Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • سیف اللہ نیازی کے گھر ریڈ کے دوران خاتون اہلکار موجود تھی،ڈی جی ایف آئی اے

    سیف اللہ نیازی کے گھر ریڈ کے دوران خاتون اہلکار موجود تھی،ڈی جی ایف آئی اے

    سیف اللہ نیازی کے گھر ریڈ کے دوران خاتون اہلکار موجود تھی،ڈی جی ایف آئی اے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سیف اللّہ سرور خان نیازی کے اسلام آباد میں واقع گھر پر ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے چھاپے کا معاملہ زیربحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے معاملے پھر تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی ممبران کی مشاورت سے سینیٹر کامل علی آغا کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور سینیٹر رانا مقبول احمد ذیلی کمیٹی کے ممبران ہوں گے۔

    چیئرمین کمیٹی نے معاملے کے حوالے سے چار ٹی او آرز بنا دیئے گئے۔ ٹی او آرز میں کہا گیا ہے کہ جس ویب سائٹ کو بنیاد بنا کرریڈ کیا گیا، کیا وہ خفیہ ویب سائٹ تھی؟۔ کیا سینیٹر سیف اللّہ خان نیازی کے گھر پرریڈ کرتے وقت خاتوں اہلکار موجود تھیں؟۔ کیا سینیٹر سیف اللّہ خان نیازی کے گھر پر چھاپے سے متعلق چیئرمین سینیٹ سے اجازت لی گئی تھی؟۔ کیا ریڈ کرتے وقت سرچ وارنٹ پولیس اور ایف آئی اے حکام کے پاس تھا یا نہیں اور کیا ریڈ کے دوران خواتین اہلکار موجود تھیں؟

    کمیٹی اجلاس کے آغاز میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز اور پاکستان تحریک سے تعلق رکھنے والے ممبران کمیٹی نے سرچ آپریشن افیسر ایس پی عمران حیدر کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ اچھا نہیں لگتا کہ ادارے کے سربراہ کو بھی بٹھائے اور آپ انسپکٹرزکو بھی بلائیں،اگر براہ راست سرچ آپریشن آفیسر کو بلانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی لیکن ڈی جی ایف آئی اے کمیٹی اجلاس میں موجود ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملے پر سوموٹو لیا تھا، اس دن کمیٹی اجلاس میں کوئی نہیں آیا، پھر سیکرٹری وزارت داخلہ کو خط لکھا۔انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مختلف واقعات پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد میں سوموٹو ایکشن لئے ہیں۔ سرچ اپریشن آفیسر عمران حیدر کو سمن جاری کیا تھا، لیکن وہ کمیٹی اجلاس میں پیش نہیں ہوئے، یہ پارلیمان کی توقیری کا سوال ہے۔ہم سب نے مل کر پارلیمان کا رتبہ بنانا ہے۔

    سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہا کہ معاملے کے حوالے سے کمیٹی ممبران کو اعتماد میں لینا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سینیٹرسیف اللّہ خان نیازی ایک باوقار شہری اور سیاست دان ہیں اور ایک با عزت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد ایک مذہبی اسکالر ہیں ان کی تصانیف پاکستان میں پڑھی جاتی ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ریڈ کے دوران ہماری معلومات کے مطابق کوئی خاتون پولیس اہلکار شامل نہیں تھی۔سینیٹر سیف اللّہ نیازی کے گھر والوں کو ہراساں کیا گیا، چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔پارلیمان ہمیں عزت دیتا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ریڈ غلط ہوا ہے۔

    سینیٹر اعظم خان سواتی و دیگر ممبران کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سے پوچھے بغیر کسی سینیٹر کے خلاف رولز کے مطابق ریڈ نہیں کرسکتے۔ہمیں ایک ہی بندہ چاہئے جس نے سرچ وارنٹ جاری کیا اور پھر سرچ آپریشن کیا۔عمران حیدر کو کمیٹی اجلاس میں لازمی آنا چاہئے ان سے ہمارے سوالات ہیں۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ اگر انہوں نے غیرقانونی کام کیا تو متعلقہ حکام کو لکھیں گے کہ اس کے خلاف کاروائی کریں، باقی آفیسر کا وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔سوال ہمارا عمران حیدر سے بنتا ہے۔جس پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ صرف عمران حیدر سے پوچھنا ہے تو ہمیں کس لئے کمیٹی میں بلا لیا۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ آج صرف آپ عمران حیدر کو بلا لیتے ہمیں پھر کبھی بلا لیتے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یہ پارلیمان کی بے توقیری ہے ہم نے عمران حیدر کوسمن جاری کیا تھا۔جس پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف عمران حیدر نہیں پھر سب ریڈنگ پارٹی جن کی تعداد 100 سے زیادہ ہے سب کو بلائیں۔اگر عمران حیدر نے کوئی کام غلط کیا ہے تو ڈی جی ایف آئی اے ذمہ دار ہیں۔

    سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ کیا یہ ضد والی بات ہے کہ سمن جاری کرنے کے بعد بھی وہ نہیں آئے۔جس کو سمن جاری کیا گیا ہے اگر وہ نہ آئے تو اس کو استحقاق کمیٹی میں جانا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے ہمیں مطمعین نہیں کرتے تو پھر متعلقہ شخص کو بھی بلا لیں گے۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ رول (4)187 کے مطابق ان کو سمن کیا اور صرف سوال پوچھنے تھے لیکن وہ نہیں آئے، ہم ڈی جی ایف آئی اے سے سوال نہیں کرسکتے۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ سینیٹر سیف اللّہ خان نیازی کے خلاف جن حالات میں ریڈ ہواہے اس میں تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ریڈ کیا گیا، کیا یہ طریقہ کار ٹھیک ہے؟ کیونکہ مجسٹریٹ اور لیڈیز پولیس کو بھی ہونا چاہئے اور چیئرمین سینیٹ کو بھی ریڈ کے بارے میں معلومات ہونی چاہئے۔سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ اگر اس طرح حراسگی نہ ہوتی اور اس کے بجائے سینیٹرسیف اللّہ نیازی کو نوٹس بھیجتے کہ یہ ہمارے سوالات ہیں اس کے جوابات دے دیں تو اس میں کیا برائی تھی کہ اتنے لوگ ریڈ کرنے چلے گئے، پڑوس والے کیا سوچ رہے ہوں گے۔جس طرح کا ریڈ ہوا کوئی پارلیمنٹرین اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت ہائی پروفائل انکوائریز ایف آئی اے میں چل رہی ہیں جس میں سیاست دان بھی ہیں۔ ان انکوائریز میں کسی کی بھی تذلیل نہیں کی گئی نہ ہی بری مثال قائم کی گئی ہے بس انہیں سوالات دے کر معاونت کا کہا گیا، اگر مجھ پرکسی کا پریشر آئیگا کسی طرف سے تو میں ایسا بالکل نہیں کروں گا۔ مجھ سے اجازت لی گئی کہ سرچ آپریشن کے دوران آلات سیز کرنی ہیں۔ یہ ریڈ نہیں تھا یہ سرچ آپریشن تھا- سرچ وارنٹ کے ساتھ سرچ آپریشن کیا گیا، سینیٹر سیف اللہ نیازی نے معاونت کی۔ سامان خود انہوں نے ہمارے حوالے کیا، کوئی بد تمیزی نہیں ہوئی،ہر چیز لیگل ہے سرچ آپریشن کیلئے عملہ سرچ وارنٹ کے ساتھ گیا تھا۔ کسی کی تضحیک کا مسئلہ تھا ہی نہیں۔ ریڈ کے دوران خاتون اہلکار موجود تھی۔

    سینیٹر فوزیہ ارشد نے سوال کیا کہ کیا ریڈ کے دوران کوئی خاتون اہلکار موجود تھی؟کیا چیئرمین سینیٹ سے اس حوالے سے پوچھا گیا تھا؟ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا ہے کہ ریڈ کے دوران خاتون اہلکار تھی لیکن کوئی بھی خاتون اہلکار ریڈ کے دوران موجود نہ تھی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے علم میں دو باتیں  کہ سرچ وارنٹ تحریری نہیں تھا اور سینیٹر سیف اللّہ خان نیازی کے گھر عملہ گیا اور مزاحمت نہیں کی، اور کوئی خاتون آفیسر موجود نہیں تھی۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ لوگوں کی گفتگو سے لگتا ہے کہ اس معاملے میں تین چیزیں سامنے آئی ہیں، کہ سرچ وارنٹ نہیں تھا بعد میں حاصل کیا گیا، لیڈیز اہلکارساتھ نہیں تھیں اور بد تمیزی ہوئی ہے۔جس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی ڈرامہ نہیں بنائیں گے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز اعظم نزیر تارڑ،کامل علی آغا، فوزیہ ارشد،رانا مقبول احمد، مولا بخش چانڈیو، فیصل سلیم رحمان، شہادت اعوان، سرفراز بگٹی اور دلاور خان کے علاوہ سینیٹر زڈاکٹر شہزاد وسیم، سیف اللّہ خان نیازی،اعظم خان سواتی، شبلی فراز نے شرکت کی- وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، سیکرٹری وزارت داخلہ، آئی جی پی اسلام آباد،چیف کمشنر اسلام آباد،، ڈی جی ایف آئی اے محسن بٹ بھی آج کے اجلاس میں شریک ہوئے-

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

  • مذہبی نفرت انگیز مواد کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے،قائمہ کمیٹی میں بحث

    مذہبی نفرت انگیز مواد کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے،قائمہ کمیٹی میں بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی برائے اطاعات ونشریات کے اجلاسوں میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس لیا اور کہا کہ کمیٹی کے 90 فیصد اجلاسوں میں وفاقی وزیر اطلاعات نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تجویز دیتا ہوں کہ اس وزارت کا کام زیادہ ہے، ایک اور وزیر کو چارج دے دینا چاہئے ۔براڈکاسٹ کیلئے علیحدہ وفاقی وزیر ہونا چاہئے اور یہی حل ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے مزید کہا کہ آپ کی حکومت کو ایک اور وزیر کی ضرورت ہے کیونکہ صحافیوں کے پنشن اور تنخواہوں کے مسائل ہیں۔

    سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف میاں جاوید لطیف کی 13 ستمبر 2022 کو پی ٹی وی پر نفرت انگیز گفتگو کا معاملہ کمیٹی میں زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق جواب اگر پہلے دے دیا جاتا تو سب تیاری کر کے آتے۔ جس پر ایم ڈی پی ٹی وی و ایڈیشنل سیکرٹری اطاعات ونشریات نے کہا کہ یہ تقریر نہیں پریس کانفرنس تھی۔ اس پریس کانفرنس کے انتظام میں پی ٹی وی کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔پی ٹی وی پریس کانفرنس کیلئے پرائیویٹ چینلز کی درخواست پر کلین فیڈ دیتے ہیں۔ وزیر کے پریس کانفرنس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے نفرت انگیز مواد کو نشرکیا گیا۔نفرت انگیز کلپس بھی نشر کئے گئے۔نیشنل ایکشن پلان میں یہ بات طے ہوگئی کہ نفرت انگیز مواد ناقابل قبول نہیں ہوگا۔ مذہبی نفرت انگیز مواد کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے، آپ لائیو فیڈ میں ڈیلے کر کے چلا سکتے تھے۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ ٹرانسمیشن معمول کے مطابق ہوتی ہے پریس کانفرنس کے انتظام میں کوئی کردار نہیں ہے۔ سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ کسی کے مذہب پر تنقید اور غیر مسلم کہہ دینا قابل برداشت نہیں، میں اس کی تائید نہیں کرتا، اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔ سرخیاں جاوید لطیف نے نہیں لگائی جنہوں نے اچھالا ہے اس سے بھی پوچھنا چاہئے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی یہی روایت رہی ہے جو کہ نہیں ہونی چاہئے، اس معاملے کی رپورٹ کمیٹی میں لازمی پیش ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ سرکاری ادارے کو یہ نہیں کرنا چاہئے۔ جس طرح ہم عمران خان کی باتیں نظر انداز کرتے ہیں آپ بھی کرلیا کریں۔جو کلپش چلے ہیں اس کی تحقیق ہونی چاہئے اور اس طرح کا عمل نہیں ہونا چاہئے تھا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی وی پر مذہبی ہم آہنگی اور اخلاقیات کو فروغ دینے کے حوالے سے عمران خان نے کافی اقدامات اٹھائے ہیں۔اگر میری حکومت میں ایسی بات ہوئی ہوتی تو میں لازمی ایکشن لیتا۔ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ اس عمل کی تائید نہیں کی جا سکتی جب مجھے علم ہوا تو اس کو دوبارہ نشر نہیں کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے معاملے کی رپورٹ مرتب کرکے کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کسی کی بھی حکومت ہو اس طرح نہیں ہونا چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے ایم ڈی پی ٹی وی سے سوال کیا کہ جو کلپ چلا ہے وہ آپ کے چینل سے کس نے چلایا ہے؟۔ اس کی بھی تحقیق کر لیں کہ پی ٹی وی پر نفرت انگیز کلپس کس نے چلائے۔ ایم ڈی پی ٹی وی نے کہا کہ جب تحقیقات ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ کس نے کلپ چلایا ہے۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس کی اندرونی انکوائری کرائیں، سات روز کے اندر معاملے کے حوالے سے رپورٹ میں پیش کریں اور لائیو فیڈ کے دوران ڈیلے میکینزم کو بھی فعال بنائیں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے عمران خان سے متعلق نفرت انگیز مواد نشر کرنے کے حوالے سے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پیمرا کو بھی پرائیوٹ چینلز پر نفرت انگیز مواد نشر کرنے کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ پیمرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صرف دو چینلز نے مواد نشر کیا اور ان کو شوکاز نوٹس جاری کئے ہیں۔چینلز کے ایڈیٹورئیل پالیسی میں مداخلت نہیں کرتے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ٹی وی چینلز کو اشتہارات کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے کمیٹی اجلاس میں سال2013 سے 2018 اور2018 سے 2022 اپریل تک کا ڈیٹا پیش کیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کی تقسیم میں علاقائی چینلز کی ویور شپ کو کیوں نہیں دیکھا جاتا۔ سرکار کو چاہئے کہ ان علاقائی چینلز کا بھی خیال کریں۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ سندھ کے چینلز کو بھی حصہ نہیں ملتا۔ پی آئی ڈی کے پریس انفارمیشن آفسیر کمیٹی کو بتایا کہ جیو کو سال2013 سے2018 تک 62 کروڑ روپے ملے اور اے آر وائی کو 8 کروڑ روپے ملے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دونوں چینلز ایک ہی کیٹیگری میں آتے ہیں لیکن ریٹس میں اور اشتہارات دینے میں کیوں اتنا فرق ہے۔ حکام پی آئی ڈی نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کیٹیگریز نہیں تھیں۔ اشتہارات کی تقسیم کے وقت سپانسرنگ ایجنسی کے نقطہ نظر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے۔اگلی لسٹ میں علاقائی چینلز کی تفصیلات مہیا کردیں گے۔ سال2008 سے2013 میں اشتہارات کی تقسیم کار کا سسٹم الگ تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ اشتہارات کی تقسیم میں تضاد بہت زیادہ ہے ایسے دوبارہ نہیں ہونا چاہئے، میکیزم کو بہتر کریں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سال2008 سے2013 تک کے اشتہارات سے متعلق محکمہ جات سے ڈیٹا لے کر کمیٹی کے اجلاس میں پیش کریں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی دور کا چینلز کو اشتہارات دینے کا ڈیٹا بھی پیش کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے حوالے سے میکیزم طے کیا جائے اور سیاسی بنیادوں پر اشتہارات کی بندر بانٹ نہیں ہونی چاہئے، ویورشپ کے مطابق اشتہارات کی تقسیم انصاف پر ہونی چاہئے۔بہت سال گزر گئے لیکن اشتہارات کی تقسیم کے میکینزم کے حوالے سے معاملات طے نہیں ہوئے، اگلی میٹنگ میں اس حوالے سے اندرونی کمیٹی کی رپورٹ کمیٹی میں پیش کریں۔

    ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے دفتر میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر رپورٹ بھی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش گی۔یہ معاملہ سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ اس معاملے پر جو کمیٹی بنائی گئی تھی اس کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے اب جو کمیٹی فیصلہ کرے گی اس کو تسلیم کیا جائے گا۔انکوائری کر کے ذمہ داروں کا تعین کر یں گے۔سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں آپ بتائیں کہ ذمہ داروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کریں اور ان کے خلاف کیا کاروائی کی اگلی میٹنگ میں بتائیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ذمہ داران کو کمیٹی میں بلا کر ان کو بھی صفائی کا موقع دینا چاہئے۔رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کو بلا کر سننا چاہئے۔دونوں معاملے پر ذمہ داران کو بلائیں اور انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب کی تقریب حلف برداری پی ٹی وی پر براہ راست نشر نہ کرنے کے معاملے پر کمیٹی میں بحث کی گئی۔ایوان صدر کے ڈپٹی پریس سیکرٹری قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے۔ڈپٹی سیکرٹری ایوان صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی پر تقریب ونڈو میں دکھائی گئی، لیکن آواز نہیں تھی۔ایوان صدر پی ٹی وی پر انحصار کرتا ہے، سگنل ٹی وی یو پر دئیے گئے اور بتایا گیا کہ ڈی ایس این جی دستیاب نہیں ہے۔ ڈائریکٹر پی ٹی وی نیوز نے کہا کہ ڈی ایس این جی کیلئے پہلے درخواست آتی ہے جو کہ تحریری طور پر نہیں آئی تھی۔ڈی ایس این جی کے ساتھ50 لوگ ہوتے ہیں ان کی کلئیرنس میں ٹائم لگتا ہے۔ٹی وی یو کی وجہ سے سگنل کم ہونے اور آواز نہ آنے سے ونڈو میں وزیراعلی پنجاب کی حلف برداری کی تقریب دکھانی پڑی اورحلف برداری کی جگہ تبدیل ہونے سے بھی رکاوٹ آئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ایسے نہیں ہونا چاہئے، مستقبل میں احتیاط کرنی چاہئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر ایوان صدر کو اس معاملے پر اعتراض نہیں تو اس معاملے کو ختم کردیتے ہیں، ورنہ ہم تہہ تک جائیں گے۔پریس سیکرٹری ایوان صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے پر صدر مملکت کو تفصیلات سے آگاہ کیا تھا اور تحریری طور پر اس معاملے کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کردیں گے۔

    سیلاب زدگان کی امداد کیلئے براہ راست ٹیلی تھون کی نشریات کو میڈیا چینلز پر رکنے کامعاملہ بھی کمیٹی میں زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ چینلز نے اس حوالے سے بہتر کام کیا ہے۔ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کو کیوں بند کیا گیا؟۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ہم نے سیلاب زدگان کیلئے لائیو ٹیلی تھون کو بالکل بند نہیں کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیلاب زدگان کیلئے پی ٹی آئی ٹیلی تھون کے ذریعے جو فنڈز اکٹھا کر رہی ہے اس میں وہ وفاق اور سندھ کو بھی دیں گے لیکن پی ٹی وی نے بھی اس پروگرام کو نہیں دکھایا۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے فلڈ ریلیف کیلئے بنائے گئے اکاونٹ کا بھی ہم نے اپنے ٹیلی تھون میں ذکر کیا، یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔اگر وزیراعظم عمران خان ہوتے تو اپوزیشن کی جانب سے اس طرح کے ٹیلی تھون کو لازمی دکھاتے۔ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی بتائے کہ سیلاب زدگان کیلئے لائیو ٹیلی تھون کیوں نہیں نشر کی جا رہی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈی والا کی جانب سے پیش کئے گئے صحافیوں کے تحفظ کے ترمیمی بل 2022 پربحث محرک بل کے ہونے کی وجہ سے موخر کردیاگیا۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان الحق صدیقی، نسیمہ احسان، انور لعل دین اور مولا بخش چانڈیو نے شرکت کی- ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات و نشریات/ایم ڈی پی ٹی وی، چیئرمین پیمرا، پی آئی او پی آئی ڈی، کے علاوہ ریڈیو پاکستان اور اور ایوان صدر کے حکام بھی شریک ہوئے-

    پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل کب تک قانون بن کر نافذ ہوجائے گا؟ قائمہ کمیٹی میں بحث

    اسلام آباد میں بھکاریوں کے خلاف 294 ایف آئی آر درج کی ہیں،یہ منظم گروہ ہے،پولیس حکام

    ایف آئی اے کوسافٹ وئیراپڈیٹ کے لیے استعمال کیا جا رہا ،اب میں یہ کام کروں گی،خاتون اینکرز کا قائمہ کمیٹی میں بڑا اعلان

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

  • این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟ سوال اٹھ گئے

    این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟ سوال اٹھ گئے

    این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے؟ سوال اٹھ گئے

    سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس ہوا

    حکام نے کمیٹی کو وزارت کے کام سے متعلق بریفنگ دی ،بیرون ملک سے آنے والی امداد پر کمیٹی اراکین نے وزارت سے سوال کیا اور کہا کہ بیرون ملک سے آنیوالی امداد کس طریقے سے آرہی ہے ؟ حکام نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد جو کیش میں ہو وہ وزیراعظم ریلیف فنڈز میں جمع ہوگی بحرین نے ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا این ڈی ایم اے نے کہا میں نہیں لے سکتا،این ڈی ایم اے کے انکار پربحرین سے ملنے والے فنڈ کو آرمی فنڈ میں ڈالنا پڑا، سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ اگر این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتا تو اس ادارے کا مقصد کیا ہے،ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ چین نے 400 ملین آر ایم بی سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کیا ،اگر کیش کوئی ملک دے گا تو وہ وزیراعظم ریلیف میں جائے گا یا آرمی فنڈز میں جائے گا،منظور کاکڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی طرف سے 1ملین ڈالر نہ لینے پر افسوس ہوا،

    سیلاب متاثرین کی مدد، یو اے ای بازی لے گیا، سب سے زیادہ امدادی پروازیں

    این ڈی ایم اے کے معاملات میں گڑ بڑ،رپورٹ کچھ، زمین حقائق کچھ، چیف جسٹس نے کیا حکم دے دیا؟

    جوائنٹ سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ ہم ان این جی اوز کو ڈیل کررہے ہیں جو انٹرنیشنل فنڈنگ لیتے ہیں ،کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ این جی اوز جن کو بیرونی فنڈنگ ملتی ہے اس کی تفصیل کمیٹی کو فراہم کریں،،جوائنٹ سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کہا کہ 16ہزار این جی اوز پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں ایک ہزار این جی اوز کو غیر ملکی فنڈنگ ملتی ہے اور وہ وزارت اقتصادی امور میں رجسٹرڈ ہیں این جی اوز کے حوالے سے نئی پالیسی بن گئی کابینہ کو بھیج دی ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد نئی پالیسی نافذ ہوجائے گی،

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کا سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کے سمن جاری کرنیکا فیصلہ

    سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی کے گھر پر ایف آئی اے کی جانب سے 13 ستمبر2022 کو مارے جانے والے چھاپے، تلاشی اور حراساں کرنے کے معاملے کے حوالے سے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا تھا جس میں سیکرٹری وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد، ڈی آئی جی اپریشنز اسلام آباد، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ایف آئی اے، ڈائریکٹر ایف آئی اے کو طلب کیا گیا تھا مگر قائمہ کمیٹی کے آج کے منعقد ہ اجلاس میں صرف ڈائریکٹرانتظامیہ اسلام آباد کے علاوہ متعلقہ محکموں کا ایک بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔چیئرمین و اراکین کمیٹی نے اداروں کے نمائندوں کے اس رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف سمن جاری کرکے آئندہ سوموار کو کمیٹی اجلاس طلب کر کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور تنبیہ کی گئی کہ اگر آئندہ اجلاس میں بھی انہوں نے شرکت نہ کی تو استحقاق کی تحریک سمیت دیگر اختیارات پر عمل کیا جائے گا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی جو ملک کے ایک نامور اور مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 26 سالوں سے سیاست میں متحرک ہیں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرناناقابل فہم ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران پارلیمنٹرین کے خلاف جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے قابل مذمت ہے۔سیکرٹری داخلہ کو آج کے کمیٹی اجلاس کے حوالے سے خط لکھا تھا۔اسپیشل سیکرٹری داخلہ سے بات بھی ہوئی تھی۔ آئی جی اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے، چیف کمشنر و دیگر کو بھی نوٹسز بجھوائے گئے اور آگاہ بھی کیاگیاتھا مگرکسی نے آنے کی زحمت نہیں کی۔پارلیمنٹرین اور عام عوام کے ساتھ اداروں کے ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لوگوں کے گھروں میں بغیر وارنٹ گھسنا خلاف قانون ہے۔ہر ایک کی چادر اورچار دیوار ی کے تقدس کو ملحوظ خاظر رکھنا چاہیے۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ یہ انتہائی اہم کمیٹی ہے۔ آج قانون اور پارلیمنٹ کے تقدس کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔سینیٹرسیف اللہ سرور خان نیازی ہماری جماعت کے اہم رکن ہیں۔ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔متعلقہ ادارے کے اہلکار خواتین کے بغیر ان کے بیڈ روم تک گھس گئے اور خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا گیا۔ پاکستان میں ایسے برے حالات کبھی نہیں دیکھے گئے جو آج کل دیکھے جا رہے ہیں۔پارلیمنٹ، آزادی اظہار رائے اور شخصی آزادی کی باتیں کرنے والے آج کہاں گم ہو گئے ہیں۔ رنگیلا شاہی کے حالات بن چکے ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ قائمہ کمیٹی ان کیمرہ اجلاس طلب کر کے معاملات کا جائزہ لے اور متعلقہ ادروں کا موقف بھی سنے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ متعلقہ اداروں نے جتنی بڑی غلطی کی ہے اب پارلیمنٹ کا سامناکرنے کی ان کی جرات نہیں رہی۔یہ زیادتی ناقابل برداشت ہے۔ ملک کے حالات جس طرف کو جا رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں۔

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کرنے کیلئے بیوی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار

    سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے جن اداروں کے نمائندوں کو طلب کیا تھا انہوں نے پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ان کو سمن جاری کیے جائیں اور کمیٹی کے سامنے پیش کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ آئی جی اسلام آباد پولیس اور آئی جی پنجاب نے 25 مئی کو جو نہتے عوام کے ساتھ سلوک کیا تھا انتہائی قابل افسوس ہے۔ سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ ایوان بالاء میں 18 سال ہوگئے ہیں۔ آج کل جو حالات دیکھے جا رہے ہیں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ قائمہ کمیٹی پارلیمنٹ کی ایکسٹینشن ہوتی ہے۔ متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے نہ صرف اس قائمہ کمیٹی بلکہ پورے ایوان کے تقدس کو مجروع کیا ہے ان کے خلا ف سخت ایکشن ہونا چاہیے۔ ہماری روایات آئین پاکستان اور قانون پاکستان کے تحفظ سمیت عام عوام کے عزت و حرفت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ بغیر سرچ وارنٹ کے کسی کی چادر اور چار دیوار ی کے تقدس کو پامال کرنے کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ اگر موجودہ سینیٹر کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ اختیار کیاگیا ہے تو عام عوام کا کیا حال ہوگا۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ ہماری جماعت کے پارلیمنٹرین کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیے تو انہوں نے قانون کے مطابق اس پر عمل کیا اور بھر پور تعاون کیا۔ مگر سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی اور ان کے گھروالوں کو جو ہراساں کیا گیا وہ ناقابل برداشت اور شرمندگی کا باعث ہے۔سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہاکہ قانون سب کیلئے یکساں ہے تمام اداروں کو قانون کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور خلاف قانون کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جانا چاہیے۔

  • پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب

    پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب

    اسلا م آباد،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صحت نے پمز اسپتال کا دورہ کیا

    کمیٹی ممبران نے شعبہ کارڈیک کی ایمرجنسی کا دورہ کیا، ہسپتال حکام نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں صرف 10 بیڈز مختص ہیں ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 10 بیڈز کیا اسلام آباد اور دیگر علاقوں سے آنے والوں کے لیے کافی ہے ؟ کمیٹی ممبران نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں موجود بیڈز کی تعداد کم ہے ،ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ کارڈیک ایمرجنسی میں 200 بیڈز کی ایمرجنسی کا منصوبہ زیر تکمیل ہے، ایمرجنسی کو بہتر انداز میں چلا رہے ہیں مگر آبادی کے اعتبار سے کم جگہ ہے اس وقت ڈینگی کے 56 مریض پمز میں زیر علاج ہیں ،ڈینگی کے لیے پمز میں 64 بیڈز مختص کیے ہوئے ہیں

    حکام کا کہنا تھا کہ پمز اسپتال میں گردے کا ٹرانسپلانٹ کرنا چاہتے ہیں ،پمز میں گردے ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے لیے جگہ کی کمی کا سامنا ہے ، پمز میں گردے کا ٹرانسپلانٹ شروع کرنے کے حوالے سے تجاویز طلب کی گئی ہیں ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز اسپتال میں 1992 کے بعد کوئی واضح ترقیاتی کام نہیں ہوا،پمز کے گریجویٹ سٹوڈنٹس نجی رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں، فوزیہ ارشد نے کہا کہ میں پولی کلینک گئی ،آپریشن تھیٹر کے برا حال تھا بچوں کے اسپتال میں اے سی کام نہیں کر رہا ،درجہ حرارت زیادہ ہے ،ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ اسپتال کا سینٹرل اے سی کام نہیں کر رہا ،بہت پرانا ہے سپلٹ یونٹ لگائے ہیں ،مگر کم ہیں پمز اسپتال کو وسائل کمی کا سامنا ہے

    پمز کی نجکاری کے خلاف احتجاج میں رحمان ملک کی شرکت، کیا بڑا اعلان

    پمز ہسپتال کی نجکاری کی کیخلاف ملازمین کا احتجاج ساتویں روز بھی جاری

    پمز ہسپتال میں زیر علاج سابق صدر آصف زرداری کی تصویر باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ،

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    ہولی فیملی ہسپتال میں مریضوں کا خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر بارے سامنے آیا تہلکہ خیز انکشاف

  • مفت یا سرکاری خرچے پرحج ،پبلک اکاونٹس کمیٹی نے نوٹس لے لیا

    مفت یا سرکاری خرچے پرحج ،پبلک اکاونٹس کمیٹی نے نوٹس لے لیا

    چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    پی اے سی نے وزارت مذہبی امور میں 4 سال سے ایک ہی جوائنٹ سیکریٹری کی تعیناتی کا نوٹس لے لیا، کمیٹی نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھ کر متعلقہ افسر کو تبدیل کرنے کی ہدایت کر دی،نور عالم خان نے افسران سے سوال کیا کہ کیا وہ آپ کا منظور نظر ہے جو اس کو ہٹایا نہیں گیا،

    پبلک اکاونٹس کمیٹی نے مفت یا سرکاری خرچے پر حج کرنے والوں کا بھی نوٹس لے لیا ،کمیٹی نے وزرااور وفاقی سیکریٹریز کے ساتھ سرکاری خرچے پر حج کیلئے جانے والوں کی فہرست طلب کر لی .وزارت مذہبی امور نے قائمہ کمیٹی میں کہا کہ سعودی حکومت کے حج اخراجات میں اضافے سے حج مہنگا ہوا، حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کر کے حاجیوں کو ریلیف دیا،چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ سود کی کوئی گنجائش نہیں ہے،

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کے مطابق ہر سال مفت حج کرنے والے اسلام آباد پولیس کے افسران کا گروہ گزشتہ روز 2 ستمبر بروز جمعہ کو پکڑا گیا تھا، جس میں ایک ڈی ایس پی آٹھ بار، جب کہ سب انسپکٹر پانچ بار مفت حج کر چکے ہیں۔ آئی جی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملوث تمام افسران اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    آئی جی پولیس اسلام آباد اکبر ناصر خان کی ہدایت پر ہرسال مفت کا حج کرنے والے پولیس افسروں کی فہرستیں مرتب کرلی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلےمیں پولیس کے بیس اہلکارون اورافسران کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی نذر محمد قریشی آٹھ بار جب کہ سب انسپکٹر پانچ بار مفت کا حج کرچکے ہیں۔ ایڈمن افسر اور دفاتر میں تعینات افسران کا قریبی اسٹاف بھی مفت حج کرنے والوں میں شامل ہے۔ مفت حج کرنے والے وزارت مذہبی امور کی ملی بھگت سے نام شامل کروا لیتے تھے۔

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • پی آئی اے بنیادی انسانی حقوق پر ہی عمل نہیں کرتا،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    پی آئی اے بنیادی انسانی حقوق پر ہی عمل نہیں کرتا،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    سینٹر ہدایت اللہ کی سرابراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ہوا بازی کا اجلاس ہوا

    پی آئی اے کی پروازوں میں تاخیر کے حوالے سے کمیٹی کوبریفنگ دی گئی،پی آئی اے حکام نے کہا کہ فلائٹ آپریشن موسم کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے، پروازیں ایک دوسرے کے ساتھ انٹر کنکٹ ہوتی ہیں، ایک پرواز بھی موسم کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو جائے توری شیڈول کرنا پڑتا ہے،ایف آئی اے ڈائریکٹر امیگریشن نے کہا کہ مسافر ریٹرن ٹکٹس کینسل ہونے سے ڈیپورٹ ہو جاتے ہیں، مسافروں کے ڈی پورٹ ہونے سے متعلق کوئی قانون سازی نہیں ہے،تمام ممالک پر مسافر پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کرتے ہیں،پی آئی اے حکام نے کہا کہ وزٹ ویزا پر جانے والوں کا ریٹرن ٹکٹ کینسل ہونا پروسجرل ہے،

    سینیٹر اعظم سواتی نے پی آئی اے کی پروازوں کی تاخیر اور غیر انسانی رویے پر اظہار برہمی کیا،اور کہا کہ 14اگست کو دبئی سے اسلام آباد پی آئی اے پرواز پی کے میں کئی گھنٹے تاخیر ہوئی پی آئی اے ہماری پہچان ہے اس میں اس طرح کی غیر انسانی رویے ناقابل برداشت ہیں،کمیٹی کے سامنے ثبوت پیش کروں گا،پی آئی اے بنیادی انسانی حقوق پر ہی عمل نہیں کرتا، دنیا بھر میں پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں ہوٹل سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں پی آئی اے اور ریلوے میں مافیاز بیٹھے ہیں ایک بار انکو سزا مل جائے تو دوبارہ جرم نہیں ہو گا، اعظم سواتی نے کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے سے اسکا جواب لیا جائے، افسران کی تعیناتی بھی چیک کروائی جائے،کمیٹی نے پی آئی اے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیکر مسترد کر دیا، سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ معاملے پر اعلیٰ سطح پر تحقیقات کر کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی جائیگی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

  • سات کروڑ کا نادہندہ نو حلقوں سے کیسے الیکشن لڑ رہا؟پبلک اکاونٹس کمیٹی برہم

    سات کروڑ کا نادہندہ نو حلقوں سے کیسے الیکشن لڑ رہا؟پبلک اکاونٹس کمیٹی برہم

    چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا.

    پی این آر اے حکام نے کہا کہ چیئرمین کانفرنس میں شرکت کے لیے 15روزہ دورے پر بیرون ملک گئے ہیں،نور عالم خان نے کہا کہ چیئرمین کی عدم شرکت میں اعتراضات کا جائزہ نہیں لے سکتے، آئندہ اجلاس میں پی این آر اے کو بلا لیا جائے،پی اے سی سیکریٹریٹ کی کال جانے پر پی ایس سے بات نہیں کرتے،ہمیں وردیوں کا رعب نہ دکھایا جائے،

    پبلک اکاونٹس کمیٹی ارکان نے سیکریٹری الیکشن کمیشن پرتنقید کی ارکان نے عمران خان کو 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دینے پر تنقید کی ،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ نیب 1800 نادہندگان کی لسٹ بنا رہا ہے تمام وزارتیں اور ادارے نادہندگان کی فہرستیں سیکریٹری الیکشن کمیشن کو بھجوائیں،نیب آپ کو فہرست بھجوائے گا آپ نے ڈرے بغیر نوٹس بھجوانا ہے،ایک بندہ جو 7 کروڑ کا نادہندہ ہے اس کو نوٹس بھیجیں کہ حکومتی خزانے میں پیسے جمع کرائیں، انتخابات 2023 میں آ رہے ہیں تمام نا دہندگان کا ریکارڈ رکھ لیں، شاہدہ اختر علی نے کہا کہ سب کا نام لے لیا مگر جس کا ہیلی کاپٹر کیس میں نام ہے اس کا نام نہیں لیا،ایک ایسا شخص نو حلقوں سے انتخاب لڑ رہا ہے جس کا اسمبلی آنے کا آرادہ ہی نہیں ہے،الیکشن کمیشن اور نیب کو نوٹس لینا چاہیے،

    نور عالم خان نے کہا کہ کچھ لوگ پاکستان کے خلاف براہ راست آواز اٹھا رہے ہیں،ہمیں ان کی طرح نہیں کرنا چاہیے،ہم اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے،ادارے کے سربراہ کے خلاف نہیں جانا چاہیے، لوگوں کو اکسانے کی مذمت کرتے ہیں،

    چیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے الیکشن کمشن کوکہ دیا کہ عمران خان کوآج ہی نوٹس جاری کریں اور پیسے جمع نہ کروانے والے/ڈیفالٹر اور افواج پر حملہ آور ہونے والے کو الیکشن لڑنےکی اجازت نہ دی جائے۔ برجیس طاہر نےکہاکہ مجھے 15 سوروپے کی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے دیا خان تو7 کروڑ کے ڈیفالٹر ہیں

    برجیس طاہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے دو سوال ہیں کہ امتیاز کیوں ہو رہا ہے؟ مسلم لیگ ن نے نو حلقوں کے انتخابات کے نتائج روکنے کی تجویز دی ،برجیس طاہرنے کہا کہ وہ جیتے یا ہارے الیکشن کے نتائج کا اعلان نہ کیا جائے،غریب آدمی جو الیکشن لڑتا ہے اس کے لیے اور قانون ہے عمران خان کے لیے اور ،نور عالم خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیےجلسوں اور جلوسوں پر نہیں، شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ڈرتے ہیں تو کرسیاں چھوڑ دیں یہ کوئی طریقہ نہیں، نور عالم خان نے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی مسلح افواج کے خلاف بات نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی ڈیوٹی ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے،

    نواب شیر وسیر اور شیخ روحیل اصغر نے انگریزی میں بات کرنے پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کو جھاڑ دیا ،نواز شیر وسیر نے کہا کہ یہاں کچھ ان پڑھ بھی بیٹھے ہیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایجنڈے پر بات کروں یا ارکان کے سوالوں کے جواب دوں،پرویز رشید نے کہا کہ پرویز رشید نادہندہ ہونے پر نااہل ہو گیا،آپ نے اس سر پھرے بندے کو نوٹس بھیجا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے نادہندگی کی کوئی اطلاع نہیں دی، کچھ خرابیاں ہیں ان کو بہتر کر رہے ہیں، ہم نے ہر طرح کی خلاف ورزی پرسٹینڈ لیا ہے، الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے،ایک فرد نو حلقوں سے الیکشن لڑ رہا ہے یہ زیادتی ہے مگر قانون خاموش ہے، نور عالم نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی نادہندگان کے خلاف کارروائی کی جائے، آئین کی خلاف ورزی اور نادہندگان کو نوٹس بھیج کر کاپی پی اے سی کو بھجوائیں، آئینی اداروں کے خلاف بات برداشت نہیں کی جائے گی،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ نیب کی فہرست سمیت دونوں معاملات کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں گے،

    افواج پرحملے کے حوالے سے چیئرمین پی اے سی نے وزارت قانون سے قانونی حوالے طلب کرلئے ،پی اے سی نے الیکشن کمیشن کوآرٹیکل 62-63 کے تحت عمران خان کے نادہندہ ہونے اورکردارکو دیکھتے ہوئے کیس آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے افواج مخالف سرگرمیوں پرنوٹس کی ہدایت کر دی،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس

    قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طاہر بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر بہرامند خان تنگی کی جانب سے پیش کی جانے والی سینیٹ کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار 2012 کے قاعدہ57 میں مجوزہ ترمیم پر بحث کی گئی۔ ترمیم میں ضمنی سوالات کی تعداد تین سے کم کر کے ایک کرنے کی تجویز دی گئی۔ سینیٹر بہرامند خان تنگی نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت چیئرمین سینیٹ ایک سے زائد ضمنی سوال کی اجازت نہیں دیں سکیں گے۔ وزارت نے ترمیم کی حمایت نہیں کی کیونکہ اس سے پارلیمنٹ میں ممبران کو آزادی اظہار رائے کے آئین کے آرٹیکل (1) 66 کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔سابق چیئر مین سینیٹ سینیٹر میاں رضاربانی اور کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی ترمیم کی مخالفت کی جس پر سینیٹر بہرامند خان تنگی نے مجوزہ ترمیم واپس لے لی۔

    سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر کے خلاف تحریک استحقاق کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ محرک نے کمیٹی کو قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف اپنے تحفظات اور شکایت سے آگاہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ اراکین پارلیمنٹ عوامی مسائل سے متعلق حکومتی عہدیداروں کو فون کرتے ہیں لیکن جب بھی انہوں نے اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کے کچھ دیگر اراکین نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کو فون کیا تو انہوں نے کبھی جواب نہیں دیا۔ قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنی جانب سے غفلت برتنے پر غیر مشروط طور پر معذرت کر لی اور کہا کہ یہ نادانستگی کی وجہ سے ہوا اور اسٹیٹ بینک پارلیمنٹرینز کی خدمات کو نظرانداز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں مالی معاملات کے حوالے سے مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے موبائل پر کی گئی کالوں کا جواب نہیں دے سکے۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے معذرت قبول کرتے ہوئے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس لے لی۔

    سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ رولز 9 میں مجوزہ ترمیم اور سینیٹ میں قواعد و ضوابط اور طریقہ کار میں فورتھ شیڈول کی شمولیت کو بھی زیر غور لایا گیا۔ سینیٹر رضا ربانی نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب فورتھ شیڈول کی شق کے مطابق اراکین سینیٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان کانجی معاملہ ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں کروانا اور ایوان بالاء کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دینا پارلیمنٹ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ کمیٹی نے معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے معاملہ کو موخر کر دیا کیونکہ وزیر مملکت برائے وزارت قانون و انصاف شہادت اعوان نے وفاقی وزیر قانون و انصاف کی جانب سے کمیٹی کو اس معاملے کے التوا کی درخواست کی۔ وزیر مملکت برائے وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی وزیر اس معاملے پر وزارت کا موقف کمیٹی اجلاس میں ذاتی طور پر دینا چاہتے تھے۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

  • ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ججز تقرری کے طریقہ کار سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آئینی ترمیمی بل 2022 میں ججز کی تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کا ڈھانچہ اور اختیارات واضح کردیے گئے۔

    آرٹیکل 175 اے میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کی تعداد 9 سے کم کرکے 7 کردی گئی ہے۔

    نئی مجوزہ آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کو 90 روز کے اندر خالی آسامی پر جج کی تعیناتی کرنا ہوگی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو عدالتی نظرثانی سے مشروط کرکے غیرمؤثر کردیا تھا۔

    جوڈیشل کمیشن میں ایک سابق جج کی نمائندگی ختم کرکے حاضر سروس جج کی تعداد بھی 4 سے کم کرکے 3 کردی گئی۔ انیسیشن کمیٹی 60 روز میں ہائیکورٹ کی خالی آسامی پر نام بھجوانے کی مجاز ہوگی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ میں اگر ایک سیٹ خالی ہے تو انسیشن کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو 2 نام بھیجے گی۔ اس انسیشن کمیٹی میں چیف جسٹس، دو سینئیر ججز، صوبائی ایڈوکیٹ جنرل اور سینئیر ممبر جو سپریم کورٹ کا وکیل ہوگا اس کو متعلقہ بار منتخب کرے گی۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں 3 سینئر ججز ہوں گے، اس کے ساتھ چیف جسٹس ہوں گے تو ججز کی تعداد 4 ہو جائے گی۔ ریٹائرڈ جج کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور جو بار کا نمائندہ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کی طاقت پارلیمان کو واپس دے دی گئی ہے۔