Baaghi TV

Tag: فراڈ

  • ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    بند ہونے والی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی بدھ کو دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عارف نقوی نے عدالت کا یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا-

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

    مقدمہ ہارنے کے بعد ایک وقت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کے بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

    برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہےعارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

    امریکی حکومت کے سرکاری وکیل مارک سمرز نے عدالتی فائلنگ میں کہا کہ عارف نقوی کے مقدمے کے امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس کپلان ہیں جنہوں نے ایف ٹی ایکس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ کی بھی ضمانت کی منظوری دی تھی جو ’مضبوط اشارہ‘ ہے کہ نقوی کو ضمانت مل جائے گی۔

    برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    عارف نقوی کے وکیل نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔

    امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔

    عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جب کہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔

    ماضی میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ایک وقت میں ان کی حکومت کو بے ضابطہ مشاورت فراہم کر رہے تھے۔

    اس کے علاوہ عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔

    ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

    پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں سال 2018 میں فرم کے خاتمے کے وقت ابراج ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض تھا۔

    امریکہ میں عارف نقوی پر فراڈ کے الزامات ہیں اور مبینہ متاثرین میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے 2019 میں برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عارف نقوی کے کاروباری ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اور استغاثہ کے وکلاء نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عارف نقوی کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نے عارف نقوی کے خلاف تحریری درخواست میں سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے دوران فراڈ اور منی لانڈرنگ کے 16 مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزمات لگائے تھے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …

    عدالتی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے مطابق ابراج گروپ کو جب 2014 میں مالی مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں تو اس وقت مبینہ طور پر فراڈ شروع ہوا تھا۔ گروپ کی آمدنی روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی پڑنے لگی تو مبینہ طور پر عارف نقوی اور اس کے ساتھ شامل کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر گڑ بڑ کرنا شروع کی۔

    کہا گیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کے دو طریقے تھے۔ پہلے طریقہ جو مبینہ طور پر اختیار کیا گیا وہ ابراج گروپ کی مالی مشکلات کو چھپانے کے لیے سرمایہ کاروں کا پیسہ ادھر سے ادھر کیا گیا یا جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اسے دوسری جگہوں پر استعمال کیا جانا شروع کیا گیا۔ دوسرا طریقہ گروپ کے اثاثوں کی قدر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی۔ گروپ کی مالی حالت کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے غلط تصویر پیش کر کے ان سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گروپ کے اندر جاری اس مبینہ بدعنوانی اور فراڈ سنہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم ای میل پیغام سرمایہ کاروں کو موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا ‘کیش’ کو ابراج کے ‘ورکنگ کیپٹل’ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ جو پیسہ ادھر اُدھر کیا جا رہا تھا اس کو ابراج گروپ کی مالی حالت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا انھوں نے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک پاکستانی سیاست دان کو بھی رشوت دی۔

    ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کرنے کی …

    عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کےایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

    سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھاسنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

    ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

    پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

    دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہےابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ اور خزانہ حکام کو طلب کر …

    عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

    حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔

  • آن لائن بینک فراڈ کے بڑھتے واقعات پرصدر مملکت کا نوٹس

    آن لائن بینک فراڈ کے بڑھتے واقعات پرصدر مملکت کا نوٹس

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے آن لائن بینک فراڈ اور جعل سازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس

    آن لائن بینکنگ فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں نوسرباز خود کو فون پر بینک کا اہلکار ظاہر کرکے صارفین کی ذاتی بینکنگ تفصیلات حاصل کرکے شہریوں کی رقم آن لائن ذرائع سے نکلوا لیتے ہیں ،صدر مملکت نے آن لائن بینک فراڈ سے متعلق اخبارات میں خبروں پر تشویش کا اظہارکیا، حال ہی میں معروف ناول نگار اور ڈرامہ نگار مرزا اطہر بیگ کو ایک آن لائن نوسرباز نے ان کے بینک اکاؤنٹ سے 11 لاکھ روپے سے محروم کر دیا تھا ، صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ بینکنگ محتسب کے ذریعے صدر مملکت کی جانب سے سینکڑوں فراڈ کیسز کا فیصلہ کرنے اور آن لائن فراڈ متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے باوجود فراڈ کے واقعات میں اضافہ پریشان کن ہے، صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کو تشویشناک رجحان کا سنجیدگی سے اور سخت نوٹس لینے کی ہدایت کی، اور کہا کہ بینکنگ محتسب ہنگامی بنیادوں پر مناسب چیک اینڈ بیلنس اور فول پروف سیکیورٹی سسٹم لاگو کرنے کے لیے ٹھوس، بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ تمام بینکوں کو مشترکہ طور پر تمام ذرائع ابلاغ، روایتی اور ڈیجیٹل کے ذریعے آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے، بینک صارفین کو آن لائن بینکنگ پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے، آن لائن بینکنگ کے حوالے سےاسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور متعلقہ ایس او پیز کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے،صدر کی ہدایت پر ایوانِ صدر نے مرزا اطہر بیگ سے رابطہ کیا،بینک کی جانب سے مقررہ وقت میں ریلیف نہ ملنے کی صورت میں بینکنگ محتسب کو باضابطہ شکایت درج کرانے کا کہا

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    غیر سنجیدہ اپیل،وقت اور وسائل ضائع کرنے پرصدر مملکت نے کیا جرمانہ

  • فراڈ ڈرامہ اختتام پذیر

    فراڈ ڈرامہ اختتام پذیر

    ڈرامہ سیریل فراڈ‌ کی آج آخری قسط نشر کی گئی، اس میں احسن خان جو کہ ایک فراڈیہ کا کردار نبھا رہے تھے ان کو انجام تک پہنچایا گیا اور انہیں گرفتار کروا کر برائی کا خاتمہ کیا گیا. اس ڈرامے کی کہانی ایک سماجی ایشو ہے جو بچیوں کی شادیوں اور ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ‌ پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح‌سے لوگ جھوٹ بول کر شادی کر لیتے ہیں لیکن بعد میں ویسا کچھ نہیں ہوتا جیسا بتایا جاتا ہے. صبا قمر نے اس ڈرامے میں‌ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھایا ہے جس کے ساتھ زندگی ایک بڑا دھوکہ کر دیتی ہے وہ وقتی طور پر ٹوٹ جاتی ہے لیکن بہت جلد خود کو سنبھال لیتی ہے. اسی طرح‌سے یہ کہانی ان بچوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو بن ماں کے پلتے ہیں اور جن کے والد دوسری شادی کر لیتے ہیں.

    اسماء عباس نے اس میں ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا ہے جو اپنے سوتیلے بیٹے (میکال ذوالفقار) کو کبھی دل سے نہیں‌اپناتی جب موقع ملتا ہے اسکو یہ کہہ کر زندگی سے نکال باہر کرتی ہے کہ تمہاری وجہ سے تمہارے باپ نے میرے نام کچھ نہیں‌ کیا. اس کہانی میں‌والدین کے ایک مضبوط میسج ہے لڑکیوں‌کی شادی سوچ سمجھ کر کریں صرف اس پریشر سے نہ کریں‌کہ لوگ کیا کہیں‌گے کہ اتنی عمر ہو گئی دوسرا یہ ہے کہ لڑکیاں بھی اگر کسی دھوکے کا شکار ہو جائیں تو ٹوٹ کر بکھرنے کی بجائے خود سنبھالیں زندگی کو بھرپور انداز سے جئیں .

  • سال 2022 کے 8 مقبول ڈرامے

    سال 2022 کے 8 مقبول ڈرامے

    ہر دور میں پاکستانی ڈراموں کو بے حد مقبولیت حاصل رہی ہے. جب سے ٹی وی پاکستان میں آیا ہے ہمارے ہاں بننے والے ڈرامے ہر دور میں ہر نسل نے بے حد پسند کئے. گو کہ پرائیویٹ چینلز کی بھرمار کی وجہ سے اب بہت زیادہ ڈرامہ بن رہا ہے اور ڈرامہ پہلے جیسا نہیں رہا ، وقت بدلنے کے ساتھ ڈرامہ بننے کے تقاضے بھی تبدیل ہوئے. آج ہمارا جتنا بھی تبدیل ہو چکا ہے لیکن مسلسل شائقین کی توجہ اپنی طرف مرکوز کئے ہوئے ہیں. سال 2022 میں ہر چینل پر متعدد ڈرامے چلے لیکن ہم یہاں پر آٹھ ڈراموں کا زکر کریں گے جنہوں نے عوام میں مقبولیت حاصل کی .

    فراڈ ، بدذات ، وہ پاگل سی، دل آویز ، کیسی تیری خود غرضی، سنگ ماہ اور میرے ہمسفر ایسے ڈرامے ہیں جن کو بہت زیادہ دیکھا گیا. ڈرامہ سیریل فراڈ‌ میں صبا قمر، میکال ذولفقار اور احسن خان کافی عرصے کے بعد نظر آئے . صبا قمر کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا. دوسری طرف کسی تیری خود غرضی میں پہلی بار درفشاں اور دانش تیمور ایک ساتھ دکھائی دئیے دونوں کی جوڑی کو کافی مقبولیت ملی . ڈرامہ سیریل میرے ہمسفر میں فرحان سعید اور ہانیہ عامر کی جوڑی کو بھی کافی پسند کیا گیا،. اس سال کی یہ سب سے زیادہ مقبول ٹی وی جوڑی رہی .

  • آن لائن کمیٹی:پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ڈوب گئے

    آن لائن کمیٹی:پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ڈوب گئے

    لاہور:آن لائن کمیٹی:پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ڈوب گئے،اطلاعات کے مطابق کچھ ایسی مصدقہ خبریں آرہی ہیں جن میں‌بتایا گیا ہے کہ پاکستانی خواتین مختلف فیس بک گروپس کے ذریعے لاکھوں مالیت کی رقم سے محروم ہوئیں جو کاروباری شخصیت ’سدرہ حمید‘ کے ذریعے چلائی جاتی ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر 42 کروڑ روپے کی کمیٹیاں ہڑپ کرلی ہیں‌

    .

     

    اس وقت سوشل میڈیا خاص کر فیس بک پران پاکستانی‌خواتین کا واویلا جاری ہے جو اس دھوکے کا شکارہوئیں ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سارے گھنونے کھیل کا اس وقت پردہ چاک ہوا جب ان خواتین نے اپنی رقم واپس لینے کےلیے کسی بڑی شخصیت سے رابطہ کیا

     

    یہ خاتون کہ جس نے آن لائن کمیٹیوں کے ذریعے پاکستانی خواتین کے 42 کروڑ روپے ہڑپ کرلیے ہیں ، وہ بڑی ڈھٹائی سے اس دھوکہ دہی کو ایک حادثے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتی ہیں‌کہ میرا نام سدرہ حمید ہے اور میں معذرت کے ساتھ دنیا کو اپنی کمیٹیوں کے حوالے سے اپنے موجودہ موقف کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کر رہی ہوں۔ میں نے واقعی اپنی کمیٹیوں میں گڑبڑ کر دی ہے اور اب میں عملی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہوں اور میرے پاس کمیٹی جمع کروانے والوں کی کمیٹیوں کو ادا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں نے چھوٹی کمیٹیوں سے شروعات کی اور اس نے میرے لیے اچھا کام کیا لیکن جیسے جیسے یہ بڑھتا گیا اور میں نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کی مشکلات میں مدد کرنے کے لیے مزید کمیٹیاں کھولتی گئی ، میں نے اپنے آپ کو ہر ماہ زیادہ سے زیادہ رقم ادا کرنے کی پریشانی میں پایا۔ ماہانہ ادائیگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مجھے مزید کمیٹیاں شروع کرنی پڑیں اور اس کے نتیجے میں آخرکار ایک ایسا رولنگ لوپ نکلا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔ اب مجھے اتنی رقم ادا کرنی ہے، جس کا میں حساب بھی نہیں کر سکتی۔

     

     

    سدراحمید نے وضاحت کی کہ اس نے خواتین کے واجب الادا رقم کی گنتی گنوائی ہے لیکن یقین دہانی کرائی کہ وہ غائب نہیں ہوں گی، اور وہ اور اس کا خاندان ہر ایک فرد کو واپس کرے گا۔ اس نے اپنے صارفین سے بھی درخواست کی کہ وہ پہلے پیسے ڈوب جانے کے باوجود مزید کمیٹیاں جمع کرواتے رہیں تاکہ جن کو کمیٹیاں دینی ہیں انکو آسانی سے ادائیگی کی جاسکے

    https://twitter.com/superkhadijaman/status/1598997865417740288?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1598997865417740288%7Ctwgr%5E723d94eaaefa25a7f5d8d2f6b5f9d69d15745665%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fpropakistani.pk%2Flens%2Fpakistani-women-lose-committee-millions-of-rupees-after-entrepreneur-sidra-humaid-announces-bankruptcy%2F

    سدرہ حمید مبینہ طور پر ایک کاروباری شخصیت ہیں جن کے دو کاروبار ہیں – ایک کھانے کے لیے اور دوسرا کروشیٹڈ گفٹ آئٹمز بنانے کے لیے۔ ایک نیٹیزن نے انکشاف کیا کہ زیر بحث خاتون مختلف فیس بک گروپس میں کئی خواتین کا اعتماد جیتنے کے بعد کمیٹیوں میں شامل ہو گئی تھی۔ سدرہ حمید نے بغیر کسی دستاویزات یا تصدیق کے متعدد کمیٹیوں کو آن لائن منظم کیا۔

    لیکن بعد میں یہی خاتون ایک فراڈی ثابت ہوئی اور وہ پاکستانی خواتین کیے 42 کروڑ روپے لے اڑی اور اب نئی نئی کہانیاں سنا رہی ہے

  • لاہور:اے ٹی ایم کارڈزکوہیک کرکےاکائونٹ سے پیسے نکلوانےوالا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنےلگے

    لاہور:اے ٹی ایم کارڈزکوہیک کرکےاکائونٹ سے پیسے نکلوانےوالا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنےلگے

    لاہور:اے ٹی ایم کارڈز کو ہیک کر کے اکائونٹ سے پیسے نکلوانے والا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنے لگے،اطلاعات کے مطابق لاہور میں ایک بار پھرہیکرز لاہور کی اے ٹی ایم مشینوں سے کروڑ روپے ہتھیانے لگے،پہلے فراڈ کرنے کے طریقے اور تھے اوراب نئے طریقوں سے صارف کے ساتھ فراڈ ہوتا ہے اور اسے پتہ تک بھی نہیں چلتا

    اے ٹی ایم ا ستعمال کرنے والے خبردار رہیں، آپ کے اے ٹی ایم کا پورا راز کوئی اور چرا کر آپ کے لاکھوں روپے نکلواسکتا ہے، پاکستان کے شہریوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح کے بڑے فراڈ، بڑے گڑبڑ گھٹالے کا انکشاف ہوا ہے۔

     

    مصدقہ ذرائع کے مطابق آج کل جو فراڈ ہورہا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ جب اے ٹی ایم مشین صارف سے کوئی سوال پوچھ لیے ،صارف سے کہے کہ وہ بائیومیٹرک طریقہ استعمال کریں‌ یا قومی شناختی کارڈ مانگے تو فورا مشین سے اے ٹی ایم کارڈ نکال لینا چاہیے ، اور اگرکارڈ نہیں نکلتا تو پھرمتعلقہ بینک کو فون کرکے یہ کارڈ بلاک کروا لینا ضروری ہے وگرنہ وہاں‌ارد گرد میں موجود فراڈیئے آپ کے پیسے لے اُڑیں گے

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک دن میں پانچ سے چھ اس فراڈ کے متعلقہ ایف آئی آرز لاہور کے تھانہ جوہرٹاون اور ماڈل ٹاون میں ہوئی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس فراڈ میں ایک صارف پانچ لاکھ سے محروم ہوگیا اورایسے ہی ایک صارف تین لاکھ سے محروم ہوگیا ، باقی صارف بھی بھاری مالی نقصان اٹھا چکے ہیں

    پاکستانی صارفین کو اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے چوری ہونے کا پتا بینک کے بتانے پر چلا، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے تحقیقات شروع کردیں ۔

    اس میں ہوتا یہ ہے کہ اے ٹی ایم مشین کی کسی خفیہ جگہ پرفراڈیئے ایک ڈیوائس لگا دیتے ہیں جوقومی شناختی کارڈ پوچھتے وقت یا بائیومیٹرک کرتے وقت آپ کا سب ڈیٹا محفوظ کرلیتا ہے اورجب صارف وہاں سے تنگ آکرچلا جاتا ہےتو پیچھے سے فراڈی آکر وہ رقم نکلوا لیتے ہیں‌

    !نوسربازوں نے اے ٹی ایم سے فراڈ کا نیا طریقہ دریافت کرلیا، ٹرانزیکشن سے پہلے مشین میں کاغذ پھنسا دیکھیں تو ہرگز استعمال نہ کریں۔جب بھی اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے جائیں اور مشین میں کارڈ ڈالنے کی جگہ پر اگر آپ کو کچھ کاغذ پھنسے ہوئے دکھائی دیں تو مشین ہرگز استعمال نہ کریں، اگر کارڈ پھنس جائے اور اے ٹی ایم کے باہر سے کوئی شخص آپ کی مدد کیلئے آئے تو اسے ہرگز اپنا پاسورڈ نہ بتائیں

     

    اس میں‌ سارا ڈیٹا یہ فراڈ کرنے والوں کے پاس پہنچ جاتا ہے ،اس لیے احتیاط ضروری ہے یاد رہےکہ لاہور میں ایسے واقعات بڑی تیزی سے روزانہ کی بنیاد پرہونے لگے ہیں‌

     

    اے ٹی ایم  کارڈ استعمال کرنے کے طریقے

    ATMاصل میں Automated teller Machine  مخفف ہے۔اس مشین سے آپ بآسانی اپنی رقم کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں لیکن آجکل کچھ شرپسند عناصر اس مشین پر کچھ اضافی چیزیں نصب کرکے آپکی معلومات چرا نے کی کوشش کرتے ہیں لہذا اے ٹی ایم مشین کا استعمال کرنے سے قبل چند باتوں کا جاننا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کو مالی نقصان کاسامنا ہوسکتا ہے۔

    اے ٹی ایم کا استعمال کرتے وقت اپنی اور اپنے پیسوں کی حفاظت کے بارے میں سوچنا ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔ ویران علاقوں میں اے ٹی ایم استعمال کرنے سے گریز کریں بینکوں یا سپر مارکیٹوں کے اندر واقع اے ٹی ایمز استعمال کریں جہاں دوسرے لوگوں ارد گرد موجود ہوں کیوں کہ اسطرح کی جگہ پہ چھینا جھپٹی کے خطرات کم ہوتے ہیں ۔

    اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال

    اے ٹی ایم استعمال کرنے سے پہلے  اس بات کا یقین کر لیں  کہ مشین کی کسی چیز کو چھیڑا ہوا نہیں ہےاگر آپ کو لگتا ہے کہ مشین کے کی بورڈ پر اضافی بورڈ لگایا گیا ہے یا سکرین کے بالکل اوپر کوئی اضافی کیمرا نصب ہے تو اس کا استعمال ہر گز  نہ کریں(کیوں کہ اس  کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجرم نے آپکی  مالی معلومات کو چوری کرنے کے لئے اے ٹی ایم کو "سکینر” سے منسلک کیا ہے۔)

    اے ٹی ایم مشین کا استعمال کرنے سے قبل اس Slot کو ہلا کرضرور دیکھیں اگر اس پر آپ کا ڈیٹا چوری کرنے کیلئے  کوئی اضافی Slot لگی ہوئی تو وہ ضرور ہلے گی اور ہو سکتا ہے وہ اتر ہی آئے ایسی صورت میں اس اے ٹی ایم مشین کا استعمال ترک کرکے کسی اور اے ٹی ایم کا رخ کریں اور اگر کوئی اضافی Slot نہیں لگی تو وہ بالکل نہیں ہلے گی۔ ان اضافی چیزوں کو skimming devices  کہا جاتاہے۔

    اےٹی ایم میں پن نمبر کا اندراج کرتے وقت اوپر ہاتھ رکھ لیں تاکہ آپ کے خفیہ کوڈ کے بارے کوئی جان نہ سکے۔

    اے ٹی ایم مشین میں دو بار سے زیادہ غلط پن نمبر کا اندراج نہ کریں ورنہ آپ کا کارڈ مشین ضبط کرسکتی ہے اور اس صورت آپ کو آپکی برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا۔

    اے ٹی ایم کو چھوڑنے سے پہلے اپنے پیسے اور اے ٹی ایم کارڈ ضرور نکال لیں  اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ مشین سے پیسے باہر نکلنے کے بعد آپ دیر نہ کریں اور دس سیکنڈ سے پہلے ان کو نکال لیں ورنہ ہو سکتا ہے اے ٹی ایم آپکے پیسوں کو حفاظت کے پیش نظر واپس ضبط کرلے اس طرح آپ کا وقت ضائع ہوسکتا ہے اور آپ کو اپنی برانچ کا رجو ع بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

     

  • ایف آئی اے نے ریلوے کے اعلیٰ افسر کو کروڑوں کا فراڈ کرنے پر گرفتار کر لیا

    ایف آئی اے نے ریلوے کے اعلیٰ افسر کو کروڑوں کا فراڈ کرنے پر گرفتار کر لیا

    لاہور: ریلوے کے اعلی افسر کو ایف آئی اے نے کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے پر گرفتار کر لیا-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق ریلوے افسر پر الزام ہے کہ ملزم نے بطور پی ڈی ریلوے لوکل پرچیز(Local Purchase) اور سادہ لوح افراد سے کروڑوں روپے بٹورے تھے تفصیلات کے مطابق ملزم عدنان شافع جس نے گریڈ 20 میں ترقی پا کر بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر ریلوے اپنے دیگر افسران کے ساتھ مل کر تقریباً چار کروڑ کا فراڈ کیا اور کنٹریکٹر سے ٹینڈرز کے عوض ٹھیکہ جات کہ مد میں دو دو کڑور روپے وصول کئے۔

    بعد ازاں اپنے فرنٹ مین ریلوے ملازم عثمان جاوید و دیگر کی مدد سے ڈکیٹی کا ڈرامہ رچایا اور کنٹریکٹر کی رقم ہضم کرنا چاہی مگر کنٹریکٹر خرم اقبال نے گذشتہ سال کارروائی کیلئے ایف آئی اے کو درخواست دی –

    کنٹریکٹر خرم اقبال کی درخواست پر مفصل انکوائری کے بعد ملزم عدنان شافع پر دسمبر 2021 میں مقدمہ نمبر 103/21 درج ہوا، محمکہ کی اندرونی انکوائری کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی کے انہی ٹھیکہ جات کی رقم ملزم عدنان شافع ہضم کر چکا ہے۔

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

  • ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر عوام سے فراڈ — نعمان سلطان

    سرمایہ دار ہمیشہ کم آمدنی والے غریب افراد کو سہانے خواب دیکھا کر لوٹتے ہیں. ایک غریب شخص جس کی زندگی کی خواہش اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے اپنی ملکیتی جگہ پر رہائش اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے یا مزید بہتر کرنے کے لئے ذرائع آمدن میں اضافہ ہے. ان کو سرمایہ دار لالچ میں مبتلا کر کے، ان کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ان کی کم کاروباری سمجھ بوجھ کو استعمال کرتے ہوئے انہیں زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں.

    کئی اللہ کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود سرمایہ، گھر کے زیورات بیچ کر اور لوگوں سے ادھار لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور دھوکے کی صورت میں اپنے سرمائے سے محروم ہونے کے علاوہ لوگوں کے مقروض بھی ہو جاتے ہیں. اور قرض خواہوں کے روز روز کے تقاضوں سے گھبرا کر وہ بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر لیتے ہیں.

    سرمایہ داروں کے فراڈ کے کئی طریقوں میں سے ایک طریقہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر غریب عوام کو لوٹنا ہے. یہ یاد رہے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی جعلی نہیں ہوتی لیکن ان کی اکثریت جعل ساز ہی ہوتی ہے.یہ شروع میں ہزار یا دو ہزار کنال سستی زمین خرید کر وہاں تعمیراتی مشینری منتقل کر دیتے ہیں.ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایک یا دو خوبصورت سی مین انٹری بنا دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ سوسائٹی کے شروع میں ہی ہاؤسنگ سوسائٹی کا مرکزی آفس بنا دیا جاتا ہے.

    پھر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہاؤسنگ سوسائٹی کی تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے. کاغذات میں ہاؤسنگ سوسائٹی میں مسجد، پارک، سکول، کشادہ مرکزی سڑکیں اور لنک روڈ، کمرشل ایریا، بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونا، ہاؤسنگ سوسائٹی کی اپنی ذاتی سیکیورٹی، پانی کی وافر مقدار میں فراہمی الغرض دنیا کی ہر سہولت فراہم کی جاتی ہے.

    تعمیراتی مشینری کو دیکھا کر بتایا جاتا ہے کہ ڈیویلپمنٹ زور و شور سے جاری ہے. ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں. اس کے بعد شروع میں پراپرٹی ڈیلرز کو زیادہ منافع پر رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی فائلیں مناسب تعداد میں فراہم کی جاتی ہیں. وہ اپنے منافع کے لالچ میں اپنے انوسٹر کو بتاتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں فائلیں خرید لیں.

    ساری فائلیں جب انوسٹر اٹھا لیتا ہے تو مارکیٹ میں فائلیں شارٹ ہونے کی وجہ سے بلیک میں بکتی ہیں اور یہاں سے چھوٹے انوسٹر، تنخواہ دار یا چھوٹے کاروباری شخص کی بدنصیبی شروع ہوتی ہے. وہ منافع کمانے، اپنی ذاتی رہائش بنانے یا اپنی بچت محفوظ رکھنے کے لئے پلاٹ کی فائلیں خرید لیتا ہے اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق تھوڑی تھوڑی کر کے فائلیں مارکیٹ میں فروخت کرتے رہتے ہیں.

    چھوٹے انوسٹر کو اس وقت دھچکہ لگتا ہے جب اس کی فائلیں فروخت نہیں ہوتی اور اسے پلاٹ کی پہلی یا، دوسری قسط دینی پڑ جاتی ہے اور وہ اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچانے کے لئے فائلیں نقصان پر فروخت کر دیتا ہے جبکہ جو لوگ اپنے رہنے کے لئے وہاں پلاٹ لیتے ہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کر پلاٹ کی قسطیں بھرتے رہتے ہیں.

    اس دوران ہاؤسنگ سوسائٹی والے لوگوں کے جمع شدہ پیسوں سے تھوڑا بہت سوسائٹی میں ترقیاتی کام بھی کراتے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آس امید لگی رہتی ہے کہ سست روی سے سہی لیکن کام ہو رہا ہے اور سوسائٹی لوکل ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اپنی خرید سے کئی گنا زیادہ جگہ (مثلاً اگر دو ہزار کنال جگہ خریدی تو دس ہزار کنال بیچ دی) فروخت کر دیتی ہے.

    کیونکہ سوسائٹی گورنمنٹ سے منظور شدہ نہیں ہوتی تو اس کا کوئی نقشہ بھی نہیں ہوتا اس وجہ سے لوگوں کو اپنے پلاٹس کی نشاندہی بھی نہیں ہوتی. سوسائٹی والے لوگوں کو یہی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ جس ترتیب سے فائلیں فروخت ہوئی اسی ترتیب سے سیکٹر بنا کر آپ کو پلاٹ الاٹ کر دئیے جائیں گے.

    اس دوران وہ حکومتی محکموں کا منہ ہر ممکن طریقے سے بند رکھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ اب ہم اس علاقے سے عوام کو مزید نہیں لوٹ سکتے تو وہ محکموں کا خرچہ بند کر دیتے ہیں کچھ دن بعد اخبارات میں آ جاتا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی بغیر این او سی کے بنی ہے اور اس میں لین دین کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا اور جب یہ خبر پڑھ کر لوگ سوسائٹی کے دفتر جاتے ہیں تو وہاں ان کی رام کہانی سننے والا کوئی نہیں ہوتا اور لوگوں کی عمر بھر کی کمائی لٹ جاتی ہے.

    اس فراڈ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کوشش کریں مکمل قیمت ادا کر کے پلاٹ خریدیں اور اپنے نام رجسٹری کرائیں اگر سوسائٹی میں پلاٹ لینا ہے تو گورنمنٹ کی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہی پلاٹ لیں.

  • نیگیٹیو اور پازیٹیو نہیں ،کردار کی اہمیت دیکھتا ہوں:احسن خان

    نیگیٹیو اور پازیٹیو نہیں ،کردار کی اہمیت دیکھتا ہوں:احسن خان

    اداکار احسن خان جن کی چوبیس جون کو رہبرا فلم ریلیز ہونے جا رہی ہے وہ کہتے ہیں کہ کردار ہیرو کا ہے یا ولن کا میں ان چکروں میںنہیں پڑتا بس یہ دیکھتا ہوں کہ کردار کتنا چیلنجنگ ہے اور روٹین سے ہٹ کر اس میں کیا ہے۔میں روایتی کام کرنا پسند نہیں کرتا بہت سال تک ایک ہی طرح کے کردار کرنے کے بعد سوچاکہ میں ورائٹی کیا دے رہا ہوں ۔اس لئے میں نے کرداروں کے انتخاب کا کرائی ٹیریا زرا سخت کیا اور یہ دیکھنا شروع کیا کہ جو کردار کرنے جا رہا ہوں اس میں نیا اور مختلف کیا ہے اور لوگوں کے لئے اس میں دلچپسی کی وجہ کیا ہوگی ۔اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے کام کے حوالے دعوے بالکل بھی نہیں کرتا بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ کام ایسا ہو کے لوگ دیکھ کر خود تعریف کریں ۔

    انہوں نے کہا کہ میں فلم اور ٹی وی کے کام میں تخصیص نہیں کرتا کیونکہ آرٹسٹ کو ٹی وی فلم ریڈیو سٹیج ہر میڈیم ٹرائی کرنا چاہیے اس سے اس کی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے ۔مجھے جو بھی کام ملا میں نے کیا لیکن اب زرا فوکس معیار پر زیادہ ہے جو کام مجھے چیلجنگ نہیں لگے گا وہ میںنہیں کروں گا ۔احسن خان نے کہا کہ میں نے رہبرا سے پہلے بھی فلمیں کیں ہیں میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ہر میڈیم میں سراہا گیا ہے ۔آج کل میرا فراڈ ڈرامہ چل رہا ہے اس میں میرا کردار ایسا ہے کہ جو دیکھنے والوں کے لئے ڈرامے کے آخر میں یقینا سبق آموز ہو گا ۔

  • جو لوگ میر ی اداکاری پر سوال اٹھاتے ہیں وہ چوراہا دیکھیں:میکال ذوالفقار

    جو لوگ میر ی اداکاری پر سوال اٹھاتے ہیں وہ چوراہا دیکھیں:میکال ذوالفقار

    ماڈل و اداکار میکال ذوالفقار نے اپنے حالیہ انٹرویو میںکہا ہے کہ جو لوگ میر ی اداکاری پر سوال اٹھاتے ہیں میں ان سے صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ جیو ٹی وی پر چلنے والا میرا ڈرامہ” چوراہا “ضرور دیکھیں ۔میکال نے کہا کہ مجھے مثبت تنقید سے فرق نہیں پڑتا اور جس کو منفی تنقید کرنی ہے وہ کرتا رہے مجھے اس سے بھی فرق نہیں پڑتا میں اپنا کام اچھے انداز میں کرتا ہوں ،مجھے لوگ پیار دیتے ہیں مجھے بس اتنا پتہ ہے۔میکال نے کہا کہ میں فلموں میں بہت جلد نظر آﺅں گا ۔اس حوالے سے کچھ پراجیکٹس پائپ لائن میںہیں بہت جلد ان پر کام بھی شروع ہو جائیگا امید ہے کہ میرے پرستار مجھے بڑی سکرین پر دیکھ کر خوش ہوں گے ۔

    یاد رہے کہ میکال کے آ ج کل دو ڈرامے آن ائیر ہیں ایک چوراہا اور دوسرا فراڈ ۔ ڈرامہ سیریل چوراہا میںمیکال روٹین سے ہٹ کر کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کردار لوگوں کو بہت پسند آرہا ہے ۔جبکہ ڈرامہ سیریل فراڈ میں میکال صبا قمر کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں دونوں کی جوڑی کافی پسند کی جاتی ہے کافی برسوں کے بعد یہ دونوں کسی ڈرامے میں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں ۔میکال صبا قمر کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ صبا کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ صبا قمر سے بہت بہترین اداکارہ ہیںان کی اداکاری کا انداز نہایت ہی نیچرل ہے جو دیکھنے والوں کو اپنی طرف یقینا متوجہ کرتا ہے۔