Baaghi TV

Tag: فیصل واوڈا

  • جو اپنی اولاد کو قبول نہیں کر سکتے تو باپ کو کیسے قبول کریں گے،فیصل واوڈا کی گنڈا پور پر تنقید

    جو اپنی اولاد کو قبول نہیں کر سکتے تو باپ کو کیسے قبول کریں گے،فیصل واوڈا کی گنڈا پور پر تنقید

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میں مریم نواز کی سیاست کا کبھی حامی نہیں رہا لیکن اگر کوئی ان کی طرف، یا میرے دشمن کی ماں بہن بیٹی کی طرف آگے بڑھے گا تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے آگے بڑھتا ہے، بات غیرت کی ہے اور حکومت کو بھی ایکشن لینا چاہیے۔

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے ،ویڈیو میں فیصل واوڈا کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے جو اپنی اولاد کو قبول نہیں کر سکتے تو باپ کو کیسے قبول کریں گے، گنڈاپور پہلے کہتے تھے کسی کا باپ بند نہیں کر سکتا تو بند کر کے دکھایا، پھر کہتے تھے کسی کا باپ جیل میں نہیں ڈالے گا وہ بھی کر کے دکھایا، پھر کہا کسی کا باپ ٹرائل نہیں کرے گا، وہ بھی آئندہ آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا آپ ذاتیات پر نہ آئیں، کوئی اینکر ہے، ہماری بہن بیٹیاں اور بچیاں ہیں، عزت سے روزگار کمانے کے لیے باہر نکلی ہیں، آپ اس طرح کی غلاظت سے ڈریں۔

    لیاقت آباد احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد رہنماؤں پر مقدمہ …


    فیصل واوڈا کا کہنا تھا جب آپ ایسے شخص کو کہ جس پر ریپ کے الزامات ہوں اسے ایسی پوزیشن پر بٹھائیں گے تو کیا باقی رہے گا، میں مریم نواز کی سیاست کا کبھی حامی نہیں رہا لیکن اگر کوئی ان کی طرف، یا میرے دشمن کی ماں بہن بیٹی کی طرف آگے بڑھے گا تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے آگے بڑھتا ہے، بات غیرت کی ہے اور حکومت کو بھی ایکشن لینا چاہیےحکومت نے اپنی وزارت داخلہ کیا چھولے بیچنے کے لیے رکھی ہوئی ہے،
    یہ جہاز اور ہیلی کاپٹر کس لیے ہیں، میں تو بہت میرٹ پر کام کرتا ہوں، میں تو اسے پتنگ کی طرح نیچے لے آؤں گا، میں بڑا کلیئر ہوں اب، میں پاکستان کو اب پاکستان کرکٹ ٹیم نہیں بننے دوں گا چاہے میں اکیلا ہی کیوں نہ کھڑا ہوں۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں چند مقامات پر بارش کا امکان

  • سینیٹ میں فلک ناز چترالی کی آمد پر حکومتی سینیٹرز اور باپ پارٹی کا احتجاج

    سینیٹ میں فلک ناز چترالی کی آمد پر حکومتی سینیٹرز اور باپ پارٹی کا احتجاج

    اسلام آباد (محمداویس) سینیٹ میں سینیٹر فلک ناز چترالی کی آمد پر حکومتی سینیٹرز اور باپ پارٹی نے احتجاج کیا سینیٹر فلک ناز کو ایوان سے نہ نکلانے پر واک آؤٹ کیا دنیشن کمار کی کورم کی نشاندہی پر ایوان ہفتہ کے شام 4بجے تک ملتوی کردیا گیا کا۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی ہیں اگر اصولوں پر بات نہیں ہوگی تو یہ ایوان راج واڑہ بن جائے گا

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدات ہوا ۔ایوان میں ایک بھی وزیر موجود نہیں تھا جس پر ایوزیشن نے شدید احتجاج کیا کہ وزیر کو ایوان میں ہونا چاہیے ۔عرفان صدیقی نے بھی وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کی مطالبات کی حمایت کردی ۔فلک ناز چترالی کے ایوان میں آنے پر ڈائس بجائے گئے ۔قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ یہ وطیرہ بن گیا ہے وزراء ایوان میں نہیں آتے ہیں اس حکومت کو پارلیمان کی کوئی پرواہ نہیں وزیراعظم کی طرف سے ایوان پر حملے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ میں وقت پر ایوان میں آیا تھا مگر وزیر توانائی کی وجہ سے میں چلا گیا کہ پہلے ان کے سوالات ہوں گے جس پر میں واپس چلا گیا اس پر ایوان سے معذرت کرتا ہوں ۔اب سٹیل کے بجائے پی وی کی پائپ گیس لائن استعمال کررہے ہیں تاکہ زنگ کی وجہ سے گیس ضائع نہ ہو۔ پرانی لائنوں کو نئے لائنوں سے تبدیل کیا جارہاہے۔

    سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ کل سندھ میں ایک پولیو ورکر کو ذیاتی کا نشانہ بنایا گیا اس معاملے کو کمیٹی کو بھیج دیں ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ تمام کھاد کمپنیوں کو ایک قیمت پر گیس نہیں ملتی ہے ۔ایک کو 170 اور باقی کو 580 اور ایک کو 15سو میں گیس دیتے ہیں مگر ساری کمپنیاں ایک ہی ریٹ پر کھاد بھیجتی ہیں ۔ تمام کمپنیاں منافع بخش ہیں ۔ پرانے کنووں کی گیس سستی ہے اور نئے کی قیمت مہنگی ہے ۔ تمام کھاد فیکٹریوں کےلیے ایک قیمت پر گیس کے لیے پالیسی بنارہے ہیں جب ان پر کام کریں گے تو دباؤ پڑے گا اور ہاتھ جلیں گے۔دو کمپنیوں کو ایل این جی سے کھاد بنارہی ہیں ان کو سستی ایل این جی دیتے ہیں ان کو 40ارب تک سبسڈی دیتے ہیں ۔ ان کی سبسڈی ایل این جی کے دیگر صارفین سے لیا جاتا ہے ۔

    ڈاکٹر زرقا نے کہاکہ میرا سوال ہے مجھے سوال کرنے دیں جس پر سینیٹر زرقا نے شعر پڑھنا شروع کیا تو ڈپٹی چیئرمین نے مائیک بند کرکے سینیٹر دنیش کمار کو مائیک دیا جس پر احتجاج شروع ہوگیا ۔سوال پر اپوزیشن سینیٹر ڈاکٹر زرقا اور باپ کے سینیٹر دنیش کمار آپس میں لڑ پڑے ۔سوال قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہاکہ باپ پارٹی بہت مضبوط ہے فلک ناز کو ایوان میں نہیں ہونا چاہیے دو دن ورکنگ ڈے ہونا چاہیے ۔ یہ بدتمیزی کریں یہ ان کی لیڈر شپ ان کو کہتے ہیں۔ ہم نہیں چھوڑیں گے ،سینیٹر فیصل واوڈا نے کہاکہ جو پرسوں ہوا ہے اس پر معذرت کرنی ہوگی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز کی بے عزتی ہوئی ہے اس پر ہم ایوان سے واک آؤٹ کریں گے ۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ایوان میں ایک دوسرے کا نقطہ سنیں گے اور ایوان کو چلائیں گے۔ ایوان کو چلنے دیں وزیر نے کابینہ اجلاس میں جانا ہے شبلی فراز نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی ہیں اگر اصولوں پر بات نہیں ہوگی تو یہ راج واڑہ بن جائے گا ۔ دنیشن کمار نے ایوان کورم۔کی نشاندہی کردی ۔ایوان کو ہفتہ 4بجے تک اجلاس ملتوی کردیا گی

    ملیالم فلم انڈسٹری مالی ووڈ میں "می ٹو” کے چرچے،جنسی استحصال کے 17 واقعات رپورٹ

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما مصطفیٰ کمال کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کے کیس سے متعلق رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے

    جسٹس اطہرمن اللہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط میں کہا ہے کہ ” تاثر دیا گیا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز میری شکایت پر کیا گیا، نہ توہین عدالت کی کارروائی چلانے کیلئے کوئی شکایت دی نہ ہی کوئی رائے، 2017 سے مجھے تضحیک آمیز مہم کا سامنا ہے،میرے خلاف جس قدر تضحیک آمیز اور جھوٹی مہم چلائی جائے کسی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی چلانے کی رائے نہیں رکھتا”۔ ،توہین عدالت کے معاملے پر میرا موقف میرے عدالتی فیصلوں سے واضح ہے،میرے خلاف انتہائی منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے مگر میں توہین عدالت کاروائی کے حق میں نہیں،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو پریس کانفرنس کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا، دونوں نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی جس پر عدالت نے نوٹس واپس لے لیا تھا،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    معافی ملنے پر فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے باہر سجدہ ریز،ویڈیو وائرل

    سینیٹر فیصل واوڈا کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کا معاملہ،سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا تو فیصل واوڈا سپریم کورٹ سے باہرنکلتے ہی سجدہ ریز ہو گئے

    فیصل واوڈا توہین عدالت کا نوٹس واپس ہونے پر سجدہ شکر بجا لائے،فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ سے نکلتے ہی سپریم کورٹ کے احاطہ میں سجدہ کیا،فیصل واوڈا سجدہ شکر ادا کرنے کےبعد میڈیا سے بات کیے بغیر سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے.

    قبل ازیں فیصل واوڈا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، توہین عدالت از خود نوٹس میں فیصل واوڈا نے غیر مشروط معافی مانگی جو عدالت نے قبول کر لی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 میں آپ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بات کرسکتے ہیں،آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں،آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کیجئے گا۔سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا، سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو جاری شوکاز واپس لیا جاتا ہے، توقع ہے دونوں رہنما اپنے جمع کرائے گئے جواب پر قائم رہیں گے، اگر دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو صرف معافی قابل قبول نہیں ہو گی،

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے،  مجبور نہ کیا جائے  پبلک میں بتا دوں گا،فیصل واوڈا

    مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے، مجبور نہ کیا جائے پبلک میں بتا دوں گا،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ٹیکس کے معاملے پر سینیٹر فیصل واوڈا چیئرمین ایف بی آر کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی-

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی مخالفت کر دی،دوران اجلاس سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا پوری دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، چھ ماہ میں اگر کسی کی شپمنٹ پہنچتی ہے اس کو تو پتہ ہی نہیں تھا، پالیسی بناکر جب اس پر نظرثانی کی جاتی ہے تو مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا ڈیڑھ کروڑ روپے سے اوپر کی گاڑی پر 25 فیصد سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے، جس پر فیصل واوڈا کا کہنا تھا ٹیکس اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سےکوئی اس ملک میں انڈسٹری نہیں لگاتا،جس پر چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس لگا ہے مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر ٹیکس نہیں لگایا، جس پر سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا یہ میرا کاروبار ہے مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے، مجھے مجبور نہ کیا جائے میں پبلک میں بتا دوں گا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے گاڑیوں پر ٹیکس کے معاملے کو مؤخر کر دیا۔

    ثانیہ مرزا اور بھارتی کرکٹر محمد شامی جلد شادی کرنے والے ہیں،بھارتی میڈیا

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا بجٹ میں ٹیکس لگانے سے پورے پاکستان میں پراپرٹی مارکیٹ بیٹھ گئی ہے، اب عام آدمی گھر نہیں خرید سکے گا، آئی ایم یف کے کہنے پر ہر چیز کا بھٹہ بٹھا دیں گے چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد تک اور غیر تنخواہ دار طبقے پر45 فیصدتک ٹیکس عائد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں فائلر کیلئے ٹیکس 15 فیصد اور نان فائلر کیلئے 45 فیصد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح فیئر ہے۔

    فیصل واوڈا کا کہنا تھا پراپرٹی پر بڑھائے جانے والے ٹیکس سے عام آدمی گھر کیسے بنائے گا، جس پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا سیمنٹ پر فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں ایک روپیہ بڑھانےکی تجویز ہے کیونکہ سیمنٹ کے ریٹ بڑھنے سے ایف بی آر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 2 روپے سے بڑھا کر3 روپےکلو کر دی گئی ہے، ایک روپیہ اس لیے بڑھایا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کو ریونیو آئے۔

    بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے پوچھا پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی کس طرح عائد کی گئی؟ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم سیلز ٹیکس عائد کرنا چاہتے تھے اس لیے ایکسائز ڈیوٹی عائد کی فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا پلاٹ تو اشیاء میں نہیں آتے نہ ہی یہ خدمات میں آتے ہیں، آپ نے پلاٹ کی خریداری پر ٹیکس کس قانون کے تحت لگایا؟ آپ نے قانون کو کھینچ کر ان کو شامل کیا ہے، یہ قانون چیلنج ہو جائے گا میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔

  • فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

    فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہو گئے ۔

    باغی ٹی وی : فیصل واوڈا نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بحری امورکے بلا مقابلہ چئیرمین منتخب ہونے پر کمیٹی ارکان کا شکریہ ادا کیا، کہا کہ بحری مسائل کی نشاندہی ہی نہیں، بلکہ مسائل کا حل میری ترجیح ہوگیا، سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں-

    10 سالہ بچے نے فرمائش پوری نہ کیے جانے پر خودکشی کرلی

    قبل ازیں کمیٹی نے متفقہ طورپرسینٹر سلیم مانڈوی والا کوچیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ منتخب کیا تھا،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں سیکرٹری سینیٹ نے چیئرمین منتخب کرنے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے چیئرمین شپ کیلئے صرف سینٹرسلیم مانڈوی والا کی نامزدگی کی درخواست کا بتایا تھا شبلی فراز نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس طلبی کی اطلاع نہیں دی گئی سینیٹر محسن عزیز نے کہا تھا کہ کمیٹی چیئرمین کا معاملہ باہمی رضا مندی سے طے کیا جاتا ہے قائمہ کمیٹی خزانہ اورقانون کا چیئرمین اپوزیشن سے لیا جاتا ہے، محسن عزیزاورشبلی فراز نے اجلاس غیرقانونی قراردیتے ہوئے بائیکاٹ کردیا تھا –

    جون کے آخر میں بارش کے دو سلسلے ملک میں داخل ہوں گے،محکمہ موسمیات

    شیری رحمان نے کہا تھا کہ جمہوری طریقہ کاراختیار کیا ہے ہم نے انہیں دوسری کمیٹی کی سربراہی کی پیشکش کی جس پر فیصل واوڈا نے شیری رحمان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی ڈی اے کی زمین پرقبضہ کرنے اورشورمچانے سے ریلیف نہیں ملے گام کمیٹی نے متفقہ طورپرسینٹر سلیم مانڈوی والا کوچیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ منتخب کرلیا تھا-

    سوناکشی سنہا اور ظہیر اقبال کی شادی کا ڈیجیٹل دعوت نامہ لیک ہو گیا

  • سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ،مصطفیٰ کمال کی معافی مسترد،پریس کانفرنس دکھانے والے چینل کو نوٹس

    سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فاٸزعیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نےسماعت کی،بنچ میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس نعیم افغان شامل ہیں،سپریم کورٹ طلبی پر فیصل واڈا، کمال مصطفی عدالت پیش ہو گئے،مصطفی کمال کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم اور فیصل واوڈا روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے غیر مشروط معافی کی درخواست مصطفے کمال کی جانب سے دائر کی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ وہ درخواست پڑھیں، فروغ نسیم نے مصطفی کمال کا معافی کی درخواست پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ نے درخواست میں ربا کا ذکر کیا ہے اس کا کیا مطلب؟ ربا والا کیس کا فیصلہ ہو نہیں چکا؟ فروغ نسیم نے کہا کہ ربا والا کیس اس وقت وفاقی شریعت عدالت میں زیر التوا ہے اس پیرائے میں میرے مؤکل نے بات کی تھی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ربا والے معاملے پر دوسرے جج کی تعیناتی کا مسئلہ حل ہوجائے گا، نئے جج کی تعیناتی اس لئے کی جارہی ہے کہ ایک عالم جج فوت ہوچکے ہیں

    ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی عزت کرنی چاہئے، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس اتفاقی تھی یا فیصل واوڈا سے متاثر ہوئے؟ اس پر وکیل فروغ نسیم نے کہا، پریس کانفرنس اتفاقی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیوں آپ لوگ فیصل واوڈا سے متاثر نہیں ہیں ، کیا آپ اب بھی سینیٹر ہیں ، فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں اب میں سینیٹر نہیں ہوں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ بطور کورٹ آفسر بتائیں کہ آپ کے موکل کے توہینِ عدالت کی ہے یا نہیں ؟ وکیل مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین عدالت نہیں ہے،

    مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا بے حد احترام کرتے ہیں،پارلیمنٹ نے کئی قوانین بنائے مگر ہم نے کچھ نہیں کہا،پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ آئینی باڈی ہے ،اگر مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس توہین نہیں تھی تو معافی کس بات کی مانگ رہے ہیں؟قوم کو ایک ایسی پارلیمنٹ اور عدلیہ چاہیے جس کی عوام میں عزت ہو ، میرا خیال ہے یہ پہلی بار ہے کہ ہم نے توہین عدالت کا نوٹس لیا ہے ، فیصل واوڈا سینیٹ میں ہیں وہاں تو اور بھی سلجھے ہوئے لوگ ہونے چاہئیں ، جب ارکان پارلیمنٹ ہوتے ہوئے عدلیہ پر ایسا حملہ کیا جائے تو یہ ایک آئینی ادارے کا دوسرے ادارے پر حملہ ہوتا ہے،اگر مصطفیٰ کمال سمجھتےہیں کہ انہوں نےتوہین عدالت نہیں کی تو پھر معافی قبول نہیں کریں گے،اپ ڈرائنگ روم میں بات کرتےتو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتےتوکچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ معافی کی گنجائش اسلام میں قتل پر بھی ہے مگر اعتراف جرم لازم ہےآپ نے پریس کلب میں جا کر تو معافی نہیں مانگی،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ایسا کرنے پر بھی تیار ہیں مصطفیٰ کمال کی معافی مانگنے کی وجہ یہ ہے وہ عدلیہ کی عزت کرنا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی ججز کے کنڈکٹ کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ، میں دونوں ملزمان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ ارکان پارلیمنٹ ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر بات ہو تو وہ توہین عدالت نہیں وہ ایک فیئر کمنٹ ہے،ہم آپ کے مؤکل کی تقریر سنتے ہیں اور اس میں کوئی توہین والا عنصر نکل آئے تو کیا کریں؟ فروغ نسیم نے کہا کہ سر اس میں ایک آدھ جملہ ہوسکتا ہے اس لئے عدالت سے معافی کے طلبگار ہیں

    جسٹس عرفان سعادت نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اپنے کہے ہوئے الفاظ پر شرمندہ ہیں ؟ فروغ نسیم نے کہا کہ جی بلکل ، ہم نے یہ بات اپنے جواب میں لکھی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججز کی دوہری شہریت پر کوئی پابندی نہیں،فروغ نسیم نے کہا کہ مصطفی کمال نے ججز کی دوہری شہریت پر کوئی بات نہیں کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں لکھاہے کہ پارلیمنٹ میں کسی جج کے حوالے سے بات نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ممبر کرتا ہے تو پھر کیا ہونا چاہیئے۔ ؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے،میں دونوں شخصیات کے بارے میں کہوں گا وہ پارلیمنٹرینز ہیں بات کرنے سے پہلے سوچیں، پارلیمنیٹیرنز نے خود پارلیمنٹ کے ممبرز پر دوہری شہریت کی پابندی لگائی ہے،

    کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمارے سامنے دوہری شہریت کا معاملہ نہیں توہین عدالت کا کیس ہے، آئین پاکستان دیکھیں، کتنے خوبصورت الفاظ سے شروع ہوتاہے، جو لوگ گالم گلوج کرتے کہان سے اثر لیتےہیں، کیا ایسا دینی فرائض میں ہے؟ ہمیں کسی کو توہین کا نوٹس دینے کا شوق نہیں، امام نے فرمایا تھا کسی سے اختلاف ایسے کریں کہ اس کے سر پر چڑیا بیٹھی ہو تو بھی نہ اڑے، کچھ لوگ کہتے ہیں عدلیہ کو ڈرا دھمکا کر گالیاں دے کر فیصلے لے لو، گالی گلوچ کرنے والے کس سے متاثر ہیں؟ اختلاف رائے کے بھی قواعد ہیں، اسلام سے دور ہوکر ہر بندا گالم گلوچ پر اترا ہوا ہے، فیصلوں پر جتنی مرضی تنقید کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدلیہ اور پارلیمان کو لوگوں نے لڑنے کیلئے نہیں بنایا، آپ کو کوئی جج بے ایمان لگتا ہے تو ریفرنس دائر کردیں

    34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین کا مذہب میں کیا اسٹیٹس ہے، فیصل واوڈا کے وکیل سے پوچھ لیتے ہیں،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے اس بارے میں قرآن پاک کی آیات یاد نہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مذہب میں ڈیسنسی کا خیال رکھا جائے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ اس حوالے سے احادیث موجود ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آپ کو قرآن پاک سے سمجھاتے ہیں، سورہ الحجرات میں ایسی آیات ہیں،ہر روز گالم گلوچ سنتے ہیں،ٹی وی والے سب چلادیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فریڈم آف اسپیچ ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیمرا کی رپورٹ ہے 34منٹ کی پریس کانفرنس ٹی وی چینلز نے چلائی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اب ان ٹی وی والوں کو نوٹس دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں سب کو نوٹس دینے چاہئیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پیمرا نے ایک رول بنایا ہے کہ کورٹ کارروائی ریکارڈ اور رپورٹ نہیں ہوگی ،کیا ایسا کوئی آرڈر پیمرا نے ارڈر جاری کیا ہے ؟اگر کوئی توہین عدالت کے الفاظ ہوں تو اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے، ایک طرف پوری پریس کانفرنس دکھائی گئی اس پر پیمر انے نوٹس نہیں لیا لیکن کورٹ کی رپورٹنگ اور ریکارڈنگ سے روک دیا،کیا ایسا معیارہے،، ادارے ایسے چلتے ہیں ،پیمرا کے نوٹیفیکیشن کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا،اس کا پرنٹ لے لیں، کیا ٹی وی چینلز کے اندر کوئی معیار ہے؟ 34 منٹ پریس کانفرنس چلائی گئی مگر نامناسب الفاظ کو نہیں روکا گیا؟ کیا ہم ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کردیں؟ کیا ٹی وی چینلز 34 منٹ معافی بھی چلائینگے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو معافی بھی 34 منٹ چلانی چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب ان کی جیبوں پر جرمانے کی مد میں بات آئے گی تو پتہ چل جائے گا؟ پیمرا نے عدالتی سماعتوں کو نشر نہ کرنے کا عجیب قانون بنایا؟ عجیب قانون ہے کیا یہ آئین کے خلاف ہے؟

    مجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں ،فیصل واوڈا کے وکیل کی بڑی شرعی شکل ہے،فیصل واوڈا کے وکیل وکیل معیزاحمد روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ اللہ کرے ہمارے اعمال بھی شرعی ہو جائیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں علم ہی نہ ہو کہ قرآن میں اس بارے کیا ہے تو کیا کریں ،ٹی وی والے سب سے زیادہ گالم گلوج کو ترویج دیتے ہیں ، ایسی گالم گلوچ کسی اور ملک میں بھی ہوتی ہے ،مجھے جتنی گالیاں پڑی ہیں شاید کسی کو نہ پڑی ہوں ،کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیامجھے اوپر والے سے ڈر لگتا ہے مجھے جس نے گالی دی اسے بھی انصاف دینا ہے ،وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ میرے موکل پیمرا سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنی نہیں آپ کو سننا ہے ، آپ وکیل ہیں ، فیصل واوڈا اس پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے ، کیا آپ نے کوئی قانون بدلنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا ، ہم نے کبھی کہا فلاں سینیٹر نے اتنے دن اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی ،

    باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں بیٹھے صحافیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی لوگ بیٹھے ہیں بڑی بڑی ٹویٹس کر جاتے ہیں ، جو کرنا ہے کریں بس جھوٹ تو نہ بولیں ،صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی ، باہر جاکر نامعلوم اکاؤنٹ سے پوسٹ کردیتے ہیں،اتنی بہادری ہے توسامنے آئیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ کا وکالت نامہ ختم ہوچکا ہے جو موکل بات کرنا چاہے ہیں؟ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ا سکرپٹ موجود ہے، جسٹس عرفان سعادت خان نے کہا کہ ٹرانسکرپشن میں لکھا ہے کہ پریس کانفرنس میں 2ہائیکورٹ کے ججز کا نام لیا گیا، کیا وہ پریس کانفرنس ججز سے متعلق ہی تھی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا عدلیہ سے متعلق پریس کانفرنس کی، وہ بار کونسل یا بار ایسو سی ایشن ہیں؟کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ یہ کام کرے وہ کام کرے ؟یہاں تو جھوٹ پر لوگوں کو ڈالرز ملتے ہیں ، ایک ویڈیو کو زیادہ دیکھا جاتاہے ،ہر بات سورس کے ذریعے کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی سورس نہیں ہوتا، صحافیوں کا کیس ہم نے اٹھایا ان کے سارے کیسز سن رہے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ کیس چلانا چاہتے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ میں مشورہ کرکے بتاتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو ہم مزید وقت دے سکتے ہیں، فیصل واوڈا روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ روسٹرم پر بات کرنا چاہتا ہوں ،جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، وہ نہ ہوتے تو بات کرسکتے تھے

    کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،چیف جسٹس
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پیمرا کورٹ رپورٹنگ سے متعلق جو ہدایات ہیں وہ درست نہیں ،پیمرا کو چاہیے کہ وہ ایک چیک کا نظام رکھے،چیف جسٹس نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ہمیں کام کے لیے بٹھایا گیا،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ شام کو ٹاک شوز میں باتیں ہوتی ہیں اس کو بھی دیکھنا ہےچیف جسٹس نے کہا کہ کیا پھر چینلز کو نوٹس جاری کیے جائیں ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چینلز سے پوچھیں کہ ان کی ایڈیٹوریل پالیسی کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےکہا کہ آپ بے شک فیصلوں پر تنقید کریں لیکن بہتر طریقے سے کریں،کیا ایک جملے میں10 بار توہین ہورہی ہے تو پھر کیا وہ ایک توہین ہوگی؟کبھی زبان سے بات نکل جاتی ہے لیکن پریس کانفرنس کے ڈائنامکس الگ ہیں،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال توہین عدالت کیس کی سماعت28جون تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی درخواست مسترد کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ پریس کانفرنس سے کس کی خدمت کرنا چاہتے تھے؟ کبھی ہم نے یہ کہا کہ فلاں کو پارلیمنٹ نے توسیع کیوں دے دی. آپ نے کس حیثیت میں پریس کانفرنس کی تھی ، آپ بار کونسل کے جج ہیں کیا ؟سپریم کورٹ نے فیصل واوڈ اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس دکھانےوالے تمام چینلز کو نوٹس جاری کر دیا،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،  سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

  • توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں شوکاز نوٹس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا، فیصل واوڈا کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں تھا ،پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا، عدالت توہین عدالت کی کاروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے، توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے،

    فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں روف حسن مولانا فضل الرحمان شہباز شریف کی تقریروں کے ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کر دیئے،فیصل واوڈا نے جواب میں کہا کہ توہین عدالت کا مبینہ ملزم عدالت کی عزت کرتا ہے،کسی بھی طریقے سے عدالت کا وقار مجروح کرنے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،سمجھتا ہوں کہ عدالت کا امیج عوام کی نظروں میں بےداغ ہونا چاہیے،پاکستان کے تمام مسائل کا حل ایک فعال اور متحرک عدالتی نظام میں ہے،حال ہی میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو اپنی غطلیاں تسلیم کرنی چاہیے ،اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خلاف توہین آمیز مہم چلی،آرٹیکل 19 اے کے تحت ملزم نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڑ سے متعلق معلومات کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا،دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا،ملزم سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مضبوط دفاع کیلئے فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی ضروری ہے،عدلیہ کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی کا انحصار عوامی تائید پر ہے، دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف مہم زور پکڑ رہی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • سینیٹ اجلاس،ایرانی صدر کی شہادت،قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس،ایرانی صدر کی شہادت،قرارداد منظور

    سینیٹ کا اجلاس قائمقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔
    اجلاس مقرہ وقت سے دس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔علامہ ناصر عباس نے ایرانی صدر ودیگر کے حادثہ میں شہادت پر ایوان میں دعا کرائی ۔وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ آج کابینہ میں بھی ایرانی صدر کی شہادت کے حوالے سے قرار داد پاس کی ہے ایوان میں بھی قراداد پاس کی جائے ۔شیری رحمان نے ایرانی صدر وزیر خارجہ و دیگر حکام کی شہادت پر ایوان میں قرارداد ایوان میں پیش کی ۔قراداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے وزیر خارجہ کی جگہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 89کی شق 2کے متقضات میں حاشیہ آرڈیننس 2024سینیٹ میں پیش کیا ،چیئرمین نے آرڈیننس قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش کیا ۔آرڈیننس قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔وزیر قانون اعظم نے وزیر خوراک رانا تنویر حسین کی طرف سے سیڈ ٹرمیمی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش کردیا ،آرڈیننس متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔

    قائمقام چیئرمین سیدال خان ناصر بغیر بتائے سیٹ چھوڑ کر چلے گئے اور چند لمحوں بعد سینیٹر شیری رحمان نے صدارت سنبھالی اس دوران ایوان میں سب ارکان حیران ہوگئے کہ قائمقام چیئرمین کیوں سیٹ سے چلے گئے ؟۔

    امیر لوگ سولر پر سرمایہ کاری کررہے جس کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کو نقصان ہورہا،وزیر توانائی اویس لغاری
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ توجہ مبذول کرنے والا ایجنڈا موخر کردیں جس پر موخر کردیا گیا مگر اسی دوران وزیر توانائی ایوان میں آگئے جس پر شیری رحمان نے موخر کردیا ۔ایک توجہ مبذول کرنے کا نوٹس لے لیا گیا جوشمسی توانائی کے حوالے سے تھا ۔قرۃ العین مری نے کہاکہ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے اور حکومت سولر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے ۔ سولرئزیشن کے حوالے سے کیا پالیسی ہے ۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ 2017میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں نیٹ میٹرنگ کا آغاز ہوا۔ اس کی اچھی گروتھ ہوئی ہے ۔ نیٹ میٹرنگ میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے سولر کی قیمت کم ہوئی ہیں سولر کی قیمت 45روپے فی واٹ ہوگئی ہے جو پہلے 145روپے تھی ۔ آج تک ہم نے نیٹ میٹرنگ کو ڈس کریڈٹ نہیں کیا ہے سرکولر ڈیٹ کو ہم مزید آگے نہیں جانے دیں گے ۔ پارو سیکٹر میں اصلاحات کی ہم نے بات کی ہے ۔ ہم نے واضح طور پر کہاہے کہ ہم اس طرح کوئی کام نہیں کررہے ہیں ۔ 1500 میگاواٹ سولر لگا ہوا ہے مگر جب یہ 4ہزار میگاواٹ ہوجائے گا تو اس کا کیا کریں گے پہلے سولر پر سرمایہ کاری 3 سال میں واپس آتی تھی اب 2سال میں پوری ہورہی ہے ۔ امیر لوگ سولر پر سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کو نقصان ہورہاہے ۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے میری اور ایوان کی توہین کی، ایوان ان کے خلاف کارروائی کرے ،فیصل واوڈا
    فیصل واڈا نے جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں ہی سینیٹ حکام کے حوالے کردی ۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے میری اور ایوان کی توہین کی ہے ایوان ان کے خلاف کارروائی کرے.میں نے جو پریس کانفرنس کی اس میں کہی گئیں تمام باتیں زیر اور زبر سمیت پر میں آج بھی قائم ہوں،میں نے کسی کی تذلیل کرنے کی کوشش نہیں کی، مجھے منافقت نہیں آتی، جو بات ہوتی ہے وہی کرتا ہوں.ہم کسی جج کے کنڈکٹ پر بات نہیں کر سکتے بلکہ آئین اور قانون مس کنڈکٹ پر ہمیں بات کرنے کی اجازت دیتا ہے،شکر ہے میں سینیٹ میں ہوں ورنہ گیس نہ آتی توبھی توہین عدالت لگ جاتی،جن پر توہین عدالت لگنی چاہیے تھے ان پر نہیں لگی،میں ہمیشہ ٹھوس اور شواہد کے ساتھ بات کرتا ہوں،یہاں اب نشاندہی کرنا بھی گناہ بن گیا ہے تو پھانسی دیدیں،عزت تو کسی اور کی ہے ہماری تو نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ نے 7 فروری 2023 کو پی سی بی کو خط لکھا 30 وی وی آئی پیز پاسز دئیے جائیں،اگر یہ سوال کرنا جرم ہے تو میں کرتا رہوں گا،جسٹس باقر نجفی نے دفتر خارجہ کو خط لکھا کہ بیٹے کو پروٹوکول دیا جائے،فیصل واڈا نے دونوں خطوط ایوان میں لہرا دیا اور کہا کہ کیا ان ججز کو عدالتوں میں رہنا ٹھیک ہے؟ فیصل واوڈا کی سینیٹ میں تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے بعض سینیٹر ڈیسک بجاتے رہے۔

    پاکستان کی سیاسی پارٹی کے ترجمان پر حملہ کیا گیا،یہ ناقابل برداشت ہے،شبلی فراز
    قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہمارے سیکرٹری اطلاعات پر نجی ٹی وی چینل میں حملہ ہوا ہے ،ان پر فزیکلی اٹیک کیا گیا ہے اور زخمی کیا گیا ہے، جس پر پی ٹی آئی اراکین نے شیم شیم کے نعرے لگائے، شبلی فراز نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ وزیر قانون کو چاہئے کہ رپورٹ طلب کریں اور کاروائی کریں ، اس پر فوری ردعمل چاہئے،بات یہاں تک آ گئی کہ پاکستان کی سیاسی پارٹی کے ترجمان پر حملہ کیا جاتا ہے یہ ناقابل برداشت ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں ایوان سے واک آؤٹ کرنا چاہئے،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ رپورٹ کریں اس معاملے پر ضرور کاروائی ہوگی ۔میں وزیر داخلہ سے اس معاملے کا پتہ کرتا ہوں ،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کا تحفظ کرے،ایوان سے تحریک انصاف کے ارکان نے واک آؤٹ کرلیا.شبلی فراز نے کہا کہ رؤف حسن پر حملے کی 24گھنٹے میں تحقیقات کی جائیں، کٹھ پتلی ہی سہی اگر کوئی حکومت ہے تو ایوان کو رپورٹ دیں،

    ایوان بالا کاحالیہ سیشن متوقع طور پر جمعہ24 مئی2024 تک جاری رکھا جائے گا
    دوسری جانب سینیٹ کی بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹ کے 338 ویں سیشن کے حوالے سے اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قائمقام چیئرمین سینیٹ نے تمام پارلیمانی لیڈروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بزنس ایڈوائزی کمیٹی ایک اہم فورم ہے جس میں اجلاس کے حوالے سے تمام پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کا نہ صرف موقع ملتا ہے بلکے اجلاس کے امور بھی طے کیے جاتے ہیں۔ پارلیمانی رہنماؤں نے قائمقام چیئرمین سینیٹ کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا جس پر قائمقام چیئرمین سینیٹ نے شکریہ ادا کیا۔ ایڈوائزری کمیٹی کو سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے موجود ہ اجلاس کے حوالے سے اہم امور پر بریفنگ دی اور پارلیمانی کیلنڈر کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایوان بالا کاحالیہ سیشن متوقع طور پر جمعہ24 مئی2024 تک جاری رکھا جائے گا۔ آج کے اجلاس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر سید شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے علاوہ سینیٹرز شیری رحمان،عرفان الحق صدیقی، سید علی ظفر، منظور احمد،مولانا عطا الرحمن، حاجی ہدایت اللہ، سید فیصل علی سبز واری، کامل علی آغا، راجہ ناصر عباس، حامد خان اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے شرکت کی۔

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

  • اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی ہے؟ کیا پریس کانفرنس توہین آمیز ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو میں نے سنی ہے اس میں الفاظ میوٹ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا، نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں،برا کیا ہے تو نام لیکر مجھے کہیں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے، ادارے عوام کے ہوتے ہیں، اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں، اداروں میں فالٹس ہوسکتے ہیں۔میں کسی اور کا وزن برداشت نہیں کرسکتا۔اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بتائیں تنقید کریں۔ہر روز ہم اچھا کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عمل کررہے ہیں۔ معاشرے میں سب سے زیادہ کمزور وہ ہے جو بندوق اٹھاتا ہے۔ اور اس سے زیادہ کمزور وہ ہے جو گالیاں دیتا ہے۔جس کے پاس دلائل ہونگے وہ ہم ججز کو بھی چپ کرادے گا۔میں نے اپنے ذات کے لئے نہیں بلکہ ادارے کے لئے حلف لیا ہے،مہذب معاشرے میں توھین عدالت کے قانون کا استعمال نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کوئی نہیں ایسے بولتا ،کیا چیخ پکار کرکے آپ ادارے کو سرو کررہے ہیں،تنقید کی ایک حد ہونی چاھئے۔

    مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا، پریس کلب کیوں؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ایک اور صاحب آگئے جن کا نام مصطفی کمال ہے انہوں نے بھٹو کا ذکر کیا۔بھائی اگرہم نے غلط کیا ہے تو بتائیں۔ بھٹو کے بارے میں آپ نے کیا کیا ہے، صرف ایک کام کرنا ہے کہ ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ آپ نے بڑی جدوجہد کردی ، تقریر کرکے،لیکن بہتری کے لئے کوئی بھی تحریری طور پر نہیں جاتا۔مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا۔ پریس کلب کیوں؟کیا کسی صحافی نے ان سے سوال کیا کہ یہاں کیوں بول رے ہیں؟ بس ان کو کیپٹو آڈیئنس چاھئے۔ فیصل واووڈا کے بعد مصطفٰی کمال بھی سامنے آ گئے، دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں ایوان میں بولتے، ایسی گفتگو کرنے کیلئے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی،

    فیصل واوڈا، مصطفیٰ کمال دونوں کو بلا لیتے ہیں ہمارے منہ پر تنقید کریں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کرلیں،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت لانے کیلئے اپنے اختیارات کم کیے، سیکرٹری فنانس سپریم کورٹ بار نے بھی توہین عدالت کی کارروائی کی حمایت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی کے ججز کے کام ہمارے کھاتے میں نہ ڈالے جائیں،دونوں کو بلا لیتے ہیں تنقید ہمارے منہ پر کر دیں،سینیٹر فیصل واوڈا نے 15 اور مصطفیٰ کمال نے 16 مئی کو پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے عدلیہ پر سنگین الزامات لگائے اور زیرالتواء مقدمات پر رائے دی، فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں، دونوں کو بلا لیتے ہیں، ہمارے منہ پر آکر تنقید کر لیں

    سپریم کورٹ نے آج کی کاررواٸی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کردیا،سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے مصطفی کمال اور فیصل واوڈا سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ،دونوں رہنماوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی گئی

    گزشتہ روز سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر