Baaghi TV

Tag: فیصلے

  • فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    حکمران اتحاد اورپی ڈی ایم کے قائدین کا ہنا ہے کہ اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

    اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب سے متعلق کیس فل کورٹ سنے، موجودہ بینچ کا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا،انصاف کی بالادستی کیلئے فل کورٹ کی تجویز دی تھی، اب فیصلہ تین بینج پر مشتمل یہی ججز کریں گے،اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا ہے،یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار کیلئے کیا تھا،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سپریم کورٹ میں سماعت کا بائیکاٹ کریں گے، سپریم کورٹ کو پارلیمان سے متعلق بار بار فیصلے دینے پڑ رہے ہیں،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سماعت کا بائیکاٹ کریں گے،ہم سمجھتے ہیں عدالت کا بھی فل بینچ بیٹھے اور فیصلہ دے،حکومتی اتحادی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے.

     

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

     

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے،قانون کا تقاضا ہے کہ کسی جج یا بینچ پر انگلی اٹھ جائے تو وہ خود کو وہاں سے ہٹا دے، ہم نے صرف فل کورٹ کی استدعا کی تھی، مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر احسن اقباک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باعث 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ نہیں گنے گئے، اس کیس پر نظرثانی کی درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے،عمران نیازی کی ہدایت محترم تھی تو چودھری شجاعت کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہئے، ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا،ہیں چاہتے کہ کسی سیاسی تنازع پر سپریم کورٹ پر لوگ انگلیاں اٹھائیں،عام تاثر ہے کہ عمران خان عدلیہ کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں،ہم نے صرف سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی،سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی تیزی اس مقدمے کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے،فل کورٹ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا.

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دے دیا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنتا تو تمام سیاسی جماعتیں مطمئن ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا فیصلہ نہ مان کر پارلیمانی پارٹی کو جواز بنانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 25 ارکان کی نااہلی کے پیچھے پارٹی سربراہ کے احکامات تھے۔اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے، مرحوم حاصل بزنجو کے ووٹ مسترد ہوئے تو اس پر بھی عدالت خاموش رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر کے 52 ہزار ووٹ جعلی نکلے، اس معاملے پر بھی عدالت 3 سال تک فیصلہ نہ دے سکی۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی، تمام قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو آج کی سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

     

    فل
    کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا

  • ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکریں گے، وزیراعظم

    ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکریں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے موجودہ حالات کسی چیلنج سے کم نہیں ، اتحادیوں سےمل کر ملک کو مشکلات سےنکالیں گے، ضرورت پڑی تو مزید مشکل فیصلےکرنا پڑے تو کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی کے بعد قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں، اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہے، پہلا بجٹ ہے جب امیروں پر ٹیکس اور غریبوں کو ریلیف دیا گیا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اگلا دور آج اور کل رات کو ہوگا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امید ہے آئی ایم ایف سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، جلد معاشی بحران پر قابو پالیں گے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے سیاسی بنیادوں پر تقرر و تبادلوں کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ ہم کچھ عرصے کےلیے آئے ہیں ہمیں کام کرنا چاہیے،ہمیں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔

    کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہمیں بڑا معاشی چیلنج ملا، گزشتہ حکومت نے پٹرول کی قیمت کم کرکے آنے والی حکومت کےلیے جال بچھایا، دنیا میں معاشی صورت حال گمبھیر ہے، قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجبوراً پٹرول کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، 7 کروڑ لوگوں کو ریلیف فراہم کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، انہیں 2 ہزار روپے مہینہ دیا جارہا ہے، امید ہے ٹیکس کی ادائیگی میں امیر طبقہ اس مشکل وقت میں قوم کا ساتھ دےگا، مشکل فیصلے مزید بھی کرنے پڑے تو کریں گے، بجٹ میں امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے ۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے ساڑھے 3 سال عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہ کیا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کی خلاف ورزی کی، مشکلات ہیں لیکن ہم سب مل کر محنت کریں گے اور پاکستان کو مشکل سے نکالیں گے۔

    علاوہ ازیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے وزیراعظم نے کابینہ کو اعتماد میں لیا وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیرمملکت حنا ربانی کھر نے کابینہ کو بریفنگ دی،حکومت ملک کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے بھرپور کوشش کررہی ہے،امید ہے پاکستان کا گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں جانے کا راستہ کلیئر ہوجائے گا، کابینہ میں کسانوں کے لیے یوریا کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی بات ہوئی کابینہ نے ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ کی نظر ثانی کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،دنیا میں تمام سپلائی چین یوکرین وار کی وجہ سے بحران کا شکار ہے، پاکستان ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کو مشکلات کا سامنا ہے، کابینہ نے جی ایس پی پلس معاہدے کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا،جی ایس پی پلس پاکستان اور ای یوکے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے اہم ہے،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی،آرمی چیف کی نگرانی میں ایک سیل بنایا گیا تھا، وفاقی کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی کاوشوں کو سراہا گیا،

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ غریب کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے.

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی کی وجہ سے ہے ۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلا بجٹ ہے جب امیروں پر ٹیکس اور غریبوں کو ریلیف دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کا اگلا دور آج اور کل رات کو ہوگا،مذاکرات میں پیش رفت ہو گی ۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے آج ہوئے اجلاس میں کابینہ نے سکوک بانڈز جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔ سکوک بانڈز سے مقامی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔

  • پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    پیپلز پارٹی کا تمام فیصلے پارلیمان کو اعتماد میں لے کرکرنے پر اتفاق

    سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی سربراہی میں پی پی پی کی کور کمیٹی کا اعلی سطح کا ہائبرڈ اجلاس منعقد ہوا جس میں دہشت گردی بالخصوص کابل میں تحریک طالبان افغانستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق حالیہ پیش رفت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پیپلزپارٹی کورکمیٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئے.

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام فیصلے پارلیمان میں اور پارلیمان کو اعتماد میں لے کر ہونے چاہئیں۔ پیپلزپارٹی کے اعلی سطح کے اجلاس میں اتفاق رائے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانے کا فیصلہ بھی کیا۔

    بلاول بھٹو نے قرنطینیہ میں ہونے کی وجہ سے کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ فریال تالپور اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی کورکمیٹی اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں دہشت گردی سے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا، پی پی پی کے اعلی سطح کے اجلاس میں بالخصوص تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بات ہوئی، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمان میں تمام فیصلے ہونے پر یقین رکھتی ہے، ہم اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرکے آگے بڑھنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کریں گے.

    اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، فرحت اللہ بابر، خورشید شاہ اور فیصل کریم کنڈی، نجم الدین خان، چوہدری یاسین، قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، ہمایون خان، اخوند زادہ چٹان، ندیم افضل چن ، رخسانہ بنگش شریک ہوئے جبکہ نیربخاری، شازیہ مری، نثار کھوڑو، پلوشہ خان اور امجد ایڈووکیٹ نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی.

  • جب تک درست فیصلے نہیں کریں گے مقدمات التوا میں رہیں گے، اعظم نذیر تارڑ

    جب تک درست فیصلے نہیں کریں گے مقدمات التوا میں رہیں گے، اعظم نذیر تارڑ

    سینیٹ میں قائد ایوان و وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جج صاحبان کی تقرری کے لئے پارلیمانی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے، فوجداری اور دیوانی نظام انصاف کو بہتر بنانے کی بہت گنجائش ہے ۔

    ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں خامیوں سے پورے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، اٹھارویں اور انیسویں ترمیم میں بدقسمتی سے وہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکے جو حاصل ہونے چاہیے تھے، پوری پارلیمان کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب تک آئین میں ترمیم اور قانون سازی نہیں کریں گے اس وقت تک شکایات رہیں گی۔

    عدلیہ میں شفاف طریقے سے میرٹ پر تقرریاں نظام انصاف میں بہتری کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ عدلیہ کو ایک حد تک تجویز دی جا سکتی ہے، مقدمات زیر التوا ضرور ہیں، فوجداری اور دیوانی نظام انصاف کو بہتر بنانے کی بہت گنجائش ہے جب تک سول ججز اور مجسٹریٹس درست فیصلے نہیں کریں گے مقدمات میں التوا آتا رہے گا، ارکان پارلیمنٹ کو قانونی اصلاحات میں تعاون کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جج صاحبان کی تقرری کے لئے پارلیمانی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے، اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ججز کی تقرری جس حد تک بھی ممکن ہو، شفاف طریقے سے اتفاق رائے سے ہونی چاہیے، اس سلسلے میں حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جھتے بندی کا الزام صرف وکلا کو نہیں دیا جا سکتا، ملک میں ایک لاکھ 73 ہزار وکلا ہیں، ہزار دو ہزار افراد کی وجہ سے پوری وکلا برادری کو الزام نہیں دیا جا سکتا، ہم نے قانون کی تعلیم کا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا ہے جو اس سے پہلے نہیں تھا۔

  • حکومتی سخت فیصلوں کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی

    حکومتی سخت فیصلوں کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی

    حکومت کے سخت فیصلوں کے باعث ڈالر، پاؤنڈ، یورو، ریال کی قدر میں کمی واقع ہوئی جبکہ تمام کرنسیوں کی نسبت پاکستانی روپیے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق ہفتہ وار کرنسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے سخت فیصلوں کے بعد جہاں گزشتہ ہفتے ڈالر اور دیگر کرنسیوں کی نسبت روپیہ تگڑا رہا، وہیں آئی ایم ایف سے قرض ملنے کی امید نے ڈالر کو تنزلی سے دوچار کر دیا ہے، برآمدی آمدنی بڑھانے کے عمل سے ڈالر کی رسد بڑھی اور رسد بڑھنے سے مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں نمایاں کی بازگشت بھی رہی۔

    ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت سے دیگر عالمی اداروں سے نئے پیکیجز ملنے کی بھی توقعات پیدا ہوئی ہیں، جب کہ حکومت کے سخت فیصلوں سے درآمدات میں ممکنہ کمی بھی ڈالر کی تنزلی کا باعث بنی ہے.گزشتہ ہفتے ڈالر، پاؤنڈ، یورو، ریال کی قدر میں کمی واقع ہوئی، ڈالر کے انٹربینک ریٹ 199اور 198روپے سے نیچے آگئے، اور ڈالر کے اوپن ریٹ بھی 201، 200 اور 199روپے سے نیچے آگئی، انٹربینک میں ڈالر کی قدر 1.83 روپے گھٹ کر 197.92 روپے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 2.50 روپے گھٹ کر 198.50 روپے کی سطح پر آگئی۔

    ڈالر کے علاوہ برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 3روپے گھٹ کر 249.02روپے
    ہوگئے، اور اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاؤنڈ کی قدر 4روپے گھٹ کر 249روپے ہوگئی۔ انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر 1.53روپے گھٹ کر 212.92روپے ہوگئی، اور اوپن مارکیٹ میں یورو کی قدر 3روپے گھٹ کر 212روپے ہوگئی۔اسی طرح انٹربینک میں سعودی ریال کی قدر 49 پیسے گھٹ کر 52.76روپے ہوگئی، اور اوپن مارکیٹ سعودی ریال کی قدر 50پیسے کم ہوکر 52.50روپے ہوگئی۔

  • وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

    وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی اجلاس طلب کیا

    میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حیرت انگیز فیصلہ کیا سپریم کورٹ نے کہا منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں منحرف اراکین کا کیس تو سپریم کورٹ کےپاس تھا ہی نہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی اب نہیں رہی سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اب پارلیمان کی حاکمیت سپریم کورٹ کو منتقل ہو گئی ہے، ہم فیصلے پر نظرثانی کیلئے بھی جائیں گے،سپیکر کی رولنگ غلط کیسے ہو گئی اسکے تو عدالت کے پاس کوئی شواہد ہی نہیں،آپکے پاس دستاویز ہی نہیں تو کیسے پتہ لگا لیا اسپیکر نے غلط کام کیا سپریم کورٹ اپنا کام کرے پارلیمنٹ اپنا کام کرے گی یہ عمومی تحریک عدم اعتماد نہیں ہے، ہوتا تو ہم اسے ویلکم کرتے، تحریک عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی،کل سازش سے متعلق اصل ریکارڈ ممبران اسمبلی کے سامنے رکھا جائیگا،

    حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طارق خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے ،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن خود اپنی تحقیقاتی ٹیمیں بنا سکے گا کمیشن تحقیقات کرے گا سازش کہاں سے ہوئی، کابینہ نے الیکشن کمیشن کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہمیں اپنی جدوجہد 23 مارچ 1940 سے شروع کرنی ہو گی ،ہم کہیں نہیں جا رہے عمران خان وزیر اعظم ہیں اور رہیں گے اچکنیں ٹنگی رہ جائیں گی 90 روز میں الیکشن ہونے چاہئیں ہرطرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہیں،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

  • پاکستان بھر کی ماڈل کورٹس نے آج مجموعی طورپر229مقدمات کا فیصلہ کیا

    پاکستان بھر کی ماڈل کورٹس نے آج مجموعی طورپر229مقدمات کا فیصلہ کیا

    "”پاکستان بھر کی ماڈل کورٹس نے آج "27 فروری2021 کو مجموعی طورپر229مقدمات کا فیصلہ کیا۔ ماڈل کریمینل ٹرائل کورٹس نے قتل کے23اور منشیات کے56 مقدمات کا فیصلہ سنا دیا۔تمام عدالتوں نے کل 132گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔اسلام آباد میں منشیات کے 02, پنجاب میں قتل کے 13منشیات کے22, خیبر پختونخوا میں قتل کے05 منشیات کے08, سندھ میں قتل کے04 منشیات کے20, بلوچستان میں قتل کے 01 منشیات کے04 مقدمات کا فیصلہ ہوا. 05 مجرمان کو عمر قید جبکہ دیگر17مجرمان کو26سال 01ماہ قید اور1922000روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی.
    ماڈل سول ایپلٹ کورٹس نے آج مجموعی طورپر45 دیوانی،فیملی اور رینٹ اپیلوں و درخواست نگرانی کے فیصلے کر دیے. ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے105مقدمات کے فیصلے کردیے. تمام عدالتوں نے کل128گواہان کے بیانات قلمبند کیے.15مجرمان کو05سال04دن قید اور 51200روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ۔
    ۔ سہیل ناصر ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل”

  • پاک ساوتھ افریقہ سیریز۔پولیس کے سیکورٹی بارے اہم فیصلے

    پاک ساوتھ افریقہ سیریز۔پولیس کے سیکورٹی بارے اہم فیصلے

    ایس پی ہیڈکوارٹرز عمران احمد ملک کی پاک ساؤتھ افریقہ ٹی ٹوینٹی سیریز کے حوالہ سے میٹنگ
    کرکٹ سیریز کے دوران لاجسٹک، سکیورٹی اور دیگر اہم امور بارے تبادلہ خیال
    لاہور،04 فروری
    ایس پی ہیڈکوارٹرز عمران احمد ملک نے کہا ہے کہ پاکستان بمقابلہ ساؤتھ افریقہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ سیریز کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔قیام گاہ اور قذافی سٹیڈیم پرشفٹوں میں تعینات نفری کے متبادل نفری بروقت پہنچائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پاک ساؤتھ افریقہ کرکٹ سیریز کے حوالہ سے پولیس لائنز سٹاف سے میٹنگ کے دوران کیا۔ ڈی ایس پیز فرحت عباس، سہیل کاظمی،قیصر مشتاق، آر آئی لائن محمد نعمان اور لائن آفیسر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ میں کرکٹ سیریز کے دوران لاجسٹک، سکیورٹی اور دیگر اہم امور بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔عمران احمد ملک نے کہا کہ کرکٹ ٹیموں کی قیام گاہ، قذافی اسٹیڈیم میں تعینات اہلکاروں کو پروگرام کے مطابق بروقت کھانا مہیا کیا جا ئے۔
    مزید برآں ایس پی ہیڈ کوارٹرز عمران احمد ملک نے پولیس لائنز کا دورہ کیا۔ انہوں نے فائرنگ رینج، وردی گودام،ایم ٹی سیکشن، میس، کینٹین اور ہاسپٹل سمیت مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ایس پی عمران احمد ملک نے پولیس لائنز عملہ سے بھی ملاقات کی۔ تمام شعبوں کے انچارجز نے ایس پی ہیڈ کوارٹرز کو اپنے اپنے سیکشن بارے تفصیلی بریفنگ دی۔