قصور
ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گُل نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام کا آغاز کر دیا
عوام الناس کیلئے تمام تر سہولیات کی بلا تعطیل فراہمی کو یقینی بنانا میری اولین ترجیح ہے‘آسیہ گُل
تفصیلات کے مطابق قصور میں نئی تعینات ہونیوالی ڈپٹی کمشنر آسیہ گُل نے گزشتہ روز اپنے
عہدے کا چارج سنبھال کر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تعیناتی کے پہلے روز تمام سرکاری محکموں کے ضلعی افسران نے انکے آفس میں ملاقات کی اور اپنے اپنے محکموں کے بارے میں تفصیلاً بریفگ دی
ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل نے اس موقع پر تمام افسران کو ہدایت کی کہ عوام الناس کو تمام شعبہ زندگی میں ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ شہریوں کیلئے بنیادی سہولیات کی بلا تعطیل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی سستی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام افسران اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپٹ
Tag: قصوریات
-

چارج لے کر کام کا آغاز کر دیا
-

بغیر پرمیشن ڈی سیل کرنے پر کاروائی
قصور
چونیاں میں ڈپٹی سیکرٹری ڈرگ کنٹرول خرم نیازی اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ کنٹرول شاہد عنایت ملک کی ھدایت پر بغیر لائسنس میڈیکل اسٹورز کے خلاف کریک ڈاؤن تحصیل ڈرگ انسپکٹر لیئق الرحمن کا سیل شدہ فارمیسی کو مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر فارمیسی کو ڈی سیل کرنے پر ایکشن مالک فارمیسی عبدالستار اور سیلز مین غفار کے خلاف تھانہ سٹی چونیاں میں مقدمہ درج پولیس ملزمان کو تلاش کرنے میں مصروف اہل علاقہ کا ڈرگ انسپکٹر کو بااثر فارمیسی مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروانے پر خراج تحسین
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل تحصیل ڈرگ انسپکٹر لیئق الرحمن نے چونیان کے نواح میانوالہ گھاٹ پر عاطف فارمیسی کو بغیر لائسنس سیل کر دیا تھا ادویات کے نمونے لیکر کوالٹی جانچنے کے لیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری لاہور بھجوا دیے اور فارمیسی مالک کے خلاف غیر قانونی طور پر ادویات کا کاروبار کرنے پر ضابطے کی کارروائی چالان کرکے ڈرگ کورٹ بھجوا دیا گزشتہ روز فارمیسی مالک نے مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر فارمیسی کو ڈی سیل کرکے اپنا کاروبار شروع کردیا اطلاع ملنے پر ڈرگ انسپکٹر نے فارمیسی کا معائنہ کیا تو مذکورہ فارمیسی مالکان بڑے دیدہ دلیری سے اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے تھے ڈرگ انسپکٹر نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے بااثر فارمیسی مالک عبدالستار اور اس کے سیلز مین غفار کے خلاف اندراج مقدمہ کی تحریری درخواست تھانہ سٹی چونیاں میں دے دی اور محکمہ صحت کے احکام بالا اور ڈی پی او قصور کو اطلاع کر دی ہے پولیس تھانہ سٹی چونیاں نے ڈرگ انسپکٹر کی تحریری درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا مزید تفتیش جاری ہے -

سڑک پر گرد و غبار سے حادثات
قصور
انتہائی ایم سڑک پر گرد و غبار سے حادثات میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق قصور تا تھہ شیخم سڑک پر مٹی سے بھری ٹرالیوں سے مٹی گرنے سے اٹھنے والی گرد پاؤڈر بن چکی ہے جوکہ گاڑیوں کے گزرنے سے اڑ کر ڈرائیور حضرات اور موٹرسائیکل والوں کی آنکھوں میں پڑ جاتی ہے اور اس کو سڑک پر کچھ نظر نہیں آتا اور اس طرح آئے روز حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اموات بھی ہو رہی ہیں قصور پٹرولنگ پولیس چوکی کھارہ ہارون الرشید کا انچارج سو رہا ہے اور ٹریکٹر ٹرالی والوں نے یا تو چوکی کھارہ ہارون الرشید کے انچارج کو نوٹوں کی چمک دکھا دی ہے اس لئے ٹریکٹر ٹرالی والوں کو بغیر ترپال کے سڑکوں پر چلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس سے اہل علاقہ پریشان ہیں
اہل علاقہ نےڈی ایس پی پٹرولنگ پولیس اور ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس چوکی انچارج کھارہ ہارون الرشید کے انچارج کو فوری تبدیل کر کہ اس کی جگہ کسی ایماندار پولیس آفیسر کو لگایا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے اور مٹی کی وجہ سےسڑکوں پر مرنے والوں میں کمی آسکے -

میونسیپل قصور کی نااہلی سے کتوں کا راج
قصور
محکمہ صحت کی بجائے ٹی ایم اے کو آوارہ کتے مارنے کا اختیار دینے سے کتوں کی بہتات،کتے روزانہ شہریوں کو کاٹنے لگے،ہسپتال میں ویکسین نایاب
تفصیلات کے مطابق چند سال قبل تک آوارہ کتے محکمہ صحت کی ٹیمیں مارا کرتی تھیں مگر اب محکمہ صحت کی بجائے ٹی ایم اے کو آوارہ کتے مارنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے
جو ٹی ایم اے بند گٹر نہیں کھول سکتا وہ آوارہ کتے کیا خاک مارے گا
قصور میونسیپل کارپوریشن کی نا اہلی سے شہر و گردونواح میں جگہ جگہ آوارہ و باؤلے کتوں کا راج ہو گیا ہے اور روزانہ کتے لوگوں کو کاٹ رہے ہیں
مجبور ہو کر لوگ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جاتے ہیں تو ان کو ویکسین نا ہونے کا عندیہ سنا دیا جاتا ہے ہسپتال ملازمین کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس روزانہ 20 بندوں کو لگانے کی ویکسین ہوتی ہے جو کہ ناکافی ہے جس پر لوگ مجبوری کے باعث ذاتی طور پر ویکسین میڈیکل سٹور سے خرید کر لگواتے ہیں
شہریوں نے میونسیپل قصور کی نااہلی کے خلاف ڈی سی قصور سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

قصور پولیس کا نجی ٹارچر سیل دہشت کی علامت
قصور، بے دستور ڈاکوؤں بےلگام پولیس ناکام وارداتیں عروج پر شہری پریشان۔منڈی عثمان والا پولیس ملزمان کو پکڑنے کی بجائے سادہ لوح شہریوں پر چڑھ دوڑی,قصور منڈی عثمان والا پولیس نے پرائیویٹ ٹارچر سیل قائم کیا ہوا ہے جہاں بے گناہ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ذرائع کے مطابق ریاست ٹڈھی نامی اے ایس آئی، ریاض اور دو کس اہلکاروں نے گزشتہ روز نواحی گاؤں پیال خورد سے تقریبا رات نو بجے ایک چائے اور سنوکر والی دوکان سے دو نوجوان گرفتار کیے جن میں ایک ہدایت نامی جبکہ دوسرے کا نام شہباز بتایا جاتا ہے ہدایت کو مزاحمت کرنے پر وہاں چھوڑ دیا گیا جبکہ شہباز کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی
تھانے میں نا اس کو کسی سے ملنے دیا گیا نہ ہی بتایا گیا کہ کیوں اسے وہاں لایا گیا جبکہ ایس ایچ او رائے سعدی یہی کہتا رہا کہ میرے نوٹس میں نہیں ہے ذرائع کے مطابق شہباز کو کسی پرائیویٹ مکان میں رکھا گیا اور رات بھر سردی میں تشدد کیا گیا دو روز بعد جب گھر والوں سے بات نا ہوئی تو بات فساد بنتی نظر آئی تو موصوف نے مقامی صحافیوں اور سیاستدانوں کے اسرار پر لڑکے کو چھوڑ دیا متاثرہ شہباز کے انکشافات کیے کہ مجھے تشدد کرتے ہوئے ریاست اے ایس آئی ریاض اور دو کس اہلکار کہتے تھے کہ مہالم خورد اور گوہڑ جاگیر والی دونوں ڈکیتی کی وارداتوں کا اعتراف کرلے ورنہ انجام برا ہوگا جبکہ شہباز کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ نا ہے اور شریف شہری ہے ڈی پی او قصور نوٹس لیکر انصاف مہیا کریں
-

بدکردار عورتوں کے ذریعے مکروہ دھندہ جاری
قصور الہ آباد میں بد کردار خواتین کے ساتھ مل کر زنا بالجبر کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والا گروہ متحرک ہو گیا،نوجوان لڑکیوں کے ذریعے موبائل فون پر مختلف لوگوں سے رابطہ کروا کر جھوٹا وقوعہ بنایا جاتا ہے اور مقدمات درج کروانے کے بعد بلیک میل کیا جاتا ہے
تفصیلات کے مطابق الہ آباد سمیت ضلع قصور کے مختلف تھانوں میں زنا بالجبر کے جھوٹے مقدمات کا اندراج معمول بن چکا ہے ضلع بھر میں ایسے کئی گروہ متحرک ہیں جنہوں نے کئی کئی بد کردار نوجوان لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں اور ان کے ذریعے موبائل فون پر مختلف لوگوں سے رابط کروا کر پھنسایا جاتاہے اور بعد میں جھوٹا وقوعہ بنا کر مقدمات درج کروائے جاتے ہیں اور لوگوں کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی جاتی ہیں کئی خاندان ان گروہوں سے لٹ چکے ہیں
مقامی شہریوں نے ڈی آئی جی شیچوپورہ رینج اور ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گروہوں کا محاسبہ کیا جائے اور موبائل فون پر لوگوں کو پھنسا کر رضامندی سے زنا کروانے والی بد کردار خواتین اور ان کے ساتھیوں کو بھی ملزمان ساتھ جیل بھیجا جائے
-

تھانیدار کی سرعام رشوت خوری اور سینہ زوری
قصور ، تھانہ صدر کا ارشاد اے ایس آئی جو کہ اب تھانہ مصطفی آباد میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے دیدہ دلیری سے رشوت خوری کرنے لگا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے شہریوں سے سرعام رشوت لینے کی دھمکیاں رشوت نہ دینے پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں، اہل علاقہ کاآئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور عمران کشور سے سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت آئے روز پولیس اصلاحات کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے پولیس آفسران واہلکاران کا عوام کے رویہ مثبت بنانے اور رشوت خوری ختم کرنے پر کام کررہی ہے تاکہ اس محکمے سے رشوت خوری کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن بنایاجاسکے اور پولیس کا عوام کا ساتھ رویہ بہتربنانے عوام کا اعتماد بحال کیاجاسکے لیکن حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود محکمہ پنجاب پولیس میں موجود کالی بھیڑیں حکومتی اقدامات کے راہ میں رکاوٹیں حائل کررہے ہیں،
قصور میں واقع تھانہ صدر سے تبدیل ہوکے تھانہ مصطفی آباد للیانی میں تعینات ارشاد نامی اے ایس آئی نے اہل علاقہ کا جینا حرام کررکھا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز مختلف وارداتوں میں ملوث ملزمان سے رشوت لے کر بغیر کسی ایف آئی آر کے ملزمان کو باعزت طریقہ سے اسپورٹ کی جاتی ہے اور اُن سے منہ مانگی رشوت طلب کرتاہے جب تک اے ایس آئی کی جیب گرم نہیں ہوتی اُس وقت تک شہری کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر وہ شہری رشوت کے پیسے دینے سے انکار کردے تو اُس کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے جبکہ ہم مزدور طبقہ لوگ ہیں اور بڑی مشکل سے محنت مزدوری کرکے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، اوپر سے ارشاد اے ایس آئی جان بوجھ کر ہماری دن بھر کی کمائی ہڑپ کرلیتاہے،اگر منت سماجت کریں تو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے ہمیں حوالات میں بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہے،
اہل علاقہ کا آئی جی پنجاب، ڈی پی او قصور سے نوٹس لے کر ارشاد اے ایس آئی کے خلاف ناجائزاختیارات استعمال کرنے پر اور رشوت خوری لینے پر محکمہ کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے
-

قصور میں زیادتیوں کا سلسلہ جاری،آج ایک اور جنسی زیادتی
قصور
انتظامیہ کی غفلت یا معاشرے کی بے حسی ،ایک اور حوا کی بیٹی سے جنسی زیادتیتفصیلات کے مطابق قصور میں جنسی جرائم کا سلسلہ نا رکا لوگ پریشان ہیں کہ یہ انتظامیہ کی غفلت ہے یا معاشرے کی بے حسی قصور میں ایک اور حوا کی بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے واقعہ گاؤں بھگوان پورہ میں کھڈیاں میں پیش آیا جہاں اے ایس آئی نے شادی شدہ خاتون سے جبراً جنسی زیادتی کی
شاہین بی بی اہل خانہ کے ساتھ رات کو گھر میں سوئی ھوئی تھی کہ اے ایس آئی رشید احمد نے گھر میں گھس کر اسے زیادتی کا نشانہ بنا دیا
جس پر اہل خانہ کی طرف سے ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے
معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او قصور عمران کشور کے حکم پر اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے
واضع رہے کہ ملزم رشید احمد اے ایس آئی تھانہ کھڈیاں میں ہی تعینات تھا اور اب درخواست بھی تھانہ کھڈیاں خاص میں ہی دی گئی ہے -

اہم سیاسی شحضیت کی وفات پر لوگوں کا اظہار غم
قصور
اہم سیاسی و سماجی راہنما کی وفات،لوگوں کا اظہار تعزیت
تفصیلات کے مطابق پی پی 160قصور کے سینئر رہنما رانا اعجاز احمد خاں کے بڑے بھائی اور بھٹی آرگنائزیشن ڈسٹرکٹ قصور کے صدر رانا عدنان بوبی خاں کے ماموں
رانا پرویز احمد خاں اچانک ہارٹ اٹیک ہونے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے
لوگوں نے بتایا کہ رانا پرویز احمد خاں مرحوم لوگوں سے ہمیشہ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے غریبوں کا ہمیشہ احساس کرتے اور اور ان کی مدد کرتے رانا پرویز احمد خاں کی وفات پر راجہ جنگ پریس کلب ،انجمن تاجران راجہ جنگ ،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور ۔ڈسٹرکٹ پریس کلب لاہور ،این اے 122 ،پی پی 160، پی پی 182، پی پی 183 کی تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی -

ضمانت کینسل ہونے پر ملزمہ کمرہ عدالت سے فرار
قصور
پانچ ماہ قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے بچہ اغواء کرنے والی خاتون ضمانت کینسل ہونے پر کل کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو ملزمہ شاہدہ بی بی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے عبدالرحمن کا ایک دن کا نومود بچہ اغواء کیا تھا جس پر اس نے گرفتار ہونے سے ابتک پانچویں مرتبہ عبوری ضمانت کروا رکھی تھی جس کی
کل جج عمران شیخ صاحب کی عدالت میں پیشی تھی جج نے کل اس کی ضمانت کینسل کرکے جیل بیجھنے کے احکامات جاری کئے مگر مکار عورت کمال ہوشیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ گئی
کل شام نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بچے کے والدین نے کہا کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا قصور پولیس جلد سے جلد ملزمہ کو گرفتار کرے نیز ڈی ایس پی انویسٹیگیشن و ایس پی انویسٹیگیشن قصور نے بھی شاہدہ بی بی کو مجرم ٹھہرایا ہے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل میاں محمد اسلم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ کیس پولیس کی طرف سے خراب کیا گیا ہے اس ملزمہ پر 364 اے اور 780 اے لگنی تھی جو کہ نان بیل ایبل ہے تاہم پولیس نے کیس خراب کرنے کیلئے ملزمہ پر دفعہ 363 لگائی ہے جس کی باعث عدالت اسے عبوری ضمانت دیتی رہی ہے نیز ان کا کہنا ہے کہ یہ عورت ضلعی جھنگ کی رہائشی ہے مگر اس وقت گاؤں دفتوہ قصور میں رہائش پذیر ہے اس پر پہلے بھی 7 نومبر 2019 کو ایسا ہی ایک بچہ اغواء کرنے کا مقدمہ ہے
بچے کے والدین و اہل علاقہ نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہدہ بی بی کو جلد سے گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے