قصور
بلیک مارکیٹنگ اور منافع خور وبائی مرض سے بھی نا ڈرے سپرٹ کلوروکین اور ماسک نایاب مرضی کی قیمتوں پر فروخت جاری
تفصیلات کے مطابق قصور میں منافع خوروں اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی پریشانی سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا 100 ایم ایل سپرٹ کی شیشی کی قیمت جو کہ چند دن قبل 20 روپیہ کی تھی وہ اب 30 سے 40 روپیہ میں مل رہی ہے اسی طرح کلوروکین نامی دوا اور سرجیکل ماسک تو بلکل ہی نایاب ہو کر رہ گئے ہیں ضلع بھر کے کسی بھی سٹور پر کلوروکین گولی اور سرجیکل ماسک بلکل بھی دستیاب نہیں لوگ مجبور ہوکر سرجیکل ماسک کے متبادل کپڑے کا ماسک استعمال کر رہے ہیں جو کہ 50 روپیہ میں فروخت ہو رہو ہے
گورنمنٹ نوٹس لیتے ہوئے منافع خوروں کے خلاف کاروائی کرے اور ضرورت کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنائے
Tag: قصوریات
-

منافع خور رب کے عذاب سے بے خوف
-

جیل کا دورہ کوئی کیس مثبت نہیں
قصور ڈپٹی کمیشنر قصور حنا ارشد کا ڈسڑکٹ جیل کا دورہ
تفصیلات کے مطابق ڈی سی قصور حنا ارشد نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں حفاظتی اقدامات چیک کیے اور
دوران وزٹ سپرٹنڈنٹ جیل غلام سرور سمرا ،ملک سرفراز ،حق نواز بھی ان کے ہمراہ تھے
جیل ہذا میں کرونا کا کوئی بھی کیس مثبت نہیں ہے غلام سرور سمرا نے ڈی سی قصور کو بری -

پتوکی کے لوگوں کی صدا
قصور
پتوکی کے لوگوں کی صدا
مرکزی انجمن تاجران پتوکی کے صدر رانا ممتاز علی خان سرپرست اعلیٰ حاجی محمد ارشد گولڈن ،حاجی عباس علی ،حاجی محمد اسلم ،فاروق علی سندھو ،حاجی عبدالغفور بھٹی ،شیخ محمد نعیم ،میاں سرفراز احمد ،ملک حافظ عابد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں ڈی پی او قصور ،زاہد نواز مروت اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پتوکی میں فوری طور پر دوبارہ ایڈیشنل ایس پی قصور کو پتوکی میںتعینات کیا جائے تاکہ شہریوں کو 90 کلومیٹر دور قصور کے سفر سے نجات مل سکے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پتوکی میں ایڈیشنل ایس پی قصور کا دفتر قائم کیا گیا تھا اور ان کے تبادلہ کے بعد یہ سیٹ خالی ہے اور اب جب کہ نئے ایڈیشنل ایس پی قصور تعینات ہوچکے ہیں لہذا انہیں پتوکی دفتر میں بھجوایا جائے تاکہ وہ پتوکی دفتر میں ہی عوام کے مسائل سن کر انہیں موقع پر ہی حل کر سکیں -

ایم ایس ذاتی کلینک چلانے لگا
قصور کرونا الرٹ کی سنگین خلاف ورزی ایم ایس صاحب ہسپتال چھوڑ کر نجی کلینک چلانے لگے
ایم ایس DHQ ہسپتال قصور ڈاکٹر لئیق نے پنجاب حکومت کے 24 گھنٹے ایمرجنسی کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ہسپتال چھوڑ کر اپنا پرائیویٹ کلینک 6 گھنٹے روزانہ چلا رہا ہے جبکہ ملک میں کورونا وائرس کےپیش نظر ایمرجنسی لاک ڈاؤن ہے۔
وریز اعلی پنجاب عثمان بزدار صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسیمن صاحبہ اور ڈی سی قصور محترمہ حنا ارشد صاحبہ فوری نوٹس لے کر ہسپتال میں ایمرجنسی کو یقینی بنائیں اور ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے -

احتیاط اور اذکار ایک ساتھ
قصور علماء کرام و لوکل کمیٹیوں کی اذکار مسنونہ پر مبنی اذکار کے لٹریچر کی تقسیم لوگ احتیاط اور اذکار کیساتھ کرونا کا مقابلہ کریں
تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح کے علاقوں میں مقامی علماء و رہائشیوں پر بنی کمیٹیوں نے اذکار مسنونہ پر مبنی لٹریچر چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کئے جن پر وبائی امراض سے بچاؤ کی دعاؤں کیساتھ کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی رقم ہیں اور یہ ساری رقم کی گئی احتیاطی تدابیر حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہی درج کی گئی ہیں اس کیساتھ حدیث کی رو سے شہد ،کلونجی و عجوہ کجھور کی افادیت بھی تحریر کی ہے لٹریچر تقسیم کرنے والوں نے لوگوں کو حکومتی جاری کردہ احتیاط کیساتھ اذکار مسنونہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور استدعا کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیجئے -

لوگ باز نا آئے سختی کی ضرورت
قصور کی تحصیل چونیاں کے گلی محلوں اور مین بازاروں میں لوگ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے نظر آتے ہیں وہ بھی بغیر ماسک پہنے اور حفاظتی تدابیر کے بغیر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں .ایس ایچ او تھانہ سٹی اور دیگر ذمہ داران سےاپیل ہے کہ شہر میں دن میں ایک دو بار ضرور گشت کریں تاکہ عوام گھروں میں رہیں اور اس وبائی کورونا کی وباء سے محفوظ رہ سکے ریاست اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے مگر عوام اس انتہائی نازک معاملے کو مذاق کے طور پر دیکھ رہی ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی سختی سے اگر بڑے سانحے سے محفوظ رہ سکتے ہیں تو ہمیں یہ سختی کرنی چاہیے -

آٹا دالوں اور چینی کا بحران
قصور الہ آباد میں اشیاء خوردونوش کی قلت
حکومت کی ناقص حکمت عملی آٹا، چینی اور دالوں کا بحران شدت اختیار کر گیا یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی آٹا، چینی اور دالوں کی مطلوبہ مقدار کے مطابق سپلائی نہیں دی جا رہی عوام شدید پریشان سپلائی کے لئے ٹرانسپورٹ کا نظام فوری طور پر ٹھیک کیا جائے
تفصیلات کے مطابق الہ آباد، تلونڈی، ارزانی پور ، کنگن پور اور چونیاں کے گردونواح کے سینکڑوں دیہات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے آٹا، چینی اور دالوں کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے عوام سارا دن آٹا ، چینی اور دالیں ڈھونڈتے نظر آ رہے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی مزدور اور محنت کش طبقہ شدید پریشان ہے لیکن حکومت کی ناقص حکمت عملی کی بدولت بڑے شہروں سے ٹرانسپورٹ مکمل بند ہونے سے مطلوبہ اشیاء کی سپلائی لائن معطل ہو چکی ہے حکومت نے فوری طور پر اگر نوٹس نہ لیا تو آٹا، چینی اور دالوں کا بحران مذید شدت اختیار کر سکتا ہے یوٹیلیٹی اسٹورز جن کی تعداد ضلع بھر میں تقریباً ایک درجن کے قریب ہے وہاں پر بھی عوام کا رش بڑھنے سے تمام اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے یوٹیلیٹی اسٹورز کو ڈیمانڈ کے مطابق چینی، آٹا اور دالیں مہیا نہیں کی جا رہیں مقامی شہریوں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے نظام کو فوری طور پر بہتر کیا جائے اور کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر موجودہ بحران شدت اختیار کر جائے گا -

قصور میں دفعہ 144 کی سنگین خلاف ورزی
قصور دفعہ 144 کی شدید خلاف ورزی جاری لوگ بلا ضرورت گھروں سے نکلنے سے باز نا آئے
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں دفعہ 144 اور کرونا الرٹ کی شدید خلاف ورزی جاری ہے تاہم قصور شہر میں ابھی تک کرونا پازیٹو کیس کوئی بھی نہیں مگر اسی طرح سے لوگوں کی بدنظمی کی بدولت نقصان ہو سکتا ہے شہر کے اندر گلیوں محلوں اور قرب و جوار کے دیہات میں لوگ نا صرف بلا ضرورت گھروں سے نکل کر چل پھر رہیں بلکہ موٹر سائیکلوں پر دو سے تین تین افرد سوار ہو کر گھوم پھر بھی رہے ہیں جس سے کرونا الرٹ اور دفعہ 144 کا عمل غیر یقینی ہو کر رہ گیا ہے لہذہ انتظامیہ نوٹس لیتے ہوئے لوگوں کو خلاف ورزی کرنے سے روکے -

پولیس کی جانب سے رشوت وصولی
قصور
تحصیل چونیاں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنا لیا
پولیس کی سرپرستی میں کئی ہوٹل کھلے عام کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے میں مصروف شہریوں میں تشویش کی لہر،اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق چونیاں میں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنالیا حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کی پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن تحصیل چونیاں کے تمام پولیس تھانوں میں کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے تحصیل چونیاں کے مختلف شہروں الٰہ آباد،،کنگنپور،چونیاں،چھانگا مانگا،تلونڈی ودیگر علاقوں میں پولیس کی سرپرستی میں کھلے عام ہوٹلز مالکان چائے ودیگر کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں رشوت نہ دینے والے دکان داروں سمیت ریڑھی بانوں کو گرفتار کر کے ان سے رہائی کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کرنے کی بھی شکایات کی جارہی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کے واضح احکامات کے باوجود کریانہ سٹور،بیکری، سمیت دیگر ا شیاء و خوردو نوش کا سامان فروخت کرنے والے دکان داروں کو پریشان کررہی ہے تحصیل چونیاں میں پولیس کی جانب سے کرونا وائرس کے سے نمٹنے کی بجائے شہریوں اور دکان داروں کو تنگ کرنے سمیت سرپرستی میں چلنے والے ہوٹلز پر شہروں حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑرہی ہے عوامی وسماجی حلقوں نے مرکزی تحصیل پریس کلب چونیاں کے صحافیوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ احکام پولیس کی رشوت وصولی سرگرمیوں کا نوٹس لے کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاکر شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے -

لاک ڈاؤن میں تیزی
قصور
منڈی عثمان والا میں پولیس نے کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کے لئے آپریشن تیز کر دیا
تاجروں کا خیر مقدم شہریوں نے دکانیں بند کر دی پولیس کی طرف سے لمحہ با لمحہ لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لئے گشت جاری عوام الناس کوکورونا کےحوالے سے حفاظتی انتظامات کے متعلق آگاہی بھی دی جارہی ہیں مارکیٹس شاپنگ سنٹرز اور کھیلوں کی جگہ کو بند کر دیا گیا اور لوگوں کو گھر میں رہنے، ڈبل سواری اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کے لئے بھی سختی سے اقدامات کو ممکن بنایا جا رہا ہے