Baaghi TV

Tag: قرارداد

  • پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں  تاریخی قرارداد منظور

    پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل:قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد منظور

    قومی اسمبلی نے پاک چین تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر متفقہ قرارداد منظور کرلی۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران چینی وفد کی مہمانوں کی گیلری میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجاکر وفد کا استقبال کیا، اسپیکر کی جانب سے چینی وفد کو خوش آمدید کہا گیا خاتون اوّل آصفہ بھٹو زرداری کی جانب سے چینی وفد کا پر جوش استقبال کیا گیا، انہوں نے مہمانوں کی گیلری میں جاکر چینی وفد کے شرکاء سے مصافحہ کیا۔

    ایوان نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، قرارداد وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پاک چین تعلقات کے 75سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہے، ایوان چینی وفد کو خوش آمدید کہتا ہے اور سی پیک پر پاک چین کوششوں کو سراہتا ہے قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان اعلان کرتا ہے کہ دنیا اگلے 75 سال میں پاک چین دوستی کو مزید مضبوط دیکھے گی۔

    قرارداد میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، اسٹریٹجک شراکت داری اور سی پیک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،قرارداد میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاک چین تعلقات کو خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں ایوان نے ’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ سے مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    قومی اسمبلی نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا اور اس کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مکمل قانون ساز حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیاقرارداد میں چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین مسٹر کائی دافنگ اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور یکجہتی کا مظہر ہے، ایوان نے پارلیمانی سفارت کاری اور قانون سازی کے میدان میں تعاون کو پاک چین تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا-

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارکا قومی اسمبلی میں خطاب

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جبکہ دونوں ممالک علاقائی امن، عالمی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے مشترکہ وژن رکھتے ہیں، پاکستان نے امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران مثبت اور متوازن کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے۔

    اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ وہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر 31 مارچ کو ایک روزہ دورے پر بیجنگ گئے، جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی مشاور ت کے بعد 5 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا، جسے دنیا کے درجنوں ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین اقوام متحدہ، شنگھائی تعاو ن تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جس نے پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی ترقی، زراعت، آئی ٹی اور سماجی و اقتصادی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ اس کے ثمرات ہر پاکستانی شہری تک پہنچ سکیں، سی پیک کا تصور 2013 کے عام انتخابات کے بعد سامنے آیا، جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف، وہ خود اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف چین گئے اور توانائی بحران و لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے چینی قیادت سے تعاون طلب کیا۔

    انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے غیر معمولی تعاون فراہم کیا جس پر پاکستانی قوم ہمیشہ چین کی شکر گزار رہے گی،پارلیمانی سفارت کاری پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری  جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا،پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔

    اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے، اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔

    قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔

    1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔

  • بسنت کی بحالی: پنجاب اسمبلی میں مریم نواز کی قیادت کو خراج تحسین

    بسنت کی بحالی: پنجاب اسمبلی میں مریم نواز کی قیادت کو خراج تحسین

    لاہور:پنجاب اسمبلی میں بسنت کی بحالی کے حوالے سے قرارداد جمع کرا دی گئی، مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری افتخار حسین چھچھر نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔

    قرارداد کے متن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بسنت بحال کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی قرار دیا گیا ہے قرارداد میں کہا گیا کہ بسنت کے محفوظ انعقاد سے عوام کو اجتماعی خوشی ملی اور صوبے میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملا۔

    قرارداد میں مریم نواز کی قیادت کو جرات مند، متحرک اور عوام دوست قرار دیا گیا جبکہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ تعلیم، صحت، روزگار، کاروباری معاونت اور اسکل پروگرامز سمیت کسانوں کے لیے اقدامات اور جدید زرعی اصلاحات کو بھی قابل تعریف قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو سراہا گیا اور بسنت کے دوران قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے پر پنجاب پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو خراج تحسین پیش کیا گیا متن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط حکمت عملی سے امن و امان برقرار رہا۔

    قرارداد میں شہریوں کے ذمہ دارانہ رویے اور حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کو بھی قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی قوم قانون کے دائرے میں رہ کر خوشیاں منانا جانتی ہے کامیاب اور پرامن بسنت کے انعقاد سے پاکستان کا مثبت تشخص عالمی سطح پر اجاگر ہوا اور لاہور نے اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ عالمی منظرنامے پر دوبارہ جگہ بنائی۔

    ایوان نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

  • دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد  سندھ اسمبلی سے منظور

    دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

    دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کردی گئی جسے ایوان نے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کا حصوصی اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت شروع ہوا، اسپیکر سندھ اسمبلی نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کردیا، قاسم سومرو، عبد الوسیم، ندا کھڑو سمیت چار ایم پی ایز کا اعلان کیا گیا۔وزیر پارلیمانی امور ضیاء النجار نے اسپیکر سے آج کا بزنس مؤخر کرنے کی درخواست کی، سندھ اسمبلی کے بزنس کے موخر کردیا گیا۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر 6 کنالز کے خلاف قرارداد پیش کی، پیپلز پارٹی کے رہنما جام خان شورو نے کہا کہ یہ اہم اور تفصیلی قرارداد لیڈر آف دی ہائوس نے پیش کی، پانی کے معاملے پر، سندھ کے لوگ حساس ہیں، پیپلز پارٹی نے پانی کی تقسیم پر ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگوں نے کالا باغ ڈیم کو مسترد کیا، کموں شھید پر محترمہ بینظیر نے دھرنہ دیا تھا, قائم علی شاہ اور نثار کھڑو نے تھل کنال کے خلاف دو قراردادیں پیش کیں, ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کیا کیا، کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ کے لیے پیپلز پارٹی نے دفن کیا۔جام شورو نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم پاس کر کہ خودمختاری دی، آصف علی زردارینے کنالز کی منظوری نہیں دی، دو ہزار تیرہ میں پی پی پی کے خلاف اتحاد بنا۔ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے نے بغض پیپلز پارٹی میں اتحاد بنایا، جلال پور کنال کی ارسا نے این او سی دی اس کی مخالفت پیپلز پارٹی نے کی، سندھ کے لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ کس نے منظوری دی اور کس نے مخالفت کی، ہم کہتے ہیں پاکستان میں پانی کی قلت ہے، ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، یہ ارسا کا رکارڈ ہے، آج سے بیس سال قبل کہا جا رہا تھا ہم ارسا کی کچھ شقوں کو نہیں مانتے۔

    جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی نے پوزیشن وااضح کرنے پر وقت لیا، بار بار پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے، گرین پاکستان انیشیٹو کی صدر زرداری نے تعریف بھی کی توثیق کی، چولستان کنال بھی گرین پاکستان انیشیٹو کا حصہ ہے، وزیر اعلی بتائیں سی سی آئی کو جو آپ نے خط لکھا اس کا جواب کیا آیا ؟وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 6 کینال بن رہے ہیں، ہماری قرارداد یہ ہے کہ ہم چھہ کینالوں کو مسترد کرتے ہیں ، گریٹر تھل کینال ٹو کی تحریک انصاف کے دور میں منظوری ہوئی، اس کے خلاف ہم سی سی آئی میں گئے، جب تک سی سی آئی کی میٹنگ نہیں ہوتی یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا ، ہم نے اسے آئینی طور پر غلط کہا ہے، ہم نے سی سی آئی میں اس کو چیلنج کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ان کینالز پر کام نہیں چل رہا ہے، اگر کوئی چھپ کر کرتا ہے تو کام کیسے ہوگا، کچھی کینال 2003 میں منظور ہوا تھا، یہ سیلاب میں شدید متاثر ہوا تھا، چشمہ رائیٹ کینال کے پی بھی پہلے سے منظور شدہ ہے، ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے،سب سے زیادہ شور چولستان کینال ہے یہ کینال بننے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خود وفاقی حکومت کے ادارے پلاننگ کمیشن کی رپورٹ ہے، اس کینال پر انگریزوں کے زمانے سے پروجیکٹ بنتے رہے، اس زمانے سے یہ منصوبہ مسترد ہوتا رہا ہے، پنجاب حکومت نے پی سی ٹو بنایا ہے، یہ 2018 ارب کا منصوبہ ہے یہ غیر منظور ہے، کینال پر کوئی کام ہوتے نظر نہیں آ رہا

    مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف افواہوں پر ہم کو گالم گلوچ سے نوازا، اس اشو کا سب سے رکھوالا پیپلز پارٹی ہے، یہ معاملہ سی سی آئی میں ہے کچھ نہیں کر سکتے، اگر سی سی آئی بھی منظور کرے گی تو ہم جوائنٹ پارلیمنٹ میں جائیں گے، پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری بیٹھے ہیں، اچانک یہ فیصلہ کیا گیا تو میں نے پلاننگ وزیر کو خط لکھا، جب تک منظوری نہیں ہوگی کام کیسے ہوگا چولستان کینال کے بول رہے ہیں سیلاب کا پانی لیں گے۔انہوں نے کہا کہ 4622 کیوسک پانی لینے کی بات کی گئی، کوئی پلاننگ نہیں فزیبلٹی نہیں ہے کینال کہاں سے بنیں گے
    میں حیران ہوں کہ پنجاب پر اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جارہی۔

    کراچی کیلئے بجلی 4روپے 85پیسے مزید کمی کا امکان

    4 ارب روپے سےزائدسیلز ٹیکس فراڈمیں ملوث ملزم گرفتار

    اسلحہ لائسنس کی تصدیق کے حوالے سے اہم فیصلہ آ گیا

    سعودی عرب میں عیدالفطر کے موقع پر 6 چھٹیاں

  • کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کی  مذمت کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کی مذمت کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    لاہور: کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے اور جانوں کے ضیاع کی بھرپور مذمت کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : قرارداد آئی پی پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری اور پی پی 149 سے ایم پی اے شعیب صدیقی نے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی جس میں غیر ملکی ایجنسیوں کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی، شعیب صدیقی کی قرارداد میں 27 ہلاکتوں پر اظہار افسوس اور 50 سے زائد زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی ہے۔

    قرارداد کے متن کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ملک کی تمام صوبائی اکائیوں کو یک جان سمجھتا ہے اور یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،یقین ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر ملک میں امن و امان قائم کریں گے۔

    شعیب صدیقی نے قرارداد میں کہا کہ صدر استحکامِ پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کی قیادت میں ملکی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں، ظلم کی رات جلد ہی امن کے اجالوں میں ڈھل جائے گی۔ شہداء کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے، قرارداد کا مقصد ایوان میں دہشت گردی کے خلاف موقف کو اجاگر اور قومی اتحاد کا اظہار کرنا ہے۔

  • سندھ اسمبلی،آئینی بینچ کے قیام کے لئے قرارداد منظور

    سندھ اسمبلی،آئینی بینچ کے قیام کے لئے قرارداد منظور

    سندھ اسمبلی ا جلاس، آئینی بینچ کے قیام کے لیے قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی

    26 ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبہ سندھ میں آئینی بنچ کے قیام کے لئے قرارداد کثرت رائے سےمنظور کی گئی،127 اراکین نے قرارداد پیش کرنے کی حمایت کی ،جماعت اسمبلی کے رکن نے قرارداد پیش کرنے کی مخالفت کی،ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر رائے شماری میں حصہ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان بننے کا انتظار کررہے تھے،صحیح وقت پر ہم قرار داد لے کر آئے ہیں ، اب جوڈیشل کمیشن بنی ہے اس کے بعد ہم نے قرار داد پیش کی ،26ویں آئینی ترمیم سےتمام صوبے مستفید ہوں گے ،بلاول بھٹو نے تمام سیاسی جماعتوں کو مطمئن کیا ،پی ٹی آئی نے بھی جوڈیشل کمیشن میں اپنے دو ممبران دئیے ہیں ، ہمیں ججز کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا ہے ،

    بشریٰ بی بی کی ضمانت ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    بشریٰ بی بی پیش نہ ہوئی،نیب پراسیکیوٹر کا وارنٹ جاری کرنے کی استدعا

    مؤکلوں کا رخ زمان پارک کی طرف،بشریٰ بی بی بھی پہنچ گئیں

  • خواتین،صحافیوں بارے نازیبا الفاظ،گنڈا پور کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد

    خواتین،صحافیوں بارے نازیبا الفاظ،گنڈا پور کیخلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین اور صحافیوں سے متعلق نازیبا الفاظ کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کر دی گئی

    قرارداد پی پی رکن سعدیہ جاوید نے پیش کی ،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ ادارے وزیراعلی کے پی کے بیان کا نوٹس لیں ،وزیراعلی کے پی کے خلاف کارروائی کی جائے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا خواتین اور صحافیوں بارے نازیبا الفاظ پر معافی مانگیں، ان پر مقدمہ درج کیا جائے، خواتین اور صحافیوں بارے نازیبا الفاظ کا استعمال کسی صورت درست نہیں ہے.دوسری جانب چیئرمین پریس کونسل آف پاکستان ارشد خان جدون نے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے صحافیوں سے متعلق نازیبا الفاظ کے استعمال پر سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے 15 روز میں معافی مانگنے اور آئندہ صحافیوں کے خلاف نازبیا الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت کر دی

    خیبر یونین آف جرنلسٹس نے وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کی طرف سے صحافتی برادری اور بالخصوص خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا اور گھٹیا زبان کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر ناصرحسین،سینئر نائب صدر عمران ایاز،نائب صدر بصیر قلندر، جنرل سیکرٹری عمران یوسفزئی اور دیگر عہدیداروں نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے صحافتی برادری کے خلاف نازیبا اور شرمناک زبان کو ان کی تربیت کا حصہ قرار دیتے ہوئے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہرکے موقف پر تعجب کا اظہار کیا کہ انہوں نے وزیراعلی کے صحا فیوں سے متعلق تضحیک الفاظ نہیں سنے۔ یونین نے بیرسٹر گوہر کی معذرت کو مسترد کردیا۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم عمران خان بھی میڈیا پر متعدد بار بلا جواز الزامات اور تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب جیل میں وہ اسی میڈیا کی تعریف اور میڈیا کے نمائندوں کی رسائی کی دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں ۔خیبریونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے پوری صحافتی برادری اور بالخصوص خواتین کے بارے میں گھٹیا زبان کے استعمال سے ثابت ہو گیا ہے کہ سیاسی ناکامیوں کا ملبہ میڈیا پر گرانا تحریک انصاف کی تربیت کا حصہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اپنی حکومتی اور سیاسی نااہلیت کوچھپانے کے لئے صحافیوں پر برس رہے ہیں ۔خیبریونین آف جرنلسٹس نے بانی تحریک انصاف عمران خان سے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ کی باتوں کا نوٹس لیں۔خیبریونین آف جرنلسٹس کے صدر اور دیگر عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ملک بھر کی صحافی برادری پر الزام تراشی بالخصوص خواتین کے بارے میں نازیبا بیان بازی کو تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔ وزیر اعلی نے اپنے طرز عمل کی معافی نہ مانگی تو صحافی برادری بھرپور ردعمل دے گی۔

    علاوہ ازیں عورت فاؤنڈیشن نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا ہے،عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہےکہ علی امین گنڈا پور کی جانب سے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، وزیراعلیٰ کے پی کی زبان دھمکی آمیز تھی، انہوں نے اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا،علی امین گنڈاپور نے سائبرکرائمز ایکٹ کی خلاف ورزی کی، وزیراعلیٰ کے پی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    قومی اسمبلی اجلاس، پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قرارداد پیش کر دی گئی

    قومی اسمبلی میں قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے پیش کی،سحر کامران کا کہنا ہے تھا کہ ارشد ندیم کو اولمپکس میں کامیابی اور سونے کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ” ارشد ندیم نے 92.97 میٹر جیولین تھرو پھینک کر پیرس اولمپکس 2024ء میں ریکارڈ قائم کردیا ہے، ایوان ارشد ندیم کی مسلسل محنت اور کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ارشد ندیم کی بھرپور عزت افزائی کرے، حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات اُٹھائے تاکہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو”.

    ارشد ندیم نے حکومت ،اپوزیشن کو ایک پیج پر لا کھڑا کیا، متفقہ قرارداد منظور
    قومی اسمبلی میں ارشد ندیم کو خراج تحسین پیش کرنےکی قرار داد متفقہ طورپر منظور کی گئی ہے،قومی اسمبلی میں قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، پاکستان کا نام روشن کرنے والے ارشد ندیم کے لئے حکومت و اپوزیشن ایک پیج پر آ گئے، وزیر قانون نے قرارداد پیش کی تو اپوزیشن نے بھی حمایت کی،قرارداد میں قومی ہیرو کو اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازنے کی بھی سفارش کی گئی ہے،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بلاول زرداری،مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف، عمر ایوب سمیت دیگر نے ارشد ندیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    جب بھی پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوتی ہے، معیشت بہتر ہونے لگتی ہے اور سماجی سکون پیدا ہونے لگتا ہے، پاکستان دشمن قوتیں پریشان ہوجاتی ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرنے لگ جاتی ہیں، پروپیگنڈہ کیا جاتا ہےا ور سازشیں کی جاتی ہیں، صیہونی اور سرمایہ دار قوتیں اپنے پیادوں کو پاکستان میں ترقی نہیں دیکھا چاہتی، پاکستان کی معاشی بہتری انکو پسند نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایک جان بوجھ کر مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ہمدردی کے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے انہیں متاثرہ فریق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کا ایجنڈا بعض اختلافی سیاسی حلقوں کے سیاسی فائدے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا ہے، جو پاکستان میں صیہونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور صرف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ واقعات کی ایک عجیب و غریب پیشرفت میں، صرف دو دھڑے سیکورٹی آپریشن عزم استحکام کے آغاز کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، ایک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دوسرا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)۔

    امریکی قرارداد کا اصل مقصد عمران خان کے لئے مراعات لینا
    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 درحقیقت پاکستان کے اندرونی مسائل پر عالمی سطح پر سیاست کرکے اور اس بار آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی آڑ میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔ جب کہ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ملک کی معاشی واپسی مسلح افواج اور عوام کی حمایت سے اس طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت قرارداد 901 کو پیش کرنا، پاکستان کی ترقی کو خطرے میں ڈالنے کی سیاسی کوشش دکھائی دیتی ہے نہ کہ اس کے عوام کی مدد کے لیے ایک حقیقی اقدام۔ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے مبینہ طور پر حمایت کا اظہار، قرارداد 901 درحقیقت گمراہ کن ہے۔ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان پائیدار تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے غیر متزلزل جذبے کے ساتھ، پاکستان عالمی معیشت میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ معاشی استحکام اور ترقی کا راستہ اگرچہ مشکل ہے لیکن پاکستان کا عزم اور سٹریٹجک وژن ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد،الیکشن کمیشن ڈٹ گیا،ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن کی سینیٹ کی قرارداد پر انتخابات ملتوی کرنے سے معذرت

    الیکشن کمیشن حکام نےسینٹ سیکرٹیریٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ قرارداد کا اجلاس میں جائزہ لیا،الیکشن کمیشن نے صدر مملکت سے مشاورت کے بعد پولنگ کیلئے آٹھ فروری 2024 کی تاریخ مقرر کی۔امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن نے نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ماضی میں بھی عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات موسم سرما میں ہوتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آٹھ فروری کو انتخابات کے لیے سپریم کورٹ میں بھی یقین دہانی کروا چکا ہے۔اس مرحلے پر الیکشن کمیشن کے لیے عام انتخابات کو ملتوی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

    الیکشن ملتوی قرارداد پر عملدرآمد کے لئے چیئرمین سینیٹ کو خط
    دوسری جانب سینیٹ میں الیکشن کے التوا کی قرارداد پیش کرنے والے آزاد سینیٹر دلاور خان نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا کہ سینیٹ نے 5 جنوری کو الیکشن ملتوی کرانے کی قرارداد پاس کی تھی، یہ باعث تشویش ہے کہ الیکشن کمیشن نے تاحال 8 فروری کے انتخابات ملتوی کرانے کے کوئی اقدامات نہیں کیے، قرارداد میں نشاندہی کیے گئے تحفطات پر توجہ دینی چاہیے تھی، بطور ایوان کے کسٹوڈین مداخلت کر کے میری قرارداد پر عمل درآمد کی موجودہ صورت حال معلوم کی جائے، یقینی بنایا جائے کہ 8 فروری کے انتخابات ملتوی کیے جائیں

    واضح رہے کہ سینیٹ اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جو منظور بھی کر لی گئی تھی، سینیٹ میں الیکشن ملتوی کروانے کی قراداد کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    نتخابات کے التواء کی قرارداد کیخلاف نئی قرارداد سینیٹ میں پیش

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    مسلم لیگ ن نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق دیور احمد رضا مانیکا کو بھی ٹکٹ جاری کر دیا