Baaghi TV

Tag: قومی ادارے

  • مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد، تجزیہ : شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد، تجزیہ : شہزاد قریشی

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں جن کے ادارے مضبوط، منظم اور قانون کے تابع ہوں۔ شخصیات آتی ہیں، مقبول ہوتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ منظر سے ہٹ جاتی ہیں، لیکن ادارے ہی ریاست کے تسلسل، استحکام اور بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ "شخصیات فانی ہیں، ادارے باقی رہتے ہیں۔”

    آج بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ جن ممالک کے دفاعی، انتظامی اور ریاستی ادارے کمزور ہوئے، وہاں عدم استحکام، انتشار اور بیرونی مداخلت نے جنم لیا۔ اس کے برعکس وہ ریاستیں ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہیں جنہوں نے اپنے قومی اداروں کو مضبوط بنایا اور انہیں سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھا۔

    سیاسی قیادت اور دانشور کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن عوام کو ہمیشہ جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سیاست میں مفادات اور بیانیے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے قومی مفاد کو شخصیات سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں پر تنقید کا حق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایسی روش سے گریز کرنا چاہیے جو اداروں کی بنیادوں کو کمزور کرے یا قومی وحدت کو نقصان پہنچائے۔

    پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب قوم اتحاد، نظم و ضبط اور قومی اداروں کے احترام کو فروغ دے۔ پاک فوج، عدلیہ، پولیس، سول سروس اور دیگر ریاستی ادارے ملک کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان کی بہتری، اصلاح اور مضبوطی ہی دراصل پا کستان کی مضبوطی ہے۔

    آخرکار حقیقت یہی ہے کہ اگر ملک محفوظ اور مستحکم ہوگا تو سیاست بھی ہوگی، جمہوریت بھی ہوگی اور عوام کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود ریاستی استحکام، قومی سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کو ہمیشہ ترجیح دی جائے، کیونکہ مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔

  • وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے مفاد کیلئے کون کرے گا کردار ادا،تجزیہ: شہزاد قریشی

    قومی اداروں کا وقار اور عدلیہ کا اعتماد کسی قوم کو طاقت بخشتا ہے آج بھی اقوام عالم میں جو قومیں انصاف اور عدل کے مضبوط نظام پر عمل پیرا ہیں وہ دنیا کی طاقت ور قومیں ہیں اوراسلامی تاریخ بھی کئی اعلیٰ مثآلوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت عمرؓ سے لیکر عدل جہانگیری تک انصاف کا بول بالا رہا اسی انصاف سے عوام کی فلاح ،فرد اور ملت کا رشتہ مضبوط رہا۔ ملک اور قوم کی بدقسمتی کہہ لیجئے یہاں آئین سے کھلواڑ ہوتا رہا اور اس کھلواڑ میں سیاسی جماعتیں شامل رہیں۔ سیاستدان تو جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت کے قول و فعل میں تضاد ہے نہ جمہوریت کی فکر، نہ عوام کی فکر، اقتدار کس طرح حاصل کرنا ہے کی فکر میں تمام حدوں کو کراس کرجاتے ہیں۔

    اپنے آپ کو اپنی ذات کو مرکز ثقل گرداننا وہ کیڑا ہے جو شہنشاہیت کے دور میں فرانس کے شہنشاہوں میں بدرجہ اتم تھا ریاست کیا ہے وہ میں ہوں میری ذات ہے باقی سب میرے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ملک و قوم کن حالات سے گزر رہی ہے کسی بھی سیاستدان کو اس کی پروا نہیں۔ آڈیو اور ویڈیو کا گندا کھیل اور سوشل میڈیا پر الیکٹرانک میڈیا پر اس کا پرچار سینہ تان کر کیا جاتا ہے ٹی وی چینلز اس مکروہ اور گندے کھیل کو اپنے ٹی وی چینل کی بقا سمجھ رہے ہیں ملک کی ترقی اور 24 کروڑ عوام کی فلاح کا اس گندے کھیل سے کوئی سروکار نہیں۔ عوام کی اکثریت روٹی کی محتاج ہے عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ریاست کے مسائل کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے آدھے سے زیادہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں موجودہ جنگ اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کی جنگ میں ملک و قوم کی جنگ بنا دیا گیا ہے۔

    اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ کیا آڈیو ویڈیو کی داستانیں اور قصے ہمارے اداروں کے وقار کو مجروح نہیں کررہے کیا خود سیاستدانوں کی عزت و وقار مجروح نہیں ہو رہے؟ ضرور ہورہے ہیں اس کے اثرات ہماری نوجوان نسل پر کیا مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کے اثرات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور عزت پر نہیں پڑ رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین اداروں کے سربراہان وکلاء تنظیموں اور سیاسی اکابرین کو بیٹھ کر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ملک اور قومی اداروں کے وقار کو بحال کرنے کی جستجو کرنی چاہئے پسند اور ناپسند سے بالاتر سوچ کے ساتھ وطن عزیز کے مفاد کے لئے آگے ہو کر کردار ادا کریں۔