Baaghi TV

Tag: فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن

  • چناب، سندھ، ستلج اور راوی میں  پانی کی سطح مسلسل بلند

    چناب، سندھ، ستلج اور راوی میں پانی کی سطح مسلسل بلند

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ملک کے بڑے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے اور پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

    دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پرانتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں پانی کا اخراج 4 لاکھ 94 ہزار147 کیوسک تک پہنچ گیا ہےاسی طرح دریائے سندھ میں گڈوبیراج پراونچے درجے کا سیلاب ہے اورپانی کا اخراج 5 لاکھ 32 ہزار 72 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ سکھربیراج پردرمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، جہاں سے 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک پانی کا گزرہورہا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پردرمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، اورپانی کا اخراج 89 ہزار60 کیوسک ہے،سلیمانکی کے مقام پرنچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں اخراج 69 ہزار19 کیوسک ہے، ہیڈ اسلام پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے اورپانی کا اخراج 82 ہزار 155 کیوسک تک پہنچ گیا ہےاسی طرح دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پرنچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا اخراج 41 ہزار 335 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    ماہرین کے مطابق مسلسل بارشوں اورپانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث دریاؤں کے اطراف نشیبی علاقوں میں سیلابی خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اورمتعلقہ حکام کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

    وزیر خارجہ سے مصری ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

  • بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی

  • دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب  کی وارننگ جاری

    دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے وارننگ جاری کی ہے کہ آج تونسہ اور چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب گزرنے کا خدشہ ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے، دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی۔

    جبکہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تونسہ بیراج اور سکھر بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔

    ارسا کے مطابق تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 15 ہزار کیوسک ہے جب کہ سکھر بیراج سے 5 لاکھ 62 ہزار کیوسک کا ریلا گزار رہا ہے چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 61 ہزار کیوسک ہے جب کہ نوشہرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 11 ہزار، جہلم میں منگلا ڈیم کے مقام پر پانی کی آمد 53 ہزار اور کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 25 ہزار کیوسک ہے دریائے چناب مین مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 66 ہزار کیوسک، گدو بیراج پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار کیوسک جب کہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 34 ہزار کیوسک ہے۔

    ارسا کا مزید کہنا ہے کہ یکم اپریل سے اب تک ایک کروڑ 38 لاکھ ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوچکا ہے کیوںکہ ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 92 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔

    ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

    ادھر بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے کا سندھ کے شہر میہڑ کے حفاظتی بند پر دباؤ بڑھ گیا، میہڑ شہر کو Ring بند سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ٹنڈو آدم میں مسلح افراد نے مبینہ طور پر اپنی فصلیں بچانے کے لیے سیلابی ریلے کا رخ شہر کی طرف کردیا ہے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کے باعث ٹھٹھہ میں کچے کے علاقے خالی کرانے کی ہدایت کی گئی ہے خیرپور کے کئی مقامات پر 10 سے 12 فٹ پانی جمع ہونے سے متاثرین محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب سوات اور نوشہرہ میں تباہی پھیلانے کے بعد سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے میانوالی میں سیلاب کا خدشہ ہے حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    دریائے سندھ پر بنے جناح بیراج کے مقام پر آج 7 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے، سیلاب سے 47 موضع جات متاثر ہوسکتے ہیں۔

    لوئر کوہستان: سیلابی ریلے سےشاہراہ قراقرم پر قائم کیہال پل کو خطرہ