Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، عاصم افتخار احمد

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل عالمی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو کونسل کی سرگرمیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو سالانہ رپورٹ کے ابتدائی حصے کی تیاری اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ی سونپی گئی تھی، پاکستان نے اس عمل میں کھلے، تعمیری اور جامع انداز کو اپنایا اور مختلف رکن ممالک کی آرا کو رپورٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک جامع اور تجزیاتی دستاویز تیار کی جا سکے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران سلامتی کونسل نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز پر فعال کردار ادا کیا، کونسل نے شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے ا من مشنز، خواتین، امن اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی خصوصی توجہ دی۔

    انہوں نے کہا کہ شدید جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل عالمی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مرکزی کردار ادا کرتی رہی، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کی روک تھام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے متفق ہے سلامتی کونسل کی رپورٹ نے ایک بار پھر فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے یہ دونو ں تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطا بق حل کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے نشاندہی کی کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق 20 سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے جبکہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہےپاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، کی صورتحال سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں رہی انہوں نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف کا اعادہ کیا۔

    پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر، وسائل سے لیس اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور نائب سربراہان کی تقرری میں تاخیر سے کونسل کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ان کے مطابق کونسل کے طریقہ کار کو زیادہ شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنانے کی ضرورت ہے۔

    عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے موضوع پر بھی پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ دنیا کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے ویٹو پاور کے استعمال پر رکن ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے اور سلامتی کونسل میں اصلاحات شفافیت، مساوات، شمولیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہییں۔

    انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایسی جامع اصلاحات کا حامی ہے جو چند ممالک نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کریں، اصلاحات سب کے لیے، خصوصی مراعات کسی کے لیے نہیں۔

  • اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیل نے فلسطینی ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو حراست میں لے لیا

    اسرائیلی حکام نے فلسطین ویمن فٹبال ٹیم کی دو انٹرنیشنل کھلاڑیوں رند الحلاوانی اور نٹالی ابو دایہ کو حراست میں لے لیا ہے-

    اطلاعات کے مطابق نٹالی ابو دایہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ ہاسٹل پر کیے گئے چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا، جبکہ رند الحلاوانی کو مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس اسٹیشن طلب کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

    فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھیلوں کے عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ایسوسی ایشن نے فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر نشانہ بنانا ناقابل قبول عمل ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت،  امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی نائب صدارت، امیدواری واپس نا لینے پرامریکا کی فلسطینی سفیر کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے لیں، بصورت دیگر فلسطینی وفد کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک داخلی سفارتی مراسلے میں، جسے ’حساس مگر غیر خفیہ‘ قرار دیا گیا، یروشلم میں تعینات امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلسطینی قیادت کو یہ پیغام پہنچائیں کہ ریاض منصور کی جنرل اسمبلی کی نائب صدارت کے لیے امیدواری ’کشیدگی میں اضافہ‘ کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے ٹرمپ انتظامیہ کے غزہ امن منصوبے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اگر فلسطینی وفد نے نائب صدارت کی امیدواری واپس نہ لی تو امریکا فلسطینی اتھارٹی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔

    واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کے تحت انتظامی امور چلاتی ہے۔

    شاہ رخ کی فلم میں کترینہ کا کردار پہلےمجھے آفر ہوا تھا،اداکارہ میرا کا انکشاف

    امریکی سفارت کاروں کو فراہم کردہ نکات میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ ستمبر 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فلسطینی مشن سے وابستہ اہلکاروں پر ویزا پابندیاں نرم کی تھیں مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ ’دستیاب آپشنز پر دوبارہ غور کرنا بدقسمتی ہوگی۔

    اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتا ہے، البتہ ویزا ریکارڈ کی رازداری کے باعث مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا امن منصوبہ، جو 2 برس سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے، حماس کی جا نب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوگیا ہے اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے نصف سے زائد علا قے پر قابض ہیں، جہاں بیشتر عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں اور شہریوں کو علاقوں سے انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عیدالاضحیٰ:اسلام آباد میں خصوصی ٹریفک پلان جاری

    مراسلے میں کہا گیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ریاض منصور پہلے ہی فروری میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے اپنی امیدواری واپس لے چکے ہیں، تاہم نائب صدارت کے منصب پر منتخب ہونے کی صورت میں بھی وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرسکتے ہیں اگر فلسطینی امیدوار دوڑ سے دستبردار نہ ہوئے تو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران فلسطینی نمائندہ اہم اجلاسوں کی صدارت کرسکتا ہے، جسے واشنگٹن خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور 16 نائب صدور کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 2 جون کو ہوگی فلسطینی وفد اقوام متحدہ میں ’ریاستِ فلسطین‘ کے نام سے نمائندگی کرتا ہے، تاہم اسے مکمل رکنیت حاصل نہیں 193 رکنی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جو ویٹی کن سٹی کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے،قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔

    اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

  • لندن: فلسطینیوں کی حمایت میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیل کیخلاف شدید نعرے

    لندن: فلسطینیوں کی حمایت میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیل کیخلاف شدید نعرے

    لندن میں آج دو بڑے مظاہرے ہوئے جس کے باعث غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلا عظیم الشان مظاہرہ فلسطین کے حق میں بنام ’’نکبہ ڈے مارچ‘‘ کیا گیا۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا،مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں اسرائیلی بمباری کی مذمت اور فلسطینیوں کو بنیا دی حقوق کی فراہمی کے مطالبے درج تھے-

    یہ مظاہرہ “نکبہ ڈے” کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جو ہر سال فلسطینیوں کی 1948 میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہےس موقع پر نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی اپنی اینٹی فاشسٹ ریلی کو فلسطین مارچ کے ساتھ ملا دیا۔

    فلسطین حامی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی ریاست کے قیام اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات کیے، میٹروپولیٹن پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے تھے جن میں لندن سے باہر سے بلائے گئے اضافی پولیس افسران بھی شامل تھے۔

    پولیس نے بکتر بند گاڑیاں، گھڑ سوار دستے، ڈرونز، کتوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔ یہ حالیہ برسوں میں لندن کی سب سے بڑی پبلک آرڈر کارروائی تھی پولیس نے پہلی بار احتجاجی مظاہروں میں “لائیو فیشل ریکگنیشن” ٹیکنالوجی بھی استعمال کی، جبکہ منتظمین کو قانونی طور پر اس بات کا پابند بنایا گیا کہ مدعو مقررین نفرت انگیز تقاریر نہ کریں۔

    واضح رہے کہ ان مظاہروں سے ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا تھا کہ سڑکوں پر بدامنی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ میں حماس کے اہم رہنما اور القسام بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید ہوگئے، جس کی تصدیق حماس نے بھی کردی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی مختلف مساجد سے ان کی شہادت کے اعلانات کیے گئے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور حماس کے حق میں نعرے لگائے گئے،عزالدین الحداد کی میت کو حماس کے پرچم میں لپیٹ کر جلوس کی صورت میں پہلے اسپتال اور بعد ازاں مسجد اقصیٰ منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔

    کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اسرائیلی حکام کے مطابق مئی 2025 میں محمد السنوار کی شہادت کے بعد انہوں نے غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالی تھی محمد السنوار، حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی تھے، جنہوں نے بھا ئی کی شہادت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھالی تھی، جبکہ بعد میں یہ ذمہ داری عزالدین الحداد کو منتقل ہوئی۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق عزالدین الحداد جنگ کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کی نگرانی کے نظام کا بھی حصہ تھے اور وہ خود کو یرغمالیوں کے درمیان رکھتے تھے تاکہ انہیں نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے ان کی شہادت کو ایک بڑی آپریشنل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ سابق یرغمالیوں کے بیانات میں ان کا نام بارہا سامنے آیا تھا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث حماس رہنماؤں اور کارکنوں کا دنیا کے کسی بھی حصے میں تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

    عزالدین الحداد کو ’دی گھوسٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کیونکہ وہ کئی مرتبہ اسرائیلی حملوں میں محفوظ رہے اور اچانک منظر سے غائب ہو جانے کی وجہ سے مشہور تھے،وہ 1980 کی دہائی میں حماس میں شامل ہوئے تھے اور تنظیم کے طویل عرصے تک سرگرم رہنے والے عسکری کمانڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا،اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری میں تقریباً ایک لاکھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور متعدد رہائشی عمارتیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

  • صدر، وزیراعظم کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

    صدر، وزیراعظم کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ نکبہ کے موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت، آزادی اور وقار کی منصفانہ جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں،1948 کے المناک واقعات کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل ہوئے، اور آج بھی وہ مسلسل مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، نکبہ فلسطینی عوام کے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے، جو قبضے، محرومی اور بنیادی حقوق سے انکار کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔

    انہوں نے واضح کیاکہ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی مہاجرین کی مسلسل حمایت یقینی بنائے اور قرارداد 194 کے تحت ان کے حقِ واپسی کو عملی شکل دی جائے،جبکہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اسرائیلی اقدامات کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔

    انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو صدر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی نکبہ کی 78ویں برسی کے موقع پر اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے جاری ظلم، قبضے اور تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، وزیرا عظم نے 1948 سے جاری فلسطینیوں کی بے دخلی اور مسلسل مشکلات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس غمگین موقع پر اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنو ں کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا-

  • اسرائیلی حملے میں حماس  رہنما خلیل الحیہ کا  ایک اور بیٹا شہید

    اسرائیلی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کا ایک اور بیٹا شہید

    حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    حماس عہدیدار باسم نعیم نے عزام الحیہ کے غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

    خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں اور مبینہ قاتلانہ کوششوں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم ہر بار محفوظ رہےگزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک حملے میں بھی ان کے ایک بیٹے کی شہادت ہوئی تھی جبکہ خلیل الحیہ اس حملے میں بچ گئے تھے اس سے قبل 2008 اور 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بھی ان کے دو بیٹے شہید چکے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی اور غزہ میں مسلسل فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرش فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات کا اسرائیل کیخلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    آئرلینڈ کے سابق اور موجودہ فٹبالرز سمیت متعدد معروف شخصیات نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق “آئرش اسپورٹ فار فلسطین” نامی مہم کے تحت فٹبالرز، موسیقاروں اور سماجی شخصیات نے فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ میچز کھیلنے سے انکار کرےمہم میں شامل شخصیات کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے باعث اسرائیل کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

    اس مہم کی حمایت کرنے والوں میں سابق آئرش فٹبال کوچبریان کیئر، سابق انٹرنیشنل فٹبالر لوئس قوئن اور متعدد لیگز کے کھلاڑی شامل ہیں جبکہ آئرش موسیقاروں اور مشہور بینڈز نے بھی اس مطالبے کی تائید کی ہے۔

    دوسری جانب آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوئیفا قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت میچز کھیلنے کی پابند ہے۔

    یاد رہے کہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کی آوازیں دنیا کے مختلف ممالک میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور متعدد تنظیمیں اسرائیل کے خلاف میچز کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں،قبل ازیں آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے یوئیفا سے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا

  • وفاقی وزیر مذہبی امور سے فلسطین کے اعلیٰ مذہبی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر مذہبی امور سے فلسطین کے اعلیٰ مذہبی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر مذہبی امور سے فلسطین کے اعلیٰ مذہبی وفد نے ملاقات کی-

    ملاقات میں قاضی القضا فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش اور مفتی اعظم الشیخ محمد احمد حسین شامل تھے، سردار محمد یوسف نے فلسطینی وفد کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور میں وفد کی آمد باعثِ برکت ہے، غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت پر ہر پاکستانی کا دل دکھی ہے اور حکومتِ پاکستان نے اقوا م متحدہ کے فورم پر متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، بشمول وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ، نے غزہ میں مظالم رکوانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے،سردار محمد یوسف نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ القدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے اور مسلمان مسجدِ اقصیٰ میں آزادی سے عبادت کر سکیں۔

    انہوں نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، اور پاکستانی پاسپورٹ پر واضح درج ہے کہ یہ اسرائیل کے لیے قابلِ استعمال نہیں۔

    قاضی القضا فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا مظہر ہے فلسطینی صدر آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایک ہزار سال میں پہلی بار مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقدس مقامات کو بند کیا ہے۔

    مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد احمد حسین نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی سرپرستی قابلِ مذمت ہے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور فلسطین کا مؤقف کبھی جدا نہیں ہو سکتا، اور امید ظاہر کی کہ ایک دن پاکستانی عوام مسجدِ اقصیٰ میں شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔

    اس موقع پر سردار محمد یوسف نے حافظ طاہر محمود اشرفی کو چھٹی عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد بھی پیش کی، جبکہ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سیرت کانفرنس میں بھی فلسطینی قاضی القضا شریک ہوئے تھے۔