Baaghi TV

Tag: فوجی عدالتیں

  • سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا،وکیل سلمان اکرم راجہ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران سزایافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سویلینز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت آج بھی کی گئی۔منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی اس دوران فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے-

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ سادہ لفظوں میں بات کی جائے تو سویلنز کے بنیادی حقوق ختم کرکے کورٹ مارشل نہیں کیا جاسکتا، سویلنز کا کورٹ مارشل شفاف ٹرائل کے بین الاقوامی تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ بین الاقوامی اصولوں میں کہیں نہیں لکھا کہ سویلنز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، جس پر سلمان اکرم راجہ کا موقف تھا کہ انگلینڈ میں کورٹ مارشل فوجی نہیں بلکہ آزاد ججز کرتے ہیں، بین الاقوامی تقاضوں کے تحت ٹرائل کھلی عدالت میں، آزادانہ اور شفاف ہونا چاہیے، بین الاقوامی قوانین کے مطابق ٹرائل کے فیصلے پبلک ہونے چاہئیں، دنیا بھر کے ملٹری ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں عدالتوں میں جاتی ہیں یورپی عدالت کے فیصلے نے کئی ممالک کو کورٹ مارشل کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے مجبور کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا ؟جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کا مطلب ہے کہ ٹرائل شفاف نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے پھر استفسار کیا کہ کوئی ملک اگر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو کیا ہوگا؟

    جس پر سلمان اکرم راجہ کا مؤقف تھا کہ کچھ بین الاقوامی اصولوں کو ماننے کی پابندی ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں، شفاف ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں ہی آئین کا حصہ بنایا گیاایف بی علی کیس کے وقت آئین میں اختیارات کی تقسیم کا اصول نہیں تھا، پہلے تو ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار فوجداری ٹرائلز کرتے تھے، کہا گیا اگر ڈی سی فوجداری ٹرائل کر سکتا ہے تو کرنل صاحب بھی کر سکتے تمام ممالک بین الاقوامی اصولوں پر عملدرآمد کی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرتے ہیں، جس پر یو این کی انسانی حقوق کمیٹی رپورٹس کا جائزہ لے کر اپنی رائے دیتی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر اور نومبر کے اجلاسوں میں پاکستان کے فوجی نظام انصاف کا جائزہ لینے کے بعد یو این کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں سویلنز کے کورٹ مارشل پر تشویش ظاہر کی تھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق پاکستان میں فوجی عدالتیں آزاد نہیں، رپورٹ میں حکومت کو فوجی تحویل میں موجود افراد کو ضمانت دینے کا کہا گیا، اسی طرح یورپی کمیشن کے مطابق 9 مئی کو احتجاج والوں کا کورٹ مارشل کرنا درست نہیں یورپی یونین نے ہی پاکستان کو جی ایس پی پلیس سٹیٹس دے رکھا ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں یہی نکات اٹھائے ہیں، ہزاروں افراد کا ٹرائل اے ٹی سی میں ہو سکتا تو ان 105 ملزموں کا کیوں نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو کے میں ایک فیڈلی نامی فوجی کا کورٹ مارشل ہوا، یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اس کا خصوصی ٹرائل کالعدم قرار دے دیا تھا، فیڈلی ذہنی تناؤ کا شکار تھا، اس نے فائرنگ کی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیڈلی کی فائرنگ سے بھی ایک ٹی وی ٹوٹ گیا تھا، نومئی واقعات میں بھی ایک ٹی وی توڑا گیا۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ نو مئی واقعات میں ٹی وی توڑنے والے سے میری ملاقات ہوئی، وہ بیچارہ شرم سے ڈوبا ہوا تھا، ٹی وی توڑنے والا بیچارہ چار جماعتیں پاس بے روزگارتھا، ہمارے معاشرے نے ایسے لوگوں کو کیا دیا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ انفرادی باتیں نہ کریں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے فیڈلی سے ملاقات بھی کی؟جس پر جسٹس نعیم اختر افغان بولے کہ نہیں سلمان راجہ نے پاکستانی فیڈلی سے ملاقات کی ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے کہا میرا موکل فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا تھا، نو مئی والے دن وہ کرکٹ کھیلنے تو نہیں گیا تھا ناں۔

  • فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    فوجی عدالتوں کی حمایت کرنیوالی پی ٹی آئی آج فیصلے پر سیخ پا کیوں

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے متعدد سویلین افراد کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔عمران خان نے فوجی عدالتوں کی حمایت کی تھی تو وہیں مراد سعید نے بھی فوجی عدالتوں کے حق میں بیانات دیئے تھے،

    2018 سے لے کر 2022 تک فوجی عدالتوں میں ہونے والے سویلین ٹرائلز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 2018 میں فوجی عدالتوں میں 25 سویلین افراد کا ٹرائل ہوا، جبکہ 2019 میں یہ تعداد بڑھ کر 61 تک پہنچ گئی۔ 2020 میں 46 سویلین، 2021 میں 36 سویلین اور 2022 میں 12 سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سویلین افراد پر مقدمات کا آغاز اور ان کے خلاف سزائیں دی گئیں۔پاکستان میں 1972 سے 2023 تک فوجی عدالتوں میں مجموعی طور پر 1875 سویلین افراد کا ٹرائل ہو چکا ہے اور ان پر مختلف نوعیت کی سزائیں دی جا چکی ہیں۔ ان سزاؤں پر مکمل طور پر عمل درآمد بھی کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں دہشت گردی، شدت پسندی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے گئے۔

    اگرچہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا مؤثر جواب دینا تھا، مگر ان عدالتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی بھی زور پکڑ گئی ہے۔ اس بات پر تنقید کی جاتی ہے کہ فوجی عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر سکتی ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اُترتے۔ یہ بات خاص طور پر اہمیت کی حامل ہے کہ جن جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کی، وہ خود بھی اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کی حمایت اور استعمال کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما آج فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، مگر ان کے اپنے دور حکومت میں ان عدالتوں کے ذریعے 180 سویلین کا ٹرائل کیا گیا اور ان پر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔ اس تناقض پر سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح ایک ہی سیاسی جماعت ایک وقت میں فوجی عدالتوں کی حمایت کرتی ہے اور بعد میں ان کے خلاف سخت بیانات دیتی ہے۔

    اگر تحریک انصاف اپنے ماضی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ کہے کہ "کل ہمارا موقف غلط تھا”، تو شاید اس میں کوئی وزن نظر آ سکتا ہے۔ لیکن جب ایک جماعت اپنے موقف میں واضح تبدیلی لاتی ہے اور اس میں کوئی معقول جواز پیش نہیں کرتی، تو عوامی سطح پر اس کے بیانات کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں 9 مئی کے دوران ہونے والے ہنگامہ آرائی کے بعد فوجی عدالتوں نے آج ان مجرموں کو سزائیں سنا دی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ فوجی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی، لیکن آج جب ان کی جماعت کے کارکنان کو ان عدالتوں میں سزا ملی ہے تو پارٹی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور دیگر رہنماؤں بشمول مراد سعید نے ماضی میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین، میڈیا پرسنز اور سویلینز کے ٹرائل کی حمایت کی تھی۔ ان رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا دفاع کیا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال ضروری ہے۔ بانی تحریک انصاف، عمران خان نے بھی اکثر فوجی اداروں کو سپورٹ کیا اور ان کے کردار کو سراہا۔تاہم، 9 مئی کے حملوں کے بعد جب ان کے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا ہے، تو پی ٹی آئی کی قیادت کی زبان بدل گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بات کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کا عمل شفاف اور منصفانہ نہیں ہو رہا، جو کہ ان کی سابقہ پوزیشن کے بالکل برعکس ہے۔

    9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہ صرف سول حکومت کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پاکستان کی فوجی تنصیبات، بشمول آئی ایس آئی کے دفاتر، پر حملے کی کوشش کی۔ ان حملوں کو ملک میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور فوجی عدالتوں کے ذریعے مجرموں کا ٹرائل کیا گیا۔تاہم پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں کے اس استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہیں اور ان میں شفافیت کا فقدان ہے۔ پارٹی کی قیادت نے ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے ہیں، حالانکہ ماضی میں خود انہوں نے ان عدالتوں کی حمایت کی تھی۔

    جب ان کے کارکن فوجی عدالتوں میں سزا پا چکے ہیں، تو پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاست چمکانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو ان کے مشکل وقت میں چھوڑ دیا تھا۔ پی ٹی آئی نے 9 مئی کے بعد اپنے کارکنوں کو فوجی عدالتوں میں پیش ہونے یا ان کی قانونی مدد کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اپنے کارکنوں کو “سول کپڑوں میں فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار” قرار دیا، جو ایک متنازعہ اور بے بنیاد موقف تھا۔پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے حامیوں نے ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پروان چڑھایا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور اس کے ٹرولز نے بار بار پاکستان کی فوج کو میر جعفر اور میر صادق کے طور پر پیش کیا، جس سے نوجوانوں میں فوج کے خلاف نفرت کا جذباتی ماحول پیدا کیا گیا۔ یہ وہ بیانیہ تھا جس کا منطقی نتیجہ 9 مئی کے حملوں کی صورت میں نکلا، جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا۔

    آج، جب فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو سزا سنائی ہے، تو پی ٹی آئی کو ان عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ ملک میں امن کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام ضروری ہے، اور آج ان عدالتوں نے اپنے ہی کارکنوں کو سزائیں دی ہیں۔ اب اس پر اعتراض کرنا پی ٹی آئی کے لیے اخلاقی طور پر جائز نہیں ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی فکر کرتی تو اس نے انہیں اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑا ہوتا اور ان کے قانونی حقوق کے لیے جنگ کی ہوتی۔

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی کے مجرمان کوسزائیں، تحریک انصاف کا رد عمل

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا  تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    ملزمان کا اگر جسمانی ریمانڈ ختم ہو گیا تو وہ جیل میں کیوں نہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس قاضی امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان ،سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں عدالت نے اصل فیصلہ میں غلطی کو دیکھنا ہوتا ہے، اٹارنی جنرل آپ کو ہمیں اصل فیصلہ میں غلطی دکھانا ہو گی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ ملزمان کے ساتھ سلوک تو انسانوں والا کریں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب انسانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں ہو سکتا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ پہلے بتاتے تھے ہر ہفتہ ملزمان کی فیملی سے ملاقات ہوتی ہے، آپ اس کو جاری کیوں نہیں رکھتے؟ اٹارنی جنرل آپ کا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تفتیش کیلئے متعلقہ اداروں کے پاس ملزم رہے تو سمجھ آتی ہے،تفتیش مکمل ہوچکی تو ملزمان کو جیلوں میں منتقل کریں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیلوں میں منتقلی میں کچھ قانونی مسائل بھی ہیں، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ زیر حراست افراد کی اہلخانہ سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے تھا، آج دو بجے زیر حراست افراد کو اہلخانہ سے ملوایا جائے گا، لاہور میں ملاقاتوں کا ایشو بنا اب ایسا نہیں ہوگا۔

    ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش
    لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے،جسٹس عرفان سعادت نے لطیف کھوسہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ آپ بیٹھ جاٸیں اور کیس چلنے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک ملزم کو فیملی سے نہیں ملنے دیا گیا، اس کا پانچ سالہ بچہ فوت ہوگیا،ملزم کا بھاٸی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہے، ملٹری کورٹس میں ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن بریگیڈیر عمران عدالت میں پیش ہو گئے،عدالت نے ملزمان سے ملاقاتوں کے فوکل پرسن کو فوت ہونے والے بچے کے والد کو ورثا سے ملوانے کی ہدایت کر دی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کم از کم آج اس کیس کی میرٹ پر سماعت شروع کریں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے، جسٹس جمال مندوخیل
    اٹارنی جنرل نے ملزمان سے آج اہل خانہ کی ملاقاتوں کی یقین دہائی کروا دی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہر سماعت پر ہمارا آرڈر درکار ہے؟ جسٹس جمال مندوٰخیل نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقاتیں کرانے کیلئے فوکل پرسن کون ہے؟ ڈائریکٹر لاء بریگیڈیئر عمران عدالت میں پیش ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ 24 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں ؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب کیا آپ کے پاس تمام قیدیوں کے اہل خانہ کی فہرست موجود ہے؟جن کا بچہ فوت ہو گیا ہے انکی ملاقات کو ترجیح دی جائے،

    اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟جسٹس شاہد وحید
    جسٹس شاہد وحید اور جسٹس محمد علی مظہر کے درمیان پھر جملوں کا تبادلہ ہوا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ ہمیں غلطی دکھائے بغیر ہم سے نیا اور الگ فیصلہ چاہتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپیل میں اگر کیس آیا ہے، تو پھر سب کچھ کھل گیا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ یہ نکتہ نظر میرے ساتھی کا ہوسکتا ہے میرا نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، ایک قانونی نکتے کی بات کی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ دلائل دیں ہم جو ہوا فیصلے میں دیکھ لیں گے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر اپیل میں سب کچھ ہوسکتا ہے تو کیا ہم کیس ریمانڈ بیک بھی کرسکتے ہیں؟ جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ ایک جواب دے سکتے ہیں کہ یہ نظر ثانی نہیں اپیل ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہی کہ رہے ہیں نا کہ اپیل کا اسکوپ وسیع ہے، بس آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاق یہاں عدالت کے سامنے ایک قانون کا دفاع کرنے کھڑا ہے، عدالت کو اس بات کو سراہنا چاہیے،جس قانون کو کالعدم کیا گیا وہ ایسا تنگ نظر قانون نہیں تھا جیسا کیا گیا،

    اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ کی کالعدم شقوں سے متعلق دلائل دیئے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا اپیل کا حق ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے؟ ہر کسی کو اپیل کا حق دیا گیا تو یہ کیس کبھی ختم نہیں ہوگا، کل کو عوام میں سے لوگ اٹھ کر آجائیں گے کہ ہمیں بھی سنیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک قانون سارے عوام سے متعلق ہوتا ہے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے اپیل دائر کرنے کے لیے،ایڈوکیٹ فیصل صدیقی وڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے متفرق درخواست دائر کر رکھی ہے کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے نہیں آسکتا،خواجہ حارث کے دلائل سے پہلے میری درخواست نمٹائیں ورنہ غیر موثر ہوجائے گی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلی بار تو نہیں ہوا کہ پرائیویٹ وکیل حکومت کی جانب سے آیا ہو، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کئی بار اس پریکٹس کی حوصلہ شکنی کر چکی ہے،پرائیویٹ وکیل کو حکومت کی نمائندگی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے بطور جج دیا تھا،فیصلے کے مطابق اٹارنی جنرل کے پاس متعلقہ کیس پر مہارت نہ ہو تو ہی نجی وکیل کیا جا سکتا ہے،اٹارنی جنرل کو لکھ کر دینا ہوتا ہے کہ ان کے پاس متعلقہ مہارت نہیں ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سویلنز کا فوجی ٹرائل روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا تھا۔پانچ رکنی لارجر بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں،سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کیخلاف کیس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کیخلاف کیس، سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائلز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی.

    سات رکنی بینچ نےکیس پر سماعت کی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شاہد بلال حسن 7رُکنی بینچ کا حصہ ہیں،

    درخواست گزار اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے اور کہا کہ 5 ہفتے سے فوجی تحویل میں موجود قیدیوں کی انکے خاندان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی،ان قیدیوں کو قابل رحم حالت میں رکھا گیا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ کی ملاقات ہوئی ہے؟ آپ کو کیسے پتہ کہ قیدیوں کو قابل رحم حالت میں رکھا گیا ہے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ خاندانوں کو ملنے دیا گیا ہے، ملزمان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے ، کھانا بھی نہیں دینے دیا گیا،

    حفیظ اللہ نیازی نے آئین پاکستان ہاتھ میں اٹھا لیا اور کہا کہ میرا بیٹا گیارہ ماہ سے جسمانی ریمانڈ پر ہے،بتائیں آئین میں یہ کہاں لکھا
    حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ میرے بیٹے سے جو آخری ملاقات ہوئی اس عدالت کی مہربانی سے ہوئی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ آپکا حق تھا اسے عدالت کی مہربانی مت کہیں، جاگر جیسے بتایا گیا ہے ملزمان کو ویسے رکھا گیا ہے تو غلط ہے،بہتر ہوگا اس کیس کو چلا کر فیصلہ کریں، حفیظ اللہ نیازی نے عدالت میں کہا کہ مولانا ابو الکلام نے کہا تھا سب سے بڑی نا انصافی جنگ کے میدانوں میں یا انصاف کے ایوانوں میں ہوتی ہے، حفیظ اللہ نیازی نے آئین پاکستان ہاتھ میں اٹھا لیا اور کہا کہ میرا بیٹا گیارہ ماہ سے جسمانی ریمانڈ پر ہے،بتائیں آئین میں یہ کہاں لکھا ہے؟ نیب کے تین ماہ کے ریمانڈ کو عدالتوں نے کالا قانون قرار دیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن ملزمان کی ملاقاتیں کرائی گئی وہ بیڑیوں میں تھے،اعتزاز احسن نے کہا کہ جالب نے جیل میں ایسی ہی ملاقات پر کہا تھا "حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی”،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ شعر و شاعری تو ہمیں نہیں آتی اصل کیس چلنے دیں،

    حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ درخواست ضمانت کو رجسٹرار آفس نمبر بھی الاٹ نہیں کر رہا،، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم اس وقت اپیل سن رہے ہیں، جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کی درخواست لی تو نہ جانے اور کتنی درخواستیں آجائیں اصل کیس رہ ہی جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فیصلے میں تاخیر ہماری وجہ سے نہیں ہو رہی، اس مقدمہ میں بینچ پر اعتراضات کئے گئے درخواستیں دائر کی گئیں اور مقدمہ کو چلنے نہیں دیا گیا،مرکزی کیس چلنے دیں تو فیصلہ جلد ہوسکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہر بار بنچ پر اعتراض آ جاتا ہے،

    عدالت نے جواد ایس خواجہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو بینچ پر اب اعتراض تو نہیں؟وکیل جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہم اس بینچ سے خوش ہیں، استدعا ہے کہ کیس چلا کر فیصلہ کیا جائے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ دیکھیں،اس فیصلے کی روشنی میں بتائیں اس اپیل کا اسکوپ کیا ہے؟ کیا ایسی اپیل میں ہم صوبوں کو سن سکتے ہیں؟ حامد خان صاحب آپ کی فریق بنے کی درخواست کیسے سنی جا سکتی ہے؟ حامد خان نے کہا کہ میں نے لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے فریق بننے کی درخواست دی ہے،

    انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ اٹارنی جنرل نے پڑھ کر سنایا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ہم نے اس کو نظر ثانی کے اسکوپ میں ہی دیکھنا ہے یا مکمل اپیل کے طور پر؟ سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل سے متعلق رولز بنانے تھے جو ابھی نہیں بنے،یہ رولز اب تک بن جانے چاہیے تھے،انٹرا کورٹ اپیل کو لاء ریفارمز ایکٹ کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا،جو چیزیں اصل کیس میں فیصلہ دینے والے بنچ کے سامنے نہیں تھی وہ اب آپ دلائل میں نہیں اپنا سکتے، خیبر پختونخوا حکومت نے اپیل واپس لی تو اٹارنی جنرل آپ نے کہا کہ یہ پہلے کابینہ منظوری لائیں،جن صوبوں نے یہ اپیلیں دائر کی ہیں کیا انہوں نے کابینہ سے منظوری لی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری نظر میں اپیل کے لیے کابینہ منظوری نہیں چاہیے،اگر کابینہ منظوری لازم ہوئی تو پھر ٹیکس مقدمات میں بھی چاہیے ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ رولز میں سے بتا دیجیے گا کہ کیسے اپیل ہوتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ کو ہم ویسے معاون کے طور پر سن لیں گے،جآپ بار کی جانب سے کیوں فریق بننا چاہتے ہیں؟ حامد خان نے کہا کہ بار کی ایک اپنی پوزیشن ہے اس معاملے پر، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسا ہے تو آپ کو پہلے اصل کیس میں سامنا آنا چاہیے تھا، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیلوں میں تو صوبوں کو بھی نہیں سنا جانا چاہیے تھا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ حامد خان صاحب آپ ہمارا وقت ضائع نہ کریں اصل کیس چلنے دیں، آپ نے بات کرنی ہے تو دیگر وکلاء کی معاونت کر دیجیے گا،

    عدالت نےوکیل فیصل صدیقی سے استفسارکیا کہ حامد خان کو فریق بنانے پر آپ کیا کہتے ہیں؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے اس مشکل میں نہ ڈالیں، میں نے اس کیس کو براہ راست نشر کرنے کی متفرق درخواست دائر کی ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ براہ راست نشر کرنے کی سہولت صرف کورٹ روم ون میں ہے، فیصل صدیقی نے براہ راست نشر کرنے کی درخواست واپس لے لی اور کہا کہ عدالت اس کیس کا جلد فیصلہ کرے میں ایسی درخواست کی پیروی نہیں کرتا،

    حامد خان کی فریق بننے کی درخواست پانچ دو سے منظورکر لی گئی،حامد خان لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے پیش ہوئے

    زیارت میں قائداعظم ریزیڈنسی کو آگ لگائی گئی تھی، زیارت واقعہ پر شہداء فاونڈیشن کہاں تھی؟جسٹس جمال مندوخیل
    پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے وڈیو لنک پر دلائل دئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل ایک اندرونی انتظام ہے، اس کا اسکوپ اپیل سے زیادہ نظر ثانی کے قریب تر ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نےشہدا فاونڈیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کل رات کیس کا ریکارڈ دیکھ رہا تھا،ریکارڈ کے مطابق جناح ہائوس لاہور کو بھی آگ لگائی گئی تھی،یہ بعد میں دیکھیں گے کہ قائداعظم جناح ہائوس میں کتنے دن رہے، زیارت میں قائداعظم ریزیڈنسی کو آگ لگائی گئی تھی، زیارت واقعہ پر شہداء فاونڈیشن کہاں تھی؟ کتنی درخواستیں دائر کیں؟ شہدا فاونڈیشن کے فریق بننے کی درخواست منظور کر لی گئی.

    اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں،سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت 11 جولاٸی جمعرات تک ملتوی کر دی ،سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائلز کیس کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا،حکمنامہ میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار کی فریق بننے کی استدعا منظور کی جاتی ہے، فیصل صدیقی نے بتایا کہ وہ براہ راست نشریات کی درخواست کی پیروی نہیں چاہتے، حفیظ اللہ نیازی نے بتایا ان کے بیٹے گرفتار ہیں،فریقین نے بتایا کہ ملزمان سے فیملی کی ملاقات نہیں ہو رہی،اٹارنی جنرل ملزمان کی فیملیز کی شکایات کا ازالہ کریں، خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے سویلنز کا فوجی ٹرائل روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا تھا۔پانچ رکنی لارجر بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو فوجی عدالتوں میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث 102 سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دیا تھا.

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

  • فوجی عدالتوں میں سولین کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر حکمنامہ

    فوجی عدالتوں میں سولین کے ٹرائل کیخلاف اپیلوں پر حکمنامہ

    سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی درخواست واپس لینے پر نمٹائی جاتی ہے،اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا ٹوٹل 105 ملزمان زیر حراست ہیں،15 سے 20 افراد کے مقدمات میں، کچھ کیسز بری ہونے کے قابل ہیں،اور کچھ کم سزا یافتہ ہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق کم سزایافتہ ملزمان کو رعایت بھی دی جائے گی،اٹارنی جنرل کی خصوصی عدالتوں کے محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی استدعا کی جیسے منظور کیا جاتا ہے،اٹارنی جنرل کی بری ہونے والے یا کم سزا والے ملزمان کا فیصلہ سنانے کی استدعا پر کسی نے مخالفت نہیں کی، رہائی پانے والے افراد کی لسٹ آئندہ سماعت سے قبل عدالت جمع کروائی جائے ،آئندہ سماعت اپریل کے چوتھے ہفتے تک ملتوی کی جاتی ہے

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

  • فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کی رہائی کا امکان ہے،اٹارنی جنرل

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد، جسٹس مسرت ہلالی جسٹس عرفان سعادت خان بینچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل نے فوجی عدالتوں سے 15 سے 20 ملزمان کو رہا کیے جانے کا امکان ظاہر کر دیا ، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بریت اور کم سزا والوں کو رعایت دیکر رہا کیا جائے گا،مجموعی طور پر 105 ملزمان فوج کی تحویل میں ہیں،بریت اور کم سزا والوں کو رعایت دیکر رہا کیا جائے گا،ملزمان کی رہائی کیلئے تین مراحل سے گزرنا ہوگا،پہلا مرحلہ محفوظ شدہ فیصلہ سنایا جانا دوسرا اسکی توثیق ہوگی،تیسرا مرحلہ کم سزا والوں کو آرمی چیف کی جانب سے رعایت دینا ہوگا،اٹارنی جنرل نے خصوصی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی ، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر اجازت دی بھی تو اپیلوں کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی،

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالتوں سے جنہیں رہا کرنا ہے اُن کے نام بتا دیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتوں سے فیصلے نہیں آ جاتے نام نہیں بتا سکتا، جن کی سزا ایک سال ہے انہیں رعایت دیدی جائے گی،جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ پھر رہائی کا فیصلہ عید سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ اپنوں کے ساتھ عید گزاریں، اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی بات سن کر مایوسی ہوئی ہے،

    سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی ،عدالت نے کہا کہ صرف ان کیسز کے فیصلے سنائے جائیں جن میں نامزد افراد عید سے پہلے رہا ہوسکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کم سزا والوں کو قانونی رعایتیں دی جائیں گی، فیصلے سنانے کی اجازت اپیلوں پر حتمی فیصلے سے مشروط ہوگی، عدالت نے اٹارنی جنرل کو عملدرآمد رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانے کی ہدایت کر دی ،مزید سماعت اپریل کے تیسرے ہفتے میں ہوگی،

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

    پنجاب میں بڑا معرکہ،سات سینیٹر بلا مقابلہ منتخب

  • ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    ملٹری کورٹس کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس سردار طارق مسعود نے بنچ سے علیحدگی اختیار کر لی،بنچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل رہے گا، تین رکنی ججز کمیٹی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کے لیے نیا لارجر بنچ تشکیل دے،

    گزشتہ سماعت پر دوران سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 اکتوبر 2023 کو مختصر حکمنامہ سنایا تھا، مختصر حکم نامے میں سپریم کورٹ نے سویلین کا فوجی عدالتوں ٹرائل روکتے ہوئے ان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا،پانچ رکنی بنچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن کر رہے تھے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی بنچ کا حصہ تھے،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ 125 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلہ بنچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی ، لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورزمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے، برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے، تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا ایک سیکشن 1967 میں اس وقت شامل ہوا جب ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، ایف بی علی کیس میں جب سزائیں دی گئیں اس وقت ملک میں عبوری آئین تھا، 9 اور 10 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، شہدا کے مجسموں کو نقصان پہنچا گیا، کور کمانڈر کے گھر پر حملہ ہوا، اعلیٰ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملوث ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، سب کی ایک ہی متحد آواز تھی کہ ایسے واقعات پر قانون حرکت میں آنا چاہیے ، اس کے بعد مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہونا شروع ہوئیں، فوجی حکام نے متعلقہ دہشت گردی کی عدالتوں سے رجوع کر متعلقہ ملزمان کی حوالگی مانگی، نتیجے میں 103 ملزمان کو فوجی عدالتوں کی حراست میں دیا گیا،

    ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اہم وضاحت کر دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات کے تحت ایسے سزا یافتہ افراد جو تمام اپیلوں کا حق استعمال کر چکے ان کے کیسز پر اثر نہیں پڑے گا،

    13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دینےکا فیصلہ معطل کیا تھا

    9 مئی،ملزمان کیخلاف فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے،جسٹس یحییٰ آفریدی
    سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی ایکٹ کی شقوں کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا،اختلافی نوٹ میں کہا کہ تقریباً 50 برس قبل ایف بی علی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے دیا،یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے ،5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے، میری دانست میں 21ویں آئینی ترمیم کیس کے فیصلے کے بعد اس کیس کو 9 رکنی بینچ سنتا تو مناسب ہوتا،سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ پر ایف بی علی کیس کا اطلاق ہوتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ میں آرمی ایکٹ کے سیکشن 2(1) ڈی ٹو کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ انکا عمل کسی بیرون ملک کی ایماء پر سازش کے تحت تھا، ایف بی علی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ سیکشن 2(1) ڈی ٹو دفاع پاکستان سے متعلقہ ہے، 9 اور 10 مئی میں ملوث ملزمان کے خلاف فوجداری قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہیے،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ کس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ملوث ملزمان نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایسا کیا،9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے،103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا،اس کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہئے تھا،

    آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، جسٹس عائشہ ملک
    فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ سامنے آ گیا، جسٹس عائشہ ملک نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو،آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں،آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں، متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا،اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے،جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا،اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے،

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا بینچ پر اعتراض

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کا بینچ پر اعتراض

    اسلام آباد: فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کے معاملے پر سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بینچ پر اعتراض کردیا-

    باغی ٹی وی : فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کے معاملے پر سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے تین رکنی ججز کمیٹی کو خط لکھ دیا خط میں استدعا کی کہ انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل د یا جائے ،سنیارٹی کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

    انہوں نے خط میں لکھا کہ مرکزی کیس میں درخواست گزار ہونے کے ناطے بینچ پر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہوں،جسٹس سردار طارق مسعود پہلے سے رائے دینے کے باعث مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتے-

    پی ٹی وی کا پاک، آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کے دوران جوئے کی کمپنی کے لوگو …

    قبل ازین مقدمات مقرر کرنے والی تین رکنی ججز کمیٹی کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن ایک خط لکھ چکے،جسٹس اعجاز الاحسن نے لکھا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق کیس سات رکنی لارجر بینچ نے سننا تھا،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق سات رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کرے،13 دسمبر کو چھ رکنی لارجر بینچ سویلینز کا ٹرائل روکنے کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع جاری کر چکا۔

    سب کو معلوم ہے کہ کاغذات نامزدگی کہاں چھینے جارہے ہیں،بلاول

  • سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل

    سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس،سپریم کورٹ نے ٹرائل غیر آئینی قرار دینے پر حکم امتناع دے دیا،فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کر دیا گیا،سپریم کورٹ کے6رکنی بینچ نےملٹری کورٹس سے متعلق فیصلہ مشروط طورپرمعطل کیا،سپریم کورٹ نےملٹری کورٹس سے متعلق محفوظ فیصلہ سنا دیا ،سپریم کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ 1-5 سے سنایا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالتیں ٹرائل شروع کر سکتی ہیں تاہم حتمی فیصلہ اپیل سے مشروط ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلے سے اختلاف کیا

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان لارجر بینچ کا حصہ ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراضات پر بنچ سے الگ ہونے سے انکار کردیا ، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وکلا جسٹس جواد ایس خواجہ کا فیصلہ پڑھ لیں، یہ جج کی مرضی ہے کہ بنچ کا حصہ رہے یا سننے سے معذرت کرے، جواد ایس خواجہ کا اپنا فیصلہ ہے کہ کیس سننے سے انکار کا فیصلہ جج کی صوابدید ہے ،میں خود کو بینچ سے الگ نہیں کرتا معذرت،

    دوران سماعت سماعت کمرہ عدالت میں گرما گرمی ہوئی، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اعتراض کرنے والوں کو نوٹس ہو گیا ہے ،پہلے آپکو نوٹس ہوگا تو پھر درخواست گزار پیش ہوں گے، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مقدمے میں پرائیویٹ وکلا کی خدمات لی ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پرائیویٹ وکلا حکومت نہیں کرسکتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا علم ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارا بینچ پر اعتراض ہے اور آپ بیٹھ کر کیس سن رہے ہیں ،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ تو کیا کیس کو کھڑے ہو سنیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکم امتناعی مانگا جا رہا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا ہم حکم امتناعی دے رہے ہیں ،ابھی کیس سننے دیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس سننے سے ہمارے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سب سے پہلے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ ہوگا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ اپنا فیصلہ دے چکے ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نے کوئی فیصلہ نہیں دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نجی وکلاء کی خدمات کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے ہیں، مناسب ہوگا پہلے درخواست گزاروں کو سن لیا جائے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ہمیں سنے بغیر معطل نہیں کر سکتی،

    بیرسٹر اعتزاز احسن بھی روسٹم پر آگئے ،اعتزاز احسن نے کہا کہ اعتراض پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے کہ آپ نے بینچ میں بیٹھنا ہے یا نہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ میں نہیں کر رہا سماعت سے انکار آگے چلیں،جسٹس میاں محمد علی مظہر نےاپیل کندہ شہدا فورم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تفصیلی فیصلے کے بعد درخواست میں ترمیم بھی کرنا ہوگی، جسٹس سردار طارق مسعود نے اٹارنی جنرل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کر دی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے خواجہ حارث کو وقت دینا چاہتا ہوں، خواجہ حارث وزارت دفاع کی جانب سے روسٹرم پر آگئے،عدالت نے اپیلوں پر سماعت کا آغاز کر دیا ،فریقین کے وکلاء کو نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی،شہداء فاونڈیشن کے وکیل شمائل بٹ نے اپیل پر دلائل کا آغاز کر دیا.

    سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا،وکیل وزارت دفاع
    جسٹس میاں محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آپ ملٹری کورٹس میں ہونے والے ٹرائل کو یقینی فئیر ٹرائل کیسے بنائیں گے؟ وکیل وزرات دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ سویلین میں کلبھوشن یادیو جیسے لوگ بھی آتے ہیں، آرمی ایکٹ میں سویلین پر دائرہ اختیار پہلے ہی محدود تھا، سویلین سے متعلق دفعات کو کالعدم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ابھی ہمارے سامنے تفصیلی فیصلہ نہیں آیا،کیا تفصیلی فیصلہ دیکھے بغیر ہم فیصلہ دے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب کیا تفصیلی فیصلے کا انتظار نہ کر لیں؟ وکیل خواجہ حارث نےکہا کہ پھر میری درخواست ہو گی کہ ملٹری کسٹڈی میں جو لوگ ہیں ان کا ٹرائل چلنے دیں، ہر سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو رہا، صرف ان سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا جو قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ
    فیصلے کی وجوہات آنے دیں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ مناسب ہوگا تفصیلی فیصلے کا انتطار کر لیں، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ دیکھنا ہوگا ان نکات پر فیصلے میں کیا رائے دی گئی ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا ہے تو عدالتی حکم معطل کرنا ہوگا، فوج کی تحویل میں 104 افراد سات ماہ سے ہیں،ملزمان کیلئے مناسب ہوگا کہ ان کا ٹرائل مکمل ہوجائے، کچھ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوگئی تھی کچھ پر ہونا تھی،بہت سے ملزمان شاید بری ہو جائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہیں سزا ہوئی وہ بھی3سال سے زیادہ نہیں ہوگی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ سزا 3سال سے کم ہوگی؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ کم سزا میں ملزمان کی حراست کا دورانیہ بھی سزا کا حصہ ہوگا، جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جو بری ہونے والے ہیں انہیں ضمانت کیوں نہیں دے رہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جن ججز نے ملٹری کورٹس فیصلہ دیا وہ بھی اسی سپریم کورٹ کے جج ہیں،ٹرائل کالعدم قرار دینے والا تفصیلی فیصلہ آیا نہیں تو ٹرائل دوبارہ کیسے چلے گا،سویلینز کے ٹرائل کیخلاف فیصلے پر حکم امتناع دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل روکنے سے متعلق کچھ دیر تک اپنا فیصلہ سنائیں گے،فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکنے کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ جاری کریں گے،حکمنامے میں 23 اکتوبر کا فیصلہ معطل کرنے یا نہ کرنے کا بتائیں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کو زیادہ سنگین سزاؤں والی دفعات سے بھی چارج کیا جا سکتا تھا،سنگین دفعات اس لیے نہیں لگائیں کہ بے شک وہ گمراہ تھے مگر ہمارے شہری ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملٹری کورٹس کیس فیصلے کی ایک جزو کو معطل کیا جائے تو اٹارنی جنرل کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم فیصل صدیقی سے متفق نہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم غیر آئینی ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں جو کرنل صاحب یا میجر صاحب بیٹھ کر کیس سنتے ہیں کیا وہ ضمانت دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی حقوق کو آئین میں تحفظ دیا گیا ہے، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ایک تو بنیادی حقوق پتہ نہیں ہمیں کہان لیکر جائیں گے، ملٹری ٹرائل غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ معطل کیا جائیگا یا نہیں؟سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟جسٹس سردار طارق مسعود
    سپریم کورٹ مین گزشتہ روز 23 فوجیوں کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کل جو 23 بچے شہید ہوئے ان پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کیسے ہو گا؟ جو فوجی جوانوں کو شہید کر رہے ہیں ان کا تو اب ٹرائل نہیں ہو سکے گا کیونکہ قانون کالعدم ہو چکا، جنہوں نے کل 23 جوان شہید کیے ان سویلینز کا ٹرائل اب کس قانون کے تحت ہو گا؟ سیکشن 2 ون ڈی کالعدم ہونے کے بعد دہشتگردوں کا ٹرائل کہاں ہو گا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت موقع دے تو اس معاملے پر سیر حاصل دلائل دیں گے،

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار