Baaghi TV

Tag: قاضی فائز عیسٰی

  • ناجائز اثاثہ جات ریفرنس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حرکت میں آگئے

    ناجائز اثاثہ جات ریفرنس ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حرکت میں آگئے

    لاہور: ناجائز اثاثہ جات کیس میں ملوث سپریم کورٹ کے متنازعہ جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی طرف سے صدارتی ریفرنس سے توجہ ہٹانے کےلیے پھر سے حسب عادت اداروں پر کیچڑاچھالناشروع کردیا ہے، سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے آئین کی پابندی ہمارا فرض ہے۔ قائد اعظم بھی ملک میں جمہوریت چاہتے تھے۔

    ایف اے ٹی ایف کا جن ، حقیقت کیا ہے ؟

    ذرائع کےطابق یہ گفتگو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے خلاف اعلان جنگ کرنے والی عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین کہتا ہے کہ ملک کو لوگوں کے منتخب شدہ ہوئے نمائندے چلائیں گے۔اس میں عدلیہ کی آزادی بھی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، جو لوگ آئین کے تحت حلف لیتے ہیں ان پر عوام سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ہم لوگوں کو اپنے اسلاف کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔

    ایف اے ٹی ایف کے نئے مطالبے !

    سپریم کورٹ کے سینیئر جسٹس نے کہا کہ ہمیں ماضی کو یاد رکھنا چاہیے اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، آمروں کی لامتناہی طاقت کے حصول کی خواہش نے قرارداد مقاصد کی خلاف ورزی کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین متفقہ طور پر منظور ہوا، ضیا الحق نے آئین کو معطل کرنے کے بعد 90 دن میں انتخابات کا وعدہ کیا مگر وہ ہمیشہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے رہے۔قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ضیاالحق کے بعد پھر جنرل مشرف کا مارشل لا لگا، انہوں نے بھی اپنے پیشرو کی پیروی کی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے دائر کیا ۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حق گو اور قول کے پکے نہیں ہیں۔صدر مملکت کو خط لکھ کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حد سے تجاوز کیا،سپریم کورٹ کا جج ہوتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دباؤ کا شکار نظر آئے۔

    کراچی پولیس نے ایک انوکھا شخص گرفتار کرلیا

    یاد رہےکہ ایک اور ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس اور دیگر ججز پر الزامات لگائے اور توہین آمیز زبان کا استعمال کی، انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل میں چلنے والے ریفرنسز پر پبلک فورم پر بات کی ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم جوڈیشل کونسل کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوچکے ہیں۔

    ریفرنس میں درخواست کی گئی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی جائے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے جسٹس فائز عیسیٰ نے نواز شریف والا بیانیہ بول کر سپریم کورٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہےکہ ان کے بچے اور بیوی ان کے زیرکفالت نہیں ہیں اس لیے وہ منی ٹریل دینے کے پابند نہیں ہیں

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اب آئیں گے حرکت میں ، سپریم کورٹ نے روسٹر جاری کردیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اب آئیں گے حرکت میں ، سپریم کورٹ نے روسٹر جاری کردیا

    اسلام آباد :کافی عرصے کے بعد اب پھر سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ میں‌کیسز کی سماعت کریں گے ، اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کا نئے عدالتی سال کے بعد کا روسٹر جاری، جسٹس قاضی فائز عیسی دوبارہ بینچز کا حصہ ہوں گے۔

    سپریم کورت کی طرف سے جاری کیے گئے روسٹر کےمطابق 11 ستمبر سے 13 ستمبر تک سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں 6 بینچز ہوں گے, جسٹس قاضی فائز عیسی بینچ نمبر چار کی سربراہی کریں گے۔

    سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ اس بینچ میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں. جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس کے بعد بینچز میں بیٹھنے سے معذرت کر لی تھی، سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کی تقریب 11 ستمبر کو صبح ساڑھے نو بجے ہوگی

  • سپریم جوڈیشل کونسل کاجسٹس قاضی فائز کو دو شو کاز نوٹسز، جواب طلب کرلیا

    سپریم جوڈیشل کونسل کاجسٹس قاضی فائز کو دو شو کاز نوٹسز، جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد:سپریم جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو دو شو کاز نوٹسز جاری کر دیے۔تفصیلات کے مطابق پہلا نوٹس حکومتی ریفرنس پر بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ہے جبکہ دوسرا نوٹس صدر مملکت کو لکھے گئے خطوط پر جاری کیا گیا۔

    یا درہےکہ صدرکوخطوط لکھنے سے متعلق ایک وکیل نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا تھا۔ اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کو بھی بیرون ملک جائیدادوں کے حکومتی ریفرنس پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور کے کے آغا کو شو کازنوٹس 16 جولائی کو جاری کیے گئے ہیں۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو دونوں شو کاز نوٹس موصول ہو گئے ہیں۔سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق شوکاز نوٹس پر 14 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہے۔

  • جسٹس فائز عیسی کا معاملہ, وکلاء تحریک کی حامد میر سمیت صحافیوں نے حمایت کردی

    جسٹس فائز عیسی کا معاملہ, وکلاء تحریک کی حامد میر سمیت صحافیوں نے حمایت کردی

    اسلام آباد :صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر آزاد میڈیا کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس کیخلاف سپریم کورٹ بار کی احتجاجی تحریک کا آغاز۔ پی ایف یو جے اور آر آئی یو جے کا وفد وکلا سے اظہار یکجہتی کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی ، وکیل رہنما علی احمد کرد، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، ممبر ایف ای سی ناصر زیدی،سینئر صحافی حامد میر، آر آئی یو جے کے جنرل سیکرٹری آصف بھٹی،نائب صدر نیشنل پریس کلب شاہ محمد ڈیتھو، جہانگیر منہاس، سہیل خان، عدیل وڑائچ ، اعظم گل اور دیگر احباب بھی موجود تھے۔