امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے لگژری بوئنگ 747-8 طیارے پر اپنی پہلی پرواز مکمل کی اس موقع پر طیارے کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم خود ایسا طیارہ نہیں بنا سکتے تھے کیونکہ ہم اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کو تیار ہی نہ ہوتے-
تقریباً $40 کروڑ (400 ملین ڈالر) مالیت کا یہ بوئنگ طیارہ قطری حکومت کی جانب سے امریکا کو بغیر کسی شرط کے تحفے میں دیا گیا ہے،طیارے کا نیا رنگ و ڈیزائن سفید، سرخ اور نیوی بلیو پر مشتمل ہے، جو صدر ٹرمپ کے ذاتی طیارے سے بھی مشابہت رکھتا ہے اس انتہائی پرتعیش طیارے کو عارضی طور پر نئے ‘ایئر فورس ون’ کا درجہ دیا گیا ہےرپورٹس کے مطابق یہ طیارہ امریکی محکمہ دفاع کو باضابطہ طور پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے مستقبل کے استعمال کے حوالے سے وائٹ ہاؤس سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پرانا صدارتی طیارہ 35 سال پرانا تھا، اور یہ نیا تحفہ ملک کے شایانِ شان ہے، صدر ٹرمپ نے اس طیارے میں پہلی صدارتی پرواز میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز سے شمالی ڈکوٹا کے لیے مکمل کی، طیارے کو صدارتی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین سیکیورٹی نظام اور اضافی سہولیات شامل کی گئی ہیں ان کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ مگر شاندار مشین ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب بوئنگ کے سربراہ نے انہیں اس طیارے کے بارے میں بتایا تو انہوں نے قطر سے اسے کچھ عرصے کے لیے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم بعد میں قطر کے امیر نے یہ طیارہ امریکا کو بطور تحفہ دینے کی پیشکش کر دی،وہ اس طیارے کو اس وقت تک استعمال کریں گے جب تک امریکا میں تیار ہونے والے نئے صدارتی طیارے مکمل نہیں ہو جاتے، جس میں تقریباً 2 سال لگ سکتے ہیں،انہوں نے قطر کی جانب سے اس طیارے پر کیے گئے اخراجات کو ’اعلیٰ معیار کی سرمایہ کاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طیارہ امریکا کے لیے خود تیار کرنا مشکل تھا۔
اس تحفے کو امریکی سیاست میں کانگریس اور اخلاقی گروپس کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے، تاہم انتظامیہ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں قرار دیا ہے،یہ طیارہ، جس کی مالیت تقریباً 40 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے، بغیر کسی شرط کے امریکا کو دیا گیا ہے اور اسے اِس وقت قانونی، اخلاقی اور قومی سلامتی سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔
اس سے قبل 1990 سے استعمال ہونے والا بوئنگ 747-200 ایئر فورس ون مرحلہ وار سروس سے ہٹایا جا چکا ہے، جبکہ 2 نئے بوئنگ 747-800 طیاروں کو VC-25B کے طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ پرانے اور نئے صدارتی طیاروں کے درمیان عبوری خلا پُر کیا جا سکے۔
