Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنیٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر رجسٹرڈ ایل پی جی مینوفیکچررز کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی اور غیر معیاری سلنڈر فروخت کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ غیر معیاری سلنڈرز کی وجہ سے شدید اور خطرناک سلنڈر دھماکے ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے ایک اہم ادارہ اوگرا کی لاپرواہی پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ گیس سلنڈر دھماکوں جیسے چیلنجز کو مستعدی سے پورا کرنے میں ناکام رہے تو کمیٹی اِنکی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور ادارے کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اوگرا نے تصدیق کی کہ دفعہ 286 کی خلاف ورزی پر درج کسی ایف آئی آر کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ کمیٹی نے اوگرا کو کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے چھ ہفتے کا وقت دے دیا، اس مدت کے دوران غیر مجاز ڈیلرز کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے، ٹائم لائنز طے کرنے، وارننگ جاری کرنے، اشتہار دینے اور مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والی تفصیلی وضاحتیں (معیار اور مواد) دینا شامل ہیں۔ کمیٹی نے اوگرا کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وزارت قانون و انصاف کے ساتھ اجلاس منعقد کرے تاکہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کے لیے تیار کردہ مسودے کی جانچ پڑتال کی جائے اور ایل پی جی سلنڈرز کے بڑھتے ہوئے دھماکوں کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کو لاحق خطرات کے ذمے داران کی سزا میں اضافہ کیا جا سکے۔

    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنیٹ سیکرٹریٹ نے سپیشل سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان 2023 کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ لی، اور ان امیدواروں کے لیے جو سول سروسز میں شامل ہونے کے قابل اور مستحق ہیں، پسماندہ علاقوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں مقابلے کے امتحان میں ناکامی کی بلند شرح پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب میں اس وقت غیر مسلم امیدواروں کی 52 خالی آسامیاں ہیں۔ کمیٹی نے اسپیشل سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان، 2023 کے تحت عمر میں 32 سال تک کی رعایت اور ایک اضافی موقع پر تبادلہ خیال کیا۔ خصوصی سی ایس ایس کا موقع پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے اقلیتی کوٹے کے امیدواروں، کے پی کے سے خواتین اور اقلیتوں کے لیے دستیاب ہے، اور سندھ (رورل) سندھ ( اربن) بلوچستان اور سابق فاٹا کے تمام امیدواروں کے لیے کھلا ہے۔ مزید بریفنگ میں بتایا گیا کہ خصوصی سی ایس ایس کے لیے درخواست دینے کےلیے دو مراحل کی اجازت دی گئی ہے۔ پہلا مرحلہ 18-12-2022 سے 04-01-2023 تک جاری رہا اور دوسرا مرحلہ 26-02-2023 سے 14-03-2023 تک جاری رہا۔ 8-03-2023 تک کل 44,238 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جون سے اگست تک MPT کے اہل امیدواروں کے لیے لازمی مضامین اور انٹرویوز کے لیے کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ خصوصی CSS کے لیے متعلقہ کوٹے کے تحت آنے والی ہر موجودہ اسامی کے مقابلے میں چار امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ کمیٹی نے عملی مشق اور اس کی نگرانی پر مزید بحث کو موخر کر دیا۔

  • قرآن پاک میں املا کی اغلاط اورشہید کرنے پر سزا و جرمانے میں اضافہ

    قرآن پاک میں املا کی اغلاط اورشہید کرنے پر سزا و جرمانے میں اضافہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے ”قرآن پاک کی اشاعت (چھپائی اور ریکارڈنگ کی غلطیوں کا خاتمہ) ترمیمی بل 2022“ پر تفصیلی غور کیا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ قرآن پاک کے شہید مقد س اوراق کو کنوؤں میں ڈالا جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر کنویں بھر جاتے ہیں اور قرآن پاک کے اوراق باہر نکل آتے ہیں۔ بریفنگ میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ قرآن کے ضعیف اور شہید مقد س اوراق کو کچھ لوگوں نے جلایا جس پر انہیں قتل بھی کیا گیا۔ وزارت نے اسلام آباد میں قرآن پاک کے شہید مقدس اوراق کو محفوظ کر کے ری سائیکلنگ پلانٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ وزارت کا موقف تھا کہ توہین قرآن کے الزامات اور واقعات سے بچنے کے لیے شہید مقدس اوراق کو مناسب اور احترام کے ساتھ محفوظ کرنا ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے ری سائیکل شدہ کاغذ کو صرف مقدس کتب کی طباعت میں استعمال کے لیے مختص کیا جائے گا۔ قرآن ری سائیکل مرکز تیس جون تک بن جانا تھا مگر اخراجات پر پچاس فیصد کٹ لگ گیا ہے۔اب قرآن ری سائیکلنگ مرکزاگلے مالی سال تک مکمل ہو گا ۔قرآن پاک کے شہید اوراق کو محفوظ کرنے پر بھی کٹ لگا دیا گیا ہے جس پراراکین کمیٹی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمارے پاس قرآن پاک کو محفوظ کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے قرآن پاک کے شہید اوراق کو ری سائیکل کرنے کا کام مکمل کرنے کے لئے فنڈ میں کمی کے فیصلے کوواپس لینے کے لئے وزیر اعظم کوخط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

    قائمہ کمیٹی نے قرآن پاک میں املا کی اغلاط اور جان بوجھ کر شہید کرنے پر سزا ایک لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید تجویز کردی گئی۔ پہلے قرآن پاک میں املا کی غلطیوں اور جان بوجھ کر شہید کرنے پر سزا پانچ ہزار جرمانہ اور تین ماہ قید تھی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ انٹرنیٹ پر بھی قرآن پاک کے نسخہ جات میں اغلاط پر قانون لاگو ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کی منظوری دے دی۔کمیٹی نے بل میں کوئی اہم ترمیم تجویز نہیں کی جو اسمبلی کی منظور کردہ صورت میں ہے تاہم اس کے انگلش سے اردو ترجمہ کیلئے مناسب الفاظ استعمال کرنے کیلئے کچھ تجاویز دیں جس پر تفصیلی کیا جائے گا۔کمیٹی نے 22 نومبر 2022 کو ایکسپریس ٹریبیون میں قرآن پاک کے ترجمے میں مبینہ تحریف اور قرآن بورڈ کی اجازت کے بغیر چھاپنے کے خلاف شائع ہونے والی خبر پر مزید بحث کی۔کمیٹی اجلاس میں قرآن پاک اخباری کمزور کاغذ پر شائع کئے جانے کا انکشاف ہوا۔اخباری کاغذ پر اشاعت کے سبب قرآن مجید کا نسخہ تین سے چار ماہ میں شہید ہوجاتا ہے۔ وزارت مذہبی امور پنجاب کے حکام نے بتایا کہ قرآن مجید کو قانون کے مطابق کم از کم 52 گرام کاغذ پر چھاپنا ضروری ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کا 50 برس قدیم قانون موجود ہے۔ ملک میں بہت سے پبلشرز اخباری کاغذ پر قرآن مجید کی اشاعت کرکے ہیں۔ کمیٹی کو بتایاگیاکہ پبلشرز کاروباری طور پر بہت مضبوط ہیں۔جب تک چھاپے خانے سیل نہیں کئے جائیں گے تب تک کنٹرول ممکن نہیں۔

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    قائمہ کمیٹی کو ترجمان وزارت مذہبی امور خیبر پختونخوا نے بریفنگ میں بتایا کہ خیبر پختونخواہ میں 14پبلشرز رجسٹرڈ ہیں جو قرآن مجید چھاپ سکتے ہیں۔ صوبے میں قانون موجود ہے جس کے تحت کم از کم 52 گرام پر قرآن مجید چھاپنا ضروری ہے۔قانون کی خلاف ورزی پر تین برس قید اور 20ہزار روپے جرمانے کی سزا مقرر ہے۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ اب تک صوبہ خیبر پختونخواہ میں کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس پر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا صوبے میں مانیٹرنگ کا نظام موجود ہے۔حکام وزارت مذہبی امور صوبہ بلوچستان نے کمیٹی کوبتایا کہ بلوچستان میں ایک بھی پبلشرز رجسٹرڈ نہیں ہے اور صوبہ بلوچستان میں قرآن مجید کے چھپائی نہیں ہوتی ہے۔

  • ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اورعمارتوں کی نجکاری بارے تجویز

    ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اورعمارتوں کی نجکاری بارے تجویز

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    2015/16 میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے پی ٹی وی نیوز کے نمائندوں کے سروس سٹرکچر کی منظوری کے بارے میں سینیٹر فدا محمد کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے پر پی ٹی وی حکام نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ایم ڈی پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی نیوز میں بغیر مستقل آسامی کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے تھے۔ یہ معاملہ ادارے کی ایچ آر کمیٹی کو بھیجا کیا گیا تھا جسکی سفارشات چار دن پہلے ہونے والی پی ٹی وی بورڈ میٹنگ میں پیش کی گئیں۔ جسکے مطابق ان تمام نیوز نمائندوں کی سروسز کو ریگولر کرنے کے حوالے سے فیصلہ ہو چکا ہے اور جلد ہی میٹنگ کے منٹس مرتب ہونے کے بعد سب کو ریگولر کر دیا جائےگا۔ چیئرمین کمیٹی نے اس حوالے سے تمام تر تفصیلات سے کمیٹی اور سینیٹر فدا محمد کو آگاہ رکھنے کی ہدایت دی۔

    ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو پينشن کی ادائیگی میں تاخیر پر کمیٹی میں تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈی جی ریڈیو پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ ریڈیو پاکستان کو اخراجات کی مد میں سالانہ تقریباً ساڑھے چھے ارب روپے کی ضرورت ہے اور اس وقت ساڑھے چار ارب روپے مل رہے ہیں۔ دو ارب روپے کی کمی کی وجہ سے ادراے کو پینشن اور ملازمین کے میڈیکل بلز کی ادائیگی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ غریب ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن ادائیگی ادارے کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے اور اس حوالے سے وزارت خزانہ سے بات کی جائے۔ ڈی جی ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اور عمارتوں کی نجکاری کرکے خاطر خواہ رقم حاصل کی جا سکتی ہے جس سے ان تمام اخراجات کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے کام جاری ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے استفسار کیا کہ آیا ادارے نے ریڈیو پاکستان کے اثاثوں کی نجکاری کےلیے کوئی کنسلٹنٹ یا فرم کی خدمات حاصل کی ہیں یا ادارہ خود یہ تمام کام کر رہا ہے۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کے بارے میں سوال کیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ کراچی میں ریڈیو پاکستان کے ٹاور کو نہایت ہی کم پیسوں میں دوسرے اداروں کو کرائے پر دیا گیا ہے اور ایک عمارت پاکستان رینجرز کے زیر استعمال ہے۔ سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ رینجرز کے زیر استعمال عمارت کی واگزاری کے لیے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے معاملات کو یکسو کرنے کےلیے سینیٹر عرفان صدیقی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔

    چیئرمین کمیٹی نے وزیر برائے اطلاعات و نشریات کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو کمیٹی اجلاس میں بلایا جائےگا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا موقف سننے کے بعد صحافیوں کی فلاح و بہبود اور آزادی اظہار رائے کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔

    سینٹر ولید اقبال اور دیگر سینیٹرز کی جانب سے پیش کردہ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترمیم کے بل پر غور کیا گیا۔ بل پر تفصیلی بحث کے بعد مزید وضاحت کےلیےمعاملہ محکمہ قانون کو بھیجنے پر اتفاق کیا گیا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، فوزیہ ارشد، سید وقار مہدی، انور لال دين، عرفان صدیقی، عمر فاروق، فدا محمد، ولید اقبال، ایم ڈی پی ٹی وی، سیکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات اور پیمرا کے حکام نے شرکت کی۔

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    پاکستان کے علاقے کو دشمن ملک کے ساتھ دکھانا بہت بڑا جرم،قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی سے کیا جواب طلب

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

  • روس پاکستانی آلو سے اعلٰی معیار کی شراب بنا رہا ہے،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    روس پاکستانی آلو سے اعلٰی معیار کی شراب بنا رہا ہے،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    خورشید احمد جونیجو کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس ہوا

    کمیٹی نے امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول ترمیمی بل 2022 کی منظوری دیدی، اجلاس میں چیئرمین ٹی ڈیپ کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے اظہار برہمی کیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین ٹی ڈیپ کیوں نہیں آئے آئندہ نہ آئے تو نوٹس جاری کریں گے، اجلاس میں سیکرٹری کامرس کی عدم شرکتچیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری کامرس کو آئندہ اجلاس میں شرکت کی ہدایات جاری کردیں، سپیشل سیکرٹری وزارت تجارت مجتبیٰ میمن نے اجلاس میں کہا کہ ٹی ڈیپ کا بورڈ فی الحال فعال نہیں ہے ،بورڈ سابق وزیر تجارت رزاق داؤد کے دور سے خالی ہے ،آئندہ دو ہفتے میں نیا بورڈ منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا جائے گا ،ممبر کمیٹی رانا ارادت شریف خان نے کہا کہ بورڈ کو جلد قائم کیا جائے اس طرح اداروں کو نہ چلایا جائے ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت تجارت کو بورڈ ممبران کی تعیناتی کیلئے ایک ماہ دیتے ہیں ، حکام وزارت تجارت نے کہا کہ پاکستان میں صرف 16 ہزار برآمد کنندگان ہیں ،اب کورس ترتیب دیا ہے اور لوگوں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے ، اس سال سے قازقستان کو 20 ہزار ٹن آلو برآمد کیا جائے گا ،روس پہلے سے ہی پاکستان سے آلو خرید رہا ہے ، روس پاکستانی آلو سے اعلٰی معیار کی شراب بنا رہا ہے ،

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    عقیل کریم ڈھیڈی سیکیورٹیز پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی پاکستان ریلوے کی نادہندہ نکلی ،

    مالی سال 2021 /22 میں تجارت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ،سیکرٹری ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے کمیٹی کو بریفنگ دی، حکام وزارت تجارت نے اجلاس میں کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے 85ایگزیبیشن کی منظوری دی گئی،جس میں سے 36 کی منظوری،48 ملتوی ہوئیں،چاول اور میز کی برآمد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا،اس سال سیلاب کی وجہ سے چاول کی کاشت کم ہوئی،22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 16 ہزار ایکسپورٹرز ہیں،ایکسپورٹرز صرف کسی ایک چیز پر ہی کام کرتے ہیں،دھاگہ بنانے والا 30 سال دھاگہ ہی بناتا رہے گا،ہم ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں،ٹی ڈیپ نے اپنی ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے،جس پر تمام ایکسپورٹرز کو معلومات اور دیگر سہولیات دی جا رہی ہیں،پاکستان میں درآمدت اوربرآمدات کو ایگزم بینک سپورٹ کرے گا ، حکام ٹی ڈیپ نے کہا کہ پاکستان میں ایگزم بینک غیر فعال ہے وزارت خزانہ فنڈز نہیں دے رہی ،کمیٹی ایگزم بینک کو وزارت وزارت تجارت کے سپرد کرنے کی سفارش کرے ،قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور ایگزم بینک حکام کو طلب کرلیا

  • سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ کی ہدایت

    سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ کی ہدایت

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس سینیٹر کہدہ بابر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    پی ٹی اے حکام نے پاکستان میں اسپیس ایکس کے سٹار لنک پروگرام کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس حوالے کچھ سیکیورٹی خدشات کے باعث مزید پیشرفت ممکن نہیں ہو سکی۔ سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کےلیے یہ ایک بہترین ٹیکنالوجی ہے اور محض سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اسکو روکنا مناسب نہیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے اس معاملے کو یکسو کرتے ہوئے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے گی۔

    یونیورسل سروسز فنڈ کی جانب سے کم ترقی یافتہ علاقہ جات میں وائس اور ڈیٹا سروس کی بہتری کے حوالے سے منصوبہ جات پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں صارفین کو بہترین سروس کی فراہمی کےلیے کئی منصوبہ جات پر کام جاری ہے۔ ضلع گوادر میں بہتر سروس کی فراہمی کےلیے ایک نجی ٹیلی کام کمپنی نے %95 ٹاورز پر فور جی انٹرنیٹ سروس متعارف کروا دی ہے۔ چیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس میسر نہیں ہے، جسکی وجہ سے بلوچستان کے طالب علموں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ بہت سے علاقوں میں سروس ہونے کے باوجود سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے سروس معطل ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ سروس کو مزید بہتر بنانے کیلئے مخصوص علاقوں میں نیشنل رومنگ شروع کی جا رہی ہے، جو اگلے سال جون تک صارفین کو فراہم کر دی جائیگی۔ سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ ضلع گوادر پر خاص توجہ دی جانی چاہیے کیونکہ وہاں بھاری بیرونی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر کہدہ بابر نے ہدایت دی کہ سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    سفاک شخص نے رشتے سے انکار پر لڑکی کی ماں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا
    مکی آرتھر کو ایک بار پھر پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
    سونم کپور نے میڈیا کو اپنے بیٹے کی تصاویر لینے سے منع کر دیا
    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی
    خواتین کے کام کرنے پر پابندی، تین فلاحی تنظیموں کا افغانستان آپریشنز معطل کرنے کا اعلان

    ورچوئل یونیورسٹی میں ڈائریکٹر ایسٹبلشمنٹ کی آسامی سے غیر قانونی طور پر ہٹائے گئے افسران کے حوالے سے دائر کی گئی عوامی عضرداشت پر بھی غور کیا گیا۔ سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا کہنا تھا کہ افسران کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا اور اُنکے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ممکمل انکوائری کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ نکالے گئے افسران کی تعلیمی قابلیت متعلقہ آسامی کے مطابق نہ ہے۔ سینیٹر محمد عبدالقادر کا کہنا تھا کہ سات سال سروس کے بعد کسی کو اس طرح ملازمت سے فارغ کر دینا زیادتی ہے۔ اگر افسران کی تعلیمی قابلیت آسامی کے مطابق نہیں تھی تو اُنھیں ابتدائی طور پر بھرتی ہی کیوں کیا گیا؟. چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ افسران کے معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یونیورسٹی کے بورڈ میں پیش کیا جائے اور اگر افسران کی تعلیمی قابلیت موضوع نہیں ہے تو جس اتھارٹی نے انہیں ابتدائی طور پر غلط بھرتی کیا تھا اُنکے خلاف نیب اور ایف آئی اے کاروائی کریں۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، محمد عبدالقادر، افنان اللہ خان، ثانیہ نشتر، سیمی ایزدی، نسیمہ احسان، ذیشان خانزادہ، سیکرٹریٹ آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن، پی ٹی اے اور یونیورسل سروسز فنڈ کے حکام نے شرکت کی

  • قائمہ کمیٹی خزانہ کا ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے معاملے کا نوٹس

    قائمہ کمیٹی خزانہ کا ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے معاملے کا نوٹس

    قائمہ کمیٹی خزانہ کا ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے معاملے کا نوٹس

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت خزانہ کمیٹی کا اجلاس بغیر کورم کے شروع ہوا

    اجلاس میں بلوچستان میں کسٹمز کے محکمہ میں بھرتیوں کا معاملہ زیربحث آیا،وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا اجلاس کا حصہ تھیں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اجلاس میں خصوصی شرکت کی ، ممبر کسٹمز ایف بی آر آپریشنز نے کہا کہ اب تک 388 افراد میں سے 13 افراد کو بھرتی کیا گیا ،371ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ڈیلی ویجز اور پرائیویٹ ملازمین کے اعدادوشمار درست نہیں دیئے گئے، پارلیمان کی کمیٹی کے سامنے پہلے غلط جواب دیا گیا اب دوسرا دیا جارہا ہے، ممبر کسٹمر آپریشنز نے کہا کہ ہمارے پاس جیسے معلومات آتی ہیں ہم کمیٹی کے سامنے رکھتے ہیں،ممبر کسٹمز آپریشنز ایف بی آر نے جواب میں ابہام پر کمیٹی سے معذرت کرلی

    خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں وینٹج کار کی درآمد کے معاملےپر بحث ہوئی،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کار کی درآمد جاری ایس آر او کے مطابق کی گئی،جن لوگوں نے کاریں درآمد کی ہیں ان کا نشانہ بنایا جارہا ہے، وزیر مملکت عائشہ غوث بخش پاشا نے کہا کہ کابینہ کو سمری بھیجی گئی تھی جسے مسترد کیا گیا ہے، کابینہ نے جس سمری کو مسترد کیاہے وہ دوبارہ نہیں بھیج سکتے،سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ کابینہ کو بتایا جائے کہ جس وقت کار درآمد کی گئی اس وقت اجازت تھی، عائشہ غوث بخش پاشا نے کہا کہ کمیٹی اس پر اپنی سفارشات دے کابینہ میں دوبارہ معاملہ اٹھائیں گے،

    اجلاس میں ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں موجود کیسز پر بھی بحث ہوئی،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے کیسز کے التواپر تشویش کا اظہار کردیا ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس کیسز میں تاخیر سے ایف بی آر محصولات کا نقصان ہورہا ہے، وزارت خزانہ کیسز کا تجزیہ کرے اور تاخیر کی وجوہات سامنے لائے،وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث بخش پاشا نے کہا کہ ایف بی آر سے کیسز سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں کھربوں روپے کے ٹیکس کیسز کی بات ہورہی ہے،ایف بی آر 15 دن میں تفصیلات فراہم کرے گا، کمیٹی نے ایف بی آر کو کیسز کی تفصیلات جمع کرانے کیلئے 15 دن کا وقت دیدیا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے

    تحریک عدم اعتماد کا خوف،وزیراعظم آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیکرٹریز سمیت تمام ممبران اسمبلی پر گاڑیوں کی نوازشات

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس میں ٹیکس دھندگان کو ہراساں کرنے کےمعاملے پر بحث ہوئی، کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے معاملے کا نوٹس لے لیا، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس فائلرز اور کاروباری طبقے کو اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے زریعے ہراساں کیا جارہا ہے، اینٹی منی لانڈرنگ قانون بنتے وقت اسے ٹیکس مقدمات پر لاگو کرنے کی مخالفت کی تھی،سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ٹیکس کمشنر کی جانب سے مجھے ہراساں کیا جارہاہے،اس کو معطل یا نوکری سے ہٹایا جائے،ٹیکس کمشنر کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتا، چیئرمین کمیٹی نے یہ معاملہ سینیٹ کی استحقاق کمیٹی میں لے جانے کا فیصلہ کیا،اور کہا کہ متعلقہ ٹیکس افسر کی معطلی کا مطالبہ کیا جائے گا، عائشہ غوث بخش پاشا نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ پر عمل درآمد فیٹف اور آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے،

  • ایرا میں تو جنگل کا قانون ،غیر قانونی معاملات چل رہے ہیں،سینیٹر افنان اللہ خان

    ایرا میں تو جنگل کا قانون ،غیر قانونی معاملات چل رہے ہیں،سینیٹر افنان اللہ خان

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ ممبر پارلیمنٹز کے استحقاق بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ممبر پارلیمنٹز کو سیاسی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے زیر حراست رکھا جاتا ہے اور ماضی میں ممبر پارلیمنٹز کو حراست میں رکھنے کے حوالے سے پانچ صفحے پر مشتمل خط اسپیکر اور چئیرمین سینیٹ کو لکھ چکا ہوں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ ممبر پارلیمنٹ کو اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اسپیکر اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کو خط میں لکھا کہ موجودہ قانون کے مطابق ایسا ممکن نہیں اور اس حوالے سے قانُون سازی کی ضرورت ہوگی۔

    سیکریٹری وزارت پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قومی اسمبلی نے اپنے رولز میں ترمیم کر لی ہے اور سینیٹ بھی ایسا کر سکتی ہے ۔اس پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ رولز میں ترمیم کافی نہیں، ایکٹ آف پارلیمنٹ مناسب ہوگا۔ سیکریٹری پارلیمانی امور نے بل کا نام ممبر پارلیمنٹ استثنی اور استحقاق بل رکھنے کی تجویز بھی دی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے سینیٹر رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ ممبران سینیٹ اور قومی اسمبلی کے استحقاق اور استثنی کا بل، سینیٹر علی ظفر، سینیٹر ولید اقبال اور سیکریٹری پارلیمانی امور کی جانب سے تجویز کردہ ضروری ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    سینیٹر اعظم سواتی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائرکر دی

    اعظم خان سواتی کی نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،مولانا عبدالغفورحیدری کمیٹی کے کنونیئرمنتخب

    کمیٹی اجلاس میں ایرا کے ملازمین کی برطرفی کے معاملہ پر بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے بتایا کہ اس وقت چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین ایرا دونوں کا عہدہ خالی ہے اور اسکو جواز بنا کر ایرا حکام نے کہا ہے کہ معاملے کو موخر کر دیا جائے۔ چالیس خاندانوں کے روزگار کا معاملہ ہے اور اسے ایسے ہی نہیں چھوڑ سکتے۔ سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ "ایرا میں تو جنگل کا قانون ہے اور غیر قانونی معاملات چل رہے ہیں۔ سابق چئرمین ایرا کو کمیٹی نے سفارش کی ، لیکن اس نے نہ کمیٹی تجویز پر عمل کیا، نہ ہی ہمیں جواب دیا۔ اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے”۔ کمیٹی نے ایرا حکام کی کمیٹی اجلاس میں غیر حاضری اور سفارشات پر عدم عمل درآمد کے حوالے سے خط لکھنے اور وزیر اعظم پاکستان کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ایرا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا تقرر جلد سے جلد کیا جائے۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، افنان اللہ خان، ولید اقبال، میاں رضا ربانی، بیرسٹر علی ظفر، پروفیسر ساجد میر، عابدہ محمد عظیم اور متعلقہ وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • سیکشن آفیسر پروموشنل امتحان،تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی تجویز،سینیٹ کمیٹی

    سیکشن آفیسر پروموشنل امتحان،تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی تجویز،سینیٹ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس کو سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹ کمیٹی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے سیکشن آفیسرز کے پروموشنل امتحان کے لیے تقاضوں اور نصاب کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ سینیٹر محمد اکرم نے معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہ امتحانات میں اْمیدواروں کی شرکت کی کوششوں کی تعداد بڑھائی جائے کیونکہ درخواست دہندگان سرکاری ملازم ہیں اور ظاہر ہے ان کے لیے اپنی ملازمتوں کے ساتھ امتحانات کے لیے تیاری کرنا مشکل ہے۔ سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ ‘امریکی تاریخ کا مضمون عصری پاکستان کے منظر نامے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور اسے نصاب میں شامل نہیں ہونا چاہیئے۔ چیئرمین کمیٹی رانا مقبول احمد نے تجویز دی کہ سینئر اور جونیئر افسران کے طرز عمل سے متعلق مضمون کو کورس کا حصہ بنایا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے اکثریتی ارکانِ کی رضامندی سے اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو سفارش کی کہ سیکشن آفیسرز پروموشنل امتحان میں شرکت کی کوششوں کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی سفارش کر دی۔ لیکن سینیٹر سعدیہ عباسی نے اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

    سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے بتایا کہ ایف پی ایس سی کے بورڈ میں خواتین، سماجی اِداروں اور ریٹائرڈ پارلیمنٹرینز کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور مزید یہ کہ فیڈرل سروسز ایکٹ پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمد نے سینیٹر سید مظفر حسین شاہ سے کہا کہ وہ اس حوالے سے کمیٹی کے سامنے سفارشات پیش کریں۔

    کمیٹی ادارہ برائے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (این آئی ایم) میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو ریگولر کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ ڈی جی این آئی ایم نے کمیٹی کو بتایا کہ مجموعی طور پر 132 ملازمین نے قانونی تقاضے کو پورا کیا ہے اور جس کے نتیجے میں ان کی سروسز کو ریگولر کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے رائے دی کہ ان ملازمین کے علاوہ باقی تمام ملازمین یومیہ اجرت کی سروسز کو ریگولرائز کیا جائے جن پر سنگین بدانتظامی کا الزام ہے۔

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹر عشرت حسین کی "وفاقی حکومت میں ادارہ جاتی اصلاحات 2018 سے 2021” کے عنوان سے رپورٹ کا جائزہ لینے اور اس پر بحث کرنے کے لیے خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ک میٹی کے اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی، سینیٹر خالدہ عطیب، سینیٹر سید مظفر حسین شاہ، سید مولا بخش چانڈیو، سینیٹر مشتاق احمد خان، سینیٹر انجینئر نگہبان اور دیگر نے شرکت کی۔ رخسانہ زبیری، سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر محمد اکرم، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن انعام اللہ دھاریجو، سیکریٹری ایف پی ایس سی سید حسنین مہدی، ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ ڈاکٹر طارق اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

  • بلوچستان کے یوٹیلٹی سٹوروں پر صرف چوہے ہیں، سینیٹرقائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    بلوچستان کے یوٹیلٹی سٹوروں پر صرف چوہے ہیں، سینیٹرقائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    بلوچستان کے یوٹیلٹی سٹوروں پر صرف چوہے ہیں، سینیٹرقائمہ کمیٹی میں پھٹ پڑے

    پبلک آکاونٹس کمیٹی کا چئیرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    کمیٹی روم کے مائیک ٹھیک کروانے کے باوجود خراب تھے،نور عالم خان نے کہا کہ کوئی بھی مائیک کام نہیں کر رہا اس سے تو پرانے ٹھیک تھے, مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ نئے پاکستان کی طرح ہو گئے ہیں،چیئرمین پی اے سی نور عالم خان کے نام پر یوٹیلیٹی سٹورز سے آٹا نکلوانے کا انکشاف اجلاس میں سامنے آیا، نور عالم خان نے اجلاس میں کہا کہ آپکے پشاور زون میں کسی کو میں نے آٹا نکالنے کا نہیں کہاکس نے میرے نام پر آٹا نکالا،اسکی انکوائری ہونی چاہیے،

    نیشنل فرٹیلائیزر مارکٹنگ لیمٹیڈ میں 381 خلاف ضابطہ تقرریوں کا معاملہ ،سیکرٹری انڈسٹری نے کہا کہ 2007 میں گولڈن شیک ہینڈ ہوا، 2012 میں 417 لوگ دوبارہ ہائیر کر لیے گئے، یہ لوگ اب دس سالوں سے کنٹریکٹ پر ہیں، چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے ہدایت کی کہ اسکی انکوائری ایک ماہ میں مکمل کریں،این ایف ایم ایل میں 14 کروڑ 82 لاکھ کا کنٹریکٹ اور ریگولر ملازمین کو بونس دینے کا معاملہ ،ایف آئی اے حکام نے اجلاس میں کہا کہ خسارے میں جانیوالی کمپنی نے اپنے ملازمین کو بونس دے دیے، پی اے سی نے معاملے پر ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے ریکوری کی ہدایت کردی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    پی اے سی اجلاس میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا سسٹم بے نظیر انکم سپورٹ اور نادار کیساتھ منسلک ہے، یوٹیلیٹی سٹورز کا سسٹم کمپیوٹرائز کر لیا گیا ہے اب ہم ٹیکنالوجی کیطرف جا رہے ہیں،عملے کی بھی مکمل مانیٹرنگ کی جا رہی ہےملازمین سے اثاثہ جات کی ڈکلیریشن لیں گے،،سینیٹر احمد خان نے اجلاس میں کہا کہ بلوچستان کے سٹوروں پر صرف چوہے ہیں نہ آٹا،دال نہ چینی ہے ،ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹور نے کہا کہ سندھ کیلئے دس لاکھ راشن بیگ تیار کر رہے ہیں،چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کا وزٹ کریں تا کہ صورتحال کا آپکو پتہ چلے،یوٹیلیٹی سٹورز کی سبسڈی صرف غریبوں کو ملنی چاہیے،

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

  • ریاست کی رٹ سب سے اہم، جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    ریاست کی رٹ سب سے اہم، جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    ریاست کی رٹ سب سے اہم، جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس، سوات کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر ہمارا نقطہ نظر غیرجانبدار اورمتفقہ ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں کمیٹی ارکان کو سوات میں ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے کی اطلاعات اور شہریوں پر ہونے والے حملوں کے پس منظر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو یقین دلایا گیا کہ ریاست کی رٹ سب سے اہم ہے اور امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔ مختلف وارداتیں ہوئیں ہیں لیکن مجرموں کا سراغ لگا کر پکڑا گیا ہے۔کمیٹی کی جانب سے سی ٹی ڈی ملاکنڈ کے کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا جس کی پولیس فورس، لیویز اور نیم فوجی دستوں نے امن کے تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کمیٹی ارکان نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ارکان کا اتفاق رائے تھا کہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دینے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ جرائم پیشہ عناصر کو پکڑا جائے، عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

    کمیٹی کو ڈائریکٹر جنرل فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹس (ایف ڈی ای آئی) نے محکمہ کے کام کاج کے بارے میں بریفنگ دی، (ایف ڈی ای آئی) کے 386 سکول پاکستان کے تمام صوبوں اور 66 شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کمیٹی ارکان نے تعلیم کے ذریعے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے حوالیسے محکمے کے مثبت کردار کی تعریف کی اور کہا کہ محکمے کے بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ وفاقی نظامت تعلیم کے مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف انکلوسیو ایجوکیشن کے قیام کی تجویز کی بھی حمایت کی۔

    سینیٹر دوست محمد خان کی جانب سے پیش کی گئی تحریک پر بھی بحث کی گئی اور اسے نمٹا دیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سینیٹر مشاہد حسین نے نئے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان کا پرتپاک استقبال کیا اور NCOC کے سربراہ کی حیثیت سے کرورنا وائرس کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کے حوالے سے ان کی خدمات کو سراہا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے یہ بھی کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع تمام صوبوں، سیاسی جماعتوں، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتی ہے، کمیٹی نے ہمیشہ مسلح افواج اور پارلیمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر کمیٹی پارٹی لائنوں سے بالاتر ہو کر متفقہ انداز میں بات کرتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع، قومی سلامتی کے معاملات پر اتحاد، ولولے اور عزم کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ