دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں جن کے ادارے مضبوط، منظم اور قانون کے تابع ہوں۔ شخصیات آتی ہیں، مقبول ہوتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ منظر سے ہٹ جاتی ہیں، لیکن ادارے ہی ریاست کے تسلسل، استحکام اور بقا کی ضمانت بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ "شخصیات فانی ہیں، ادارے باقی رہتے ہیں۔”
آج بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ جن ممالک کے دفاعی، انتظامی اور ریاستی ادارے کمزور ہوئے، وہاں عدم استحکام، انتشار اور بیرونی مداخلت نے جنم لیا۔ اس کے برعکس وہ ریاستیں ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہیں جنہوں نے اپنے قومی اداروں کو مضبوط بنایا اور انہیں سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھا۔
سیاسی قیادت اور دانشور کسی بھی معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لیکن عوام کو ہمیشہ جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ سیاست میں مفادات اور بیانیے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے قومی مفاد کو شخصیات سے بالاتر رکھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں پر تنقید کا حق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایسی روش سے گریز کرنا چاہیے جو اداروں کی بنیادوں کو کمزور کرے یا قومی وحدت کو نقصان پہنچائے۔
پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب قوم اتحاد، نظم و ضبط اور قومی اداروں کے احترام کو فروغ دے۔ پاک فوج، عدلیہ، پولیس، سول سروس اور دیگر ریاستی ادارے ملک کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان کی بہتری، اصلاح اور مضبوطی ہی دراصل پا کستان کی مضبوطی ہے۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ اگر ملک محفوظ اور مستحکم ہوگا تو سیاست بھی ہوگی، جمہوریت بھی ہوگی اور عوام کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود ریاستی استحکام، قومی سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کو ہمیشہ ترجیح دی جائے، کیونکہ مضبوط ادارے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔
