنے دودھ کے بیچ واپس منگوائے، جس کے بعد عالمی سطح پر غذائی تحفظ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے فرانس میں دسمبر اور جنوری کے دوران دو بچوں کی امو ات کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے ممکنہ طور پر آلودہ دودھ استعمال کیا تھا تاہم تاحال دودھ اور بیماری یا اموا ت کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

    فرانسیسی وزارتِ زراعت نے کہا ہے کہ بچوں کی صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہے نئے قواعد کے تحت سیریولیڈ (Cereulide)کی حد 0.014 مائیکروگرام فی کلوگرام جسمانی وزن مقرر کی گئی ہے، جو اس سے پہلے 0.03 مائیکروگرام تھی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری بار حد کم کی گئی ہے۔

    تحقیقات کے دوران شبہ ایک چینی سپلائر پر بھی ظاہر کیا گیا ہے جو بچوں کے دودھ میں استعمال ہونے والے ایک اہم جزو اے آر اے (ARA) فراہم کرتا ہے اگرچہ فرانسیسی حکام نے کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم عالمی میڈیا کے مطابق یہ سپلائر چین کے شہر ووہان میں قائم ہے۔

    یورپی کمیشن نے یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی سے بچوں کی مصنوعات میں سیریولیڈ کے لیے باضابطہ معیار طے کرنے کی درخواست کی ہے، جس پر 2 فروری کو رائے دی جائے گی اس معاملے میں نیسلے، ڈینون اور لیکٹالِس سمیت کئی بڑی یورپی کمپنیوں نے بھی دودھ کی مصنوعات واپس منگوائیں۔

    صارفین کے حقوق کی تنظیم فوڈ واچ نے حکومت اور کمپنیوں کے خلاف سست روی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں متاثرہ خاندان بھی شامل ہو گئے ہیں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یورپ میں ہر سال تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار ہوتے ہیں جبکہ تقریباً 4 ہزار 700 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔