پیپلزپارٹی کے فیصل کریم کنڈی نے امدادی سامان سیلاب متاثرین کے بجائے اپنے احباب میں بانٹ دیا۔
باغی ٹی وی: ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں جب کہ ہزراوں اموات ہوئی ہیں لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں مویشی جاں بحق ہو ئے ہیں جہاں پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر سے امداد کا سلسلہ جاری ہے وہیں ملکی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی حوالے سے حیران کن اور انکشافات چونکا دینے والے سامنے آ رہے ہیں –
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے مصیبت کی اس گھڑی میں بھی دکھی لوگوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان تک پہنچنے والی امداد کو ہڑپ کرنے کی اطلاعات سامنے آ ئی ہیں-
اس حوالے سے صحافی ملک رمضان اسراء نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے سیلاب متاثرین کے لئے پیپلز پارٹی کی جانب سے پہنچائی جانے والی امداد متاثرین کو دینے کی بجائے اپنے قریبی لوگوں،دوستوں اور کارکنوں میں تقسیم کر دی ہے-
سوشل میڈیا پر جاری خبروں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کیخلاف الزام عائد کیا جارہا یے کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے متاثرین کیلئے ملنے والا امدادی سامان انہوں نے متاثرین کے بجائے اپنے قریبی لوگوں میں تقسیم کردیا ہے۔
زرائع کا کہنا ہے کہ یہ شکایات بہت سے علاقوں کی طرف سے سننے میں آ رہی ہیں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ فیصل کریم کنڈی اور ان کے بھائی متاثرہ علاقوں میں آئے تھے صرف فوٹو شوٹ کرایا خالی وعدے کئے اور چلے گئے کوئی امداد وغیرہ نہیں دی اور نہ ہی متاثرین سے ملے بس فوٹو سیشن کیا اور واپس چلے گئے-
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فیصل کریم کنڈی اور ان کے ساتھوں نے سوشل میڈیا پر کمپین چلا رکھی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ملنے والے 25000 جو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیلوں جیسے ٹانک، پروآ وغیرہ میں دئے جارہے یہ ان کے توسط سے دی جا رہی ہے جبکہ یہ امداد انہیں بینظیر انیکم سپورٹ کی طرف سے دی جا رہی ہے جس میں یہ لوگ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں اور پی پی پی رہمناؤں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہے کہ یہ امداد متاثرین کو وہ خود دہے رہے ہیں-
ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی طرف سے فیصل کریم کنڈی کیخلاف الزام عائد کیا جارہا یے کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے متاثرین کیلئے ملنے والا امدادی سامان انہوں نے متاثرین کے بجائے اپنے قریبی لوگوں میں تقسیم کردیا ہے۔
ذرائع کا حکمران اتحادی جماعت جے یو آئی کے حوالے سے کہنا تھا کہ جے یو آئی کے کارکن لکی مروت گئے وہاں مقامی مساجد میں امداد کے لئے اعلان کرایا کہ وہاں کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر امداد دی جے یو آئی رہنما یہ بھاری مقدار میں امداد متاثرہ علاقے میں مولانا فضل الرحمان کے اہم ساتھی کو بلانا چاہ رہے تھی تاکہ یہ سیلاب متاثرین میں تقسیم کرتے وقت یہ تاثر دیں کہ یہ جے یو آئی کی جانب سے امداد دی جا رہی ہے لیکن وہاں پر جے یو آئی کا کوئی اعلی سطح کا رہنما موجود نہیں تھا-
تاہم جے یو آئی رہنماؤں نے امدادی سامان مولانا فضل الرحمان کے ایک مدرسے میں رکھ کر گاڑیوں کو واپس بھیج دیا جب گاؤں والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے مسئلہ کھڑا کر دیا کہ ہم نے یہ امدادی سامان جے یو ءی کے لئے نہیں سیلاب متاثرین کے لئے دیا تھا –
علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھی الزامات آ رہے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر کو گورنمنٹ کی جانب سے آنے والے فنڈ کے ٹرک بجائے متاثرین میں تقسیم کرنے کے علی امین گنڈا پور کے گھر بھجوا دیئے انہوں نے بھی یہ امدادی سامان اپنے قریبی لوگوں اور دوستوں اور کارکنوں میں تقسیم کیا-