Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 765kv ڈبل سرکٹ ٹرانسمشن لائن داسو ہائیڈرو پاور سٹیشن سے اسلام آبادگرڈ اسٹیشن تک کی تعمیر، اس کے ٹینڈرنگ کے طریقہ کار، اب تک ہونے والے کام کی موجودہ صورتحال،و رک آرڈر، مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ ، کام کرنے والی کمپنیوں کے تجربہ، بڈنگ کے عمل میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی تعداد وغیر کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہ ان امور کے حوالے سے کمیٹی 6 ماہ سے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ گزشتہ روز منعقد ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا اور متعلقہ اداروں سے کچھ ضروری دستاویزات طلب کیے تھے۔ قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جو دستاویزات طلب کیے گئے تھے وہ فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ مانسہرہ اور اسلام آباد کے حوالے سے دستاویزات جلد کمیٹی کو فراہم کر دیئے جائیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر ولڈ بینک کی گائیڈ لائن کے مطابق عمل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک کی دستاویزات اور ایویلیشن رپورٹ بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ چیف انجینئر نے کمیٹی کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا معاہدہ 16 اگست2013 کو ہوا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر سائینو ہائیڈرو اور گوپا کمپنیوں نے کام کیا۔ دونوں کمپنیوں کی استعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ اس منصوبے پر کام کر سکے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ جب ادارے کو معلوم ہوگیا تھا کہ متعلقہ کمپنیاں اس کا م کی اہلیت نہیں رکھتی تو شروع میں ہی ایکشن لیا جاتا۔ بدقسمتی کی بات ہے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔ این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے بھی آنکھیں بند کر لیں اور وزارت کے لوگ بھی اس کرپشن میں شامل رہے جو بورڈ کا کام تھا اسے وقت پر احسن طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ بورڈ کو ایشوز کا علم ہی نہیں اعتراضات کو دور کرنا چاہیے تھا اسی وقت فیصلہ کرتا مگر ملک کے ساتھ ذیادتی کی گئی ہے۔

    اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان امور پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی متعلقہ اداروں کو معاملات کے حوالے سے ہدایات دیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے پر گو پا کے کام کرنے کی استعداد نہیں تھی نہ ہی اس کام کے لئے ان کا متعلقہ تجربہ پورا تھا۔ فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق کمپنی ان کاموں کی اہل ہی نہیں اور قانون کے مطابق منصوبے کی ہر لاٹ کے لئے علیحدہ علیحدہ دستاویزات ہوتے ہیں۔ کمیٹی کسی بھی قسم کی کرپشن کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کر ے گی۔ ادارہ ورلڈ بینک کو لکھے کہ سائینو ہائیڈرو اور گوپا کو بلیک لسٹ کیا جائے اور این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے خلاف سخت ایکشن لے اور وزارت کے دیگر لوگ جو بھی اس کرپشن میں شامل ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ ورلڈ بینک ان کمپنیوں کی جگہ کسی اور کو ری ٹینڈرنگ کریں۔ ادارے کے پاس تمام کمپنیوں کی کوالیفیکیشن موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاٹ ٹو میں بھی چیزیں واضح ہیں کہ وہ کمپنیاں کوالیفائی نہیں کرتیں۔آئندہ اجلاسوں میں بھی باقی لاٹوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے کل بھی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جو ہدایات دی تھیں ان بھی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹی کے کل کے ہونے والے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ بے ضابطگیوں کے کافی ثبوت موجود ہیں جو سابقہ BoD، NTDC اور M/s GOPA Intec بطور کنسلٹنٹ کر رہے ہیں۔ اس لیے کمیٹی نے پاور ڈویژن کو مبینہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور کیس کو ایف آئی اے یا نیب کو بھیج کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔ مزید برآں، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا اور پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ کنٹریکٹ دینے میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے آگاہ کرنے کے لیے ورلڈ بینک کو خط لکھے۔

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

  • بھارت کو کرکٹ کھیلنے پاکستان آنا چاہیے،وفاقی وزیر احسان مزاری

    بھارت کو کرکٹ کھیلنے پاکستان آنا چاہیے،وفاقی وزیر احسان مزاری

    قومی اسمبلی قاٸمہ کمیٹی برائے بین الصوباٸی رابطہ کمیٹی کا نواب شیر وسیر کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے امور کا جاٸزہ لیا گیا، کمیٹی رکن مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ حکومت نے ذکا اشرف کو کرکٹ بورڈ منیجمنٹ کمیٹی کا نیا سربراہ لگایا ہے، چیٸرمین قاٸمہ کمیٹی نے کہا کہ امید ہے وہ کرکٹ کی بہتری کیلٸے اچھا کام کرینگے ، وفاقی وزیر احسان مزاری نے کہا کہ کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت بارے اہم اجلاس کل بلایا گیا ہے ، بلاول بھٹو کی سربراہی میں کمیٹی قومی ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کرے گی ،بھارت کی دیگر ٹیمیں پاکستان آر رہی ہیں،پاکستان کی ٹیمیں بھارت جا کر کھیل سکتی ہیں تو بھارت کو بھی پاکستان آنا چاہیے ،بھارت کو کرکٹ کھیلنے پاکستان آنا چاہیے،

    نواب شیر وسیر نے کہا کہ ذکا اشرف بلاول بھٹو کیساتھ اجلاس میں مصروف ہے، سب کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں، ،قاٸمہ کمیٹی اپنی تجاویز ذکا اشرف کو بھجوائے گی، وفاقی وزیر احسان مزاری نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ خود مختار ادارہ نہیں ہے،پی سی بی حکومت پاکستان کو جواب دے ہے ،پی سی بی کو ورلڈ کپ میں شرکت کیلٸے حکومت کی ہی اجازت درکار ہے ، پی سی بی والے حکومت کی اجازت کے بغیر ورلڈ کپ سمیت کہی نہیں جا سکتے، ،

    اجلاس میں پاکستان اسکواش فیڈریشن کی کارکردگی کا جاٸزہ لیا گیا،قاٸمہ کمیٹی نے 37 سال بعد ورلڈ جونیٸر اسکواش کا ٹاٸٹل جیتنے پر سراہا ،سیکرٹری پاکستان اسکواش فیڈریشن نے کہا کہ ٹاپ 50 رینکنگ میں اسوقت کوٸی پاکستانی پلیٸر موجود نہیں،ہماری توجہ جونیٸر پلیٸر کی طرف ہے، پاکستان میں خواتین پلیٸرز کی شرکت بہت کم رہی ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    وفاقی وزیر احسان مزاری نے کہا کہ ہارون ملک نے پاکستان کی فٹبال کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا

  • انکوائری سے روکنے والے جج کو ان کے اہل خانہ کا لیک شدہ ڈیٹا دکھائیں،نورعالم خان

    انکوائری سے روکنے والے جج کو ان کے اہل خانہ کا لیک شدہ ڈیٹا دکھائیں،نورعالم خان

    نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    نادرا سے ڈیٹا لیک ہونے کا معاملہ پر بحث ہوئی، ایف آئی اے حکام نے پی اے سی کو نادرا ڈیٹا لیک کیس پر بریفنگ دی، نورعالم خان نے کہا کہ نادرا کا ڈیٹا لیک کر کے فروخت کیا گیا۔ ہر ایک پاکستانی کا نادرا ریکارڈ لیک کر کے فروخت کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ ڈیٹا لیک انکوائری کے دوران نادرا حکام کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ ریکارڈ حاصل کر رہے تھے کہ نادرا کا ایک افسر ہائی کورٹ چلا گیا۔نور عالم خان نے کہا کہ ایف آئی اے کو انکوائری سے روکنے والے جج کو ان کے اہل خانہ کا لیک شدہ ڈیٹا دکھائیں ،چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اس حساس معاملہ کی انکوائری ہونے دیں۔

    پی اے سی نے نادرا ڈیٹا لیک اور این ٹی ایل کرپشن کیس پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہدایت کر دی ، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ہائی کورٹ نے پی اے سی کی ہدایات کے خلاف اسٹے دیا ہے۔نور عالم خان نے کہا کہ ہائی کورٹ کا بھی ریکارڈ منگوائیں، ہائی کورٹ کی بہت بڑی عمارت بنی ہے۔ پی اے سی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ طلب کر لی

    آئی جی ایف سی نارتھ بلوچستان کی پی اے سی اجلاس اور ڈی اے سی میں عدم شرکت پر پی اے سی نے اظہار برہمی کیا، پی اے سی نے آئی جی ایف سی نارتھ بلوچستان کے رویے کے خلاف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سیکرٹری دفاع کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے،

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

  • قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس،بارہ ارب کا پروجیکٹ،غیر تسلی بخش جواب

    قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس،بارہ ارب کا پروجیکٹ،غیر تسلی بخش جواب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی براے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر حاجی ہدایت اللہ کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں فیڈرل ہاوسنگ اینڈ ورکس کے حکام کو سیکٹر جی تیرہ اسلام آباد میں بارہ ارب کے پروجیکٹ کے حوالے سے غیر تسلی بخش جواب دینے پرسبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیٹی رکن سینیٹر سیف اللہ ابرو نے کہا کہ پروجیکٹ چکلالہ ہائیٹس پرکام کیوں بند کیا گیا ہے؟ کیوں متعلقہ ٹھیکیدارسے ٹھیکہ لیکر اس کوکام سے روکا گیا؟ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ جس کمپنی کی مشینری ہے اسے کام کرنے دیا جائے اور قوم کا وقت اورپیسہ ضائع نہ کریں۔

    فیڈرل ہاوسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جی تیرہ کشمیر ہائی وے اسلام آباد پرچارپروجیکٹس ہیں جنکی مالیت بارہ ارب روپے بنتی ہیں۔ کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس پر چالیس فیصد کام ہوچکا ہے اور چکلالہ ہائٹس اپارٹمنٹس پر 1.36 فیصد کام ہی ہوا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا چاہیے اور جس کمپنی کو ایک پروحیکٹ ملا ہواوروہ دوسراپروجیکٹ لینا چاہے تو پہلا پروجیکٹ اس سے واپس لیا جائے اور جس کمپنی نے تین سال ضائع کیے اسے دوسرا پروجیکٹ کیوں دیا گیا۔ بورڈ کو بھی سوچنا چاہیے اور پروجیکٹ دینے سے پہلے کمپنی کی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔

    حکام نے بتایا کہ سکائی لائن اپارٹمنٹس پروجیکٹ وزارت نے آریان کمپنی کے ساتھ جی وی کیا ہے اور یہ پروجیکٹ 2020 میں شروع ہوا تھا اور اسے 2023 میں مکمل ہونا تھا۔حکام نے مزید بتایا کہ اس پر26 فیصد کام ہوچک اہے اور کمپنی کے ساتھ معاملات پربات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ لائف سٹائل ریزیڈینشیا پروجیکٹ بھی وزارت نے جی وی کیا ہے۔اور اس پروجیکٹ پر 9.9فیصد کام ہوچکاہے۔

    میں کمیٹی کا چیئرمین ہوتا میں وزیراعظم کو پچیس سکیموں میں کرپشن کا بتاتا،سیف اللہ ابڑو
    اجلاس میں سندھ میں پروجیکٹس کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ میں 123ملین روپے ان پروجیکٹس کیلئے جاری کیے جن پر 92 فیصد کام ہوچکا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابرو نے کہا کہ بتایاجائے محکمے نے لاڑکانہ،نواب شاہ اوراندرون سندھ میں کس کس سکیم کا دورہ کیا اور چھوٹی سکیموں کیلئے تین ماہ میں ٹینڈر نہیں دیئے لیکن پھراچانک ایک ماہ میں سکیم پر 90 فیصد مکمل کرلیا گیا؟۔اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں ممبران قومی اسمبلی کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلات منگوائی جائے۔ اس کے علاوہ ان تمام پروجیکٹس کادورہ بھی کریں کہ یہ پروجیکٹس دراصل زمین پرموجود ہیں بھی کہ یہ محض کاغذوں میں کام ہوا ہے۔ سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جومعلومات ہمیں دی گئی اسکے مطابق جون کے ایک ماہ میں یہ پروجیکٹس مکمل کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ پندرہ ماہ میں ہم پرکرپشن کاالزام ہے توبتائیں،اگر میں کمیٹی کا چیئرمین ہوتا میں وزیراعظم کو پچیس سکیموں میں کرپشن کا بتاتا۔

    کرائم ونگ کی ٹیم نے اسلام آباد میں بھروسہ ایپ کے دفتر پر چھاپہ مارا 

    بلیک میلنگ میں ملوث آن لائن لون ایپس کے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا

    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

  • سیلاب کے دوران سٹرکوں کے نقصانات،فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب

    سیلاب کے دوران سٹرکوں کے نقصانات،فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب

    ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں این ایچ اے اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز میں تقرریوں کیلئے ملک کے پسماندوہ اورخاص طور پر صوبہ بلوچستان کیلئے امیدواروں کیلئے عمر کی حد اور رولز کے مطابق عمر کی حد میں ریلیف،نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی ملک بھر کیلئے 1900 اسامیوں کی صوبہ وائز تفصیلات کے علاوہ صوبہ بلوچستان کے علاقہ بولان میں پنجرپل کی تعمیر کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹرپر نس احمد عمر احمد زئی نے کہا کہ ملک کے پسماندہ علاقوں اور خاص طور پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو نوکریوں کے حوالے سے عمر کی حد میں ریلیف دینا چاہیے۔ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو سہولیات نہ ہونے کے برابر ملتی ہیں۔ سیلاب و دیگر مسائل کی وجہ سے ان لوگوں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور پسماندہ صوبہ ہے۔ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ صوبہ قدرتی معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں صرف سٹرکیں بنی ہیں باقی سٹرکیں پرانی اور سیلابوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی پر ہمیں خصوصی توجہ کرنی چاہیے اور اس قائمہ کمیٹی نے ہمیشہ پسماندہ علاقوں کے روڈ نیٹ ورک پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کوشش کی جائے کہ جن علاقوں کی آسامیاں سامنے آئیں ان علاقوں کے امیدواروں کو ترجیح دینی چاہیے۔

    بھرتیوں کے لئے عمر کی حد اور کتنا ریلیف؟
    آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویزنے قائمہ کمیٹی کو بھرتیوں کے لئے عمر کی حد اور رولز کے مطابق دیئے جانے والے ریلیف کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نان یونیفارم اور سویلین موٹر وے ملازمین کے گریڈ15 اور اس سے نیچے کے گریڈ کے ملازمین کیلئے کم سے کم عمر18 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال ہے۔ گریڈ16 کی کم سے کم 20 اور زیادہ سے زیادہ 28 سال عمرہے اور گریڈ 19 کیلئے کم سے کم32 اور زیادہ سے زیادہ40 سال ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عمر کی بالائی حد میں نان یونیفارم ملازمین کیلئے 5 سال کا ریلیف ہے۔اقلیتوں کیلئے 3 سال،قبائلی علاقہ جات، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کیلئے 3 سال، سندھ دیہی اور بلوچستان کے گریڈ 15 اور نیچے کے گریڈ کیلئے 3 سال کی رعایت ہے۔ آرمڈ فورسز کے ریٹائرڈ افسران کیلئے 15 سال کی اور وہ سرکاری ملازمین جنہوں نے دو سال کی مسلسل نوکری کی ہو ان کو 10 سال کی رعایت ہے۔ معذور افراد کیلئے گریڈ 15 اور اس سے کم کیلئے 10 سال کی رعایت ہے جبکہ بیوہ اور فوت ہو جانے والے ملازمین کے بچوں کیلئے 5 سال کی رعایت ہے۔ پولیس افسران کیلئے عمر کی حد گریڈ14 کی کم سے کم 18 سال اور زیادہ سے زیادہ25 سال ہے۔

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی 1900 اسامیوں کی صوبے کے لحاظ سے تفصیلات
    قائمہ کمیٹی کو نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز کی 1900 اسامیوں کی صوبے کے لحاظ سے تفصیلات دی گئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ساڑھے سات فیصد کوٹہ کے لحاظ سے 143 سیٹیں ہیں۔ پنجاب میں 50 فیصد کوٹے کے ساتھ966، سندھ دیہی11.4 فیصد کوٹے کے ساتھ 223، سندھ اربن 7.6 فیصد کوٹے کے ساتھ 146، صوبہ خیبر پختونخواہ 11.6 فیصد کوٹے کے ساتھ 222، صوبہ بلوچستان 6 فیصدکوٹے کے ساتھ 159، فاٹا 4 فیصد کوٹے کے ساتھ 63، گلگت بلتستان1 فیصد کوٹے کے ساتھ 21، اے جے کے 2 فیصد کوٹے کے ساتھ42، معذور افراد 2 فیصد کوٹے کے ساتھ 5 اسامیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ یونیفارم 1750 اور نان یونیفارم240 اسامیاں ہیں۔ ممبر ایڈمن این ایچ اے نے بتایا کہ تقرریوں کیلئے عمر کے تعین کے حوالے سے این ایچ اے کی بھی یہی پالیسی ہے۔

    ہمارے محکمے کے ملازمین کو شہید تصور نہیں کیا جاتا،آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز
    آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر ویز نے کمیٹی کو درپیش مسائل بارے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے ایک سمری ریکورمنٹ کے لئے بجھوائی ہے اس کی منظوری کا انتظار ہے۔ کمیٹی اس حوالے سے مدد کرے ور چوئل یونیورسٹی سے ادارے کی تقرریوں کو پراسس ہونا ہے۔ ادارے کے ڈیلی الاؤنس کے حوالے سے بھی ایک مسئلہ ہے جس کی منظوری وزیراعظم پاکستان نے دی تھی مگر مالی مشکلات کی وجہ سے ہمیں اجازت نہیں دی گئی ہم اپنے بجٹ سے یہ ادا کر دیں گے کمیٹی اس کے لے سپورٹ کرے۔ ہمیں ایڈمن الاؤنس بھی نہیں مل رہا جس کی وجہ سے دیگر محکموں کے افسران ڈیپوٹیشن پر بھی نہیں آتے اور اس محکمے میں آنے سے بھی کتراتے ہیں۔یہ الاؤنس باقی متعلقہ اداروں کو مل رہے ہیں جن میں ایف سی اور اسلام آبا پولیس وغیرہ شامل ہیں اور ہمارے محکمے کے ملازمین کو شہید بھی تصور نہیں کیا جاتا ان کو ڈیتھ ان سروس تصور کیا جاتا ہے یہ تمام امتیازی سلوک ختم کرنے میں کمیٹی ہماری مدد کرے۔

    پنچر پل،سیلاب کی وجہ سے گر گیا،تاحال کام شروع نہ ہو سکا
    قائمہ کمیٹی کو صوبہ بلوچستان کے علاقہ بولان میں پنچر پل کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ پل 26 اگست 2022 کو سیلاب کی وجہ سے گر گیا تھا۔ 4 ستمبر 2022 کو متبادل راستہ بنا دیا گیا تھا۔ این 65،سیلاب کی وجہ سے 30 فیصد خراب ہو چکی ہے۔ اس پل کی تعمیر پر 485 ملین روپے خرچ ہونگے۔ ٹینڈر ہو چکا ہے اب صرف ایوارڈ کرنا باقی ہے۔ اس منصوبے کیلئے اے ڈی بی کا قرضہ موجود ہے۔ اس سال اگست کے آخر میں اس منصوبے پر کام شروع ہو جائے گا۔ پہلے پل کی لمبائی 90 میٹر تھی اب 100 میٹر ہوگی اور10 میٹر واٹر وے کو بھی بنایا جائے گا اور مستقبل کیلئے ٹنل بھی بنائی جا رہی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئرش کاز وے 90 ملین روپے سے بنائی جا رہی ہے۔18 جون سے کام شروع ہے اور17 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ پنجر پل پر ابھی تک 27 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے سٹرکوں کے نقصانات.فنڈ نہ ملنے پر وزارت خزانہ حکام طلب
    کمیٹی کو بتایا گیا کہ اے ڈی بی نے 150 ملین ڈالر قرض دیا ہے جو 2022 کے سیلاب میں ہونے والے سٹرکوں کے نقصانا ت جن میں 32 پل بھی شامل ہیں پر خرچ کیا جائے گا۔ کمیٹی کو پنجر پل کے حوالے سے نئی الائنمنٹ روڈ جو 11 کلومیٹر پر مشتمل ہو گی بارے بھی آگاہ کیا گیا، بتایا گیا کہ پی سی ون بن گیا ہے ۔ ڈیرہ مراد جمالی پر بائی پاس بن رہا ہے۔ بسیمہ خضدار روڈ جون2022 میں مکمل ہو چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرنس احمد عرم احمد زئی نے کہا کہ پنجر پل کو تقریباً اس سال ہو چکا ہے۔ انتہائی اہم جگہ جو صوبہ سندھ اور پنجاب کو بلوچستان سے ملتا ہے اس پر ایمرجنسی لگا کر کام کرنا چاہیے تھا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے اپنے وسائل سے سیلاب کے دوران ہونے والے سٹرکوں کے نقصانات پر کام کر رہا ہے۔ سیلاب سے نقصانات پر کام کیلئے کوئی خصوصی فنڈ فراہم نہیں کیے گئے جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی سمیت متعلقہ اداروں کو طلب کر لیا۔

    سینیٹر کامل علی آغا نے ایم فور موٹرویز پر سروسز ایریا قائم نہ ہونے کامعاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے ٹال ٹیکس تو وصول کیا جارہاہے مگر بدقسمتی کی بات ہے مگر ایک سال سے زائد گزرنے کے باوجود بھی ایم فور پر کوئی ایک بھی فیول اسٹیشن اور سروس ایریا نہیں ہے۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیول اسٹیشن کے لئے کنڑیکٹ ایوارڈ ہو چکے ہیں۔ زمین کے کچھ مسائل ہیں جلد کام شروع ہو جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے باقی ایجنڈ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • اڈیالہ جیل ،قیدیوں کی گنجائش 2 ہزار جبکہ قید افراد کی تعداد 6 ہزار سے بھی زائد

    اڈیالہ جیل ،قیدیوں کی گنجائش 2 ہزار جبکہ قید افراد کی تعداد 6 ہزار سے بھی زائد

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال کی سربراہی میں سینٹرل اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔ اڈیالہ جیل میں قید عام قیدیوں کے وارڈز، خواتین وارڈز، بچوں کے وارڈ کے علاوہ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات بشمول کچن، کھانے کا معیار، صفائی،رہن سہن، صحت کی سہولیات اور قائم میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹروں کی تعداد، قیدیوں کو دی جانے والی فنی تربیت، قیدیوں کے اہلحہ خانہ سے ان کی ملاقات کے طریقہ کار، اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے لئے گنجائش اور ان کی موجودہ تعداد کے علاوہ انتظامیہ کو درپیش چیلنجز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ان کی موثر تربیت کرکے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کی مشاورت سے فیصلہ کیا تھاکہ یہ قائمہ کمیٹی ملک بھر میں قائم جیلوں کا دورہ کر کے قیدیوں کی حالت زار اور تمام امور کا جائزہ لے گی اس تجویز کو چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے منظور کیا اور یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ قائمہ کمیٹی جلد ہی لاہوراور ساہیوال جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ ساہیوال جیل رقبے کے لحاظ سے ایشیاء کی سب سے بڑی جیل ہے۔ قائمہ کمیٹی کراچی،کوئٹہ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں قائم جیلوں کا دورہ بھی کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام محرکات کا مقصد ایسی تجاویز مرتب کرنی ہوں گی جن پر عملدرآمد کر کے قیدیوں اور انتظامیہ کو درپیش مسائل ہیں ان کے بہتر حل کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جیل کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لئے معاملہ ایوان بالاء میں اٹھایا جائے گا تاکہ اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زائد جو افراد قید ہیں اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جا سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے نوٹس میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید زیادہ تر قیدیوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرے گی کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے قیدیوں کو متعلقہ صوبے کی جیلوں میں منتقل کیاجائے تاکہ لواحقین کو ان سے ملنے میں بھی آسانی ہو۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب عبدالمعروف رانا نے قائمہ کمیٹی کو اڈیالہ جیل کے مختلف بیرکس، کچن و دیگر حصوں کا دورہ کرایا اور قائمہ کمیٹی کو متعلقہ امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں تقریبا53936 مجرم قید ہیں۔ جن میں سے 52289 مرد،944 خواتین اور703 کم عمر قیدی قید ہیں۔ 115 قید خواتین کے پاس 133 بچے بھی ہیں۔ خواتین بیرکس کو فی میل سٹاف ڈیل کرتا ہے۔ وہاں پر ڈبل لاک سسٹم ہے۔ تمام خواتین کو رہنے کے لئے لوہے کی چارپائیاں دی جاتی ہیں اور ٹھنڈے پانی کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ خواتین بلاک میں بچوں کے کھیلنے کیلئے کھلونے اور گراؤنڈ بھی موجود ہے اور علیحدہ میڈیکل فی میل سٹاف بھی موجود ہے۔

    سینٹرل جیل میں ان قیدیوں کو لایا جاتا ہے جن کی سزا لمبے عرصے کی ہوتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں خواتین کے لئے علیحدہ جیل بنانے کیلئے بھی کام ہو رہا ہے اور جلد فیصل آباد اور لاہور میں بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ خواتین کے وارڈ میں جانے کے لئے وزیراعظم کو بھی انتظار کرنا پڑا تھا۔ قائمہ کمیٹی کو قیدیوں کی دی جانے والی خوارک کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا گیا کہ ہفتے میں چھ دفعہ چکن دیا جاتا ہے اور کیلریز کے مطابق قیدیوں کا فوڈ پلان بنایا گیا ہے۔ جیل میں کچن کی بہترین حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اڈیالہ جیل میں 6 ہزار قیدیوں کے لئے روٹیاں پکانے والی مشین خریدی جا رہی ہے جو ایک گھنٹے میں چار ہزار روٹیاں پکائے گی۔ اڈیالہ جیل میں قید قیدیوں کی فنی تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ اراکین کمیٹی نے زور دیا کہ قیدی جو چیزیں تیار کر رہے ہیں ان کو مارکیٹ میں فروخت کر کے قیدیوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کے لواحقین کو بھی اس سے فائدہ دیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں جیلوں میں قید قیدیوں پر تشدد کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ قیدیوں کو ان کے خاندان والوں سے بات کرنے کیلئے 785 ٹیلی فون بوتھ بنائے گئے ہیں ان کی تعداد1500 کی جائے گی اور4821 قیدیوں کی دیت کے لئے 871 ملین روپے ڈونرز کی مدد سے ادا کیے گئے ہیں۔ مختلف ڈونرز کی مدد سے قیدیوں کو قید خانوں میں معیاری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 8 جیلوں کو ماڈل جیل بنانے کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور مختلف بیرکس میں 55 انچ کی ایل ای ڈی بھی فراہم کی گئی ہے اور جیلوں کی صفائی ستھرائی پر اس سال 18 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بھی جیل میں کرونا یا ڈینگی کا مریض سامنے نہیں آیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ قیدی جو ذہنی بیمارہو جاتے ہیں انہیں مینٹل ہسپتال بھیجتے ہیں۔ ہسپتالوں کو پابند کیا جائے کہ وہ تین ماہ کے اندر اس مریض کے حوالے سے رپورٹ فراہم کرے تاکہ ان کے لئے فیصلہ کیا جا سکے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ 20 ہزار قیدی فنی تعلیم کے سریٹفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ایسے کاموں کو تیز کرنے کیلئے موثر قانون سازی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایک قیدی جس کو سزائے موت کی سزا ہوتی ہے اسے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کیلئے کتنا عرصہ لگتا ہے۔ کس کس جیل میں سزائے موت کے قیدی کتنی تعداد میں موجود ہیں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کی 3 جیلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کر دیا گیا ہے اور 22 کو جلد منتقل کر دیا جائے گا۔ اضافی ملٹی سٹوری بلڈنگ بھی بنائی جائے گی جن پر 548 ملین روپے خرچ ہو نگے۔ قیدی اپنے خاندان سے ہفتے میں ایک دفعہ ملاقات اور ایک دفعہ فون پر بھی کال کر سکتے تھے اب وہ ہفتے میں تین بار کال کر سکیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ سینٹر ل جیل راولپنڈی 1985 میں 75 ایکٹر پر قائم کی گئی جس میں 2174 قیدیوں کی گنجائش تھی جس میں 6471 قیدی اب قید ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ قتل اور اقدام قتل کے 1568، چوری ڈکیتی کے 1358، منشیات کے 1925، مالی جرائم میں 393، دہشت گردی342 اور دیگر 813 کیسز میں لوگ قید ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ میڈیکل کے شعبے میں 746 منظور شدہ پوسٹیں ہیں جن میں سے 340 خالی ہیں۔ چیئرمین واراکین کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے قیدیوں کی بہتری کے لئے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل تحسین ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ مجرموں کو ملک کا مفید شہری بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹی ملک کے مختلف حصوں میں قائم جیل خانہ جات کا دورہ کر کے تمام امور کا جائزہ لے گی۔

    قائمہ کمیٹی کے اڈیالہ جیل کے دورے کے دوران سینیٹرز ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند، سیمی ایزدی، مشاہد حسین سید، عرفان الحق صدیقی، فلک ناز، سید وقار مہندی کے علاوہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر، ڈی آئی جی اڈیالہ جیل پنجاب عبدالمعروف رانا، ایس ایس پی سینئر سپرٹینڈینٹ اسد جاوید، سپیشل سیکرٹری ہوم، چیئرمین این سی ایچ آر، سیکرٹری این سی ایچ آراور ڈی جی وزارت انسانی حقوق و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے،زاہد اکرم درانی

    قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے،زاہد اکرم درانی

    قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے بلوچستان کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزرا خورشید شاہ ، شاہ زین بگٹی، محمد اسرار ترین اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے شرکت کی،اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی رمیش لال، سردار ریاض محمود مزاری، خالد حسین مگسی، پروفیسر ڈاکٹر شاہناز بلوچ اور محمّد جنید انور چودھری نے بھی شرکت کی ۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے کہا کہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کو 6 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ،

    کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل ،ایس این جی ایل،پی پی ایل اوردیگر کمپنیوں کو ایک ہفتے کے اندر 6 فیصد کوٹے پررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،زاہد اکرم درانی نے کہا کہ قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے ، شمالی وزیرستان اور لکی مروت سے دریافت ہونے والی گیس پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے ،کمیٹی نے سیکرٹری پٹرولیم و گیس کو تمام فیلڈز میں پانچ کلومیٹر ریڈیس میں سروے مکمل کرنے اور انکی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی، کمیٹی نے جل مگسی، سوئی، شمالی وزیرستان اور لکی مروت سمیت تمام گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر ریڈیس میں گیس فراہمی کیلئے سروے کرنے کی ہدایت کی

    کمیٹی نے ڈیرہ بگٹی گیس فیلڈز میں غیر استعمال شدہ زمین کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے دس دن کے اندر اندر ڈیرہ بگٹی کے گیس فیلڈز کی زمین کا معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے ایک مہینے کے اندر اندر ڈیرہ بگٹی گیس فیڈز کا ازسرنو سروے کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی خاموش نہ رہی

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی خاموش نہ رہی

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کے بل کو حکومت کی اتحادی جماعت پی پی نے مسترد کیا تو دوسری جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی معاملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نورعالم خان کا کہنا ہے کہ پی اے سی کی حیثیت سے اس پر افسوس کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ججز زیادہ پیسے لے رہے ہیں تو وہ بھی کم کریں ،کمیٹی اجلاس میں ن لیگی رہنما، رکن کمیٹی روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ جہاں بھی پیسے کا نقصان ہو پی اے سی کا کام ہے اس پربحث کرے اورروکنے کی کوشش کرے ، پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ کل اس معاملے پرکافی شرمندگی ہوئی کافی ممبرز کو یہ بل دکھایا نہیں گیا ان سے دستخط لے لیے گئے سفرپر سینیٹ ممبرز کے لیے صرف 20 روپے کلومیٹرکا اضافہ کیا گیا ہےباقی ساری چیزیں چیئرمین سینیٹ کے لیے تھیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ اوراسپیکرز کے لیے12 سرکاری ملازمین کی سہولت بل میں شامل کی گئی ہے چیئرمین سینیٹ اوراسپیکرز کو فلائٹ نہیں ملتی تو چارٹرڈ طیارہ کرا سکتے ہیں ایوان میں معاملہ آئے تو اس کے خلاف ووٹ دیں اور بل مسترد کریں

    واضح رہے کہ سینیٹ نے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اراکین کی تنخواہوں ، مراعات میں اضافے کا قانون منظور کیا تھا ،پی پی نے اسکو مسترد کیا ہے،

    دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی روز بروز بگڑتی صورتحال حکمرانوں کے سامنے ہے۔اس گمبھیر معاشی حالات کے اندر چئیرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین اور ارکان سینیٹ کی مراعات کی مراعات میں اضافے کا بل مضحکہ خیز اقدام ہے، پاکستان پر آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں کا بوجھ کیا کم ہے کہ اب عوامی خدمت گاروں کی مراعات میں بھی مزید اضافہ کرکے بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس معاشی حالات پر قابو پانے کا کوئی پلان موجود نہیں ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ لاہور کی مرکزی کابینہ اور کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی معاشی حکمت عملی صرف اشرفیہ نوازی پر مبنی ہے، وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے ایک روپیہ نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کو آئے روز نٸی سے نٸی مراعات دی جا رہی ہیں ، پارلیمنٹ و اسمبلیوں سے زبردستی مراعات کے بل پاس کروائے جارہے ہیں۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کے بل پر ایوانِ بالا کے اُن اراکین کو ہوش کی ناخن لینے چاہیے تھے، جنہوں نے اس بل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی موجود گھمبیر صورتحال میں چیئرمین سینیٹ کے بل پاس کروانے پر ساری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے حکومت کی دلچسپی ملک اور قوم کی فلاح و بہبود میں نہیں، لوٹنے اور بیرون ملک جائدادیں بنانے میں ہے

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

     اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے 

    شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی ,سعید غنی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین اوگرا کو ذاتی حثیت میں طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین اوگرا کو ذاتی حثیت میں طلب کرلیا

    چیئرمین اوگرا کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو ملاقات کے لیے خط لکھنے کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین اوگرا مسرور خان کو ذاتی حثیت میں طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین اوگرا کو بلا کر خط سے متعلق پوچھ لیتے ہیں، کچھ تو عدالتی تقدس کا احترام ہونا چاہیے ، چیئرمین اوگرا کے وکیل نے اظہار ندامت کیا،چیئرمین اوگرا نے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا ،خط میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کی خواہش کی، خط میں کہا گیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات کی ہدایت کی،

    اوگرا سے متعلق کیس میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے بارے میں چیف جسٹس عامر فاروق نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کیساتھ عجیب عجیب باتیں شروع ہوگئی ہیں ، قائمہ کمیٹیاں عدالت کے متوازی اختیار استعمال کرنے لگ گئی ہیں ،کمیٹیوں کا کام قانون سازی ہے اس کو دیکھیں ،اٹارنی جنرل کو بھی کہا ہے کہ انہیں بتائیں کہ متوازی اختیار استعمال نہ کریں ، کمیٹیوں کے ایسا کرنے سے تنازع کے علاؤہ کچھ نہیں ہوگا ،پراسیکوٹر زاہد آصف کی جانب سے دلائل شروع کر دئیے

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس،جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت

    قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس،جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت

    سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ایوی ایشن کا اجلاس ہوا

    علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور پر نیا ٹرمینل بنانے کا معاملہ زیر بحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر ہم تین ایئرپورٹ کسی کو دے رہے ہیں تو انہوں نے ہی ڈویلپ کرنا ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آؤٹ سورسںنگ کوئی جی ٹو جی نہیں کر رہے،اوپن ٹرانسپیرنٹ بڈنگ ہوگی تینوں ایئرپورٹس کے لئے رسپانس آرہے ہیں، ٹرمینل کے لئے بڈنگ پراسس کیا تو تین بڈز آئیں،ٹرمینل ہم خود بنائیں گے تو دو اڑھائی سال لگیں گےابھی تک کسی کو کام ایوارڈ نہیں کیا،ہم بھی اپنے ادارے کا مفاد دیکھ رہے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تین ایئرپورٹ آؤٹ سورس کر رہے ہیں تو کیوں اس پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں،کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا

    پی آئی اے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، پی آئی اے حکام نے کہا کہ ہمارے پاس تین ہزار دس ڈیلی ویجز ملازمین ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے کو چلانا مکمل کاروباری کام ہے،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ کاروبار نہیں، قومی ایئرلائن ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایئرلائن ہر جگہ پر کاروبار ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹشو پیپر لینے کے لئے ان کو چھ مہینے لگتے ہیں، سیکرٹری ایوی ایشن نے کہا کہ تاثر ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین زیادہ ہیں، وقت کے ساتھ پی آئی اے کے جہاز کم ہونا شروع ہوئے، حکومت کے پاس دو آپشن ہیں یا زیادہ پیسے لگائے یا پرائیویٹ سیکٹر کو بلائے، سینیٹر پیر صابر شاہ نے کہا کہ جو جہاز ہیں ان کو ٹھیک کردیں،کمیٹی نے پی آئی آئی اے کے اربوں کے خسارے پر تشویش کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتنے عرصے سے پی آئی اے نقصان میں جارہا ہے، یہ قوم کا پیسہ ہے،کسی ملک میں ہمارے جہاز کو روک بھی دیا جاتا ہے، یہ بھی ہمارے لئے بدنامی ہے، سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ کوئٹہ کی فلائیٹس سے متعلق تفصیلات دی جائیں،

    پی آئی اے کے جعلی ڈگریوں والے ملازمین سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی نے ہدایات تھیں اگر کسی کی بھی جعلی ڈگری ہے اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا،سول ایوی ایشن حکام نے کہا کہ متاثرہ ملازمین کمیٹی نے کچھ ہدایات دیں کہ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ متاثرہ ملازمین کمیٹی نے ہمیں مزید ایکشن سے روکے رکھا تھا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی اے سی کی میٹنگ میں کہا گیا تھا ان کو ایک دفعہ چانس دیا جائے، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے کوئی ہدایات نہیں آئیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ کمیٹی ایوی ایشن سے متعلقہ ہے،ڈی جی ایف آئی اے کو بریفنگ کے لئے بلائیں،کمیٹی نے معاملے پر بریفنگ کے لئے ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کر لیا

    ایئرپورٹس پر نئے سکینرز لگانے اور پرانے سکینرز کی اپگریڈیشن کا معاملہ زیر بحث آیا،آئس جدید مشینوں سے بھی ڈیٹیکٹ نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ،ڈی جی سول ایوی ایشن نے اجلاس میں کہا کہ آئس جدید مشینوں سے بھی ڈیٹیکٹ نہیں ہوتی،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئس پتہ نہیں آرہا ہے یا جا رہا ہے؟ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آ بھی رہا ہےاور جا بھی رہا ہے، سول ایوی ایشن حکام نے کہا کہ ایئرپورٹس پر مسافروں کی شکایات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیئے ہیں، نارکوٹس حکام کی جانب سے مسافروں کو تنگ کرنے کی شکایات آتی ہیں،مجبور مسافر رشوت دے کر جان چھڑاتے ہیں،

    کمیٹی اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے کی جگہ ڈائریکٹر ایف آئی اے پہنچ گئے مڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہمیں پی اے سی اور متاثرہ ملازمین کمیٹی کی ہدایات ملیں تھیں ہم نے وزارت داخلہ کو کیس بھجوا دیا ہے، کمیٹی نے جعلی ڈگری والے ملازمین کو بحال نہ کرنے کی ہدایت کر دی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جعلی ڈگری والوں کو بحال کرنے اور کیسز ختم کرنے سے غلط روایت قائم ہو گی، ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ہمیں پی اے سی اور متاثرہ ملازمین کمیٹی کی ہدایات ملیں تھیں ہم نے داخلہ منسٹری کو کیس بھجوا دیا ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ آن لائن انسپکشن کے وقت یورپی یونین نے ہم سے سرٹیفیکشن مانگی تھی،

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات