Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006 کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

    حماس نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ غزہ کے علاقے میں جہاں انتخابات منعقد ہوئے، باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں ایک دو سری فہرست، جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا، صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

    مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی غزہ میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔

  • برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے،سینکڑوں افراد گرفتار

    برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    برطانوی پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کی حمایت میں لندن میں ہونے والے مظاہرے میں کم از کم 523 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے،کُل 523 افراد کو ایک کالعدم تنظیم کی حمایت ظاہر کرنے پر گرفتار کیا گیا پولیس نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی عمریں 18 سے 87 کے درمیان ہیں، یہ گرفتاریاں ڈیفنڈ آور جیوریز کی طرف سے منعقدہ احتجاج کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی۔ مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلا ف نعرے لگائے۔

  • پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی  مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر  کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے داخلے کی شدید مذمت

    پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر Itamar Ben-Gvir کے داخلے کی شدید مذمت کی ہے ۔

    گزشتہ روز اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی نے مسجد کے احاطے میں فوجیوں کے ساتھ داخل ہو کر اس کے صحنوں کا دورہ کیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو اسرائیلی آباد کاروں کیلئے کھولنے کا معاملہ زیرِ غور ہے اسرائیلی پولیس نے بین گویر اور اُن کے ساتھ 150 اسرائیلیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے دیا۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدام مسجد کی حرمت اور تاریخی حیثیت پر براہِ راست حملہ ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مذہبی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

    دوسری جانب ترکیہ، قطر اور اردن نے بھی اس اقدام کو اشتعال انگیزی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے،فلسطینی اداروں کی جانب سے اس اقدام کی بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی ہے، القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن نے کہا کہ یہ منصوبہ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کے منصوبے کو تقویت دیتا ہے، یہ جنگ کا استعمال مسجد اقصیٰ کو ایک مشترکہ یہودی مقدس مقام میں تبدیل کرنے کے لیے ہے اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے بین گویر کو مسجد کے امور پر موثر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

  • اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت سے متعلق قانون سازی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور خطرناک اقدام ہے،وزرائے خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں اور یہ پالیسی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے حالات پر شدید تشویش ہے اور قابل اعتماد رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین سلوک کے شواہد موجود ہیں، یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ان سے خطے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی امتیازی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین میں صورتحال کے بگاڑ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا ،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا-

    وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی شدید امتیازی سزائے موت کی قانون سازی کو فوری طور پر واپس لےانہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو پھانسی دینا جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا سرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری انتہائی مایوس کن ہے، اگر اس قانون کا اطلاق امتیازی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے رہائشیوں پر اس کا نفاذ جنگی جرم تصور کیا جائے گا،90 دن کی حد خود بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے کیونکہ عالمی قوانین کے مطابق سزا میں معافی یا رعایت کی گنجائش ہونی چاہیے،یہ قانون زندگی کے حق سمیت اسرائیل کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے اور اس میں منصفانہ عدالتی عمل پر بھی سنگین خدشات موجود ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کے نئے قانون کے خلاف مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے اس قانون کے تحت مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشتگردی کے مقدمات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو لازمی سزا قرار دیا گیا ہے،قانون میں اپیل کے مواقع محدود کر دیے گئے ہیں، معافی یا سزا میں نرمی کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے، اور یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی فیصلے کے 90 دن کے اندر سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا جبکہ وزیراعظم کی خصوصی منظوری کی صورت میں یہ مدت 180 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں سزائے موت ختم کر دی تھی، تاہم نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور غداری جیسے جرائم کے لیے یہ قانون برقرار تھا انہی قوانین کے تحت 1962 میں ہولوکاسٹ کے مرکزی منتظم ایڈولف آئخمن کو سزائے موت دی گئی تھی۔

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور

    اسرائیل میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور

    اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دی جا سکے گی، جبکہ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی پر عملدرآمد بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے اس قانون کے حق میں 62 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 48 نے مخالفت کی اور ایک رکن اجلاس میں غیر حاضر رہا، قانون کے تحت دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی،یہ قانون اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی جانب سے پیش کیا گیا، پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقتولین کے لیے انصاف اور دشمنو ں کے لیے عبرت کا دن ہے، جو دہشت گردی کا انتخاب کرے گا وہ موت کا انتخاب کرے گا۔

    فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں گے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامک جہاد نے بھی اس قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے تنظیموں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف مزاحمت کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

    ادھر امریکا نے اسرائیل کے اس متنازع قانون پر براہ راست مذمت سے گریز کیا ہے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکا اسرائیل کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہےامریکا کو توقع ہے کہ ایسے مقدمات میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم انہوں نے اس قانون پر کسی قسم کی تنقید کرنے سے احتراز کیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں قتل کے جرائم پر سزائے موت ختم کر دی تھی، جبکہ سول عدالت کے ذریعے آخری بار سنہ 1962 میں نازی جرائم کے منصوبہ ساز ایڈولف آئخ مین کو پھانسی دی گئی تھی،مغربی کنارے کی فوجی عدالتوں کو پہلے ہی سزائے موت سنانے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ماضی میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

  • سی این این کی ٹیم پر  حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    سی این این کی ٹیم پر حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

    اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا،صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلو کی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا، بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے،اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    سعودی عرب اور متعدد دیگر ممالک نے فلسطین کے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کنٹرول بڑھانے سے متعلق حالیہ فیصلوں کی سخت مذمت کی ہے۔

    مشترکہ بیان پر سعودی عرب، فلسطین، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئی لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، لکسمبرگ، ناروے، پرتگال، سلووینیا، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے، جبکہ عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرلز بھی اس میں شامل تھے۔

    پیر کے روز جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ تبدیلیاں بہت وسیع نوعیت کی ہیں، ان کے تحت فلسطین کی زمین کو نام نہاد اسرائیل کی ریاستی زمین قرار دیا جا رہا ہے ان اقدامات کے ذریعے اسرائیل کی غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیزکیاجا رہا ہے، اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کیا جارہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور انہیں مزید توسیع دینے کے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور 2024 میں عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ فیصلے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور عملی طور پر الحاق (ڈی فیکٹو انضمام) کی طرف پیش رفت کا حصہ ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے اسرائیل کی آبادکاری پالیسی میں غیر معمولی تیزی، خصوصاً E1 منصوبے کی منظوری اور اس کے ٹینڈر کے اجرا، فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ممالک نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے الحاق کی مخالفت کرتے ہیں،وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو فوری طور پر روکے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ مغربی کنارے کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

    بیان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تناظر میں یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیااس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا اور یروشلم میں بار بار اسٹیٹس کو کی خلاف ورزیوں کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

    ممالک نے مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل کے عزم کا اعادہ کیا، جو عرب امن منصوبے، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اسرائیل فلسطین تنازع کا خاتمہ علاقائی امن، استحکام اور انضمام کے لیے ناگزیر ہے، اور ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے کے عوام اور ریاستوں کے درمیان بقائے باہمی کو ممکن بنا سکتا ہے۔

    جرمنی میں افغان شہری کا چاقو سے حملہ، متعدد افراد

    وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الادا ٹیکس محصولات فوری طور پر جاری کرےیہ رقوم فلسطینی اتھارٹی کو پیرس پروٹوکول کے مطابق منتقل کی جانی چاہئیں اور یہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

    مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ غیر قانونی آبادکاریوں کے پھیلاؤ، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

  • اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں جمعہ کیلئے صرف 10 ہزار نمازیوں کی اجازت

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینی نمازیوں کے لیے جمعہ کی نماز کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں حاضری محدود کرتے ہوئے تعداد 10 ہزار مقرر کر دی ہے یہ پابندیاں رمضان المبارک کے آغاز پر نافذ کی گئی ہیں۔

    اسرائیلی ادارے کوگات کے بیان کے مطابق صرف وہی فلسطینی نمازی داخل ہو سکیں گے جو پیشگی خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں گے مردوں کے لیے کم از کم عمر 55 سال، خواتین کے لیے 50 سال جبکہ 12 سال تک کے بچوں کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ آنے کی اجازت ہوگی، یہ پابندیاں صرف مقبو ضہ مغربی کنارے سے آنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوں گی، جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لیا تھا تمام اجازت نامے سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوں گے اور واپسی پر ڈیجیٹل اندراج بھی لازم ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے امام شیخ محمد العباسی کو احاطہ مسجد سے گرفتار کر لیا فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتاری کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امام کی گرفتاری اور نمازیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد کے امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔

  • غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ: امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

    غزہ میں جاری جنگ میں امریکی ‘تھرموبیرک بموں’ سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف ہو اہے-

    رپورٹ کے مطابق، غزہ میں امریکی ساختہ ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کے نتیجے میں تقریباً 3,000 فلسطینی فضا میں تحلیل ہو گئے، جن کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا ،رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہیں،طبی اور دفاعی ماہرین نے ان بموں کی تباہ کاریوں کی جو تفصیلات بتائی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں-

    ان بموں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والا درجہ حرارت 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اس قدر شدید تپش میں انسانی جسم چند سیکنڈز کے اندر براہِ راست راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہداء کی شناخت یا باقیات کا ملنا ناممکن ہو جاتا ہے یہ بم ارد گرد کی تمام آکسیجن کھینچ کر ایک ‘ویکیوم’ پیدا کر دیتے ہیں، جس سے عمارتوں کے اندر موجود لوگ بھی بچ نہیں پاتے۔

    ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صدی کا بدترین جنگی جرم قرار دیا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے غزہ کے اس امتحان میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں، جہاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔