Baaghi TV

Tag: قطر

  • قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطری حکومت نے ایک بیان میں اسرائیلی میڈیا کی ان غلط خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں اس قسم کی جھوٹی خبریں ایسے عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جو قطر کو جاری علاقائی تنازع میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اس کے ثالثی کے کردار کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔

    قطری حکام نے واضح کیا کہ تنازع کے آغاز سے ہی قطر کا مؤقف مستقل اور واضح رہا ہے کہ وہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں نہ شر یک ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے قطر اپنے فعال سفارتی کردار کو گمراہ کن اطلاعات سے متاثر نہیں ہونے دے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا قطر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موجودہ کشیدگی کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور ایسا جامع اور دیرپا معاہدہ طے پائے جو تمام متعلقہ فریقوں کے تحفظات کو دور کر سکے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق قطر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اسی لیے دوحہ اپنی غیر جانب دار سفارتی پالیسی پر زور دے رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف تعزیتی دورے پر قطر پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف اور نواز شریف تعزیتی دورے پر قطر پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے۔

    دوحہ ایئرپورٹ پر آمد پر قطر کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن بن حسن بن علی آل ثانی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور پاکستانی وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا،وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران قصرِ لوسیل جائیں گے، جہاں ان کی امیرِ قطر شیخ تمیم بن حماد آل ثانی سے ملاقات ہوگی۔

    دورے کا بنیادی مقصد قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر امیرِ قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرنا ہے،وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود ہیں-

  • قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں

    قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں

    دوحہ: قطر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ملک بھر میں بیشتر سمندری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے-

    قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عوامی تحفظ کے پیش نظر تمام تفریحی کشتیوں، ماہی گیری کی کشتیوں، جیٹ اسکیز اور دیگر چھوٹی سمندری گاڑیوں کی نقل و حرکت فوری طور پر روک دی گئی ہےیہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ اطلاع تک برقرار رہے گی، بین الاقوامی بحری معاہدوں کےتحت چلنے والےتجارتی اور بین الاقوامی جہاز اس پابندی سےمستثنیٰ ہوںگےاور وہ مقررہ قوانین اور ضابطوں کےمطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔

    قطری حکام نے شہریوں اور کشتی مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں، جبکہ کسی بھی نئی پیش رفت سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔

    دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں قطر کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ موجودہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بھی بن سکتی ہیں قطر نے ایران کو ان حملوں کے نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا، قطر اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق مناسب اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دوحہ نے خطے میں فوری جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر بھی زور دیا ہے۔

  • قطر میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے بچے سمیت 3 افراد زخمی

    قطر میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے بچے سمیت 3 افراد زخمی

    قطر میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے ایک بچہ سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے ہیں-

    قطری وزارت داخلہ نے کہا کہ ایرانی حملوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران ڈرونز کا ملبہ گرنے سے 1 بچے سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہر ممکن ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، ایرانی حملوں کے بعد سیکیورٹی حکام اور سول ڈیفنس کی ٹیموں نے منظور شدہ ہنگامی منصوبوں کے مطابق امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران نے اتوار کی صبح ایران نے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ قطر نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود کی جانب آ نے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیایہ حملے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مواصلاتی تنصیبات پر امریکا کی جانب سے مبینہ بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو خطرناک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا گیا تاہم قطر کی وزارتِ دفاع نے ایران کے اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی وزارتِ دفاع کے مطابق قطری مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے۔ ایرانی دعوے کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی فوج کے ریڈار اور مواصلاتی نظام پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع پرنس حسن ایئربیس پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں کمانڈ سینٹر اور وہ ہینگرز نشانہ بنائے گئے جہاں امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون طیارے موجود تھے ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

  • قطر کےسابق امیرشیخ حمدبن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

    قطر کےسابق امیرشیخ حمدبن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

    قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات کی تصدیق قطری سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کی ہے، تاہم انتقال کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی،شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے انہوں نے اپنے تقریباً 18 سالہ دورِ حکومت(1995 سے 2013 ) میں خلیجی ریاست کو عالمی سفارت کاری، سرما یہ کاری، توانائی اور میڈیا کے میدان میں نمایاں مقام دلایا، ان کے دور میں قطر نے نہ صرف اقتصادی ترقی کی نئی مثال قائم کی بلکہ عالمی سطح پر اپنا سیا سی اور سفارتی اثر و رسوخ بھی بڑھایا۔

    شیخ حمد نے 1995 میں اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی سے اقتدار سنبھالا، بعد ازاں جون 2013 میں انہوں نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے رضاکار ا نہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا مشرق وسطیٰ میں اقتدار کی اس پرامن منتقلی کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔

    اقتدار منتقل کرتے ہوئے اپنے خطاب میں شیخ حمد نے کہا تھا کہ اب نئی نسل کے لیے آگے بڑھنے اور ملک کی قیادت سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے، اس وقت شیخ تمیم کی عمر صرف 33 برس تھی، شیخ حمد کے دور میں قطر نے عالمی شہرت یافتہ نشریاتی ادارہ ’’الجزیرہ‘‘ قائم کیا، جس نے عرب دنیا میں آزاد صحا فت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا اگرچہ الجزیرہ کی جرات مندانہ رپورٹنگ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، تاہم کئی عرب ممالک اور مغربی حکومتوں نے اس کی پالیسیوں پر اعتراضات بھی اٹھائے۔

    ان کے دورِ حکومت میں قطر ایئرویز دنیا کی صفِ اول کی فضائی کمپنیوں میں شامل ہوئی، جبکہ دوحہ کا جدید بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا، جسے بعد میں ان کے نام سے منسوب کیا گیا اسی دور میں قطر نے برطانیہ کے معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور ہیروڈز سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔

    شیخ حمد نے قطر کو عالمی سفارتی مرکز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ان کی قیادت میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں 2012 میں وہ غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت بنے، جہاں انہوں نے تعمیراتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے 40 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔

    قطر نے ان کے دور میں مختلف علاقائی تنازعات میں بھی فعال کردار ادا کیا عرب بہار کے دوران لیبیا میں نیٹو کارروائیوں کی حمایت اور شام میں اپوزیشن کی سیاسی معاونت نے قطر کی خارجہ پالیسی کو نمایاں کیا، تاہم ایران، حماس اور اخوان المسلمون سے تعلقات کے باعث بعض عرب ممالک اور مغربی اتحاد یو ں کے ساتھ اختلافات بھی پیدا ہوئے۔

    شیخ حمد کی قیادت میں قطر نے 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کیا، جسے دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے افتتاحی تقریب میں سابق امیر کی موجودگی پر شائقین نے بھرپور خیر مقدم کیا تھا۔

    شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے محدود آبادی اور رقبے والے قطر کو عالمی سیاست، معیشت، کھیل اور میڈیا میں ایک بااثر ملک کی حیثیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

  • ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر  میزائل اور ڈرون حملے

    ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے

    ایران نے اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوج کے اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز برسا دیئے-

    ایرانی حکام کے مطابق ایران نے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی جبکہ قطر نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا یہ حملے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مواصلاتی تنصیبات پر امریکا کی جانب سے مبینہ بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں،قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو خطرناک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا گیا۔

    تاہم قطر کی وزارتِ دفاع نے ایران کے اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق قطری مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے ایرانی دعو ے کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی فوج کے ریڈار اور مواصلاتی نظام پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع پرنس حسن ایئربیس پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں کمانڈ سینٹر اور وہ ہینگرز نشانہ بنائے گئے جہاں امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون طیارے موجود تھے،ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ قطر کے علاوہ دیگر متعلقہ ممالک اور امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں یا نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

  • ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا،صدر ٹرمپ کا قطر سے ملنے والے لگژری جیٹ پر ریمارکس

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے لگژری بوئنگ 747-8 طیارے پر اپنی پہلی پرواز مکمل کی اس موقع پر طیارے کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم خود ایسا طیارہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ ہم اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کو تیار ہی نہ ہوتے-

    تقریباً $40 کروڑ (400 ملین ڈالر) مالیت کا یہ بوئنگ طیارہ قطری حکومت کی جانب سے امریکا کو بغیر کسی شرط کے تحفے میں دیا گیا ہے،طیارے کا نیا رنگ و ڈیزائن سفید، سرخ اور نیوی بلیو پر مشتمل ہے، جو صدر ٹرمپ کے ذاتی طیارے سے بھی مشابہت رکھتا ہے اس انتہائی پرتعیش طیارے کو عارضی طور پر نئے ‘ایئر فورس ون’ کا درجہ دیا گیا ہےرپورٹس کے مطابق یہ طیارہ امریکی محکمہ دفاع کو باضابطہ طور پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پرانا صدارتی طیارہ 35 سال پرانا تھا، اور یہ نیا تحفہ ملک کے شایانِ شان ہے، صدر ٹرمپ نے اس طیارے میں پہلی صدارتی پرواز میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے شمالی ڈکوٹا کے لیے مکمل کی، طیارے کو صدارتی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین سیکیورٹی نظام اور اضافی سہولیات شامل کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ مگر شاندار مشین ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب بوئنگ کے سربراہ نے انہیں اس طیارے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے قطر سے اسے کچھ عرصے کے لیے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم بعد میں قطر کے امیر نے یہ طیارہ امریکا کو بطور تحفہ دینے کی پیشکش کر دی،وہ اس طیارے کو اس وقت تک استعمال کریں گے جب تک امریکا میں تیار ہونے والے نئے صدارتی طیارے مکمل نہیں ہو جاتے، جس میں تقریباً 2 سال لگ سکتے ہیں،انہوں نے قطر کی جانب سے اس طیارے پر کیے گئے اخراجات کو ’اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا۔

    اس تحفے کو امریکی سیاست میں کانگریس اور اخلاقی گروپس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں قرار دیا ہے،یہ طیارہ، جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، بغیر کسی شرط کے امریکا کو دیا گیا ہے اور اسے اِس وقت قانونی، اخلاقی اور قومی سلامتی سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔

    اس سے قبل 1990 سے استعمال ہونے والا بوئنگ 747-200 ایئر فورس ون مرحلہ وار سروس سے ہٹایا جا چکا ہے، جبکہ 2 نئے بوئنگ 747-800 طیاروں کو VC-25B کے طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ پرانے اور نئے صدارتی طیاروں کے درمیان عبوری خلا پُر کیا جا سکے۔

  • دوحہ:امریکا ایران مذاکرات شروع نہ ہوسکے

    دوحہ:امریکا ایران مذاکرات شروع نہ ہوسکے

    امریکا اور ایران کے درمیان قطر میں براہ راست مذاکرات تاحال شروع نہیں ہو سکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے نمائندے اس وقت قطر میں ہی موجود ہیں اور تیسرے فریق کے ذریعے یعنی بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔

    امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے قطر کے ثالثوں اور بڑے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اس صورتحال پر قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ امریکی وفد ایرانی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے دوحہ نہیں آیا ایران کے منجمد کیے گئے چھ ارب ڈالرز کی بحالی کا سیدھا تعلق مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے ہے۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا وفد امریکی وفد سے براہِ راست ملاقات نہیں کرے گا، بلکہ قطری حکام کے ذریعے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ محاصرے کے خاتمے اور تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے مذاکرات میں قابلِ قبول پیشرفت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے باقاعدہ مذاکرات لبنان میں جنگ کے خاتمے پر شروع ہوں گے اس وقت لبنان میں تنازع کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط نظام کا قیام نہایت اہم اور کلیدی معاملہ ہے۔

    دوسری طرف ایران نے بھی اپنا سخت موقف سامنے رکھ دیا ہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ہم مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے ایران کی جانب سے اس وقت جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ان کا مقصد صرف پہلے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے ایران، امریکا اور لبنان مل کر وہاں جنگ کے خاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گےسمندری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد سے ایران اب تک چالیس ملین سے زیادہ بیرل تیل باہر بھیج چکا ہے، اور ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، کیونکہ اس سمندری راستے پر اصل خودمختا ر ی اور حق صرف ایران اور عمان کا ہے اور وہاں بحری جہازوں کی آمدورفت انہی اصولوں کے مطابق ہوگی جو ایران طے کرے گاہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہر وقت مشورہ کرتے رہتے ہیں، اگر امریکا نے ایران کو اپنا تیل بیچنے سے روکنے کی کوشش کی، تو پھر یاد رکھے کہ دنیا میں کوئی بھی تیل سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

  • قطر منجمد فنڈز میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جلد واپس دے گا،صدر مسعود پزشکیان

    قطر منجمد فنڈز میں سے 6 ارب ڈالر ایران کو جلد واپس دے گا،صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نےتصدیق کہ ان کے ملک کو قطر میں منجمد کیے گئے بارہ ارب ڈالرز کے فنڈز میں سے 6 ارب ڈالر کی رقم بہت جلد واپس مل جائے گی۔

    ایران کے شہر قم کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے اسے اپنے ملک کے عوام کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا انہوں نے امریکا کے ساتھ ہونے وا لے حالیہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ معاہدہ ایک اہم کامیابی اور ایرانی عوام کی ایک بڑی فتح تھی اس نئے معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں پر لگی ہوئی سخت عالمی پابندیاں بھی اب ختم کر دی گئی ہیں، جس سے ملک کی معیشت کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔

    ایرانی صدر نے قطر میں موجود اپنے ملک کے پیسوں کی واپسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ طے شدہ منصوبے کے مطابق، قطر میں منجمد ہمارے بارہ ارب ڈالر کے فنڈز میں سے چھے ارب ڈالر جاری کر دیے جائیں گے اور ملک کو واپس مل جائیں گے انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ہماری کوششیں باقی ماندہ منجمد ایرانی فنڈز کو واپس حاصل کرنے کے لیے بھی مسلسل جاری رہیں گی تاکہ عوام کا پورا پیسہ ملک میں واپس لایا جا سکے۔

    اس موقع پر انہوں نے دنیا بھر کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی اطمینان دلانے کی کوشش کی اور ملک کی پرانی پالیسی کا اعادہ کیا انہوں نے بین الاقوامی برادری کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری جوہری سرگرمیاں ملک کی ضروریات کے مطابق ہوں گی اور ہماری اعلان کردہ پالیسیوں کے دائرے کے اندر ہی رہیں گی، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے، اور ہم اس موقف پر اب بھی قائم ہیں۔

  • دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، قطری وزیراعظم

    دوحہ: قطرکے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہےکہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا

    برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکا ایران ہاٹ لائن انتہائی اہم ہے، ہاٹ لائن کا مقصد غلط معلومات اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے بعض عناصر معاہدہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، ضروری ہے کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق کی جائے قطر آبنائے ہرمز سےگزرنے پر فیس لگانے کے ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا-

    قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران نےکوئی مجوزہ ماڈل پیش کیا تو انہیں اس کے حق میں دلائل دینا ہوں گے اور ہمیں ایران کے مجوزہ ماڈل کا جائزہ لینا ہوگا دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابل قبول نہیں ہوگا، امید ہے 30 دن میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی قطر چند ہفتوں میں ایل این جی پیداوار معمول پرلانےکا ارادہ رکھتا ہے لیکن ایل این جی پیداوار معمول پرلانا ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے سے مشروط ہوگا۔