Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے،ترکی

    اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے،ترکی

    استنبول: ترکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اٹھائے جانے والے کوئی بھی اقدام فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ترک خبررساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے کوئی بھی قدم فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں اٹھائیں گے جیسے کہ بعض دیگر ممالک نے اٹھائے اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے ۔

    ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر ہمارا مؤقف ہمیشہ واضح ہے، ہم وہ ملک ہیں جس نے شروع سے ہی اس مسئلے پر اپنے مؤقف کا واضح طور پر اظہار کیا ہے جبکہ آپ نے پہلے ہی دیکھا ہے کہ گزشتہ 4 سے 5 برس کے دوران کیا ہوا ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے سے دو ریاستی حل میں ترکی کے کردار میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ہم اپنے بنیادی اصولوں اور دو ریاستی حل سمیت اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”

    سعودی محقق کی سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر ایک تحقیقی کتاب کی اشاعت

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاص ڈائیلاگ چینل کھولنا ہے تو یہ دونوں فریق چاہیں گے اور اس کے مطابق اقدامات کریں گے-

    واضح رہے کہ حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیروزگ کے اوّلین دورہ ترکی سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت تل ابیب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہےانقرہ حکومت اسرائیل کے ساتھ مختلف شعبہ جات بالخصوص قدرتی گیس کی تجارت میں تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    ترکی نے مارچ 1949 میں اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا اور یوں وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا تھا، جس نے اس یہودی ریاست کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بات کی تھی۔ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ تاہم ایردوآن کے اقتدار میں آنے کے بعد ان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں نشیب و فراز دیکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال…

  • اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی  فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    لندن:اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنانے پر اسرائیل کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کی صورت حال پر ایک 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے وحشیانہ جبر اور غیر قانونی تسلط کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے اسرائیل “یہودی آبادی کی اکثریت” کو قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہودیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی بستیوں سمیت زمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول بھی استعمال کرتا ہے۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ مظالم خلاف ایک کمتر نسلی گروہ کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیل حکام نے فلسطینیوں کے خلاف جبر اور تسلط کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔ ان کی اراضی اور املاک پر وسیع پیمانے پر قبضہ کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ان کے گھر سے غیر قانونی اور جبری بیدخلی، نقل و حرکت پر سخت پابندی، انتظامی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نسل پرستی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی قومیت اور شہریت کو مسترد کرکے غیر ملکی تارکین کی طرح کا سلوک کرتے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے یہ خلاف یہ مظالم نسل پرستی اور نسلی امتیازی سلوک کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔

  • فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    ترکی کی ایک خیراتی سوسائٹی نے قرآن پاک کے 50 ہزار نسخے فلسطین کی مساجد اور قرآنی مراکز میں تقسیم کیے جانے کے لیے عطیہ کیے ہیں۔

    غزہ کی پٹی میں کام کرنے والی غازی ڈیسک سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کی اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت کو قرآن پاک کے 20,000 نسخے حوالے کیے، انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

    سوسائٹی کے ایک اہلکار ہانی تھرایا نے کہا کہ یہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” کے منصوبے کا حصہ ہے جو ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے ایک حصے کے طور پر مغربی کنارے اور یروشلم القدس میں مقدس کتاب کے مزید 30,000 نسخے حوالے کیے جائیں گے۔

    غزہ کی اوقاف کی وزارت کے ایک نائب، عبدالہادی الآغا نے کہا کہ یہ اقدام نوبل قرآن کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو بڑھانے کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔انہوں نے عطیات پر ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ اور غازی ڈیسک سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان قران کے ان نُسخوں پر "مسجد اقصیٰ قرآن” کا نام ہے اور جب کہ ان کے پچھلے سرورق پر مہم کا نعرہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” پرنٹ کیا گیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ غازی ڈیسک سوسائٹی، جو انسانی ہمدردی کے کاموں میں مہارت رکھتی ہے، غزہ کی پٹی میں 2017 سے کام کر رہی ہے۔

  • 4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    یروشلم: بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور ہو گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہشام ابو حواش ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی قید میں تھے جب انہوں نے اگست سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا 40 سالہ ہشام نے بغیر کسی الزام کے قید میں رکھے جانے کیخلاف اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے لڑو،مرو اور مارو، سکول میں طلب سے حلف

    ہشام مغربی کنارے کے رہائشی ہیں 5 بچوں کے باپ اور پیشے کے اعتبار سے تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ہشام کو اس سے قبل بھی اسلامک جہاد سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ اس بار بغیر کسی الزام کے انہیں قید کیا گیا تھا۔

    انتظامی حراست‘ کے تحت مشکوک افراد کو ان کے خلاف الزامات یا ثبوت سے مطلع کیے بغیر چھ ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے اور اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے-

    ہشام کے وکیل نے بتایا کہ رہائی کی تصدیق ہونے کے بعد ہشام نے اپنی 141 دن کی بھوک ہڑتال کو ختم کردیا ہے 141 دن کی یہ بھوک ہڑتال 2013 کے بعد سے اب تک کی طویل مدتی بھوک ہڑتال ہے۔

    قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش…

    اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی قیدی کی مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے طبعیت کافی بگڑ چکی ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا رہا ہے گزشتہ ہفتے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جب قیدی کا جیل میں جاکر معائنہ کیا تھا تو کہا تھا کہ ہشام کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور موت کا خطرہ لاحق ہے۔

    قیدی ہشام کی اہلیہ عائشہ ہریبت نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ان کی زندگی کو شدید خطرے میں اور وہ کل سے بول بھی نہیں سکے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اگر وہ بھوک ہڑتال ختم بھی کر دیں تو بھی انہیں صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا-

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    راملہ میں انسانی حقوق کے گروپ الحق کے سربراہ شاون جابرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل جس طرح انتطامی حراست کے ہتھیار کو استعمال کر رہا ہے، یہ سراسر ظلم ہےہشام ان 550 قیدیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیل نے انتظامی حراست کے ضابطے کے تحت قید کر رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں فلسطین کے وزیر بلدیات حسین الشیخ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ابوحواش کو فوری طور پر رہا کیا جائے جبکہ غزہ میں فلسطینی قیدیوں کے حق میں ریلی بھی نکالی گئی۔

    روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

  • صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    مقبوضہ بیت المقدس:صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ،اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ پٹی پر بمباری کی ہے۔اس بمباری پرعالمی برادری خاموش ہے اور اس خاموشی کے عالم میں فلسطینیوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں‌

    المیادین کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقے الغول میں توپوں کے گولے داغے۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے جاری ہیں۔المیادین کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے القادسیہ چھاونی پر 5 مرتبہ بمباری کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس سے قبل غزہ کی پٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

  • فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ زورپکڑگیا

    جنیوا :فلسطینی بچوں کو تحفظ دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل سے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اسرائیل سے مطالبہ کردیا۔

    ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ معصوموں کا بچپن مت چھینو، تعصب اور تشدد بند کرو، فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرو.

    ۔ 7 سال کی عمر سے اپنی صحافت سے دنیا بھر میں دھوم مچانے والی بہادر فلسطینی لڑکی جَنّیٰ جہاد کی کہانی ایمنسٹی کی نئی مہم کا حصہ بن گئی۔ اپنی ویڈیوز کے ذریعے جَنّیٰ جہاد نے دنیا کو اسرائیلی فوج کے مظالم کا حقیقی چہرہ دکھایا۔

    رپورٹنگ سے روکنے کے لیے اسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، کیمرا توڑ دیا، لیکن ننھی فلسطینی لڑکی اپنے عزم پر ڈٹی رہی۔ جَنّیٰ جیسے ہزاروں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایمنسٹی نے دنیا بھر سے لوگوں کو اسرائیل کے خلاف احتجاجی مہم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔ (ایجنسی )

  • کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے استفسار

    کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے استفسار

    تل ابیب: اسرائیلی حکومت کی اجازت سے فوجی قیادت نے اپنے فوجیوں کو اجازت دی ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر گولیاں چلا سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی حکام کی جانب سے دی جانے والی اجازت کے بعد فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے عالمی برادری کی توجہ اس کی جانب مبذول کراتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟

    مؤقر اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت نے اپنے فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ پتھراؤ کرنے والوں پر گولیاں چلانے کے لیے با اختیار ہیں اس بات کی تصدیق ایک فوجی ترجمان نے کی جس نے کہا کہ یہ پچھلے مہینے یا اس سے زیادہ عرصے سے نافذ ہے-

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    جب کہ ترجمان نے اس تبدیلی کو ایسی صورت حال کی اصلاح کے طور پر بیان کیا جس سے مشتبہ افراد کو انصاف سے بچنے کی اجازت دی گئی، ماہرین نے ایسے شخص کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ااسرائیلی فوجیوں کو یہ اجازت دی گئی تھی کہ وہ ایسی صورتحال میں گولی چلانے کے مجاز ہیں کہ اگر انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو لیکن اب نئے احکامات سے سابقہ حکمنامے کو مزید وسعت دے دی گئی ہے۔

    لندن ہائی کورٹ کا دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کوسابقہ اہلیہ کو554 ملین…

    اسرائیلی اخبار نے اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے دی جانے والی اجازت پر سوالات کرتے ہوئے از خود اپنی قیادت سے استفسار کیا ہے کہ کیا اس طرح فوجیوں کو مزید خطرات لاحق نہیں ہوں گے؟ کیا آئندہ مستقبل میں انہیں انٹرنیشنل کورٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ اور کیا ایسی صورتحال میں خود اسرائیل کے اپنے نظام انصاف پر سوالیہ نشان ثبت نہیں ہوجائیں گے؟

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی ہدایات کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو پتھر پھینکنے اور پٹرول بم پھینکنے والوں کو گولیاں مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی اس وقت بھی گولی چلا سکتے ہیں جب وہ جائے وقوعہ سے نکل چکے بھی ہوں۔

    امریکی فوجیوں کا انتہا پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے اس سے قبل یہ احکامات دیئے تھے کہ اسرائیلی فوجی، فوجی اڈوں یا فائرنگ زون میں داخل ہونے والے ہر شخص پر گولی چلانے کے مجاز ہیں۔

    اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے دیئے جانے والے احکامات پر اپنے ردعمل میں فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نئی ہدایات قابض فوجیوں کو مزید فلسطینیوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہیں۔

    فلسطینی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ نئے احکامات کو متعلقہ بین الاقوامی حکام اور عدالتوں میں اٹھایا جائے گا اسرائیلی فوج کے نئے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے صریحاً خلاف ہیں۔

    90 سال کی عمر میں کاروبار شروع کرنے والی خاتون

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔

  • انتہائی دکھی اورتکلیف میں ہوں،خواہش ہے ماں‌ کی گود میں دم نکلے،علیل فلسطینی قیدی

    یروشلم: دنیا میں مسلمانوں پردوزمیںیں بہت ہی تنگ پڑگئی ہیں، ایک ارض کشمیر اوردوسری ارض فلسطین، ان دونوں جگہوں پرمسلمانوں کے ساتھ جو ظلم وزیادتی ہورہی ہے اسے اب دنیا کے بے حس انسان بھی سننے سے خوف محسوس کرتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جیل میں قید ایک بیمار فلسطینی سامی ابو دیاک نے کہا ہے کہ میں بیمار ہوں اور زندگی کے آخری اوقات اپنی ماں کی گود میں بتانا چاہتا ہوں۔

    "مشن پرواز”فخرعالم اورائیرچیف مارشل مجاہد،مبارک اورشکریہ ایک ساتھ

    فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق حریات مرکز کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں سامی ابو دیاک نے کہا کہ صہیونیوں کے ظلم کی وجہ سے وہ اپنی والدہ سے بہت دور ہے اور بیماری کی وجہ سے اب اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔خیال رہے کہ زیاد ابو دیاک کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتیوں کا ماضی اورحال بتادیا

    حریات مرکز کی منودب ابتسام عناتی نے حال ہی میں الرملہ جیل اسپتال میں زیر علاج فلسطینی قیدی ابو دیاک سے ملاقات کی تھی، اس موقع پرانہوں نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے، میری خواہش ہے کہ میں اپنی زندگی کے آخری لمحات اپنی والدہ کی گود میں گزاروں۔

    گرونانک کی 550 ویں‌برسی پر550موسیقارعالمی ریکارڈ قائم کریں گے

    فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی مندوبہ ابتسام عناتی کا کہنا تھا کہ ابو دیاک کو الرملہ جیل اسپتال ہاتھوں اور پاﺅں میں زنجیریں ڈال کر رکھا گیا ہے۔اسیر کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں اپنی زندگی کے آخری لمحات اپنی ماں اور دیگر اقارب کے ساتھ گزاروں۔

  • ظلم کی انتہا، فلسطینی بچے کے سامنے اس کے والد پر تشدد،وائرل ویڈیونے جھنجھوڑ کررکھ دیا

    مقبوضہ بیت المقدس :ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں بھی مسلمان ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں، اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں 2 اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی شہری پر اس کے بچے سامنے بندوق تانتے ہوئے دیکھا گیا۔

    https://twitter.com/allushiii/status/1191745840316067841?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1191745840316067841&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1114071

    مسلح افراد کی فائرنگ، 15 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

    ذرائع کے مطابق مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ہونے والے واقعے کی ویڈیو میں اسرائیلی فوجی نے پہلے مذکورہ شخص پر چلایا اور کہا کہ ‘یہ بچہ فوجیوں پر پتھر پھینک رہا ہے’ جس پر والد نے کہا کہ ‘یہ پتھر کیسے پھینک سکتا ہے یہ 5 سال کا ہے’۔اسرائیلی فوجی نے جواب دیا کہ ‘ہاں یہ پتھر برسا رہا ہے اور تمہارے سارے دوست پتھر برسارہے ہیں، اس کی جتنی بھی عمر ہے مجھے نہیں پرواہ’۔

    مکی آرتھر کی کراچی کنگز سے بھی چھٹی

    اسی دوران ایک اور اسرائیلی فوجی نے فلسطینی شخص کو مارنا شروع کیا جس پر مذکورہ شخص کہتا رہا کہ ‘مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاؤ’۔جب مذکورہ شخص اپنے بچے کے ساتھ واپس جانے لگا تو ایک اور فوجی نے فلسطینی شخص پر بندوق تانی۔اس واقعے نے کئی افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جس پر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر تشدد کرتے ہوئے ویڈیو سامنے آئی ہو۔

    وزیراعظم نے خوشخبری سنادی ، نیانظام کیسا ہوگا یہ بھی بتادیا