امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد صرف ایک ووٹ کے فرق سے ناکام ہو گئی، جس نے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور جنگ سے متعلق بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قرارداد کے حق میں 49 جبکہ مخالفت میں 50 ووٹ ڈالے گئے، یوں یہ اہم قرارداد معمولی فرق سے منظور نہ ہو سکی۔
یہ قرارداد سینیٹر جیف مرکلے کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے تین اراکین نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے جنگی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق قرارداد کی صرف ایک ووٹ سے ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا کے اندر ایران جنگ کے معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں اور کانگریس کے کئی ارکان مزید فوجی کشیدگی کے حق میں نہیں۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ایک وقت آئے گا، اور شاید وہ وقت جلد آ جائے، جب سینیٹ صدر سے واضح طور پر کہے گی کہ “اس جنگ کو روک دو”۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ووٹنگ اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کانگریس جنگ کے اختیارات پر اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ قرارداد منظور نہیں ہو سکی، لیکن اس ووٹنگ نے امریکی ایوانِ بالا میں جنگی پالیسی پر موجود تقسیم کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جنگی اخراجات میں اضافے نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تاحال اس ووٹنگ پر کوئی تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس نتیجے کو صدر ٹرمپ کے لیے وقتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
Category: تازہ ترین
-

امریکی سینیٹ میں ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ناکام
-

واٹس ایپ میں انکوگینٹو اے آئی چیٹس فیچر متعارف، میٹا بھی پیغامات نہیں پڑھ سکے گا
واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا اور منفرد فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے ذریعے اب میٹا اے آئی کے ساتھ مکمل پرائیویٹ چیٹنگ ممکن ہو سکے گی۔
کمپنی کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس نئے فیچر کا نام “Incognito Chats with Meta AI” رکھا گیا ہے۔ یہ فیچر گوگل کروم کے انکوگینٹو موڈ کی طرز پر کام کرے گا، جہاں چیٹس زیادہ محفوظ اور نجی انداز میں کی جا سکیں گی۔
واٹس ایپ کے مطابق اس فیچر کے ذریعے صارفین میٹا اے آئی چیٹ بوٹ سے ایسی گفتگو کر سکیں گے جس تک کسی اور کی رسائی نہیں ہوگی، حتیٰ کہ میٹا کمپنی خود بھی ان چیٹس کو نہیں پڑھ سکے گی۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ خصوصی انکوگینٹو موڈ صرف میٹا اے آئی کے لیے دستیاب ہوگا۔ واٹس ایپ میں موجود دیگر اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے یہ سہولت فراہم نہیں کی جائے گی، اور ان کے پیغامات متعلقہ کمپنیاں دیکھ سکیں گی۔
میٹا کے مطابق انکوگینٹو چیٹس کو ایک محفوظ “پرائیویٹ پراسیسنگ” ماحول میں پراسیس کیا جائے گا تاکہ صارفین کی معلومات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
اس فیچر کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہوگی کہ تمام پیغامات بائی ڈیفالٹ خودکار طور پر غائب ہو جائیں گے، جس سے صارفین کی پرائیویسی مزید مضبوط ہو جائے گی۔
کمپنی نے بتایا کہ اس فیچر کی مرحلہ وار فراہمی شروع کر دی گئی ہے اور آنے والے دنوں میں دنیا بھر کے صارفین کو دستیاب ہوگی۔
اس کے علاوہ واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اگلے مرحلے میں “Side Chat Protected by Private Processing” نامی ایک اور فیچر بھی متعارف کرایا جائے گا۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین ہر چیٹ کو الگ سے انکوگینٹو موڈ میں استعمال کر سکیں گے جبکہ مرکزی چیٹ محفوظ اور متاثر ہوئے بغیر کام کرتی رہے گی۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق واٹس ایپ کا یہ اقدام صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اے آئی چیٹس اور ڈیجیٹل سکیورٹی عالمی سطح پر اہم موضوع بن چکے ہیں۔ -

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 4 خواتین سمیت 9 افراد زخمی
لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں جنوبی لبنان پر تازہ فضائی حملوں میں 4 خواتین سمیت کم از کم 9 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث جنوبی لبنان میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے جبکہ شہری آبادی شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہے۔
خبر ایجنسی نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی بیروت سمیت جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے گئے تھے جن میں 8 بچوں سمیت مجموعی طور پر 22 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں سے رہائشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے اور انسانی جانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے حالیہ حملوں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتے حملے پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری مسلسل جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔ -

آبنائے ہرمز کھولنے میں چین کی بڑی دلچسپی ہے، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور چینی قیادت نے اس حوالے سے مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بغیر رکاوٹ جاری رہیں کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعاون کی پیشکش کی ہے اور دونوں ممالک مستقبل میں اس حوالے سے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
بیجنگ پہنچنے پر شاندار استقبال پر ٹرمپ نے چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور صدر شی جن پنگ کو “دنیا کے عظیم رہنماؤں” میں شمار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتا ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اور شی جن پنگ کے تعلقات ہمیشہ شاندار رہے ہیں اور اس ملاقات کا سب سے اہم محور باہمی تجارت ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان بہتر تعلقات عالمی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
امریکی صدر نے تقریب کے دوران چینی بچوں اور فوج کے حوالے سے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاص طور پر چینی بچوں سے بہت متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “وہ خوش اور خوبصورت تھے، فوج تو بس ٹھیک تھی، مگر بچے حیرت انگیز تھے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ چین کے لیے ان کے دل میں بہت احترام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ صدر شی جن پنگ نے اپنے ملک کے لیے اچھا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دونوں کا ایک ساتھ شاندار مستقبل ہے اور اب ہمیں اپنی توجہ تجارت پر مرکوز کرنا ہوگی۔” -

باجوڑ میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملوں کی افواہیں بے بنیاد قرار
باجوڑ میں پاکستان آرمی کے بٹالین اور ونگ ہیڈکوارٹرز پر حملوں سے متعلق سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 مئی 2026 کو باجوڑ کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملے کی کوششیں ضرور کی گئیں، تاہم پاکستان آرمی کے کسی بھی بٹالین یا ونگ ہیڈکوارٹر پر قبضہ یا نقصان نہیں ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خوارج نے مینا اور عنایت کلے کے علاقوں میں چھاپہ مار حملوں کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد خوارج مارے گئے جبکہ باقی فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ حکام کے مطابق صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو گرفتار یا ختم کیا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں، کیونکہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے سے خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ -

پاکستان نے پہلی بار چین میں ’پانڈا بانڈ‘ جاری کر دیا
پاکستان نے پہلی بار چین کی مالیاتی منڈی میں “پانڈا بانڈ” جاری کر کے ایک اہم معاشی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 1.75 ارب چینی یوآن، یعنی تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر حاصل کیے گئے ہیں۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس بانڈ پر 2.5 فیصد منافع دیا جائے گا، جبکہ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کو پہلی مرتبہ چین کی مقامی سرمایہ کاری مارکیٹ تک براہِ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس وقت بیجنگ میں موجود ہیں جہاں وہ اس مالیاتی منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق “پانڈا بانڈ” کا مجموعی ہدف ایک ارب ڈالر رکھا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالر مالیت کے بانڈ جاری کیے گئے ہیں۔
پانڈا بانڈ دراصل چین کی مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی حکومت یا ادارے کی جانب سے چینی کرنسی “یوآن” میں جاری کیے جانے والے بانڈز ہوتے ہیں۔ ان کا نام چین کی قومی علامت پانڈا کے نام پر رکھا گیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے جاپان میں “سامورائی بانڈ” اور بھارت میں “مصالحہ بانڈ” مشہور ہیں۔
آسان الفاظ میں، پاکستان چین کی مارکیٹ سے یوآن کرنسی میں قرض حاصل کرے گا، جسے بعد میں سود سمیت واپس کرنا ہوگا۔ اس منصوبے کے تحت چینی سرمایہ کار بانڈز خرید کر پاکستان کو یوآن فراہم کریں گے، جنہیں پاکستان درآمدی ادائیگیوں اور مالیاتی ضروریات کے لیے استعمال کر سکے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا بلکہ معیشت کو استحکام دینے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے اعتماد کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ کا اجرا پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے ملک کو ڈالر پر انحصار کم کرنے اور متبادل مالیاتی ذرائع تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ -

انسٹا گرام کی نئی ایپ “انسٹنٹس” متعارف، تصاویر خودکار طور پر غائب ہو جائیں گی
انسٹا گرام نے صارفین کے لیے ایک نئی اور منفرد ایپ “انسٹنٹس” متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد حقیقی زندگی کے لمحات کو فوری اور قدرتی انداز میں شیئر کرنا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نئی ایپ میں صارفین ایسی تصاویر شیئر کر سکیں گے جو ایک بار دیکھے جانے کے بعد خودکار طور پر غائب ہو جائیں گی، جبکہ اگر تصویر نہ دیکھی جائے تو وہ صرف 24 گھنٹوں تک دستیاب رہے گی۔
انسٹنٹس ایپ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تصاویر کو ایڈٹ کرنے کی سہولت موجود نہیں ہوگی۔ صارف صرف ایک کلک کے ذریعے تصویر کھینچ کر فوراً شیئر کر سکیں گے، تاکہ تصاویر زیادہ قدرتی اور حقیقی محسوس ہوں۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ فون گیلری میں موجود پرانی تصاویر اپ لوڈ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام تصاویر صرف ایپ کے اندر موجود کیمرے کے ذریعے ہی لی جا سکیں گی۔ البتہ صارفین تصاویر پر مختصر ٹیکسٹ ضرور شامل کر سکیں گے، لیکن فلٹرز یا دیگر ایڈیٹنگ فیچرز دستیاب نہیں ہوں گے۔
انسٹا گرام کے مطابق اس ایپ کو خاص طور پر “ریئل لائف شیئرنگ” کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ لوگ بغیر مصنوعی فلٹرز کے اپنی اصل زندگی کے لمحات دوستوں اور فالوورز کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
کمپنی نے بتایا کہ انسٹنٹس ایپ کو الگ سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انسٹا گرام کے اندر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ صارفین انسٹا گرام ان باکس کے نیچے دائیں کونے میں انسٹنٹس فیچر دیکھ سکیں گے، جہاں وہ منتخب افراد کو تصاویر بھیج سکیں گے۔
سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ انسٹنٹس تصاویر کے اسکرین شاٹس لینا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کسی صارف نے تصویر خود بھیجی ہو تو وہ اسے ایک پرائیویٹ فولڈر میں محفوظ کر سکے گا۔ -

چینی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور متعلقہ فریقوں کے درمیان انتظامی پروٹوکولز پر مفاہمت کے بعد سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے بعض چینی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد کل سے ان جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہونا شروع ہو گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ اجازت مخصوص انتظامی اور سکیورٹی قواعد و ضوابط کے تحت دی گئی ہے تاکہ خطے میں بحری آمدورفت کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران، امریکا اور مغربی ممالک کے درمیان جاری تناؤ کے سبب اس اہم بحری راستے میں جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے چین جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے جہازوں کی آمدورفت کی بحالی عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے چینی جہازوں کو اجازت دینا دونوں ممالک کے قریبی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پہلے ہی ایران کے توانائی شعبے میں اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مبصرین خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ -

پاکستان نے بھارت میں مذاکرات کی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا
پاکستان نے بھارت میں مذاکرات اور تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے سامنے آنے والی آوازوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت میں اب مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جو خطے میں امن کے لیے خوش آئند اشارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ بھارتی حکومت بھی ان آوازوں پر مثبت ردعمل دے گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کو اس وقت کسی ٹریک ٹو یا بیک ڈور ڈپلومیسی سے متعلق معلومات نہیں ہیں، تاہم پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بامعنی مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بنوں کی فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ ڈی مارش دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
علاقائی سفارتکاری کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور چین کے درمیان جاری رابطوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم کے متوقع دورۂ چین کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ تاریخ حتمی ہونے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سی بی ایس کی ایرانی طیارے سے متعلق رپورٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے “گمراہ کن اور حقائق کے منافی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ایرانی طیارہ جنگ بندی کے دوران سفارتی عملے اور انتظامی امور کے سلسلے میں اسلام آباد آیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے نرم سفارتی پیغام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے بات چیت کی حمایت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ -

نجی اسکولوں پر ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس لینے پر پابندی
وفاقی دارالحکومت میں نجی اسکولوں کے لیے نئے سخت قواعد متعارف کروا دیے گئے ہیں، جن کے تحت اب کوئی بھی پرائیویٹ اسکول ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس وصول نہیں کر سکے گا۔
پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے والدین کے استحصال کو روکنے اور تعلیمی اداروں میں شفافیت لانے کے لیے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کو بھاری جرمانے، آڈٹ اور حتیٰ کہ سیل کیے جانے جیسی سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پیرا کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق تعلیمی سیشن کے 12 مہینوں سے زائد کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ والدین سے اضافی، غیر قانونی یا غیر ضروری فیسیں لینے والے اداروں کے خلاف “زیرو ٹالرنس” پالیسی اپنائی جائے گی۔
چیئرمین پیرا ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ طلبہ اور والدین کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ والدین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی شکایت سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی شکایات آسانی سے درج کرا سکیں۔
پیرا نے غیر قانونی طور پر چلنے والے نجی اسکولوں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام اداروں کو رجسٹریشن اور قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔
والدین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض نجی اسکول کئی ماہ کی فیس ایڈوانس وصول کرکے والدین پر اضافی مالی دباؤ ڈالتے تھے، جس سے متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا تھا۔