Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • برکس ممالک کا اجلاس:فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سختی سے مسترد ،2 ریاستی حل کی حمایت

    برکس ممالک کا اجلاس:فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سختی سے مسترد ،2 ریاستی حل کی حمایت

    برکس ممالک کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے میں غزہ جنگ بندی اور فلسطین کے 2 ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔

    نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہیں اجلاس کا ایک اہم چیلنج ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی تنازع پر پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرکے ایسا متفقہ مؤقف اختیار کرنا تھا جسے دونوں ممالک قبول کرسکیں۔

    برکس ممالک کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سختی سے مسترد کردیا گیا ہےبرکس ممالک نے غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرفہ اقدامات کی بھی مخالفت کی ہے۔

    اعلامیے میں مقبوضہ بیت المقدس کے تمام مذہبی اور مقدس مقامات کے احترام پر زور دیا گیا ہے، برکس ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پرعملدرآمد پر زور دیا ہے اعلامیے میں تنازعات کی روک تھام اور ان کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی تنازعات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعےحل کیے جائیں۔

    برکس رہنماؤں نےجوہری جنگ کے بڑھتے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے دوران جوہری تنصیبات کی حفاظت اور سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا ہے،اس کے علاوہ برکس ممالک نے یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور محصولات میں اضافے پر بھی تنقید کی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برکس سربراہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر مذاکرات کاروں نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کیا، جس میں کسی ایک ملک کا نام لیے بغیر کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جارحیت کی مذمت کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ برکس ممالک میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، یہ گروپ 2009 میں ایسے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا، جس میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا نمایاں اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہےبرکس کے رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی اور عالمی معیشت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

  • سعودی کابینہ کی فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت

    سعودی کابینہ کی فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت

    سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں علاقائی صورتحال، فلسطین سمیت اہم عالمی امور اور سعودی عرب کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس کے آغاز پر شہزادہ محمد بن سلمان نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور یونان کے وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے بارے میں کابینہ کو آگاہ کیا، کابینہ نے سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی، اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازو ں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری، شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی، اجلاس میں فلسطین اور مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا، سعو د ی کابینہ نے اسرائیلی حملوں اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے عرب ممالک کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی علاقوں میں توسیع پسندا نہ پالیسیوں، آبادکاری اور جبری بے دخلی کی مخالفت کی۔

    کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا، اجلاس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کے کئی دیگر معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی،کابینہ نے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں LEAP 2026 کے نتائج کو بھی سراہا، جس کے دوران تقریباً 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، معاہدوں اور اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

    اجلاس میں سعودی عرب اور اسپین کے درمیان سفارتی، خصوصی اور سروس پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے سمیت سوئٹزر لینڈ کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔

  • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    فلسطینیوں کی جبری بے دخلی :پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی اسرائیلی وزرا کے بیانات کی شدید مذمت

    پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزرائے دفاع و قومی سلامتی کے فلسطینیو ں کو غزہ سے بے دخل کرنے سے متعلق بیانات اور تجاویز کی شدید مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان میں آٹھوں ممالک نے اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے ان بیانات کو مسترد کیا جن میں غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی یا بے دخلی کے منصوبوں اور طریقہ کار کی بات کی گئی ہے۔

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

    مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش یا منصوبے کو، خواہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر ہو یا ان سے باہر، کسی بھی جواز یا بہانے کے تحت قبول نہیں کیا جائے گا، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو سرکاری پالیسی یا عملی اقدامات کی شکل دینے سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کا حق حاصل ہے جبکہ جبری بے دخلی خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی یا نام نہاد ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے منصوبوں کی حمایت کی تھی، اس صورتحال پر امریکا کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے بھی کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نکالنے کے لیے امریکا کا حمایت یافتہ کوئی منصوبہ موجود نہیں۔

    پاکستان سمیت آٹھ ممالک اس سے قبل بھی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، اسرائیلی آبادکاری اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششوں کو مسترد کرتے رہے ہیں،اگست 2026 میں بھی انہی آٹھ ممالک نے اسرائیل کے E1 آبادکاری منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی کارروائیاں دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

  • امریکا میں اسرائیل قونصلیٹ کے باہر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ

    امریکا میں اسرائیل قونصلیٹ کے باہر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ

    نیویارک شہر میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا،مظاہرین نے غزہ میں جاری جارحیت ختم کرنے اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی مخالف اور فلسطینی حامی کارکنوں نے سڑکیں بند کرکے ٹریفک معطل کی اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی،مظاہرین میں سے کچھ صیہونی مخالف کارکنوں کو پولیس نے ٹریفک میں خلل ڈالنے کی الزام میں حراست میں بھی لے لیا، مظاہرین مین ہیٹن کے مڈ ٹاؤن علاقے میں سیکنڈ ایونیو پر جمع ہوئے جہاں پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا.

    واضح رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ علاقہ 53 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گیا ہے،اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی طرف سے حملہ کیے جانے بعد سے اب تک 73,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خوا تین اور بچے ہیں۔

  • جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

    جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں، اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کے لیے خوفناک ترین منصوبہ

    اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی ہائی سیکیورٹی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے کا ایک انتہائی متنازع اور خوفناک منصوبہ سامنے آیا ہے،جبکہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پہلا بڑا قانونی قدم اٹھا لیا ہے اس اقدام کا مقصد قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے ایک ناقا بلِ تسخیر حفاظتی دیوار تیار کرنا ہے-

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بین گویر، نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ قانونی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے اس منصوبے پر عمل درآمد کے ذریعے جیلوں کے ارد گرد کا ماحول انتہائی سخت اور غیر معمولی بنا دیا جائے گا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک منصوبہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند وزیرِ داخلہ امور ’ایتمار بن گویر‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، جس کی راہ میں حائل سب سے بڑی قانونی رکاوٹ اب دور کر دی گئی ہے اسرائیلی وزیرِ ماحولیات ایڈتھ سلمان نے ایک خصوصی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مگرمچھوں کو ‘محفوظ جنگلی حیات’ کی فہرست سے نکال کر ‘زیرِ انتظام جنگلی جانوروں’ کا درجہ دے دیا گیا ہے، اس اہم قانونی تبدیلی کے بعد اب اسرائیل کی محکمہ جیل خانہ جا ت سمیت کوئی بھی سرکاری اتھارٹی مخصوص شرائط کے تحت مگرمچھوں کو اپنی تنصیبات میں رکھ سکے گی، اس سے قبل قا نون کے مطابق مگرمچھ صرف لا ئسنس یافتہ چڑیا گھروں میں ہی رکھے جا سکتے تھے۔

    رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے اس منصوبے (جسے عبرانی میڈیا میں کروکوڈائیل پریزن کا نام دیا گیا ہے) پر کام شروع کر دیا ہے جیل حکام نے مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور ان کو سنبھالنے کے طریقے سیکھنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شروع کر دیے ہیں۔

    حکام کا ماننا ہے کہ جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنانے سے نہ صرف سیکیورٹی ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی بلکہ انسانی گارڈز پر آنے والے اخراجا ت میں بھی واضع کمی آئے گی ایک اندازے کے مطابق ایک چھوٹے مگرمچھ کی قیمت لگ بھگ 8,000 ڈالر جبکہ بالغ مگرمچھ کی قیمت 20,000 ڈالر تک ہے۔

    واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کی مختلف جیلوں میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 9,500 فلسطینی قید ہیں انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمو ں کی رپورٹس کے مطابق ان قیدیوں کو پہلے ہی بدترین حالات، تشدد، بھوک اور طبی لاپرواہی کا سامنا ہےجس کی وجہ سے درجنوں قیدی بیرکوں میں دم توڑ چکے ہیں اس نئے منصوبے کے سامنے آنے کے بعد تاحال اسرائیلی محکمہ جیل خانہ جات نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  • ایران کا ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعاد

    ایران کا ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعاد

    تہران: ایران نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کاز اور آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا انہوں نے واضح کیا کہ تہران اس مقصد کے لیے اپنی تمام ممکنہ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، فلسطینی مسئلہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ایران مستقبل میں بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کو برقرار رکھے گا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کو اپنی مستقل پالیسی سمجھتا ہے اور اس مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، ایران خطے میں امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور فلسطین کے مسئلے پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ایران کی جانب سے فلسطینی کاز کی حمایت کے اس اعادے کو خطے میں جاری سفارتی پیش رفت کے تناظر میں ایک اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

  • جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو کونسل کی سرگرمیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو سالانہ رپورٹ کے ابتدائی حصے کی تیاری اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ی سونپی گئی تھی، پاکستان نے اس عمل میں کھلے، تعمیری اور جامع انداز کو اپنایا اور مختلف رکن ممالک کی آرا کو رپورٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک جامع اور تجزیاتی دستاویز تیار کی جا سکے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران سلامتی کونسل نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز پر فعال کردار ادا کیا، کونسل نے شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے ا من مشنز، خواتین، امن اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی خصوصی توجہ دی۔

    انہوں نے کہا کہ شدید جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل عالمی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرتی رہی، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کی روک تھام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے متفق ہے سلامتی کونسل کی رپورٹ نے ایک بار پھر فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے یہ دونو ں تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطا بق حل کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے جبکہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہےپاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، کی صورتحال سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں رہی انہوں نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

    پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر، وسائل سے لیس اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور نائب سربراہان کی تقرری میں تاخیر سے کونسل کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ان کے مطابق کونسل کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنانے کی ضرورت ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے موضوع پر بھی پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ دنیا کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے ویٹو پاور کے استعمال پر رکن ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات شفافیت، مساوات، شمولیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔

    انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی جامع اصلاحات کا حامی ہے جو چند ممالک نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کریں، اصلاحات سب کے لیے، خصوصی مراعات کسی کے لیے نہیں۔

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت،  امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔

    اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2 برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جا نب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علا قے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے،قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔

    اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔